محبت اہل بیت علیہم السلام کے آثار
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا
جس شخص کو بھی خداوندمتعال محبت اہل بیت عطا کرے گویا دنیا اور آخرت کی سعادت اسے نصیب ہوئی ہے اور کوئی شک نا کرے کہ (محب اہل بیت) جنت میں جائے گا ۔کیونکہ میری اہل بیت کی محبت میں بیس خصوصیات ہیں جن میں سے دس اس دنیا میں اور دس آخرت میں ہیں ۔ جو دنیا میں ہیں وہ یہ ہیں
1 زھد (یعنی محب اہل بیت زاھد ہو گا )
2علم حاصل کرنے کا شوق
3دین میں تقوی اور پرہیزگاری
4عبادت خدا کا شوق
5 موت سے پہلے توبہ کرنے کی توفیق
6ذوق و شوق سے نماز تہجد ادا کرنا
7جو کچھ دوسروں کے پاس ہے اس سے صرف نظر
8امربالمعروف اور نہی عن المنکر انجام کو انجام دینا
9دنیا (طلبی) سے دوری اختیار کرنا
10: سخاوت
(جس میں یہ صفات پائی جائیں گویا وہ حقیقی محب اہل بیت ہے اور ایسے محب کے لیے آخرت میں دس خصوصیات ہوں گی)
🌹اسے حساب کتاب کا انتظار نہیں کروایا جائے گا
🌹 نامہ اعمال تولنے کے لیے میزان نہیں لگایا جائے گا
🌹نامہ عمل دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا
🌹جہنم کی آگ سے برائت نامہ ملے گا
🌹چہرہ نورانی ہو گا
🌹اپنے خاندان کے سو افراد کی شفاعت کر سکے گا
🌹بہشتی لباس پہنایا جائے گا
🌹خدا وندمتعال اس پر نظر رحمت فرمائے گا
🌹بہشتی تاج اس کے سر پر سجایا جائے گا
🌹 اور بغیر حساب کتاب جنت میں جائے گا ۔
(پھر فرمایا ) : خوشخبری ہو محبان اہل بیت علیہم السلام کے لیے
متن روایت :
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اَلْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : مَنْ رَزَقَهُ اَللَّهُ حُبَّ اَلْأَئِمَّةِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَقَدْ أَصَابَ خَيْرَ اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ فَلاَ يَشُكَّنَّ أَحَدٌ أَنَّهُ فِي اَلْجَنَّةِ فَإِنَّ فِي حُبِّ أَهْلِ بَيْتِي عشرون [عِشْرِينَ] خَصْلَةً عَشْرٌ مِنْهَا فِي اَلدُّنْيَا وَ عَشْرٌ مِنْهَا فِي اَلْآخِرَةِ أَمَّا اَلَّتِي فِي اَلدُّنْيَا فَالزُّهْدُ وَ اَلْحِرْصُ عَلَى اَلْعَمَلِ وَ اَلْوَرَعُ فِي اَلدِّينِ وَ اَلرَّغْبَةُ فِي اَلْعِبَادَةِ وَ اَلتَّوْبَةُ قَبْلَ اَلْمَوْتِ وَ اَلنَّشَاطُ فِي قِيَامِ اَللَّيْلِ وَ اَلْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي اَلنَّاسِ وَ اَلْحِفْظُ لِأَمْرِ اَللَّهِ وَ نَهْيِهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ اَلتَّاسِعَةُ بُغْضُ اَلدُّنْيَا وَ اَلْعَاشِرَةُ اَلسَّخَاءُ وَ أَمَّا اَلَّتِي فِي اَلْآخِرَةِ فَلاَ يُنْشَرُ لَهُ دِيوَانٌ وَ لاَ يُنْصَبُ لَهُ مِيزَانٌ وَ يُعْطَى كِتٰابَهُ بِيَمِينِهِ  وَ يُكْتَبُ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ اَلنَّارِ وَ يَبْيَضُّ وَجْهُهُ وَ يُكْسَى مِنْ حُلَلِ اَلْجَنَّةِ وَ يَشْفَعُ فِي مِائَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ يَنْظُرُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ بِالرَّحْمَةِ وَ يُتَوَّجُ مِنْ تِيجَانِ اَلْجَنَّةِ وَ اَلْعَاشِرَةُ يَدْخُلُ اَلْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَطُوبَى لِمُحِبِّي أَهْلِ بَيْت
منبع ۔ الخصال شیخ صدوق /515
علمی ، فکری ، تحقیقی ، تبلیغی