اپنے بچوں کو توحید سکھائیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اپنے بچوں کو توحید سکھائیں

(مختصر سوال و جواب)

مقدمہ

اسلام کی سب سے بنیادی اور اہم حقیقت توحید ہے۔ یہی وہ پہلا اصول ہے جس پر ایمان و عمل کی پوری عمارت قائم ہے، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین کے بغیر نہ کوئی عبادت معتبر ہے اور نہ کوئی عقیدہ ، اور نہ ہی کوئی نیکی قابل قبول ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم اور نبی اکرم ﷺکی تعلیمات یہی ثابت کرتی ہیں کہ توحید کے بغیر کسی عمل کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ دین اسلام میں توحید سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور اختیارات میں یکتا ماننا اور سچے دل سے اس کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ، انسانی معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ شرک ہے،جس معاشرے میں شرک ہوگا وہ معاشرہ کبھی عدل کا نظام قائم نہیں کر سکتا، اللہ تبارک و تعالی سورہ مبارکہ لقمان میں ارشاد فرماتا ہے : بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اگر ہم اس پوری کائنات کا جائزہ لیں تو یہ پوری کائنات عدل پر چل رہی ہے،ہمیں کہیں بھی ٹکراؤ نظر نہیں آتا، اسی طرح معاشرے کو عدل پر قائم کرنا، تقسیم اور ٹکراؤ سے نجات دلانا، عقیدہ توحید کا لازمی تقاضا ہے ۔

سوال1 : توحید کیا ہے؟

جواب: عبادت میں اللہ کو ایک جاننا۔

سوال2: عظیم ترین عبادت کیا ہے؟

جواب: توحید۔

سوال3: ہم لوگوں کو اپنا عقیدہ کہاں سے لینا چاہئے؟

جواب: قرآن وحدیث سے۔

سوال4: توحید کے فوائد کیا ہیں؟

جواب : توحید کے فوائد یہ ہیں:

  1. دنیا میں راہ راست پر آجاتا ہے۔
  2. گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے۔
  3. انسان آخرت کے ابدی عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔

سوال5: اللہ تعالی کہاں ہے؟

جواب: اللہ تعالی ہر جگہ ہے ۔

سوال6: اللہ تعالی کے عرش پر ہونے کی کیا دلیل ہے؟

جواب: قرآن کی یہ آیت: الرحمن علی العرش استوی ۔

سوال7: ہمیں کس نے خلق کیا ؟

جواب: اللہ تعالی نے ، (ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ)

سوال8: انسانوں اور جنوں کو اللہ نے کیوں پیدا کیا؟

جواب: تاکہ وہ اللہ کی عبادت کریں ۔

سوال9: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اللہ تعالی نے انس و جن کو اپنی ہی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے؟

جواب: قرآن کریم کی آیت ہے ، وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔

سوال10: "یعبدون" کا کیا مطلب ہے؟

جواب: اس کا مطلب ہے کہ اللہ کو ہر قسم کی عبادت میں اکیلا سمجھا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔

سوال11: "لا الہ الا اللہ" کا کیا معنی ہے؟

جواب: اس کا معنی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

سوال12: سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟

جواب: شرک۔

سوال13: شرک کیا ہے؟

جواب: اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کرنا۔

سوال14:ہمارا رب کون ہے؟

جواب: اللہ ہمارا رب ہے ۔

سوال15: کیا اللہ کے لئے اسماء اور صفات ہیں؟

جواب: ہاں۔ اللہ نے اپنی ذات کے لئے کچھ صفتیں خاص کی ہیں ۔

سوال16: ہم اسماء وصفات کو کہاں سے لیں؟

جواب : کتاب وحدیث سے۔

سوال17: کیا اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ ہیں؟

جواب: اللہ کی صفتیں اصل کے اعتبار سے ہرگز مخلوق کی صفتوں کے مشابہ نہیں ہیں۔ مگر کبھی کبھار نام کی حد تک مشابہت ہوسکتی ہے۔

سوال18: اس بات کی کیا دلیل ہے اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہے؟

جواب: قرآن کی یہ آیت: لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر۔

سوال19: اس بات پر کیا دلیل ہے کہ اللہ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا؟

جواب: اللہ کا یہ فرمان: قل بلی وربی لتبعثن ۔

سوال20: ہم کس کے لئے سجدہ کریں؟

جواب: صرف اللہ کے لئے۔

سوال21 : وہ کون سا گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا؟

جواب : وہ شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ کسی بھی حال میں معاف نہیں کرے گا۔

سوال22 : اسلام کا بنیادی عقیدہ کیا ہے ؟

جواب : اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے

سوال23 : توحید کا معنی ؟

جواب : خدا کو یکتا اور بے مثل مانتے ہوئے اس کائنات کی خلقت میں کسی اور کو خدا کا شریک قرار نہ دینا ہے۔

سوال24 : حضرت محمدؐ کی دعوت کی ابتدائی تعلیمات کیا تھیں ؟

جواب : خدا کی وحدانیت کا اقرار اور کسی کو خدا کا شریک قرار دینے سے انکار ۔

سوال25 : قرآن و حدیث کی سب سے زیادہ تاکید کس پر ہے ؟

جواب : قرآنی آیات اور معصومین کی احادیث میں توحید پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور قرآن کی ایک سورت، سورہ توحید بھی اسی موضوع سے مربوط ہے۔

سوال26 : توحید کو کس کے مقابل قرار دیا گیا ہے ؟

جواب : اسلامی تعلیمات میں توحید کو شرک کے مقابلے میں قرار دیا گیا ہے

سوال27 : توحید کی اقسام بیان کریں ؟

جواب : توحید کی چار قسمیں ہیں: توحید ذاتی ، توحید صفاتی ، توحید افعالی ، توحید عبادی

سوال28 : توحید ذاتی کی تعریف ؟

جواب :یعنی خدا کی یکتایی پر ایمان رکھنا

سوال29 : توحید صفاتی کی تعریف ؟

جواب : خدا کی صفات کا عین ذات ہونا "توحیدد صفاتی" کہلاتا ہے

سوال30 : توحید افعالی کی تعریف کریں ؟

جواب : یعنی خدا اپنے تمام کام انجام دینے میں کسی کی مدد اور تعاون کا محتاج نہیں ہے

سوال31 : توحید عبادی کی تعریف کریں ؟

جواب : یعنی صرف خدا ہی عبادت کے لایق اور سزاوار ہے۔

سوال32 : مراتب توحید میں اعلی مرتبہ کس کا ہے ؟

جواب : توحید کے ان چار مراتب میں پہلا مرتبہ توحید ذاتی اور سب سے اعلی مرتبہ توحید افعالی ہے۔

سوال33 : عدل کی تعریف ؟

جواب : یعنی خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔

سوال34 :خدا کے عادل ہونے کی عقلی دلیل دیں

جواب : کوئی بھی صاحب عقل ظلم کو پسند نہیں کرتا

سوال35 : خدا کے عادل ہونے کی نقلی دلیل دیں

جواب : قرآن میں ہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ النَّاسَ شَیۡئًا یعنی اللہ کسی انسان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے

سوال36 : شیعوں کی توحید پر مشہورکتابیں کون سی ہیں ؟

جواب :1 کتاب التوحید ۔2 شرح باب حادی عشر ۔3 الرسالہ التوحیدیہ ۔4توحید۔5توحیدوشرک ۔۔۔ وغیرہ

سوال37 : ہمیں کس نے پیدا کیا ؟

جواب : اللہ تعالی نے

سوال38 : ہمیں رزق کون دیتا ہے ؟

جواب : اللہ تعالی

سوال39: اللہ ہمیں رزق دیتا ہے اس کی قرآنی دلیل دیں ؟

جواب : قرآن کی سورہ العمران آیت نمبر 37 میں ہے

إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

(بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے)

سوال40 : ہمیں شفا کون دیتا ہے ؟

جواب : اللہ تعالی

سوال41: اللہ ہمیں شفا دیتا ہے اس کی قرآنی دلیل دیں ؟

جواب : سورہ شعراء آیت نمبر 80 میں آیا ہے

واِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ

(اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے)

سوال42 : ہمیں زندگی اور موت کون دیتا ہے ؟

جواب : اللہ تبارک و تعالی

سوال43 : اللہ ہمیں زندگی و موت دیتا ہے اس کی قرآنی دلیل دیں ؟

جواب : سورہ شعراء آیت نمبر 81 میں ہے

وَالَّذِىۡ يُمِيۡتُنِىۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِ

اور وہی ہے جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

سوال44 : ہماری مشکلیں کون حل فرماتا ہے ؟

جواب : اللہ تعالی ہماری مشکلیں حل فرماتا ہے

سوال45 : ہم عقیدہ توحید کے بارے میں کیوں پڑھتے ہیں ؟

جواب :تاکہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اسکا شکر ادا کریں ۔

سوال46 : قبر میں پہلا سوال کیا پوچھا جائے گا ؟

جواب : من ربک؟

سوال47 : تم نے اپنے رب کو کیسے پہچانا ؟

جواب : اپنے وجود سے اور اس کائنات سے۔

سوال48 : غیر خدا کا ذبیحہ ؟

جواب : حرام ہے

سوال49 : اللہ کے علاوہ سجدہ کرنا ؟

جواب : جائز نہیں

سوال50 : اللہ کے علاوہ کسی کی قسم کھانا ؟

جواب : درست نہیں

سوال51 : کیا اللہ دین محمدی کے علاوہ کسی دین کو قبول کرے گا ؟

جواب : نہیں ، قبول نہیں کرے گا

سوال52 : یہ کائنات کس نے بنائی ؟

جواب :اللہ تعالی نے

سوال53 : ریا کیا ہے ؟

جواب :اللہ کے علاوہ کسی اور کی خوشنودی کیلئے عبادت کرنا

سوال54 : ریا کا کیا حکم ہے ؟

جواب : ریاکاری حرام ہے

آئمہ اہل بیت ؑ کی ولادت ہوتی ہے یا ظہور ہوتا ہے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آئمہ اہل بیت ؑ کی ولادت ہوتی ہے یا ظہور ہوتا ہے ؟

کچھ سالوں سے ایک خاص طبقه شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہے وہ کہتے ہیں کہ معصوم کی ولادت نہیں بلکہ نزول اور ظہور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے۔

ان کا عقیدہ یہ ہے کہ معصومینؑ آسمان سےبراۂ راست نازل ہوتے ہیں اور شکموں اور ارحام میں نہیں ہوتے، ان کے عقیدے کی دلیل میں کوئی ایک بھی حدیث نہیں ہے البتہ قرآن کی ایک آیت میں جہاں نور کے نزول کی بات کی گئی ہے وہاں وہ نور سے مراد آئمہؑ لیتے ہیں جبکہ قرآن کے حکم کے مطابق یہاں نور سے مراد قرآن پاک ہے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ، اور اگر آئمہؑ بھی مراد ہیں تو اس اعتبار سے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر (قرآن ناطق اور عملی قرآن) ہیں۔

اعتراض: ہماری بھی ولادت ہوتی ہے اور انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی بھی ولادت ہوتی ہے تو ہمارے اور انکے درمیان کیا فرق رہ گیا؟

جواب:یہ اعتراض ایک جاہلانہ اعتراض ہے جس کا مقصد فقط مومنین کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانا ہے، لیکن اس کا جواب ہم مومنین کے اطمنیان قلب کیلئے ذکر کریں گے۔

دیکھئے لفظ انسان ایک عالم شخص پر بھی صادق آتا ہے اور جاہل شخص پر بھی، ایک شرابی پر بھی اور متقی و پرہیز گار پر بھی، کیا عالم اور جاہل ، شرابی اور پرہیزگار سب برابر ہیں؟ ہر عقلمند شخص یہی کہے گا کہ ہرگز برابر نہیں ہیں، اگرچہ ہیں تو سب انسان ۔لیکن مراتب میں فرق ہوتا ہے حقیقت میں نہیں حقیقت سب کی انسان ہے۔ اسی طرح ہماری اورآئمہ ؑ کی ولادت میں فرق ہوتا ہے جس کی وضاحت شیعہ کتب میں موجود ہے لیکن ہوتی سب کی ولادت ہی ہے ۔

لغت میں دیکھا جائے تو لفظ ولادت کے معنی ، پیدا ہونا ہے ۔ ظہور کے معنی ،کسی مخفی چیز کے ظاہر ہونے کے ہیں اور نزول کے معنی ، اُترنا یا اُتارے جانے کے ہیں ۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

