آئمہ اہل بیت ؑ کی ولادت ہوتی ہے یا ظہور ہوتا ہے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آئمہ اہل بیت ؑ کی ولادت ہوتی ہے یا ظہور ہوتا ہے ؟

کچھ سالوں سے ایک خاص طبقه شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہے وہ کہتے ہیں کہ معصوم کی ولادت نہیں بلکہ نزول اور ظہور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے۔

ان کا عقیدہ یہ ہے کہ معصومینؑ آسمان سےبراۂ راست نازل ہوتے ہیں اور شکموں اور ارحام میں نہیں ہوتے، ان کے عقیدے کی دلیل میں کوئی ایک بھی حدیث نہیں ہے البتہ قرآن کی ایک آیت میں جہاں نور کے نزول کی بات کی گئی ہے وہاں وہ نور سے مراد آئمہؑ لیتے ہیں جبکہ قرآن کے حکم کے مطابق یہاں نور سے مراد قرآن پاک ہے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ، اور اگر آئمہؑ بھی مراد ہیں تو اس اعتبار سے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر (قرآن ناطق اور عملی قرآن) ہیں۔

اعتراض: ہماری بھی ولادت ہوتی ہے اور انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی بھی ولادت ہوتی ہے تو ہمارے اور انکے درمیان کیا فرق رہ گیا؟

جواب:یہ اعتراض ایک جاہلانہ اعتراض ہے جس کا مقصد فقط مومنین کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانا ہے، لیکن اس کا جواب ہم مومنین کے اطمنیان قلب کیلئے ذکر کریں گے۔

دیکھئے لفظ انسان ایک عالم شخص پر بھی صادق آتا ہے اور جاہل شخص پر بھی، ایک شرابی پر بھی اور متقی و پرہیز گار پر بھی، کیا عالم اور جاہل ، شرابی اور پرہیزگار سب برابر ہیں؟ ہر عقلمند شخص یہی کہے گا کہ ہرگز برابر نہیں ہیں، اگرچہ ہیں تو سب انسان ۔لیکن مراتب میں فرق ہوتا ہے حقیقت میں نہیں حقیقت سب کی انسان ہے۔ اسی طرح ہماری اورآئمہ ؑ کی ولادت میں فرق ہوتا ہے جس کی وضاحت شیعہ کتب میں موجود ہے لیکن ہوتی سب کی ولادت ہی ہے ۔

لغت میں دیکھا جائے تو لفظ ولادت کے معنی ، پیدا ہونا ہے ۔ ظہور کے معنی ،کسی مخفی چیز کے ظاہر ہونے کے ہیں اور نزول کے معنی ، اُترنا یا اُتارے جانے کے ہیں ۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

إِنَّهُ شَرٌّ عَلَيْكُمْ أَنْ تَقُولُوا بِشَيْ‏ءٍ مَا لَمْ تَسْمَعُوهُ مِنَّا۔

یہ تمہاری انتہائی بری بات ہوگی کہ تم وہ عقیدہ رکھو جو تم نے ہم سے نہیں سنا۔

(اصول کافی۔ کتاب: الایمان و الکفر باب: الضلال حدیث: 1)

اس نظریہ کے نقصانات

1 ۔ جب ولادت کا انکار ہوگا تو شہادت کا بھی انکار کرنا ہوگا ، کیونکه ظاهر هے جب کوئی پیدا ہی نہیں هوا تو قتل کیسے ہو سکتا ہے ۔

2 ۔ ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا پڑے گا ، کیونکہ زیارت وارثہ میں امام نے فرمایا:

اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ

میں گواہی دیتا ہوں آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور بن کر رہے۔

3 ۔ وہ تمام زیارتیں اور دعائیں جو معارف ایمان و عقاید سے بھر پور ہیں اور جن میں دشمنان محمد و آل محمد ﷺ پر لعنت کی گئی ہے ان تمام سے انکار کر دیا جائے گا اس لئے کہ جب کسی نے شہید ہی نہیں کیا تو لعنت کس بات کی ۔

4 ۔ جب آئمہ اہل بیت ؑ پیدا ہی نہیں ہوتے تو نسل سادات کہاں سے وجود میں آ گئی ؟ کیا تمام سادات کا بھی ظہور ہوتا ہے ؟ لہذا اس عقیدے کو ماننا ہے تو نسل سادات کا انکار کرنا ہوگا ۔

5 ۔ اس روایت سے انکار کرنا ہوگا جس میں ہے کہ امام حسین ؑ شکم مادر میں کلام کرتے تھے ۔

6 ۔ اگرظہور ہی ہوتا ہے تو حضرت فاطمہ ؑ کے شکم میں جناب محسن کی شہادت کا انکار کرنا ہوگا ۔

7 ۔ عید میلاد النبی اور جشن مولود کعبہ کا انکار کرنا پڑے گا ۔

قرآن کی روشنی میں

آیت نمبر 1

حضرت زکریا ؑ فرماتے ہیں:

و انی خفت الموالی من وراء ی وکانت امراتی عاقرا فھب لی من لدنک ولیا۔

اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔

(سورہ مریم آیت 5)

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ا ن لوگوں کاظہور ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا مسئلہ تھا کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں ؟

آیت نمبر 2

فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا۔ فا اجاء ھا المخاض الی جذع النخلتہ۔۔ ۔

اور مریم اس بچے سے حاملہ ہوگئیں اور وہ اسے لے کر دور مقام پر چلی گئیں۔ پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔

(سورہ مریم آیت 22۔23)

یہ واقعہ حضرت مریم (ع) کا ہے۔ آپ لوگ دیکھیں کہ یہاں پر اللہ نے حمل کا لفظ استعمال کیا ہے اور درد زہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اب اگر حضرت عیسی کی ولادت نہ ہوتی بلکہ ظہور ہوتا آسمانوں سے تو پھر یہ حمل اور درد زہ کے الفاظ کے کیا معنی ہیں ؟

آیت نمبر 3

حملتہ امہ کرحا و وضعتہ کرھا۔

اس کی ماں نے تکلیف سہ کر اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور تکلیف اٹھا کر اسے جنا ۔

(سورہ الاحقاف آیت 15)

اس آیت میں اللہ نے حمل کا بھی لفظ استعمال کیا ہے اور ساتھ میں ماں کے پیٹ کے الفاظ بھی ہیں۔!

روایات کی روشنی میں

جناب فاطمہؑ بنت اسد نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا:

وبهذا المولود الذي في أحشائي الذي يكلّمني ويؤنسني بحديثه، وأنا موقنة أنّه إحدى آياتك ودلائلك

اور تجھے اس مولود کا واسطہ کہ جو میرے بطن میں ہے جو مجھ سے باتیں کرتا ہے میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے مجھے یقین ہے یہ تیری نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دلائل میں سے ایک دلیل ہے ۔

الأمالي للطوسي: 706

حضرت امام علی ابن ابی طالب (ع) کی ولادت کے وقت ان کی والدہ جناب فاطمہ بنت اسد نے جو دعا فرمائی وہ اس طرح تھی:

ربی انی مومنہ بک و بما جاء من عندک من رسل و کتب مصدقہ بکلام جدی ابراہیم فبحق الذی بنی ھذا البیت و بحق المولود الذی فی بطن لما یسرت وعلی ولادتی

خدا وندا میں ایمان لائی ہوں تجھ اور ان چیزوں پر جو تیرے رسول لائے اور ان کتابوں پر جو مصدقہ ہیں میرے جد ابراہیم کی پس واسطہ اس کے حق کا جس نے اس گھر کو بنایا اور اس مولود کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے میرے اوپر ولادت کی سختی کو آسان کر دے ۔

(مناقب ابن شہر آشوب، جلد 2، صفحہ 173 ، امالی صدوق صفحہ 195 ، الدمعتہ الساکبہ، شیخ بہائی، جلد 1, صفحہ 180 )

امام جعفر صادق ؑ کے ایک انتہائی قابل قدر صحابی امام موسی کاظم (ع) کی ولادت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں:

ذکرت انہ سقط من بطنھا حین سقط و اضعا یدیہ علی الارض۔

جب وہ بطن سے جدا ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی طرف اٹھایا۔۔۔

الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ 385 طبع بیروت

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

فیمکث فی الرحم اربعین یوما لا یسمع الکلام ثم یسمع الکلام بعد ذلک۔

امام چالیس دن رات اس طرح شکم مادر میں رہتا ہے وہ کسی کی آواز نہیں سنتا اور اس کے بعد وہ آواز سننے لگتا ہے۔

الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387، طبع بیروت

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

الاوصیاء اذا حملت بھم امہاتھم اصابھا فترۃ شبہ الغشیہ ۔

جب اماموں کی مائیں حاملہ ہوتی ہیں تو ان کو ایک قسم کی غشی لاحق ہوتی ہے۔

الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387 طبع بیروت

امام رضا ؑ نے فرمایا :

امام کی جملہ صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ

واذا وقع علی الارض من (بطن) امہ وقع علی راحتیہ رافعا صوت بالشہادۃ

شکم مادر سے جب زمین پر آئے گا تو اپنی ہتھیلیوں کے سہارے بیٹھے گا اور شہادتین کے لئے اپنی آواز بلند کرے گا۔

خصال، شیخ صدوق، صفحہ 528 طبع قم/احتجاج, شیخ طبرسی، صفحہ 509 طبع قم/ معانی الاخبار، شیخ صدوق، صفحہ 102 طبع قم

امام علی ؑ نے فرمایا:

وَأَنَا وُلِدتُ في المحل البعيد المرتقى

اور میں ایک بلند مرتبہ مقام پر پیدا ہوا۔

الفضائل، فضل بن شاذان بن جبرئيل القمي، ص 80/ الإمام علي بن أبي طالب علیه السلام، أحمد الرحماني الهمداني، ص370، ح19

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

فان الامام یسمع الکلام فی بطن امہ

امام شکم مادر میں آواز سنتا ہے۔

بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 543 طبع قم/بحار، علامہ مجلسی، جلد 25 صفحہ 431 طبع قم

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

لا تتکلمو ا فی الامام فان الامام یسمع الکلام وھو جنین فی بطن امہ

امام کے مقام و منزلت کے بارے میں گفتگو نہ کریں کیونکہ امام وہ ہوتے ہیں جو شکم مادر میں بھی سنتے ہیں۔

بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 564 طبع قم/ تفسیر الصافی, شیخ محسن کاشانی، جلد 1 ص 497 طبع بیروت

امام زمان ؑ کے نائب خاص علی بن محمد سے روایت ہے:

ولد الصاحب علیہ السلام للنصف من شعبان

امام زمان (عج) کی ولادت نصف شعبان میں ہوئی۔

اکمال الدین، شیخ صدوق، صفحہ 430 طبع قم

امیرالمؤمنین علی ؑ کے ایک زیارت نامے میں ہم سب پڑھتے ہیں:

الْمَوْلُودِ فِى الْكَعْبَةِ

سلام ہو آپ پر اے وہ جو کعبہ میں پیدا ہوئے"۔

(المزار الكبير، ابن المشهدي، الشيخ ابو عبدالله محمد بن جعفر، ص256-257، زیارت نمبر 10، تحقيق: جواد القيومي الاصفهاني / بحار الانوار، مجلسی، ج97، ص302. )

امام رضا علیہ السلام نے امام ابو جعفر محمد بن علی التقی الجواد علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں فرمایا:

هَذَا الْمَوْلُودُ الَّذِي لَمْ يُولَدْ مَوْلُودٌ أَعْظَمُ بَرَكَةً عَلَي شِيعَتِنَا مِنْهُ۔

یہ وہی مولود ہے جو ہمارے پیروکاروں کے لئے اس سے زیادہ عظیم مولود پیدا نہیں ہوا ۔

(الکافی، ج1، ص 321)

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ بشار امام جعفر صادق ؑ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جاؤ تم ملعون ہو اور میں تیرے ساتھ ایک چھت کے نیچے جمع نہیں ہو سکتا ، وہ اٹھ کر چلا گیا تو آپ ؑ نے فرمایا:

کہ خدا اسے غارت کرے اس نے خدا کی بھی توہین کی ہے، یہ شیطان ابن شیطان ہے میرے شیعوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ، میں اللہ کا بندہ ہوں ، اصلاب و ارحام کی منزلوں سے گزرا ہوں. مجھے بھی ایک دن مرنا ہے اور میدان حشر میں جواب دینا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق و مذاہب اربعہ، استاد اسد حیدر نجفی، صفحہ 247

اب ہم چند علماء کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی کتب میں آئمہ کے متعلق ولادت کا باب باندھا ہے

شیخ کلینی

جن کی وفات امام زمان (عج) کی غیبت صغری میں ہوئی اور جن کی حدیث کی کتاب اب مذہب شیعہ کی پہچان بن چکی ہوئی ہے۔ آپ اپنی کتاب الکافی میں آئمہ کی ولادت کاباب اس طرح باندھتے ہیں: باب موالید الائمہ" صفحہ 385 طبع بیروت۔

اسی طرح آپ ہر امام کی ولادت کا باب اس طرح باندھتے ہیں: باب مولد امیرالمومنین" صفحہ 452، باب مولد الزہراء فاطمہ ص 458 وغیرہا

سید رضی

نہج البلاغہ جیسی مشہور و معروف کتاب کے مصنف سید رضی خصائص امیرالمومنین صفحہ 39 طبع بیروت میں لکھتے ہیں:

ولد علیہ السلام بمکہ فی البیت الحرام ۔۔۔ولدہ ہاشمی مرتین ولا نعلم مولود ولد فی الکعبہ وغیرہ

امیر المونین خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہیں ۔ آپ پہلے ہاشمی ہیں جو سلسلہ نسب میں نجیب الطرفین ہیں، آپ کے علاوہ کوئی خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔

علامہ مجلسی

علامہ مجلسی نے امام کی ولادت کے احوال میں 22 احادیث جمع کی ہیں، ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث آپ کی خدمت میں پیش کئے دیتے ہیں اگر کسی کو مکمل احادیث چاہیں تو اردو ترجمہ کے ساتھ گوگل سے مل جائیں گی ۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

تفسير القمي أَبِي عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:

إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْإِمَامَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ۔۔۔

جب اللہ تبارک و تعالٰی امام کو ان کی ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ۔۔۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

بصائر الدرجات عَبَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:

إِنَّ نُطْفَةَ الْإِمَامِ مِنَ الْجَنَّةِ وَ إِذَا وَقَعَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ إِلَى الْأَرْضِ ۔۔۔

امام کا نطفہ جنت سے ہے، پھر جب امام ماں کے پیٹ سے زمین پر وارد ہوتا ہے ۔۔۔

امام باقر ؑ نے فرمایا:

بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى الْإِمَامِ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَكَلَّمُ بِهِ فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْمَعُ الْكَلَامَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ۔۔۔

تم میں سے جب کوئی امام کے پاس حاضر ہو تو خیال رکھے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ بیشک امام ماں کے پیٹ میں کلام کو سنتا ہے۔ ۔۔

امام صادق ؑ نے فرمایا:

بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحُصَيْنِ الْحُصَيْنِيِّ وَ الْمُخْتَارِ بْنِ زِيَادٍ جَمِيعاً عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي سُكَيْنَةَ عَنْ بَعْضِ رِجَالِهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ:

دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أُوَدِّعُهُ فَقَالَ اجْلِسْ شِبْهَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ يَا إِسْحَاقُ كَأَنَّكَ تَرَى أَنَّا مِنْ هَذَا الْخَلْقِ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِمَامَ مِنَّا بَعْدَ الْإِمَامِ يَسْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فَإِذَا وَضَعَتْهُ أُمُّهُ

اسحاق بن عمار کہتا ہے: میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے الوداع کہنے گیا۔ آپ (ع) نے غصہ کی کیفیت میں فرمایا، بیٹھ جاؤ۔ پھر فرمایا: اے اسحاق! تم کیا سمجھتے ہو کہ میں اس مخلوق کی طرح ہوں؟ کیا نہیں جانتے کہ ہم میں سے جو امام کے بعد امام ہوتا ہے وہ اپنی ماں کے پیٹ میں سنتا ہے۔ جب اس کی ماں اسکو جنم دیتی ہے ۔۔۔

تمت بالخير

بد زبانی و دالی گ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بدزبانی اورگالی گلوچ

﴿ قرآن و حدیث کی روشنی میں ﴾

بد زبانی اور گالی گلوچ باعث بنتا ہے کہ مہذب لوگ آپ سے دور ہو جائیں اور آپ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند نہ کریں اور غیر مہذب افراد آپ کے گرد جمع ہو جائیں اور آپ کی تباہی کا باعث بنیں ، امام علی ؑ فرماتے ہیں:

بدزبانی اور فحش گوئی سے پرہیز کریں کیونکہ اس کی وجہ سے نامعقول اور بدتمیز افراد تمہارے گرد جمع ہو جائیں گے اور اچھے لوگ آپ سے دور بھاگیں گے۔

آج ہمارا معاشرہ جن اخلاقی مشکلات کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مشکل یہی بد زبانی ہے زبان کے زخم تلوار کے زخم سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے الفاظ اور فقرے استعمال کرنے سے گریز کرے جو گالی شمار ہوتے ہوں ۔

بہت سارے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ زبان کو قابو میں نہیں رکھ پاتے جبکہ اعضاء و جوارح میں زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو بہت زیادہ روکے رکھنے کا محتاج ہے ، جس طرح انسان کے اعضاء وجوارح سے سرزد ہونے والے اعمال و افعال قابل مواخذہ ہیں اسی طرح زبان سے نکلنے والے الفاظ و کلمات اور اقوال بھی قابل مواخذہ ہیں، عنداللہ انکے بارے میں بازپرس ہوگی، قرآن و سنت کے بیشمار نصوص اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنی زبان سے جو بات بھی نکالتا ہے اسکا معاملہ بڑا سنگین ہے، یہ الفاظ و اقوال خیر و بھلائی پر مشتمل ہوں تو انسان کبھی وہم و گمان سے بڑھ کر اجروثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پالیتا ہے اور اگر یہ باتیں شروفساد کے حوالے سے گناہ پر مشتمل ہوں تو انسان تصور سے بڑھ کر عذاب الہٰی کا مستحق بن جاتا ہے اس لئے زبان کو قابو میں رکھنا اورکچھ بولنے سے پہلے اسکے انجام کے بارے میں ہزار بار سوچنا بہت ضروری ہے۔

زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں ہوتی ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے، بروز محشر انسان اپنی باتوں پر جوابدہ ہوگا۔

بد زبانی کیا ہے ؟

بد زبانی اور گالی گلوچ سے مراد فقط گندی گالیاں ہی نہیں ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات میں ہر وہ بات اس میں داخل ہے جو دوسرے کی توہین اور تحقیر یا اس کی دل آزاری کا سبب بنے ۔

بد زبانی کے اسباب

الف)غصہ : جب انسان کو غصہ آتا ہے تو وہ غصے میں حواس کھو بیٹھتا ہے اور پھر جو منہ میں آتا ہے وہی کہتا ہے ، گالیاں دیتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ غصہ حرام ہے ۔

ب) عادت: جب کوئی شخص بدمعاش اور گھٹیا لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے اور ان سے دوستی کرتا ہے تو آہستہ آہستہ ان کی روح، مزاج اور اظہار اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چونکہ ان کی عام بول چال ایک دوسرے کے بارے میں فحاشی سے بھری ہوتی ہے، اس لیے وہ اس میں بھی سرایت کر جاتی ہے اور آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے ۔

اس آفت کا علاج یہ ہے کہ :

1 ۔ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جس کی وجہ سے کسی مومن پر غصہ کرنا پڑے

2 ۔ اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھیں اور غصہ کو پی جائیں

3 ۔ اہل فتنہ و فساد سے پرہیز کریں تاکہ اپنی زبان کو گالی گلوچ سے محفوظ رکھ سکیں

قرآن میں بد زبانی کا بیان

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔

گالی مت دو ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں، اس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے ان کے اپنے کردار کو دیدہ زیب بنایا ہے، پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پس وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔(انعام ، 108)

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الۡجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا۔

اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی (کسی کی) برملا برائی کرے، مگر یہ کہ مظلوم واقع ہوا ہو اور اللہ بڑا سننے والا، جاننے والا ہے۔ (نساء، 148)

احادیث میں بد زبانی کا بیان

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ الْفُحْشَ لَوْ کَانَ مِثَالًا لَکَانَ مِثَالَ سَوْء۔

اگر گالی گلوچ کی کوئی شکل ہوتی تو انتہائی بد صورت ہوتی ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ مِنْ شَرِّ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ تُکْرَهُ مُجَالَسَتُهُ لِفُحْشِه۔

خدا کے بدترین بندوں میں سے ہے وہ شخص جس کی بد زبانی کی وجہ سے لوگ اس سے دور بھاگیں ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِیَّاکُمْ وَ الْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَا یُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ۔

بد زبانی سے پرہیز کریں کیونکہ خداوند متعال بدزبانی اور گالی گلوچ کو پسند نہیں کرتا ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِیءَ وَ السَّائِلَ الْمُلْحِف۔

گالی گلوچ کرنے والا اور پیشہ ور بھکاری خدا کا دشمن ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ وَ قِتَالُهُ کُفْرٌ وَ أَکْلُ لَحْمِهِ مَعْصِیَةٌ وَ حُرْمَةُ مَالِهِ کَحُرْمَةِ دَمِه ۔

مومن کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور اس کی غیبت کرنا گناہ ہے اور مومن کا مال اس کی جان کی طرح محترم ہے

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

أَرْبَعَةٌ یَزِیدُ عَذَابُهُمْ عَلَی عَذَابِ أَهْلِ النَّارِ إِلَی أَنْ قَالَ وَرَجُلٌ یَسْتَلِذُّ الرَّفَثَ وَالْفُحْشَ فَیَسِیلُ مِنْ فِیهِ قَیْحٌ وَدَمٌ ۔

چار قسم کے لوگوں کی وجہ سے جہنمیوں کا عذاب شدید ہو جائے گا ، پہلا وہ جو بد زبان ہے

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِی تَمِیمٍ أَتَى النَّبِیَّ صلّی الله علیه وآله فَقَالَ أَوْصِنِی فَکَانَ فِیمَا أَوْصَاهُ أَنْ قَالَ لَا تَسُبُّوا النَّاسَ فَتَکْتَسِبُوا الْعَدَاوَةَ بَیْنَهُم۔

بنی تمیم کا ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے کوئی وصیت فرمائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کو گالی نہ دو تاکہ تمہارے درمیان عداوت و دشمنی نہ ہو جائے ۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا :

عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مُوسَى علیه السلام فِی رَجُلَیْنِ یَتَسَابَّانِ فَقَالَ: الْبَادِی مِنْهُمَا أَظْلَمُ وَ وِزْرُهُ وَ وِزْرُ صَاحِبِهِ عَلَیْهِ مَا لَمْ یَتَعَدَّ الْمَظْلُوم۔

گالیاں دینے میں پہل کرنے والا زیادہ ظالم ہے وہ اپنا اور اپنے ساتھی کے گناہ کا بوجھ اٹھانے والا ہے بشرطیکہ جس پر ظلم ہوا وہ زیادتی نہ کرے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ أَبْغَضَ خَلْقِ اللَّهِ عَبْدٌ اتَّقَى النَّاسُ لِسَانَہ۔

خدا کی قابل نفرت مخلوق وہ بندہ ہے جس کی زبان سے لوگ ڈریں ۔

امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ۔

بد زبان اور گالی دینے والا خدا کا دشمن ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَ الْجَفَاءُ فِی النَّار۔

بد زبانی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ الْفُحْشَ وَ الْبَذَاءَ وَ السَّلَاطَةَ مِنَ النِّفَاق۔

لعن طعن، بد زبانی اور گالی گلوچ منافقت کی نشانیاں ہیں۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :

و قال : ... لَیْسَ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِینَ الْخَنَا وَ لَا الْفُحْشُ وَ لَا الْأَمْرُ بِه۔

بد زبانی ، گالی گلوچ اور ان کا حکم دینا مومن کا اخلاق نہیں ہے

امام علی علیہ السلام نے فرمایا :

ما أفحَشَ کَرِیمٌ قَطُّ۔

کریم انسان کبھی بھی غلط کام اور بد زبانی نہیں کرتا ۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا :

أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ علیه السلام عِنْدَ وَفَاتِهِ:کُنْ لِلَّهِ یَا بُنَیَّ عَامِلًا وَ عَنِ الْخَنَاءِ زَجُوراً۔

اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی اے بیٹے : جو بھی کام کرو اللہ کیلئے کرو اور سخت کلامی سے بچو ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

ثَلَاثَةٌ لَا یَنْظُرُ اللَّهُ إِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَ لَا یُزَکِّیهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ: الدَّیُّوثُ مِنَ الرِّجَالِ، وَ الْفَاحِشُ الْمُتَفَحِّشُ، وَ الَّذِی یَسْأَلُ النَّاسَ وَ فِی یَدِهِ ظَهْرُ غِنًى۔

تین لوگوں پر اللہ قیامت کے دن نظر کرم نہیں کرے گا اور انہیں دوزخ میں ڈالے گا ، بے غیرت مرد ، بے شرم بد زبان اور پیشہ ور بھکاری ۔

امام موسی کاظم علیہ اسلام نے فرمایا :

الْحَیَاءُ مِنَ الْإِیمَانِ وَ الْإِیمَانُ فِی الْجَنَّةِ، وَ الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَا وَ الْجَفَا فِی النَّارِ ۔

حیا ء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بد زبانی بے ادبی ہے اور بے ادب جہنم میں ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

ثَلَاثٌ إِذَا کُنَّ فِی الرَّجُلِ فَلَا تَجْرَحُ أَنْ تَقُولَ إِنَّهُ فِی جَهَنَّمَ الْجَفَاءُ وَ الْجُبْنُ وَ الْبُخْلُ وَ ثَلَاثٌ إِذَا کُنَّ فِی الْمَرْأَةِ فَلَا تَجْرَحُ أَنْ تَقُولَ إِنَّهَا فِی جَهَنَّمَ الْبَذَاءُ وَ الْخُیَلَاءُ وَ الْفَخرُ

جس مرد میں تین خصلتیں ہوں تو اگر اسے جہنمی بھی کہو تو مسئلہ نہیں غصہ ، بزدلى و بخل، اور تین خصلتیں جس عورت میں ہوں تو مسئلہ نہیں کہ اسے جہنمی کہا جائے بد زبانی ، تکبر ، تعصب ۔

امام سجاد علیه السلام نے فرمایا:

وَ الذُّنُوبُ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعَاءَ ...اسْتِعْمَالُ الْبَذَاءِ وَ الْفُحْشُ فِی الْقَوْلِ۔

بد زبانی اور گالی گلوچ ان گناہوں میں سے ہیں جن کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

کَانَ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام صَدِیقٌ لَا یَکَادُ یُفَارِقُهُ إِذَا ذَهَبَ مَکَاناً فَبَیْنَمَا هُوَ یَمْشِی مَعَهُ فِی الْحَذَّاءِینَ وَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ سِنْدِیٌّ یَمْشِی خَلْفَهُمَا إِذَا الْتَفَتَ الرَّجُلُ یُرِیدُ غُلَامَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یَرَهُ فَلَمَّا نَظَرَ فِی الرَّابِعَةِ قَالَ یَا ابْنَ الْفَاعِلَةِ أَیْنَ کُنْتَ؟ قَالَ فَرَفَعَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام یَدَهُ فَصَکَّ بِهَا جَبْهَةَ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَقْذِفُ أُمَّهُ! قَدْ کُنْتُ أَرَى أَنَّ لَکَ وَرَعاً فَإِذَا لَیْسَ لَکَ وَرَعٌ فَقَالَ: جُعِلْتُ فِدَاکَ إِنَّ أُمَّهُ سِنْدِیَّةٌ مُشْرِکَةٌ فَقَالَ: أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ نِکَاحاً تَنَحَّ عَنِّی قَالَ فَمَا رَأَیْتُهُ یَمْشِی مَعَهُ حَتَّى فَرَّقَ الْمَوْتُ بَیْنَهُمَا . وَ فِی رِوَایَةٍ أُخْرَى: إِنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ نِکَاحاً یَحْتَجِزُونَ بِهِ مِنَ الزِّنَا ۔

عمرو بن نعمان جعفى کہتا ہے امام ؑ کا ایک ساتھی تھا امام ؑ جہاں بھی جاتے وہ ساتھ ہوتا ایک دن امام ؑ کے ساتھ بازار میں جا رہا تھا اور اس کا سندھی غلام بھی ساتھ تھا اچانک پیچھے دیکھتا ہے تو وہ غلام بہت پیچھے راہ گیا تھا کچھ دیر بعد جب غلام قریب آیا تو کہتا ہے اے حرام زادہ کہاں راہ گئے تھے ؟ امام ؑ نے جب یہ سنا تو اپنا ہاتھاپنی پیشانی پر مارا اور فرمایا :

سبحان اللہ اس کی ماں پر زنا کی تہمت لگا دی ؟ میرا خیال تھا کہ تو غیرت مند اور نیک ہے لیکن اب دیکھ رہا ہوں کہ تو ایسا نہیں ہے ؟

عرض کرتا ہے قربان جاؤں اس کی ماں اہل سندھ سے ہے اور مشرک ہے

امام نے فرمایا:

تم نہیں جانتے کہ ہر ملت میں شادی ہوتی ہے ، مجھ سے دور ہو جاؤ

عمرو بن نعمان (راوى حدیث) کہتا ہے، اس کے بعد ہم نے اسے امام ؑ کے ساتھ کبھی نہیں دیکھا ۔

نتیجه

یہ جاننا ضروری ہے کہ مومن کی حرمت کا ملاک انسانی وقار کا تحفظ ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ایسے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے جو انسانی عظمت اور اعلیٰ اقدار کے منافی ہوں تو اس کی عزت باقی نہیں رہتی اور اس کی توہین کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا جائز ہو جاتا ہے جیسے کھلم کھلا کفر کرنے والا ، بدکاری اور ظلم و زیادتی کرنے والا، دین میں بدعت داخل کرنے والا، اور ہر وہ شخص جس میں کوئی شرم و حیا نہ ہو، چنانچہ پیغمبر گرامی اسلام ﷺ فرماتے ہیں :

میرے بعد جب بھی بدعتی لوگوں سے ملو تو ان سے برائت کرو ۔

آخر میں حضرت لقمان حکیم کی ایک حکایت پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں ، ایک بادشاہ نے حضرت لقمان حکیم سے کہا کہ ایک بکری ذبح کرواور اس میں جو سب سے اچھی چیز ہو وہ پیش کرو۔ حضرت لقمان حکیم نے زبان اور دل لا کر پیش کر دیا، اس کے بعد بادشاہ نے کہا کہ جو سب سے بری چیز ہو وہ پیش کی جائے، تو حضرت لقمان حکیم نے پھر زبان اور دل پیش کر دیا، بادشاہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو لقمان حکیم نے جواب دیا اگریہی زبان اور دل صحیح استعمال کیے جائیں تو یہ انسانی جسم کے سب سے بہترین اعضا ہیں اوراگر ان کا استعمال غلط ہو تو یہی انسانی جسم کے سب سے بدترین اعضا ہیں ۔

سلام کرنے کی فضیلت و اہمیت  


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام کرنے کی فضیلت و اہمیت

قرآن اور روایات محمد و آل محمد علیہم السلام کی روشنی میں

اسلام سراپا امن وسلامتی اور عافیت کا مذہب ہے، دنیا وآخرت کی مکمل فلاح وکا مرانی اسی بابرکت دین سے وابستہ ہے ،سراپا امن وسلامتی سے عبارت اس دین برحق کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں پر کبھی شدت وتنگی اور جبروتشدد کو روا نہیں رکھتا ہے، بلکہ ہر ممکن آسانی اور سہولت کا طریقہ اپناتا ہے، چنانچہ اس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکامات سے آگاہ کیا ہے، اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو اعتقادات وعبادات کی تعلیم دیتا ہے، وہیں معاملات، معاشیات اوراقتصادیات کے آداب اور طریقے بھی بتلاتا ہے، غرض کوئی گوشہ نہیں ہے جس کے متعلق اسلام کے زریں احکامات وارد نہ ہوئے ہوں، باہمی اتحاد، آپس کے میل ملاپ او رایک اچھے معاشرے کی تشکیل کیلئے باہمی رابط انتہائی ناگزیر ہے، اس لیے قرآن کریم اور روایات حضرات محمد و آل محمد ؑنے متعدد مقامات پر اس کی اہمیت پر زور دیا او رایک دوسرے سے ملتے وقت کا طریقہ ادب بھی بتلایا ہے کہ جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں تو سلام کریں، یہ باہمی محبت والفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

ایک دوسرے کو سلام کرنا ایک اسلامی شعار ہے، جو آپس میں محبت پیدا کرکے بہت سی معاشرتی بیماریوں کو ختم کر دیتا ہے، سلام اظہار محبت و مودت اور رقت قلبی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ سے غیظ وغضب سے بھرپور آنکھیں شرمگیں اور دشمن کا آہنی دل بہت جلد موم ہو جاتا ہے۔

مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ﷺ نے جو سب سے پہلا خطبہ ارشاد فرمایا ، اس میں تین باتوں کا خاص اہتمام فرمایا، جن میں سب سے پہلے سلام کو رواج دینا ہے کہ جس سے بھی ملاقات ہو اس کو سلام کیا جائے، چاہے جان پہچان کا ہو یانہ ہو، ہر ایک کو سلام کرے، اس سے آپس میں محبت اور تعلق پیدا ہوتا ہےیہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں اس کی فضیلت واہمیت پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے رواج پر جنت میں داخلہ کی بشارت بھی سنائی گئی ہے۔

سلام کے معا نی

سلام سے مراد دراصل سلامتی ، امن اور عا فیت ہے ۔ سلامتی میں انسان کی ساری زندگی اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں ۔راغب اصفہانی نے المفردات میں لکھا ہے :

السلام التعري من الآفات الظاهرة والباطنة یعنی ظاہری اور باطنی آفات و مصائب سے محفوظ رہنا

پس جب ہم کسی کو "اسلام علیکم " کہتے ہیں تو اس کا یہ معنی ہوتا ہے کہ "تم جسمانی ، ذہنی اور روحا نی طور پر عافیت میں رہو "تمہاری دنیا اور آخرت کی زندگی کے تمام معمولات اور انجام ،امن اور عافیت والے ہوں ۔

جیسا کہ کہا گیا ہے کہ "سلام" خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا مطلب ہے عیب اور نقصان سے حفاظت، پس جو شخص سلام بھیجتا ہے وہ درحقیقت دوسرے کے عیب اور نقصان سے محفوظ رہنے کی خواہش کرتا ہے۔

سلام کرنے کے آداب​

گفتگو شروع کرنے سے پہلے سلام کریں

اضافہ کے ساتھ سلام کا جواب دیں

چھوٹا بڑے کو سلام کرے ، گذرنے والا بیٹھے ہوئے کو ، سوار پیدل چلنے والے کو،پیدل چلنے والا کھڑے ہوئے کو سلام کرے

جب گھر ایسی حالت میں آئے کہ سب سو رہے ہوں تو آہستہ آواز میں اس قدر سلام کریں کہ سونے والوں کو کوئی دقت نا ہواور جاگنے والے سن بھی لیں

جب کسی کوسلام پہونچانے کی وصیت کی جائے تو وہ اس کو پورا کرو ، اور جن کو سلام کا پیغام بھیجا گیا ہو وہ اس طرح سے جواب دیں:[علیک وعلیہ السلام]اگر سلام بھجنے والی خاتون ہیں تو انہیں اس طرح جواب دیں [علیک وعلیھا السلام]

قضائے حاجت کے وقت سلام کا جواب نا دیا جائے

سلام میں پہل کرنے والا جواب دینے والے سے افضل ہے

گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اہل خانہ کو سلام کریں

سلام کرتے اور سلام کا جواب دیتے ہوئے مسکرانا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے

یاد رہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے جبکہ سلام کرنا سنت ہے

سلام کرنے کے فوائد​

آپس میں محبت پیدا ہوگی

جنت میں داخلہ کا سبب ہے

سلام کرنا حسن تعامل کی علامت ہے اس سے لوگوں کاآپسی حق ادا ہوتا ہے

اس سے تواضع پسندی عیاں ہوتی ہے

سلام گناہوں کے بخشش کا ذریعہ ہے

قرآن کریم میں سلام کرنے کا بیان

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ بُیُوۡتِکُمۡ حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ [1]
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو

اذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ [2]
جب وہ (فرشتے) اُن کے پاس آئے تو انہوں نے سلام پیش کیا، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواباً) سلام کہا، (ساتھ ہی دل میں سوچنے لگے کہ) یہ اجنبی لوگ ہیں۔

اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا [3]
انہی لوگوں کو (جنت میں) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔

فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً [4]
جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے ۔

وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ [5]
اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں تو آپ (ان سے شفقتًا) فرمائیں کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات (کے ذمّہ کرم) پر رحمت لازم کرلی ہے

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡھَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا [6]
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر سلام کرو، یا انہی الفاظ سے جواب دو، اللہ یقینا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡن [7]
پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیں ۔ ( اچھا بھائی ) سلام! انہیں عنقریب ( خود ہی ) معلوم ہو جائے گا ۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ [8]
اور اپنے رب سے ڈرنے والوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو،تم پاکیزہ رہے تو ہمیشہ رہنے کوجنت میں جاؤ۔

سَلٰمٌ ۟ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ [9]
(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا۔

سَلٰمٌ عَلٰی نُوۡحٍ فِی الۡعٰلَمِیۡنَ [10]
سلام ہو نوح پر سب جہانوں میں

قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ [11]
فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں، اور (آئندہ پھر) کچھ طبقے ایسے ہوں گے جنہیں ہم (دنیوی نعمتوں سے) بہرہ یاب فرمائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب آپہنچے گا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا [12]
اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا

سَلَامٌ عَلٰى مُوْسٰى وَهَارُوْنَ [13]
کہ موسٰی اور ہارون پر سلام ہو۔

سَلَامٌ عَلٰٓى اِلْ يَاسِيْنَ [14]
کہ ال یاسین پر سلام ہو

وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ [15]
اور رسولوں پر سلام ہو۔

اِنَّ اللّـٰهَ وَمَلَآئِكَـتَهٝ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا [16]
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔

اَلَّـذِيْنَ تَـتَوَفَّاهُـمُ الْمَلَآئِكَـةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّـةَ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ [17]
جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ پاک ہیں، فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو بہشت میں داخل ہوجاؤ بسبب ان کاموں کے جو تم کرتے تھے۔

قُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّـذِيْنَ اصْطَفٰى ۗ آللَّـهُ خَيْـرٌ اَمَّا يُشْرِكُـوْنَ [18]
کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے، بھلا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک بناتے ہیں۔

تَحِيَّتُهُـمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٝ سَلَامٌ ۚ وَّاَعَدَّ لَـهُـمْ اَجْرًا كَرِيْمًا [19]
جس دن وہ اس سے ملیں گے ان کے لیے سلام کا تحفہ ہوگا، اور ان کے لیے عزت کا اجر تیار کر رکھا ہے۔

روایات میں سلام کرنے کا بیان

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
فاذا دخلت بیتک فسلم علیہم یکثر خیرک [20]
جب تم اپنے گھر میں داخل ہو جاؤ تو گھر والوں پر سلام کرو تمہاری بھلائی میں اضافہ ہو گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
مَنْ لَقِىَ عَشَرَةً مِنَ الْمُسْلِمينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ كَتَبَ اللّهُ لَهُ عِتْقَ رَقَبَةٍ [21]
جو شخص دس مسلمانوں سے ملے اور ان کو سلام کرے اللہ تعالیٰ اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا سَلَّمَ الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ فَرَدَّ عَلَيْهِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ سَبْعِينَ مَرَّةً [22]
جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرتا ہے اور وہ جواب دیتا ہے تو فرشتے اس پر ستر مرتبہ سلام بھیجتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
وَالَّذى نَفْسى بِيَدِهِ لاتَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّى تُؤْمِنُوا، وَلاتُؤْمِنُونَ حَتّى تَحابُّوا، اَفَلا اَدُلُّكُمْ عَلى عَمَلٍ اِذا عَمِلْتُمُوهُ تَحابَبْتُمْ؟ قالُوا: بَلى يا رَسُولَ اللّهِ، قالَ: اَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ [23]
اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف رہنمائی کروں کہ جب تم اسے کرو گے تو تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ کہا: ہاں یا رسول اللہ ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سلام کرنے کو آپس میں پھیلاؤ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خَيْرُكُمْ مَنْ اَطْعَمَ الطَّعامَ، وَاَفْشَى السَّلامَ وَ صَلّى وَالنّاسُ نِيامٌ [24]
تم میں سے بہتر وہ ہے جو کھانا کھلائے، سب کو سلام کرے اور رات کو اس وقت نماز پڑھے جب لوگ آرام کر رہے ہوں (یعنی نماز شب پڑھے)۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلسَّلامُ مِنْ اَسْماءِ اللّهِ فَاَفْشُوهُ بَيْنَكُمْ، فَاِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ اِذا مَرَّبِالْقَوْمِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَاِنْ لَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ يَرُدُّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَاَطْيَبُ [25]
سلام خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے، لہٰذا اسے آپس میں پھیلاؤ، جب کوئی مسلمان کسی گروہ کے پاس پہنچتا ہے اور انہیں سلام کرتا ہے، اگر وہ جواب نہیں دیتے تو ان سے بہتر اور پاکیزہ (یعنی فرشتے) جواب دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَنَّ لِلْمُسْلِمِ عَلى اَخيهِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتّا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ اِذا لَقِيَهُ۔۔۔ [26]
ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے ملاقات کے وقت اسے سلام کرے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلا اُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ اَخْلاقِ اَهْلِ الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ ؟ قالُوا : بَلى يا رَسُولَ اللّهِ ، فَقالَ : اِفْشاءُ السَّلامِ فِى الْعالَمِ [27]
کیا آپ پسند کریں گے کہ میں آپ کو دنیا اور آخرت کے لوگوں کے بہترین اخلاق بتاؤں؟ کہا: ہاں یا رسول اللہﷺ ، فرمایا: ان کا بہترین اخلاق دونوں جہانوں میں سلام کو پھیلانا ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ فِى الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظاهِرُها مِنْ باطِنِها، وباطِنُها مِنْ ظاهِرِها، يَسْكُنُها مِنْ اُمَّتِى مَنْ اَطابَ الْكَلامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعامَ، وَاَفْشَى السَّلامَ، وَصَلّى بِاللَّيْلِ وَالنّاسُ نِيامٌ، ثُمَّ قالَ: اِفْشاءُ السَّلامِ اَنْ لايَبْخَلَ بِالسَّلامِ عَلى اَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمينَ [28]
جنت میں ایسے محلات اور کمرے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے ، میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو پاکیزہ بات کریں گے، سلام کریں گے اور رات کو اس وقت نماز شب پڑھیں گے جب لوگ سو رہے ہوں گے۔ پھر فرمایا: سلام کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو سلام کرنے میں بخل نہیں کریں گے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا تَلاقَيْتُمْ فَتَلاقُوا بِالتَّسْلِيمِ وَالتَّصافُحِ وَاِذا تَفَرَّقْتُمْ فَتَفَرَّقُوا بِالاْءسْتِغْفارِ [29]
جب تم ملو تو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور جب الگ ہو جاؤ تو ایک دوسرے کے لیے استغفار کرو۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
يا اَ نَسُ! سَلِّمْ عَلى مَنْ لَقيتَ، يَزيدُ اللّهُ فِى حَسَناتِكَ، وَ سَلِّمْ فِى بَيْتِكَ يَزيدُ اللّهُ فِى بَرَكَتِكَ [30]
اے انسان! گھر سے باہر ہر ملنے والے کو سلام کریں کیونکہ اس سے آپ کے نیک اعمال اور اجر میں اضافہ ہوگا اور جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوں تو سب کو سلام کریں، اللہ آپ کو بھلائی اور برکت عطا کرے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا دَخَلَ اَحَدُكُمْ بَيْتَهُ فَلْيُسَلِّمْ فَاِنَّهُ يُنْزِلُهُ الْبَرَكَةَ، وَتُؤْنِسُهُ الْمَلائِكَةَ [31]
تم میں سے ہر ایک دوسرے کو سلام کرے جب وہ اپنے گھر میں داخل ہو، کیونکہ سلام کرنے سے رحمت، مہربانی اور فرشتوں کی محبت نازل ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتَكُمْ فَسَلِّمُوا عَلى اَهْلِها فَاِنَّ الشَّيْطانَ اِذا سَلَّمَ اَحَدُكُمْ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُ فِى بَيْتِهِ [32]
جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو، کیونکہ ایسا کرنے سے شیطان گھر میں داخل نہیں ہوتا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا قـامَ الرَّجُـلُ مِـنْ مَجْـلِسِهِ فَـليُوَدِّعْ اِخْـوانَهُ بِالسَّـلامِ، فَـاِنْ اَفاضُوا فِى خَيْرٍ كانَ شَريكَهُمْ وَاِنْ اَفاضُوا فِى باطِلٍ كانَ عَلَيْـهِمْ دُونَهُ [33]
جب کوئی کسی محفل سے اٹھے تو اپنے بھائیوں کو سلام کے ساتھ الوداع کرے کیونکہ اس صورت میں اگر انہیں خیر پہنچے گا تو وہ ان کا شریک ہو گا اور اگر نقصان پہنچے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
... تَحِيَّةُ اَهْلِ الْجَنَّةِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ [34]
اہل جنت کا سلام "السلام علیکم" ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَطْوَعُكُمْ لِلّهِ اَلَّذى يَبْدَأُ صاحِبَهُ بِالسَّلامِ [35]
تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ فرمانبردار وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلْبادى بِالسَّلامِ بَرِئٌ مِنَ الْكِبْرِ [36]
سلام کرنے میں پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
يُسَلِّمِ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبيرِ، وَيُسَلِّمِ الْواحِدُ عَلَى الاْثْنَيْنِ، وَيُسَلِّمِ الْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ، وَيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الْماشى، وَيُسَلِّمِ الْمارُّ عَلَى الْقائِمِ وَ يُسَلِّمِ الْقائِمُ عَلَى الْقاعِدِ [37]
چھوٹے کو بڑے پر سلام کرنا چاہیے۔ ایک شخص کو دو لوگوں پر سلام کرنا چاہیے۔ تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں پر سلام کرنا چاہیے۔ سوار پیدل چلنے والے پر سلام کرے ۔ راہ گیر کھڑے ہوئے شخص پر سلام کرے اور جو کھڑا ہو اسے بیٹھے ہوئے پر سلام کرنا چاہیے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لا غِرارَ فِى الصَّلاةِ وَلاالتَّسْليمِ [38]
نماز اور سلام کرنے میں کوئی تاخیر یا جلدبازی نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلسِّلامُ تَطَوُّعٌ وَالرَّدُّ فَرِيضَةٌ [39]
سلام کرنا مستحب ہے اور جواب دینا واجب ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اَعْـجَزَ النّـاسِ مَـنْ عَجَـزَ مِنَ الدُّعاءِ وَاِنَّ اَبْخَلَ النّاسِ مَنْ بَخِـلَ بِالسَّـلامِ [40]
لوگوں میں سب سے زیادہ بے بس وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجز ہو اور سب سے زیادہ کنجوس وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلْمَلائِكَةُ تُعَجِّبُ مِنَ الْمُسْلِمِ يَمُرُّ عَلَى الْمُسْلِمِ فَلايُسَلِّمُ عَلَيْهِ [41]
جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے پاس سے گزرتا ہے اور اسے سلام نہیں کرتا تو فرشتے اس مسلمان پر تعجب کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خمْسٌ لا اَدَعُهُنَّ حَتَّى الْمَماتِ: ... وَالتَّسْلِيمَ عَلَى الصِّبْيانِ لِتَكُونَ سُنَّةً مِنْ بَعْدِى [42]
میں آخری دم تک پانچ چیزوں کو ترک نہیں کروں گا: ... ان میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا ہے تاکہ میرے بعد یہ سنت قائم ہو جائے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
السَّلَامُ تَطَوُّعٌ وَ الرَّدُّ فَرِیضَۃٌ [43]
سلام کرنا مستحب ہے اور جواب واجب ہے۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
لِلسَّلامِ سَبْعُونَ حَسَنَةٌ، تِسْعَةٌ وَ سِتُّونَ لِلْمُبْتَدى وَواحِدَةٌ لِلرّادِّ [44]
سلام کی ستر نیکیاں ہیں، ان میں سے انہتر نیکیاں سلام کرنے والے کے لیے ہیں اور صرف ایک نیکی جواب دینے والے کے لیے ہے۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
اِذا دَخَلَ اَحَدُكُمْ مَنْزِلَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلى اَهْلِهِ، يَقُولُ: اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَاِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ اَهْلٌ فَلْيَقُل: اَلسَّلامُ عَلَيْنا مِنْ رَبِّنا [45]
جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرے اور کہے: السلام علیکم ، اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو وہ کہے: " اَلسَّلامُ عَلَيْنا مِنْ رَبِّنا " (ہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو)۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
لِكُلِّ داخِلٍ دِهْشَةٌ فَابْدَئُوا بِالسَّلامِ [46]
ہر نیا آنے والا ایک قسم کا خوف محسوس کرتا ہے، اس لیے سلام کے ساتھ ابتدا کریں۔

امام حسین ؑ نے فرمایا :
كَيْفَ اَنْتَ عافاكَ اللّهُ؟ فَقالَ عليه السلام لَهُ: اَلسَّلامُ قَبْلَ الكَلامِ عافاكَ اللّهُ، ثُمَّ قالَ عليه السلام : لاتَأذَنُوا لاِحَدٍ حتّى يُسَلِّمَ [47]
ایک شخص نے امام حسین ؑ سے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے ، آپ کیسے ہیں؟ ۔ امام نے فرمایا: اللہ آپ کو عافیت دے پہلے سلام، پھر کلام ۔ اور فرمایا: کسی کو اس وقت تک کلام کی یا داخلہ کی اجازت نہ دیں جب تک کہ وہ سلام نہ کرے۔

امام باقر ؑ نے فرمایا :
اِنَّ اللّهَ يُحِبُّ اِطْعامَ الطَّعامِ وَاِفْشاءَ السَّلامِ [48]
خدا تعالی دوسروں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنے کو رواج دینے کو پسند کرتا ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِنَّ مِنْ مُوجِباتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلامِ وَحُسْنُ الْكَلامِ [49]
انسان کی بخشش کا باعث بننے والے عوامل میں سے ایک سلام کرنا اور اچھی گفتگو کرنا ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
جَمَعَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله بَنِى عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقالَ: يا بَنى عَبْدِالْمُطَّلِبِ اَفْشُوا السَّلامَ وَصِلُوا الاْرْحامَ، وَتَهَجَّدُوا وَالنّاسُ نيامٌ، وَاَطْعِموُا الطَّعامَ، وَاَطِيبُوا الْكَلامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلامٍ [50]
رسول اللہ ﷺ نے عبدالمطلب کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا: اے عبدالمطلب کے بیٹو! سلام کو عام کرو ، رشتہ داریاں قائم رکھو، اور لوگ جب سو رہے ہوں تو عبادت کرو ، انہیں کھانا کھلاؤ، پاکیزہ گفتگو کرو تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اَلْبادِى بِالسَّلامِ اَوْلى بِاللّهِ وَبِرَسُولِهِ [51]
سلام کی ابتدا کرنے والا خدا اور اس کے رسول سے زیادہ قریب ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اَذا سَلَّمَ اَحَدُكُمْ فَلْيَجْهَرْ بِسلامِهِ وَلايَقُولُ: سَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ وَلَعَلَّهُ يَكُونُ قَدْ سَلَّمَ وَلَمْ يُسْمِعْهُمْ، فَاِذا رَدَّ اَحَدُكُمْ فَلْيَجْهَرْ بِرَدِّهِ وَلايَقُولُ الْمُسْلِمُ: سَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ [52]
جب تم میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو اسے بلند آواز سے سلام کرو اور یہ نہ کہو کہ میں نے تمہیں سلام کیا اور تم نے جواب نہیں دیا۔ شاید اس نے سلام کہا لیکن سنا نہیں گیا۔ اور جب کوئی سلام کا جواب دے تو بلند آواز سے جواب دو تاکہ سلام کرنے والا یہ نہ کہے کہ میں نے تمہیں سلام کیا اور آپ نے جواب نہیں دیا۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِنَّ مِنَ التَّواضُعِ اَنْ يَرْضَى الرَّجُلُ بِالْمجْلِسِ دُونَ الْمَجْلِسِ،وَاَنْ يُسَلِّمَ عَلى مَنْ يَلْقى ... [53]
عاجزی کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان مجلس کے آخر میں بیٹھے اور ہر آنے والے کو سلام کرے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
ثَلاثَةٌ لايُسَلِّمُونَ: اَلْماشى مَعَ الْجَنازَةِ وَالْماشى اِلى الْجُمُعَةِ وَ فِى بَيْتِ حَمّامٍ [54]
تین آدمیوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا ضروری نہیں:
1جنازہ کے ساتھ جانے والا شخص۔
2 نماز جمعہ کے لیے جانے والا۔
3 وہ شخص جو غسل خانے میں ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِذا سَلَّمَ مِنَ الْقَوْمِ واحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ وَاِذارَدَّ واحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ [55]
جب آپ کسی گروپ میں ہوتے ہیں تو ایک شخص کا آپ کو سلام کرنا کافی ہوتا ہے اور گروپ میں ایک شخص کا جواب دینا کافی ہوتا ہے۔

نتیجہ
یہ مذکورہ تمام وہ آداب ہیں جوروایات سے ثابت ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے آداب ہیں، سلام کرتے وقت جن کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی کام میں مشغول ہو اور یہ اندازہ ہو کہ سلام کرنے سے اس کے کام میں خلل واقع ہو گا تو ایسی صورت میں اس کو سلام کرنا درست نہیں، بلکہ اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے، مثلاً کوئی آدمی نماز میں مشغول ہے یا ذکر کر رہا ہے یا وعظ ونصحیت میں مشغول ہے یا خطبہ وتقریر سن رہا ہے یا قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے یا اذان دے رہا ہے یا قاضی ومفتی کسی فیصلے یا مسئلہ بتانے میں مشغول ہے یا کھانے پینے میں مصروف ہے یا قضائے حاجت یا پیشاب کرنے میں مشغول ہے یا غسل خانہ میں ہے، یا وضو کر رہا ہے یا دعا مانگ رہا ہے یا اسی طرح کسی اور کام میں مصروف ہے تو ایسے آدمی کو سلام کرنا مکروہ ہے، اگر کوئی اس حالت میں ان لوگوں کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں۔
مذکورہ روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا طرز عمل تمام امت کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، جو سلام کرنے والے کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سلام کرتے وقت اپنے مخاطب کے حالات کی رعایت رکھنا انتہائی ضروری ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس شعار دین کو زیادہ سے زیادہ رواج دے کربار گاہ ایزدی میں تقرب حاصل کرے۔
ایک دوسرے سے ملتے وقت سلام کرنا انتہائی خوبصوت انداز ہے جس کی تعلیم دین مقدس اسلام نے دی ہے۔ معاشرے میں سلام کر پرچار کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے خصوصا آج کے معاشروں میں جہاں سلام کرنے کا رواج کم ہوتا جارہا ہے۔ سب سے بہترین طریقہ اس مورد میں خود کا سلام میں پہل کرنا اور بلند آواز سے سلام کرنا ہے، تاکہ دوسرے صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے سیکھے۔

[1] ۔ نور/27
[2] ۔ الذاریات/ 25
[3] ۔ فرقان/ 75
[4] ۔ نور/61
[5] ۔ انعام/ 54
[6] ۔ نساء/ 86
[7] ۔ زخرف/ 89
[8] ۔ زمر/ 73
[9] ۔ یٰس/ 58
[10] ۔ صافات / 79
[11] ۔ هود / 48
[12] ۔ مريم / 33
[13] ۔ صافات / 120
[14] ۔ صافات/ 130
[15] ۔ صافات / 181
[16] ۔ احزاب / 56
[17] ۔ النحل/ 32
[18] ۔ ٰنمل / 59
[19] ۔ احزاب / 44
[20] ۔ عوالی للالی ۲:۱۳۵
[21] ۔ بحار ، ج 76، ص 4
[22] ۔ محجه البيضاء، ج 3، ص 382
[23] ۔ محجة البيضاء، ج 4، ص 382
[24]۔ همان، ص 3
[25] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[26] ۔ همان، ص 5
[27] ۔ همان، ص 12
[28] ۔ همان، ص 2
[29] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 5
[30] ۔ همان، ص 3
[31] ۔ همان، ص 7
[32] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 382
[33] ۔ بحارالأنوار،ج76، ص9
[34] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 6
[35] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 536، شماره 8846
[36] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 536، شماره 8848
[37] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 538، شماره 8857
[38] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 6
[39] ۔ ميزان الحكمة، ج4، ص 537، شماره 8854
[40] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص4
[41] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 382
[42] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[43] ۔ اصول الکافی ۲:۶۴۴
[44] ۔ همان، ص 11
[45] ۔ همان، ص 4
[46] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 526، شماره 7750
[47] ۔تحف العقول 246، موسوعة كلمات الامام الحسين عليه السلام 750/913
[48]۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[49] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 11
[50] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[51] ۔ همان، ص 1 .
[52] ۔محجّة البيضاء، ج 3، ص 384
[53] ۔ همان، ص 6 .
[54] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 385 .
[55] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 385 .

امت واحدہ

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں ۔۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

عالم اسلام میں اس وقت زبوں حالی کا مرض اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ چکا ہے مسلمان ممالک کے سربراہان عالمی طاغوتی طاقتوں کے دام تزویر میں پھنس کر رہ گئے ہیں ، پوری دنیا کے مسلمان انتہائی کرب ناک کیفیت سے دو طار ہیں فلسطین ہو یا شام ، یمن ہو یا افغانستان ، کشمیر ہو یا پاکستان ،مسلمان ظلم و جور کی چکی میں پس رہے ہیں ، مظلوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔ مسلمان حکمران اپنی اپنی حکمرانی کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں ، ان سب مظالم اور استحصال کا سبب امت مسلمہ کا باہمی اختلاف و انتشار ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اہل اسلام باہمی فروعی اور علاقاعی و لسانی اختلافات بھلا کر ملت واحدہ بن جائیں اور اتحاد و یگانگت سے اسلام کی مخالف قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ، تاکہ مسلمان قوم اپنے دین اسلام پر خود عمل پیرا ہو کر دیگر اقوام کی رہنمائی و رہبری کی طرف توجہ دیں ۔

مسلمانوں کو اللہ نے بہترین اُمت بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں نیکی اور تقویٰ کا درس دیتے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو روکنے والے ہیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا یہ اہم فریضہ اس وقت سرانجام ہو سکتا ہے جب ہم آپس میں پیار و اتفاق سے رہیں گے۔ شاید اسی لئے فتح و نصرت کو اللہ نے اجتماعی ایمان سے مشروط فرما دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہوَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ

تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ( آلعمران/139)۔گویا جب پوری اُمت مسلمہ میں اتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہو جائے گی تو وہ سب ایک دوسرے کے ہمدرد،غم خوار اور جانثار بن جائیں گے اور ان کی صفوں میں ایسی شیرازہ بندی قائم ہو جائے گی کہ کوئی بڑی سے بڑی عالمی قوت بھی ان کی راہ میں رکاؤٹ نہ بن پائے گی۔ ہمیں تو اللہ خود اپنی مقدس کتاب ہدایت میں یہ حکم دے رہا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو (آل عمران/ 103)

وطن عزیز پاکستان میں عرصہ دراز سے مسلمانوں اپنے مسلمان بھائیوں کا بے دریغ خون بہا رہے ہیں ،کوئیٹہ سے پاراچنار تک ہزاروں خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوئے ۔ اسلام کے داعی اور شدت پسند مذہبی گروہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ اسلام کی خدمت نہیں ، بلکہ دین اسلام کی سراسر مخالف ہے ۔ عالمی طاغوتی قوتیں سب مسلمانوں کو ایک جیسا سمجھتی ہیں اور وہ سب کے مشترکہ دشمن ہیں ۔ کاش یہ بات وہ لوگ جو غیروں کے مفاد کے لئے کام کر رہے ہیں ، سوچتے اور اسلامی اتحاد کی کوشش کر کے غیروں کے ارادے خاک میں ملا دیتے ۔

ہم نے قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے، اس لئے آج ہم مفلوک الحال اورپریشان ہیں۔ موجودہ حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں،وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ ہم مسلمان اتحاد واتفاق کی فضاء قائم کریں۔ فرقہ واریت کا زہر جو ہماری نئی نسل میں ڈالا گیا ہے اس کو پیار بڑھا کر ختم کریں۔

ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہر کلمہ گو دوسرے کلمہ گوکا بھائی ہے ۔ نیز فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے دیوار کی مانند ہے جس کی اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے ۔ پیارے نبی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ تمام مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں ، جب ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم درد اور بے چینی محسوس کرتا ہے

البلاغ المبین کے صفحات پر بارہا ہم نے اتحاد امت کی طرف اہل اسلام کی توجہ دلائی ہے ۔ ہم تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشور حضرات سے دل کی گہرائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ تعلیمات اسلام کے لئے متحد ہو جائیں اور ایک آواز ہو کر مسلمانوں کی خیر خواہی اور فلاح و بہبود کے لئے سینہ سپر ہو جائیں ، تاکہ ظلم و غارت گری کے بادل چھٹ جائیں اور امت اسلامیہ عزت کی زندگی بسر کر سکے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں اخوت و محبت و ہمدردی اور ملکی وملی اور سماجی و سیاسی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سر بلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جیئیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی ملے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

 زکات فطرہ کے انفرادی اور معاشرتی اثرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زکات فطرہ کے انفرادی اور معاشرتی اثرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسد عباس اسدی

مقدمه

دینِ اسلام کا کمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق کائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کے ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’ زکو ٰۃ ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکو ٰۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکو ٰۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔

ادائیگی زکو ٰۃ دین اسلام کا اہم ترین حکم ہے ۔ زکو ٰۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد، اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ہیں ۔

جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر ہے ۔ اور جو شخص زکات کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،جس کی وضاحت سورہ توبہ کی آیت 34۔35 میں موجود ہے ۔

زکوٰۃ ایک اہم ترین فریضہ ہے جسے نماز اور جہاد کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور یہ دین کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔

زکات کا مفہوم

زکوٰۃ لفظ "زکو" سے ماخوذ ہے اور اس کے لغوی معنی نشوونما کے ہیں[1]، تزکیہ، نیکی اور تقویٰ [2] اور حمد و ثناء ہے [3]۔

اور اس کا اصل معنی خدائی نعمتوں سے حاصل ہونے والا اضافہ ہے جو دنیاوی معاملات میں استعمال ہوتا ہے اور آخرت کا اجر رکھتا ہے [4]۔

فقہی اصطلاح میں اس سے مراد صدقہ اور ایک خدائی حق ہے جو مخصوص شرائط کے ساتھ مال کی ایک خاص مقدار تک پہنچنے پر ادا کیا جاتا ہے[5]، اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ‏ وَ تُزَکِّیهِمْ بِها [6]

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں ۔

اهمیت زکات

زکوٰۃ کی اہمیت اس قدر ہے کہ قرآن مجید میں نماز کے ساتھ اس کا ذکر ہے اور دعا کی قبولیت زکوٰۃ کی ادائیگی سے مشروط ہے۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور فرمایا ہے:

‌أَقِیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ‌‌ [7]۔

پس وہ شخص جو نماز قائم کرتا ہے لیکن زکوٰۃ نہیں دیتا،گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں ہے [8]۔

قرآن نے زکوٰۃ کی ادائیگی کو سعادت کا سبب اور کامیاب مومنین کی خصوصیت قرار دیا ہے:

وَ الَّذینَ هُمْ لِلزَّکاةِ فاعِلُون [9]

زکوٰۃ اللہ کی رحمت کے حصول کی بنیاد ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

وَ رَحْمَتی‏ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ‏ءٍ فَسَأَکْتُبُها لِلَّذینَ یَتَّقُونَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ الَّذینَ هُمْ بِآیاتِنا یُؤْمِنُونَ [10]

اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے، اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں

زکوٰۃ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے، اسی لیے قرآن مشرکین کے بارے میں کہتا ہے:

فَإِنْ تابُوا وَ أَقامُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّکاةَ فَإِخْوانُکُمْ فِی الدِّینِ،[11]

لیکن اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں ۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

بنی الاسلام علی خمسة اشیاء : علی الصلاة و الزکاة والحج والصوم والولایة[12]

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے ۔ نماز ، زکات ، حج ، روزہ اور ولایت

امیر المومنین علی علیہ السلام نے بھی زکوٰۃ کو خدا کا قرب، گناہوں کا کفارہ اور آگ سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا اور فرمایا:

یقیناً زکوٰۃ ادا کرنا اور نماز پڑھنا ایسے عوامل ہیں جو مسلمانوں کو خدا کے قریب کرتے ہیں، لہٰذا جو شخص اطمینان قلب کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا ہے، یہ اس کے گناہوں کا کفارہ اور جہنم کی آگ سے انسان کی حفاظت کرتی ہے، جو شخص خوشی سے زکوٰۃ ادا نہیں دیتا وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل کی سنت سے غافل ہے، اس کا ثواب کم ہوگا، اس کے اعمال برباد ہوں گے اور وہ ہمیشہ پشیمان رہے گا۔[13]

زکات فطرہ کے ادا کرنے کا فلسفه

درحقیقت جن لوگوں کو روزے کی توفیق نصیب ہوئی ہے اور وہ ایک مہینے کے لیے خدا کے مہمان ہیں، وہ اس بابرکت مہینے کی کامیابی کے شکرانے کے طور پر عید الفطر کے موقع پر بندگی پروردگار کا جشن منانا چاہتے ہیں تو اس جشن میں اپنے غریب بھائیوں کو بھی شریک کریں ۔

اس لیے زکات فطرہ کی ادائیگی کی ایک اہم ترین حکمت یہ ہے کہ غریبوں، محروموں اور مظلوموں کی انتہائی احترام کے ساتھ اس طرح مدد کی جائے کہ ان کے انسانی وقار کو محفوظ رکھا جائے، تاکہ اس کے ذریعے وہ لوگ جن کی کمر مشکل معاشی حالات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، یا معذور اور بوڑھے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

زکات فطرہ کے اثرات

الٰہی فرائض مصالح انسانی کے مطابق ہیں ، زکوٰۃ کا حکم بھی اسی طرح ہے اور زکوٰۃ کے انفرادی، سماجی اور اقتصادی اثرات اور برکات دینے والے اور لینے والے دونوں پر مرتب ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

الف) انفرادی اثرات

1۔ روح کی طهارت

قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَکِّیهِمْ بِها [14]

ان کے اموال میں سے صدقہ لے لو، تاکہ تم اس سے ان کو پاک و پاکیزہ کرو ۔

رذایل نفسانی میں سے ایک، خرچ کرنے میں بخل ،اور مال جمع کرنے میں حرص ہے،قرآن نے ان برائیوں کا تذکرہ صفت «بخل» و «شُحّ» سے کیا ہے،بعض روایات کے مطابق «شحّ» بخل سے زیادہ سخت ہے۔

بخیل یہ ہے جو کچھ اپنے پاس ہے اسے روک لے،لیکن «شحّ» شخص دوسروں کے مال میں بھی بخل کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دیکھتا ہے حاصل کرنا چاہتا ہے،چاہے وہ حلال ہو یا ناجائز، وہ کبھی بھی اس سے مطمئن نہیں ہوتا جو خدا نے اس کے لیے دیا ہے[15]۔

زکوٰۃ کی ادائیگی انسان کو مادی لگن سے آزاد کرتی ہے اور اس کی روح کو ان برائیوں سے پاک کرتی ہے، لہٰذا، قرآن پاک ان لوگوں کو ممتاز کرتا ہے جو اپنی جائیداد میں فقیر اور محروم کے لیے ایک مخصوص حق کو پہچانتے ہیں اور ادا کرتے ہیں [16]۔

گناہوں کی بخشش

زکوٰۃ کے آثار میں سے ایک اثر یہ ہے کہ اس کے ادا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش دی جاتی ہے اور وہ گناہوں اور پلیدگیوں سے پاک ہو جاتے ہیں،جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

الزَّکَاةُ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ [17]۔

زکات گناہوں کو ختم کر دیتی ہے

امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ أَعْطَاهَا طَیِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ کَفَّارَةً [18]

جو شخص رضائے خدا کیلئے زکوٰۃ ادا کرے گا، اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔

3۔تقرب الهی

زکوٰۃ کی ادائیگی حکومتوں کے عائد کردہ ٹیکسوں کی طرح نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک حقیقت عبادی ہے جو ایمان اور یقین کی روح سے پیدا ہوتی ہے اور زکوٰۃ دینے والا خدا کی خوشنودی اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین علی ؑ نے زکوٰۃ کو مسلمانوں کیلئے تقرب خدا کا ذریعہ قرار دیا ہے:

إِنَّ الزَّكَاةَ جُعِلَتْ مَعَ الصَّلَاةِ قُرْبَاناً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَمَنْ أَعْطَاهَا طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ كَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارِ حِجَازاً وَ وِقَايَةً؛ فَلَا يُتْبِعَنَّهَا أَحَدٌ نَفْسَهُ وَ لَا يُكْثِرَنَّ عَلَيْهَا لَهَفَهُ، فَإِنَّ مَنْ أَعْطَاهَا غَيْرَ طَيِّبِ النَّفْسِ بِهَا يَرْجُو بِهَا مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهَا، فَهُوَ جَاهِلٌ بِالسُّنَّةِ، مَغْبُونُ الْأَجْرِ، ضَالُّ الْعَمَلِ، طَوِيلُ النَّدَمِ. [19]

اس نے نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو بھی مسلمانوں کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بنایا۔ جو شخص خوشی سے اور قناعت کے ساتھ زکوٰۃ دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے اور اسے جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رکھے گا۔ لہٰذا زکوٰۃ دینے والے کو ہمیشہ اس کا خیال نہیں رکھنا چاہیے اور ادا کرنے پر پشیمان نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ جو شخص زکوٰۃ دیتا ہے لیکن نیک دل اور اطمینان قلب کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے اس امید کے ساتھ کہ اس کو اس سے بہتر کچھ ملے گا جو اس نے دیا ہے، ایسا شخص سنت نبوی سے ناواقف ہے اور اس نے ثواب میں کمی کی ہے۔ وہ اپنا غصہ کھو دے گا اور اپنے کیے پر پشیمان ہو گا۔

4 ۔ عذاب سے استثنیٰ

امیر المومنین علی ؑ نے فرمایا:

فَمَنْ أَعْطَاهَا طَیِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ کَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارحِجَازاً وَ وِقَایَةً

جو شخص اسے خوش دلی سے رضائے پروردگار کیلئے دے گا، یہ اس کے لیے کفارہ اور آگ سے حفاظت ہے [20]

اطمینان

غربت کا شکار شخص روزی کمانے کے بارے میں بے چینی اور خوف کا شکار ہوتا ہے، بنیادی ضروریات سے محرومی عام طور پر عبادت، خدمت اورالہی فرائض کے حصول کو مشکل بنا دیتی ہے ،ایسی صورت میں زکوٰۃ ان کی مادی ضروریات کو پورا کر کے ان سے پریشانیاں اور ان کی روحانی تکالیف کو دور کر کے انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اظہار تشکر کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:

فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ هذَا الْبَیْتِ الَّذی أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَ آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ [21]

وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا، اور خوف اور عدم تحفظ سے محفوظ رکھا۔

6 ۔ صحت کی ضمانت

ہمارے ہاں احادیث موجود ہیں کہ زکات فطرہ دینے سے اس سال موت سے بچا جا سکتا ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق ؑ کی ایک روایت میں ہے:

عَنْ مُعَتِّبٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ: اذْهَبْ فَأَعْطِ عَنْ عِیَالِنَا الْفِطْرَةَ- وَ عَنِ الرَّقِیقِ وَ اجْمَعْهُمْ وَ لَا تَدَعْ مِنْهُمْ أَحَداً- فَإِنَّکَ إِنْ تَرَکْتَ مِنْهُمْ إِنْسَاناً تَخَوَّفْتُ عَلَیْهِ الْفَوْتَ- قُلْتُ وَ مَا الْفَوْتُ قَالَ الْمَوْتُ[22]

امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کروں اور ان سب کا خیال رکھوں اور ان میں سے کسی کو بھی نہ بھولنا کیونکہ اگر تم ان میں سے کسی کو چھوڑ دو گے تو مجھے ان کی موت کا اندیشہ ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ فوت سےآپ کی کیا مراد ہے ؟ آپؑ نے فرمایا: موت۔

لہٰذا زکوٰت فطرہ کی ادائیگی کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ صحت وسلامتی کی ضمانت ہے۔

ب. آثار اقتصادی

1. دولت میں اضافہ

اگرچہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ظاہری طور پر مال میں کمی نظر آتی ہے، لیکن مادی تصورات کے برعکس یہ دولت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:

وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ [23]

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اللہ اس کا بدلہ دے گا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ایک خطبہ میں فرمایا:

‌فَفَرَضَ اللَّهُ الْإِیمَانَ تَطْهِیراً مِنَ الشِّرک وَ الصَّلَاةَ تَنْزِیهاً عَنِ الْکِبْرِ وَ الزَّکَاةَ زِیَادَةً فِی الرِّزْقِ [24]

اللہ تعالیٰ نے ایمان کو واجب کیا تاکہ دلوں کو شرک سے پاک کرے اور زکوٰۃ کو بیماری سے پاک کرنے کے لیے فرض کیا ہے۔

کسی نے امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا ، خدا اس چیز کو لوٹاتا ہے جو ہم خرچ کرتے ہیں؟ تو میں جو کچھ بھی خرچ کرتا ہوں اسے کیوں نہیں لوٹایا جاتا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا: نہیں، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: پھر ایسا کیوں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں نہیں جانتا۔ امام ؑ نے فرمایا: "اگر تم میں سے کوئی حلال مال کمائے اور اسے حلال طریقے سے خرچ کرے تو وہ ایک درہم بھی خرچ نہیں کرتاجب تک کہ خدا اسے اس کا اجر نہ دے دے[25]۔

دولت کی ایڈجسٹمنٹ

اسلامی معاشیات کے مقاصد میں سے ایک معاشرے میں دولت کا بہاؤ اور دولت مندوں کے ہاتھوں میں اس کا ارتکاز ہے۔ زکوٰۃ کے آٹھ استعمال بتا کر قرآن کریم نے مال کی تقسیم کے لیے اپنے عملی منصوبے کی ایک خوبصورت مثال ظاہر کی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت واضح ہو جاتا ہے جب ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ کی اشیاء میں سے ایک سونے اور چاندی کے سکّے ہیں، جو معیشت اور دولت میں اثرانداز ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ تجارتی سرمائے پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا مستحب ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

وَ الَّذینَ یَکْنِزُونَ‏ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَها فی‏ سَبیلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلیمٍ [26]

اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی نوید سنا دو ۔

غربت کا خاتمہ

بعض روایات میں زکوٰۃ کے وجوب کا مقصد غربت کا خاتمہ بتایا گیا ہے، یحیی بن سعید کہتے ہیں:

عمر بن عبدالعزیز نے مجھے زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے افریقہ بھیجا ، زکوٰۃ جمع کرنے کے بعد مجھے کوئی فقیر نہ ملا جسے میں زکات دے سکتا، اس لیے میں نے غلام خریدے اور انہیں آزاد کر دیا۔

غریبوں کی یہ کمی غربت کے خاتمے میں زکوٰۃ کے کردار کی نشاندہی کرتی ہے، امیر المومنین علی ؑ مالک اشتر کو اپنے ایک حکم نامہ میں بیت المال میں ضرورت مندوں کا حصہ یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

خدارا خدارا، معاشرے کے ان نچلے اور محروم طبقوں کا خیال کریں جن کے پاس کچھ نہیں ، بے زمینوں، محتاجوں، مصیبت زدوں اور مصائب میں گھرے افراد کا خدا کیلئے خیال رکھیں ، اس محروم طبقے میں کچھ لوگ تنگ دست ہیں اورکچھ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، اس لیے خدا را ان کے حق کے محافظ بنیں جو اللہ نے اس طبقے کے لیے مقرر کیا ہے، بیت المال کا ایک حصہ اور اسلامی فتوحات کی زمینوں سے اناج کا ایک حصہ ہر شہر میں نچلے طبقے کے لیے مختص کرنا، اس لیے کہ اس میں دور کے مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا قریب کے مسلمانوں کا، اور اس کی نگہبانی کی ذمہ داری تم پر ہے [27]۔

یہ اقدام مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں ہے، کیونکہ اسلامی معیشت کے مقاصد میں سے ایک مستقل طور پر محتاجوں حتیٰ کہ کفار کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام کا گزر ایک لاچار بوڑھے کے پاس سے ہوا جو بھیک مانگ رہا تھا،مولا نے اس کا حال پوچھا توبتایا گیا وہ عیسائی ہے، امیر المومنین علی (علیہ السلام) نے فرمایا:

جب جوان تھا تو کام کیا ، اب جب کہ وہ بوڑھا اور بے بس ہے تو اس کے اخراجات بیت المال سے ادا کرو۔ [28]

زکوٰۃ بھی اسی طرح ہے، کیونکہ غریب، مساکین، مسافر اور قرض دار جو قرض ادا کرنے سے عاجز ہیں وہ زکوٰۃ کے استعمال کا حصہ ہیں اور قرآن نے اسے ایک ابدی اور دائمی پروگرام قرار دیا ہے۔

سرمایہ کے جمود کو روکنا

جن اشیاء پر زکوٰۃ واجب ہے ان میں سونے اور چاندی کے سکے بھی شامل ہیں جو کہ معصومین علیہم السلام کے زمانے میں رائج کرنسی تھے۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی ایک وجہ خدا کا کلام ہے جس میں کہا گیا ہے:

وَ الَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَها فِی سَبِیلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِیمٍ [29]

اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت سنا دو ۔

اس آیت میں خدا نے سونا چاندی سے ترک انفاق پر سزا کا وعدہ کیا ہے اور اس کا اطلاق صرف زکوٰۃ جیسے واجبات کو ترک کرنے پر ہوتا ہے [30]۔

ج۔ آثار نظامی

دفاعی قوت کو مضبوط کرنا

زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک کا عنوان«فی سَبِیل الّله» ذکر ہوا ہے، اس میں شک نہیں کہ جہاد «سبیل الله» کا واضح مصداق ہے، اگرچہ شیعہ علماء کے مطابق، زکات کا اطلاق تمام مسلمانوں کے مفادات پر ہوتا ہے، جیسے کہ مساجد اور پلوں کی تعمیر کے اخراجات [31] وغیرہ ۔

اہل سنت علماء نے «سبیل الله» کو صرف جہاد کے لیے سمجھا ہے اور زکوٰۃ کو عوامی مفادات پر خرچ کرنے کو جائز نہیں سمجھا ہے[32]۔ بہر صورت زکوٰۃ اسلامی معاشرے کی دفاعی قوت میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

د۔ آثار اجتماعی

مخالفین کو اپنی طرف متوجہ کرنا

زکوٰۃ کے مستحقین میں سے ایک وہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے «وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» کے طور پر کیا ہے۔ اور «وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کا حصہ لے کر رفتہ رفتہ اسلام قبول کرتے ہیں یا اگر مسلمان نہیں ہوتے تو دشمن کو پسپا کرنے میں یا دینی مقاصد کی تکمیل میں مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں [33]۔

امیروں سے حسد و ناراضگی دور کرنا

معاشرے میں ایک طبقہ جو اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں، بعض اوقات ان لوگوں میں ناراضگی اور حسد ،خونی تصادم کا باعث بن جاتا ہے جس کی بہت سی تاریخی مثالیں موجود ہیں۔

زکوٰۃ کا حکم اس لئے ہے تاکہ ضرورت مندوں کو یہ احساس رہے کہ امیر ان کی مشکلات سے بے خبرنہیں ہیں، اور ان کی سرگرمیوں کا ایک حصہ ضرورت مندوں سے متعلق ہے ۔

اسی مناسبت سے جب قرآن مومنین کے لیے ولایت کے تعلق کو بیان کرتا ہے اور یہ کہہ کر انتہائی یکجہتی کا اعلان کرتا ہے کہ «بَعْضُهُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ» ، ان کی صفات میں یہ بیان کرتا ہے «وَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ» [34] وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔شہید مطہری لکھتے ہیں:

نماز مخلوق اور خالق کے درمیان تعلق کی ایک مثال ہے، اور زکوٰۃ مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات کی ایک مثال ہے، جو اسلامی ہمدردی کے نتیجے میں ایک دوسرے کی حمایت، تعاون اور مدد کرتے ہیں۔ یہ آیت اور کچھ دوسری آیات جن میں عمومی مثبت محبت کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ نہ صرف دلی محبت بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان اچھے تعلقات کے تناظر میں مسلمانوں کے لیے ایک قسم کی وابستگی اور ذمہ داری کو ثابت کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے ایک مشہور حدیث میں فرمایا:

مومنین کی آپس میں محبت زندہ جسم کی طرح ہے، جب ایک حصہ میں درد ہوتا ہے تو دوسرے اعضاء بھی بے تاب ہوجاتے ہیں[35]۔

زکوٰۃ الفطر کا ایک اہم استعمال یہ ہے کہ اسے غریبوں پر خرچ کیا جائے، غریب وہ ہیں جو اپنے سالانہ اخراجات پورے نہیں کر سکتے۔


[1] ۔ احمد فیّومی؛ المصباح المنیر؛ ج 1-2، ص 254‌۔

[2] ۔ خلیل ابن احمد فراهیدی؛ العین؛ ج ‏5، ص 394‌۔

[3] ۔ مبارک بن‌اثیر؛ النهایه فی غریب الحدیث و الاثر؛ ج 2، ص 307‌۔

[4] ۔ حسین بن محمد راغب اصفهانی؛ مفردات الفاظ القرآن؛ ص380‌ ۔

[5] ۔ محمد‌حسن نجفی؛ جواهر الکلام فی شرح شرائع الإسلام؛ ج ‌15، ص 3‌۔

[6] ۔ توبه/ 103۔

[7] ۔ بقره/ 43۔

[8] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه‌؛ ج 9، ص 22۔

[9] ۔ مؤمنون‌/ 4‌۔

[10] ۔ ا عراف/ 156۔

[11] ۔ توبه/ 11۔

[12] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه‌؛ ج 1، ص 13؛ کافی ، ج ۲، کتاب الایمان والکفر، باب دعائم الاسلام، ح ۵۔

[13] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه؛ خطبه 199۔

[14] ۔ توبه/ 103۔

[15] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه؛ ج 9، ص 38۔

[16] ۔ معارج/ 19- 25۔

[17] ۔ محمد بن یعقوب کلینی؛ الکافی؛ ج 2، ص 19۔

[18] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه؛ خطبه 199۔

[19] ۔ ایضا ۔

[20]۔ ایضا۔

[21] ۔ قریش/ 3 و 4۔

[22] ۔ اصول کافی، ج4، ص174؛ (بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، درس تفسیر، 9/7/1387)۔

[23] ۔ سبأ/ 39۔

[24] ۔ محمد بن علی صدوق؛ کتابُ من لایحضره الفقیه؛ ج ‌3، ص 568۔

[25] ۔ محمد بن یعقوب کلینی؛ الکافی؛ ج 2، ص 486۔

[26] ۔ توبه/34 ۔

[27] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه‌؛ ص583۔

[28] ۔ محمد بن حسن طوسی؛ تهذیب الاحکام؛ ج 6، ص 293۔

[29] ۔ توبه/24۔

[30] ۔ حسن بن یوسف حلّی؛ تذکره الفقهاء؛ ج 5، ص 118؛ محمد‌حسن نجفی؛ جواهر الکلام فی شرح شرائع الإسلام؛ ج 13، ص 312؛ سید ابوالقاسم خویی؛ موسوعة الامام الخویی؛ ج 23، ص 260 و 261۔

[31] ۔ محمد بن حسن طوسی؛ التّبیان فی تفسیر القرآن؛ ج 5، ص 245۔

[32] ۔ یوسف القرضاوی؛ فقه الزّکاه؛ ج 2، ص 656۔

[33] ۔ سید محمدحسین طباطبایی؛ المیزان فی تفسیر القرآن؛ ج 9، ص 311۔

[34] ۔ توبه/ 71۔

[35] ۔ مرتضی مطهری؛ مجموعه آثار؛ ج 3، ص 265۔

بعثت کا مقصد 


بعثت کا مقصد

رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق

میں تو اعلٰی اخلاقی اقدار کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں

قرآن کریم میں بعثت کے مندرجہ ذیل مقاصد مزکور ہیں

1 تلاوت قرآن کرنا۔
2 تزکیہ نفس کرنا۔
3 تعلیم (کتاب و حکمت)دینا۔
4 شہادت و گواہی دینا۔
5 نیک لوگوں کو جزا کی بشارت دینا۔
6 برے افراد کو عذاب الٰہی سے ڈرانا۔
7 خدا کے اذن سے اس کی طرف دعوت دینا۔
8 گمراہی سے نکالنا ۔
9 سیدھے راستہ کی ہدایت کرنا۔
10 تمام ادیان عالم سے دین اسلام کو جدا کرنا۔
11 دشمنی کو دوستی سے بدلنا۔
12 ایک کو دوسرے کا بھائی بنانا۔
13 آگ (جہنم) سے بچانا۔


احادیث کی روشنی میں بعثت کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں

1 اخلاق کو مکمل کرنا۔
2 وعدہ الٰہی کو مکمل کرنا۔
3 نبوت کو اختتام تک پہونچانا۔
4 جہالت سے نکالنا۔
5 ضلالت وگمراہی سے نکالنا۔
6 باطل کی پیروی سے روکنا۔
7 متعدد خداؤں کے ماننے والوں کوایک خدا کی عبادت پر مامور کرنا۔
8 بھٹکے ہوؤں کو راہ نجات پر گامزان کرانا(نجات تک پہونچانا)۔
9 صراط مستقم کی طرف ہدایت کرنا۔

مختصر یہ کہ پیغمبر اسلام کو اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے دنیا و آخرت میں کامیاب بنانے کا وسیلہ و ذریعہ بنا کر بھیجا ہے، اگر انسان ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرلے تو زندگی بھی خوشگوار اور آخرت میں یقیناً اجر عظیم کا مستحق قرار پائے گا۔

بہترین دعا

بہترین دعا

الحَمْدُ للهِ عَلَى كُلِّ نِعْمَةٍ، وَأَسْأَلُ اللهَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَأَعُوذُ بِاللهِ مِنْ كُلِّ شَرٍّ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ.