إِنَّهُ شَرٌّ عَلَيْكُمْ أَنْ تَقُولُوا بِشَيْ‏ءٍ مَا لَمْ تَسْمَعُوهُ مِنَّا۔

یہ تمہاری انتہائی بری بات ہوگی کہ تم وہ عقیدہ رکھو جو تم نے ہم سے نہیں سنا۔

(اصول کافی۔ کتاب: الایمان و الکفر باب: الضلال حدیث: 1)

اس نظریہ کے نقصانات

1 ۔ جب ولادت کا انکار ہوگا تو شہادت کا بھی انکار کرنا ہوگا ، کیونکه ظاهر هے جب کوئی پیدا ہی نہیں هوا تو قتل کیسے ہو سکتا ہے ۔

2 ۔ ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا پڑے گا ، کیونکہ زیارت وارثہ میں امام نے فرمایا:

اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ

میں گواہی دیتا ہوں آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور بن کر رہے۔

3 ۔ وہ تمام زیارتیں اور دعائیں جو معارف ایمان و عقاید سے بھر پور ہیں اور جن میں دشمنان محمد و آل محمد ﷺ پر لعنت کی گئی ہے ان تمام سے انکار کر دیا جائے گا اس لئے کہ جب کسی نے شہید ہی نہیں کیا تو لعنت کس بات کی ۔

4 ۔ جب آئمہ اہل بیت ؑ پیدا ہی نہیں ہوتے تو نسل سادات کہاں سے وجود میں آ گئی ؟ کیا تمام سادات کا بھی ظہور ہوتا ہے ؟ لہذا اس عقیدے کو ماننا ہے تو نسل سادات کا انکار کرنا ہوگا ۔

5 ۔ اس روایت سے انکار کرنا ہوگا جس میں ہے کہ امام حسین ؑ شکم مادر میں کلام کرتے تھے ۔

6 ۔ اگرظہور ہی ہوتا ہے تو حضرت فاطمہ ؑ کے شکم میں جناب محسن کی شہادت کا انکار کرنا ہوگا ۔

7 ۔ عید میلاد النبی اور جشن مولود کعبہ کا انکار کرنا پڑے گا ۔

قرآن کی روشنی میں

آیت نمبر 1

حضرت زکریا ؑ فرماتے ہیں:

و انی خفت الموالی من وراء ی وکانت امراتی عاقرا فھب لی من لدنک ولیا۔

اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔

(سورہ مریم آیت 5)

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ا ن لوگوں کاظہور ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا مسئلہ تھا کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں ؟

آیت نمبر 2

فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا۔ فا اجاء ھا المخاض الی جذع النخلتہ۔۔ ۔

اور مریم اس بچے سے حاملہ ہوگئیں اور وہ اسے لے کر دور مقام پر چلی گئیں۔ پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔

(سورہ مریم آیت 22۔23)

یہ واقعہ حضرت مریم (ع) کا ہے۔ آپ لوگ دیکھیں کہ یہاں پر اللہ نے حمل کا لفظ استعمال کیا ہے اور درد زہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اب اگر حضرت عیسی کی ولادت نہ ہوتی بلکہ ظہور ہوتا آسمانوں سے تو پھر یہ حمل اور درد زہ کے الفاظ کے کیا معنی ہیں ؟

آیت نمبر 3

حملتہ امہ کرحا و وضعتہ کرھا۔

اس کی ماں نے تکلیف سہ کر اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور تکلیف اٹھا کر اسے جنا ۔

(سورہ الاحقاف آیت 15)

اس آیت میں اللہ نے حمل کا بھی لفظ استعمال کیا ہے اور ساتھ میں ماں کے پیٹ کے الفاظ بھی ہیں۔!

روایات کی روشنی میں

جناب فاطمہؑ بنت اسد نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا:

وبهذا المولود الذي في أحشائي الذي يكلّمني ويؤنسني بحديثه، وأنا موقنة أنّه إحدى آياتك ودلائلك

اور تجھے اس مولود کا واسطہ کہ جو میرے بطن میں ہے جو مجھ سے باتیں کرتا ہے میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے مجھے یقین ہے یہ تیری نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دلائل میں سے ایک دلیل ہے ۔

الأمالي للطوسي: 706

حضرت امام علی ابن ابی طالب (ع) کی ولادت کے وقت ان کی والدہ جناب فاطمہ بنت اسد نے جو دعا فرمائی وہ اس طرح تھی:

ربی انی مومنہ بک و بما جاء من عندک من رسل و کتب مصدقہ بکلام جدی ابراہیم فبحق الذی بنی ھذا البیت و بحق المولود الذی فی بطن لما یسرت وعلی ولادتی

خدا وندا میں ایمان لائی ہوں تجھ اور ان چیزوں پر جو تیرے رسول لائے اور ان کتابوں پر جو مصدقہ ہیں میرے جد ابراہیم کی پس واسطہ اس کے حق کا جس نے اس گھر کو بنایا اور اس مولود کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے میرے اوپر ولادت کی سختی کو آسان کر دے ۔

(مناقب ابن شہر آشوب، جلد 2، صفحہ 173 ، امالی صدوق صفحہ 195 ، الدمعتہ الساکبہ، شیخ بہائی، جلد 1, صفحہ 180 )

امام جعفر صادق ؑ کے ایک انتہائی قابل قدر صحابی امام موسی کاظم (ع) کی ولادت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں:

ذکرت انہ سقط من بطنھا حین سقط و اضعا یدیہ علی الارض۔

جب وہ بطن سے جدا ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی طرف اٹھایا۔۔۔

الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ 385 طبع بیروت

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

فیمکث فی الرحم اربعین یوما لا یسمع الکلام ثم یسمع الکلام بعد ذلک۔

امام چالیس دن رات اس طرح شکم مادر میں رہتا ہے وہ کسی کی آواز نہیں سنتا اور اس کے بعد وہ آواز سننے لگتا ہے۔

الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387، طبع بیروت

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

الاوصیاء اذا حملت بھم امہاتھم اصابھا فترۃ شبہ الغشیہ ۔

جب اماموں کی مائیں حاملہ ہوتی ہیں تو ان کو ایک قسم کی غشی لاحق ہوتی ہے۔

الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387 طبع بیروت

امام رضا ؑ نے فرمایا :

امام کی جملہ صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ

واذا وقع علی الارض من (بطن) امہ وقع علی راحتیہ رافعا صوت بالشہادۃ

شکم مادر سے جب زمین پر آئے گا تو اپنی ہتھیلیوں کے سہارے بیٹھے گا اور شہادتین کے لئے اپنی آواز بلند کرے گا۔

خصال، شیخ صدوق، صفحہ 528 طبع قم/احتجاج, شیخ طبرسی، صفحہ 509 طبع قم/ معانی الاخبار، شیخ صدوق، صفحہ 102 طبع قم

امام علی ؑ نے فرمایا:

وَأَنَا وُلِدتُ في المحل البعيد المرتقى

اور میں ایک بلند مرتبہ مقام پر پیدا ہوا۔

الفضائل، فضل بن شاذان بن جبرئيل القمي، ص 80/ الإمام علي بن أبي طالب علیه السلام، أحمد الرحماني الهمداني، ص370، ح19

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

فان الامام یسمع الکلام فی بطن امہ

امام شکم مادر میں آواز سنتا ہے۔

بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 543 طبع قم/بحار، علامہ مجلسی، جلد 25 صفحہ 431 طبع قم

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

لا تتکلمو ا فی الامام فان الامام یسمع الکلام وھو جنین فی بطن امہ

امام کے مقام و منزلت کے بارے میں گفتگو نہ کریں کیونکہ امام وہ ہوتے ہیں جو شکم مادر میں بھی سنتے ہیں۔

بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 564 طبع قم/ تفسیر الصافی, شیخ محسن کاشانی، جلد 1 ص 497 طبع بیروت

امام زمان ؑ کے نائب خاص علی بن محمد سے روایت ہے:

ولد الصاحب علیہ السلام للنصف من شعبان

امام زمان (عج) کی ولادت نصف شعبان میں ہوئی۔

اکمال الدین، شیخ صدوق، صفحہ 430 طبع قم

امیرالمؤمنین علی ؑ کے ایک زیارت نامے میں ہم سب پڑھتے ہیں:

الْمَوْلُودِ فِى الْكَعْبَةِ

سلام ہو آپ پر اے وہ جو کعبہ میں پیدا ہوئے"۔

(المزار الكبير، ابن المشهدي، الشيخ ابو عبدالله محمد بن جعفر، ص256-257، زیارت نمبر 10، تحقيق: جواد القيومي الاصفهاني / بحار الانوار، مجلسی، ج97، ص302. )

امام رضا علیہ السلام نے امام ابو جعفر محمد بن علی التقی الجواد علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں فرمایا:

هَذَا الْمَوْلُودُ الَّذِي لَمْ يُولَدْ مَوْلُودٌ أَعْظَمُ بَرَكَةً عَلَي شِيعَتِنَا مِنْهُ۔

یہ وہی مولود ہے جو ہمارے پیروکاروں کے لئے اس سے زیادہ عظیم مولود پیدا نہیں ہوا ۔

(الکافی، ج1، ص 321)

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ بشار امام جعفر صادق ؑ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جاؤ تم ملعون ہو اور میں تیرے ساتھ ایک چھت کے نیچے جمع نہیں ہو سکتا ، وہ اٹھ کر چلا گیا تو آپ ؑ نے فرمایا:

کہ خدا اسے غارت کرے اس نے خدا کی بھی توہین کی ہے، یہ شیطان ابن شیطان ہے میرے شیعوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ، میں اللہ کا بندہ ہوں ، اصلاب و ارحام کی منزلوں سے گزرا ہوں. مجھے بھی ایک دن مرنا ہے اور میدان حشر میں جواب دینا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق و مذاہب اربعہ، استاد اسد حیدر نجفی، صفحہ 247

اب ہم چند علماء کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی کتب میں آئمہ کے متعلق ولادت کا باب باندھا ہے

شیخ کلینی

جن کی وفات امام زمان (عج) کی غیبت صغری میں ہوئی اور جن کی حدیث کی کتاب اب مذہب شیعہ کی پہچان بن چکی ہوئی ہے۔ آپ اپنی کتاب الکافی میں آئمہ کی ولادت کاباب اس طرح باندھتے ہیں: باب موالید الائمہ" صفحہ 385 طبع بیروت۔

اسی طرح آپ ہر امام کی ولادت کا باب اس طرح باندھتے ہیں: باب مولد امیرالمومنین" صفحہ 452، باب مولد الزہراء فاطمہ ص 458 وغیرہا

سید رضی

نہج البلاغہ جیسی مشہور و معروف کتاب کے مصنف سید رضی خصائص امیرالمومنین صفحہ 39 طبع بیروت میں لکھتے ہیں:

ولد علیہ السلام بمکہ فی البیت الحرام ۔۔۔ولدہ ہاشمی مرتین ولا نعلم مولود ولد فی الکعبہ وغیرہ

امیر المونین خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہیں ۔ آپ پہلے ہاشمی ہیں جو سلسلہ نسب میں نجیب الطرفین ہیں، آپ کے علاوہ کوئی خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔

علامہ مجلسی

علامہ مجلسی نے امام کی ولادت کے احوال میں 22 احادیث جمع کی ہیں، ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث آپ کی خدمت میں پیش کئے دیتے ہیں اگر کسی کو مکمل احادیث چاہیں تو اردو ترجمہ کے ساتھ گوگل سے مل جائیں گی ۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

تفسير القمي أَبِي عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:

إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْإِمَامَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ۔۔۔

جب اللہ تبارک و تعالٰی امام کو ان کی ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ۔۔۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:

بصائر الدرجات عَبَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:

إِنَّ نُطْفَةَ الْإِمَامِ مِنَ الْجَنَّةِ وَ إِذَا وَقَعَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ إِلَى الْأَرْضِ ۔۔۔

امام کا نطفہ جنت سے ہے، پھر جب امام ماں کے پیٹ سے زمین پر وارد ہوتا ہے ۔۔۔

امام باقر ؑ نے فرمایا:

بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى الْإِمَامِ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَكَلَّمُ بِهِ فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْمَعُ الْكَلَامَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ۔۔۔

تم میں سے جب کوئی امام کے پاس حاضر ہو تو خیال رکھے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ بیشک امام ماں کے پیٹ میں کلام کو سنتا ہے۔ ۔۔