تمام نعمتوں پر اللہ کی حمد و ثنا ہے، اور میں اللہ سے ہر قسم کی خیر کا طالب ہوں، اور ہر شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور ہر گناہ کی بابت اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

خوشحال معاشرے کے بنیادی اصول

خوشحال معاشرے کے بنیادی اصول

وَيَٰقَوۡمِ أَوۡفُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ۔ (هود: 85)

اے میری قوم! ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو۔"

یہ آیت حضرت شعیب علیہ السلام سے متعلق ہے، جس میں وہ اپنی قوم کو انصاف کرنے، ظلم سے بچنے اور فساد سے باز رہنے کی دعوت دیتے ہیں،اس آیت کے تین اہم نکات ہیں جو اخلاقی، سماجی اور اقتصادی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں:

1۔ اوفوا المکیال والمیزان بالقسط

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو تلقین کرتے ہیں کہ ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کریں۔

معاشی اور سماجی تجزیہ:

ماپ اور تول، سالم اقتصادی نظام کی علامت ہیں۔ "بالقسط" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر لین دین میں انصاف نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایک سماجی فریضہ بھی ہے۔ اگر معاملات میں انصاف نہ ہو تو معاشرتی اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

ناپ اور تول میں انصاف کرنا، انسانی معاملات میں انصاف کی علامت ہے۔ اس نصیحت سے یہ سبق ملتا ہے کہ مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے تعلقات اور فیصلوں میں انصاف کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔

2۔ ولا تبخسوا الناس أشیاءهم

یہ حصہ لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے یا ان کے مال کی قدر گھٹانے سے منع کرتا ہے۔

"تبخسوا" کا مطلب صرف کم تولنے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل شامل ہے جس میں دوسرے کے حق کو کم یا ضائع کیا جائے، چاہے وہ مالی ہو یا غیر مالی۔

اس آیت میں دوسروں کے حقوق کا تحفظ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور کسی بھی طرح کے نقصان یا دھوکہ دہی سے گریز کریں۔

3۔ ولا تعثوا فی الأرض مفسدین

یہ جملہ قوم کو زمین میں فساد اور فتنے سے منع کرتا ہے۔

"عثوا" کا مطلب ایسا غیر ذمہ دارانہ اور سرکش رویہ ہے جو سماجی اور اخلاقی تباہی کا سبب بنتا ہے، اور "مفسدین" ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے اعمال سے دوسرے افراد یا معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

فساد صرف مادی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی قدروں کو ختم کرنا بھی فساد کی شکل ہے۔

یہ نصیحت معاشرے میں امن، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی تاکید کرتی ہے۔

خلاصہ

آیت 85 سورہ ہود ایک جامع اصول بیان کرتی ہے۔ یہ انصاف، حقوق کی پاسداری اور معاشرتی استحکام کو فروغ دینے کی دعوت دیتی ہے۔

اس آیت سے درج ذیل نکات اخذ کیے جا سکتے ہیں:

معاشی انصاف:

لین دین اور تجارت میں انصاف کو یقینی بنانا۔

دوسروں کے حقوق کا تحفظ:

کسی بھی قسم کے ظلم یا دھوکہ دہی سے پرہیز کرنا۔

فساد سے اجتناب:

ایسے اعمال سے بچنا جو معاشرتی امن کو خطرے میں ڈالیں۔

یہ پیغام صرف حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ہے۔

ایسا معاشرہ جو ان اصولوں کی پاسداری کرے، امن، خوشحالی اور انصاف پر مبنی ہوگا۔

حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

أُوصِيكُمْ بِخَمْسٍ لَوْ ضَرَبْتُمْ إِلَيْهَا آبَاطَ الْإِبِلِ لَكَانَتْ لِذَلِكَ أَهْلًا: لَا يَرْجُوَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا رَبَّهُ، وَ لَا يَخَافَنَّ إِلَّا ذَنْبَهُ، وَ لَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ لَا أَعْلَمُ، وَ لَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ إِذَا لَمْ يَعْلَمِ الشَّيْءَ أَنْ يَتَعَلَّمَهُ، وَ عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ، فَإِنَّ الصَّبْرَ مِنَ الْإِيمَانِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، وَ لَا خَيْرَ فِي جَسَدٍ لَا رَأْسَ مَعَهُ، وَ لَا [خَيْرَ] فِي إِيمَانٍ لَا صَبْرَ مَعَهُ۔ (بحوالہ نہج البلاغہ: حکمت 82)

میں تمہیں پانچ باتوں کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اگر انہیں سیکھنے کے لیے تمہیں طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، تو یہ باتیں اس کے لائق ہیں:

1۔ تمہاری امیدیں صرف اپنے پروردگار پر ہوں۔

2۔ اپنے گناہوں کے سوا کسی اور سے نہ ڈرو،(یعنی خوف صرف اپنے گناہوں کا ہو)۔

3۔ اگر کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتے تو یہ کہتے ہوئے مت شرمانا کہ" مجھے علم نہیں"۔

4۔ جو بات نہیں جانتے، اس کے سیکھنے میں جھجک محسوس نہ کرو۔

5۔ صبر کو لازم پکڑو، کیونکہ صبر ایمان کے لیے ایسے ہی ہے جیسے جسم کے لیے سر، اور بغیر صبر کے ایمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔

مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ، اس کے کیا معنی ہیں؟

مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ، اس کے کیا معنی ہیں؟

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ۔ (سورہ ہود: 6)

زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق اللہ پر ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ کس جاندار کا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور عارضی جگہ کہاں ہے۔ ہر چیز واضح کتاب میں ثبت ہے۔

تفسیر

اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ وہ ہر جاندار کی روزی کا ضامن ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے رزق کا بندوبست کرتا ہے، خواہ وہ خشکی پر ہوں یا پانی میں، اور یہ رزق ان کے لیے مختلف ذرائع سے فراہم ہوتا ہے۔

"مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا" سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جاندار کی رہائش گاہ اور اس کے عارضی ٹھکانے کو جانتا ہے۔

مستقر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے رہتی ہے، جبکہ مستودع اس عارضی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز وقتاً فوقتاً رہتی ہے۔ اس کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی زندگی، ان کی موت اور ان کی حرکت و سکون کے سب مقامات سے باخبر ہے۔

"كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ" یعنی سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تفصیل کو محفوظ کر رکھا ہے۔

اس میں کائنات کے ہر جاندار کی زندگی، موت، رزق، اور اس کی تقدیر لکھی ہوئی ہے، اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔

یہ آیت انسان کو توکل اور اعتماد کی دعوت دیتی ہے کہ اگرچہ انسان اپنی کوشش سے رزق کماتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا اصل ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے، جو ہر ذی روح کی ضروریات سے باخبر ہے اور اس کے وسائل زندگی فراہم کرتا ہے۔

رزق اللہ کے ذمہ ہے تو پھر محنت کیوں؟

ایک اہم سوال ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو الرزاق (رزق دینے والا) کہا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اصل میں ہر مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، اسلام انسان کو سعی (کوشش) اور محنت کی تلقین بھی کرتا ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟

انسانی کوشش بطور ذریعہ رزق

اسلام کے مطابق، اگرچہ رزق دینے والا اللہ ہے، لیکن رزق حاصل کرنے کا عمل کوشش اور جدوجہد کے ذریعے ہوتا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ انسان کو کوشش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، مثلاً سورہ النجم میں ارشاد ہوتا ہے:

"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی" (سورہ النجم، 53:39)۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں کامیابی کے لیے کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رزق اور کامیابی کو اس کے عمل کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔

امتحان اور تربیت

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آزمائش اور تربیت کا مقام بنایا ہے۔ انسان کو محنت کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تدبیر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح، انسان صبر، توکل، اور مضبوط ارادے جیسے اوصاف کو حاصل کرتا ہے۔

تقدیر اور تدبیر میں توازن

اسلامی تعلیمات میں تقدیر اور تدبیر کا تصور موجود ہے۔ تقدیر کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے، لیکن تدبیر کے تحت انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رزق کے لیے کوشش کرے۔ گویا انسان کی کوشش اور اللہ کا رزق، دونوں آپس میں مربوط ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ پر بھروسہ بھی کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کے تحت محنت بھی کرنی چاہیے۔

4۔محنت ایک عبادت ہے

رسول اکرمﷺ نے محنت اور روزی کمانے کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے:

محنت سے حلال روزی کمانا فرض عبادت کے بعد سب سے بڑی عبادت ہے۔ (المعجم الأوسط للطبراني، حدیث نمبر 3936)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں محنت کو خود ایک نیکی اور عبادت سمجھا گیا ہے، اور یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

توکل اور محنت کا تعلق

اللہ پر توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے۔ توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوشش کے بعد اللہ پر بھروسہ کرے اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اسلام میں توکل اور محنت کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

"اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو" (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2517)۔

خلاصہ

اسلام میں اللہ تعالیٰ کو رزاق سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی اصل ذریعہ ہے، لیکن کوشش اور محنت انسان کے عمل کا حصہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی روزی حاصل کرنے کے لیے محنت کرے۔ لہذا، اللہ پر بھروسہ اور اس کی رضا کے لیے کوشش کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔

یہ قابلِ غور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام جانداروں کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے، مگر اس کے باوجود چیونٹی مسلسل محنت کرتی ہے، اسے یہ خیال نہیں آتا کہ وہ فارغ بیٹھ کر بھی رزق پا لے گی۔ لیکن اشرف المخلوقات، یعنی انسان، اپنے وہم و خیالات میں الجھ کر بعض اوقات چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کے عزم اور شعور کو بھی نہیں اپنا پاتا۔

دیانت داری اساسِ ایمان

دیانت داری اساسِ ایمان

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔)سورۃ التوبہ، آیت 119(

تفسیری نکات

تقویٰ اور صداقت کی اہمیت

اس آیت میں سب سے پہلے تقویٰ (اللہ کا خوف) کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارے اور ہر کام میں اس کی رضا کو مدنظر رکھے۔ پھر صداقت پر زور دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صداقت پسند لوگوں کے ساتھ رہیں۔

صداقت کا مفہوم

صداقت سے مراد صرف سچ بولنا نہیں ہے، بلکہ دل، زبان، اور عمل میں ایک سچائی اور خلوص کا ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں انسان کا اپنے وعدوں کا سچا ہونا، دینی ذمہ داریوں کا حق ادا کرنا، اور منافقت سے دور رہنا بھی شامل ہے۔

صادقین کون ہیں؟

صادقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان و عمل میں سچے ہیں۔

تفسیری کتب میں اس کے بارے میں کئی آراء ملتی ہیں: ائمۂ معصومین علیہم السلام: شیعہ مفسرین نے صادقین سے اہل بیت علیہم السلام مراد لیے ہے، کیوں کہ وہ دین میں کامل ترین ہستیاں ہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) اور صالح افراد: بعض دیگر تفسیروں کے مطابق، صادقین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام و صالحین شامل ہیں ۔

معاشرہ پر اثرات

اس آیت میں مسلمانوں کو ایسی جماعت یا افراد کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو صادق ہیں، کیونکہ نیک اور سچے افراد کی صحبت سے انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ گناہوں سے بچنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر اللہ کی قربت اور روحانی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔

تفسیر تسنیم (آیت اللہ جوادی آملی)

آیت اللہ جوادی آملی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ صادقین کے ساتھ رہنا انسان کو اخلاص اور حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ سچائی اور اللہ کا خوف انسان کی شخصیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور جب تک انسان صادقین کے ساتھ نہ ہو، اس میں حقیقی تقویٰ پیدا نہیں ہو سکتا۔

تفسیر 'التحریر و التنویر'

تفسیر التحریر و التنویر میں اس آیت کا مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ صداقت اور تقویٰ دو الگ الگ خوبیوں کے بجائے ایک ہی راہ کی طرف اشارہ ہیں، یعنی اللہ کی بندگی اور اطاعت میں اخلاص اور سچائی پیدا کرنا۔

'الکوثر' شیخ محسن نجفی

جبکہ 'الکوثر' میں شیخ محسن نجفی بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ایمان والوں کو ایک روحانی معاشرت کی طرف بلا رہی ہے جہاں سچائی اور خلوص بنیادی عناصر ہیں۔

خلاصہ

آیت "کونوا مع الصادقین" ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہمیں سچائی کے راستے پر چلنا چاہیے اور ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو اس راہ پر گامزن ہیں۔ یہ آیت ہماری زندگی کو روحانیت، صداقت اور تقویٰ سے مزین کرنے کی ہدایت کرتی ہے، اور ہمیں منافقت، کذب اور فریب سے بچنے کا پیغام دیتی ہے۔

قرآنی نقطہ نظر سے برا انجام کن لوگوں کا مقدر ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآنی نقطہ نظر سے برا انجام کن لوگوں کا مقدر ہے؟

وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (سورۃ الرعد، آیت 25)

ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے مستحکم عہد کو توڑتے ہیں، اور ان رشتوں کو کاٹ دیتے ہیں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں جوڑا جائے، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لیے برا انجام ہے۔

تفسیر

اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑتے ہیں۔ اس عہد میں بنیادی طور پر اللہ کی اطاعت، دین اسلام پر عمل پیرا ہونا، اور دیگر حقوق اللہ و حقوق العباد شامل ہیں۔

عہد شکنی: اللہ نے ہر انسان کے ساتھ ایک فطری عہد لیا ہے کہ وہ اسے رب مانے اور اس کے احکام پر عمل کرے۔ اس عہد کی خلاف ورزی کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو رد کرتے ہیں یا ان سے غفلت برتتے ہیں۔

صلہ رحمی: اس آیت میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ دینا ناپسندیدہ ہے۔ صلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں سے تعلق کو جوڑ کر رکھنا، اسلام میں انتہائی اہم ہے، اور ان رشتوں کو کاٹنے کو فسادی عمل کہا گیا ہے۔

فساد فی الارض: ان لوگوں کی صفات میں زمین میں فساد پھیلانا بھی شامل ہے۔ فساد پھیلانا یعنی زمین میں ایسا بگاڑ پیدا کرنا جس سے دوسروں کو نقصان ہو، معاشرتی توازن خراب ہو، یا اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہو۔

4۔انجام اور سزا: اس آیت میں ان لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے لعنت کا ذکر ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں، رشتہ داریوں کو منقطع کرتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں۔ انہیں آخرت میں "سوء الدار" یعنی برا انجام دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے لیے آخرت کا گھر عذاب و تکلیف کا گھر ہوگا، اور انہیں اللہ کی رحمت سے دوری ملے گی۔

مفسرین نے مختلف پہلوؤں سے اس آیت کی تشریح کی ہے،یہاں چند معروف مفسرین کی آراء کا خلاصہ دیا گیا ہے:

علامہ طبری

طبری کے مطابق، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اور معاشرتی تعلقات کو کاٹ دیتے ہیں۔

طبری کے نزدیک یہ عہد فطرتاً وہ عہد ہے جو اللہ نے انسان سے لیا ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے احکام کو مانیں گے۔ اس کے علاوہ، اللہ کے جوڑنے کے حکم کا تعلق خاص طور پر رشتہ داروں سے ہے، جسے دین اسلام میں صلہ رحمی کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد جو ان احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں لعنت اور برا انجام مقرر ہے۔

ابن کثیر

ابن کثیر اس آیت کے تحت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنا، جیسے کہ ایمان کی روگردانی کرنا، اور اسلامی احکام کو ترک کرنا اللہ کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہے۔ ابن کثیر مزید فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صلہ رحمی پر زور دیا گیا ہے اور اسے اللہ کے اہم احکام میں سے شمار کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک، اللہ کے عہد کو توڑنے اور تعلقات کو منقطع کرنے والے افراد زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، اور ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔

علامہ فخر الدین رازی

علامہ رازی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس میں بنیادی طور پر انسان کی روحانی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اللہ نے انسان سے اس کی فطرت میں عہد لیا کہ وہ توحید اور عدل کو اپنائے گا، لیکن عہد شکنی کرنے والے اپنے نفس کی پیروی میں اللہ کے احکام کو رد کر دیتے ہیں۔ صلہ رحمی کے حکم کو منقطع کرنے کو زمین میں فساد سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ معاشرتی بگاڑ اکثر رشتوں کے بگاڑ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

علامہ قرطبی

قرطبی اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنا دراصل اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے کو توڑنا ہے، جو ہر انسان سے اس کی فطرت میں لیا گیا ہے۔ قرطبی کے مطابق، صلہ رحمی یعنی رشتہ داریوں کو جوڑنا دین اسلام کا ایک اہم ستون ہے اور اس کا کاٹنا زمین میں فساد کا باعث بنتا ہے۔ ان کے مطابق، جو لوگ ان عہد و پیمان کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اللہ کی لعنت اور آخرت میں عذاب ان کے مقدر میں ہے۔

علامہ طبرسی

شیعہ مفسر علامہ طبرسی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ کا عہد، ایمان اور شرعی احکام پر عمل ہے۔ طبرسی کے مطابق، ان رشتوں کو توڑنا جنہیں جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف خونی رشتے ہی نہیں بلکہ دینی بھائی چارے کو بھی شامل ہے۔ فساد فی الارض کے بارے میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایسے لوگ معاشرتی بگاڑ اور دینی ضعف کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے افراد پر اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا انجام ہے۔

6 علامہ طباطبائی (المیزان)

علامہ طباطبائی، تفسیر المیزان میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنے سے مراد اللہ کی نافرمانی اور اسلامی اصولوں سے انحراف ہے۔

علامہ طباطبائی کے نزدیک، قرآن نے رشتے ناطے کاٹنے کو بہت بڑی برائی قرار دیا ہے اور اسے اللہ کے حکم کی صریح نافرمانی کہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں "سوء الدار" کا ذکر ہے جو ایسے لوگوں کا انجام ہوگا۔

تونس کے مشہور مفسر علامہ محمد الطاہر ابن عاشور اپنی تفسیر "التحریر والتنویر" میں اس آیت کی تشریح میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں۔ ابن عاشور کے مطابق، اللہ کے عہد کو توڑنا دراصل فطرت میں شامل اس عہد کو توڑنا ہے جس کا تقاضا اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے کہ وہ اس کی توحید اور اطاعت کا اقرار کریں۔

علامہ ابن عاشور اس آیت میں "ما أمر الله به أن يوصل" یعنی "جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے" کا مطلب نہ صرف خاندانی تعلقات بلکہ تمام سماجی اور دینی تعلقات سے بھی لیتے ہیں، جو اللہ کے احکامات کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے نزدیک، *اس میں اسلامی اخوت، سماجی انصاف، اور نیکی و احسان کے وہ تمام اصول شامل ہیں جو اسلامی معاشرت کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

ابن عاشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے افراد جو عہد شکنی، قطع تعلقی، اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں، دراصل ایک اجتماعی نقصان کا باعث بنتے ہیں اور اسلامی معاشرے کی جڑیں کمزور کرتے ہیں۔ اس کا انجام قرآن کی زبان میں "سوء الدار" یعنی آخرت میں برا ٹھکانا اور اللہ کی لعنت ہے، جو ان لوگوں کی نافرمانی کی پاداش میں ہے۔

خلاصہ

مفسرین کی آراء سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اللہ کے عہد کو توڑنے، صلہ رحمی کو نظر انداز کرنے، اور زمین میں فساد برپا کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے، رشتہ داروں سے حسن سلوک رکھے، اور زمین پر امن و امان برقرار رکھے۔ اللہ کی لعنت اور برا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ان احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

امام موسیٰ کاظم  علیہ السلام نے کتنے سال جیل میں گزارے؟

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے کتنے سال جیل میں گزارے؟

ہمارے شیعوں کے ساتویں امام موسیٰ بن جعفر ؑ کی ولادت صفر کے مہینے میں 128 ہجری ، ابووہ - مکہ اور مدینہ کے درمیان -میں ہوئی (محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، چاپ نهم، قم، نشر سرور، 1382 ش، ص 891.) مشہور قول کے مطابق امام علیہ السلام کی 37 اولادیں تھیں (شیخ مفید، ارشاد، ج2، ترجمة سید هاشم رسولی محلاتی، چاپ 2، تهران، انتشارات علمیه اسلامیه، ص 236.) امام علیہ السلام کی شہادت 25 رجب 183 کو بغداد کی ایک جیل میں ہوئی(ابن شهر آشوب، مناقب، ج4، نجف، مطبعه الحیدریه، سال 1376، ص 349.) ۔ واضح رہے کہ امام علیہ السلام کی شہادت نوجوانی میں نہیں ہوئی شہادت کے وقت امام علیہ السلام کی عمر مبارک 55 سال تھی اور امام علیہ السلام کی مدت قید 5 یا 6 سال سے زیادہ نہیں تھی ۔ امام علیہ السلام کی زندگی کا زیادہ تر دور عباسی حکومت کے ساتھ گزرا۔ آپ علیہ السلام نے کئی عباسی خلفاء کی خلافت کو دیکھا اور ہارون الرشید عباسی کے دور میں زیادہ وقت قید میں گزارا ۔ امام علیہ السلام تقریباً 9 سال منصور عباسی کے ساتھ رہے،بظاہر منصور آپ پر معترض نہیں ہوا تھا (علامه مجلسی، پیشین، 896.) مہدی عباسی کے دور میں کچھ وقت جیل میں گزارا لیکن مہدی کو کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر امام کو رہا کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا (. علامه مجلسی، بحارالانوار، جلد 48.) ہادی عباسی کے دور میں بھی امام علیہ السلام آزاد رہے، اگرچہ اس کی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکی ۔

امام (ع) کی قید کا سب سے طویل عرصہ ہارون الرشید کےدور میں تھا۔ سنہ 179 ہجری میں اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لیے ہارون نے امام موسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے حج کیا... ہارون نے فضل بن ربیع کو بھیجا اور اس نے امام علیہ السلام نماز پڑھتے ہوئےگرفتار کر لیا اور بصرہ لے جا کر قید کر دیا (علامه مجلسی، جلاء العیون، پیشین 899.) اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ امام علیہ السلام کی شہادت 183 ہجری میں ہوئی ، قید کی مدت ہارون کے دور میں چار سال سے زیادہ نہ تھی۔

زاهدی گلپایگانی لکھتے ہیں: امام موسیٰ بن جعفر (ع) چار سال قید میں رہے جس میں سے ایک سال بصرہ عیسیٰ بن جعفر کے زندان میں گزارا اور بقیہ وقت کچھ فضل بن یحییٰ برمکی کے زندان میں اور کچھ فضل بن ربیع کے زندان گزر گیا اور آخری سال سندی بن شاہک کے زندان میں۔ (زاهدی گلپایگانی، زندگانی چهارده معصوم، چاپ دوم، مشهد، کتابفروشی جعفری، 1360، ص 201)

کتاب منتخب التوارخ میں کتاب رجال کبیر سے متعدد روایات نقل کی ہیں کہ حضرت موسیٰ بن جعفر (ع) چار سال قید میں رہے۔(محمد جواد نجفی، ستارگان درخشان، جلد 9، تهران ، کتابفروشی اسلامیه، ص 58.)

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امام علیہ السلام کی تمام اولادیں ایک ہی بیوی سے نہیں تھیں، بلکہ جیسا کہ ارشاد شیخ مفید میں ہے:

امام علیہ السلام کی اولاد میں سے ہر ایک کنیز سےیا ایک ہی کنیز سےچند اولادیں تھیں ۔ (شیخ مفید، پیشین، 236.)

نتیجہ

حضرت موسیٰ بن جعفر ؑنے چار یا پانچ سال عباسی دور خلافت میں قید میں گزارے اور باقی وقت مدینہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارا۔

امام علی ؑ کی نظر میں حکومت کا معیار اور حاکم کی خصوصیات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام علی ؑ کی نظر میں حکومت کا معیار اور حاکم کی خصوصیات

اسد عباس اسدی

مقدمہ

اگرچہ پیغمبر گرامی اسلام ﷺ کی وفات کے بعد اور خلفائے راشدین کی خلافت میں امام علی ؑنے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا کہ خلافت ان کا حق ہے لیکن مورخین کے مطابق جب حضرت عثمان کی وفات کے بعد مسلمان امام علی ؑ کے پاس آئے تو امام ؑ نے ان کی درخواست کو رد کر دیا اور فرمایا: مجھے چھوڑ دو اور کسی اور کو چن لو، میں تمہارا مشیر رہوں گا۔[1]

لیکن لوگوں نے اتنا اصرار کیا کہ امام کو خلافت قبول کرنا ہی پڑی ۔ طبری کے مطابق جملہ سات افراد کے علاوہ (سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن عمر، محمد بن مسلمہ، اسامہ بن زید، نعمان بن البشیر اور زید بن ثابت ) مہاجرین اور انصار نے امام ؑ کی بیعت کی ۔[2] سب سے پہلے جس نے امامؑ کی بیعت کی وہ طلحہ بن عبداللہ اور زبیر بن العوام تھے۔ چاروں خلفاء میں سے صرف علی ؑمسلمانوں کی درخواست سے اور مہاجرین اور انصار کے عمومی ووٹ کی بنیاد پر خلیفہ منتخب ہوئے ۔

علی ؑ کو حکومت کے مسائل اور مشکلات کا علم تھا

حضرت عثمان کی وفات کے بعد جب لوگوں نے امام ؑ کی بیعت کرنا چاہی تو امام ؑ نے فرمایا: اگر تم پہلے والی روش پر چلنا چاہتے ہو تو کسی اور کو منتخب کر لو ، کیونکہ ہم اس چیز کا خیرمقدم کرتے ہیں جو مختلف جہات رکھتی ہے ۔۔۔

خلفاء ثلاثہ کے دور میں اسلام کے احکام بدلے گئے، اسی وجہ سے امام کی انقلابی اصلاحات کی مخالفت کی گئی، امام فرماتے ہیں: اس معاملے میں دل ثابت قدم اور عقلیں مستحکم نہیں رہیں، سچائی کے افق پر بدعنوانی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں، اور سیدھا راستہ کہیں گم ہے۔ محتاط رہو! اگر میں آپ کی دعوت قبول کر لوں تو میں آپ کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو میں جانتا ہوں اور میں اس اور اس کی باتوں اور الزام لگانے والوں کی ملامتوں پر کان نہیں دھروں گا، اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں آپ میں سے ہوں، شاید میں آپ سے زیادہ امیر کا فرمانبردارر ہوں ۔ ایسے حالات میں میرے لیے تمہارا امیر بننے سے بہتر ہے کہ میں تمہارا وزیر اور مشیر بن جاؤں [3]۔

بعض مخالفین نے امامؑ کے اس قول کو عذر کے طور پر استعمال کیا ہے اور کہا ہے: اگر وہ پیغمبر اکرم ﷺ کی طرف سے خلافت پر فائز تھے تو انہیں ایسی بات نہیں کرنی چاہئے تھی ، لیکن ان لوگوں کا جواب، شیعہ و سنی منابع میں بہت سے شواہد کے علاوہ ، امامؑ کے خطبہ میں بھی بیان ہوا ہے۔

امام ؑ بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے خلفائے راشدین کے دور میں بالخصوص تیسرے خلیفہ کے دور میں حقیقی اسلام سے دوری اختیار کر لی ہے۔ اسلامی حکومت کے عہدوں کو اپنی مرضی سے سونپنا اور بیت المال کی تقسیم غیر منصفانہ طور پر کرنا اور ذاتی خواہشات کے مطابق یہ عمل تیسرے خلیفہ کے زمانے میں اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ اس لیے امام ؑجانتے تھے کہ اگر کوئی سنت نبوی پر عمل کرنا چاہے تو اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بعد کے واقعات نے بھی ثابت کیا کہ امامؑ کی پیشین گوئی درست تھی۔

اس وجہ سے جب لوگوں نے آپ سے بیعت کرنا چاہی تو علی ؑ نے فرمایا:

مجھے چھوڑ دو، کیونکہ تم میرے عدل پر عمل کرنے کی استقامت نہیں رکھتے، امیر المومنین ؑ اپنے آپ کو خلافت کے لائق سمجھتے ہیں اور رسول ﷺ کے بعد امامت کے لیے سب سے زیادہ لائق شخص ہیں، اس لیے اپنے انکار کی وجہ بیان کرتے ہوئے رکاوٹوں اور مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ حالات انتہائی انتشار کا شکار ہیں، مسلمانوں کے سامنے مزید ہنگامہ خیز مستقبل ہے، جان لو کہ اگر تم نے میری بیعت کی تو اسلامی معاشرہ کی اصلاح کے لیے تمہیں مشکل وقت سے گزرنا پڑے گا ۔

حکومت کے اولین دنوں سے علی ؑکی مخالفت

اپنی خلافت کے دوسرے ہی دن امام ؑنے اعلان فرمایا :کہ میرا طریقہ رسول اللہ ﷺکے طریقے کے مطابق ہے، کوئی بھی دوسرے سے برتر نہیں ہے ، کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ ابو طالب کے بیٹے نے ہمیں ہمارے حقوق سے محروم کر دیا ،کیونکہ سب خدا کے بندے ہیں اور بیت المال خدا کا ہے اور سب برابر کے شریک ہیں ۔ کل سب کو آنا چاہیے تاکہ جو مال میسر ہے وہ آپس میں تقسیم ہو جائے، عربوں کو عجمیوں پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ صرف طلحہ، زبیر، عبداللہ بن عمر، سعید بن عاص اور مروان حکیم اس تقسیم سے خوش نہیں تھے ۔ جب مسلمان مسجد میں جمع تھے تو یہ چند لوگ مسجد کے کونے میں ایک دوسرے کے پاس بیٹھے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے، اس کے بعد "ولید بن عقبہ" امام ؑ کے پاس آئے اور کہا:

آپ نے بدر کے دن ہمارے قریبی رشتہ داروں کو قتل کر دیا۔ لیکن آج ہم آپ سے اس شرط پر بیعت کرتے ہیں کہ آپ ہمیں وہی رقم ادا کریں گے جو حضرت عثمان کے زمانے میں ہمیں ادا کی جاتی تھی اور عثمان کے قاتلوں کو قتل کریں گے اور اگر ہم آپ سے خوف زدہ ہوئے تو ہم شام اور معاویہ کے ساتھ مل جائیں گے!

امام ؑنے فرمایا:

بدر ایک خدائی فریضہ تھا، اور جہاں تک بیت المال کا مسئلہ ہےتو یہ میرے اختیار میں نہیں کہ میں اس میں اضافہ یا کمی کروں، میں وہی کروں گا جو اللہ نے کہا، اورباقی رہا قاتلان عثمان کا معاملہ تو اگر ممکن ہوتا تو میں اسی وقت کر لیتا، اگر تم مجھ سے ڈرتے ہو تو میں تمہیں امان دیتا ہوں ، تم کیوں ڈرو گے؟ ولید نے اپنے دوستوں کو ساری بات بتائی تو وہ افسردہ ہو کر الگ ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے امامؑ کو اطلاع دی کہ وہ لوگوں کو خفیہ طور پر دعوت دے رہے ہیں کہ آپ کو خلافت سے ہٹا دیں اور بیعت توڑ دیں۔

امام ؑ کا قرآن اور رسول اللہ ﷺکے طریقے پر پابند رہنا

اس واقعہ کے بعد امام ؑ مسجد میں تشریف لے گئے اور ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور اعلان فرمایا :

خدا نے تقویٰ کے سوا کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دی اور اس کا اجر آخرت میں ملے گا۔

پھر فرمایا:

میں قرآن اور سنت رسولﷺ کے علاوہ کوئی طریقہ اختیار نہیں کروں گا، جو اس سے مطمئن نہیں وہ جہاں چاہے جا سکتا ہے، جو خدا کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے فرمان کے مطابق حکومت کرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔

آپ ممبر سے اترے، دو رکعت نماز پڑھی اور پھر طلحہ اور زبیر کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا:

خدا کی قسم، کیا ایسا نہیں تھا کہ میں نے بیعت کو حقیر سمجھا اور تم نے خوشی سے بیعت کر لی؟ وہ کہنے لگے:جی ایسا ہی ہے ۔

فرمایا :

تو یہ کیا صورت حال ہے جو آپ کی طرف سے دیکھ رہا ہوں ؟

وہ کہنے لگے:

ہم نے بیعت کی کہ آپ ہم سے مشورہ کیے بغیر کچھ نہیں کریں گے اور ہمیں دوسروں پر فضیلت دیں گے، لیکن آپ نے بیت المال کو برابر تقسیم کر دیا اور ہم سے مشورہ تک نہ کیا ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

استغفار کرو (کہ میں خدا کی مرضی کے خلاف تم سے ایسی کوئی شرط قبول کروں ) ابھی بتاؤ کہ میں نے تمہاری حق تلفی کی ہے یا تم پر ظلم کیا ہے؟

کہنے لگے :معاذ الله

تو امام نے فرمایا :

کیا مسلمانوں میں سے کسی کے متعلق کوئی حکم یا کوئی حق تھا جس سے میں لاعلم تھا یا حاصل کرنے سے قاصر تھا؟

عرض کی : نہیں!

توامام نے فرمایا: پھر تم کیوں مخالفت کرتے ہو؟

وہ کہنے لگے:

اس لیے کہ آپ بیت المال کی تقسیم میں عمر بن خطاب کے خلاف جا رہے ہو اور ہمیں دوسروں کے برابر کر رہے ہو، حالانکہ غنیمت ہماری تلوار سے جیتی گئی تھی ۔

امام نے پھر فرمایا :

لیکن میں تو حکومت نہیں کرنا چاہتا تھا، آپ نے مجھے اس کی دعوت دی اور اصرار کیا، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے انکار کیا تو جھگڑا ہو جائے گا۔ ذمہ داری قبول کرنے کے بعد میں نے خدا کی کتاب اور سنت رسول ﷺکی طرف دیکھا ، میں نے وہی کیا جو کتاب و سنت نے میری رہنمائی کی، مجھے آپ کے مشورہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، اگر آپ سے مشورہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں آپ سے مشورہ کروں گا،لیکن بیت المال مساوی تقسیم کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی حکم دیا تھا اور خدا کی کتاب بھی یہی کہتی ہے، لیکن چونکہ آپ نے کہا کہ ہم نے زیادہ محنت کی ہے، آپ جانتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اسلام کی سب سے زیادہ مدد کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ ﷺنےبیت المال کی تقسیم میں ان میں اور دوسروں میں فرق نہیں کیا۔

امام علی ؑ کی حکومت کی بنیاد مساوات ہے

امام کے بعض اصحاب نے معاویہ کی سخاوت اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے عفو و درگزر کو دیکھ کر امام ؑسے کہا:

اے امیر المومنین! لوگ عموماً دنیا میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں، اگر آپ عرب اور قریش کے امرا کو بیت المال سے کچھ زیادہ دیتے تو حالات بہتر ہوتے اور تفرقہ پیدا نہ ہوتا اور آپ رعایا کے درمیان انصاف کر سکتے، آخر میں بیت المال کو برابر تقسیم کرتے !

امام ؑنے جب دیکھا کہ بیت المال کی مساوی تقسیم پر آپ کے اصحاب کے ایک گروہ نے اعتراض کیا اور اسے سیاست کے خلاف سمجھا تو فرمایا:

اتامرونی ان اطلب النصر بالجور فیمن ولیت علیه! والله لااطور به۔۔۔[4]

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی فتح کے لیے ان سے مدد مانگوں جن پر میں حکومت کرتا ہوں؟ خدا کی قسم میں جب تک زندہ ہوں ایسا کام ہرگز نہیں کروں گا ۔۔۔

اگر مال میرا ہوتا تو میں اسے لوگوں میں برابر تقسیم کر دیتا ۔ محتاط رہو! مال دینا فضول خرچی اور اسراف ہے، اس کے کرنے والے کو دنیا میں تو فخر ہو سکتا ہے لیکن آخرت میں اس کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو گا، جس نے اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے علاوہ خرچ کیا اور اس کے اہل کے سپرد نہ کیا اللہ تعالیٰ اسے ان کی شکر گزاری سے محروم کر دے گا اور ان کی محبت کو کسی اور کی طرف موڑ دے گا ، اس لیے اگر کسی دن اس کا پاؤں پھسل جائے اور اسے ان کی مدد کی ضرورت پڑ جائے، تو وہ سب سے بُرے دوست اور سب سے زیادہ ملامت کرنے والے ہوں گے۔

بیت المال میں علی ؑکے طریقے پر سنی علماء کے بزرگوں کی تعریف

ابن ابی الحدید نے کہا ہے: حضرت عمر بن خطاب جب خلافت پر پہنچے تو انہوں نے بعض کو بعض پر ترجیح دی ، اور بیت المال کی تقسیم میں مساوات نہیں کی۔

حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں بھی حضرت عمر نے یہ تجویز پیش کی تھی لیکن حضرت ابوبکر نے اسے قبول نہیں کیا اورکہا:

خدا نے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دی۔

ابن ابی الحدید اس کے بعد حضرت عمر کے اس عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے مزید کہتا ہے:

یہ اجتہاد ی معاملہ ہے اور مسلمانوں کا خلیفہ اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کر سکتا ہے، حالانکہ ہمارے نزدیک علی ؑ کی پیروی بہتر ہے، خاص طور سے چونکہ حضرت ابوبکر نے ایسا نہیں کیا اور اگر یہ خبر درست ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوںمیں برابر تقسیم کرتے تھے تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺکا قول حجت ہے[5]۔

ابن ابی الحدید نے دوسری جگہ کہا:

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابوبکر نے بیت المال کو مساوی تقسیم کیا تو کسی نے اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ ! اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : وہ نبی کریم کے بعد تھا، اور لوگ نبی کی تقسیم کے عادی تھے، لیکن جب حضرت عمر خلافت پر آئے تو انہوں نے کچھ لوگوں کو برتری دی اور ان کے بعد حضرت عثمان نے اس برتری کو بڑھا دیا، یہ طریقہ 22 سال تک چلتا رہا اور لوگ اس کے عادی ہو گئے، اس لیے لوگوں کو اس حالت سے واپس لانے سے یہ مسائل پیدا ہوئے[6]۔

حکومت کا معیار اور امام کی خصوصیات ،علی ؑ کی نظر میں

امام ؑ کی قیادت مکتب کے اصولوں اور تقویٰ و فضیلت کے معیار اور منطقی اور انسانی طریقوں پر مبنی ہے،

امام علیہ السلام رہبری و امامت کی خصوصیات کے بارے میں فرماتے ہیں:

...فهو من معادن دینه، و اوتاد ارضه قدالزم نفسه العدل، فکان اول عدله نفی الهوی عن نفسه، یصف الحق و یعمل به، لایدع للخیر غایة الا امها ولامظنة الا قصدها، قد امکن الکتاب من زمامه فهو قائده و امامه[7]...

"وہ (جو لائق امامت ہے) خدا کے خزانوں میں سے ایک ہے اور زمین کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس نے اپنے آپ کو انصاف کا پابند کیا ہے اور انصاف کے راستے پر اس کا پہلا قدم ذاتی خواہشات سے بچنا ہے۔ وہ حق کا چہرہ جیسا ہے دکھاتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے، اس کے سوا کوئی نیکی نہیں ہے جس نے اس پر پختہ ارادہ کیا ہو اور جہاں اچھا خیال ہوتا ہے وہ اس کی پیروی کرتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو خدا کی کتاب کے اختیار میں رکھا اور اسے اپنا پیشوا اور امام بنایا۔۔۔

امام ؑنہ صرف مکتب کے عالم ہیں بلکہ وہ خود مکتب کو نافذ کرنے میں سب کے پیشوا ہیں اور اقتدار حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ذاتی انا نہیں لاتے ، مقصد کے حصول کے لیے خواہ وہ کتنا ہی مقدس اور بلند کیوں نہ ہو انصاف سے انحراف نہیں کرتے ۔ ان کے طرز قیادت اور سیاست کی تعریف کتابوں اور مکاتب سے ہوتی ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور بات کو نہیں مانتے۔

امام ؑنے اسی خطبہ کے ایک اور حصے میں اس حقیقت کا تذکرہ کیا اور فرمایا:

.. فلا تقولوا بمالا تعرفون، فان اکثر الحق فیما تنکرون واعذروا من لاحجة لکم علیه - و هو انا - الم اعمل فیکم بالثقل الاکبر و اترک فیکم الثقل الاصغر، قدرکزت فیکم رایة الایمان و وقفتکم علی حدود الحلال والحرام[8]...

لہٰذا وہ بات نہ کہو جو تم نہیں جانتے، زیادہ تر حق بات اس میں ہوتی ہے جس کا تم انکار کرتے ہو، اور جس کے خلاف تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ میں ہوں، دیکھو کیا میں تم میں سے ہوں مکتب اور آپ ﷺکی عظیم میراث - قرآن – کے مطابق عمل نہیں کیا اور آپ کو اس سے گران مایہ میراث (عترت) نہیں دی، میں نے آپ کے معاشرے کے مرکز میں ایمان کا جھنڈا بلند کیا اور آپ کو اس کے بارے میں آگاہ کیا۔ اور آپ کو حال و حرام کی حدیں بتائیں اور میں نے تم کو اپنے حکم سے عفت کا لباس پہنایا اور قول و فعل سے تم میں نیکیاں پھیلائیں اور انسانی اخلاق کے خدوخال دکھائے۔ لہٰذا، اپنے تخیل کو استعمال کریں جہاں آنکھ اس کی گہرائی کو نہ دیکھ سکے اور آپ کے دماغ میں ایسا کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔"

اس خطبہ میں امام ؑ نے ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا اور وہ یہ ہے کہ امام ؑ کی پالیسی کا جائزہ لینے اور جانچنے میں کسی کو سیاسی نقطہ نظر کی حدود میں نہیں پھنسنا چاہیے اور وہ اپنے دورِ حکومت کو اپنی خلافت کے چند سالوں تک محدود سمجھتے تھے اور معاویہ کے دورِ حکومت سے موازنہ کرتے تھے۔اور بنی امیہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ علی علیہ السلام سیاست میں مہارت نہیں رکھتے تھے، اس لیے وہ اپنے حریف سے شکست کھا گئے۔

بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف انصاری کو لکھے خط میں امام علیہ السلام نے اپنی سنگین مسئولیت کا ذکر کیا:

ااقنع من نفسی بان یقال: هذا امیرالمؤمنین ولا اشارکهم فی مکاره الدهر او اکون اسوة لهم فی جشوبة العیش[9]...

کیا میں اپنے کو قانع کروں کہ کہا جائے : میں امیر المومنین ہوں؟ لیکن کیا مجھے زمانے کی مشکلات اور تکالیف میں لوگوں کے ساتھ شریک نہیں ہونا چاہیے؟ اور زندگی کی تلخیوں میں ان کا رہبر و رہنما نہیں بننا چاہیے ؟

علی ؑ کی حکومت میں ہر چیز کی بنیاد حق پر ہے اور اصول و معیار حق پر مرکوز ہیں اور کوئی مصلحت ان کی پالیسی اور حق کی پیروی میں ذرہ برابر بھی انحراف کا باعث نہیں بن سکتی۔

فوالذی لااله الا هو انی لعلی جادة الحق و انهم لعلی مزلة الباطل [10]

اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں حق کے راستے پر ہوں اور وہ باطل کی لغزش پر ہیں۔

جی ہاں، امام کی زندگی کے تمام پہلو مکتب کے معیار پر مرتب ہوتے ہیں، اور ان کی زندگی کے کسی بھی پوشیدہ اور کھلے پہلو کو مکتب کے کردار سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔حق کی اسی مرکزیت کی وجہ سے امام علیہ السلام نے اپنے حق کے حصول کے لیے ابو سفیان کی مدد کی پیشکش کو سختی سے رد کر دیا تھا۔

علی ؑ کے نزدیک حکومت کی قبولیت کی بنیاد اور معیار

امیر المومنین علی ؑ کا ہدف عدل کی حکمرانی کو قبول کرنا اور اخلاقی اور انسانی فضائل و کمالات کو بحال کرنا ہے۔ امام کا ہدف رسول خداﷺ کا ہدف ہے، یقیناً اس عظیم مقصد میں علی علیہ السلام اور ان کا پاکیزہ خاندان ہمیشہ کامیاب و کامران رہا۔ ہمیں تنگ نظر نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی نظریات کے اسیر نہیں ہونا چاہیے اور علی علیہ السلام کے دور حکومت کو ان کی خلافت کے پانچ سال تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے ان کی سیاست ابدی ہے۔ وہ صدیوں بعد بھی انسانیت کی دنیا پر راج کر رہے ہیں کیونکہ ایک حقیقی سیاست دان وہ ہوتا ہے جو اپنی اندرونی طاقت سے لامحدود عالمی اثر پیدا کر سکتا ہے ، ایک عظیم سیاستدان ایک نایاب وجود ہے۔


[1] ۔ تاریخ طبری، ج 3، قسمت پنجم، ص 152- حوادث سال 35۔

[2] ۔ همان 1۔

[3] ۔ نہجالبلاغه، خطبه 92۔

[4] ۔ نهج البلاغه، خطبه 126; ابن قتیبه، الامامة والسیاسه، ج 1، ص 153; تحف العقول، ص 131; فروع کافی، ج 4، ص 31; مفید، المجالس، ص 95; امالی طوسی، ج 1، ص 197.

[5] ۔ شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج 8، ص 111.

[6] ۔ شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج 7، صص 35-43.

[7] ۔ نهج البلاغه، خطبه 87.

[8] ۔ نهج البلاغه، خطبه 87.

[9] ۔ نهج البلاغه، نامه 45.

[10] ۔ نهج البلاغه، خطبه 197.

وَ اللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 

وَ اللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ

کچھ حضرات عام طور پر آئمہ اطہار ع کے رازق ہونے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰنے خود کہا ہے کہ میں رازقین میں سے بہتر ہوں جس کے لئے وہ سورہ جمعہ کی آخری آیت پیش کرتے ہیں واللہ خیر الرازقین
اور استدلال کا طریقہ یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ آیت میں کلمہ خیر استعمال ہوا ہے جو افعل التفضیل ہے اور رازقین ،رازق کی جمع ہے لہذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کائنات کے بہت سے رازق ہیں جن میں سے اللہ بہترین رزق دینے والا ہے جب اللہ خود اپنے علاوہ کو رازق کہہ رہا ہے اگر ہم آئمہ اطہار کو رازق کہیں تو اس میں کیا غلط ہے ؟ اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ آئمہ اطہار اللہ کی جانب سے مقرر ہیں کہ اس کی مخلوق میں اس کی مرضی سے رزق کو تقسیم کریں ۔
یہ تھا استدلال کا طریقہ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ استدلال کس حد تک قابل قبول ہے اور اس سے مطلوبہ نتیجہ لینے میں کیا خرابی لازم آتی ہے ۔
جواب:
صرف عربی کا ترجمہ کر دینا مسئلہ کا حل نہیں ہوتا بلکہ قرآن کی آیت سے استدلال کے لئے ادبیات کی ہر جہت کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے یہی تو ہم میں اور دیگر مسالک میں بنیادی فرق ہے کہ ہم ترجمہ میں عقلی ونقلی دلائل کو بھی مدنظر رکھتے ہیں تا کہ کوئی خرابی لازم نہ آئے اس کے لئے ایک ہی مثال کافی ہے کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ کی ذات کے لئے ” وجہ یا ید” کا لفظ آیا ہے اس سے ان کا لفظی ترجمہ نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ خدا جسم وجسمانیت سے پاک ہے اس لئے ان کے کنائی معنی کئے جاتے ہیں جیسے وجہ سے مراد ذات اور ید سے مراد قدرت و طاقت لیا جاتا ہے تا کہ عقائد کے لحاظ سے بھی درست ہو جائے اور محال عقلی بھی لازم نہ آئے ۔ورنہ اگر ید اور وجہ کے حقیقی معنی مراد لئے جائیں تو یہ جسمانی اعضاء ہیں جن سے جسم کا ہونا لازم آتا ہے اور جسم زمان ومکان کا محتاج ہے جبکہ اللہ کسی کا محتاج نہیں۔

لفظ خیر کی وضاحت
یہاں اس بات کی وضاحت کرنی ضروری ہے کہ ہر جگہ لفظ “خیر” تفضیل کے لئے نہیں آتا تفضیل کا معنی یہ ہوتا ہے کہ دو چیزیں بہتر ہوتی ہیں البتہ اس میں سے ایک زیادہ بہتر ہوتی ہے مثلا زید اور علی دو عالم ہوں اور علی علمی لحاظ سے زیادہ قابل ہو تو کہا جائے گا کہ علی زید سے زیادہ جاننے والا ہے ۔

عربی زبان میں کچھ کلمات تفضیل کا معنی دینے کے لئے استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ کلمہ خیر بھی ہے جو اکثر مقام پر تفضیل کا معنی دیتا ہے جب وہ "اخیر” کا مخفف ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ جہاں بھی خیر آیا ہو وہاں تفضیل کا معنی پایا جاتا ہو کہ دونوں طرف بہتری ہو اور ایک زیادہ بہتر ہو کیونکہ ہمیں ایسے مقام بھی ملتے ہیں جہاں پر خیر استعمال تو ہوا لیکن ایک طرف بہتری ہے دوسری جانب بلکل بھی نہیں ہوتی ہے ۔
جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیت 26 میں ہے :
” وَ تُعِزُّمَنْ تَشاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ "
ترجمہ۔ توجسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ،تمام خوبیاں تیرے ہاتھ میں ہیں کیونکہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
اس کے ترجمہ سے ہی بات واضح ہو جاتی ہے لیکن مفسرین کی آراء بھی ذکر کئے دیتے ہیں۔
اس بناء پر لفظ خیر افعل التفضیل نہیں بلکہ صفت مشبہ ہے اور اس کے اسم تفضیل نہ ہونے کی دلیل بلکہ واضح ثبوت یہ ہے کہ اسے ان موارد میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں اس تفضیل کا معنی ہر گز نہیں پایا جاتا اس کی قرآنی مثال سورہ جمعہ میں ملاحظہ فرمائیں۔
قُلْ ما عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ
(ترجمہ) کہہ دیجئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ لہوولعب سے بہتر ہے ۔
( جمعہ، آیت:11)
اس میں لہو لعب کے مقابل میں لفظ خیر کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ یہاں تقابلی برتری ملحوظ نہیں کیونکہ لہو میں خیر کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا کہ جس کی بنا پر تفضیل کا معنی درست ہو (کیونکہ اسم تفضیل میں قدر مشترک کا پایا جانا ضروری ہے تا کہ موازنہ و تقابل درست قرار پائے )۔۔۔ خداوندعالم خیر مطلق ہے کیونکہ ہر شی کا منتہی وہی ہے اور ہر شی کی بازگشت اسی کی طرف ہوتی ہے اور ہر چیز کا مطلوب ومقصود اسی کی ذات ہے لیکن قرآن مجید میں لفظ خیر خدا وند عالم کے دیگر اسماء کی طرح ان میں سے ایک اسم کے طور پر ذکر نہیں ہوا بلکہ اسے خدا وندعالم کی ایک صفات کے طور پر ذکر ہوا ہے چنانچہ ارشاد ہوا ہے۔
وَ اللَّهُ خَيْرٌ وَ أَبْقى‏
اللہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے
(سورہ طہ آیت 73)
يا صاحِبَيِ السِّجْنِ أَ أَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ ِ
"اے میرے زندان کے ساتھیو! کیا متفرق ارباب بہتر ہیں یا وہ اللہ جو یکتا ہے جو سب پر غالب ہے”
( سورہ یوسف- آیت 39)
وَ اللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقينَ
اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے
(سورہ جمعہ، آیت 11)
ان تمام موارد میں لفظ خیر میں انتخاب کا معنی ملحوظ ہو اسی لئے خیر کو خداوندعالم کے اسم کے طور پر ذکر نہیں کیا گیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کی مقدس ذات کا قیاس و موازنہ اس کے غیر سے ہونے لگے اور خیر مطلق کی بابت کوئی دوسرا بھی مقابل کے طور پر قرار پائے ،ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا اور اس کی ذات اس سے بلند ہے کہ اس کا موازنہ و مقائسہ کسی سے کیا جا سکے۔
(تفسیر المیزان علامہ طباطبائی ج3 ص 316 تا 319)

واللہ خیر الرازقین میں لفظ خیر کس معنی میں ہے ؟
اب دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں لفظ خیر کس معنی میں استعمال ہوا ہے
سورہ جمعہ کی آخری آیت کے ذیل میں علامہ طباطبائی لکھتے ہیں
خير مستعمل في الآية مجردا عن معنى التفضيل كما في قوله تعالى:
«أَ أَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ»:
(سورہ يوسف: آیت 39)
و هو شائع في الاستعمال.
( الميزان فى تفسير القرآن، ج‏19، ص: 275)
کہ لفظ خیر اس آیت میں تفضیل کے معنی سے خالی ہے جیسا کہ اللہ کے اس قول میں ہے
أ أَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ ( یوسف-39) ِ
کیا متفرق ارباب بہتر ہیں یا وہ اللہ جو یکتا ہے جو سب پر غالب ہے”
اور اس طرح کا استعمال (جہاں خیر تفضیل کے لئے نہیں آتا) عام ہے۔
اس کے علاوہ بھی دسیوں تفاسیر اس بات پر شاہد ہیں کہ واللہ خیر الرازقین میں لفظ خیر مفاضلہ کے لئے نہیں آیا تو جب یہاں تفضیل کا معنی پایا ہی نہیں جاتا تو آئمہ معصومین کو اس آیت سے رازق ثابت کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے ؟

اصل میں اس موضوع پر بحث عبث ہے کیونکہ واجب الوجود اور ممکن الوجود میں کیسا تقابل ؟ اگر کوئی ایسا سوچے بھی تو خالصۃ جہالت ہے ۔

رازقین سے مراد
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں رازقین سے مراد کیا ہے تفاسیر اور کتب کلامیہ کے مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ رازقین سے مراد یہ ہے کہ عرب جن کو اپنا رازق وخالق مانتے تھے اللہ ان کو جواب دے رہا ہے کہ اللہ ان سے بہتر ہے جیسا کہ حضرت یوسف ع نے بھی اپنے قیدی ساتھیوں سے کہا تھا أَ أَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ ( یوسف-39) ِ
کیا متفرق ارباب بہتر ہیں یا اللہ جو واحد و قہار ہے ؟
تو یہاں حضرت یوسف ان کو یہ نہیں کہنا چاہتے کہ جن کو تم رب ،رازق وخالق مانتے ہو وہ بھی بہتر ہیں لیکن اللہ زیادہ بہتر ہے بلکہ متعدد ارباب کی نفی کر کے خدائے واحدوقہار کے لئے اس صفت کو ثابت کیا جارہا ہے ۔
نیز مفسرین یہ بات متعدد بار لکھ چکے ہیں کہ اہل عرب اللہ کو مانتے تھے لیکن بتوں کو قرب الہی کا وسیلہ کہتے تھے لہذا انہوں نے زعم فاسد میں ان کو من جانب اللہ خالق ورازق سمجھتے تھے اور ان کے اسی گمان فاسد کو رد کرتے ہوئے اللہ نے خیرالرازقین فرمایا ہے کہ جن کو تم اپنے باطل گمان میں خالق سمجھتے ہو اس سے اللہ بہتر ہے ۔بلکل اسی طرح ایک مقام پر فرمایا ہے:
أَ تَدْعُونَ بَعْلاً وَ تَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخالِقينَ
(ترجمہ) کیا تم لوگ بعل (بت )کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو ۔
(سورہ الصافات آیت 125)

دوسرا معنی یہ کیا گیا ہے کہ چونکہ جو بھی کسی شی کو وجود دے وہ لغوی معنی میں خالق کہلاتا ہے البتہ یہ نسبت ان کی طرف مجازی دی جاتی ہے کونکہ خالق حقیقی اور عدم سے وجود میں لانے والی ذات صرف اللہ کی ذات ہے نیز مجازات کی دنیا بہت وسیع ہے اس کے لحاظ سے تو اسلام بھی معیار نہیں اگر کوئی غیر مسلم بھی کوئی شئی ایجاد کرتا ہے تو اس کے لئے بھی خالق بمعنی موجد استعمال ہو سکتا ہے لہذا اگر کوئی اس معنی میں ائمہ کو خالق کہنا بھی چاہے تو اس میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔نیز یہ نسبت ائمہ ع کی طرف دینی چاہئے یا نہیں اس کے لئے بعدوالی بحث کا مطالعہ کافی رہے گا۔
اور ساتھ ہی واضح کر دوں کہ اس آیت کو دلیل بنا کر معصومین ع کو رازق ثابت کرنے والے کیا کہیں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ کسی معصوم ع نے بھی اس آیت کی وضاحت میں خود کو رازقین میں سے قرار دیا ہو ؟
کیا آئمہ اطہار ؑ کی طرف خلق ورزق کی نسبت دینا جائز ہے ؟
اس مقام پر ہم صرف علماء کی تصریحات کے بیان پر اکتفا کریں گئے ۔
شیخ طبرسی ؒ اپنی تفسیر میں سورہ فاطر کی آیت نمبر 3، هَلْ مِنْ خالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماءِ وَ الْأَرْضِ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (اللہ کے علاوہ ایسا خالق کون ہے جو تمہیں زمین و آسمان سے رزق دے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں الٹے پھرے کا رہے ہو ؟ ) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “ هذا استفهام تقرير لهم و معناه النفي ليقروا بأنه لا خالق إلا الله يرزق من السماء بالمطر و من الأرض بالنبات و هل يجوز إطلاق لفظ الخالق على غير الله سبحانه فيه وجهان (أحدهما) أنه لا تطلق هذه اللفظة على أحد سواه و إنما يوصف به غيره على جهة التقييد و إن جاز إطلاق لفظ الصانع و الفاعل نحوهما على غيره (و الآخر) أن المعنى لا خالق يرزق و يخلق الرزق إلا الله تعالى‏ “
(مجمع البيان فى تفسير القرآن، ج‏8، ص: 626)
یعنی یہ بظاہر استفہام جس کے معنی نفی کے ہیں (کہ اللہ کے سوا کوئی رازق نہیں )تا کہ یہ لوگ اقرار کر لیں کہ خدا کے سوا کوئی رازاق نہں جو آسمان سے بارش برسا کر اور زمین سے انگوری اگا کر رزق پہنچاتا ہے اب کیا اللہ کے علاوہ پر اس لفظ خالق کا اطلاق جائز ہے ؟ اس میں دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ سوائے خدا کے کسی پر اس کا اطلا ق جائز نہیں ہے اللہ کے علاوہ کسی کو اس سے متصف قید کیساتھ کیا جائے گا اگرچہ لفظ صانع وفاعل وغیرہ کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر جائز ہے اور دوسری یہ کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہ ہی رازق ہے جو رزق دے اور نہ ہی خالق ہے جو خلق کرے۔
علامہ مرزا محمد تنکابنی ؒ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :
اخبار بسیار ازائمہ اطہار علیھم صلوات الملک الجبار وارد یافت کہ نسبت خلق ورازق را بائمہ دادن موجب کفروضلالت است و ائمہ ازاں منع فرمودہ اند
(قصص العلماء ص 44)
آئمہ اطہار علیھم السلام سے بہت سی روایات واخبار وارد ہوئی ہیں کہ خلق و رزق کی نسبت دینا باعث کفر وگمراہی ہے آئمہ اطہار ع نے اس سے سخت ممانعت فرمائی ہے ۔
نیز نسبت مجازی کی نا جائز ہونے کے بارے میں علامہ شہر آشوب لکھتے ہیں ۔
انا لا نطلق ھذہ الصفۃ الا فیہ تعالی لان ذالک یوہم
ہم اس صفت (خالقیت)کا اطلاق صرف اللہ کی ذات پر کرتے ہیں کیونکہ (غیر خدا پر اس کا اطلاق کرنا) غلط معنوں کا وہم پیدا کرتا ہے
(متشابہ القرآن ج1ص173)

«قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلّ شَيْ‏ءٍ»: يدل هذا على عدم جواز نسبة الخلق إلى الأنبياء والأئمّة، وكذا قوله: «هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَلِكُمْ مِنْ شَيْ‏ءٍ» فإنّه يدل‏ على‏ عدم‏ جواز نسبة الخلق‏، والرزق‏ والإماتة والإحياء إلى غيره سبحانه وإنّه شرك.
(مفاهيم القرآن،جعفرسبحانی تبریزی ج‏1، ص: 477)
آیت اللہ جعفرسبحانی صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ خالق کل شی یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خلق کی نسبت انبیاء اور ائمہ ع کی طرف دینا جائز نہیں ہے اسی طرح اللہ کے قول ھل من شرکائکم ۔۔۔ یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ خلق ورزق اور موت وحیات کی نسبت اللہ کے علاوہ کی طرف دینا جائز نہیں ہے اور ایسی نسبت دینا شرک ہے ۔

نتیجہ
ہر جگہ لفظ “خیر” تفضیل کے لئے نہیں آتا اور نہ ہی اس آیت میں کسی پہلو سے اللہ کے سوا کسی کا رازق ہونا ثابت ہوتا ہے نیز ہم نے ثابت کر دیا کہ معصومین ؑ کی طرف رازقیت کی نسبت دینا جائز ہی نہیں ہے اور جو لوگ اس آیت کو بنیاد بنا کر استدلال کرتے ہیں جہالت کی عمدہ مثال ہیں جو پہلے تو اس سے تفضیل کا معنی لیتے ہیں
اور پھر رازقین سے مراد معصومین لیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ معصومین بھی رازق تو ہیں لیکن اللہ بہترین رازق ہے اور معصومین بہتر رازق نہیں عجیب منطق ہے بہتر کے ہوتے ہوئے کسی اور سے مانگنا کون سی دانش وری ہے ؟

بہر حال ہم نے غالیوں کے اس آیت سے استدلال کو مکمل طور پر ناقص قرار دے دیا اور ثابت کیا کہ آیت سے معصومین کے رازق ہونے کا استدلا ل قرآن و حدیث نیز دلائل عقلیہ و ادبیات عربیہ سے مخالف ہے ۔

کیا یہ کائنات صرف اللہ نے بنائی ہے یا کوئی اور بھی تخلیق کائنات میں اللہ کا شریک تھا

کیا یہ کائنات صرف اللہ نے بنائی ہے یا کوئی اور بھی تخلیق کائنات میں اللہ کا شریک تھا

تخلیق میں توحید کا مفہوم

خالقیت خدا کی ایک صفت ہے مخلوق کی تخلیق میں خدا کا کوئی شریک نہیں ہے اور کائنات کا خالق خدا کے سوا کوئی نہیں ہے۔

توحید در خالقیت ، جسے بعض اوقات تخلیق میں توحید یا افعال میں توحید سے تعبیر کیا جاتا ہے، فلسفیوں کی اصطلاح میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام نظام، سنن ، علل و معلول ، اثرات اور اسباب خدا کے افعال اور ارادہ کا نتیجہ ہیں۔ جس طرح خدا کا اپنی ذات میں کوئی شریک نہیں ہے، اسی طرح اس کے افعال میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"


قرآن کریم اس مسئلے کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

قرآن کریم نے متعدد آیات میں دنیا کی تخلیق میں خدا کے لاشریک ہونے پر زور دیا ہے۔

بطور نمونہ چند آیات پیش خدمت ہیں:
1️⃣ قُلِ اللَّهُ خالِقُ کُلِّ شَیْ‏ءٍ وَ هُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ ۔
کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وه اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے
(سورہ رعد، ایت 16)

2️⃣ اللَّهُ خالِقُ کُلِّ شَیْ‏ءٍ وَ هُوَ عَلى کُلِّ شَیْ‏ءٍ وَکِیلٌ ۔
اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔
(سورہ زمر، آیت 62)

3️⃣ ذلِکُمُ اللَّهُ رَبُّکُمْ خالِقُ کُلِّ شَیْ‏ءٍ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ ۔
وہی اللہ ہے تمہارا رب، ہر شے کا خالق ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
(سورہ مومن، آیت 62)

4️⃣ َھلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْـرُ اللّـٰهِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ فَاَنّـٰى تُؤْفَكُـوْنَ .
بھلا اللہ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو ، اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، پھر کہاں الٹے جا رہے ہو ۔
(سورہ فاطر، آیت 3)

5️⃣ رَبُّنَا الَّذِی أَعْطى کُلَّ شَیْ‏ءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى؛[9]
ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر راہ دکھائی ۔
(سورہ طه، آیت 50)

روایت

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
«لم یشرکه فی فطرتها فاطر، و لم یعنه علی خلقها قادر» چیونٹی (اور اس جیسی) چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کی تخلیق میں بھی کوئی خدا کا شریک نہیں تھا اور اس نے کسی سے مدد نہیں لی
(نهج البلاغه، خطبه 185)

مزید فرمایا:
«و لا شریک له اعانه علی ابتداع عجائب الامور»
خدا کا کوئی شریک نہیں جو دنیا کے عجائبات پیدا کرنے میں اس کی مدد کرے۔
(نہج البلاغہ ، خطبه 91)

علی علیہ السلام کے شیعہ کی سات نشانیاں

امام باقر علیہ السلام کی حدیث۔

إِنَّمَا شِیعَةُ عَلِیٍّ علیه السلام
امیر المومنین ع کے شیعوں کی علامات۔ [ساتھ نشانیاں ]
پہلی نشانی : الْمُتَبَاذِلُونَ فِی وَلَایَتِنَا ۔
ہمارے ولایت میں خرچ کرتے ہیں۔
ولایت کی راہ میں مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ جان بھی خرچ کرتے ہیں۔

دوسری نشانی : الْمُتَحَابُّونَ فِی مَوَدَّتِنَا

ہماری مودت اور محبت میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہی کرنی چائیے ہمارے دشمن اور بہت ہیں۔

تیسری نشانی : الْمُتَزَاوِرُونَ لِإِحْیَاءِ أَمْرِنَا
ہمارے امر کو زندہ کرنے کےلیے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں۔
✓ ہمارے معاشرے میں مومنین کی آپس میں زیارت متروک ہو چکی ہے۔

چوتھی نشانی : الَّذِینَ إِذَا غَضِبُوا لَمْ یَظْلِمُوا
جب انہیں غصہ آتا ہے تو اس وقت کسی پر بھی ظلم نہیں۔ کرتے۔
ان کی زندگی ظلم سے خالی ہوتی ہے۔

پانچویں نشانی : وَ إِذَا رَضُوا لَمْ یُسْرِفُوا
جب بھی خوش ہوتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے۔ اعتدال کا راستہ اپناتے ہیں۔


چھٹی نشانی : برَکَةٌ عَلَی مَنْ جَاوَرُوا
ہمسایوں کے لیے برکت کا باعث بنتا ہے۔ ہمسایوں کے ھر وقت دروازہ کھلا رکھتا ہے۔

ساتویں نشانی : سِلْمٌ لِمَنْ خَالَطُوا
جن کے ساتھ رفت و آمد رکھتا ہے ان کےکیے سکون اور آرامش کا باعث بنتا ہے۔

 گھر میں کبوتر رکھنا ؟

گھر میں کبوتر رکھنا ؟

کبوتر ایک حلال گوشت پرندہ ہے. [1] کبوتر ، پالنا ان سرگرمیوں میں سے ایک ہے جو مختلف اقوام میں بہت مقبول ہے اور انسانی فطرت اس سے ہم آہنگ ہے. لیکن دینی ابحاث میں ، کبوتر پالنے اور کبوتر بازی میں بہت فرق ہے ، اور ان کا حکم بھی متفاوت ہے ۔ کبوتر‌ بازی میں کوئی حرج نہیں اگر دوسروں کیلئے پریشانی کا باعث نہ ہو البتہ اچھا کام بھی نہیں ہے .[2]
روایات میں ذکر ہوا ہے کہ کبوتر پالنا مستحب ہے اور اس کے اثرات بھی ہیں.
یہاں ہم ایسی روایات کو ذکر کریں گے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کے گھروں میں بھی کبوتر تھے۔

آئمه اطهار(علیہم السلام)کا کبوتر پالنا

1 ابو حمزه ثمالى کہتے ہیں : میرے پوتے کے چند کبوتر تھے میں نے غصے میں انہیں ذبح کر دیا. [کچھ عرصہ بعد] مکہ گیا قبل از طلوع آفتاب امام باقر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا . جب سورج طلوع ہوا ، تو بہت سارے کبوتر وہاں دیکھے، سوچا کہ امام سے کبوتر پالنے کے مسائل پوچھوں گا اور لکھوں گا ابھی سوچ رہا تھا کہ میں نے تو کبوتروں کو ذبح کر دیا تھا اگر کبوتر پالنے میں خیر نہ ہوتا تو امام علیہ السلام کیوں پالتے، امام(ع) نے فرمایا: « تم نے سارے کبوتر ذبح کر کے اچھا کام نہیں کیا۔۔۔»۔ [3]
2 عبد الکریم بن صالح کہتا ہے : میں امام صادق(ع) کے پاس گیا ، دیکھا کہ تین سرخ کبوتر امام کے بستر پر بیٹھے ہیں اور اپنے فضلہ سے بستر کو خراب کر رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی قربان جاؤں انہوں نے آپ کا بستر گندا کر دیا ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا :
«کعوئی مسئلہ نہیں ، بہتر ہے کہ گھر میں رہیں».[4]
3 محمّد بن کرامه کہتے ہیں: میں نے امام موسى بن جعفر(ع) کے گھر ایک جوڑا کبوتروں کا دیکھا جن کے پر سبز اور تھوڑے سرخ تھے ، امام ان کیلئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر رہے تھے. [5]
اس کے علاؤہ بھی کبوتر پالنے کی تاکید موجود ہے ۔
4 زید شحام نقل کرتے ہیں: امام صادق(ع) کے سامنے کبوتروں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: « گھروں میں کبوتر رکھا کرو، اچھا ہوتا ہے».[6]

گھروں میں کبوتر پالنے کے اثرات روایات میں ذکر ہوئے ہیں بطور نمونہ چند یہ ہیں

شیاطین گھر سے دور رہتے ہیں
امام صادق(ع) نے فرمایا: «کبوتر انبیاء کرام کے پرندوں میں سے ہیں جو وہ گھروں میں رکھتے تھے ، جس گھر میں کبوتر ہوں وہاں جن اہل خانہ کو نقصان نہیں پہنچاتے ؛ کیونکہ سفهاء جن گھر میں کبوتروں سے کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں اور اہل خانہ کو تنگ نہیں کرتے».[7]
امام صادق(ع) سے ایک اور جگہ نقل ہوا ہے کبوتروں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے، شیاطین بھاگ جاتے ہیں .[8]

گھر کی حفاظت
امام صادق(ع) نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ یَدْفَعُ بِالْحَمَامِ عَنْ هَدَّةِ الدَّار»؛[9]
خدا وند کبوتروں کے وسیلہ سے گھروں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے . منظور از «هَدَّةِ الدَّارِ» گھر کی تباہی کا معنی بھی اور گھر کے ضعیف افراد کو ضرر سے بچانا بھی ہے .[10]

رفع تنہائی
ایک شخص نے پیغمبر خدا (ص) سے تنہائی کے خوف کی
شکایت کی. پیغمبر(ص) نے اسے فرمایا:
«ایک جوڑا کبوتر لے لو ».[11]
امام صادق(ع) نے فرمایا:
«میرے ساتھ گھر میں کبوتر رکھو تاکہ میرے ہمدم بنیں» ۔[12]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات
[1]. امام خمینی، توضیح المسائل (محشّی)، گردآورنده، بنی‌هاشمی خمینی، سید محمدحسین، ج 2، ص 594، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ هشتم، 1424ق.
[2]. برای اطلاعات بیشتر ر.ک: 12685؛ حکم کبوتر بازی
[3]. عبد الله بن بسطام، حسین بن بسطام، طبّ الأئمة(ع)‏، محقق: خرسان، محمد مهدى‏، ص 111، قم‏، دار الشریف الرضی‏، چاپ دوم‏، 1411ق‏.
[4]. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق، غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج 6، ص 548، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ چهارم، 1407ق.
[5]. طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، ص 130، قم، شریف رضی، چاپ چهارم، 1412ق.
[6]. الکافی، ج ‏6، ص 547؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعة، ج 11، ص 517، قم، مؤسسه آل البیت(ع)، چاپ اول، 1409ق.
[7]. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 60، ص 93، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ق؛ شیخ حر عاملی، هدایة الأمة إلی أحکام الأئمة(ع)، ج 5، ص 127، مشهد، مجمع البحوث الإسلامیة، چاپ اول، 1414ق.
[8]. شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیه، محقق، غفاری، علی اکبر، ج 3، ص 350، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1413ق.
[9]. الکافی، ج ‏6، ص 547.
[10].بحار الأنوار، ج ‏62، ص 19.
[11]. مکارم الأخلاق، ص 129.
[12]. الکافی، ج ‏6، ص 548؛ فیض کاشانی، محمد محسن، الوافی، ج 20، ص 857، اصفهان، کتابخانه امام أمیر المؤمنین علی(ع)، چاپ اول، 1406ق.

زندگی

ہم انسانوں کی زندگی گھر کی عمارت کی طرح ہے. جسے ہم بڑی لگن، محنت، مشقت اور جہد مسلسل سے تعمیر کرتے ہیں۔

زندگی بھر کی کمائی اس پر لگا دیتے ہیں اس کی اینٹ اینٹ بڑی احتیاط کے ساتھ جوڑتے ہیں تاکہ اس میں آرام و سکون سے رہ سکیں۔

پنکھے کولر اور اے سی لگواتے ہیں تاکہ ٹھنڈی ہوا میں سانس لے سکیں۔
ہم مختلف طریقوں سے اسے آراستہ کرتے ہیں۔ اس کی زیب و زینت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اگر بس چلے تو اس کے اندر قالین اور مرمریں فرش بچھاتے ہیں۔

اسی طرح کی ایک اور عمارت گزر ایام کے ساتھ ہمارے وجود کے اندر بھی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے۔

یہ عمارت درحقیقت زندگی کا ماحصل ہے جو شعوری یا لاشعوری طور پر کیے گئے اعمال و اطوار کا نتیجہ ہوتا ہے۔

یہ عمارت انسان کا ضمیر اخلاق اور عمل تعمیر کرتا ہے۔
آدمی اپنے اخلاق کی دولت سے دوسروں کے ساتھ رابطہ قائم کرتا ہے۔ اپنے ضمیر کی برکت سے ان روابط میں بہتری لاتا ہے۔ اپنے خلوص، وفا، سچائی اور محبت و احترام سے دوسروں کی توجہات اپنی طرف مبذول کراتا ہے۔
اپنے عزیز دوستوں کے ساتھ زندگی کے لمحے گزارتا ہے۔اپنے رجحانات کے باعث شریکہ حیات کا انتخاب کرتا ہے۔
بچوں کی تربیت کرتا ہے جو تا دم مرگ اس کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔
زندگی کی اصل عمارت یوں تعمیر ہوتی ہے۔
درحقیقت تعمیر زندگی کا یہ عمل شعوری سے زیادہ لاشعوری قسم کا ہے۔

ہم لوگ لاشعوری طور پر اپنے ارد گرد پھولوں کا ایک باغ لگا رہے ہوتے ہے یا پھر کانٹے دار باڑ کھینچ رہے ہوتے ہیں۔
پھر ایک دن وہ بھی آجاتا ہے جب اسی زندگی کے چرخے میں زندہ رہنا ہماری مجبوری بن جاتا ہے۔

ایک گھر کو، تعمیر ہو جانے کے بعد ہمیشہ حفاظت درکار ہوتی ہے۔
اس سے کہیں زیادہ حفاظت کی ضرورت ہماری زندگی کو ہے۔

اس زندگی میں اطمئنان یا پھر اسے لرزا دینے والے زلزلے اور طوفان ہمارے روئیے ہیں۔

اگر انسان شعوری طور پر بیدار نہ ہو تو اس کا عمل جہاں ظاہری زندگی کو متاثر کرتا ہے وہاں اس کے اندر کو بھی دیمک کی طرح چاٹ کھاتا ہے۔ جہاں اس کے دوستوں کو اس سے چھین لیتا ہے وہیں اس کے خاندانی نظام میں بھی بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔

اس لیے ہمیں زندگی میں اطمئنان وسکون برقرار رکھنے کےلئے اپنے رویوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے نظریات ؛ افکار ؛ رجحانات و عادات زندگی کی گاڑی کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
ان پر مسلسل نظر ثانی کرتے رہنا چاہئے تاکہ اصلاح و ارتقا کا عمل جاری و ساری رہے

تربیت اولاد ، تعلیمات اہل بیت کی روشنی میں




تربیت اولاد ، تعلیمات اہل بیت کی روشنی میں



اسد عباس اسدی

ہرانسان کی زندگی کا ایک اہم مسئلہ بچوں کی تربیت اور ان کو ادب سکھانا ہوتا ہے اور یہ بچوں کا حق ہوتا ہے کہ جو والدین کو ادا کرنا ہوتا ہے ۔ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث میں اس موضوع کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے ۔ امام کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں : جاء رجل الی النبی فقال : یا رسول اللہ ما حق ابنی ھذا قال : تحسن اسمہ و ادبہ ، وضعہ موضعا حسنا ۔ایک شخص اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ میرے بچے کا مجھ پر کیا حق ہے ؟تو پیغمبراکرم نے فرمایا:بچے کا اچھا نام رکھو ، اچھی تربیت کرو اور بچوں کو نیک ماحول مہیا کرو ۔

بچوں کی تربیت کا اہتمام

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : وتجب للولد علی والدہ ثلاث خصال : اختیارہ لوالدتہ و تحسن اسمہ و المباغۃ جی تادیبہ ۔

تین چیزیں والدین پر بچوں کا حق ہیں، 1 اچھا مربی, 2 اچھا نام رکھیں, 3 اوران کی تربیت کے لئے بہت زیادہ کوشش کرنا۔

پیغمبراکرم فرماتے ہیں : لان یودب احدکم ولدہ خیر لہ من ان یتصدق بنصف صاع کل یوم ۔

اکر آپ میں سے ہر ایک اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے تو یہ خدا کی راہ میں گندم اور جو کا صدقہ دینے سے بہتر ہے ۔

ایوب بن موسی پیغمبر خدا سے روایت کرتے ہیں : ما نحل والد ولدا نحلا افضل من ادب حسن

والدین کی طرف سے بچوں کے لئے نیک ادب اور اچھی تربیت سے بڑھ کرکوئی ہدیہ نہیں ہے

امام علی علیہ السلام اپنے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: والادب خیر میراث

ادب بہترین میراث ہے ( والدین کی طرف سے بچوں کے لئے )

انسان کے کمال میں تربیت کا اثر

حضرت علی علیہ السلام ، پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں: یعرف المؤ من منزلتہ عنـد ربـہ بأن یربى ولدا لہ كافیا قبل الموت

خدا کی نگاہ میں مومن کی قدر و منزلت بچوں کی اچھی تربیت کرنے میں ہے تاکہ مرنے سے پہلے وہ بے فکر ہو جائے

تربیت کرنے کا مناسب ترین وقت

بچپن اورنوجوانی تربیت کے لئے مناسب ترین وقت ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو اچھا اخلاق اور آداب اسلامی سکھائیں کیونکہ اس ٹائیم میں بچہ صرف اپنے ماں باپ اور گھر کے ماحول سے واقف ہوتا ہے یعنی اس کے کان اور آنکھیں بندھی ہوئی ہیں آپ جیسے چاہیں اس کی روحی و فکری تربیت کر سکتے ہیں اس وقت میں بچے کی روح انتہائی حساس ہوتی ہے یعنی ایک کیمرے کی مانند جو اسے دکھاتے جائیں گے وہ فلم بناتا جائے گا پھر بتدریج اس کو بڑھاتا جائے گا اگر اس دوران والدین بچے کی تربیت میں سستی کریں اور خود بچوں کے لیے نمونہ عمل نہ بنیں تو صرف روک ٹوک پر اکتفاء کریں تو بچے بجائے اچھا اثر لینے کے برا اثر لیں گے گھر سرے باہر برے اخلاق کا مظاہرہ کریں گے ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کووصیت فرماتے ہیں: وانما قلب الحدث کالارض الخالیہ ما القی فیھا من شی قبلتہ فبادرتک بالادب قبل ان یقسمو قلبک ویشتغل لبک

بےشک نوجوان کا دل خالی زمین کی طرح ہے جو آمادہ ہے کہ اس میں بیج بویا جائے پس اس میں اپنی تربیت کا بیج بوئیں قبل اس کے کہ زمین سخت ہو جائے اور اس کا ذہن دوسری چیزوں میں مشغول ہو جائے

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : یا بنی ان تادیت صغیرا انتفعت بہ کبیرا و من عنی بالادب اھتم بہ ، و من اھتم بہ تکلف علمہ و من تکلف علمہ اشتد لہ طلبہ ومن اشتد لہ طلبہ ، ادرک بہ منفعتہ فاتخذہ ، عادتہ ، و ایاک و الکسل منہ ، و الطلب بغیرہ

اے میرے بیٹے : اگر بچپن میں ادب سیکھا تو جوانی میں اس سے فائدہ اٹھاو گے ۔ اے بیٹے : جو بھی ادب و معرفت چاہتا ہے اس کی تلاش بھی کرتا ہے

بچے کے کان میں آذان و اقامت کہنے کی اہمیت و فضیلت

ایک ایسا مستحب عمل کہ جس کی پیغمبر اسلام اور آئمہ اہل بیت نے سب سے زیادہ تاکید کی ہے وہ یہ ہے کہ ماں باپ کو چاہیے بچے کی ولادت کے بعد سب سے پہلے بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں کیونکہ اسکے بچے پر روحانی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بچے کو کئی قسم کی آفات و بلییات سے محفوظ رکھتے ہیں ۔

1 شیطان بچے سے دور رہتا ہے

سکونی امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے فرمایا : من ولد لہ مولود فلیوذن فی اذنہ الیمنی باذان الصلوۃ ، ولیقم فی اذنہ الیسری فانھا عصمۃ من الشیطان الرجیم[1] ۔

جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اسکو چاہیے کہ بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہے کیونکہ یہ عمل بچے کو شیطاں کے شر سے محفوط رکھتا ہے ۔

ایک اور مقام پر امام علی پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : فان ذلک عصمۃ من الشیطان الرجیم و الافزاع لہ [2] ۔

بچے کے کان میں آذان و اقامت کہنا بچے کو شیطان سے محفوظ رکھتا ہے اور بچہ خواب میں بھی نہیں ڈرتا ۔

پیغمبر اسلام حضرت علی سے فرماتے ہیں : یا علی اذا ولد لک غلام او جاریۃ فاذن فی اذنہ الیمنی و اقم فی الیسری ، فانہ لا یضرہ الشیظان ابدا[3] ۔

اے علی ۔ اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں کیونکہ اس سے شیطان کبھی بھی بچے کو نقصان نہیں پہنچا پائے گا ۔

امام حسین پیغمبر اسلام سے نقل فرماتے ہیں: من ولد لہ مولود فاذن فی اذنہ الیمنی ، واقام فی اذنہ الیسری لم تضرہ ام الصبیان[4] ۔

جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کو چاہیے کہ بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہے کیونکہ یہ عمل بچے کو ام الصبیان [5] سے محفوط رکھتا ہے ۔

2 پیغمبراسلام کا امام حسن و امام حسین کے کان میں آذان دینا

ابو رافع کہتا ہے ان النبی اذن فی اذن الحسن و الحسین حین ولدا و امر بہ[6] ۔

پیغمبر اسلام نے امام حسن اور امام حسین کے کان میں آذان کہی اور ایسا کرنے کا حکم فرمایا ۔

3 امام کاظم کا اپنے بیٹے امام رضا کے کان میں آذان کہنا

علی بن میثم اپنے باپ سے نقل کرتا ہے

قال سمعت امی تقول : سمعت نجمہ ام الرضا تقول فی حدیث : لما وضعت ابنی علیا دخل الی ابوہ موسی بن جعفر فناولتہ ایاہ فی خرفۃ بیضاء فاذن فی اذنہ الیمنی ، و اقام فی الیسری ، و دعا بماء الفرات فحنکہ بہ ، ثم ردہ الی فقال : خذیہ ؛ فانہ بقیۃ اللہ فی ارضہ[7] ۔

میں نے اپنی ماں سے سنا ہے وہ کہتی ہیں : امام رضا کی والدہ نجمہ کہتی ہیں کہ جب امام رضا پیدا ہوئے ابھی سفید کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے کہ امام کاظم کمرے میں داخل ہوئے اور اپنے بیٹے کو ہاتھوں پہ اٹھایا دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہی پحر آب فرات طلب کیا اور آب فرات کی گھٹی دی اور مجھے واپس دیتے ہوئے فرمایا بقیۃ اللہ زمین پر ہیں۔

بچے کا نام رکھنے کا حکم

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا نام رکھا جاتا ہے اور یہ سنت ہے والدین کو چاہیے بچے کا اچھا نام انتخاب کریں کیونکہ ساری زندگی بچے کو اسی نام سے پکارا جانا ہے

سنت نام گذاری

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : لا یُولَد لَنا وَلَدٌ اِلّا سَمَّیناهُ مُحَمَّداً،فَاِذا مَضی سَبعَةُ اَیامٍ فَاِن شِئنا غَیِّرنا وَاِلّا تَرَکنَا [8]

ہم اپنے ہر بچے کا نام محمد رکھتے ہیں پھر ساتویں دن اگر نام تبدیل کرنا ہو تو تبدیل کرتے ہیں وگرنہ محمد ہی رہنے دیتے ہیں

اچھا نام اور حق اولاد

حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمہ و یحسن ادبہ [9]

والد پر بچے کا حق ہے کہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : قال رسول اللہ ان اول ما ینحل احدکم ولدہ الاسم الحسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ[10]

پیغمبر فرماتے ہیں بہترین ہدیہ جو آپ اپنے بچے کو دیتے ہیں وہ اچھا نام ہے پس اپنے بچوں کیلئے اچھے نام انتخاب کریں

موسی بن بکر حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : اول ما یبر الرجل ولدہ ان یسمیہ باسم حسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ [11]

مرد کی پہلی نیکی اور احسان بچے پر یہ ہے اسکا اچھا سا نام منتخب کریں پس اپنے بچوں کے لئے بہتریں ناموں میں سے انتخاب کریں۔

قیامت کے دن اچھے نام کی تاثیر

وفی الخبر ان رجلا یؤتی فی قیامہ و اسمہ محمد ، فعقول اللہ لہ : ما استحییت ان عصیتنی و انت حبیبی ، و انا استحیی ان اعذبک و انت سمیی حبیبی [12]

روایت میں آیا ہے قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس کا نام محمد ہو گا اللہ تعالی کی طرف سے اسے خطاب کیا جائے گا کہ تجھے شرم نہ آئی میری معصیت کرتے ہوئے حالانکہ تو میرے حبیب کا ھم نام ہے ، مجھے شرم آتی ہے تجھے عذاب دیتے ہوئے کیونکہ تو میرے حبیب ۔ محمد مصطفی کا ہم نام ہے

امام صادق علیہ السلام اپنے اجداد سے نقل فرماتے ہیں : اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد : الا لیقم کل من اسمہ محمد ، فلیدخل الجنۃ لکرامۃ سمیہ محمد [13]

قیامت کے دن ایک ندا دی جائے گی کہ جس کا نام محمد ہے وہ محمد مصطفی کے ھم نام ہونے کے صدقے سیدھا جنت میں چلا جائے

روز قیامت انسانوں کو ان کے ناموں سے پکارا جائے گا

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: استحسنوا اسماءکم فانکم تدعون بھا یوم القیامۃ : قم یا فلاں بن فلاں الی نورک ، قم یا فلاں بن فلاں لا نور لک [14]

اپنے اچھے نام رکھو کیونکہ قیامت کے دن آپ کو اپنے ناموں سے پکارا جائے گا، کہ اے فلان بن فلاں اٹھو اور اپنے نور کی جانب چلو ۔۔۔

بیٹوں کیلئے بہترین نام

ابن عمر پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : احب الاسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن [15]

اللہ تعالی کے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں

ایک شخص نے اپنے بچے کے نام کے بارے میں امام صادق علیہ السلام سے مشورت کی تو امام نے اسے فرمایا : سمہ اسما من العبودیہ فقال : ای الاسماء ھو قال : عبد الرحمن [16]

خدا کی بندگی والے ناموں میں سے ایک رکھ لو تو اس نے پوچھا کون سا رکھوں تو امام نے فرمایا عبد الرحمن رکھ لو۔

پیغمبر اکرم سے روایت نقل ہے آپ نے فرمایا: من ولد لہ اربعۃ اولاد و لم یسمہ احدھم باسمی فقد جفانی [17]

جس کے چار بیٹے ہوں اور ایک کا نام بھی محمد نا ہو تو اس نے میرے حق میں جفا کی ہے ۔

ابو ہارون کہتا ہے میں مدینہ میں امام صادق علیہ السلام کا ہمنشین تھا کچھ دن امام علیہ السلام نے مجھے نہ دیکھا کچھ دن بعد جب میں امام کے پاس گیا تو امام نے فرمایا : لم ارک منذ ایام یا ابا ھارن فقلت : ولد لی غلام ۔ فقال : بارک اللہ لک ، فما سمیتہ ؟ قلت: سمیتہ محمدا۔ فأقبل بخدہ نحو الارض و ھو یقول: محمد ، محمد ، محمد حتی کان علصق خدہ بالارض ، ثم قال : بنفسی و بولدی و باھلی و بأبوی و باھل الارض کلھم جمیعا الفداء لرسول للہ ، لا تسبہ ولا تضربہ ولا تسیء الیہ ، و اعلم أنہ لیس فی الرض فیھا اسم مھمد الا و ھی تقدس کل یوم [18]