امام صادق ؑ نے فرمایا:

بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحُصَيْنِ الْحُصَيْنِيِّ وَ الْمُخْتَارِ بْنِ زِيَادٍ جَمِيعاً عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي سُكَيْنَةَ عَنْ بَعْضِ رِجَالِهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ:

دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أُوَدِّعُهُ فَقَالَ اجْلِسْ شِبْهَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ يَا إِسْحَاقُ كَأَنَّكَ تَرَى أَنَّا مِنْ هَذَا الْخَلْقِ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِمَامَ مِنَّا بَعْدَ الْإِمَامِ يَسْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فَإِذَا وَضَعَتْهُ أُمُّهُ

اسحاق بن عمار کہتا ہے: میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے الوداع کہنے گیا۔ آپ (ع) نے غصہ کی کیفیت میں فرمایا، بیٹھ جاؤ۔ پھر فرمایا: اے اسحاق! تم کیا سمجھتے ہو کہ میں اس مخلوق کی طرح ہوں؟ کیا نہیں جانتے کہ ہم میں سے جو امام کے بعد امام ہوتا ہے وہ اپنی ماں کے پیٹ میں سنتا ہے۔ جب اس کی ماں اسکو جنم دیتی ہے ۔۔۔

تمت بالخير

ھل یستوی الذین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ھل یستوی

کیا ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ برابر ہیں ؟

نیکی ،اور برائی

وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ۔ ﴿فصلت /۳۴

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، آپ (بدی کو) بہترین نیکی سے دفع کریں تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ گویا نہایت قریبی دوست بن گیا ہے۔

کھارا ،اور میٹھا

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡبَحۡرٰنِ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ؕ وَ مِنۡ کُلٍّ تَاۡکُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡنَ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ فِیۡہِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿فاطر /۱۲

اور دو سمندر برابر نہیں ہوتے: ایک شیریں، پیاس بجھانے والا، پینے میں خوشگوار اور دوسرا کھارا کڑوا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیورات نکال کر پہنتے ہو اور تم ان کشتیوں کو دیکھتے ہو جو پانی کو چیرتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید تم شکرگزار بن جاؤ۔

تاریکی ،اور روشنی

قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَاتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ اَمۡ ہَلۡ تَسۡتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوۡرُ ۬ۚ اَمۡ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ خَلَقُوۡا کَخَلۡقِہٖ فَتَشَابَہَ الۡخَلۡقُ عَلَیۡہِمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿رعد/۱۶

ان سے پوچھیے:آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ کہدیجئے: اللہ ہے، کہدیں: تو پھر کیا تم نے اللہ کے سوا ایسوں کو اپنا اولیاء بنایا ہے جو اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں؟ کہدیجئے: کیا بینا اور نابینا برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تاریکی اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں؟ جنہیں ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنایا ہے کیا انہوں نے اللہ کی خلقت کی طرح کچھ خلق کیا ہے جس کی وجہ سے پیدائش کا مسئلہ ان پر مشتبہ ہو گیا ہو؟ کہدیجئے: ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا، بڑا غالب آنے والا ہے۔

عالم، اور جاہل

اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یَرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ۔ ﴿زمر/۹

(مشرک بہتر ہے) یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگائے رکھتا ہے، کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔

مواحد، اور مشرک

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ۔ ﴿زمر /۲۹

اللہ ایک شخص (غلام) کی مثال بیان فرماتا ہے جس (کی ملکیت) میں کئی بدخو (مالکان) شریک ہیں اور ایک(دوسرا) مرد (غلام) ہے جس کا صرف ایک ہی آقا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ الحمد للہ،بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔

ناپاک ، اور پاک

قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔ ﴿مائدہ /۱۰۰

(اے رسول) کہدیجئے: ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے خواہ ناپاکی کی فراوانی تمہیں بھلی لگے، پس اے صاحبان عقل اللہ کی نافرمانی سے بچو شاید تمہیں نجات مل جائے ۔

زندہ ، اور مردہ

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ۔ ﴿فاطر /۲۲

اور نہ ہی زندے اور نہ ہی مردے یکساں ہو سکتے ہیں، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے اور آپ قبروں میں مدفون لوگوں کو تو نہیں سنا سکتے۔

گونگا ، اور بولنے والا

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۔ ﴿نحل/۷۶

اور اللہ دو (اور) مردوں کی مثال دیتا ہے، ان میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر بھی قادر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجے کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود صراط مستقیم پر قائم ہے؟

اندھا ، اور بینا

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ۔ ﴿فاطر/۱۹

اور نابینا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے۔

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ۔ ﴿غافر /۵۸

اور نابینا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے نیز نہ ہی ایماندار اور عمل صالح بجالانے والے اور بدکار، تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

مَثَلُ الۡفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعۡمٰی وَ الۡاَصَمِّ وَ الۡبَصِیۡرِ وَ السَّمِیۡعِ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ۔ ﴿ھود/۲۴

دونوں فریقوں (مومنوں اور کافروں) کی مثال ایسی ہے جیسے (ایک طرف) اندھا اور بہرا ہو اور (دوسری طرف) دیکھنے والا اور سننے والا ہو، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟

قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ۔ ﴿انعام /۵۰

کہدیجئے: میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس حکم کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی ہوتی ہے، کہدیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟کیا تم غور نہیں کرتے؟

فتح مکہ سے پہلے والے، اور بعد والے مسلمان

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ۔ ﴿حدید /۱۰

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ کے لیے ہے؟ تم میں سے جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ہو سکتے، ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور مقاتلہ کیا، البتہ اللہ تعالیٰ نے ان سب سے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے۔

راہ خدا میں جہاد کرنے والے، اور نہ کرنے والے

لَا یَسۡتَوِی الۡقٰعِدُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ غَیۡرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الۡمُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ دَرَجَۃً ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔ ﴿نساء/۹۵

بغیر کسی معذوری کے گھر میں بیٹھنے والے مؤمنین اور راہ خدا میں جان و مال سے جہاد کرنے والے یکساں نہیں ہو سکتے، اللہ نے بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ زیادہ رکھا ہے، گو اللہ نے سب کے لیے نیک وعدہ فرمایا ہے، مگر بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی فضیلت بخشی ہے۔

بد زبانی و دالی گ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بدزبانی اورگالی گلوچ

﴿ قرآن و حدیث کی روشنی میں ﴾

بد زبانی اور گالی گلوچ باعث بنتا ہے کہ مہذب لوگ آپ سے دور ہو جائیں اور آپ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند نہ کریں اور غیر مہذب افراد آپ کے گرد جمع ہو جائیں اور آپ کی تباہی کا باعث بنیں ، امام علی ؑ فرماتے ہیں:

بدزبانی اور فحش گوئی سے پرہیز کریں کیونکہ اس کی وجہ سے نامعقول اور بدتمیز افراد تمہارے گرد جمع ہو جائیں گے اور اچھے لوگ آپ سے دور بھاگیں گے۔

آج ہمارا معاشرہ جن اخلاقی مشکلات کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مشکل یہی بد زبانی ہے زبان کے زخم تلوار کے زخم سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے الفاظ اور فقرے استعمال کرنے سے گریز کرے جو گالی شمار ہوتے ہوں ۔

بہت سارے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ زبان کو قابو میں نہیں رکھ پاتے جبکہ اعضاء و جوارح میں زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو بہت زیادہ روکے رکھنے کا محتاج ہے ، جس طرح انسان کے اعضاء وجوارح سے سرزد ہونے والے اعمال و افعال قابل مواخذہ ہیں اسی طرح زبان سے نکلنے والے الفاظ و کلمات اور اقوال بھی قابل مواخذہ ہیں، عنداللہ انکے بارے میں بازپرس ہوگی، قرآن و سنت کے بیشمار نصوص اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنی زبان سے جو بات بھی نکالتا ہے اسکا معاملہ بڑا سنگین ہے، یہ الفاظ و اقوال خیر و بھلائی پر مشتمل ہوں تو انسان کبھی وہم و گمان سے بڑھ کر اجروثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پالیتا ہے اور اگر یہ باتیں شروفساد کے حوالے سے گناہ پر مشتمل ہوں تو انسان تصور سے بڑھ کر عذاب الہٰی کا مستحق بن جاتا ہے اس لئے زبان کو قابو میں رکھنا اورکچھ بولنے سے پہلے اسکے انجام کے بارے میں ہزار بار سوچنا بہت ضروری ہے۔

زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں ہوتی ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے، بروز محشر انسان اپنی باتوں پر جوابدہ ہوگا۔

بد زبانی کیا ہے ؟

بد زبانی اور گالی گلوچ سے مراد فقط گندی گالیاں ہی نہیں ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات میں ہر وہ بات اس میں داخل ہے جو دوسرے کی توہین اور تحقیر یا اس کی دل آزاری کا سبب بنے ۔

بد زبانی کے اسباب

الف)غصہ : جب انسان کو غصہ آتا ہے تو وہ غصے میں حواس کھو بیٹھتا ہے اور پھر جو منہ میں آتا ہے وہی کہتا ہے ، گالیاں دیتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ غصہ حرام ہے ۔

ب) عادت: جب کوئی شخص بدمعاش اور گھٹیا لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے اور ان سے دوستی کرتا ہے تو آہستہ آہستہ ان کی روح، مزاج اور اظہار اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چونکہ ان کی عام بول چال ایک دوسرے کے بارے میں فحاشی سے بھری ہوتی ہے، اس لیے وہ اس میں بھی سرایت کر جاتی ہے اور آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے ۔

اس آفت کا علاج یہ ہے کہ :

1 ۔ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جس کی وجہ سے کسی مومن پر غصہ کرنا پڑے

2 ۔ اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھیں اور غصہ کو پی جائیں

3 ۔ اہل فتنہ و فساد سے پرہیز کریں تاکہ اپنی زبان کو گالی گلوچ سے محفوظ رکھ سکیں

قرآن میں بد زبانی کا بیان

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔

گالی مت دو ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں، اس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے ان کے اپنے کردار کو دیدہ زیب بنایا ہے، پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پس وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔(انعام ، 108)

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الۡجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا۔

اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی (کسی کی) برملا برائی کرے، مگر یہ کہ مظلوم واقع ہوا ہو اور اللہ بڑا سننے والا، جاننے والا ہے۔ (نساء، 148)

احادیث میں بد زبانی کا بیان

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ الْفُحْشَ لَوْ کَانَ مِثَالًا لَکَانَ مِثَالَ سَوْء۔

اگر گالی گلوچ کی کوئی شکل ہوتی تو انتہائی بد صورت ہوتی ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ مِنْ شَرِّ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ تُکْرَهُ مُجَالَسَتُهُ لِفُحْشِه۔

خدا کے بدترین بندوں میں سے ہے وہ شخص جس کی بد زبانی کی وجہ سے لوگ اس سے دور بھاگیں ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِیَّاکُمْ وَ الْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَا یُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ۔

بد زبانی سے پرہیز کریں کیونکہ خداوند متعال بدزبانی اور گالی گلوچ کو پسند نہیں کرتا ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِیءَ وَ السَّائِلَ الْمُلْحِف۔

گالی گلوچ کرنے والا اور پیشہ ور بھکاری خدا کا دشمن ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ وَ قِتَالُهُ کُفْرٌ وَ أَکْلُ لَحْمِهِ مَعْصِیَةٌ وَ حُرْمَةُ مَالِهِ کَحُرْمَةِ دَمِه ۔

مومن کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور اس کی غیبت کرنا گناہ ہے اور مومن کا مال اس کی جان کی طرح محترم ہے

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

أَرْبَعَةٌ یَزِیدُ عَذَابُهُمْ عَلَی عَذَابِ أَهْلِ النَّارِ إِلَی أَنْ قَالَ وَرَجُلٌ یَسْتَلِذُّ الرَّفَثَ وَالْفُحْشَ فَیَسِیلُ مِنْ فِیهِ قَیْحٌ وَدَمٌ ۔

چار قسم کے لوگوں کی وجہ سے جہنمیوں کا عذاب شدید ہو جائے گا ، پہلا وہ جو بد زبان ہے

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِی تَمِیمٍ أَتَى النَّبِیَّ صلّی الله علیه وآله فَقَالَ أَوْصِنِی فَکَانَ فِیمَا أَوْصَاهُ أَنْ قَالَ لَا تَسُبُّوا النَّاسَ فَتَکْتَسِبُوا الْعَدَاوَةَ بَیْنَهُم۔