اے ابو ہارون کچھ دن سے آپ کو نہیں دیکھا میں نے عرض کی مولا خدا نے مجھے بیٹا دیا ہے ، فرمایا مبارک ہو بچے کا نام کیا رکھو گے ؟ میں نے عرض کی محمد مولا نے جیسے ہی محمد کا نام سنا تھوڑا سا جھکے اور فرمایا محمد ، محمد ، محمد پھر فرمایا میں میرے ماں باپ بیوی بچے بلکہ روئے زمین پر رہنے والے سب لوگ رسول اللہ پر قربان جائیں ، کبھی اپنے بچے کو گالی نہ دینا اور اس سے بد سلوکی بھی نہ کرنا

ابو امامہ روایت کرتے ہیں آپ (ص) نے فرمایا: من ولد لہ مولود ذکر فسمی محمدا حبا و تبرکا باسمی ، کان ھو و مولودہ فی الجنہ [19]

جس کسی کا بیٹا پیدا ہو اور وہ مجھ سے محبت اور تبرک کیلئے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بچہ دونوں جنت میں جائیں گے

جابر ،پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا: فما من بیت فیہ اسم محمد الا اوسع اللہ علیھم الرزق ، فاذا سمیتموہ فل تضربوہ و لا تشتموہ [20]

جس گھر میں نام محمد ہو خداوند متعال اس گھر میں رزق کو بڑھا دیتا ہے پس اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھا ہے تو اسے مارنا بھی نہیں اور اسےگالی بھی مت دینا ۔

نام محمد، خیروبرکت ہے

امام رضا فرماتے ہیں : البیت الذی فیہ محمد یصبح اھلہ بخیر و یمسون بخیر [21]

جس گھر میں محمد کا نام ہو اس گھر میں رہنے والوں پر خیر و برکت رہتی ہے

پیغمبراکرم نے فرمایا: اذاسمیتم الولد محمد فاکرموہ ، و أوسعوا لہ فی المجلس ، ولا تقبھوا لہ وجھا [22]

اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اس کا احترام کرو اور اپنی محفلوں میں اسے جگہ دو اور اس کے کاموں کو نا پسند مت کرو

انس بن مالک نقل کرتے ہیں پیغمبر اکرم نے فرمایا : کیسے اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے ہواور پھر انہیں نفریں کرتے ہو؟

اسحاق بن عمار کہتے ہیں میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی خداوند متعال نے مجھے بیٹا عطا کیا ہےتو امام علیہ السلام نے فرمایا : ألا سمیتہ محمد قلت : قد فعلت ۔ قال: فلا تضرب محمدا ولا تشتمہ جعلہ اللہ قرۃ عین لک فی حیاتک و خلف صدق بعدک [23]

کیا تم نے اپنے بچے کا نام محمد نہیں رکھا ؟ میں نے عرض کی مولا محمد ہی رکھا ہے تو مولا نے فرمایا محمد کو نہ مارنا اور نہ گالی دینا کیونکہ جب تک تم زندہ ہو خدا تیرے لیئے آنکھوں کا نور قرار دے گا اور تیرے مرنے کے بعد تیرا نیک و صادق جانشین قرار دے گا ۔

نام علی وآئمہ اہل بیت علیہم السلام

سلیمان جعفری کہتا ہے سمعت اباالحسن یقول: لا تدخل فقر بیتا فیہ اس محمد او أحمد أو علی أو الحسن أو الحسین أو جعفر أو طالب أو عبداللہ أو فاطمہ من النساء [24]

میں نے ابوالحسن سے سنا آپ نے فرمایا : جس گھر میں محمد،احمد،علی، حسن،حسین ،جعفر،طالب،عبداللہ،یا فاطمہ نام ہو اس گھر میں کبھی فقر و تنگدستی داخل نہیں ہو سکتی۔

پیغمبروں کے نام

پیغمبراکرم نے فرمایا : اذا کان اسم بعض أھل البیت اسم نبی لم تزل البرکۃ فیھم [25]

اگراہل خانہ میں سے کسی کا نام کسی نبی کے نام پر ہو تو ان میں خیر و برکت رہتی ہے ۔

اصبغ بن نباتہ امام علی سے اور امام علی رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ما من اھل بیت فیھم اسم نبی الا بعث اللہ عزوجل الیھم ملکا عقدسھم بالغداۃ والعشی [26]

جس گھر میں اہل خانہ میں سے کسی کا نام کسی نبی کے نام پر ہو گا تو خدا اس گھر پر ایک فرشتہ مقرر کر دے گا جو صبح و شام ان پر تقدیس کرے گا۔

ابو وہب جسمی پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : تسموا بأسماء الأبیاء وأحب الأسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن ۔۔۔ و أقبحھا حرب و مرۃ[27]

اپنے لئے پیغمبروں کے نام انتخاب کرو۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں اور برے نام حرب و مرہ ہیں۔

فرعونوں اور بادشاہوں کے نام

عمر نقل کرتے ہیں کہ ہمسر پیغمبر اکرم جناب ام سلمی کے بھائی کا بیٹا پیدا ہوا تو اسکا نام ولید رکھا گیا جب پیغمبر اکرم کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا : سمیتموہ باسم فراعنتکم غیروا اسمہ ، فسموہ عبداللہ[28] ۔

بچے کا نام اپنے فرعونوں کے ناموں پہ رکھ دیا ہے اسکا نام چینج کرو اور عبداللہ رکھو

ابوھریرہ سے نقل ہے کہ اسی ماجرہ کے بارے میں رسول اللہ سے روایت نقل ہے آپ نے فرمایا : سمیتموہ بأسامی فراعنتکم لیکونن فی ھذہ الامۃ رجل یقال لہ الولید وھو شر علی ھذہ الأمۃ من فرعون علی قومہ[29] ۔

بچے کا نام اپنے فرعونوں کے ناموں پہ رکھ دیا ہے ، اگاہ ہو جاو اس امت میں ایک ایسا شخص آنے والا ہے جس کا نام ولید ہو گا اور اس کی برائیاں اور بدکرداریاں آپ کے فرعونوں سے کہیں زیادہ ہوں گی ۔

بچوں کے نام دشمنان اہل بیت پر رکھنے سے شیطان خوش ہوتا ہے

جابر روایت کرتا ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے ایک نوجوان سے فرمایا : مااسمک قال: محمد ۔ قال : بم تکنی قال : ابو جعفر : لقد احتظرت من الشیطان احتظارا شدیدا ۔ ان الشیطان اذا سمع منادیا ینادی : یامحمد او یا علی ذاب کما یذوب الرصاص حتی اذا سمع منادیا ینادی باسم عدو من اعدائنا ۔ اھتز و اختال [30] ۔

آپ کا نام کیا ہے ؟ کہا محمد ۔ فرمایا : آپ کی کنیت کیا ہے؟ کہا علی ۔ تو حضرت نے فرمایا : آپ نے اس کنیت سے اپنے کو شیاطین کے شر سے محفوظ کر لیا ہے ۔ جب شیطان سنتا ہے کہ محمد یا علی کا نام پکارا گیا ہے پریشان ہو جاتا ہے اور جب ہمارے دشمنوں کا نام پکارا جائے تو خوشحال ہو جاتا ہے ۔

پیغمبراکرم ناپسندیدہ ناموں کو تبدیل کرنے کا حکم فرماتے تھے

مفصلی نقل کرتا ہے بادشاہ روم کی طرف سے ایک مسیحی رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو پیغمبر اکرم (ص) نے اس سے پوچھا ما اسمک فقلت: اسمی عبدالشمس ، فقال لی: بدل اسمک فأنی سمیتک عبدالوھاب[31]،

آپ کا کیا نام ہے ؟ عرض کی عبدالشمس تو آپ ص نے فرمایا : اپنا نام تبدیل کرو میں نے آپ کا نام عبدالوھاب رکھ دیا ہے۔

سھل بن سعد کہتا ہے کان رجل من اصحاب النبی اسمہ أسود ، فسماہ رسول اللہ أبیض [32]

پیغمبر کے ایک صحابی کا نام اسود (سیاہ) تھا تو آپ(ص) نے اسکا نام تبدیل کر کے ابیض (سفید) رکھ دیا ۔

عتبہ بن سلمی کہتے ہیں : کان النبی اذا أتاہ الرجل و لہ اسم لا یحبہ حولہ[33] ۔

اگر کوئی شخص پیغمبر کے پاس آتا اور آپ ص کو اس کا نام اچھا نہ لگتا تو آپ ص اس کا نام چینج کر دیتے ۔

حسین بن علوان امام صادق اور امام اپنے اجداد سے نقل فرماتے ہیں۔

ان رسول اللہ کان یغیر الاسماء القبیحہ فی الرجال و البلدان [34]

جن بچوں اور شہروں کے نام اچھے نہیں ہوتے تھے آپ (ص) انہیں چینج کر دیتےتھے ۔

شہداء کے نام اور یادیں زندہ رکھنا

ابن قداح امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے : قال جاء الرجل الی نبی فقال : ولد لی غلام فماذا أسمہ قال : أحب الاسماء الی حمزہ[35]

ایک شخص پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ میرا بیٹا ہوا ہے اس کا نام کیا رکھوں ؟ تو آپ ص نے فرمایا میرا پسندیدہ نام حمزہ ہے ۔

ختنہ کرنے کا بیان

ختنہ کرنا ایک ایسی سنت ہے جس کی تاکید پیغمبر اسلام اور تمام آئمہ نے فرمائی ہے ولادت کے ساتویں روز بچے کا ختنہ کرنا چاہیے ساتویں روز ختنہ کرنے میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ امام علی پیغمبر اسلام سے نقل کرتے ہیں : اختتنوا اولادکم یوم السابع فانہ اطھر و اسرع نباتا للحم و اروح للقلب [36]۔

اپنے بچوں کا ولادت کے ساتویں روز ختنہ کریں کیونکہ یہ عمل بچے کیلیے پاکیزہ تراور بچے کی جسمانی نشونما میں جلدی اور بچے کی روح کی تراوت کا سبب بنتا ہے ۔

علی علیہ السلام فرماتے ہیں : اختتنو اولادکم یوم السابع ، ولا یمنعکم حر و لا برد فانہ طھر للجسد[37] ۔

اپنے بچوں کا ولادت کے ساتویں روز ختنہ کریں اور کبھی بھی گرمی یا سردی آپ کو روکنے نہ پائے کیونکہ ختنہ جسم کی طھارت اور پاکیزگی ہے ۔

نومولود کا سر مونڈوانے کا حکم

ولادت کے ساتویں روز بچے کا سر منڈوانا سنت ہے مان باپ کو چاہیے ساتویں دن بچے کا سر منڈوائیں مرحوم شیخ حر عاملی صاحب وسائل الشیعہ نے 15 ویں جلد میں تقریبا تیس روایتیں ذکر کرتے ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں روز بچے کا سر منڈوانا سنت موکد ہے ۔ امام صادق اپنے اجداد سے نقل کرتے ہیں : ان رسول اللہ امر بحلق شعر الصبی الذی یولد بہ المولود عن راسہ یوم سابعہ [38]۔

رسول اکرم نے دستور فرمایا کہ ولادت کے ساتویں روز بچے کا سر منڈوا دو ۔

علی بن جعفر کہتے ہیں میں نے اپنے بھائی امام موسی کاظم سے ساتویں دن سر منڈوانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اذا مضی سبعہ ایام فلیس علیہ حلق[39] ۔

اکر سات روز گزر جائیں تو پھر سر منڈوانے کا فائدہ نہیں ۔

بالوں کے برابر صدقہ دینا

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : وحلقت فاطمہ رووسھما – الحسن و الحسین – وتصدقت بوزن شعرھما فضۃ [40]۔

سیدہ فاطمہ نے اپنے دونوں بچوں – امام حسن و امام حسین – کے سر منڈوائے تو بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دی۔

عقیقہ کرنے کا حکم

بچے کی ولادت کے ساتویں روز بچے کا سر منڈوانے کے بعد باپ خدا کی راہ میں جانور قربان کرے اور فقیروں میں اپنے دوستوں میں اور ھمسایوں میں تقسیم کرے ، اس سنت اسلامی کو عقیقہ کہتے ہیں ۔ اسلام میں عقیقہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے اور یہ ایسا مستحب ہے کہ جو بچے کے بالغ ہونے تک باپ کے ذمہ ہے اور بالغ ہونے کے بعد خود بچے کے ذمہ باقی رہتا ہے اور یہ اتنی زیادہ تاکید ان حکمتوں کی وجہ سے ہے جو عقیقہ میں چھپی ہوئی ہیں ۔

1 بیمہ سلامتی

سمرہ ،پیغمبر اکرم سے نقل کرتا ہے ،آپ نے فرمایا : کل غلام رھینۃ بعقیقۃ[41] ۔

ہر بچہ عقیقہ سے بیمہ ہوتا ہے ۔

امام صادق رسول خدا سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا : کل مولود مرتھن بعقیقہ فکہ والداہ او ترکاہ [42] ۔

ہر مولود کی سلامتی اس کے عقیقہ کرنے میں ہے اب والدیں کے ذمہ ہے کہ وہ بچے کا عقیقہ کرتے ہیں یا نہیں ۔

2 عقیقہ روز ہفتم

امام صادق فرماتے ہیں : الغلام رھن بسابعۃ بکبش یسمی فیہ یعق عنہ [43] ۔

ھر بچے کی سلامتی جانور قربان کرنے کے ساتھہ جڑی ہے جو اس کی طرف سے عقیقہ کیا جاتا ہے ۔

پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : اذا کان یوم سابعہ فاذبح فیہ کبشا [44] ۔

بچہ جب سات دن کا ہو جائے تو ایک کبش ذبح کریں

3 پیغمبر نے حسنین کا عقیقہ کیا

امام صادق فرماتے ہیں : سمی رسول اللہ حسنا و حسینا یوم سابعھما و شق من اسم الحسن و الحسین و عق عنھما شاۃ شاۃ [45] ۔

پیغمبر اسلام نے ساتویں روز حسن و حسین کا نام رکھا نام حسین حسن سے لیا گیا ہے اور ہر ایک کیلئے گوسفند عقیقہ کیا ۔

4 سیدہ فاطمہ نے حسنین کا عقیقہ کیا ۔

امام صادق فرماتے ہیں : عقت فاطمہ عن ابیھا صلوات اللہ علیھما و حلقت رووسھما فی الیوم السابع [46] ۔

فاطمہ الزہراء نے ساتویں روز اپنے دونوں بچوں کا عقیقہ کیا اور ان کے سر منڈوائے ۔

5 امام باقر کا اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا

ولد لابی جعفر غلامان ، فامر زید بن علی ان یشتری لہ جزورین للعقیقہ [47]۔۔۔

امام باقر کے دو بچے ہوئے تو امام نے زید بن علی کو حکم دیا کہ دو اونٹ عقیقہ کے لیے لے آو ۔

6 امام حسن عسکری کا امام زمانہ کے لیے عقیقہ کرنا ۔

ابراھیم بن ادریس کہتا ہے وجہ الی مولای ابو محمد ۔۔۔ بکبشین و کتب : بسم اللہ الرحمن الرحیم عق ھین الکبشین عن مولاک و کل ھناک اللہ و اطعم اخوانک ففعلت[48] ۔۔۔۔۔ ،

میرے مولا امام حسن عسکری نے دو گوسفند میرے پاس بھیجے اور ساتھہ لکھہ بھیجا ، بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ دو گوسفند اپنے مولا امام زمان کے لیئے عقیقہ کرو ان کا گوشت کھاو اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلاو تو میں نے ایسا ہی کیا ۔

7 بیٹے اور بیٹی کا عقیقہ ایک ہی ہے

پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : العقیقۃ شاۃ من الغلام و الجاریۃ سواء [49] ۔

عقیقہ ایک گوسفند ہے اور اس میں بیٹی بیٹے کا کوئی فرق نہیں

8 عقیقہ یا اس کے برابر صدقہ دینا ۔

عبداللہ بن بکر کہتے ہیں کنت عند ابی عبداللہ فجاءہ رسول اللہ عمہ عبداللہ بن علی ، فقال: یقول لک عمک انا طلبنا العقیقہ فلم نجدھا ، فما تری نتصدق بثمنھا ؟ قال: لا ۔ ان اللہ یحب اطعام الطعام و اراقۃ الدماء [50] ۔

امام صادق کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ آپ علیہ السلام کے چچا کا قاصد آیا اور عرض کرنے لگا آپ کے چچا کہتے ہیں : میں عقیقہ کے لیے گوسفند ڈھونڈتا رہا ہوں لیکن نہیں ملا ، آپ کی کیا رائے ہے نقدی پیسے صدقہ کر دوں ؟ تو امام نے فرمایا ایسا نہ کرنا کیونکہ خدا اطعام اور خوں بھانے کو پسند کرتا ہے ۔

محمد بن مسلم کہتا ہے ولد لابی جعفر غلامان ، فامر زید بن علی ان یشتری لہ جزورین للعقیقۃ وکان رمن غلاء ۔ فاشتری لہ واحدۃ و عسرت علیہ الاخری ، فقال لابی جعفر و قد عسرت علی الاخری ، فاتصدق بثمنھا ؟ قال: لا ، اطلبھا فان عزوجل یحب اھراق الدماء و اطعام الطعام [51] ۔

امام باقر کے دو بیٹے ہوئے تو امام نے زید بن علی کو حکم فرمایا کہ عقیقہ کیلئے دو اونٹ لے آو ان دنوں روزحار زرا اطھا نہیں تھا زید بن علی صرف ایک ہی اونٹ خرید سکے ، امام سے عرض کرتا ہے دوسرا اونٹ خریدنا میرے لیے مشکل ہے کیا اونٹ کی قیمت صدقہ کرسکتا ہوں ؟ تو امام نے فرمایا کوشش کرو اونٹ خریدوکیونکہ خدا خون بھانے اور اطعام کرنے کو پسند کرتا ہے

بچے کا نام رکھنے کا حکم

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا نام رکھا جاتا ہے اور یہ سنت ہے والدین کو چاہیے بچے کا اچھا نام انتخاب کریں کیونکہ ساری زندگی بچے کو اسی نام سے پکارا جانا ہے

سنت نام گذاری

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : لا یُولَد لَنا وَلَدٌ اِلّا سَمَّیناهُ مُحَمَّداً،فَاِذا مَضی سَبعَةُ اَیامٍ فَاِن شِئنا غَیِّرنا وَاِلّا تَرَکنَا [52]

ہم اپنے ہر بچے کا نام محمد رکھتے ہیں پھر ساتویں دن اگر نام تبدیل کرنا ہو تو تبدیل کرتے ہیں وگرنہ محمد ہی رہنے دیتے ہیں

اچھا نام اور حق اولاد

حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمہ و یحسن ادبہ [53]

والد پر بچے کا حق ہے کہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : قال رسول اللہ ان اول ما ینحل احدکم ولدہ الاسم الحسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ[54]

پیغمبر فرماتے ہیں بہترین ہدیہ جو آپ اپنے بچے کو دیتے ہیں وہ اچھا نام ہے پس اپنے بچوں کیلئے اچھے نام انتخاب کریں

موسی بن بکر حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : اول ما یبر الرجل ولدہ ان یسمیہ باسم حسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ [55]

مرد کی پہلی نیکی اور احسان بچے پر یہ ہے اسکا اچھا سا نام منتخب کریں پس اپنے بچوں کے لئے بہتریں ناموں میں سے انتخاب کریں

قیامت کے دن اچھے نام کی تاثیر

وفی الخبر ان رجلا یؤتی فی قیامہ و اسمہ محمد ، فعقول اللہ لہ : ما استحییت ان عصیتنی و انت حبیبی ، و انا استحیی ان اعذبک و انت سمیی حبیبی [56]

روایت میں آیا ہے قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس کا نام محمد ہو گا اللہ تعالی کی طرف سے اسے خطاب کیا جائے گا کہ تجھے شرم نہ آئی میری معصیت کرتے ہوئے حالانکہ تو میرے حبیب کا ھم نام ہے ، مجھے شرم آتی ہے تجھے عذاب دیتے ہوئے کیونکہ تو میرے حبیب ۔ محمد مصطفی کا ہم نام ہے

امام صادق اپنے اجداد سے نقل فرماتے ہیں : اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد : الا لیقم کل من اسمہ محمد ، فلیدخل الجنۃ لکرامۃ سمیہ محمد [57]

قیامت کے دن ایک ندا دی جائے گی کہ جس کا نام محمد ہے وہ محمد مصطفی کے ہم نام ہونے کے صدقے سیدھا جنت میں چلا جائے

روز قیامت انسانوں کو ان کے ناموں سے پکارا جائے گا

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: استحسنوا اسماءکم فانکم تدعون بھا یوم القیامۃ : قم یا فلاں بن فلاں الی نورک ، قم یا فلاں بن فلاں لا نور لک [58]

اپنے اچھے نام رکھو کیونکہ قیامت کے دن آپ کو اپنے ناموں سے پکارا جائے گا، کہ اے فلان بن فلاں اٹھو اور اپنے نور کی جانب چلو

بیٹوں کیلئے بہترین نام

ابن عمر پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : احب الاسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن [59]

اللہ تعالی کے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں

ایک شخص نے اپنے بچے کے نام کے بارے میں امام صادق علیہ السلام سے مشورت کی تو امام نے اسے فرمایا : سمہ اسما من العبودیہ فقال : ای الاسماء ھو قال : عبد الرحمن [60]

خدا کی بندگی والے ناموں میں سے ایک رکھ لو تو اس نے پوچھا کون سا رکھوں تو امام نے فرمایا عبد الرحمن رکھ لو۔

پیغمبر اکرم سے روایت نقل ہے آپ نے فرمایا: من ولد لہ اربعۃ اولاد و لم یسمہ احدھم باسمی فقد جفانی [61]

جس کے چار بیٹے ہوں اور ایک کا نام بھی محمد نا ہو تو اس نے میرے حق میں جفا کی ہے ۔

ابو ھارون کہتا ہے میں مدینہ میں امام صادق علیہ السلام کا ہمنشین تھا کچھ دن امام علیہ السلام نے مجھے نہ دیکھا کچھ دن بعد جب میں امام کے پاس گیا تو امام نے فرمایا : لم ارک منذ ایام یا ابا ھارن فقلت : ولد لی غلام ۔ فقال : بارک اللہ لک ، فما سمیتہ ؟ قلت: سمیتہ محمدا۔ فأقبل بخدہ نحو الارض و ھو یقول: محمد ، محمد ، محمد حتی کان علصق خدہ بالارض ، ثم قال : بنفسی و بولدی و باھلی و بأبوی و باھل الارض کلھم جمیعا الفداء لرسول للہ ، لا تسبہ ولا تضربہ ولا تسیء الیہ ، و اعلم أنہ لیس فی الرض فیھا اسم مھمد الا و ھی تقدس کل یوم [62]

اے ابو ھارون کچھ دن سے آپ کو نہیں دیکھا میں نے عرض کی مولا خدا نے مجھے بیٹا دیا ہے ، فرمایا مبارک ہو بچے کا نام کیا رکھو گے ؟ میں نے عرض کی محمد مولا نے جیسے ہی محمد کا نام سنا تھوڑا سا جھکے اور فرمایا محمد ، محمد ، محمد پھر فرمایا میں میرے ماں باپ بیوی بچے بلکہ روئے زمین پر رہنے والے سب لوگ رسول اللہ پر قربان جائیں ، کبھی اپنے بچے کو گالی نہ دینا اور اس سے بد سلوکی بھی نہ کرنا

ابو امامہ روایت کرتے ہیں آپ (ص) نے فرمایا: من ولد لہ مولود ذکر فسمی محمدا حبا و تبرکا باسمی ، کان ھو و مولودہ فی الجنہ [63]

جس کسی کا بیٹا پیدا ہو اور وہ مجھ سے محبت اور تبرک کیلئے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بچہ دونوں جنت میں جائیں گے

جابر پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا: فما من بیت فیہ اسم محمد الا اوسع اللہ علیھم الرزق ، فاذا سمیتموہ فل تضربوہ و لا تشتموہ [64]

جس گھر میں نام محمد ہو خداوند متعال اس گھر میں رزق کو بڑھا دیتا ہے پس اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھا ہے تو اسے مارنا بھی نہیں اور اسےگالی بھی مت دینا ۔

نام محمد، خیروبرکت ہے ۔

امام رضا فرماتے ہیں: البیت الذی فیہ محمد یصبح اھلہ بخیر و یمسون بخیر [65]

جس گھر میں محمد کا نام ہو اس گھر میں رہنے والوں پر خیر و برکت رہتی ہے

پیغمبراکرم نے فرمایا: اذاسمیتم الولد محمد فاکرموہ ، و أوسعوا لہ فی المجلس ، ولا تقبھوا لہ وجھا [66]

اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اس کا احترام کرو اور اپنی محفلوں میں اسے جگہ دو اور اس کے کاموں کو نا پسند مت کرو

انس بن مالک نقل کرتے ہیں پیغمبر اکرم نے فرمایا : کیسے اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے ہواور پھر انہیں نفریں کرتے ہو؟

اسحاق بن عمار کہتے ہیں میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی خداوند متعال نے مجھے بیٹا عطا کیا ہےتو امام علیہ السلام نے فرمایا : ألا سمیتہ محمد؟ قلت : قد فعلت ۔ قال: فلا تضرب محمدا ولا تشتمہ جعلہ اللہ قرۃ عین لک فی حیاتک و خلف صدق بعدک [67]

کیا تم نے اپنے بچے کا نام محمد نہیں رکھا ؟ میں نے عرض کی مولا محمد ہی رکھا ہے تو مولا نے فرمایا محمد کو نہ مارنا اور نہ گالی دینا کیونکہ جب تک تم زندہ ہو خدا تیرے لیئے آنکھوں کا نور قرار دے گا اور تیرے مرنے کے بعد تیرا نیک و صادق جانشین قرار دے گا ۔

اولاد کی شخصیت میں ماں کے دودھ کی تاثیر

ایک اہم نکتہ جس کا ماں کو خصوصی خیال رکھنا چاہیے وہ بچے کو دودھ پلانا ہے اگرچہ بعض لوگ اتنے اہم مسئلہ کی طرف توجہ نہیں دیتے مگر اسلام نے اس مسئلہ کی طرف خصوصی توجہ دی ہے

بعض اوقات ماں باپ بہت ہی اچھے اور متدین ہوتے ہیں مگر اولاد منحرف ہو جاتی ہے اور جب ہم ان کے منحرف ہونے کی وجہ ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ ماں کا بچے کو دودھ پلانے میں بے توجہی کرنا ہے اگر ماں دودھ پلانے میں بچے پر تھوڑا زیادہ توجہ اور عنایت کرتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا کیونکہ شیر خوارگی کے دوران بچے کی نہ صرف جسمانی گروتھ ہوتی ہے بلکہ روحانی گروتھ بھی ہوتی ہے ماں کے دودھ کے ساتھ ماں کی گفتار اور رفتار بھی بچے پر اثر انداز ہوتی ہے ۔

پیغمبر گرامی اسلام اور آئمہ اہل بیت کی روایات میں ، بچے کو دودھ پلانے کی اہمیت کے بارے میں خصوصی ہدایات ذکر ہوئی ہیں

ماں کا بچے کو دودھ پلانے کا اجر و ثواب

امام صادق ، پیغمبر گرامی اسلام سے روایت کرتے ہیں : أنما امرأۃ دفعت من بیت روجھا شیأمن موضع ترید بہ صلاحا نظراللہ الیھا و من نظراللہ الیہ لم یعذبہ ، فقالت أم سلمہ : یا رسول اللہ ذھب الرجل بکل خیر فأی شیء للنساء المساکین فقال : بلی اذا حملت المرأۃ کانت بمنزلۃ الصائم القائم المجاھد بنفسہ و مالہ و فی سبیل اللہ ، فاذا وضعت کان لھا من الاجر ما لا یدری أحد ما ھو لعظمہ فاذا ارضعت کان لھا بکل مصۃ کعدل عتق محرر من ولد اسماعیل فاذا فرغت من رضاعہ ضرب ملك کریم علی جنبھا و قال : استأنفی العمل فقد غفر لك[68] ۔

جو خاتون شوہر کا گھر مرتب کرنے کیلئے سامان اٹھاتی ہے اور گھر کو مرتب کرتی ہے تو خدا اس پر نظر کرم کرتا ہے اور جس پر خدا کی نظر کرم ہو اس کو کبھی عذاب نہیں ہو سکتا

أم سلمی نے کہا : یا رسول اللہ تمام نیکیاں تو مرد لے گئے عورتوں کے حصے میں بھی کچھ ہے ؟ تو پیغمبر نے فرمایا : ہاں عورت جب حاملہ ہوتی ہے تو وہ اس مجاھد کی مانند ہے جو دن میں روزہ رکھے راتوں کو عبادت کرے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کر دے ، اور جب بچہ پیدا کرتی ہے تو اسکا اتنا ثواب ہے کہ کوئی درک بھی نہیں کر سکتا اور جب بچے کو دودھ دیتی ہے تو ہر دفعہ دودھ پلانے کا ثواب اولاد اسماعیل سے غلام آزاد کرانے کے برابر ہے اور جب دودھ پلا لے تو ایک فرشتہ اس کے پہلو میں آ کے کہتا ہے خدا نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیئے ۔

ایک اور روایت میں آپ (ص) حولاء عطارہ کو فرماتے ہیں

فاذا وضعت حملھا و أخذت فی رضاعہ فما یمص الولد مصۃ من لبن أمہ الا کان بین یدیھا نورا ساطعا یوم القیامۃ یعجب من رآھا من الاولین و الآخرین ، و کتبت صائمۃ قائمۃ ۔۔ فاذا فطمت ولدھا ، قال الحق جل ذکرہ : یا أیتھا المرأۃ : قدغفرت لك ما تقدم من الذنوب ، فاستأنفی العمل[69] ۔

پس جب ماں بچے کو جنم دیتی ہے اور اسے اپنا دودھ پلاتی ہے تو جتنی دفعہ بچہ دودھ پیتا ہے تو ہر دفعہ کے بدلے میں قیامت کے دن ایک نور پیدا ہوگا ہر آنے والوں اور گذرے ہوؤں میں سے اس نور کو دیکھے گا تو حیران رہ جائے گا اور ماں کے نامہ اعمال میں روزہ دار اور شب زندہ دار کا ثواب لکھا جائے گا ۔۔۔ اگر ماں بچے کو دوھ نہ پلائے تو خدا کی آواز آتی ہے اے خاتون اپنے بچے کو دودھ پلا میں تیرے سارے گناہ معاف کر دوں گا ۔

بہترین دودھ

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : لیس للصبی لبن خیر من لبن أمہ[70]

بچے کیلئے ماں سے بہتر اور کوئی دودھ نہیں ۔

امام صادق (ع) امیر المؤمنین سے نقل کرتے ہیں : ما من لبن رضع بہ الصبی أعظم برکۃ علیہ من لبن أمہ[71]

بچے کیلئے ماں کے دودھ سے بڑھ کر کوئی دودھ بھی با برکت نہیں ہوسکتا ۔

(جاری ہے )



[1] وسائل الشیعہ ، ج15 ، ص 136 ؛ مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 137 ۔

[2] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 138 ۔

[3] تحف العقول ، ص 14 ۔

[4] کنز العمال ، ج 16 ، ص 457 ۔

[5] یہ ایک بیماری ہے جس میں بچے کو غش پڑتے ہیں ۔ فرھنگ جامع ، ج 1 ، ص 45 ۔

[6] کنز العمال ، ج 16 ، ص 599 ۔

[7] وسائل الشیعہ ، ج15 ، ص 138 ۔

[8] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 127 ۔

[9] کنز العمال ۔ ج 16 ، ص 477 ۔

[10] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 122 ۔

[11] ھمان ، ص 126

[12] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 130 ۔

[13] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 128 ۔

[14] عدۃ الداعی ۔ ص 78 ۔

[15] کنزالعمال ، ج 16 ، ص 417 ۔

[16] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[17] عدۃ الداعی ۔ ص 77 ۔

[18] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص126 ۔

[19] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[20] مجموعہ ورام ، ص 26 ۔

[21] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص127 ۔

[22] ھمان ، ج 15 ص 127 ؛ کنزالعمال ، ج 16 ص 418

[23] مکارم الاخلاق ، ص 25 ۔

[24] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص129 ۔

[25] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص129

[26] وسائل الشیعہ ، ج 157 ، ص 125 ۔

[27] کنز العمال ، ج 16 ، ص 200 ۔

[28] کنز العمال ، ج 16 ، ص 592

[29] ھمان ، ج 16 ، ص 430 ۔

[30] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 126 ۔

[31] مستدر الوسائل ، ج 15 ، ص 128 ۔

[32] کنز العمال ، ج 16 ، ص 596 ۔

[33] ھمان ، ص 596 ۔

[34] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 123 ۔

[35] ھمان ، ص 129 ؛ کنز العمال ، ج 16 ، ص 423 ۔

[36] کنز العمال ، ج 167 ، ص 436 ؛ وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 165 ، تھورے فرق کے ساتھہ مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 149 ۔

[37] تحف العقول ، ص 119 ۔

[38] مستدک الوسائل ، ج 15 ، ص 142 ۔

[39] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 169 ۔

[40] ھمان ، ج 15 ، ص 159 ۔

[41] کنزالعمال ، ج 16 ، ص 431 ؛ کتاب العیال ، 1 ، ص 216 و 433 ۔

[42] مستدرک الوسائل ج 15 ، ص 140 ۔

[43] بحار الانوار ، ج 43 ، ص 256 ۔

[44] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 143 ۔

[45] بحار الانوار ، ج 43 ، ص 257 ۔

[46] ھمان ، ص 256 – 257 ۔

[47] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 146 ۔

[48] محمد جواد طبسی ، حیاۃ الامام العسکری ، ص 80 ۔

[49] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 142 ۔

[50] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 146 ۔

[51] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 146 ۔

[52] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 127 ۔

[53] کنز العمال ۔ ج 16 ، ص 477 ۔

[54] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 122 ۔

[55] ھمان ، ص 126

[56] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 130 ۔

[57] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 128 ۔

[58] عدۃ الداعی ۔ ص 78 ۔

[59] کنزالعمال ، ج 16 ، ص 417 ۔

[60] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[61] عدۃ الداعی ۔ ص 77 ۔

[62] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص126 ۔

[63] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[64] مجموعہ ورام ، ص 26 ۔

[65] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص127 ۔

[66] ھمان ، ج 15 ص 127 ؛ کنزالعمال ، ج 16 ص 418

[67] مکارم الاخلاق ، ص 25 ۔

[68] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 175 ۔

[69] مستدرک الوسائل م ج 15 ، ص 156 ۔

[70] ھمان ، ج 15 ، ص 1567 نقل از صحیفہ الرضا ، ص 42

[71] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 175 ۔




چالیس حدیثیں   (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

چالیس حدیثیں

میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق



ترجمہ و ترتیب: اسد عباس اسدی



میاں بیوی کے درمیان عشق و محبت پیدا کرنے والے عوامل میں سے ایک مہم عامل اظہار محبت ہے ہو سکتا ہے وہ لوگ جن کے دل میں اپنی شریک حیات کے لیے بے پناہ محبت ہو لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کر پاتے۔ سورہ روم کی آیت نمبر 21 میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور باہمی الفت کے اصول کا تذکرہ کیا ہے

وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُـوٓا اِلَيْـهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْـمَةً ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی، جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔

میاں بیوی کا ایک دوسرے کیلئے پیار بھرے جملات کا اظہار بہت سارے شکوک و شبہات کو ختم کرتا ہے اور ان کے درمیان محبت کو بڑھاتا ہے آئمہ معصومین علیہم السلام نے بھی میاں بیوی کےایک دوسرے سے محبت کے اظہار پر تاکید کی ہےاور آپ علیہم السلام کی سیرت میں ایسی لاتعداد مثالیں موجود ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی بیوی اس کی طرف پیار کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آج اکثر فیملیوں کی سب سے بڑی مشکل ان کی زندگیوں میں صحیح مدیریت کا نہ ہونا ہے ، بہت سےتنازعات اور چیلنجز جو کہ خاندانوں کے ٹوٹنے کا سبب بنتے ہیں ، گھرداری میں آئیڈیل نمونہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں،اس لئے مناسب سمجھا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں گھرداری کے چند اصول قارئین کی خدمت میں پیش کریں ۔

واضح رہے کہ پہلی 20 احادیث "شوہر کا بیوی کے ساتھ اخلاق" سے متعلق ہیں اور آخری 20 احادیث "بیوی کا ساتھ شوہر کے ساتھ اخلاق" سے متعلق ہیں۔



شوہر کا بیوی کے ساتھ اخلاق

زیادہ اظهار محبت (زیادہ ایمان)

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

کُلَّ مَا ازدادَ العَبدُ إیمانَاً اِزدادَ حُبّاً لِلنِّسآءِ [1]

جس قدر بندے کا ایمان بڑھتا ہے اتنا ہی اس کی عورتوں سے محبت بڑھتی جاتی ہے۔



اہل بیت علیہم السلام سے محبت کرنے والا اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے

امام جعفر صادق علیه السلام نے فرمایا:

کُلُّ مَنِ اشتَدَّ لَنا حُبّاً اشتَدَّ لِلنِّساءِ حُبّاً [2]

جو ہم سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے (اہل بیت علیہم السلام)، وہ اپنی عورتوں (اپنی بیوی) سے بھی اتنی زیادہ محبت کرتا ہے۔



زندگی کی پاکیزگی یہاں ہے

امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام نے فرمایا:

فَدارِها عَلی کُلِّ حالٍ وَ أحسِنِ الصُّحبَةَ لَها فَیَصفُو عَیشُکَ [3]

اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ تسامح کرو، اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرو تاکہ تمہاری زندگی پاکیزہ ہو۔



تکبر اور غصہ سے پرہیز کریں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

خَیرُ الرِّجالِ مَن اُمَّتِی اَلَّذِینَ لایَتطاوَلُونَ عَلی أهلِیهِم وَ یحنُونَ عَلَیهِم وَ لا یَظلِمُونَهُم [4]

میری امت کے بہترین مرد وہ ہیں جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ سختی اور تکبر نہیں کرتے اور ان پر رحم کرتے ہیں اور ان کی پرواہ

کرتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں دیتے ہیں۔



تھپڑ، کبھی نہیں!