بنی تمیم کا ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے کوئی وصیت فرمائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کو گالی نہ دو تاکہ تمہارے درمیان عداوت و دشمنی نہ ہو جائے ۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا :

عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مُوسَى علیه السلام فِی رَجُلَیْنِ یَتَسَابَّانِ فَقَالَ: الْبَادِی مِنْهُمَا أَظْلَمُ وَ وِزْرُهُ وَ وِزْرُ صَاحِبِهِ عَلَیْهِ مَا لَمْ یَتَعَدَّ الْمَظْلُوم۔

گالیاں دینے میں پہل کرنے والا زیادہ ظالم ہے وہ اپنا اور اپنے ساتھی کے گناہ کا بوجھ اٹھانے والا ہے بشرطیکہ جس پر ظلم ہوا وہ زیادتی نہ کرے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ أَبْغَضَ خَلْقِ اللَّهِ عَبْدٌ اتَّقَى النَّاسُ لِسَانَہ۔

خدا کی قابل نفرت مخلوق وہ بندہ ہے جس کی زبان سے لوگ ڈریں ۔

امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ۔

بد زبان اور گالی دینے والا خدا کا دشمن ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَ الْجَفَاءُ فِی النَّار۔

بد زبانی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ الْفُحْشَ وَ الْبَذَاءَ وَ السَّلَاطَةَ مِنَ النِّفَاق۔

لعن طعن، بد زبانی اور گالی گلوچ منافقت کی نشانیاں ہیں۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :

و قال : ... لَیْسَ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِینَ الْخَنَا وَ لَا الْفُحْشُ وَ لَا الْأَمْرُ بِه۔

بد زبانی ، گالی گلوچ اور ان کا حکم دینا مومن کا اخلاق نہیں ہے

امام علی علیہ السلام نے فرمایا :

ما أفحَشَ کَرِیمٌ قَطُّ۔

کریم انسان کبھی بھی غلط کام اور بد زبانی نہیں کرتا ۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا :

أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ علیه السلام عِنْدَ وَفَاتِهِ:کُنْ لِلَّهِ یَا بُنَیَّ عَامِلًا وَ عَنِ الْخَنَاءِ زَجُوراً۔

اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی اے بیٹے : جو بھی کام کرو اللہ کیلئے کرو اور سخت کلامی سے بچو ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

ثَلَاثَةٌ لَا یَنْظُرُ اللَّهُ إِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَ لَا یُزَکِّیهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ: الدَّیُّوثُ مِنَ الرِّجَالِ، وَ الْفَاحِشُ الْمُتَفَحِّشُ، وَ الَّذِی یَسْأَلُ النَّاسَ وَ فِی یَدِهِ ظَهْرُ غِنًى۔

تین لوگوں پر اللہ قیامت کے دن نظر کرم نہیں کرے گا اور انہیں دوزخ میں ڈالے گا ، بے غیرت مرد ، بے شرم بد زبان اور پیشہ ور بھکاری ۔

امام موسی کاظم علیہ اسلام نے فرمایا :

الْحَیَاءُ مِنَ الْإِیمَانِ وَ الْإِیمَانُ فِی الْجَنَّةِ، وَ الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَا وَ الْجَفَا فِی النَّارِ ۔

حیا ء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بد زبانی بے ادبی ہے اور بے ادب جہنم میں ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

ثَلَاثٌ إِذَا کُنَّ فِی الرَّجُلِ فَلَا تَجْرَحُ أَنْ تَقُولَ إِنَّهُ فِی جَهَنَّمَ الْجَفَاءُ وَ الْجُبْنُ وَ الْبُخْلُ وَ ثَلَاثٌ إِذَا کُنَّ فِی الْمَرْأَةِ فَلَا تَجْرَحُ أَنْ تَقُولَ إِنَّهَا فِی جَهَنَّمَ الْبَذَاءُ وَ الْخُیَلَاءُ وَ الْفَخرُ

جس مرد میں تین خصلتیں ہوں تو اگر اسے جہنمی بھی کہو تو مسئلہ نہیں غصہ ، بزدلى و بخل، اور تین خصلتیں جس عورت میں ہوں تو مسئلہ نہیں کہ اسے جہنمی کہا جائے بد زبانی ، تکبر ، تعصب ۔

امام سجاد علیه السلام نے فرمایا:

وَ الذُّنُوبُ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعَاءَ ...اسْتِعْمَالُ الْبَذَاءِ وَ الْفُحْشُ فِی الْقَوْلِ۔

بد زبانی اور گالی گلوچ ان گناہوں میں سے ہیں جن کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

کَانَ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام صَدِیقٌ لَا یَکَادُ یُفَارِقُهُ إِذَا ذَهَبَ مَکَاناً فَبَیْنَمَا هُوَ یَمْشِی مَعَهُ فِی الْحَذَّاءِینَ وَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ سِنْدِیٌّ یَمْشِی خَلْفَهُمَا إِذَا الْتَفَتَ الرَّجُلُ یُرِیدُ غُلَامَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یَرَهُ فَلَمَّا نَظَرَ فِی الرَّابِعَةِ قَالَ یَا ابْنَ الْفَاعِلَةِ أَیْنَ کُنْتَ؟ قَالَ فَرَفَعَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام یَدَهُ فَصَکَّ بِهَا جَبْهَةَ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَقْذِفُ أُمَّهُ! قَدْ کُنْتُ أَرَى أَنَّ لَکَ وَرَعاً فَإِذَا لَیْسَ لَکَ وَرَعٌ فَقَالَ: جُعِلْتُ فِدَاکَ إِنَّ أُمَّهُ سِنْدِیَّةٌ مُشْرِکَةٌ فَقَالَ: أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ نِکَاحاً تَنَحَّ عَنِّی قَالَ فَمَا رَأَیْتُهُ یَمْشِی مَعَهُ حَتَّى فَرَّقَ الْمَوْتُ بَیْنَهُمَا . وَ فِی رِوَایَةٍ أُخْرَى: إِنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ نِکَاحاً یَحْتَجِزُونَ بِهِ مِنَ الزِّنَا ۔

عمرو بن نعمان جعفى کہتا ہے امام ؑ کا ایک ساتھی تھا امام ؑ جہاں بھی جاتے وہ ساتھ ہوتا ایک دن امام ؑ کے ساتھ بازار میں جا رہا تھا اور اس کا سندھی غلام بھی ساتھ تھا اچانک پیچھے دیکھتا ہے تو وہ غلام بہت پیچھے راہ گیا تھا کچھ دیر بعد جب غلام قریب آیا تو کہتا ہے اے حرام زادہ کہاں راہ گئے تھے ؟ امام ؑ نے جب یہ سنا تو اپنا ہاتھاپنی پیشانی پر مارا اور فرمایا :

سبحان اللہ اس کی ماں پر زنا کی تہمت لگا دی ؟ میرا خیال تھا کہ تو غیرت مند اور نیک ہے لیکن اب دیکھ رہا ہوں کہ تو ایسا نہیں ہے ؟

عرض کرتا ہے قربان جاؤں اس کی ماں اہل سندھ سے ہے اور مشرک ہے

امام نے فرمایا:

تم نہیں جانتے کہ ہر ملت میں شادی ہوتی ہے ، مجھ سے دور ہو جاؤ

عمرو بن نعمان (راوى حدیث) کہتا ہے، اس کے بعد ہم نے اسے امام ؑ کے ساتھ کبھی نہیں دیکھا ۔

نتیجه

یہ جاننا ضروری ہے کہ مومن کی حرمت کا ملاک انسانی وقار کا تحفظ ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ایسے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے جو انسانی عظمت اور اعلیٰ اقدار کے منافی ہوں تو اس کی عزت باقی نہیں رہتی اور اس کی توہین کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا جائز ہو جاتا ہے جیسے کھلم کھلا کفر کرنے والا ، بدکاری اور ظلم و زیادتی کرنے والا، دین میں بدعت داخل کرنے والا، اور ہر وہ شخص جس میں کوئی شرم و حیا نہ ہو، چنانچہ پیغمبر گرامی اسلام ﷺ فرماتے ہیں :

میرے بعد جب بھی بدعتی لوگوں سے ملو تو ان سے برائت کرو ۔

آخر میں حضرت لقمان حکیم کی ایک حکایت پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں ، ایک بادشاہ نے حضرت لقمان حکیم سے کہا کہ ایک بکری ذبح کرواور اس میں جو سب سے اچھی چیز ہو وہ پیش کرو۔ حضرت لقمان حکیم نے زبان اور دل لا کر پیش کر دیا، اس کے بعد بادشاہ نے کہا کہ جو سب سے بری چیز ہو وہ پیش کی جائے، تو حضرت لقمان حکیم نے پھر زبان اور دل پیش کر دیا، بادشاہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو لقمان حکیم نے جواب دیا اگریہی زبان اور دل صحیح استعمال کیے جائیں تو یہ انسانی جسم کے سب سے بہترین اعضا ہیں اوراگر ان کا استعمال غلط ہو تو یہی انسانی جسم کے سب سے بدترین اعضا ہیں ۔

غربت

غربت

روایات میں غریبی کی شدت سے مذمت کی گئی ہے ، بطور نمونه چند مذمتیں پیش خدمت ہیں ۔

1- غریبی کفر ہے

قال رسول اللَّه صلی الله علیه و آله:

کادَ الْفَقْرُ انْ یکونَ کفْراً۔

غربت کفر کے قریب ہے۔

بحار الانوار- جلد 72- صفحه 30.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2- غریبی موت ہے

قال علی علیه السلام:

الْفَقْرُ الْمَوْتُ الْاکبَرُ

غربت بہت بڑی موت ہے۔

نهج البلاغه- حكمت 159

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3- غریبی قتل سے بدتر ہے

قال رسول اللَّه صلی الله علیه و آله:

الْفَقْرُ اشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ غربت

قتل سے بھی بدتر ہے۔

بحار الانوار- جلد 72- صفحه 47.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

4- غریبی سے بہتر موت ہے

قال علی علیہ السلام :

الْقَبْرُ خَیرٌ مِنَ الْفَقْرِ

غریب سے بہتر موت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5- غربت مایوسی لاتی ہے

امام علی (ع) نے اپنے فرزند محمد حنفیہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

یا بُنَی، انّی اخافُ عَلَیک الْفَقْرَ، فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ، فَانَّ الْفَقْرَ مَنْقَصَةٌ لِلدّینِ، مَدْهَشَةٌ لِلْعَقْلِ، داعِیةٌ لِلْمَقْتِ

میرے بیٹے ، مجھے تمہارے بارے میں غربت کا خوف ہے۔ غربت سے خدا کی پناہ مانگو کیونکہ غربت انسان کے دین کو ادھورا کردیتی ہے، انسان کی عقل و فکر کو خلط ملط کردیتی ہے اور لوگوں کو ایک دوسروں کی نسبت بد بین کردیتی ہے۔

نهج البلاغه- حكمت 311

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6- غربت زبان میں لڑکھڑاہٹ لاتی ہے

قال علی علیه السلام:

الْفَقْرُ یخْرِسُ الفَطِنَ عَنْ حُجَّتِهِ

غربت ایک پڑھے لکھے سمجھدار انسان کو بھی اپنی دلیل بیان کرنے کے لیے گونگا بنا دیتی ہے۔

نهج البلاغه- حكمت 3.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

7- غریب اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیتی ہے

قال علی علیه السلام:

الْغِنی فِی الْغُرْبَةِ وَطَنٌ وَ الْفَقْرُ فِی الْوَطَنِ غُرْبَةٌ

دولت پردیس میں بھی وطن بنا دیتی ہئ اور غربت اپنے ہی وطن میں انسان کو اجنبی بنا دیتی ہے

بحار الانوار- جلد 72- صفحه 194.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

8- غربت انسان کی ہیبت ختم کر دیتی ہے

قال الصادق علیه السلام:

الْهَیبَةُ مِنَ الْفَقیرِ مُحالٌ

غربت انسان کی عزت و وقار کو تباہ کر دیتی ہے۔

بحار الانوار- جلد 72- صفحه 194

دعا عرفہ / اردو ترجمہ

امام سجاد علیہ السلام کی احادیث

عَجَباً کُلّ الْعَجَبِ لِمَنْ عَمِلَ لِدارِ الْفَناءِ وَتَرَکَ دارَ الْبقاء

مجھے تعجب ہے اُس شخص پر جو دارِ فنا کے لئے تو (خوب) عمل کرتا ہے، مگر دارِ بقا کو چھوڑ دیتا ہے۔