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

فَأیُّ رَجُلٍ لَطَمَ امرَأَتَهُ لَطمَةً، أمَرَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ مالِکَ خازِنَ النِّیرانِ فَیَلطِمُهُ عَلی حَرَّ وَجهِهِ سَبعِینَ لَطمَةً فِی نارِ جَهَنَّمَ [5]

جو اپنی بیوی کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے، اللہ تعالیٰ جہنم کے دربان کو حکم دیتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ میں اس کے منہ پر ستر مرتبہ تھپڑ مارے۔



میں تم سے پیار کرتا ہوں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

قَولُ الرَّجُلِ لِلمَرأَةِ إنِّی اُحِبُّکَ لا یَذهَبُ مِن قَلبِها أبَداً [6]

ایک مرد کا اپنی بیوی کو یہ کہنا "میں تم سے پیار کرتا ہوں" عورت کے دل سے کبھی نہیں نکلتا ۔



بیوی کی دینی اور دنیاوی خوشی فراہم کرنا

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

لِلمَرأَةِ عَلی زَوجِها أن یُشبِعَ بَطنَها، وَ یَکسُو ظَهرَها، وَ یُعَلِّمهَا الصَّلاةَ وَ الصَّومَ وَ الزَّکاةَ إن کانَ فِی مالِها حَقٌّ، وَ لاتُخالِفَهُ فِی ذلِکَ [7]

عورت کا اپنے شوہر پر حق یہ ہے کہ وہ اسے کھانا کھلائے، لباس پہنائے، اسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ سکھائے، اگر عورت کے مال میں زکوٰۃ کا حق ہے تو عورت بھی ان چیزوں میں مرد کی مخالفت نہ کرے۔



یہ خدا کی راہ میں جہاد ہے

امام رضا علیه السلام نے فرمایا :

اَلکآدُّ عَلی عِیالِهِ مِن حِلٍّ کَالمُجاهِدِ فِی سَبِیلِ اللهِ [8]

جو شخص حلال ذرائع سے اپنے گھر والوں کی بھلائی کے لیے کوشش کرتا ہے وہ اس مجاہد کی طرح ہے جو خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔



کیا آپ بھی تحائف خریدتے ہیں؟

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

مَن دَخَلَ السُّوقَ فَاشتَرَی تُحفَةً فَحَمَلَها إلَی عِیالِهِ کانَ کَحامِلِ صَدَقَةٍ إلَی قَومٍ مَحاوِیجَ وَ لیَبدَأ بِالإناثِ قَبلَ الذُّکُورِ فَإنَّ مَن فَرَّحَ اِبنَتَهُ فَکَأنَّما اعتَقَ رَقَبَةً مِن وُلدِ إسماعِیلَ وَ مِن اَقَرَّ بِعَینِ ابنٍ فَکَاَنَّما بَکَی مِن خَشیَةِ اللهِ وَ مَن بَکَی مِن خَشیَةِ اللهِ أدخَلَهُ اللهُ جَنّاتِ النَّعِیمِ [9]

جو بازار جا کر اپنے اہل و عیال کے لیے تحفہ خرید کر لے جاتا ہے تو اس کا ثواب اس شخص کی طرح ہے جو مسکین کو صدقہ کرتا ہے۔ اور جب وہ تحفہ گھر لے جائےتو لڑکوں سے پہلے لڑکیوں کو دے کیونکہ اپنی بیٹی کو خوش کرنے والا ایسا ہے جس نے بنی اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کیا۔ اور جو شخص بیٹے کو گفٹ دے کر اسے خوش کر دے تو گویا وہ خوف خدا سے رویا اور جو شخص خوف خدا سے روئے تو خدا اسے جنت کی نعمتوں میں داخل فرمائے گا ۔



بازار اور گوشت کی خریداری

امام سجاد علیه السلام نے فرمایا :

لِان اَدخُلُ السُّوقَ وَ مَعِی دِرهَمٌ اَبتاعُ بِهِ لَحماً لِعِیالِی وَ قَد قرمُوا إلَیهِ أحَبُّ إلَیَّ مِن أن اَعتِق نَسَمَةً [10]

میرےنزدیک بازار جا کر اپنے گھر والوں کے لیے ایک درہم کا گوشت خریدنا، جو گوشت کی خواہش رکھتے ہیں، غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔



سوغات مت بھولیں

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

اِذا سافَرَ اَحَدُکُم فَقَدِمَ مِن سَفَرِهِ فَلیَأتِ اَهلَهُ بِما تَیَسَّرَ [11]

جب بھی تم میں سے کوئی سفر پر جائے توواپسی پر اپنے گھر والوں کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق تحائف لے کر آئے۔



کیا آپ اس کے لیے میک اپ کرتے ہیں؟

امام باقر علیه السلام نے فرمایا :

النِّسآءُ یُحبِبنَ اَن یَرَینَ الرَّجُلَ فِی مِثلِ ما یُحِبُّ الرَّجُلُ اَن یَرَی فِیهِ النِّسآءَ مِنَ الزِّینَةِ [12]

جس طرح مرد اپنی عورتوں میں زینت اور میک اپ دیکھنا پسند کرتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی اپنے مردوں میں زیب و زینت دیکھنا پسند کرتی ہیں۔



گھر کو گرم رکھیں

امام رضا علیه السلام نے فرمایا :

بَنبَغِی لِلمُؤمِنِ اَن یَنقُصَ مِن قُوتِ عِیالِهِ فِی الشِّتآءِ وَ یَزِیدَ فِی وقُودِهِم [13]

مومن کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ سردیوں میں اپنے اہل و عیال کے اخراجات کو کم کرے اور ان کے سردی سے بچنے کا سازوسامان خریدے ۔



عید بیاہ پر فیملی کو خوش رکھنا

راوی کہتا ہے میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: عورت کا خاوند پر کیا حق ہے؟

تو حضرت نے فرمایا:

وَ لاتَکُونُ فاکِهَةٌ عامَّةٌ اِلّا اَطعَمَ عِیالَهُ مِنها وَ لایَدَعُ اَن یَکُونَ لِلعِیدِ عِندَهُم فَضلٌ فِی الطَّعامِ وَ اَن یسنی لَهُم فِی ذلِکَ شَیءٌ ما لَم یسن لَهُم فِی سآئِرِ الاَیّامِ ۔ [14]

ہر وہ پھل جسے تمام لوگ کھائیں، مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کو کھلائے اور عید کے دنوں میں عام روٹین سے اضافی اہتمام کرے، اور وہ چیزیں مہیا کرے جو عام دنوں میں نہیں دیتا تھا۔



تہمت اور بدگمانی کبھی نہیں

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

لا تَقذِفُوا نِسآءَکُم فَاِنَّ فِی قَذفِهِنَّ ندامَةً طَوِیلَةً وَ عُقُوبَةً شَدِیدَةً [15]

اپنی بیویوں پر تہمت مت لگائیں ، کیونکہ ایسا کرنے سے (تمہارے لیے) طویل پشیمانی اور سخت عذاب ہو گا۔



خدا کرے آپ آئیں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

هَلَکَ بِذِی المُرُوَّةِ اَن یَبِیتَ الرَّجُلُ عَن مَنزِلِهِ بِالمِصرِ الَّذِی فِیهِ اَهلُهُ [16]

یہ مرد کی جوان مردی سے بعید ہے کہ وہ اسی شہر میں ہو جہاں اس کی فیملی ہے اور وہ فیملی کو چھوڑ کر کہیں اور جا سوئے۔



گھر میں داخل ہونے کے آداب

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

یُسَلِّمُ الرَّجُلُ اِذا دَخَلَ عَلی اَهلِهِ وَ اِذا دَخَلَ یَضرِبُ بِنَعلَیهِ وَ یَتَنَحنَحُ یَصنَعُ ذلِکَ حَتَّی یُؤذِنهُم اَنَّهُ قَد جآءَ حَتَّی لا یَرَی شَیئاً یَکرَهُهُ [17]

جب آدمی اپنے گھر والوں سے ملے تو اسے سلام کرنا چاہیے اور جب گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو اپنے جوتوں کی آواز سے اور کھانستے ہوئے اطلاع دے، تاکہ اسے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئے جو اسے ناگوار گزرے۔



بیوی کے پاس بیٹھنا

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

جُلُوسُ المَرءِ عِندَ عِیالِهِ اَحَبُّ اِلَی اللهِ تَعالی مِن اعتِکافٍ فِی مَسجِدِی هذا [18]

ایک آدمی کا اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا اللہ کو میری اس مسجد میں اعتکاف بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔



کبھی اس کے منہ میں نوالہ دیا ہے؟

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اِنَّ الرَّجُلَ لَیُؤجَرُ فِی رَفعِ اللُّقمَةِ اِلی فِیِّ اِمرَاَتِهِ [19]

مرد کو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے کا ثواب ملتا ہے۔



نہ تھپڑ ماریں اور نہ چیخیں چلائیں!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر پر عورت کے حق کے بارے میں فرمایا:

حَقُّکِ عَلَیهِ اَن یُطعِمُکِ مِمّا یَأکُلُ وَ یَکسُوکِ مِمّا یَلبَسُ وَ لایَلطِمُ وَ لایَصِیحُ فِی وَجهِکِ [20]

تیرےشوہر پر تیرا حق یہ ہے کہ وہ جو کھائے اس میں سے تجھے بھی کھلائے، اور جو پہنتا ہے اس سے تجھے بھی پہنائے ، اور نہ تھپڑ مارے اور نہ چیخے چلائے۔



عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ اخلاق

اطاعت کا زیور گردن میں ڈالے

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اِنَّ لِلرَّجُلِ حَقّاً عَلَی امرَأَتِهِ اِذا دَعاها تُرضِیهِ وَ اِذا أمَرَها [21] لاتَعصِیهِ وَ لاتُجاوِبهُ بِالخلافِ و لاتُخالِفهُ [22]

مرد کا اپنی بیوی پر حق ہے کہ اگر وہ اسے پکارے تو جواب دے اور جب وہ اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے۔



باران عشق و محبت

امام رضا علیه السلام نے فرمایا :

اِعلَم اَنَّ النِّسآءَ شَتّی فَمِنهُنَّ الغَنِیمَة وَالغَرامَة وَ هِیَ المُتَحَبِّبَةُ لِزَوجِها وَالعاشِقَةُ لَهُ ...[23]

جان لو کہ عورتوں کی مختلف قسمیں ہیں، ان میں سے بعض بہت قیمتی سرمایہ اور انعام ہیں اور یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے شوہروں سے محبت کرتی ہیں اور ان سے عشق کرتی ہیں ۔



رضایت و شفاعت

امام باقر علیه السلام نے فرمایا:

لا شَفِیعَ لِلمَرأةِ أنجَحُ عِندَ رَبِّها مِن رِضا زَوجِها [24]

عورت کے لیے اس کے رب کے ہاں کوئی سفارشی اس کے شوہر کی رضا سے زیادہ فائدہ مند نہیں۔



پیار کی خوشبو

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

لِلرَّجُلِ عَلَی المَرأةِ أن تَلزِمَ بَیتَهُ وَتُوَدِّدَهُ وَتُحِبَّهُ وَتُشفِقَهُ وَتَجتَنِبَ سَخَطَهُ وَتَتَبَّعَ مَرضاتَهُ وَتُوفِیَ بِعَهدِهِ وَوَعدِهِ [25]

عورت پر مرد کا حق یہ ہے کہ عورت مرد کا گھر سنبھالے ، اپنے شوہر سے دوستی، محبت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرے، اس کے غصے سے بچے، اور وہ کرے جو اسے پسند ہو، اور اس کے عہد اور وعدے کی وفادار ہو۔



امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

أیُّمَا امرَأَةٍ قالَت لِزَوجِها: ما رَأَیتُ قَطُّ مِن وَجهِکَ خَیراً فَقَد حَبِطَ عَمَلُها [26]

اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے کہے: میں نے تم سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی تو اس کے کام کا سارا اجر ضائع ہو جائے گا۔



بہترین بیویاں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

خَیرُ نِسائِکُم اَلوَدُودُ الوَلُودُ المُؤاتِیَةُ وَ شَرُّها اللَّجُوجُ [27]

تمہاری عورتوں میں سب سے اچھی عورت وہ ہے جو محبت کرنے والی، بچہ پیدا کرنے والی اور موافقت کرنے والی ہو اور سب سے بری عورت وہ ہے جوضد کرنے والی ہو۔



شوہر کو کبھی ناراض نہ کریں۔

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

طُوبَی لِاِمرَأةٍ رَضِیَ عَنها زَوجُها [28]

خوش نصیب ہے وہ عورت جس کا شوہر اس سے خوش ہو۔



تکلیف نہ دیں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

مَن کانَ لَهُ اِمرأَةٌ تُؤذِیهِ لَم یَقبَلِ اللهُ صَلاتَها وَلا حَسَنَةً مِن عَمَلِها حَتّی تُعِینَهُ وَتُرضِیَهُ وَاِن صامَتِ الدَّهرَ وَقامَت وَاَعتَقَتِ الرِّقابَ وَاَنفَقَتِ الاَموالَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَکانَت اَوَّل مَن تَرِدُ النّارَ ثُمَّ قالَ: وَعَلَی الرَّجُلِ مِثلَ ذلِکَ الوِزرُ وَالعَذابُ اِذا کانَ لَها مُؤذِیاً ظالِماً [29]

جس شخص کی بیوی ایسی ہو جو اسے تکلیف پہنچاتی ہو، اللہ تعالیٰ اس عورت کی دعائیں اور نیکیاں اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ مرد کی مدد نہ کرے اور اسے راضی نہ کرے، خواہ یہ عورت ساری عمر روزے رکھے اور نماز پڑھے اورغلام آزاد کرے ۔یہ عورت جہنم کی آگ میں داخل ہونے والی پہلی ہوگی ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مرد پر بھی اتنا ہی گناہ اور سزا ہے اگر وہ اپنی بیوی کو تکلیف دے اور اس پر ظلم کرے۔



تم اسے اداس کیسے دیکھ سکتے ہو؟

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

سَعِیدةٌ سَعِیدَةٌ اِمرَأَةٌ تُکرِمُ زَوجَها وَلا تُؤذِیهِ وَتُطِیعُهُ فِی جَمِیعِ اَحوالِهِ [30]

مبارک ہے وہ عورت جو اپنے شوہر کی عزت کرتی ہے اور اسے نقصان نہیں پہنچاتی اور ہمیشہ اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے۔



معقول ممکن توقعات

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

لا یَحِلُّ لِلمَرأَةِ اَن تُکَلِّفَ زَوجَها فَوقَ طاقَتِهِ [31]

عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کو اس کی استطاعت سے زیادہ کرنے پر مجبور کرے۔



مہمان، شوہر کی اجازت سے

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اَیُّهَا النّاسُ اِنَّ لِنِسآئِکُم عَلَیکُم حَقّاً وَلَکُم عَلَیهِنَّ حَقّاً حَقُّکُم عَلَیهِنَّ [اَن] لا یُدخِلنَ اَحَداً تَکرَهُونَهُ بُیُوتَکُم اِلاّ بِاِذنِکُم [32]

لوگو! تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے اور تمہارا بھی ان پر حق ہے۔ ان پر آپ کا حق یہ ہے کہ آپ جس کے آنے سے راضی نہیں انہیں اپنے گھر میں داخل نہ ہونے دے۔



خوش آمدیدبھی کہیں اور رخصت بھی کریں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

جاءَ رَجُلٌ اِلی رَسُولِ اللهِ (ص) فَقالَ: اِنَّ زَوجَةً لِی اِذا دَخَلتُ تَلَقَّتنِی وَ اِذا خَرَجتُ شَیَّعَتنِی وَ اِذا رَأَتنِی مَهمُوماَ قالَت لِی: وَ مایُهِمُّکَ؟ اِن کُنتَ تَهتَمُّ لِرِزقِکَ فَقَد تَکَفَّلَ لَکَ بِهِ غَیرُکَ، وَ اِن کُنتَ تَهتَمّ لِاَمرِ آخِرَتِکَ فَزادَکَ اللهُ هَمَّاً. فَقالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله علیه و آله: اِنَّ لِلّهِ عُمّالاً وَ هذِهِ مِن عُمّالِهِ لَها نِصفُ أَجرِ الشَّهِیدِ [33]

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری ایک بیوی ہے جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو وہ مجھے سلام کرتی ہے اور جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو وہ مجھے خدا حافظ کہتی ہے اور جب مجھے پریشان دیکھتی ہےتو کہتی ہے: اگر آپ رزق کے لیے پریشان ہیں تو جان لیں کہ اللہ نے اس کا وعدہ لیا ہے اور اگر آپ اپنی آخرت کے لیے پریشان ہیں تو اللہ آپ کو مزید توفیق دے [اور آخرت کے بارے میں مزید سوچیں] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:ان لله عمالا و هذه من عماله لها نصف اجر الشهید۔ (زمین پر)خدا کے نمائندے ہیں اور یہ عورت خدا کے نمائندوں میں سے ہے جس کا اجر شہید کے نصف اجر کے برابر ہے ۔



ایسے کاموں میں مدد

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اَیُّمَا امرَأَةٍ اَعانَت زَوجَها عَلَی الحَجِّ وَالجهادِ اَو طَلَبِ العِلمِ اَعطاهَا اللهُ مِنَ الثَّوابِ ما یُعطَی امرَاَةُ اَیُّوبَ علیه السلام [34]

جو عورت حج، جہاد اور حصول علم میں اپنے شوہر کی مدد کرے گی، اللہ تعالیٰ اسے بھی وہی اجر دے گا جو حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی کو دیا تھا۔



بهشت خدا میں ایک شہر

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

ما مِن اِمرَأَةٍ تَسقِی زَوجَها شَربَةً مِن مآءٍ اِلّا کانَ خَیراً لَها مِن عِبادَةِ سَنَةٍ صِیامٌ نَهارُها وَقِیامٌ لَیلُها وَ یَبنِی اللهُ لَها بِکُلِّ شَربَةٍ تَسقِی زَوجَها مَدِینَةً فِی الجَنَّةِ وغَفَرَ لَها سِتِّینَ خَطِیئَةً [35]

جو عورت اپنے شوہر کو پانی پلائے وہ اس کے لیے سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے ایسی عبادت کہ دنوں میں روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کرے۔ اور اس کا شوہر جتنا پانی پیتا ہے اس کے بدلے خدا اسے جنت میں ایک شہر بنائے گا اور اس کے ساٹھ گناہ معاف کر دے گا۔



شریک حیات کی نفسیاتی حفاظت کو یقینی بنانا

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

حَقُّ الرَّجُلِ عَلَی المَراة اِنارَةُ السِّراجِ وَاِصلاحُ الطَّعامِ وَاَن تَستَقبِلَهُ عِندَ بابِ بَیتِها فَتُرَحِّبَ وَاَن تُقَدِّمَ اِلَیهِ الطَّستَ وَالمِندِیلَ وَاَن تُوَضِّئَهُ وَاَن لاتَمنَعَهُ نَفسَهآ اِلّا مِن عِلَّةٍ [36]

عورت پر مرد کا حق یہ ہے کہ وہ اس کے گھر کو روشن کرے، اچھا کھانا بنائے اورمرد جب باہر سے آئے تو اسے دروازے پر جا کر سلام کرے۔ اور اس کے لیے پانی کا ایک برتن اور ایک تولیہ لا کر اس کے ہاتھ دھلائے ۔ اور شوہر کو بلاوجہ اپنے سے نہ روکے۔



خدا کی رحمت ان خواتین پر

امام صادق علیه السلام ،پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم سے روایت کرتے ہیں :

اَیُّمَا امرَأَةٍ دَفَعَت مِن بَیتِ زَوجِها شَیئاً مِن مَوضِعٍ اِلی مَوضِعٍ تُرِیدُ بِهِ صَلاحاً نَظَرَ اللهُ اِلَیها وَمَن نَظَرَ اللهُ اِلَیهِ لَم یُعَذِّبهُ

جو عورت اپنے شوہر کے گھر کو منظم کرنے کے لیے اور بہتر کرنے کیلئے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتی ہے، خداوند متعال اس پر رحمت کی نظر کرے گا اور جس پر خدا نظر کرم کرتا ہے اسے سزا نہیں دیتا۔



اچھی خوشبو ، خوبصورت لباس، بہترین زیور

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا:

عَلَیها اَن تُطَیِّبَ بِاَطیَبَ طِیبِها وَتَلبِسَ احسَنَ ثِیابِها وَتَزَیَّنَ بِاحسَنِ زِینَتِها [37]

عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے بہترین خوشبو لگائے ، خوبصورت کپڑے پہنے، اور خوبصورت زیورات کا استعمال کرے۔



مثالی بیوی

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

خَیرُ نِسآئِکُم الطَیِّبَةُ الرِّیحُ الطَیِّبَةُ الطَبِیخُ الَّتِی اِذا اَنفَقَت اَنفَقَتْ بِمَعرُوفٍ وَاِن اَمسَکَتْ اَمسَکَت بِمَعرُوفٍ فَتِلکَ عامِلٌ مِن عُمّالِ اللهِ وَ عامِلُ اللهِ لایَخِیبُ وَلایَندُمُ [38]

آپ کی بہترین خواتین وہ ہیں جو اچھی خوشبو لگائیں، بہترین کھانا پکانے کی مہارت رکھتی ہوں اور جب خرچ کریں تو صحیح خرچ کریں اور جب خرچ نہ کریں توبھی صحیح خرچ نہ کریں ۔ ایسی عورت خدا کے نمائندوں میں سے ہے اور خدا کے نمائندے نہ مایوس ہوتے ہیں اور نہ ہی پشیمان ہوتے ہیں



پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اِنَّ مِن خَیرِ نِسآئِکُم . . . المُتَبَرِّجَةُ مِن زَوجِها الحِصانُ عَن غَیرِهِ [39]

تمہاری عورتوں میں سب سے بہتر وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے لیکن دوسروں سے اپنے آپ کو چھپاتی ہے۔



امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

خَیرُ نِسائِکُمُ الَّتِی اِن اُعطِیَتْ شَکَرَتْ وَاِن مُنِعَتْ رَضِیَتْ [40]

تمہاری عورتوں میں سے بہترین عورت وہ ہے جو کچھ ملنےپر شکر گزار ہو اور نہ ملنے پر راضی ہو۔



وما علینا الا البلاغ المبین













[1] ۔ بحار الانوار، ج 103، ص 228

[2] ۔ همان، ج 103، ص 227

[3] ۔ مکارم الاخلاق، ص 218

[4] ۔ همان، ص 216

[5] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 250

[6] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 10

[7] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 243

[8] ۔ بحارالانوار، ج 104، ص 72

[9] ۔ وسائل الشیعة، ج 15، ص 227

[10] ۔ همان، ج 15، ص 251

[11] ۔ همان، ج 8، ص 337

[12] ۔ مکارم الاخلاق، ص 80

[13] ۔ وسائل الشیعة، ج 15، ص 249

[14] ۔ همان، ج 15، ص 227

[15] ۔ بحارالانوار، ج 103، ص 249

[16] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 122

[17] ۔ بحارالانوار، ج 76، ص 11

[18] ۔ میزان الحکمة، ج 4، ص 287

[19] ۔ المحجة البیضاء، ج 3، ص 70

[20] ۔ مکارم الاخلاق، ص 218

[21] ۔ البتہ شوہر کا حکم اسلام کے منافی نہ ہو

[22] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 243

[23] ۔ همان، ج 14، ص 161

[24] ۔ سفینة البحار، ج 1، ص 561

[25] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 244

[26] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 115

[27] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 162

[28] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 155

[29] ۔ همان، ج 14، ص 116

[30] ۔ بحارالانوار، ج 103، ص 252

[31] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 242

[32] ۔ بحارالانوار، ج 76، ص 348

[33] ۔ وسائل الشیعه، ج 14، ص 17

[34] ۔ همان، ص 201

[35] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 123

[36] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 254

[37] ۔ وسائل الشیعة، ج 15، ص 175

[38] ۔ الکافی، ج 5، ص 508 .

[39] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 15

[40] ۔ بحارالانوار، ج 103، ص 235

     انسان اور اس کی وابستگیاں


انسان اور اس کی وابستگیاں

ایک ایرانی فلاسفر آقائے دینانی کا جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ «انسان ہونا سب سے بڑی ذمہ داری ہے»۔ ہم قبل اس کے کہ کوئی دوسرا عنوان اپنے ساتھ لگائیں، ایک انسان ہیں۔
ہم انسان پیدا ہوتے ہیں۔ فکر، ثقافت اور سیاست اس سے اگلا مرحلہ ہے۔
یوں انسان ہونے کے ناطے فردی اور سماجی سطح پر زندگی جینے کے بنیادی اصول، اور طریقے سیکھنا ہمارا فرض ہے۔
ان بنیادی طریقوں میں ایک یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برابر کا انسان سمجھیں، انہیں جینے کا پورا حق دیں، انہیں مکمل احترام دیں۔

ہم جس نبی (ع) کے «امتی» ہیں وہ «انسان کامل» تھے۔ یعنی ان کی انسانیت اعلی درجے کی تھی، پھر اس اخلاقی و انسانی کمال کی بنیاد پر انہیں نبوت و امامت کا منصب بھی ملا۔

ہمارے سماج کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم کسی بھی طرز فکر سے وابستہ ہوجاتے ہیں تو اس میں اتنی حد تک شدت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان کے بنیادی حقوق پر بھی کمپرومائز (سودا)کر لیتے ہیں۔

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ ہمارے لبرلز، ملحد، مذہبی، انقلابی، اصلاحی، محافظہ کار، دائیں طرف والے، بائیں طرف والے سب اس روئیے میں برابرنظر آتے ہیں۔

عام طور پر اہل مذہب کو انسان ہونے کا سبق دیا جاتا ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ اہل مذہب سب سے زیادہ اس لائق ہیں کہ وہ اجتماعی اخلاقیات کا پاس رکھیں۔

لیکن سماجی اخلاقیات کا پاس نہ رکھنے میں صرف مذہبی پرچارک طبقہ ہی نہیں بلکہ سماج کے تمام چھوٹے بڑے افراد اور طبقات برابر کے شریک ہیں۔

سب ہی ایک دوسرے کے بنیادی حقوق کی پامالی میں کوئی کسر نہیں اٹھاتے۔ گویا اخلاقیات کی پاسداری تو انسان کی بنیادی ذمہ داریوں سے نکل چکی ہے۔

آج ہمارے ادارہ جات، تعلیمی و تربیتی نظآم، ریاستی و غیر ریاستی اداروں کے عہدہ داران، سب کو ایک دوسرے کو برابر احترام دینے کا اصول سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہمیں گھریلو ماحول میں بچپن ہی سے برابر احترام کی فضا درکار ہے۔
ہمارے خاندانی اقدار میں بچوں کو بڑوں کے جیسا برابر احترام درکار ہے۔
شاگرد کو استاد کی طرف سے احترام درکار ہے۔ سب سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کے ملازمین کی طرف سے عام آدمی کو احترام درکار ہے۔
ہمارے مذہبی مکاتب فکر کو ایک دوسرے سے احترام درکار ہے۔
ہمارے اقلیتی گروہوں کو اکثریت سے احترام درکار ہے۔
احترام کا مطلب حرمت کی پاسداری ہے۔ جس میں جان، مال اور عزت کی پاسداری شامل ہے۔ صرف زبانی مٹھاس تو منافقت بھی ہو سکتی ہے۔

حرمت اور شرافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بڑپن اور بزرگواری کی شروعات اعلی سے ادنی ، بڑے سے چھوٹے اور طاقتور سے کمزور کی جانب ہوتی ہیں۔

ہمیں واحد نصاب (single curriculum)سے بھی زیادہ ایک مربوط تربیتی نظام کی ضرورت ہے جو پورے ملک میں سب علمی و تربیتی مراکز میں رائج کیا جائے۔

جب یہ احترام کی فضا بنے گی تو پھر ہم مذہبی یا سیکولر اقدار پرکھلے ذہن سے بات کر سکتے ہیں۔
اس وقت یہ بات بھی کی جا سکتی ہے کہ کونسا نظریہ انقلاب کے لیے زیادہ کارآمد ہے؟
کس نظریئے میں اصلاح کی طاقت زیادہ ہے؟ کس مکتبہ فکر کے پاس کتنے کچھ مثبت نکات ہیں؟ کونسا مکتبہ فکر اسلام کی ترجمانی میں کہاں پر کھڑا ہے؟
یہ تب ہوگا جب ہم انسان ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ (منقول)

مختصر تعارف گلستان زہراء

(تعارف، اہداف ،کارکردگی اور آینده پروگراموں کا ایک مختصر جائزہ)

گلستان زہراء،ایک خالص دینی،علمی اورتبلیغی پلیٹ فارم ہے کہ جس کی تشکیل کا مقصد مومنین و مومنات خصوصاً نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت انجام دینا ہے۔ایسی تربیت کہ جس کی بنیاد علم اور تقویٰ پر ہو۔اور جس کی عمارت محکم دلیلوں پر قائم ہو۔اور آج کی نسل جدید ،اسلامی تعلیمات کو اس کے اصلی اور حقیقی منابع سے ،بغیر کسی ملاوٹ اور تحریف کے،حاصل کر سکے۔اور دین مبین اسلام کے خلاف ہونے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر سکیں، تاکہ آج کی نئی نسل اس آیت کا مصداق بن سکے

كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ۔ (العمران ،۱۱۰)

تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

اہداف اور مقاصد

1. اسلامی معارف و مبانی کی تعلیم و ترویج کےلیے تعلیم اور تبلیغ کے میدان میں ایک منظم تحریک شروع کرنا ۔

2. احیاء عزاداری سید الشہدا اور مقصد قیام امام حسین علیہ السلام ۔

3. خرافات، بدعات اور انحرافات سے پاک معتبر اسلامی معارف کی ترویج ۔

4. مومنین کو صحیح اعتقادات کے مبانی اور معارف سے آگاہ کرنا ۔

5. فکری اور ثقافتی انحرافات کا مقابلہ کرنے کےلیے صحیح اسلامی تعلیمات کی ترویج اور اصلاح معاشرہ کےلیے اقدامات۔

7. ایسے نوجوانوں کی تحقیق کے میدان میں رہنمائی و حوصلہ افزائی جو صحیح اسلامی نقطہ نظر کو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں ۔

8. جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنا ۔

9. طلباء و طالبات کے درمیان مختلف موضوعات کے علمی مقابلوں کا انعقاد ۔

10. ، اسلامی دروس اور لیکچرز کی ریکارڈنگ اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی نشر و اشاعت۔

فعالیت

1۔جامعہ مسجد امام علی علیہ السلام ، جس میں نماز پنجگاہ کے علاوہ ، دعا و مناجات اور ہر روز کا درس اخلاق اور نماز جمعہ کا مرکزی اجتماع شامل ہیں ۔

2۔قدیمی امام بارگاہ جس میں عشرہ محرم کے علاوہ مختلف مناسبات کی سالانہ مجالس عزاء برپا ہوتی ہیں ۔

3۔ فلٹر پلانٹ ، جس سے ہر روز اہل علاقہ مستفید ہوتے ہیں ۔

4 ۔ قرآن و دینیات سینٹر

5 ۔ عید الاضحی کے موقع پر اجتماعی قربانی کا اہتمام

6 ۔ ماہ مبارک رمضان میں تقسیم راشن و عیدی

7 ۔ مختلف دینی موضوعات پر علمی و تربیتی مقابلوں کا انعقاد

8۔ گلستان زہراء یوٹیوب چینل کا قیام

9۔فیس بک پر ایک علمی اورتبلیغی پیج کا قیام کہ جس پر ہر روز آیات قرآنیہ،احادیث معصومین، ؑ معتبر تاریخی واقعات،اور اخلاق پر مبنی پوسٹس ۔

10۔واٹس ایپ پر مومنین کرام کی علمی اور فکری تربیت اور اخلاقی ارتقاء کے پیش نظر گروپ کا قیام،کہ جس میں ہر روز بلا ناغہ روایات معتبرہ، اخلاقی واقعات،مختلف مناسبتوں کے حوالے سے پوسٹس شئیر کی جاتی ہیں۔

11۔ مختلف مقامات پر ،تعطیلات کے ایام میں ورکشاپس کا انعقاد اور کالج اور یونیورسٹی کے طلاب کے لیے مختصر ایام میں معارف دینی سے آشنائی کا بہترین موقع۔کہ جس میں نوجوانان ملت کی علمی،فکری اور اخلاقی تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔

12 ۔ ضرورت مندوں کی حاجت روائی۔

گلستان زہراء ، کپورو والی ، سیالکوٹ

رابطہ: 03006151465 - 03192437646

اسلام میں شجر کاری کی اہمیت






اسلام میں شجر کاری کی اہمیت

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو - سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر



تحریر:اسد عباس اسدی

مقدمہ

اسلام مکمل ضابطۂ حیات اور دینِ فطرت ہے۔ قرآن مجید کا بنیادی موضوع انسان ہے۔ اللہ نے انسان کو غور و فکر اور تدبّر سے کام لینے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام رُوحانیت کا سرچشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہماری مادّی فلاح اور بدنی صحت کے لئے بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہم اخلاقی و رُوحانی اور سیاسی و معاشی زندگی میں عروج حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی سطح پر صحت و توانائی کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ دینی تعلیمات اور جدید علمی تحقیقات کی روشنی میں فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی جو اہمیت اور افادیت بیان ہوئی ہے اس کی رُو سے جب ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور بحیثیت قوم بھی فطرت کے زریں اُصولوں سے متصادم ہیں ،حالانکہ فطرت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ گرد و پیش کے ماحول کے بارے میں فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے صاف رکھا جائے اور اس میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو روکا جائے۔ ماحول سے مراد انسان کا اِردگرد کا ماحول ہے۔ ہم جہاں رہتے ہیں، یہ کچھ چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ ہمارے گھر کے ساتھ دُوسرے گھر ہیں۔ راستے، کھیت، پہاڑ، میدان، فضا، دریا، ڈیم اور سمندر۔ یہ سب چیزیں مل کر ماحول تشکیل دیتی ہیں۔ اس ماحول میں جب کوئی خرابی آ جائے تو ہم اسے آلودگی کا نام دیتے ہیں۔ ماحول کو محفوظ رکھنا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے، ایک صحت مند ماحول ہی میں صحت مند معاشرہ فروغ پا سکتا ہے۔ ماحولیاتی صفائی کا اسلامی تصور اس لحاظ سے دیگر تصورات سے مختلف ہے کہ اس تصور میں ہماری زندگی کے تمام اجزاء شامل ہیں۔

اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو صفائی اور پاکیزگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہمیں اس وقت آلودگی اور فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماحول میں بگاڑ آلودگی کا سبب ہے۔ اس کے لئے آج کے دور میں حفظانِ صحت و ماحولیاتی تحفظ کے لئے شجرکاری ضروری ہوگئی ہے۔ اگر درخت لگائیں گے تو وہ پوری انسانیت ہی نہیں، بلکہ تمام ذی رُوح کو اس سے فائدہ پہنچے گا، درخت انسان کے دوست ہیں۔

اسلام نے جہاں دُنیا کے دُوسرے مسائل اور چیلنجز کا حل اور تجزیہ پیش کیا، وہیں اس نے درختوں کی اہمیت و افادیت اور ضرورت و احتیاج کو بھی اپنی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا ہے، چناںچہ قرآن میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اُگائی۔ (سورۃ الحجر)

اللہ کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں درختوں کو کاٹنے کی واضح ممانعت آئی ہے حتیٰ کہ حالت جنگ میں بھی درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے تاآنکہ وہ دشمن کے لیے فائدہ مند نہ ہو جائیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان فوجوں کو اس بات کی ہدایت تھی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہ کریں ۔

موجودہ سائنس شجرکاری کی جس اہمیت و افادیت کی تحقیق کر رہی ہے، قرآن و احادیث نے چودہ سو سال قبل ہی آگاہ کر دیا تھا۔ قرآن کریم میں مختلف حوالے سے شجر (درخت) کا ذکر آیا ہے۔

احادیث مبارکہ میں شجرکاری کے حوالے سے صریح ہدایات موجود ہیں۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے حالتِ جنگ میں بھی درختوں کے کاٹنے کو ممنوع قرار دیا ہے۔ شجرکاری نا صرف سنتِ رسولؐ ہے، بلکہ ماحول کو خوبصورت اور دلکش بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

قرآن کریم میں درختوں کا ذکر

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر اور مختلف انداز میں درختوں کا ذکر فرما کر انسانوں کو درختوں کی اہمیت اور ان کی ضرورت کی طرف متوجہ کیا ہے ، ہم یہاں بطور مثال ان آیات کو ذکر کرتے ہیں کہ جن میں درخت اور درخت کاری کو ذکر کیا گیا ہے

آیت نمبر ۱

اور ہم نے کہا کہ اے آدم علیہ السّلام ! اب تم اپنی زوجہ کے ساتھ جنّت میں ساکن ہوجاؤ اور جہاں چاہو آرام سے کھاؤ صرف اس درخت کے قریب نہ جانا کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے [1]۔

آیت نمبر ۲

خدا ہی وہ ہے جو گٹھلی اور دانے کا شگافتہ کرنے والا ہے وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔ یہی تمہارا خدا ہے تو تم کدھر بہکے جارہے ہو[2] ۔

آیت نمبر ۳

اور اے آدم علیہ السّلام تم اور تمہاری زوجہ دونوں جنّت میں داخل ہوجاؤ اور جہاں جو چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا کہ ظلم کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے [3]۔

پھر شیطان نے ان دونوں میں وسوسہ پیدا کرایا کہ جن شرم کے مقامات کو چھپا رکھا ہے وہ نمایاں ہوجائیں اور کہنے لگا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ تم فرشتے ہوجاؤ گے یا تم ہمیشہ رہنے والو میں سے ہوجاؤ گے ۔[4]

آیت نمبر ۴

اور جب ہم نے کہہ دیا کہ آپ کا پروردگار تمام لوگوں کے حالات سے باخبر ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے اور ہم لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں لیکن ان کی سرکشی بڑھتی ہی جارہی ہے[5]۔

آیت نمبر ۵

اور انہیں دو شخصوں کی مثال سنا دو ان دونوں میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ تیار کیے اور ان کے گرد کھجوریں لگائیں اوران دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگا رکھی تھی[6]۔

آیت نمبر ۶

پھر اسے دردِ زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا، کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی[7]۔

آیت نمبر ۷

پھر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشگی کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں ضعف نہ آئے[8]۔

پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہوگئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا[9] ۔

آیت نمبر ۸

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چارپائے اور بہت سے آدمی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے، اور جسے اللہ ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، بے شک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے[10]۔

آیت نمبر ۹

پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ اگا دیے، جن میں تمہارے بہت سے میوے ہیں اور انہی میں سے کھاتے ہو[11]۔

اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے جو کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اگتا ہے[12]۔

آیت نمبر ۱۰

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہے، قندیل گویا کہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، روشنی پر روشنی ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے[13]۔

آیت نمبر۱۱

بھلا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے رونق والے باغ اگائے، تمہارا کام نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے، کیا اللہ تعالٰی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے، بلکہ یہ لوگ کج روی کر رہے ہیں[14]۔

آیت نمبر ۱۲

پھر جب اس کے پاس پہنچا تو میدان کے داہنے کنارے سے برکت والی جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ جہان کا رب ہوں[15]۔

آیت نمبر ۱۳

اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ سب قلم ہوجائیں اور دریا سیاہی اس کے بعد اس دریا میں سات اور دریا سیاہی کے آ ملیں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں، بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے[16]۔

آیت نمبر ۱۴

وہ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار چلتی رہی (اگر تو موجود ہوتا)، اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا کہ گھری ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں[17]۔

آیت نمبر ۱۵

انجیر اور زیتون کی قسم ہے[18]۔

آیت نمبر ۱۶

کیا یہ اچھی مہمانی ہے یا تھوہر کا درخت[19]۔

بے شک وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ میں اگتا[20] ہے۔

آیت نمبر ۱۷

بے شک تھوہر کا درخت[21]۔

آیت نمبر ۱۸

بے شک اللہ مسلمانوں سے راضی ہوا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے پھر اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اس نے ان پر اطمینان نازل کر دیا اور انہیں جلد ہی فتح دے دی[22]۔

آیت نمبر ۱۹

اس میں میوے اور غلافوں والی کھجوریں ہیں[23]۔

اور بھوسے دار اناج اور پھول خوشبو دار ہیں[24]۔

جن میں بہت سی شاخیں ہوں گی[25]۔

آیت نمبر ۲۰

(مسلمانو!) تم نے جو کھجور کا پیڑ کاٹ ڈالا یا اس کو اس کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے[26]۔

احادیث میں درختوں کا ذکر

اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شجر کاری کی جتنی اہمیت قرآن کریم نے ذکر کی ہے اس سے کہیں زیادہ شجر کاری کی اہمیت اور اس کے فائدے احادیث میں ذکر ہوئے ہیں خصوصا آئمہ اہل بیت نے شجر کاری کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے ، بطور نمونہ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔

حدیث نمبر 1

رسول اللہﷺ نے فرمایا : جو شخص پودا لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی انسان یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی مخلوق کھاتی ہے تو وہ اس (پودا لگانے والے) کے لئے صدقہ ہوتا ہے[27]۔

حدیث نمبر 2

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالرحمن بن مبارک نے بیان کیا ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے مسلم نے بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، اور ان سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے[28]۔

حدیث نمبر 3

حضور اکرمﷺ نے فرمایا : جس کے پاس زمین ہو، اسے اس میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ اس میں خود کاشت نہ کرسکتا ہو، تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے، تاکہ وہ اس میں کاشت کرسکے[29]۔

حدیث نمبر 4

حضوراکرمﷺ نے فرمایا : اگر قیامت برپا ہورہی ہو، اور تمہیں درخت لگانے کی نیکی کا موقعہ مل جائے، تو فوراً نیکی کر ڈالو[30] ،

حدیث نمبر 5

آپ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی باڑی کرے اور اس میں پرندے، انسان اور جانور کھا لیں تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے[31]۔

حدیث نمبر 6

آپﷺ نے فرمایا: جومسلمان بھی پودا لگائے گا، اور اس سے کچھ کھالیاجائے گا، وہ اس کے لئے صدقہ ہوجائے گا اور جو چوری کرلیاجائے، وہ قیامت تک کے لئے اس کے لئے صدقہ ہوجائے گا[32]۔

حدیث نمبر 7

جو مسلمان پودا لگائے گا یا کھیتی کرے گا اور اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایہ کھالے گا، وہ اس کے لئے صدقہ بن جائے گا[33]۔

حدیث نمبر 8

جو شخص پودا لگائے گا، اس کے لئے اس پودے سے نکلنے والے پھل کے بقدر ثواب لکھاجائے گا[34]۔

حدیث نمبر9

جو کسی بیری کے درخت کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ جہنم میں اس کے سر کو اوندھا کردے گا[35]۔

حدیث نمبر 10

سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لعنت کا سبب بننے والی تین جگہوں سے بچو (۱) پانی کے گھاٹ پر پاخانہ کرنے سے (۲) راستہ میں پاخانہ کرنے سے (۳) سایہ دارجگہوں میں پاخانہ کرنے سے[36]۔

حدیث نمبر 11

رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جو بھی ایک درخت لگائے گا جب تک لوگ اس سے استفاہ کرتے رہیں گے لگانے والے کو اسکا ثواب ملتا رہے گا [37]۔

حدیث نمبر 12

امام صادق (ع) نے فرمایا : خداوند متعال نے اپنے انبیا ءاور رسولوں کے لیے شجر کاری کا کام انتخاب کیا تاکہ لوگ بارش سے نا خوش نا ہوں بلکہ باران رحمت کے منتظر رہیں [38]۔

حدیث نمبر 13

حضرت علی بن الحسین (ع) نے فرمایا : شجر کاری بہترین اعمال میں سے ہے درخت لگائیں ،زراعت کریں تاکہ اس سے خدا کے بندے ، چرند اور پرند استفادہ کریں [39]۔

حدیث نمبر 14

امام صادق (ع) نے فرمایا : درخت لگاؤ اور زراعت کرو خدا کی قسم لوگوں کے کاموں میں سے اس سے زیادہ پاکیزہ اور حلال تر کوئی دوسرا عمل نہیں ہے [40]۔

حدیث نمبر 15

امام صادق (ع) نے فرمایا: پھل دار درختوں کو مت کاٹیں ایسا نہ ہو کہ خدا کا عذاب تم پر نازل ہوجائے [41]۔

حدیث نمبر16

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی گھر بنائے بغیر کسی پر ظلم و زیادتی کیے اور اس میں درخت لگایے تو جب تک بندگان خدا اس سے مستفید ہوتے رہیں گے اسکے نامہ اعمال میں ثواب درج ہوتا رہے گا [42]۔

حدیث نمبر 17

رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں : کوئی بھی اسوقت تک درخت نہیں لگا سکتا جب تک کہ خداوند متعال اس کے نامہ اعمال میں اس کا اجر و ثواب لکھ نہ دیے[43] ۔

حدیث نمبر 18

رسول اکرم (ص)نے فرمایا : جو مسلمان بھی درخت اگاتا ہے یا زراعت کرتا ہے تو اسکا ثواب خدا کی راہ میں صدقیہ دینے جتنا ہے [44]۔

حدیث نمبر 19

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا : جو کوئی بھی درخت لگاتا ہے تو اسکو اس درخت پر لگنے والے پھلوں کے برابر اجرو ثواب ملتا ہے [45]۔

حدیث نمبر 20

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی درخت لگائے اور پھر اس کے جوان ہونے تک اسکی دیکھ بھال کرے یہاں تک کہ اس درخت پر پھل لگنے لگیں تو جو جو اس درخت سے یا اس کے پھل سے استفادہ کرے گا خداوند متعا ل لگانے والے کے نامہ اعمال میں صدقہ کا ثواب لکھ دے گا [46]۔

حدیث نمبر 21

امام صادق (ع) نے فرمایا : میں اپنے باغوں میں اتنی محنت کرتا ہوں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتا ہوں حالانکہ کام کرنے والے موجود ہوتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں خدا کی بارگاہ میں خود محنت و زحمت کر کے رزق حلال طلب کروں [47] ۔

حدیث نمبر 22

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی بھی کجھور یا بیری کے درخت کو پانی دے گا گویا اس نے ایک پیاسے کو پانی پلایا [48]۔

حدیث نمبر 23

امام باقر (ع) امیرالمومنین سے نقل کرتے ہیں : جس شخص کے پاس زمین اور پانی موجود ہو اور وہ کاشت کاری نہ کرے اور فقیر ہو جایے تو خداوند متعال ایسے شخص کو اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے [49]۔

حدیث نمبر 24

امام صادق (ع) نے فرمایا : درخت انسان کیلیے خلق کیے گئے ہیں پس انسان کی ذمہ داری ہے کہ درخت لگائے اور ان کو پانی دے اور ان کی حفاظت کرے [50]۔

حدیث نمبر 25

رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں : یا علی ! آپ کے ہوتے ہوے کاشتکاروں پر ظلم نہیں ہونا چاہیے اور ان کی زمین سے مالیات بھی نہیں لینی چاہیں[51] ۔

حدیث نمبر 26

امام سجاد (ع) فرماتے ہیں : میں ذخیرہ اندوزی کیلئے کاشت نہیں کرتا بلکہ اس لیے کاشتکاری کرتا ہوں تاکہ اس سے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری ہو[52] ۔

حدیث نمبر 27

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خدا نے جب رزق کو خلق فرمایا تو برکت کو کاشتکاری میں قرار دیا [53]۔

حدیث نمبر 28

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں : جان لو کہ پہاڑوں اور بیابانوں میں اگنے والے درختوں کی لکڑیاں دوسرے درختوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتی ہے [54] ۔

حدیث نمبر 29

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رزق و روزی کو زمین کے سینے میں تلاش کریں [55]۔

حدیث نمبر 30

امام باقر (ع) نے فرمایا : ایک شخص نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ کھجور کی گٹھلیوں سے بھری بوری پر بیٹھے ہیں ، عرض کی مولا یہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا یہ ایک لاکھ کھجور کے درخت ہیں ، حضرت علی نے وہ سب گٹھلیاں کاشت کیں اور ایک بھی نہیں چھوڑی [56] ۔

حدیث نمبر 31

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سبزہ کی طرف دیکھنا آنکھوں کی تقویت کا باعث بنتا ہے [57]۔

حدیث نمبر 32

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دنیا فنا ہونے لگے اور قیامت ہونے والی ہو اور آپ کے پاس صرف ایک درخت لگانے جتنی فرصت ہو تو اس فرصت سے استفادہ کریں اور درخت لگا دیں [58]۔

درختوں کے فایدے

درختوں کے بے شمار فائدے ہیں قرآن و حدیث اور آج کی جدید سائنس نے درختوں کے بے شمار فائدے ذکر کئے ہیں درخت انسان کی زندگی کے لیئے جتنا ضروری ہے اس لحاظ سے درختوں کے فائدے ذکر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے لیکن ہم مختصرا کچھ فائدوں کو ذیل میں ذکر کرتے ہیں ۔

1 ۔درخت خوبصورتی کا سبب ہیں

طبیعت درختوں کے بغیر ممکن نہیں ، درختوں اور جنگلوں کا وجود انسان کی زندگی میں خوبصورتی اور زیبایی کا باعث بنتا ہے۔

2 ۔درخت زمین کی نبض اور مایہ حیات انسان و حیوان ہیں

درخت زہریلی گیسوں اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور انسان کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں ۔

3۔درختوں کے پتے حیوانوں اور بعض حشرات کو غذا فراہم کرتے ہیں اور درختوں پر لگنے والے پھل فروٹ انسانوں کو غذا فراہم کرتے ہیں اور انسانوں کو مختلف قسم کے وٹامن فراہم کرتے ہیں ۔

4۔درخت کی لکڑی انسان کی بہت ساری ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔

5۔درخت زمیں کی حفاظت کرتے ہیں اور زمین کو سیلاب کے نقصانات سے بچاتے ہیں ۔

6۔درخت موسموں کی تبدیلی میں بڑا عمل دخل رکھتے ہیں اور ہواؤں کو چلاتے ہیں ۔

7۔درختوں کا سایہ اور جڑیں ان جڑی بوٹیوں کو غذا فراہم کرتے ہیں جو جڑی بوٹیاں خود زمین کی گہرای سے غذا حاصل نہیں کر سکتے ۔

8 ۔موسم خزاں میں لوگ درختوں کے پتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہیں ۔