(بحارالأنوار: ج 73، ص 127، ح 128)

نَظَرُ الْمُؤْمِنِ فِى وَجْهِ أخِیهِ الْمُؤْمِنِ لِلْمَوَدَّهِ وَالْمَحَبَّهِ لَهُ عِبادَه

اپنے برادرِ مومن کے چہرے پر محبت و الفت بھری نگاہ ڈالنا عبادت ہے۔

(تحف العقول، ص 204، /بحارالأنوار، ج 78، ص 140، ح 3)

إنَّ أفْضَلَ الْجِهادِ عِفَّهُ الْبَطْنِ وَالْفَرْج

با فضیلت ترین جہاد اپنے شکم اور شرمگاہ کی حفاظت ہے۔

(مشکاۃ الأنوار، ص 157، س 20)

لَوْ یَعْلَمُ النّاسُ ما فِى طَلَبِ الْعِلْمِ لَطَلَبُوهُ وَ لَوْبِسَفْکِ الْمُهَجِ وَ خَوْضِ اللُّجَجِ

اگر لوگ طلب علم کی فضیلت سے آگاہ ہو جاتے تو پھر وہ اسکی طلب میں خون بہانے اور گہرے سمندروں میں غوطہ لگانے پر بھی تیار ہو جاتے۔

(اصول کافى، ج 1، ص 35، /بحارالأنوار، ج 1، ص 185، ح 109)

مَنْ زَوَّجَ لِلّهِ، وَوَصَلَ الرَّحِمَ تَوَّجَهُ اللّهُ بتَاجِ الْمَلَکِ یَوْمَ الْقِیامَهِ

جو شخص خوشنودیٔ خدا کے لئے شادی کرے اور اپنے عزیز رشتہ داروں کے ساتھ ناتہ جوڑے رکھے تو خداوند عالم روز قیامت اُسے تاج ملک سے نوازے گا۔

(مشکاه الأنوار، ص 166)

اَلْخَیْرُ کُلُّهُ صِیانَهُ الاْنْسانِ نَفْسَهُ

تمام خیر و سعادت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے اوپر قابو رکھے۔

(تحف العقول، ص201، /بحارالأنوار، ج 75، ص 136، ح 3)

سادَةُ النّاسِ فی الدُّنْیا الاَسْخِیاء، وَ سادَةُ الناسِ فی الاخِرَةِ الاَتْقیاء

سخی افراد دنیا میں اور تقی (با تقوا) افراد آخرت میں لوگوں کے سید و سردار ہیں۔

(مشکاة الا نوار، ص 232، س 20، /بحارالا نوار، ج 78، ص 50، ح 77)

کانَ [رسولُ الله] إذا أوَى إلىَ مَنزِلِهِ، جَزَّءَ دُخُولَهُ ثَلاثَةَ أجزَاءٍ: جُزءاً لِلَّهِ، وَجُزءاً لِأهلِهِ، وَجُزءاً لِنَفسِهِ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشار فرماتے ہیں:

اپنے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرو؛ ایک حصہ اپنے پروردگار کے لئے، ایک حصہ اپنے بال بچوں کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے۔

(مکارم الأخلاق، ج 1، ص 44)

مَا مِن قَطرَةٍ أَحَبُّ إِلَی الله عَزَّوَجَل مِن قَطرَةِ دَمٍ فِی سَبِیلِ الله و قَطرَةِ دَمعَةٍ فِی سَوادِ اللَّیل

خداوند عالم دو قطروں کو خوب پسند کرتا ہے: ایک راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ اور ایک شب کی تاریکی میں آنکھوں سے بہنے والے آنسو کا قطرہ۔

(خصائل الصدوق، ص 50)

مَن عَمِلَ بما افتَرَضَ اللهُ عَلَیهِ فَهُوَ مِن خَیر النَّاس

جو شخص واجبات خدا پر عمل کرتا ہو، وہ سب سے بہتر و بالاتر شخص ہے۔

(جهاد النفس ح 237)

الدُّعاءُ یَدفَعُ البَلاءَ النّازِلَ وَما لَم یَنزِلْ

دعا سے نازل ہو چکی اور نازل ہونے والی، دونوں بلائیں دور ہوتی ہیں۔

(الکافی، ج 2 ، ص 469 ح 5،/میزان الحکمة، ج 2 ، ص 870)

الذُّنُوبُ الّتى تُنزِلُ النِّقَمَ عِصیانُ العارِفِ بِالبَغىِ وَ التَطاوُلُ عَلَى النّاسِ وَ الاِستِهزاءُ بهِم وَ السُّخریَّةُ مِنهُم

تین گناہ ہیں جو نزول عذاب کا باعث بنتے ہیں: شعور و آگاہی کے ساتھ کسی پر ستم کرنا، دوسروں کے حقوق پامال کرنا اور دوسروں کا مذاق اڑانا۔

(معانى الاخبار ، ص 270)

آیاتُ الْقُرْآنِ خَزائِنُ الْعِلْمِ، کُلَّما فُتِحَتْ خَزانَةٌ، فَیَنْبَغی لَکَ أنْ تَنْظُرَ ما فیها

قرآنی آیات علوم کا خزانہ ہیں، جب کبھی کوئی خزینہ کھولا جائے تو اسے خود اچھی طرح ٹٹولا کرو۔

(مستدرک الوسائل، ج 4، ص 238، ح 3)

إیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْفاسِقِ، فَإنّهُ بائِعُکَ بِأَکْلَةٍ أوْ أَقَلّ مِنْ ذلِکَ وَإیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْقاطِعِ لِرَحِمِهِ فَإنّى وَجَدْتُهُ مَلْعُونا فى کِتاب ِاللّهِ

فاسق و فاجر شخص کے ساتھ دوستی کرنے سے بچو، کیوں کہ وہ تمہیں چند لقموں حتیٰ ایک لقمے کے عوض فروخت کر دے گا۔اسی طرح عزیز رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والے کی دوستی سے بھی پرہیز کرو، کیوں کہ میں نے کتابِ خدا میں اُسے ملعون پایا ہے۔

(تحف العقول ص 202، /بحارالا نوارف ج 74، ص 196، ح 26)

سلام کرنے کی فضیلت و اہمیت  


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام کرنے کی فضیلت و اہمیت

قرآن اور روایات محمد و آل محمد علیہم السلام کی روشنی میں

اسلام سراپا امن وسلامتی اور عافیت کا مذہب ہے، دنیا وآخرت کی مکمل فلاح وکا مرانی اسی بابرکت دین سے وابستہ ہے ،سراپا امن وسلامتی سے عبارت اس دین برحق کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں پر کبھی شدت وتنگی اور جبروتشدد کو روا نہیں رکھتا ہے، بلکہ ہر ممکن آسانی اور سہولت کا طریقہ اپناتا ہے، چنانچہ اس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکامات سے آگاہ کیا ہے، اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو اعتقادات وعبادات کی تعلیم دیتا ہے، وہیں معاملات، معاشیات اوراقتصادیات کے آداب اور طریقے بھی بتلاتا ہے، غرض کوئی گوشہ نہیں ہے جس کے متعلق اسلام کے زریں احکامات وارد نہ ہوئے ہوں، باہمی اتحاد، آپس کے میل ملاپ او رایک اچھے معاشرے کی تشکیل کیلئے باہمی رابط انتہائی ناگزیر ہے، اس لیے قرآن کریم اور روایات حضرات محمد و آل محمد ؑنے متعدد مقامات پر اس کی اہمیت پر زور دیا او رایک دوسرے سے ملتے وقت کا طریقہ ادب بھی بتلایا ہے کہ جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں تو سلام کریں، یہ باہمی محبت والفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

ایک دوسرے کو سلام کرنا ایک اسلامی شعار ہے، جو آپس میں محبت پیدا کرکے بہت سی معاشرتی بیماریوں کو ختم کر دیتا ہے، سلام اظہار محبت و مودت اور رقت قلبی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ سے غیظ وغضب سے بھرپور آنکھیں شرمگیں اور دشمن کا آہنی دل بہت جلد موم ہو جاتا ہے۔

مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ﷺ نے جو سب سے پہلا خطبہ ارشاد فرمایا ، اس میں تین باتوں کا خاص اہتمام فرمایا، جن میں سب سے پہلے سلام کو رواج دینا ہے کہ جس سے بھی ملاقات ہو اس کو سلام کیا جائے، چاہے جان پہچان کا ہو یانہ ہو، ہر ایک کو سلام کرے، اس سے آپس میں محبت اور تعلق پیدا ہوتا ہےیہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں اس کی فضیلت واہمیت پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے رواج پر جنت میں داخلہ کی بشارت بھی سنائی گئی ہے۔

سلام کے معا نی

سلام سے مراد دراصل سلامتی ، امن اور عا فیت ہے ۔ سلامتی میں انسان کی ساری زندگی اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں ۔راغب اصفہانی نے المفردات میں لکھا ہے :

السلام التعري من الآفات الظاهرة والباطنة یعنی ظاہری اور باطنی آفات و مصائب سے محفوظ رہنا

پس جب ہم کسی کو "اسلام علیکم " کہتے ہیں تو اس کا یہ معنی ہوتا ہے کہ "تم جسمانی ، ذہنی اور روحا نی طور پر عافیت میں رہو "تمہاری دنیا اور آخرت کی زندگی کے تمام معمولات اور انجام ،امن اور عافیت والے ہوں ۔

جیسا کہ کہا گیا ہے کہ "سلام" خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا مطلب ہے عیب اور نقصان سے حفاظت، پس جو شخص سلام بھیجتا ہے وہ درحقیقت دوسرے کے عیب اور نقصان سے محفوظ رہنے کی خواہش کرتا ہے۔

سلام کرنے کے آداب​

گفتگو شروع کرنے سے پہلے سلام کریں

اضافہ کے ساتھ سلام کا جواب دیں

چھوٹا بڑے کو سلام کرے ، گذرنے والا بیٹھے ہوئے کو ، سوار پیدل چلنے والے کو،پیدل چلنے والا کھڑے ہوئے کو سلام کرے

جب گھر ایسی حالت میں آئے کہ سب سو رہے ہوں تو آہستہ آواز میں اس قدر سلام کریں کہ سونے والوں کو کوئی دقت نا ہواور جاگنے والے سن بھی لیں

جب کسی کوسلام پہونچانے کی وصیت کی جائے تو وہ اس کو پورا کرو ، اور جن کو سلام کا پیغام بھیجا گیا ہو وہ اس طرح سے جواب دیں:[علیک وعلیہ السلام]اگر سلام بھجنے والی خاتون ہیں تو انہیں اس طرح جواب دیں [علیک وعلیھا السلام]

قضائے حاجت کے وقت سلام کا جواب نا دیا جائے

سلام میں پہل کرنے والا جواب دینے والے سے افضل ہے

گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اہل خانہ کو سلام کریں

سلام کرتے اور سلام کا جواب دیتے ہوئے مسکرانا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے

یاد رہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے جبکہ سلام کرنا سنت ہے

سلام کرنے کے فوائد​

آپس میں محبت پیدا ہوگی

جنت میں داخلہ کا سبب ہے

سلام کرنا حسن تعامل کی علامت ہے اس سے لوگوں کاآپسی حق ادا ہوتا ہے

اس سے تواضع پسندی عیاں ہوتی ہے

سلام گناہوں کے بخشش کا ذریعہ ہے

قرآن کریم میں سلام کرنے کا بیان

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ بُیُوۡتِکُمۡ حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ [1]
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو

اذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ [2]
جب وہ (فرشتے) اُن کے پاس آئے تو انہوں نے سلام پیش کیا، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواباً) سلام کہا، (ساتھ ہی دل میں سوچنے لگے کہ) یہ اجنبی لوگ ہیں۔

اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا [3]
انہی لوگوں کو (جنت میں) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔

فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً [4]
جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے ۔

وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ [5]
اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں تو آپ (ان سے شفقتًا) فرمائیں کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات (کے ذمّہ کرم) پر رحمت لازم کرلی ہے

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡھَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا [6]
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر سلام کرو، یا انہی الفاظ سے جواب دو، اللہ یقینا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡن [7]
پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیں ۔ ( اچھا بھائی ) سلام! انہیں عنقریب ( خود ہی ) معلوم ہو جائے گا ۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ [8]
اور اپنے رب سے ڈرنے والوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو،تم پاکیزہ رہے تو ہمیشہ رہنے کوجنت میں جاؤ۔

سَلٰمٌ ۟ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ [9]
(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا۔

سَلٰمٌ عَلٰی نُوۡحٍ فِی الۡعٰلَمِیۡنَ [10]
سلام ہو نوح پر سب جہانوں میں

قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ [11]
فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں، اور (آئندہ پھر) کچھ طبقے ایسے ہوں گے جنہیں ہم (دنیوی نعمتوں سے) بہرہ یاب فرمائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب آپہنچے گا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا [12]
اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا

سَلَامٌ عَلٰى مُوْسٰى وَهَارُوْنَ [13]
کہ موسٰی اور ہارون پر سلام ہو۔

سَلَامٌ عَلٰٓى اِلْ يَاسِيْنَ [14]
کہ ال یاسین پر سلام ہو

وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ [15]
اور رسولوں پر سلام ہو۔

اِنَّ اللّـٰهَ وَمَلَآئِكَـتَهٝ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا [16]
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔

اَلَّـذِيْنَ تَـتَوَفَّاهُـمُ الْمَلَآئِكَـةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّـةَ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ [17]
جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ پاک ہیں، فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو بہشت میں داخل ہوجاؤ بسبب ان کاموں کے جو تم کرتے تھے۔

قُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّـذِيْنَ اصْطَفٰى ۗ آللَّـهُ خَيْـرٌ اَمَّا يُشْرِكُـوْنَ [18]
کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے، بھلا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک بناتے ہیں۔

تَحِيَّتُهُـمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٝ سَلَامٌ ۚ وَّاَعَدَّ لَـهُـمْ اَجْرًا كَرِيْمًا [19]
جس دن وہ اس سے ملیں گے ان کے لیے سلام کا تحفہ ہوگا، اور ان کے لیے عزت کا اجر تیار کر رکھا ہے۔

روایات میں سلام کرنے کا بیان

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
فاذا دخلت بیتک فسلم علیہم یکثر خیرک [20]
جب تم اپنے گھر میں داخل ہو جاؤ تو گھر والوں پر سلام کرو تمہاری بھلائی میں اضافہ ہو گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
مَنْ لَقِىَ عَشَرَةً مِنَ الْمُسْلِمينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ كَتَبَ اللّهُ لَهُ عِتْقَ رَقَبَةٍ [21]
جو شخص دس مسلمانوں سے ملے اور ان کو سلام کرے اللہ تعالیٰ اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا سَلَّمَ الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ فَرَدَّ عَلَيْهِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ سَبْعِينَ مَرَّةً [22]
جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرتا ہے اور وہ جواب دیتا ہے تو فرشتے اس پر ستر مرتبہ سلام بھیجتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
وَالَّذى نَفْسى بِيَدِهِ لاتَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّى تُؤْمِنُوا، وَلاتُؤْمِنُونَ حَتّى تَحابُّوا، اَفَلا اَدُلُّكُمْ عَلى عَمَلٍ اِذا عَمِلْتُمُوهُ تَحابَبْتُمْ؟ قالُوا: بَلى يا رَسُولَ اللّهِ، قالَ: اَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ [23]
اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف رہنمائی کروں کہ جب تم اسے کرو گے تو تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ کہا: ہاں یا رسول اللہ ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سلام کرنے کو آپس میں پھیلاؤ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خَيْرُكُمْ مَنْ اَطْعَمَ الطَّعامَ، وَاَفْشَى السَّلامَ وَ صَلّى وَالنّاسُ نِيامٌ [24]
تم میں سے بہتر وہ ہے جو کھانا کھلائے، سب کو سلام کرے اور رات کو اس وقت نماز پڑھے جب لوگ آرام کر رہے ہوں (یعنی نماز شب پڑھے)۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلسَّلامُ مِنْ اَسْماءِ اللّهِ فَاَفْشُوهُ بَيْنَكُمْ، فَاِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ اِذا مَرَّبِالْقَوْمِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَاِنْ لَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ يَرُدُّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَاَطْيَبُ [25]
سلام خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے، لہٰذا اسے آپس میں پھیلاؤ، جب کوئی مسلمان کسی گروہ کے پاس پہنچتا ہے اور انہیں سلام کرتا ہے، اگر وہ جواب نہیں دیتے تو ان سے بہتر اور پاکیزہ (یعنی فرشتے) جواب دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَنَّ لِلْمُسْلِمِ عَلى اَخيهِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتّا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ اِذا لَقِيَهُ۔۔۔ [26]
ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے ملاقات کے وقت اسے سلام کرے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلا اُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ اَخْلاقِ اَهْلِ الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ ؟ قالُوا : بَلى يا رَسُولَ اللّهِ ، فَقالَ : اِفْشاءُ السَّلامِ فِى الْعالَمِ [27]
کیا آپ پسند کریں گے کہ میں آپ کو دنیا اور آخرت کے لوگوں کے بہترین اخلاق بتاؤں؟ کہا: ہاں یا رسول اللہﷺ ، فرمایا: ان کا بہترین اخلاق دونوں جہانوں میں سلام کو پھیلانا ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ فِى الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظاهِرُها مِنْ باطِنِها، وباطِنُها مِنْ ظاهِرِها، يَسْكُنُها مِنْ اُمَّتِى مَنْ اَطابَ الْكَلامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعامَ، وَاَفْشَى السَّلامَ، وَصَلّى بِاللَّيْلِ وَالنّاسُ نِيامٌ، ثُمَّ قالَ: اِفْشاءُ السَّلامِ اَنْ لايَبْخَلَ بِالسَّلامِ عَلى اَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمينَ [28]
جنت میں ایسے محلات اور کمرے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے ، میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو پاکیزہ بات کریں گے، سلام کریں گے اور رات کو اس وقت نماز شب پڑھیں گے جب لوگ سو رہے ہوں گے۔ پھر فرمایا: سلام کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو سلام کرنے میں بخل نہیں کریں گے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا تَلاقَيْتُمْ فَتَلاقُوا بِالتَّسْلِيمِ وَالتَّصافُحِ وَاِذا تَفَرَّقْتُمْ فَتَفَرَّقُوا بِالاْءسْتِغْفارِ [29]
جب تم ملو تو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور جب الگ ہو جاؤ تو ایک دوسرے کے لیے استغفار کرو۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
يا اَ نَسُ! سَلِّمْ عَلى مَنْ لَقيتَ، يَزيدُ اللّهُ فِى حَسَناتِكَ، وَ سَلِّمْ فِى بَيْتِكَ يَزيدُ اللّهُ فِى بَرَكَتِكَ [30]
اے انسان! گھر سے باہر ہر ملنے والے کو سلام کریں کیونکہ اس سے آپ کے نیک اعمال اور اجر میں اضافہ ہوگا اور جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوں تو سب کو سلام کریں، اللہ آپ کو بھلائی اور برکت عطا کرے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا دَخَلَ اَحَدُكُمْ بَيْتَهُ فَلْيُسَلِّمْ فَاِنَّهُ يُنْزِلُهُ الْبَرَكَةَ، وَتُؤْنِسُهُ الْمَلائِكَةَ [31]
تم میں سے ہر ایک دوسرے کو سلام کرے جب وہ اپنے گھر میں داخل ہو، کیونکہ سلام کرنے سے رحمت، مہربانی اور فرشتوں کی محبت نازل ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتَكُمْ فَسَلِّمُوا عَلى اَهْلِها فَاِنَّ الشَّيْطانَ اِذا سَلَّمَ اَحَدُكُمْ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُ فِى بَيْتِهِ [32]
جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو، کیونکہ ایسا کرنے سے شیطان گھر میں داخل نہیں ہوتا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا قـامَ الرَّجُـلُ مِـنْ مَجْـلِسِهِ فَـليُوَدِّعْ اِخْـوانَهُ بِالسَّـلامِ، فَـاِنْ اَفاضُوا فِى خَيْرٍ كانَ شَريكَهُمْ وَاِنْ اَفاضُوا فِى باطِلٍ كانَ عَلَيْـهِمْ دُونَهُ [33]
جب کوئی کسی محفل سے اٹھے تو اپنے بھائیوں کو سلام کے ساتھ الوداع کرے کیونکہ اس صورت میں اگر انہیں خیر پہنچے گا تو وہ ان کا شریک ہو گا اور اگر نقصان پہنچے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
... تَحِيَّةُ اَهْلِ الْجَنَّةِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ [34]
اہل جنت کا سلام "السلام علیکم" ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَطْوَعُكُمْ لِلّهِ اَلَّذى يَبْدَأُ صاحِبَهُ بِالسَّلامِ [35]
تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ فرمانبردار وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلْبادى بِالسَّلامِ بَرِئٌ مِنَ الْكِبْرِ [36]
سلام کرنے میں پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
يُسَلِّمِ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبيرِ، وَيُسَلِّمِ الْواحِدُ عَلَى الاْثْنَيْنِ، وَيُسَلِّمِ الْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ، وَيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الْماشى، وَيُسَلِّمِ الْمارُّ عَلَى الْقائِمِ وَ يُسَلِّمِ الْقائِمُ عَلَى الْقاعِدِ [37]
چھوٹے کو بڑے پر سلام کرنا چاہیے۔ ایک شخص کو دو لوگوں پر سلام کرنا چاہیے۔ تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں پر سلام کرنا چاہیے۔ سوار پیدل چلنے والے پر سلام کرے ۔ راہ گیر کھڑے ہوئے شخص پر سلام کرے اور جو کھڑا ہو اسے بیٹھے ہوئے پر سلام کرنا چاہیے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لا غِرارَ فِى الصَّلاةِ وَلاالتَّسْليمِ [38]
نماز اور سلام کرنے میں کوئی تاخیر یا جلدبازی نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلسِّلامُ تَطَوُّعٌ وَالرَّدُّ فَرِيضَةٌ [39]
سلام کرنا مستحب ہے اور جواب دینا واجب ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اَعْـجَزَ النّـاسِ مَـنْ عَجَـزَ مِنَ الدُّعاءِ وَاِنَّ اَبْخَلَ النّاسِ مَنْ بَخِـلَ بِالسَّـلامِ [40]
لوگوں میں سب سے زیادہ بے بس وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجز ہو اور سب سے زیادہ کنجوس وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلْمَلائِكَةُ تُعَجِّبُ مِنَ الْمُسْلِمِ يَمُرُّ عَلَى الْمُسْلِمِ فَلايُسَلِّمُ عَلَيْهِ [41]
جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے پاس سے گزرتا ہے اور اسے سلام نہیں کرتا تو فرشتے اس مسلمان پر تعجب کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خمْسٌ لا اَدَعُهُنَّ حَتَّى الْمَماتِ: ... وَالتَّسْلِيمَ عَلَى الصِّبْيانِ لِتَكُونَ سُنَّةً مِنْ بَعْدِى [42]
میں آخری دم تک پانچ چیزوں کو ترک نہیں کروں گا: ... ان میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا ہے تاکہ میرے بعد یہ سنت قائم ہو جائے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
السَّلَامُ تَطَوُّعٌ وَ الرَّدُّ فَرِیضَۃٌ [43]
سلام کرنا مستحب ہے اور جواب واجب ہے۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
لِلسَّلامِ سَبْعُونَ حَسَنَةٌ، تِسْعَةٌ وَ سِتُّونَ لِلْمُبْتَدى وَواحِدَةٌ لِلرّادِّ [44]
سلام کی ستر نیکیاں ہیں، ان میں سے انہتر نیکیاں سلام کرنے والے کے لیے ہیں اور صرف ایک نیکی جواب دینے والے کے لیے ہے۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
اِذا دَخَلَ اَحَدُكُمْ مَنْزِلَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلى اَهْلِهِ، يَقُولُ: اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَاِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ اَهْلٌ فَلْيَقُل: اَلسَّلامُ عَلَيْنا مِنْ رَبِّنا [45]
جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرے اور کہے: السلام علیکم ، اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو وہ کہے: " اَلسَّلامُ عَلَيْنا مِنْ رَبِّنا " (ہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو)۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
لِكُلِّ داخِلٍ دِهْشَةٌ فَابْدَئُوا بِالسَّلامِ [46]
ہر نیا آنے والا ایک قسم کا خوف محسوس کرتا ہے، اس لیے سلام کے ساتھ ابتدا کریں۔