9 ۔بہت سارے درخت ایسے ہیں جو زمانہ قدیم سے علم طب میں استعمال ہوتے ہیں اور انسان کی طبی ضرورتیں پوری کرتے ہیں ۔

10۔ صوتی آلودگی میں کمی

کیا آپ جانتے ہیں درخت شور کی آلودگی میں بھی کمی کرتے ہیں؟ یہ کسی جگہ پر موجود پرشور آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں صرف درخت ہی نہیں بلکہ اس کی شاخیں اور پتے بھی یہ کام کرتے ہیں۔

11۔درخت انسان کو اچھی تفریح گاہ محیا کرتے ہیں ۔

12۔لینڈ سلائیڈنگ سے تحفظ

درخت کی جڑیں زمین کی مٹی کو روک کر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے زمین کا کٹاؤ یا لینڈ سلائیڈنگ نہیں ہونے پاتی۔

13۔درخت ہوا میں لطافت پیدا کرتے ہیں

14 ۔ درخت پانی کی گردش کا سبب بنتے ہیں

15۔ قحط سے بچاؤ

جس طرح درخت سیلابوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اسی طرح یہ قحط اور خشک سالی سے بھی بچاتے ہیں۔

16۔ سیلاب سے بچاؤ

جن علاقوں میں بڑی تعداد میں درخت موجود ہوتے ہیں اس علاقے کو سیلاب کا خطرہ بے حد کم ہوتا ہے۔

17۔درخت گرد و غبار کو جذب کر تے ہیں ۔

18 ۔درخت زمیں کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں ۔

19۔ لوگوں کی خوشگوار صحت

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس مقام پر زیادہ درخت موجود ہوتے ہیں وہاں کے لوگ زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔

20 ۔ درخت انسان کی اقتصاد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

درختوں کی موجودگی تناؤ اور ڈپریشن کو کم کرکے لوگوں کو ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے جبکہ درختوں کے درمیان رہنے سے ان کی تخلیقی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

نتیجہ

موجودہ دور میں جانداروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں اور پودوں کی بے جا کٹائی ہے۔ درخت جتنے زیادہ ہوں گے، ماحول اتنا ہی صاف ستھرا ہو گا۔ ہمارا مذہب اسلام بھی درختوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور درخت لگانے کو صدقہِ جاریہ قرار دیتا ہے۔ درخت نہ صرف سایہ دیتے ہیں بلکہ پھل اور جانوروں کے لیے چارہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ درخت آکسیجن خارج کرتے ہیں جس کے بغیر ہمارا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ درختوں سے قیمتی لکڑی اور ادویات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ درخت زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں اور زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں۔

درخت زمین کا زیور ہیں۔ درخت تیز آندھیوں کو روکتے ہیں اور بارش کا سبب بنتے ہیں۔ درختوں پر ریشم کے کیڑے پلتے ہیں جن سے قیمتی ریشم تیار ہوتا ہے۔ الغرض درخت زمین کا حسن اور ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر اس زمین اور اپنے ملک کو شاداب بنانا چاہیے۔





www.bri.com.pk





[1] سورۃ البقرہ آیت نمبر ۳۵،

وَ قُلْنَا يَا آدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَ کُلاَ مِنْهَا رَغَداً حَيْثُ شِئْتُمَا وَ لاَ تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ‌

[2] سورۃ الانعام آیت نمبر ۹۵

إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذٰلِکُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَکُونَ‌

[3] سورہ الاعراف آیت نمبر ۱۹،

وَ يَا آدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلاَ مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَ لاَ تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ‌

[4] سورہ الاعراف آیت نمبر ۲۰

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَا مَلَکَيْنِ أَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ

[5] سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۶۰

وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي القُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ طُغْيَانًا كَبِيرًا

[6] سورۃ الکھف آیت نمبر ۳۲،

وَاضْرِبْ لَـهُـمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّـتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَّّجَعَلْنَا بَيْنَـهُمَا زَرْعًا

[7] سورۃ مریم آیت نمبر ۲۳

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَـةِۚ قَالَتْ يَا لَيْتَنِىْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا

[8] سورۃ طہ آیت نمبر ۱۲۰،

فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَآ اٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْـدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى

[9] سورۃ طہ آیت نمبر ،۱۲۱

فَاَكَلَا مِنْـهَا فَبَدَتْ لَـهُمَا سَوْاٰتُـهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْـهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّـةِ ۚ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٝ فَغَوٰى



[10] سورۃ الحج آیت نمبر ۱۸

اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ يَسْجُدُ لَـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيْـرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيْـرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَنْ يُّهِنِ اللّـٰهُ فَمَا لَـهٝ مِنْ مُّكْرِمٍ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ

[11] سورۃ المومنون آیت نمبر ۱۹

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنَّاتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّّاَعْنَابٍۘ لَّكُمْ فِيْـهَا فَوَاكِهُ كَثِيْـرَةٌ وَّّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ

[12] سورۃ المومنون آیت نمبر ،۲۰

وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَـآءَ تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْـغٍ لِّلْاٰكِلِـيْـنَ

[13] سورۃ النور آیت نمبر ۳۵،

اَللّهُ نُـوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُـوْرِهٖ كَمِشْكَاةٍ فِيْـهَا مِصْبَاحٌ ۖ اَلْمِصْبَاحُ فِىْ زُجَاجَةٍ ۖ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّـهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُـوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ يَكَادُ زَيْتُـهَا يُضِيٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّوْرٌ عَلٰى نُـوْرٍ ۗ يَـهْدِى اللّـٰهُ لِنُـوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَيَضْرِبُ اللّـٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ

[14] سورۃ النمل آیت نمبر ،۶۰

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ مَّا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْبِتُـوْا شَجَرَهَا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ بَلْ هُـمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ

[15] سورۃ القصص آیت نمبر ۳۰

فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِى الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يَّا مُوْسٰٓى اِنِّـىٓ اَنَا اللّـٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ

[16] سورۃ االقمٰن آیت نمبر ۲۷

وَلَوْ اَنَّمَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّّالْبَحْرُ يَمُدُّهٝ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللّـٰهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ

[17] سورۃ الحاقہ ایت نمبر ۷،

سَخَّرَهَا عَلَيْـهِـمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّّثَمَانِيَةَ اَيَّامٍۙ حُسُوْمًا فَتَـرَى الْقَوْمَ فِيْـهَا صَرْعٰى كَاَنَّـهُـمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ

[18] سورۃ التین آیت نمبر ۱

وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ

[19] سورۃ الصفٰت آیت نمبر ۶۲

اَذٰلِكَ خَيْـرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ

[20] سورۃ الصفٰت آیت نمبر ،۶۴

اِنَّـهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىٓ اَصْلِ الْجَحِـيْمِ

[21] سورۃ الدخان آیت نمبر ۴۳

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّـوْمِ

[22] سورۃ الفتح آیت نمبر ۱۸،

لَّـقَدْ رَضِىَ اللّـٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَـعَلِمَ مَا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ فَاَنْزَلَ السَّكِـيْنَةَ عَلَيْـهِـمْ وَاَثَابَـهُـمْ فَتْحًا قَرِيْبًا

[23] سورۃ الرحمن آیت نمبر ،۱۱،

فِـيْـهَا فَاكِهَةٌ وَّّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ

[24] سورۃ الرحمن آیت نمبر ،۱۲

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ

[25] سورۃ الرحمن آیت نمبر ،۴۸

ذَوَاتَـآ اَفْنَانٍ

[26] سورۃ الحشر آیت نمبر ۵

مَا قَطَعْتُـمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَـرَكْـتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰٓى اُصُوْلِـهَا فَبِاِذْنِ اللّـٰهِ وَلِيُخْزِىَ الْفَاسِقِيْنَ

[27] مسند احمد

[28] بخاری

[29] صحیح مسلم

[30] مسند احمد

[31] صحیح بخاری

[32] (صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۵۵۱)

[33] بخاری شریف حدیث نمبر ۰۲۳۲، ۲۱۰۶

[34] مسند احمد، حدیث نمبر۰۲۵۳۲

[35] سنن ابی داؤد، حدیث نمبر ۹۳۲۵

[36] سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۶۲

[37] نهج الفصاحه صفحه 597

[38] وسائل الشیعه جلد 12 ، میزان الحکمه جلد 4 صفحه 214 نقل از وسایل جلد 12 صفحه 192

[39] الحیاة صفحه 345

الحیاة صفحه 345 [40]

[41] میزان الحکمه حدیث شماره 1955

[42] جلد 5 الحیاة نقل از مستدرک الوسائل جلد 2 صفحه 501

[43] کنزالعمال جلد 3 صفحه 896

[44] مستدرک الوسائل جلد 13 صفحه 46

[45] نهج الفصاحه

[46] میزان الحکمه حدیث شماره 9143

[47] وسائل الشیعه جلد 12

[48] کتاب الحیاة جلد 5 صفحه 344 ، وسائل الشیعه جلد 12 صفحه 25

[49] وسائل الشیعه جلد 4 ، جلد 4 صفحه 213 میزان الحکمه نقل از بحارالانوار جلد 103 صفحه 65 قرب الاسناد صفحه 55

[50] الحیاة جلد 5 صفحه 347 ، بحارالانوار جلد 3 صفحه 82و83

[51] وسائل جلد 13 صفحه 216

[52] کتاب الحیاة جلد 5 صفحه 347 ۔

[53] کنزل العمال جلد 4 صفحه 32 ۔

[54] نهج البلاغه

[55] کنزالعمال جلد 4 صفحه 21

[56] وسائل الشیعه جلد 6 صفحه 25

[57] نهج الفصاحه

[58] مستدرک الوسائل جلد 2 صفحه 501 ، الحیاة جلد 5 صفحه 344

یکم مئی ، مزدور ڈے

یکم مئی
مزدور ڈے

بوجھ کندھوں سے کم کرو صاحب
فقط دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا

یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے، یہ دن منانے کا مقصد مزدوروں، محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل کرنے کیلئے آواز اٹھانا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا دن منایا جا رہا ہے، مزدور جو سب کی سنتا ہے لیکن اس کی سننے والا کوئی نہیں، یکم مئی کو ہر سال کی طرح یوم مزدور تو منایا جا رہا ہے لیکن محنت کش آج بھی روزی کمانے کا وسیلہ ڈھونڈے گا، دیہاڑی لگی تو کھائے گا ورنہ فاقہ اس کی صحت پر گراں نہیں گزرتا۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات


♦️ مزدور اور مزدوری کے بارے چند روایات

✍️ پيغمبر اکرم صلى‏ الله ‏عليه‏ و‏ آله وسلم
طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَة
زرق حلال کمانے کیلئے محنت مزدوری کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر واجب ہے
📚 جامع الاخبار (شعیری) ص ۱۳۹

✍️ حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم
الْعِبَادَةُ عَشَرَةُ أَجْزَاءٍ تِسْعَةُ أَجْزَاءٍ فِي طَلَبِ الْحَلَال
عبادت کے 10 حصے ہیں ان میں سے 9 حصے رزق و روزی کی تلاش میں محنت مزدوری کرنے میں ہیں
📚 مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل ج‏۱۳، ص

✍️ امام جعفر صادق علیہ السلام
ترك التجاره ينقص العقل
محنت مزدوری کا ترک کرنا ، عقل کو کم کر دیتا ہے
📚 کافی (ط-الاسلامیه) ج ۵ ، ص ۱۴۸ ، ح ۱

✍️ امام جعفر صادق علیه السلام
مَنْ طَلَبَ التِّجَارَةَ اسْتَغْنَى عَنِ النَّاس
جو کوئی کاروبار کرتا ہے وہ لوگوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
📚 کافی (ط-الاسلامیه) ج ۵ ، ص ۱۴۸ ، ح ۳

✍️ امام جعفر صادق علیه السلام
الْكَادُّ عَلَى عِيَالِهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّه
جو شخص اپنے گھر والوں کے رزق کیلئے محنت مزدوری کرتا ہے وہ اس جنگجو کی طرح ہے جو راہ خدا میں لڑتا ہے۔

📚 کافی (ط-الاسلامیه) ج ۵ ، ص ۸۸ ، ح ۱

انصاف کو کیسے عام کریں

انصاف کو کیسے عام کریں

اللہ تعالی نے انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد عدل و قسط کا قیام قرار دیا ہے۔
قرآن کریم کے مطابق رسولوں کے بھیجے جانے کا ایک ہدف یہ تھا لِيَقُومَ النّٰاسُ بِالْقِسْطِ‌
تاکہ لوگ خود انصاف کے تقاضے پورے کریں (سورہ حدید ، آیہ۲۵)۔

صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ص نے فرمایا:
إِنَّ الْمُقْسِطِينَ، عِنْدَ اللَّهِ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ. عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَ جَلَّ. وَ كِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ؛ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَ أَهْلِيهِمْ وَ مَا وَلُوا ۔ (صحيح مسلم ؛حدیث١٨٢٧)
بیشک انصاف کرنے والے لوگ الله کے ہاں نور کے منبروں پر جلوہ فگن ہونگے اللہ کے دائیں جانب اور اللہ کے ہاں دائیں بائیں کا فرق نہیں ہے(کیونکہ وہ جسم و جسمانیت سے پاک ہے)، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جس چیز پر انہیں سرپرستی دی گئی عدل و انصاف سے کام لیا۔ (مفہوم)

اب سوال یہ ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کیسے عام ہوگا؟

عدل ہر چیز کو اس کا اصل مقام دینے کا نام ہے۔ یعنی عدل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو چیز جہاں پر موجود ہے کیا وہیں رہنے لائق ہے یا اس کا مقام اس سے کم یا شاید اس سے بھی زیادہ ہے؟ کسی کو اس کے مقام سے نیچے لانا بھی عدل کے خلاف ہے، چنانچہ کسی کو اپنی شائستگی اور لیاقت سے اوپر لے جانا بھی عدل کے خلاف ہے۔
امام علی ع نے فرمایا:
العدل یضع الامور مواضعها
عدل ، امور کو اپنی واقعی جگہ پر رکھتا ہے۔ (نہج البلاغہ، حکمت429)

عدل و انصاف کے قیام کے لیے سب سے پہلی شرط اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ انصاف اپنی ذات سے شروع کریں۔ اپنی گفتار، رفتار ، سلوک اور رویوں میں انصاف رکھیں۔ تعصب، جانبداری اور ناحق موقف اپنانے سے یکسر پرہیز کو اپنا وتیرہ بنا لیں۔
دوسرا : شہداء للہ بنیں ۔
اپنی گواہی کو خالص کریں۔ گواہی صرف محکمے میں نہیں ہوتی۔ گواہی انسان کے مشاہدات کی لفظی شکل کا نام ہے۔ انسان جب اپنے مشاہدے کو حق کے اثبات میں لگا دیتا ہے تو شہداء للہ کا مصداق بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سنی سنائی کے بجائے مشاہدات پر تمرکز رکھنا اور مشاہدات میں دقیق ہونا ضروری ہے۔
مشاہدات سے حق کی تلاش اور پھر اسی حقیقت کا برملا اظہار چاہے وہ اپنے ہی مفادات کے خلاف ہو، عدل کا تقاضا ہے۔

تیسرا: ظلم کے خلاف حساس ہو جائیں۔ ہر ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ (و إنصاف كلّ مظلوم من ظالمه، و منع كلّ ظالم من ظلمه التفسير الكبير(الطبرانى) ج‏2 312)،
ظالم کا ساتھ کبھی نہ دیں۔ ہمیشہ مظلوم کے حق میں آواز اٹھائیں۔ (مجتهدين في إقامة العدل)، کشاف زمخشری، ج1، ص575‏
ظلم کی نوعیت کو سمجھیں اور ہمیشہ اس پر آواز اٹھائیں۔
یہ سب انفرادی درجات ہیں۔

اجتماعی سطح پر انصاف کو عام کرنے کے لیے کچھ تجاویز

بنیادی اصلاحات
سماجی عدل و انصاف کے لیے سماج کے اہم ترین نظامات کی اصلاح ضروری ہے۔
سماج میں انصاف کا پرچار تبھی ممکن ہے جب ملک کے اہم ترین ادارے عدل و انصاف کی بنیاد پر کھڑے ہونگے ۔ اداروں کاانسانی مساوات، برادری اور برابری پر قائم ہونا ضروری ہے۔
سرمایہ، قومیت، لسانیت، علاقائی تعصبات اس کی راہ میں اہم ترین رکاوٹیں ہیں۔

الف: سرمایہ
انسان مال و دولت اور ثروت کی بنیاد پر حق اور ناحق میں فرق بھلا دیتا ہے۔ اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔یہ رویہ سماج میں ناسور کی طرح پھیل چکا ہے۔ حکومتی ادارے سرمایہ کے نفوذ کو کم کرکے سرمایہ کے اثر و رسوخ کو کم کر سکتے ہیں۔حکومت کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ وہ کمزور انسان کو طاقتور کے چنگل سے نکال کر ان کا حق دلوائیں۔

ب: تعصبات
قومیت و لسانیت و مسلکیت جیسے عناصر انسانی تعصبات کو شہہ دیتے ہیں۔ اور انسانی مساوات کے سامنے رکاوٹ بنتے ہیں۔ سفارش کلچر کی ایک وجہ یہی تعصبات ہیں۔ اپنی پارٹی، اپنے مسلک اور اپنی ذات پات رشتہ داروں کو اداروں میں آگے لانے کی خواہش کتنے ہی با استعداد اور لائق انسانوں سے محروم کر دیتی ہے۔یہ ابتدائی اور غیرترقی یافتہ معاشروں کا کلچر تھا جو ہمارے سماج میں ابھی بھی رائج ہے۔
سفارش کلچر اور رشوت خوری دونوں انصاف کی راہ میں بہت بڑی دیوار ہیں۔ ان دیواروں کو مضبوط ارادوں اور شعوری بلندی کے بغیر نہیں گرایا جا سکتا۔ شفافیت سازی اس کا اہم ترین رکن ہے۔ معیار پر لوگ منتخب ہونگے تبھی معیار قائم ہوگا۔ ورنہ یہ باطل چرخہ تو چلتا رہے گا۔

2 ۔ درست قوانین :
قوانین کی اصلاح عدل و انصاف تک پہنچنے کی اہم سیڑھی ہے۔ ایسے قوانین جن سے معاشرے کے کمزور طبقات کا استحصال ہو رہا ہو، جہاں مظلوم کی فریاد نہ سنائی دے رہی ہو، جہاں انصاف ملتے ملتے عمریں گل سڑ جائیں، ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر بہتر قانون سازی انتہائی اہم قدم ہے۔
قوانین صاف شفاف، قابل عمل اور عدل و انصاف کی بنیاد پر وضع کیے جانے چاہییں۔

دوسرے ان قوانین کے نفاذ کا مصمم ارادہ موجود ہو۔ قوانین جتنے ہی اچھے ہوں، اگر انہیں نافذ العمل کرنے کی کوئی ترکیب نہ سوجھی جائے تو بیہودہ اور بے ثمر ہیں۔

3 ۔ اس کے لیے مضبوط سیاسی نظام ضروری ہے۔ جس میں اشرافیہ کلچر کا کوئی نام نشان نہ ہو، قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔ ایک روایت کے مطابق، رسول خدا( ص ) کے زمانے میں فاطمہ مخزومیہ نے چوری کر ڈالی، اسامہ بن زید نے سفارش کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا کہ گذشتہ اقوام اسی لیے برباد ہوئی ہیں کہ وہاں قانون صرف کمزور طبقات کے لیے تھا۔ خدا کی قسم اگر محمد(ص) کی بیٹی بھی جرم کرے گی تو سزا پائے گی۔ ( صحيح البخاري ؛ ج‏7 ؛ ص19)

امام علی ع نے اپنے دوران حکومت ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا :
_الذّلیل عندی عزیز حتی آخذ الحق له، والقوی عندی ضعیف حتی آخذ الحق منه_ (نہج البلاغہ،خطبہ37)
کمزور شخص میرے ہاں طاقتور ہے یہاں تک کے کہ اس کا حق لیکر اسے دوں اور طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں
یعنی معاشرے کا کمزور ترین فرد بھی ایک عادل حکمران پر بھاری ہے۔ کیونکہ وہ حقدار ہے اور حکمران کی ذمہ داری ہے کہ حق لیکر اسے دے۔ اور طاقتور کی طاقت ، اسلامی فلاحی ریاست کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
اگر اس نے کسی کا حق کھایا ہے تو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یہی وہ تعادل ہے جو اگر سماج میں برقرار ہو جائے تو عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

کبوتر بازی

گھر میں کبوتر رکھنا ؟

کبوتر ایک حلال گوشت پرندہ ہے. [1] کبوتر ، پالنا ان سرگرمیوں میں سے ایک ہے جو مختلف اقوام میں بہت مقبول ہے اور انسانی فطرت اس سے ہم آہنگ ہے. لیکن دینی ابحاث میں ، کبوتر پالنے اور کبوتر بازی میں بہت فرق ہے ، اور ان کا حکم بھی متفاوت ہے ۔ کبوتر‌ بازی میں کوئی حرج نہیں اگر دوسروں کیلئے پریشانی کا باعث نہ ہو البتہ اچھا کام بھی نہیں ہے .[2] روایات میں ذکر ہوا ہے کہ کبوتر پالنا مستحب ہے اور اس کے اثرات بھی ہیں. یہاں ہم ایسی روایات کو ذکر کریں گے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کے گھروں میں بھی کبوتر تھے۔

آئمه اطهار(علیہم السلام)کا کبوتر پالنا

1️⃣ ابو حمزه ثمالى کہتے ہیں : میرے پوتے کے چند کبوتر تھے میں نے غصے میں انہیں ذبح کر دیا. [کچھ عرصہ بعد] مکہ گیا قبل از طلوع آفتاب امام باقر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا . جب سورج طلوع ہوا ، تو بہت سارے کبوتر وہاں دیکھے، سوچا کہ امام سے کبوتر پالنے کے مسائل پوچھوں گا اور لکھوں گا ابھی سوچ رہا تھا کہ میں نے تو کبوتروں کو ذبح کر دیا تھا اگر کبوتر پالنے میں خیر نہ ہوتا تو امام علیہ السلام کیوں پالتے، امام(ع) نے فرمایا: « تم نے سارے کبوتر ذبح کر کے اچھا کام نہیں کیا۔۔۔»۔ [3]

2️⃣ عبد الکریم بن صالح کہتا ہے : میں امام صادق(ع) کے پاس گیا ، دیکھا کہ تین سرخ کبوتر امام کے بستر پر بیٹھے ہیں اور اپنے فضلہ سے بستر کو خراب کر رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی قربان جاؤں انہوں نے آپ کا بستر گندا کر دیا ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : «کعوئی مسئلہ نہیں ، بہتر ہے کہ گھر میں رہیں».[4]

3️⃣ محمّد بن کرامه کہتے ہیں: میں نے امام موسى بن جعفر(ع) کے گھر ایک جوڑا کبوتروں کا دیکھا جن کے پر سبز اور تھوڑے سرخ تھے ، امام ان کیلئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر رہے تھے. [5] اس کے علاؤہ بھی کبوتر پالنے کی تاکید موجود ہے ۔

4️⃣ زید شحام نقل کرتے ہیں: امام صادق(ع) کے سامنے کبوتروں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: « گھروں میں کبوتر رکھا کرو، اچھا ہوتا ہے».[6]

گھروں میں کبوتر پالنے کے اثرات روایات میں ذکر ہوئے ہیں بطور نمونہ چند یہ ہیں

شیاطین گھر سے دور رہتے ہیں

امام صادق(ع) نے فرمایا:

«کبوتر انبیاء کرام کے پرندوں میں سے ہیں جو وہ گھروں میں رکھتے تھے ، جس گھر میں کبوتر ہوں وہاں جن اہل خانہ کو نقصان نہیں پہنچاتے ؛ کیونکہ سفهاء جن گھر میں کبوتروں سے کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں اور اہل خانہ کو تنگ نہیں کرتے».[7] امام صادق(ع) سے ایک اور جگہ نقل ہوا ہے کبوتروں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے، شیاطین بھاگ جاتے ہیں .[8]

گھر کی حفاظت

امام صادق(ع) نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ یَدْفَعُ بِالْحَمَامِ عَنْ هَدَّةِ الدَّار»؛[9] خدا وند کبوتروں کے وسیلہ سے گھروں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے . منظور از «هَدَّةِ الدَّارِ» گھر کی تباہی کا معنی بھی اور گھر کے ضعیف افراد کو ضرر سے بچانا بھی ہے .[10]

رفع تنہائی

ایک شخص نے پیغمبر خدا (ص) سے تنہائی کے خوف کی شکایت کی. پیغمبر(ص) نے اسے فرمایا: «ایک جوڑا کبوتر لے لو ».[11]

امام صادق(ع) نے فرمایا:

«میرے ساتھ گھر میں کبوتر رکھو تاکہ میرے ہمدم بنیں» ۔[12]

حوالہ جات

[1]. امام خمینی، توضیح المسائل (محشّی)، گردآورنده، بنی‌هاشمی خمینی، سید محمدحسین، ج 2، ص 594، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ هشتم، 1424ق.

[2]. برای اطلاعات بیشتر ر.ک: 12685؛ حکم کبوتر بازی

[3]. عبد الله بن بسطام، حسین بن بسطام، طبّ الأئمة(ع)‏، محقق: خرسان، محمد مهدى‏، ص 111، قم‏، دار الشریف الرضی‏، چاپ دوم‏، 1411ق‏.

[4]. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق، غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج 6، ص 548، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ چهارم، 1407ق.

[5]. طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، ص 130، قم، شریف رضی، چاپ چهارم، 1412ق.

[6]. الکافی، ج ‏6، ص 547؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعة، ج 11، ص 517، قم، مؤسسه آل البیت(ع)، چاپ اول، 1409ق.

[7]. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 60، ص 93، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ق؛ شیخ حر عاملی، هدایة الأمة إلی أحکام الأئمة(ع)، ج 5، ص 127، مشهد، مجمع البحوث الإسلامیة، چاپ اول، 1414ق.

[8]. شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیه، محقق، غفاری، علی اکبر، ج 3، ص 350، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1413ق.

[9]. الکافی، ج ‏6، ص 547.

[10].بحار الأنوار، ج ‏62، ص 19.

[11]. مکارم الأخلاق، ص 129.

[12]. الکافی، ج ‏6، ص 548؛ فیض کاشانی، محمد محسن، الوافی، ج 20، ص 857، اصفهان، کتابخانه امام أمیر المؤمنین علی(ع)، چاپ اول، 1406ق.

امام حسن  علیہ السلام کی (10) دس اخلاقی خصوصیات

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی (10) دس اخلاقی خصوصیات


1️⃣ عبادت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ان کی معنوی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "امام مجتبیٰ علیہ السلام اپنے وقت کے سب سے زیادہ متقی انسان تھے۔ انہوں نے کئی حج پیدل کئے اور کبھی تو ننگے پاؤں حج کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ انہیں ہمیشہ ذکر کرتے دیکھا گیا اور جب بھی وہ آیہ قرآن «یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُو» کو سنتے تو جواب میں کہتے: «لَبَّیک اللَّهُمَّ لَبَّیک» (خدایا! تمہارے حکم کا مطیع ہوں و حاضر ہوں۔) [1]

امام علیہ السلام ہمیشہ اپنی نمازوں کے قنوت میں بہت زیادہ دعا کیا کرتے اور خدا کو اس طرح پکارا کرتے: "اے بے سہاروں کی پناہ ! عقلیں تمہیں درک کرنے سے عاجز ہیں اور علم و دانش تمہارے مقابلے میں ناتوان ہے ... بے شک تو سننے والا، جاننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خدایا! تو خود بہتر جانتا ہے کہ میں نے تب تک سعی کوشش کرنے سے ہار نہیں مانی جب تک میرے دم میں دم تھا۔ اس وقت ، میں نے اپنے بزرگوں کی اتباع کی (صبر کیا) تاکہ اس سرکش دشمن کا مقابلہ کر سکوں اور شیعوں کا خون بہنے سے روک سکوں۔ میرے لئے جہاں تک ممکن تھا میں نے اس چیز کا پاس رکھا کہ جسے میرے اولیاء اور بزرگان نے محفوظ رکھا تھا....تو حق کا واحد مددگار اور اس کا بہترین حامی ہے۔ اگرچہ اس مدد میں تاخیر بھی ہو جائے اور دشمن کی تباہی میں کچھ زیادہ وقت لگ جائے۔ »[2]

2️⃣ خوفِ خدا
جب بھی امام مجتبیٰ علیہ السلام وضو کیا کرتے تو خوفِ خدا سے ان کا پورا جسم کانپنے لگ جاتا اور ان کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا تو کہتے: "خدا کا بندہ جب بندگی کے لئے اس کی درگاہ میں جانا چاہے تو اسے اس کے لئے آمادہ ہو کر جانا چاہئے، اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جائے اور اس کے اعضاءِ بدن لرزنے چاہئیں۔" [3]
آپ علیہ السلام جب بھی نماز کے لئے مسجد جایا کرتے تو مسجد کے دروازے کے پاس کھڑے ہوکر درج ذیل دعا کو دہرایا کرتے:
«إِلَهِی ضَیفُک بِبَابِک یا مُحْسِنُ قَدْ أَتَاک الْمُسِی ءُ فَتَجَاوَزْ عَنْ قَبِیحِ مَا عِنْدِی بِجَمِیلِ مَا عِنْدَک یا کرِیم؛ [4] خدایا! تمہارا مہمان تمہارے پاس آیا ہے۔ اے محسن و نیکوکار! ایک بدکار تمہارے پاس آیا ہے۔ پس جو بدی اور گناہ میرے پاس ہیں انہیں اپنی خوبصورتی سے درگذر فرما دے، اے رحم کرنے والے! "
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
«کانَ إِذَا ذَکرَ الْمَوْتَ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْقَبْرَ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْبَعْثَ وَ النُّشُورَ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْمَمَرَّ عَلَی الصِّرَاطِ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْعَرْضَ عَلَی اللَّهِ تَعَالَی ذِکرُهُ شَهَقَ شَهْقَةً یغْشَی عَلَیهِ مِنْهَا وَ کانَ إِذَا قَامَ فِی صَلَاتِهِ تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُ بَینَ یدَی رَبِّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ کانَ إِذَا ذَکرَ الْجَنَّةَ وَ النَّارَ اضْطَرَبَ اضْطِرَابَ السَّلِیمِ وَ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَ تَعَوَّذَ بِهِ مِنَ النَّار؛[5]
"جب بھی امام حسن علیہ السلام موت کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتے۔ جب بھی قبر کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتے۔ جب بھی قیامت کو یاد کرتے تو نالہ و فریاد کرتے۔ جب بھی پل صراط سے عبور کرنے کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتے۔ جب بھی اپنے اعمال خدا کے سامنے پیش ہونے کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتےاور بےہوش ہو جایا کرتے۔ جب وہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے رب کے سامنے ان کا جسم کانپنے لگتا۔ جب بھی انہیں جنت اور دوزخ کی یاد آتی تو سانپ کے ڈسے شخص کی طرح مضطرب ہو جایا کرتے اور خدا سے جنت کو طلب کرتے اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے"۔
جب ان کے چہرے پر موت کے آثار نمودار ہوئے اور اطرافیوں نے انہیں روتے دیکھاتو انہوں نے پوچھا: "آپ کیوں رو رہے ہیں؟ جب کہ آپ کا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اعلیٰ مقام ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی شان میں کیسے عظیم الفاظ کہے ہیں۔ "آپ کہ جس نے بیس بار پیدل حج کئے اور تین بار اپنا سارا مال خدا کی راہ میں تقسیم کر دیا؟" تو انہوں نے جواب میں کہا: «إِنَّمَا أَبْکی لِخَصْلَتَینِ: لِهَوْلِ الْمُطَّلَعِ وَ فِرَاقِ الْأَحِبَّة؛[6] میرے رونے کے دو سبب ہیں: قیامت کا خوف اور اپنے دوستوں سے دوری"۔

3️⃣ قرآن سے ہم نشینی
امام حسن علیہ السلام خوبصورت آواز میں قرائت قرآن کیا کرتے تھے اور بچپن سے ہی علوم قرآن سے واقف تھے۔ ہمیشہ سونے سے پہلے سورۂ کہف کی تلاوت کرتے اور پھر سوتے۔ کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص سے "شاہد و مشہود کی تفسیر" پوچھی [7]؛ اس شخص نے جواب دیا: "شاہد روز جمعہ ہے اور مشہود روز عرفہ ہے"۔ اس نے ایک دوسرے آدمی سے پوچھا تو اس نے کہا: شاہد روز جمعہ ہے اور مشہود روز قربان ہے"۔ پھر وہ مسجد کے کونے میں بیٹھے ایک بچے کے پاس گیا۔ اس نے جواب دیا:

«أَمَّا الشَّاهِدُ فَمحمد (ص) وَ أَمَّا الْمَشْهُودُ فَیوْمُ الْقِیامَةِ أَمَا سَمِعْتَهُ سُبْحَانَهُ یقُولُ یا أَیهَا النَّبِی إِنَّا أَرْسَلْناک شاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذِیراً؛ [8]

"شاہد محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشہود روز قیامت ہے۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ خدا (اپنے رسول کے بارے میں )کہتا ہے: اے پیغمبر! ہم نے آپ کو گواہ ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے" ۔ نیز وہ قیامت کے بارے میں فرماتا ہے: «ذلِک یوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَ ذلِک یوْمٌ مَشْهُود»؛ [9] " یہ وہ دن ہے کہ جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور یہ "یوم مشہود" ہے۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ جواب دینے والا پہلا شخص کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابن عباس۔ میں نے پوچھا کہ دوسرا کون تھا؟۔ انہوں نے کہا: ابن عمر۔ پھر میں نے کہا کہ وہ بچہ کون تھا جس نے بہترین اور درست جواب دیا؟ کہنے لگے کہ وہ حسن بن علی ابن ابی طالب علیہما السلام تھے۔ [10]

4️⃣ مہربانی
خدا کے بندوں پر مہربانی ان کی اہم خصوصیت تھی۔ انس کہتے ہیں کہ ایک دن میں امام علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا۔ ان کی ایک کنیز ہاتھ میں پھول لئے داخل ہوئی اور اسے امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ امام علیہ السلام نے اس سے پھول لئے اور مہربانی سے کہا: "جاؤ تم آزاد ہو" میں جو امام علیہ السلام کے اس رویے سے حیران تھا، ان سے کہا: "اے فرزندِ رسول خدا! "اس کنیز نے تو صرف آپ کو پھولوں کا ایک گلدستہ پیش کیا اور آپ نے اسے آزاد کر دیا؟" امام علیہ السلام نے جواب دیا: "خداوندعظیم و مہربان نے ہم سے کہا ہے: «وَ إِذا حُییتُمْ بِتَحِیةٍ فَحَیوا بِأَحْسَنَ مِنْه»؛ [11]
"جس نے بھی تم پر مہربان کی اسے اس کا دو برابر اچھائی سے جواب دو"۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: "اس کی مہربانی کے بدلہ اس کی آزادی تھی۔[12]

5️⃣ عفو و درگذشت
امام علیہ السلام بہت زیادہ معاف کرنے والے اور عظیم انسان تھے اور ہمیشہ دوسروں کے ظلم و ستم سے چشم پوشی کیا کرتے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ دوسروں کی بدتمیزی کے بدلے میں ان کا رد عمل اس شخص کے رویہ میں تبدیلی کا باعث بنتا۔
ان کے پڑوس میں ایک یہودی خاندان رہتا تھا۔ ایک بار یہودی کے گھر کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی اور اس کے گھر سے نجاست امام علیہ السلام کے گھر تک آنے لگی۔ یہودی کو اس بات کا علم نہیں تھا یہاں تک کہ ایک دن اس یہودی کی بیوی امام علیہ السلام کے گھر کسی کام کے لئے آئی اور دیکھا کہ دیوار میں دراڑ پڑنے سے امام علیہ السلام کے گھر کی دیوار نجس ہو گئی ہے۔ وہ فورا اپنے شوہر کے پاس گئی اور اسے اطلاع دی۔ یہودی شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا اور اپنی غفلت پر معافی مانگی اور امام علیہ السلام کے اس دوران خاموش رہنے اور کچھ نہ کہنے پر انتہائی شرمندہ ہوا ۔

6️⃣ عاجزی
امام علیہ السلام اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح بغیر کسی تکبر کے زمین پر بیٹھا کرتے اور فقیر لوگوں کے ساتھ ہم سفرہ ہو جاتے۔ ایک دن آپ علیہ السلام گھوڑے پر سوار ایک محلے سے گزرے۔ دیکھا کہ کچھ فقیر لوگ زمین پر بیٹھے ہیں اور انہوں نےاپنے سامنے کچھ مقدار میں روٹی رکھی ہوئی ہے اور اسے کھا رہے ہیں۔ جب انہوں نے امام حسن علیہ السلام کو دیکھا تو انہوں نے ان کو بھی تعارف کیا اور انہیں اپنی سفرہ پر مدعو کیا۔ امام علیہ السلام اپنی سواری سے اترے اوراس آیت کی تلاوت کی: «إِنَّهُ لا یحِبُّ الْمُسْتَکبِرین»؛ "بے شک وہ متکبروں کو پسند نہیں کرتا"۔ (نحل / 23) پھر وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ کھانے لگے۔ جب وہ سب سیر ہو گئے تو امام علیہ السلام نے انہیں اپنے گھر مدعو کیا اور ان کی خوب خاطر مدارت ​​کی اور انہیں لباس دیا۔ [13]

7️⃣ مہمان نوازی
وہ ہمیشہ مہمانوں کو خوش آمد کہا کرتے۔ بعض اوقات وہ ایسے افراد کی پزیرائی کیا کرتے تھے جنہیں وہ جانتے تک بھی نہیں تھے۔ خاص طور پر امام علیہ السلام غریبوں کی پزیرائی اور انہیں اپنے گھر لے جانے کو بہت پسند کرتے اور ان کا گرمجوشی سے استقبال کرتے اور انہیں لباس اور مال عطا کرتے۔ [14]

8️⃣ رواداری و بردباری
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ایک مشکل ترین دور معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد کا دور تھا۔ آپ علیہ السلام نے ان برسوں کی سختیوں کو اپنے صبر و بردباری سے گزارا۔ ان برسوں میں آپ علیہ السلام کے بہت سے دوستوں نے آپ سے منہ موڑ لیا تھا۔ یہ وقت ان کے لئے واقعی بہت مشکل تھا۔ اس دوران امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کی توہین کرنا ہر ایک کا وطیرہ بن گیا تھا۔ جب بھی وہ امام علیہ السلام کو دیکھتے تو کہتے: «السَّلَامُ عَلَیک یا مُذِلَّ الْمُؤْمِنِین؛ [15] " اے مومنوں کی تذلیل و رسوائی کرنے والے تم پر سلام ہو"۔ لیکن اس کے باوجود آپ علیہ السلام بڑے صبر اور بردباری کے ساتھ ان کی یہ سب توہین برداشت کیا کرتے۔
یہ صبر اتنا عظیم تھا کہ امام علیہ السلام کے سخت ترین دشمن مروان ابن حکیم نے بھی غمزدہ حالت میں آپ علیہ السلام کے جنازے میں شرکت کی اور ان لوگوں کے جواب میں جو اسے کہتے کہ تم کل تک تو امام کے دشمن تھے، اس نے کہا: "یہ وہ تھا جس کا صبر و بردباری پہاڑوں سے بھی پرکھی نہیں جا سکتی"۔ [16]

9️⃣ بخشش اور دوسروں کی ضروریات کو پورا کرنا
حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی سب سے نمایاں خصوصیت کہ جو ان کے چاہنے والوں کے لئے بہترین نمونہ بھی ہے، ان کا سخی و کریم ہونا اور دوسروں کی مدد کرنا ہے۔ وہ ہمیشہ مختلف بہانوں سے سب کو اپنی کرامت سے فائدہ پہنچایا کرتے اور اتنی بخشش کیا کرتے کہ ضرورت مند شخص بے نیاز ہو جاتا۔چونکہ تعلیمات اسلام کے مطابق بخشش اس طرح ہونی چاہئے تاکہ گداگری کو معاشرے سے ختم کیا جا سکے۔
ایک دن آپ علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہے اور خدا سے کہہ رہا ہے: "خدایا! مجھے ایک ہزار درہم عطا کر۔ امام علیہ السلام گھر آئے اور دس ہزار درہم اسے بھجوا دئے"۔ [17]

امام حسن علیہ السلام کسی سائل کو اپنے سے دور نہیں کیا کرتے اور کبھی کسی ضرورت مند کو "نہ" نہیں کہتے تھے۔
ایک شخص آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہے اور خدا سے کہہ رہا ہے: "خدایا! مجھے ایک ہزار درہم عطا کر۔ امام علیہ السلام گھر آئے اور دس ہزار درہم اسے بھجوا دیئے"۔ [17]

🔟 شجاعت
شجاعت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی پائیدار میراث تھی اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اسے وراثت میں پایا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے امام مجتبیٰ علیہ السلام کو ابتدائی عمر سے ہی تلوار بازی اور عسکری مہارتیں سکھائیں اور انہیں ہمیشہ سچ کی حمایت کرنا سکھائی۔

جب جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام نے محمد بن حنفیہ کو حضرت عائشہ کے شتر کو نحر کرنے بھیجا اور وہ شتر کے اطرافیون کی وجہ سے ناتوان لوٹے تو امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو بھیجا جو تھوڑی ہی دیر بعد کامیابی سے واپس لوٹے جب کہ ان کی تلوار سے ابھی خون ٹپک رہا تھا۔ یہ دیکھ کر محمد بن حنفیہ شرمندہ ہوئے تو امیرالمومنین علیہ السلام نے اسے فرمایا: "شرمندہ مت ہو چونکہ وہ فرزند پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور تم فرزند علی ہو"۔ [18]

امام مجتبیٰ علیہ السلام نے اس وقت کی دوسری جنگوں میں بھی حصہ لیا اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ معاویہ ان کی بہادری کے بارے میں کہتا ہے: وہ اس شخص کا فرزند ہے کہ جو جہاں بھی جاتا موت ہمیشہ اس کا پیچھا کرتی۔ (اس بات سے کنایہ تھا کہ وہ نڈر تھا اور موت سے نہیں ڈرتا تھا)۔ [19]

حوالہ جات
[۱] بحارالانوار، محمد باقر مجلسی، مؤسسة الرساله، بیروت، ۱۴۰۳ ق، ج ۴۳، ص ۳۳۱.
[۲] مهج الدعوات، سید بن طاووس، دار الذخائر، قم، ۱۴۱۱ ق، ص ۱۴۵.
[۳] مناقب آل ابیطالب، ابن شهرآشوب، دارالأضواء، بیروت، ۱۴۰۸ ق، ج ۴، ص ۱۴ و بحار الانوار، ج ۴۳، ص ۳۳۹.
[۴] مناقب ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۷ و بحارالانوار، ایضا.
[۵] بحارالانوار، ایضا.
[۶] ایضا، ص ۳۳۲.
[۷] بروج/ ۳.
[۸] احزاب/ ۴۵.
[۹] هود/ ۱۰۳.
[۱۰] بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۳۴۵.
[۱۱] نساء/ ۸۶.
[۱۲] مناقب، ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۸.
[۱۳]« وَ جَعَلَ یأْکُلُ حَتَّی اکْتَفَوْا دَعَاهُمْ إِلَی ضِیافَتِهِ وَ أَطْعَمَهُمْ وَ کَسَاهُمْ» بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۳۵۲.
[۱۴]مناقب، ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۶ و ۱۷.
[۱۵]بحارالانوار ، ج ۷۵، ص ۲۸۷.
[۱۶] زندگی دوازده امام، هاشم معروف الحسینی، امیر کبیر، تهران، ۱۳۷۳ ش، ج ۱، ص ۵۰۶.
[۱۷]مناقب، ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۷.
[۱۸]شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، دار الفکر، بیروت، بی تا، ج ۴، ۷۳.
[19] مقالات، ۲۸جلد، مجمع.

 روزہ کا فلسفہ اہلبیت (ع) کی نگاہ میں

روزہ کا فلسفہ اہلبیت (ع) کی نگاہ میں

روزہ مادی اور معنوی، جسمانی اور روحانی لحاظ سے بہت سارے فوائد کا حامل ہے۔ روزہ معدہ کو مختلف بیماریوں سے سالم اورمحفوظ رکھنے میں فوق العادہ تاثیر رکھتا ہے۔ روزہ جسم اور روح دونوں کو پاکیزہ کرتا ہے ۔

پیغمبر اکرم (ص) اور روزہ

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
المعدۃ بیت کل داء۔ والحمئۃ راس کل دواء (۱)۔

معدہ ہر مرض کا مرکز ہے اور پرہیز اور (ہر نامناسب غذا کھانے سے ) اجتناب ہر شفا کی اساس اور اصل ہے۔

اور نیز آپ نے فرمایا:
صوموا تصحوا، و سافروا تستغنوا۔

روزہ رکھو تا کہ صحت یاب رہو اور سفر کرو تاکہ مالدار ہو جاؤ۔

اس لیے سفر اور تجارتی مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانا اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں لیجانا، انسان کی اقتصادی حالت کو بہتر بناتا ہے اور اس کی مالی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔

حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا:
لکل شی ء زکاۃ و زکاۃ الابدان الصیام (۲)
ہر چیز کے لیے ایک زکات ہے اور جسم کی زکات روزہ ہے۔

حضرت علی (ع) اور روزہ

امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
و مجاهدة الصيام في الايام المفروضات ، تسكينا لاطرافهم و تخشيعا لابصارهم ، و تذليلا لنفوسهم و تخفيفا لقلوبهم ، و اذهابا للخيلاء عنهم و لما في ذلك من تعفير عتاق الوجوه بالتراب تواضعا و التصاق كرائم الجوارح بالارض تصاغرا و لحوق البطون بالمتون من الصيام تذللا.(3)

جن ایام میں روزہ واجب ہے ان میں سختی کو تحمل کر کے روزہ رکھنے سے بدن کے اعضاء کو آرام و سکون ملتا ہے۔ اور اس کی آنکھیں خاشع ہو جاتی ہیں اور نفس رام ہو جاتا ہے اور دل ہلکاہو جاتا ہے اور ان عبادتوں کے ذریعے خود پسندی ختم ہو جاتی ہے اور تواضع کے ساتھ اپنا چہرہ خاک پر رکھنے اور سجدے کی جگہوں کو زمین پر رکھنے سے غرور ٹوٹتا ہے۔ اور روزہ رکھنے سے شکم کمر سے لگ جاتے ہیں۔
1- : روزہ اخلاص کے لیے امتحان ہے۔
حضرت علی (ع) دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
و الصیام ابتلاء الاخلاص الخلق(۴)

روزہ لوگوں کے اخلاص کو پرکھنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
روزہ کے واجب ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ لوگوں کے اخلاص کا امتحان لیا جائے۔ چونکہ واقعی معنی میں عمل کے اندر اخلاص روزہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔
2 - روزہ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔

امام علی (ع) نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
صوم شھر رمضان فانہ جنۃ من العقاب(۵)
روزہ کے واجب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ روزہ عذاب الٰہی کے مقابلے میں ڈھال ہے اور گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے۔

امام رضا (ع) اور روزہ

جب امام رضا (ع) سے روزہ کے فلسفہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: بتحقیق لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ بھوک اور پیاس کی سختی کا مزہ چکھیں۔ اور اس کے بعد روز قیامت کی بھوک اور پیاس کا احساس کریں۔

جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے خطبہ شعبانیہ میں فرمایا:
واذکروا بجوعکم و عطشکم جوع یوم القیامۃ و عطشہ۔

اپنے روزہ کی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک و پیاس کو یاد کرو۔

یہ یاد دہانی انسان کو قیامت کے لیے آمادہ اور رضائے خدا کو حاصل کرنے کے لیے مزید جد و جہد کرنے پر تیار کرتی ہے۔(۷)

امام رضا (ع) دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
روزہ رکھنے کا سبب بھوک اور پیاس کی سختی کو درک کرنا ہے تاکہ انسان متواضع، متضرع اور صابر ہو جائے۔
اور اسی طرح سے روزہ کے ذریعے انسان میں انکساری اور شہوات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
"ہاں، روزہ سب سے افضل عبادت ہے۔ شریعت اسلامی اور احکام خداوندی نے شہوات کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے روزہ کو وسیلہ قرار دیا ہے اور نفس کو پاکیزہ بنانے اور بری صفات اور رذیلہ خصلتوں کو دور کرنے کے لیے روزہ کو واجب کیا ہے۔ البتہ روزہ رکھنے سے مراد صرف کھانے پینے کو ترک کرنا نہیں ہے۔ بلکہ روزہ یعنی کف النفس"نفس کو بچانا۔

جیسا کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

روزہ ہر انسان کے لیے سپر اور ڈھال ہے اس لیے روزہ دار کو چاہیے کہ بری بات منہ سے نہ نکالے اور بیہودہ کام انجام نہ دے۔
پس روزہ انسان کو انحرافات، لغزشوں اور شیطان کے فریبوں سے نجات دلاتاہے۔ اور اگر روزہ دار ان مراتب تک نہ پہنچ سکے تو گویا اس نے صرف بھوک اور پیاس کو برداشت کیا ہے اور یہ روزہ کا سب سے نچلا درجہ ہے۔
حوالہ جات
1- اركان اسلام ، ص 108 .
2- كافي ، ج 4 ، ص 62.
3- نهج البلاغه ، خطبه 192.
4- نهج البلاغه ، حكمت 252.
5- نهج البلاغه ، خطبه 110.
6- وسائل الشيعه ، ج 7 ، ص 3.
7- وہی ، ص 4.
8- علل الشرايع ، شيخ صدوق ، باب الصوم

وحدت اسلامی کی اہمیت، سیرت امام   صادق  ‍‌‍‌ (ع)کی روشنی میں

وحدت اسلامی کی اہمیت، سیرت امام   صادق  ‍‌‍‌ (ع)کی روشنی میں

محمد عمار رضا اعوان

مقدمہ:

موجودہ زمانے میں جہان اسلامی،  عالمی سازشوں اور استعمار کے اوچھے ہتھکنڈوں کا شکار بن چکا ہے۔اور روز بروز اسلام دشمنی اور اسلام ہراسی کی کوششوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔اسلام دشمنی کے آزمودہ اور سب سے خطرناک ترین حربوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ اور فرقہ واریت کو ہوا دی جائے۔اور  مسلمانوں کے چند اختلافی مسائل کو آتشین اسلحہ کے طور پر استعمال کر کے اصل اسلام کو اس صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکے۔آج  اکثر مسلمان ممالک عموماً اور مملکت خداداد پاکستان خصوصاً فرقہ واریت اور عدم برداشت جیسی لعنت کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ان سازشوں اور دشمن کے بچھائے جالوں سے نبٹنےکا ایک ہی حل ہے کہ اسلامی وحدت،رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ ماہ مبارک ربیع الاول بمناسبت میلاد مبارک حضرت رسول اکرم محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم اور رئیس مذهب جعفریه حضرت امام جعفر ابن محمد الصادق علیه السلام ،جہاں تمام مسلمانوں کے لیے عموماً اور شیعیان حیدر قرار علیہ السلام  کے لیے خصوصاً ،خوشیوں اور مسرتوں کا پیام لے کر آتا ہے  وہاں یہی ماہ ہمارے لیے اتحاد اور اسلامی رواداری کا  بھترین نمونہ بھی بن سکتا ہے۔الحمدللہ انقلاب اسلامی ایران کی بےشمار فیوض و برکات  میں  سے ایک عظیم برکت یہی اتحاد بین المسلمین کی عملى کوشش ہے کہ جس کو منظم کرنے کے لیے ہر سال ١٢ربیع الاول سے لے کر ١٧ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت اسلامی منایا جاتا ہے،اور پوری دنیا سے تمام اسلامی فرقوں کے نمایندگان اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔لیکن اس عظیم مقصد اور ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یہ کوششیں اس وقت تک ثمر آور نہیں ہوں گی جب تک ایک ایک مسلمان اپنے دل و جان سے اس نیک مقصد کے حصول کی کوشش نہ کرے۔وحدت اسلامی کے خواب کی تعبیر کے لیے سب سے بھترین حل یہ ہے کہ امت اسلامی کے مشترکات سے تمسک کیا جائے کہ جن میں سے سب سے عظیم القدر قرآن مجید ہے اور پھر سنت پیامبر اسلام اور سیرہ اہلبیت علیہم السلام۔انھی مشترکہ مقدسات میں سے ایک عظیم شخصیت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہے،کہ جو تمام اسلامی فرقوں میں انتہائی اہمیت اور شان و مرتبت کے حامل ہیں،کہ جو نا صرف مکتب تشیع کے موسس ہیں بلکہ ہمارے برادران اسلامی کے موسسین اور  ائمہ کے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔اس موضوع پر بحمد اللہ تمام اسلامی فرقوں کے علماء نے سیر حاصل ابحاث فرمائی ہیں۔اور مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں ۔جیسے کتاب الامام الصادق و مذاہب اربعہ(جو اس موضوع پر واقعی بھترین کتاب ہے) تقبل اللہ سعیھم الجمیلہ۔یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ جس میں پہلے تو وحدت اسلامی کی ضرورت اور اہمیت کو  قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سلسلے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ سلام  کی کوششوں اور روشوں کی بحث کی گئی  ہے۔و من اللہ التوفیق۔

وحدت کی اہمیت اور ضرورت

اسلامی رواداری اور وحدت ،مسلمانوں کی تاریخی ،اجتماعی اور سیاسی ضروریات میں سے سب سے اہم ضرورت ہے۔مسلمانوں کی عزت اور کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔اور اس کے مقابلے میں اختلاف اور تفرقہ کا نتیجہ سوائے ذلت و خواری اور جہالت کے کچھ نہیں۔اسلامی رواداری اور وحدت کی طرف دعوت اور تفرقہ سے پرہیز کا حکم قرآن اور محمد و آل محمد علیہم السلام کے مہم ترین احکامات میں سے ہے۔قرآن نے مسلمانوں کو امت واحدہ کے نام سے پکارا ہے۔ إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَ أَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ(انبیاء٩٢) یہ تمہاری امت یقینا امت واحدہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا تم صرف میری عبادت کرو۔اسی طرح مومنین کو  آپس میں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے اور آپس کے تعلقات کی اصلاح کا حکم دیا ہے۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (حجرات ١٠) مومنین تو بس آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا تم لوگ اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اور تمام مسلمانوں کو تفرقہ سے پرہیز اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا امر دیا ہے۔ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْواناً وَ كُنْتُمْ عَلى شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْها كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۔(آل عمران ١٠٣) اور تم سب  باهم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالی اور اس کی نعمت سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کر تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔اور ساتھ ہی ساتھ تفرقہ کے ممکنہ خطرات اور نتائج سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ وَ لا تَنازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ ريحُكُمْ وَ اصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرينَ (انفال ٤٦)  اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ ناکام رہو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ هے‌‎‎‎‎۔

اسی طرح اگر ہم سیرہ مطہرہ معصومین علیہم السلام کی طرف دقت کریں، تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک وحدت امت اسلامی سے بڑھ کر اور کوئی چیز محبوب اور تفرقہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز مبغوض نہ تھی۔اور یہی وحدت اسلامی تھی کہ جس کی خاطر انہوں نے اپنے حقوق کو بھی پس پشت ڈال دیا اور اپنے مناصب چھن جانے پر بھی صبر کیا۔امام علی علیہ سلام کا 25 سالہ سکوت،صلح امام حسن علیه سلام،امام رضا علیہ السلام کی طرف سے ولایت عہدی کی قبولیت،ان کےعلاوہ سینکڑوں مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان بزرگواران کے نزدیک وحدت امت اسلامی کا کیا مقام تھا۔

وحدت اسلامی کا مفہوم اور دائرہ کار

بعض افراد سمجھتے ہیں کہ وحدت مسلمین اور تقریب مذاہب صرف خاص حالات یا خاص اماکن تک محدود ہیں اور  وه بھی بہ امر مجبوری یا بصورت تقیہ ،وگرنہ مختلف فرقوں میں دوستانہ تعلقات اور اخلاص پر مبنی رواداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،حالانکہ ہمیں یہ امر مدنظر رکھنا چاھیے کہ کچھ مسائل میں فرقوں کا اختلاف ،اخوت اسلامی اور باھمی رواداری میں مانع و مخل نہیں ہوتا ،جب دین مبین اسلام تمام مسلمانوں کو یہ امر دیتا ہے کہ باقی ادیان آسمانی (یہودیت، مسیحیت وغیرہ) کے ساتھ عادلانہ میل جول اور مسالمت آمیز تعلقات رکھیں اور ان کے ساتھ مشترکات کی بنیاد پر معاشرے میں زندگی گزاریں، تو برادران دینی کہ ساتھ تعلقات رکھنے میں قرآن کا موقف بدرجہ اولی واضح اور روشن ہے۔قرآن میں ارشاد ہے کہ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَ لا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَ لا يَتَّخِذَ بَعْضُنا بَعْضاً أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران ٦٤) کہدیجیے:اے اہل کتاب! اس کلمے کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے ، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں، پس اگر نہ مانیں تو ان سے کہدیجیے: گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی ہماری توجہ ہونی چاہئے کہ جب ہم وحدت اسلامی اور رواداری کی بات کرتے ہیں تو  ہمیں وحدت امت اسلامی اور وحدت مذاھب کے درمیان خلط اور اشتباہ                  نہیں کرنا چاھیے۔کیونکہ بعض اوقات نظریہ وحدت کی ناقص یا غلط تعبیرات کی وجہ سے افراد میں مختلف شبھات اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔وحدت اسلامی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے نزدیک جو قطعیات اور مسلمات مذہب ہیں، ان کو چھوڑ دیں یا ان سے دستبردار ہو جائیں،بلکہ اس کا معنا یہ ہے کہ اپنے اعتقادات اور مسلمہ نظریات پر قائم رہتے ہوے، مشترکات دینی کی بنیاد پر باہمی رواداری اور بھائی چارے کی فضا میں زندگی گزاری جائے اور ایسے اختلافی مسائل کہ جن کو زیربحث لانے سے سوائے فرقہ واریت اور نفرت کے اور کوئی نتیجہ برامد ہونے کا امکان نہ ہو ،کو زیر بحث لانے سے اجتناب کیا جائے۔البتہ جہاں علمی اور خالصتا تحقیقی فضا میسر آجائے تو دوستانہ ماحول میں بحث و تمحیص میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہی علمی ابحاث سے استفادہ کرتے ہوئے مسائل تاریخی ،فقھی اور اعتقای کو جدال احسن کے زریعے سلجھایا جا سکے تو اس سے بڑھ کر وحدت اسلامی کی خدمت نہیں ہو سکتی،لیکن یہ مناظرانہ بلکہ جاہلانہ انداز ،گالم گلوچ،توہین ،نعرے بازی اور وال چاکنگ وغیرہ کے طریقوں سے آج تک نہ کوئی راہ راست پر آیا ہے(اور اگر آیا بھی ہے تو اس کا جو نقصان داخلی طور پر خود مذھب شیعہ کو اٹھانا پڑا ہے وہ اظہرمن الشمس ہے) اور نہ ہی یہ ہمارے مذہب کے اصولوں کے مطابق ہے۔جدال احسن اور ہمارے مروجہ مناظرے میں جو فرق ہے ارباب عقل و دانش اور اہل انصاف کے لیے واضح و روشن ہے۔

بنابر ایں وحدت اسلامی سے ہمارا مقصود یہ ہونا چاھیے کہ تمام مذاھب و مسالک اور مکاتب فکر اختلافی مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے دینی مشترکات کو اخذ کریں اور باھمی رواداری سے زندگی گزاریں ،اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ تمام مسالک میں سے کسی ایک کو چن لیا جائے اور مخالفین پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جائے یا تمام مسالک کو جڑ سے ختم کر کے نئے اصول یا قوانین دینی وضع کیے جائیں کہ جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کو قبول ہوں کیونکہ یہ امر نہ ہی ممکن ہے اور نہ ہی منطقی و عاقلانہ۔

انہی مشترکات بلکہ بین المذاھب مقدسات میں سے ایک بہت بڑا مصداق اہلبیت علیہم السلام کی شخصیات ہیں۔یہ وہ شخصیات ہیں کہ جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے نزدیک انتہائی قابل احترام اور مقدسات کا درجہ رکھتی ہیں۔(سوائے ناصبیوں اور تکفیریوں کے،کہ جن کو مسلمان کہنا،لفظ اسلام کے لغوی اور اصطلاحی دونوں معانی کے مخالف ہے)۔ہمیں چاہیے کہ ان حضرات کی سیرت عالیہ اور فرامین مقدسہ کو موضوع بحث بنایا جائے ۔ان کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کا مطالعہ کر کے اپنی راہوں کو متعین کیا جائے۔جو صحیح احادیث کی صورت میں ہمارے پاس ائمہ اطھار کی علمی میراث موجود ہے اس کو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے سامنے پیش کیا جائے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ لوگ معارف حدیثی سے آشنا ہوں اور اہلبیت علیہم السلام کے عاشق نہ ہو جائیں۔روایت هے که                  سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُوسَى الرِّضَا ع يَقُولُ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً أَحْيَا أَمْرَنَا فَقُلْتُ لَهُ وَ كَيْفَ يُحْيِي أَمْرَكُمْ قَالَ يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا وَ يُعَلِّمُهَا النَّاسَ فَإِنَّ النَّاسَ لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا (عيون أخبار الرضا،ج١،ص٣٠٨) راوی کہتا ہے کہ میں نے سنا کہ امام فرما رہے تھے کہ خدا رحمت کرے  اس شخص پر کہ جو ہمارے امر کو زندہ کرے تو میں نے پوچھا کہ وہ کیسے آپ کے امر کو زندہ کر سکتا ہے تو امام نے فرمایا کہ ہمارے علوم اور معارف کو حاصل کرے اور لوگوں تک پہنچائے اگر لوگوں کو ہمارے کلام کی خوبصورتی اور محاسن کا علم ہو جائے تو وہ ہماری اتباع کریں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ہماری کوتاھی ہے کہ ہم اہلبیت علیہم السلام کی اس علمی میراث کی تبلیغ کا حق ادا کرنا تو دور کی بات ،خود بھی اس سے کما حقہ مطلع نہیں ہیں ۔خدا ہمیں معارف محمد و آل محمد علیہم السلام کے سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

شخصیات اہلبیت علیہم السلام میں سے جس شخصیت مقدسہ کو سب سے زیادہ اور مختلف مسالک و مکاتب سے ارتباط اور برخورد کا موقع ملا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں کہ جن کی ولادت با سعادت کی عظیم مناسبت کے حوالے سے وحدت اسلامی اور باھمی رواداری میں ان کے عظیم کردار کے چند پہلو  قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا؛

امام صادق علیہ السلام کا  عموم اہلسنت سے ارتباط :

امام صادق علیہ سلام کا اہل سنت سے ارتباط اور تعلق باھمی رواداری اور خیرخواہانہ رویے پر مشتمل تھا۔آپ کے نزدیک تمام مسلمان، فرزندان اسلام اور  آپس میں بھائی  کا درجہ رکھتے تھے۔اگر آپ کی معاشرتی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اپنے دروس اور فرامین میں ،اپنے آپ کو مرجع علمی اسلام کے طور پر متعارف کروایا ، نہ کہ ایک خاص مکتب کے رئیس و امام کے حوالے سے۔امام علیہ سلام کا  مقام و منصب صرف رئیس مکتب تشیع و جعفری کا نہ تھا بلکہ آپ منبع ہدایت اور مرجع معارف اسلامی کے طور پر مانے جاتے تھے۔آپ کے مکتب کے چار ہزار شاگردان میں سے ایک بہت بڑی تعداد اہل سنت حتی ادیان دیگر کے ماننے والوں کی بھی تھی۔آپ علیہ سلام کا مدرسہ اور بیت مبارک ،تمام مسالک کے ماننے والوں کے لیے مرجع علمی اور بزرگان اہل سنت کے لیے حلال مشکلات کا مرتبہ رکھتا تھا۔

نہ صرف امام صادق علیہ السلام کا اہل سنت سے اپنا  تعامل و تعلق نیک نیتی اور اسلامی رواداری پر مشتمل تھا بلکہ آپ علیہ سلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو بھی یہی سفارش کی،چنانچہ جب آپ کے ایک صحابی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ مولا آپ کے ماننے والوں کا اپنے غیر شیعہ رشتے داروں ،برادری والوں اور پڑوسیوں سے تعلق کیسا ہونا چاھیے تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اپنے ائمہ اور رہبروں کی سیرت کو دیکھو کہ ان کی رفتار اور کردار کیسا تھا۔جیسے وہ رہتے ہیں ،ویسے ہی تم لوگ بھی رہو،اللہ کی قسم  تمہارے ائمہ ان کے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں ،ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں ،ان کے بارے گواہیاں دیتے ہیں،اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں  کہ تمہارا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہونا چاھیے کہ جب وہ لوگ تمہاری نیک سیرت اور اچھے کردار اور تعلقات کو دیکھیں تو کہیں کہ ایسے ہوتے ہیں صادق کے شیعہ۔اچھے کام اور تعلقات تم انجام دو گے ،اور تعریف تمہارے رھبران کی ہو گی کہ خدا رحمت کرے جعفر ابن محمد علیہم السلام پر کہ کیسے نیک شیعہ کی تربیت کی ہے۔جیسا کہ فرمان امام صادق علیہ السلام  ہے کہ  يَا زَيْدُ خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ صَلُّوا فِي مَسَاجِدِهِمْ وَ عُودُوا مَرْضَاهُمْ وَ اشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ وَ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا الْأَئِمَّةَ وَ الْمُؤَذِّنِينَ فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَعْفَرِيَّةُ رَحِمَ اللَّهُ جَعْفَراً مَا كَانَ أَحْسَنَ مَا يُؤَدِّبُ أَصْحَابَهُ وَ إِذَا تَرَكْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَعْفَرِيَّةُ فَعَلَ اللَّهُ بِجَعْفَرٍ مَا كَانَ أَسْوَأَ مَا يُؤَدِّبُ أَصْحَابَهُ (من لا يحضره الفقيه،جلد ١،ص٣٨٣،حدیث١١٢٨) امام فرماتے ہیں کہ افراد اہل سنت کے ساتھ انہی کے مطابق پیش آو،ان کی مساجد میں نمازیں ادا کرو،ان کے مریضوں کی عیادت کرو،اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو ان کے جنازوں اور مراسم میں شرکت کرو،اگر تمھارے لیے ممکن ہو تو ان کے پیشنمازی کرو اور ان کے موذن بنو ،ان کاموں کو انجام دو،کیونکہ اگر تم اس اخلاق سے پیش آو گے تو وہ کہیں گے کہ یہ ہوتے ہیں شیعہ اور جعفری،خدا رحمت کرے جعفر ابن محمد پر کہ کیسا عمدہ ادب سکھایا ہے اپنے شیعوں کو،اور اگر خدانخواستہ تم نے ان کاموں کو ترک کر دیا، تو لوگ کہیں گے کہ جعفر ابن محمد نے کیسی بری تربیت کی ہے اپنے ماننے والوں کی۔یعنی اگر ہمارا اخلاق اچھا ہو گا تو لوگ امام صادق علیہ السلام کی تعریف کریں گے اور اگر ہمارا اخلاق مناسب نہیں ہو گا تو ہماری وجہ سے امام صادق علیہ السلام کی توہین ہو گی۔

 اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ایک اور مہم نکتہ ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ہمیشہ اس بات کی طرف توجہ رکھی ہے کہ مد مقابل کی علمی اور فکری حیثیت کیا ہے،اور ہمیشہ اس فکری حیثیت کے مطابق اس شخص سے برخورد کی ہے،ہم شیعیان اور محبان کو بھی  امام صادق علیہ السلام کی اس روش کو ہمیشہ مدنظر رکھتے ہوئے دیگر مسالک کے ماننے والوں سے ارتباط رکھنا ہو گا۔ہمیں اس چیز کی طرف انتہائی توجہ دینی ہو گی کہ ہمارا مد مقابل کس فکر کا حامل ہے ؟آیا وہ جان بوجھ کر اور معاندانہ طور پر مخالف ہے یا کسی پروپیگنڈے کا شکار ہے؟آیا وہ تمام اعتقادی و     تاریخی نکات اور اختلافی مسائل کا ادراک رکھتا بھی ہے یا نہیں؟آیا آج تک کسی نے اس کو امام صادق علیہ السلام کا کما حقہ تعارف کروایا بھی ہے یا نہیں؟آیا اس شخص کو تشخیص حق کا موقع ملا بھی ہے یا نھیں؟ یا نا آگاھانہ طور پر وہ مکتب اہل بیت علیہم السلام سے دور ہو چکا ہے،ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا وظیفہ خصوصا تولا و تبرا کے حوالے سے مشخص کرنا چاھیے۔

امام صادق علیہ السلام کا اہل سنت کے علماءاور پیشواؤں کے ساتھ رویہ:

امام صادق علیہ السلام کا علمائے اہل سنت کے ساتھ رابطہ اس نوعیت کا تھا کہ ان کو یہ محسوس نہ ہوتا تھا کہ  ہم اپنے مخالف مذھب کےرئیس کے سامنے بیٹھے ہیں۔بہت سے علمائے اہلسنت امام صادق علیہ السلام کے رفقاء اور ہمنشینان میں شمار ہونے لگے۔علمائے اہل سنت کی عالی ترین شخصیات نے اپنے عموم و فنون کا ایک معتد بہ حصہ مکتب امام باقر و صادق علیہ السلام کے مکتب سے اخذ کیا۔اور اس بات پر انہوں نے باقاعدہ طور پر فخر و مباہات کیا۔ابو زہرہ عالم مکتب اھل سنت لکھتے ہیں کہ علمائے اسلام میں سے کسی نے بھی ،کسی امر پر اس طرح اجماع نہیں کیا جس طرح امام صادق علیہ السلام کے علم و فضل پر اجماع کیا (جعفریان،حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ،ص٣٩٩)۔ ابو حنیفہ امام اہل سنت کا مشہور قول ہے کہ لولا سنتان لھلک النعمان ؛    اگر میرے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سال نہ ہوتے تو میں ھلاک ہو جاتا۔ (الجندى،الامام جعفرالصادق،ص٢٥٢)

مالک ابن انس کہ  جنہوں نے نیز امام صادق علیہ السلام کے محضر مبارک سے استفادہ کیا،کہتے ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ کسی شخص کے وہم و گمان میں آیا  وہ شخص کہ جو علم و فضل و عبادت و زہد میں امام صادق علیہ السلام سے بڑھ کر ہو۔ (ابن حجر عسقلانی،تھذیب التہذیب،ج٢،ص١٠٤)اسی طرح امام مالک ابن انس کہتے ہیں کہ بھت عرصے میں امام صادق علیہ السلام کے پاس جاتا رہا،آپ کی شخصیت خوش مزاج تھی ،ہمیشہ آپ کے لبوں پر ایک ملایم سا تبسم موجود رہتا تھا۔میں جتنے عرصے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ان کے گھر پے حاضر ہوتا رہا ،میں نے آپ کو صرف ان تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں دیکھا ،یا آپ نماز کی حالت میں ہوتے،یا روزہ کی حالت میں ،یا تلاوت قرآن کی حالت میں۔میں نے نہیں دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام نے بغیر وضو اور طہارت کے اپنے جد امجد حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی ہو۔میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی آپ کی زبان اقدس سے کوئی فضول یا بے محل بات نکلی ہو،آپ علماء اور زہاد میں سے تھے کہ جن کے اندر خوف خدا رچا ہوا ہوتا تھا،ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور آپ علیہ السلام  نے اپنے نیچے بچھے ہوئے بچھونے کو نکال کر میرے نیچے نہ بچھا دیا ہو۔ (یحصبی،ترتيب المدارك و تقريبالمسالك،ج١،ص٥٥)

امام صادق علیہ السلام کا مقدسات اہل سنت کے بارے رویہ:

امام صادق علیہ السلام کی اپنے فکری مخالفین سے برخورد کی روش ہمیشہ منطقی ،علمی اور استدلالی رہی اور آپ کی کسی گفتگو اور جدل میں توہین مخالف کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا،آپ علیہ السلام کی گفتار اور کردار اس بات کا شاہد ہے کہ آپ مقدسات اہل سنت کے بارے نہایت حساس اور محتاط تھے اور اپنے ماننے والوں کو بھی اسی بات کی ترغیب دیتے تھے۔روایات میں بارھا تذکرہ ہوا ہے کہ  ایاکم و الخصومة فى الدین (وسائل الشیعہ،ج١٦،ص١٩٨) کہ دین کے معاملات میں دشمنی اور خصومت سے پرہیز کرو۔مشہور واقعہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کو کسی نے بتایا کہ فلاں شخص مسجد میں آپ کے مخالفین کو برملا برا بھلا کہتا ہے تو امام نے فرمایا کہ مالہ؟ لعنہ اللہ ،یعرض بنا(اعتقادات الامامیہ،ص١٠٧)، اس کو کیا ہوا ہے ،خدا اس پر لعنت کرے ،وہ اپنے اس کام سے ہمیں متعرض ہو رہا ہے۔وہ اپنے اس کام سے باعث بن رہا ہے کہ لوگ امام اور مکتب اہل بیت کے بارے منفی نظریات رکھیں۔علماء  اور ائمہ اہل سنت کا امام صادق علیہ السلام سے ارتباط اور آنا جانا تاریخی مسلمات میں سے ہے،اگر امام صادق علیہ السلام بھی بعض عوام کی طرح صرف توہین مقدسات اور لعن طعن کرنے میں مشغول رہتے تو کیسے ممکن تھا کہ اہلسنت کے علماء بلکہ ان کی فقہ کے ائمہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بارہا شرفیاب ہوتے یا امام صادق علیہ السلام کی تعریفوں میں رطب اللسان رھتے۔عمرو ابن عبید، واصل ابن عطا، حفص ابن سالم،مالک ابن انس ابو حنیفہ،یحیی ابن سعید انصاری، ابن جریح، محمد ابن اسحاق، شعبہ ابن حجاج، ایوب سجستانی و غیرہم کے امام صادق علیہ السلام کے بارے خیالات و اظہارات تاریخ کا حصہ ہیں (حسينى،سيد على،مداراى بين مذاهب،ص٥٠٦)۔

علامہ اسد حیدر صاحب کتاب الامام الصادق و مذاہب اربعہ لکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ سلام کی اسی  رواداری اور اخلاق عالیہ کا اثر تھا کہ جب بنو عباس کے خلاف شیعوں نے بعض علاقوں میں قیام کیا جیسے قیام محمد بن عبدللہ بن حسن اور ابراہیم کا قیام تو ابو حنیفہ امام اہل سنت نے کھل کر ان کی حمایت کی (الامام الصادق والمذاهب الاربعه،ترجمہ فارسی،محمد حسین سرانجام،ج١،ص٤٦٦)۔

امام صادق علیہ السلام  اور روش احتجاج و جدال احسن:

کسی بھی مکتب فکر  کے علماءو رہبران کا اہم ترین فریضہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے مبانی اور نظریات پر دلیل اور براہین کا اقامہ کریں۔اگرچہ امام صادق علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ا کثر حصہ محاصرہ بنی عباس میں گزرا ،لیکن اس کے باوجود گمراہان اور حقیقت طلبان کی ہدایت  و رہنمائی اور معاندین مکتب توحید و اہلبیت علیہم السلام کے شبھات کا جواب دینے کے لیے امام علیہ السلام نے جدال احسن اور احتجاج مستدل کی روش کو کبھی بھی پس پشت نہیں ڈالا۔امام صادق علیہ السلام نے اپنے علمی نظریات کو یوں بیان کیا کہ نظریاتی اور فکری مخالفین کو بھی یارائے انکار نہ ہوا۔امام علیہ سلام کی روش اور طریقہ کار یہ تھا کہ مخالفین کے اعتراضات و شبھات کے جواب خود انہیں کی معتبر ادلہ سے دیتے تھے ۔جیسے کہ محمد بن عبدالرحمن ابن ابی لیلی کہ جو معروف فقیہ،محدث ،مفتی اور قاضی کوفہ تھے،جب انھوں نےامام صادق علیہ السلام کے سامنے اپنے سوالات و شبھات پیش کیے اور ان کے کافی و شافی جوابات حاصل کیے تو کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہیں۔ (من لا یحضرہ الفقیہ، ج١، ص١٨٨، حديث٥٦٩)

امام صادق علیہ سلام کے مناظرات بھی چند خاص اصول و قواعد پر مشتمل ہوتے تھے ،ان میں سے ایک ضابطہ یہ تھا کہ امام صادق علیہ السلام مناظرے سے پہلے موضوع کو روشن کرنے کے لیے اور مدمخالف  کی علمی حیثیت کو جانچنے کے لیے مختلف طرح کے سوالات اور مثالوں سے اپنی بات کا آغاز کرتے تھے۔ان مناظروں اور علمی ابحاث کی تفصیل احتجاج طبرسی،بحارالانوار،الاختصاص وغیرہ کتابوں میں مزکورہے۔نمونہ کہ طور پر امام صادق علیہ السلام اور ابوحنیفہ امام اہلسنت کا قیاس کہ موضوع پر ایک مناظرہ پیش خدمت ہے

مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى  أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اِبْنَكَ مُوسَى يُصَلِّي وَ اَلنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَنْهَاهُمْ وَ فِيهِ مَا فِيهِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اُدْعُ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ يَذْكُرُ أَنَّكَ تُصَلِّي وَ اَلنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَلاَ تَنْهَاهُمْ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَتِ إِنَّ اَلَّذِي كُنْتُ أُصَلِّي لَهُ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيَّ مِنْهُمْ يَقُولُ اَللَّهُ تَعَالَى: وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ اَلْوَرِيدِ  قَالَ فَضَمَّهُ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى نَفْسِهِ وَ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا مُودَعَ اَلْأَسْرَارِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلْقَتْلُ عِنْدَكُمْ أَشَدُّ أَمِ اَلزِّنَا فَقَالَ بَلِ اَلْقَتْلُ قَالَ فَكَيْفَ أَمَرَ اَللَّهُ تَعَالَى فِي اَلْقَتْلِ بِالشَّاهِدَيْنِ وَ فِي اَلزِّنَا بِأَرْبَعَةٍ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ يَا أَبَا حَنِيفَةَ تَرْكُ اَلصَّلاَةِ أَشَدُّ أَمْ تَرْكُ اَلصِّيَامِ فَقَالَ بَلْ تَرْكُ اَلصَّلاَةِ قَالَ فَكَيْفَ تَقْضِي اَلْمَرْأَةُ صِيَامَهَا وَ لاَ تَقْضِي صَلاَتَهَا كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ وَيْحَكَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلنِّسَاءُ أَضْعَفُ عَنِ اَلْمَكَاسِبِ أَمِ اَلرِّجَالُ فَقَالَ بَلِ اَلنِّسَاءُ قَالَ فَكَيْفَ جَعَلَ اَللَّهُ تَعَالَى لِلْمَرْأَةِ سَهْماً وَ لِلرَّجُلِ سَهْمَيْنِ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلْغَائِطُ أَقْذَرُ أَمِ اَلْمَنِيُّ قَالَ بَلِ اَلْغَائِطُ قَالَ فَكَيْفَ يُسْتَنْجَى مِنَ اَلْغَائِطِ وَ يُغْتَسَلُ مِنَ اَلْمَنِيِّ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ تَقُولُ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اَللَّهُ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَقُولَهُ قَالَ بَلَى تَقُولُهُ أَنْتَ وَ أَصْحَابُكَ مِنْ حَيْثُ لاَ تَعْلَمُونَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ جُعِلْتُ فِدَاكَ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ أَرْوِيهِ عَنْكَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ عَنْ جَدِّهِ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اَللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّ اَللَّهَ أَخَذَ مِيثَاقَ أَهْلِ اَلْبَيْتِ مِنْ أَعْلَى عِلِّيِّينَ وَ أَخَذَ طِينَةَ شِيعَتِنَا مِنْهُ وَ لَوْ جَهَدَ أَهْلُ اَلسَّمَاءِ وَ أَهْلُ اَلْأَرْضِ أَنْ يُغَيِّرُوا مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً مَا اِسْتَطَاعُوهُ قَالَ فَبَكَى أَبُو حَنِيفَةَ بُكَاءً شَدِيداً وَ بَكَى أَصْحَابُهُ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجُوا (شيخ، مفيد، الاختصاص، ص١٨٩؛ مجلسى،  محمدباقر، بحارالانوار، ج١٠، ص٢٠٤)

ترجمہ:ایک دن ابو حنیفہ اپنے چند رفقاء کے ساتھ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا ابن رسول اللہ،میں نے ابھی آپ کے بیٹے موسی کاظم کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ان کے آگے سے گزر رہے تھے،اور انہوں نے ان کو منع بھی نہ کیا،حالانکہ اس آمد و رفت سے معنویت اور حضور قلب میں خلل واقع ہوتا ہے،امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا کہ ابوحنیفہ نے آپ کے بارے یہ کہا ہے،امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ جی ایسا ہی ہوا ہے،چونکہ میں جس ذات کے مقابل کھڑا تھا ،وہ تمام لوگوں کی نسبت میرے زیادہ قریب تھی،اس لیے لوگوں کی آمد و رفت کو میں نے اپنے لیے خلل نہیں سمجھا کیونکہ خود خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ میں تمھاری شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔پھر امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اپنی آغوش میں لے لیا اور فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہو جائیں کہ تم واقعی اسرار و علوم الہی اور امامت کے محافظ ہو۔پھر امام صادق علیہ السلام ابو حنیفہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے سوالات کا آغاز کیا اور پوچھا کہ حکم قتل شدید تر ہے یا حکم زنا؟ابو حنیفہ نے کہا کہ قتل،تو امام ع نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو خدا نے کیوں قتل کے ثبوت کے لیے دو گواہ اور زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر کیے،پھر امام ع نے فرمایا کہ اے ابو حنیفہ احکام دین خدا کا استنباط قیاس سے نہیں ہو سکتا،پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ ترک نماز زیادہ مہم امر ہے یا ترک روزہ؟ابو حنیفہ نے کہا کہ ترک نماز،امام نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ترک روزہ۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عورتوں کے ایام مخصوصہ میں قضا شدہ نمازوں کی معافی ہے لیکن روزوں کی نہیں۔پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ حقوق اور معاملات کے حوالے سے عورت ضعیف ہے یا مرد،ابو حنیفہ نے کہا کہ عورت،تو امام علیہ السلام نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو مرد کا حصہ عورت کے دوبرابر کیوں ہے حالانکہ قیاس کے مطابق ضعیف کا حصہ زیادہ ہونا چاھیے۔پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ پاخانہ زیادہ پلید ہے یا  منی ؟ابو حنیفہ نے کہا کہ پاخانہ پلید تر ہے،امام ع نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو کیوں پاخانہ فقط استنجاء سے صاف ہو جاتا ہے جبکہ خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے؟ تو پس کیسے دین خدا کا استنباط قیاس سے ہوگا؟ابو حنیفہ نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہو جاوں  ،مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں جس سے فائدہ حاصل کروں اور آپ کی طرف سے لوگوں تک پہنچاوں،امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے ہم اہل بیت کا میثاق اور ہماری طینت کو اعلی علیین سے لیا ہے اور ہمارے شیعوں کی طینت ہم اہلبیت میں سے ہے،اور اگر تمام خلائق جمع ہو کر بھی اس میں کوئی تبدیلی لانا چاھیں تو نہیں لا سکیں گے۔راوی کہتا ہے کہ ابوحنیفہ اور ان کے رفقاء نے یہ سن کر شدید گریہ کیا اور امام سے اجازت چاہی۔

یہ گفتگو اور اس جیسے کئی دیگر مناظرے امام صادق علیہ السلام کی علمی قابلیت ،روش گفتگو،مد مقابل کے ساتھ رویہ اور خود ابو حنیفہ کی طرف سے امام صادق علیہ السلام کا احترام اور دیگر اخلاقیات کا بھترین ثبوت ہیں۔(حیدر،اسد،الامام الصادق و المذاہب الاربعہ،ترجمہ فارسی،ج١،ص٤٦٤)

 

نتیجہ

ان تمام نکات اور امام صادق علیہ السلام کی سیرت عالیہ کا مطالعہ کرنے سے بلاخوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام  اسلامی رواداری اور وحدت امت کا مصداق اتم تھے۔مجموعی طور پر آپ کا مختلف مکاتب فکر کے ساتھ رویہ احترام،نصیحت،خیرخواہی اور جدال احسن پر مشتمل ہوتا تھا۔آپ علیہ سلام کے اسی خلق عظیم اور رواداری کا نتیجہ تھا کہ بزرگان اور ائمہ اہلسنت آپ علیہ سلام کی شاگردی پر فخر و مباھات کرتے تھے۔ آج امام صادق علیہ السلام کے ماننے والوں کو بالعموم اور مبلغین مذھب حقہ کو بالخصوص وحدت امت کے حوالے سے امام علیہ السلام کی سیرت کا بغور مطالعہ کرنے کی اور عملی طور پر امام علیہ سلام کے متعین کردہ راستوں پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ زمانے میں تفرقہ اور مذھبی عدم برداشت جیسے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔اور تمام اسلامی ممالک میں عموما اور وطن عزیز ،مملکت خداداد پاکستان میں باھمی رواداری ،اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جا سکے۔ الہی آمین۔

حوالہ جات:

القرآن الکریم

الکلینی۔محمد بن یعقوب۔الکافی،۱۳۸۰،تهران،اسوه

ابن ابي الحديد،١٩٦٧ م،شرح نهج البلاغه،بيروت،دار الاحياء التراث العربي

ابن بابويه۔محمد بن علی (شیخ صدوق)۔من لا یحضرہ الفقیہ،١٤١٣ ق،تحقيق على اكبر غفاری،قم، جامعہ مدرسین

ابن بابویہ۔محمد بن علی(شیخ صدوق)۔الاعتقادات فی دین الامامیہ،١٩٩٣ م ،تحقیق اعصام عبد السید،بیروت،دارالمفید

ابن بابویہ۔محمد بن علی(شیخ صدوق)۔عیون اخبار الرضا عليه السلام،١٣٧٨،تحقيق لاجوردى،تهران،نشر جهان

ابن حجر عسقلانى،احمد بن على،١٩٦٨،تهذيب التهذيب،بيروت،دار صادر

ابن نعمان،محمد بن محمد،شیخ مفید،١٤١٣ ق،الاختصاص،قم،موسسه النشر الاسلامى

النجفی،محمد حسین،فیضان الرحمان فی تفسیر القرآن،٢٠١٥ م، لاهور، مصباح القرآن ٹرسٹ

النجفی۔ محمد حسین ۔احسن الفوائد فی شرح العقائد، ۱۹۷۱ م،سرگودها (پاکستان) مکتبه السبطین

 جعفريان،رسول،١٣٩١،حيات فكرى.سياسى امامان شيعه،تهران،علم

الجندى،عبد الحليم،١٩٧٧،الامام جعفر الصادق،قاهره.

حر عاملی،محمد بن حسن۔وسائل الشیعہ، ١٤١٤ق،قم،آل البیت لاحیاء التراث

حسینی،سید علی،مدارای بین مذاہب،١٣٨٣ ش،قم،بوستان کتاب

حیدر۔اسد۔الامام الصادق و المذاہب الاربعہ،ترجمہ فارسی محمد حسین سرانجام،١٣٩٢،قم،دانشگاہ ادیان و مذاہب

ذھبی،محمد بن احمد،سیر اعلام نبلاء،١٩٩٨،بیروت،موسسہ الرسالہ

طبرسی،ابو منصور احمد بن علی،احتجاج علی اھل اللجاج،١٤٠٣ ق،مشهد،نشر مرتضى

مجلسى،محمد باقر،١٤٠٣،بحار الانوار،بيروت،موسسه الوفاء.

ہوشنگی،حسین و یاسین شکرانی،اصول و روش ھای حاکم بر مناظرات امام صادق،١٣٩١،تهران،دانشگاہ امام صادق ع

 

 

یحصبی،قاضی ابو الفضل عیاض، ترتیب المدارک و تقریب المسالک،تصحیح احمد بکیر محمود، بیروت، منشورات دار المکتبہ الحیات

محمد عمار رضا اعوان

ایم اے  عربی، ایم فِل علوم حدیث

جامعة المصطفی العالمیہ  قم ایران