امام حسین ؑ نے فرمایا :
كَيْفَ اَنْتَ عافاكَ اللّهُ؟ فَقالَ عليه السلام لَهُ: اَلسَّلامُ قَبْلَ الكَلامِ عافاكَ اللّهُ، ثُمَّ قالَ عليه السلام : لاتَأذَنُوا لاِحَدٍ حتّى يُسَلِّمَ [47]
ایک شخص نے امام حسین ؑ سے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے ، آپ کیسے ہیں؟ ۔ امام نے فرمایا: اللہ آپ کو عافیت دے پہلے سلام، پھر کلام ۔ اور فرمایا: کسی کو اس وقت تک کلام کی یا داخلہ کی اجازت نہ دیں جب تک کہ وہ سلام نہ کرے۔

امام باقر ؑ نے فرمایا :
اِنَّ اللّهَ يُحِبُّ اِطْعامَ الطَّعامِ وَاِفْشاءَ السَّلامِ [48]
خدا تعالی دوسروں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنے کو رواج دینے کو پسند کرتا ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِنَّ مِنْ مُوجِباتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلامِ وَحُسْنُ الْكَلامِ [49]
انسان کی بخشش کا باعث بننے والے عوامل میں سے ایک سلام کرنا اور اچھی گفتگو کرنا ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
جَمَعَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله بَنِى عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقالَ: يا بَنى عَبْدِالْمُطَّلِبِ اَفْشُوا السَّلامَ وَصِلُوا الاْرْحامَ، وَتَهَجَّدُوا وَالنّاسُ نيامٌ، وَاَطْعِموُا الطَّعامَ، وَاَطِيبُوا الْكَلامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلامٍ [50]
رسول اللہ ﷺ نے عبدالمطلب کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا: اے عبدالمطلب کے بیٹو! سلام کو عام کرو ، رشتہ داریاں قائم رکھو، اور لوگ جب سو رہے ہوں تو عبادت کرو ، انہیں کھانا کھلاؤ، پاکیزہ گفتگو کرو تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اَلْبادِى بِالسَّلامِ اَوْلى بِاللّهِ وَبِرَسُولِهِ [51]
سلام کی ابتدا کرنے والا خدا اور اس کے رسول سے زیادہ قریب ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اَذا سَلَّمَ اَحَدُكُمْ فَلْيَجْهَرْ بِسلامِهِ وَلايَقُولُ: سَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ وَلَعَلَّهُ يَكُونُ قَدْ سَلَّمَ وَلَمْ يُسْمِعْهُمْ، فَاِذا رَدَّ اَحَدُكُمْ فَلْيَجْهَرْ بِرَدِّهِ وَلايَقُولُ الْمُسْلِمُ: سَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ [52]
جب تم میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو اسے بلند آواز سے سلام کرو اور یہ نہ کہو کہ میں نے تمہیں سلام کیا اور تم نے جواب نہیں دیا۔ شاید اس نے سلام کہا لیکن سنا نہیں گیا۔ اور جب کوئی سلام کا جواب دے تو بلند آواز سے جواب دو تاکہ سلام کرنے والا یہ نہ کہے کہ میں نے تمہیں سلام کیا اور آپ نے جواب نہیں دیا۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِنَّ مِنَ التَّواضُعِ اَنْ يَرْضَى الرَّجُلُ بِالْمجْلِسِ دُونَ الْمَجْلِسِ،وَاَنْ يُسَلِّمَ عَلى مَنْ يَلْقى ... [53]
عاجزی کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان مجلس کے آخر میں بیٹھے اور ہر آنے والے کو سلام کرے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
ثَلاثَةٌ لايُسَلِّمُونَ: اَلْماشى مَعَ الْجَنازَةِ وَالْماشى اِلى الْجُمُعَةِ وَ فِى بَيْتِ حَمّامٍ [54]
تین آدمیوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا ضروری نہیں:
1جنازہ کے ساتھ جانے والا شخص۔
2 نماز جمعہ کے لیے جانے والا۔
3 وہ شخص جو غسل خانے میں ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِذا سَلَّمَ مِنَ الْقَوْمِ واحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ وَاِذارَدَّ واحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ [55]
جب آپ کسی گروپ میں ہوتے ہیں تو ایک شخص کا آپ کو سلام کرنا کافی ہوتا ہے اور گروپ میں ایک شخص کا جواب دینا کافی ہوتا ہے۔

نتیجہ
یہ مذکورہ تمام وہ آداب ہیں جوروایات سے ثابت ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے آداب ہیں، سلام کرتے وقت جن کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی کام میں مشغول ہو اور یہ اندازہ ہو کہ سلام کرنے سے اس کے کام میں خلل واقع ہو گا تو ایسی صورت میں اس کو سلام کرنا درست نہیں، بلکہ اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے، مثلاً کوئی آدمی نماز میں مشغول ہے یا ذکر کر رہا ہے یا وعظ ونصحیت میں مشغول ہے یا خطبہ وتقریر سن رہا ہے یا قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے یا اذان دے رہا ہے یا قاضی ومفتی کسی فیصلے یا مسئلہ بتانے میں مشغول ہے یا کھانے پینے میں مصروف ہے یا قضائے حاجت یا پیشاب کرنے میں مشغول ہے یا غسل خانہ میں ہے، یا وضو کر رہا ہے یا دعا مانگ رہا ہے یا اسی طرح کسی اور کام میں مصروف ہے تو ایسے آدمی کو سلام کرنا مکروہ ہے، اگر کوئی اس حالت میں ان لوگوں کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں۔
مذکورہ روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا طرز عمل تمام امت کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، جو سلام کرنے والے کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سلام کرتے وقت اپنے مخاطب کے حالات کی رعایت رکھنا انتہائی ضروری ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس شعار دین کو زیادہ سے زیادہ رواج دے کربار گاہ ایزدی میں تقرب حاصل کرے۔
ایک دوسرے سے ملتے وقت سلام کرنا انتہائی خوبصوت انداز ہے جس کی تعلیم دین مقدس اسلام نے دی ہے۔ معاشرے میں سلام کر پرچار کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے خصوصا آج کے معاشروں میں جہاں سلام کرنے کا رواج کم ہوتا جارہا ہے۔ سب سے بہترین طریقہ اس مورد میں خود کا سلام میں پہل کرنا اور بلند آواز سے سلام کرنا ہے، تاکہ دوسرے صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے سیکھے۔

[1] ۔ نور/27
[2] ۔ الذاریات/ 25
[3] ۔ فرقان/ 75
[4] ۔ نور/61
[5] ۔ انعام/ 54
[6] ۔ نساء/ 86
[7] ۔ زخرف/ 89
[8] ۔ زمر/ 73
[9] ۔ یٰس/ 58
[10] ۔ صافات / 79
[11] ۔ هود / 48
[12] ۔ مريم / 33
[13] ۔ صافات / 120
[14] ۔ صافات/ 130
[15] ۔ صافات / 181
[16] ۔ احزاب / 56
[17] ۔ النحل/ 32
[18] ۔ ٰنمل / 59
[19] ۔ احزاب / 44
[20] ۔ عوالی للالی ۲:۱۳۵
[21] ۔ بحار ، ج 76، ص 4
[22] ۔ محجه البيضاء، ج 3، ص 382
[23] ۔ محجة البيضاء، ج 4، ص 382
[24]۔ همان، ص 3
[25] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[26] ۔ همان، ص 5
[27] ۔ همان، ص 12
[28] ۔ همان، ص 2
[29] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 5
[30] ۔ همان، ص 3
[31] ۔ همان، ص 7
[32] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 382
[33] ۔ بحارالأنوار،ج76، ص9
[34] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 6
[35] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 536، شماره 8846
[36] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 536، شماره 8848
[37] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 538، شماره 8857
[38] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 6
[39] ۔ ميزان الحكمة، ج4، ص 537، شماره 8854
[40] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص4
[41] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 382
[42] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[43] ۔ اصول الکافی ۲:۶۴۴
[44] ۔ همان، ص 11
[45] ۔ همان، ص 4
[46] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 526، شماره 7750
[47] ۔تحف العقول 246، موسوعة كلمات الامام الحسين عليه السلام 750/913
[48]۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[49] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 11
[50] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[51] ۔ همان، ص 1 .
[52] ۔محجّة البيضاء، ج 3، ص 384
[53] ۔ همان، ص 6 .
[54] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 385 .
[55] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 385 .

امت واحدہ

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں ۔۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

عالم اسلام میں اس وقت زبوں حالی کا مرض اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ چکا ہے مسلمان ممالک کے سربراہان عالمی طاغوتی طاقتوں کے دام تزویر میں پھنس کر رہ گئے ہیں ، پوری دنیا کے مسلمان انتہائی کرب ناک کیفیت سے دو طار ہیں فلسطین ہو یا شام ، یمن ہو یا افغانستان ، کشمیر ہو یا پاکستان ،مسلمان ظلم و جور کی چکی میں پس رہے ہیں ، مظلوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔ مسلمان حکمران اپنی اپنی حکمرانی کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں ، ان سب مظالم اور استحصال کا سبب امت مسلمہ کا باہمی اختلاف و انتشار ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اہل اسلام باہمی فروعی اور علاقاعی و لسانی اختلافات بھلا کر ملت واحدہ بن جائیں اور اتحاد و یگانگت سے اسلام کی مخالف قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ، تاکہ مسلمان قوم اپنے دین اسلام پر خود عمل پیرا ہو کر دیگر اقوام کی رہنمائی و رہبری کی طرف توجہ دیں ۔

مسلمانوں کو اللہ نے بہترین اُمت بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں نیکی اور تقویٰ کا درس دیتے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو روکنے والے ہیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا یہ اہم فریضہ اس وقت سرانجام ہو سکتا ہے جب ہم آپس میں پیار و اتفاق سے رہیں گے۔ شاید اسی لئے فتح و نصرت کو اللہ نے اجتماعی ایمان سے مشروط فرما دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہوَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ

تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ( آلعمران/139)۔گویا جب پوری اُمت مسلمہ میں اتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہو جائے گی تو وہ سب ایک دوسرے کے ہمدرد،غم خوار اور جانثار بن جائیں گے اور ان کی صفوں میں ایسی شیرازہ بندی قائم ہو جائے گی کہ کوئی بڑی سے بڑی عالمی قوت بھی ان کی راہ میں رکاؤٹ نہ بن پائے گی۔ ہمیں تو اللہ خود اپنی مقدس کتاب ہدایت میں یہ حکم دے رہا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو (آل عمران/ 103)

وطن عزیز پاکستان میں عرصہ دراز سے مسلمانوں اپنے مسلمان بھائیوں کا بے دریغ خون بہا رہے ہیں ،کوئیٹہ سے پاراچنار تک ہزاروں خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوئے ۔ اسلام کے داعی اور شدت پسند مذہبی گروہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ اسلام کی خدمت نہیں ، بلکہ دین اسلام کی سراسر مخالف ہے ۔ عالمی طاغوتی قوتیں سب مسلمانوں کو ایک جیسا سمجھتی ہیں اور وہ سب کے مشترکہ دشمن ہیں ۔ کاش یہ بات وہ لوگ جو غیروں کے مفاد کے لئے کام کر رہے ہیں ، سوچتے اور اسلامی اتحاد کی کوشش کر کے غیروں کے ارادے خاک میں ملا دیتے ۔

ہم نے قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے، اس لئے آج ہم مفلوک الحال اورپریشان ہیں۔ موجودہ حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں،وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ ہم مسلمان اتحاد واتفاق کی فضاء قائم کریں۔ فرقہ واریت کا زہر جو ہماری نئی نسل میں ڈالا گیا ہے اس کو پیار بڑھا کر ختم کریں۔

ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہر کلمہ گو دوسرے کلمہ گوکا بھائی ہے ۔ نیز فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے دیوار کی مانند ہے جس کی اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے ۔ پیارے نبی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ تمام مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں ، جب ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم درد اور بے چینی محسوس کرتا ہے

البلاغ المبین کے صفحات پر بارہا ہم نے اتحاد امت کی طرف اہل اسلام کی توجہ دلائی ہے ۔ ہم تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشور حضرات سے دل کی گہرائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ تعلیمات اسلام کے لئے متحد ہو جائیں اور ایک آواز ہو کر مسلمانوں کی خیر خواہی اور فلاح و بہبود کے لئے سینہ سپر ہو جائیں ، تاکہ ظلم و غارت گری کے بادل چھٹ جائیں اور امت اسلامیہ عزت کی زندگی بسر کر سکے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں اخوت و محبت و ہمدردی اور ملکی وملی اور سماجی و سیاسی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سر بلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جیئیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی ملے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

ماہ رمضان کی فضیلت کے بارے میں مولا علی ؑ کا خطبہ

امیرالمومنین علی علیہ السلام نے یکم ماہ مبارک رمضان کو مسجد کوفہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالی کی افضل ترین اور شریف ترین اور بلیغ ترین حمد اوربہترین ثنا کے بعد اور اس کے نبی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر صلوات بھیجنے کے بعد فرمایا: خَطَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع فِي أَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ بِأَفْضَلِ الْحَمْدِ وَ أَشْرَفِهَا وَ أَبْلَغِهَا وَ أَثْنَى عَلَيْهِ بِأَحْسَنِ الثَّنَاءِ وَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّهِ ص ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ شَهْرٌ فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَى سَائِرِ الشُّهُورِ كَفَضْلِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ عَلَى سَائِرِ النَّاسِ وَ هُوَ شَهْرٌ يُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَ يُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النِّيرَانِ وَ هُوَ شَهْرٌ يُسْمَعُ فِيهِ النِّدَاءُ وَ يُسْتَجَابُ فِيهِ الدُّعَاءُ وَ يُرْحَمُ فِيهِ الْبُكَاءُ وَ هُوَ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ فِيهَا مِنَ السَّمَاءِ فَتُسَلِّمُ عَلَى الصَّائِمِينَ وَ الصَّائِمَاتِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى مَطْلَعِ الْفَجْرِ وَ هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قُدِّرَ فِيهَا وَلَايَتِي قَبْلَ أَنْ خُلِقَ آدَمُ ع بِأَلْفَيْ عَامٍ صِيَامُ يَوْمِهَا أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ أَلْفِ شَهْرٍ وَ الْعَمَلُ فِيهَا أَفْضَلُ مِنَ الْعَمَلِ فِي أَلْفِ شَهْرٍ اے لوگو! بیشک یہ مہینہ، ایسا مہینہ ہے جسے اللہ نے دوسرے مہینوں پر فضیلت دی ہے، جیسے ہم اہل بیت کی دیگر لوگوں پر فضیلت ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں آسمان کے دروازے اور رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس میں آگ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں فریاد سنی جاتی ہے اور اس میں دعا مستجاب ہوتی ہے اور اس میں گریہ پر رحم کیا جاتا ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں ایسی رات ہے جس رات میں فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں، پس روزہ دار مردوں اور عورتوں پر اپنے پروردگار کے اذن سے فجر کے طلوع تک سلام بھیجتے ہیں اور وہ ، شب قدر ہے۔اور یہ وہی رات ہے جس میں میری ولایت کو آدم (علیہ السلام) کے خلق ہونے سے دو ہزار سال پہلے، مقدر کیا گیا۔ اس کے دن میں روزہ رکھنا ہزار مہینوں کی روزہ داری سے افضل ہے اور اس میں عمل کرنا، ہزار مہینوں کے عمل سے افضل ہے أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ شُمُوسَ شَهْرِ رَمَضَانَ لَتَطْلَعُ عَلَى الصَّائِمِينَ وَ الصَّائِمَاتِ وَ إِنَّ أَقْمَارَهُ لَيَطْلَعُ عَلَيْهِمْ بِالرَّحْمَةِ وَ مَا مِنْ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ مِنَ الشَّهْرِ إِلَّا وَ الْبِرُّ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى يَتَنَاثَرُ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ فَمَنْ ظَفِرَ مِنْ نِثَارِ اللَّهِ بَدْرَةً كَرُمَ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ يَلْقَاهَا وَ مَا كَرُمَ عَبْدٌ عَلَى اللَّهِ إِلَّا جَعَلَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ عِبَادَ اللَّهِ ۔ إِنَّ شَهْرَكُمْ لَيْسَ كَالشُّهُورِ أَيَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَيَّامِ وَ لَيَالِيهِ أَفْضَلُ اللَّيَالِي وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ هُوَ شَهْرٌ الشَّيَاطِينُ فِيهِ مَغْلُولَةٌ مَحْبُوسَهٌ هُوَ شَهْرٌ يَزِيدُ اللَّهُ فِيهِ الْأَرْزَاقَ وَ الْآجَالَ وَ يُكْتَبُ فِيهِ وَفْدُ بَيْتِهِ وَ هُوَ شَهْرٌ يُقْبَلُ أَهْلُ الْإِيمَانِ بِالْمَغْفِرَةِ وَ الرِّضْوَانِ وَ الرَّوْحِ وَ الرَّيْحَانِ وَ مَرْضَاةِ الْمَلِكِ الدَّيَّانِ اے لوگو! ماہ رمضان کے ہر دن کا سورج (اللہ کی) رحمتوں کے ساتھ روزہ دار مردوں اور عورتوں پر طلوع کرتا ہے جس طرح اس مہینے کا رحمتوں اور برکتوں بھرا چاند ان پر طلوع ہوتا ہے اور اس مہینے کے ہر دن اور رات میں اللہ تعالی کی طرف سے آسمان سے نیکی اور احسان اس امت پر نچھاور کی جاتی ہے پس جو شخص نعمت الہی کے نچھاور ہونے سے ذرہ برابر بھی بہرہ مند ہوجائے تو اللہ سے ملاقات (یعنی قیامت) کے دن اللہ کی بارگاہ میں صاحب عزت و مقام ہوگا اور جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں صاحب حیثیت بن جائے تو اللہ تعالی جنت کو اس کا ٹھکانہ بنادیتا ہے۔ خدا کے بندو! تمہارا یہ مہینہ، دوسرے مہینوں کی طرح نہیں ہونا چاہیےاس کے دن سب دنوں سے افضل اور اس کی راتیں سب راتوں سے افضل اور اس کی گھڑیاں سب گھڑیوں سے افضل ہیں ایسا مہینہ ہے جس میں شیاطین جکڑے ہوئے اور قید میں ہیں ایسا مہینہ ہے جس میں خداوندمتعال رزق اور لوگوں کی زندگیوں کو بڑھا دیتا ہے۔ اور اپنے بندوں کو اپنے گھر کا مہمان شمار کرتا ہے اور ایسا مہینہ ہے کہ اہل ایمان کو مغفرت ، اپنی رضا اور خوشنودی، روح و ریحان کے ساتھ اپنی بارگاہ میں شرف حضور بخشتا ہے ۔ أَيُّهَا الصَّائِمُ تَدَبَّرْ أَمْرَكَ فَإِنَّكَ فِي شَهْرِكَ هَذَا ضَيْفُ رَبِّكَ انْظُرْ كَيْفَ تَكُونُ فِي لَيْلِكَ وَ نَهَارِكَ وَ كَيْفَ تَحْفَظُ جَوَارِحَكَ عَنْ مَعَاصِي رَبِّكَ انْظُرْ أَنْ لَا تَكُونَ بِاللَّيْلِ نَائِماً وَ بِالنَّهَارِ غَافِلًا فَيَنْقَضِيَ شَهْرُكَ وَ قَدْ بَقِيَ عَلَيْكَ وِزْرُكَ فَتَكُونَ عِنْدَ اسْتِيفَاءِ الصَّائِمِينَ أُجُورَهُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ وَ عِنْدَ فَوْزِهِمْ بِكَرَامَةِ مَلِيكِهِمْ مِنَ الْمَحْرُومِينَ وَ عِنْدَ سَعَادَتِهِمْ بِمُجَاوَرَةِ رَبِّهِمْ مِنَ الْمَطْرُودِينَ ۔ أَيُّهَا الصَّائِمُ إِنْ طُرِدْتَ عَنْ بَابِ مَلِيكِكَ فَأَيَّ بَابٍ تَقْصِدُ وَ إِنْ حَرَمَكَ رَبُّكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَرْزُقُكَ وَ إِنْ أَهَانَكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يُكْرِمُكَ وَ إِنْ أَذَلَّكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يُعِزُّكَ وَ إِنْ خَذَلَكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكَ وَ إِنْ لَمْ يَقْبَلْكَ‏ فِي زُمْرَةِ عَبِيدِهِ فَإِلَى مَنْ تُرْجَعُ بِعُبُودِيَّتِكَ وَ إِنْ لَمْ يُقِلْكَ عَثْرَتُكَ فَمَنْ تَرْجُو لِغُفْرَانِ ذُنُوبِكَ وَ إِنْ طَالَبَكَ بِحَقِّهِ فَمَا ذَا يَكُونُ حُجَّتُكَ اے روزہ دار! اپنے کاموں میں غور و فکر سے کام لو کہ تم اس مہینے میں اپنے پروردگار کے مہمان ہو سوچو کہ اپنے دن رات کو کیسے گزار رہے ہو؟ اور کس طرح اپنے اعضا و جوارح کو اپنےپروردگار کی نافرمانی سے بچاتے ہو پس دیکھو ! ایسا نہ ہو کہ رات کو نیند میں رہو اور دن کو غفلت میں،اور تمہارا (یہ با برکت ) مہینہ گزر جائے اور (تمہارے گناہوں کا) بوجھ تمہارے ذمہ رہ جائے ( خدانخواستہ ایسا ہوا تو پھر ) جب روزہ دار اپنا اجر و ثواب لے رہے ہوں گے تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے شمار ہو گے اور جب وہ اپنی کرامت کی حکمرانی پر فائز ہوں گے تو تم محروم لوگوں کی صف میں کھڑے ہو گے اور جب وہ اپنے پروردگار کی ہمسائیگی میں سعادتمند ہوں گے تو تم ان میں سے ہو گے جنہیں دور کر دیا جائے گا! اے روزہ دار! اگر تجھے اپنے مالک کے دروازے سے دور کردیا گیا تو کس دروازے پر جاوگے؟ اور اگر تمہارے پروردگار نے تمہیں محروم کردیا تو کون ہے جو تمہیں رزق دے گا؟ اور اگر اس نے تمہیں خوار کردیا تو کون ہے جو تمہارا اکرام کرے گا؟ اور اگر اس نے تمہیں ذلیل کردیا تو کون ہے جو تمہیں عزت عطا کرے گا؟ اور اگر اس نے تمہیں چھوڑدیا تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا؟ اور اگر اس نے تمہیں اپنے بندوں کے زمرے میں قبول نہ کیا تو تم اپنی بندگی کو کس کے پاس لے جاوگے؟ اور اگر اس نے تمہاری خطاوں کو معاف نہ کیا تو تم اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے کس پر امید رکھوگے؟ اور اگر اس نے اپنا حق تم سے مانگا تو تمہاری حجت اور تمہارا جواب کیا ہوگا؟ أَيُّهَا الصَّائِمُ تَقَرَّبْ إِلَى اللَّهِ بِتِلَاوَةِ كِتَابِهِ فِي لَيْلِكَ وَ نَهَارِكَ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ تِلَاوَتِهِ فَيَعْلُونَ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ بِقِرَاءَةِ آيَاتِهِ بَشِّرْ أَيُّهَا الصَّائِمُ فَإِنَّكَ فِي شَهْرٍ صِيَامُكَ فِيهِ مَفْرُوضٌ وَ نَفَسُكَ فِيهِ تَسْبِيحٌ وَ نَوْمُكَ فِيهِ عِبَادَةٌ وَ طَاعَتُكَ فِيهِ مَقْبُولَةٌ وَ ذُنُوبُكَ فِيهِ مَغْفُورَةٌ وَ أَصْوَاتُكَ فِيهِ مَسْمُوعَةٌ وَ مُنَاجَاتُكَ فِيهِ مَرْحُومَةٌ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عِنْدَ فِطْرِ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ لَا يَعْلَمُ عَدَدَهُمْ إِلَّا اللَّهُ هُوَ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَهُ فَإِذَا كَانَ آخِرُ لَيْلَةٍ مِنْهُ أُعْتِقَ فِيهَا مِثْلُ مَا أُعْتِقَ فِي جَمِيعِهِ اے روزہ دار! اپنے دن اور رات میں ؛ قرآن مجید کی تلاوت کے ذریعے اللہ کی قربت حاصل کرو کہ بیشک اللہ کی کتاب ایسی شفاعت کرنے والی ہے کہ قیامت کے دن قاری کے حق میں اس کی شفاعت حتما قبول ہو گی ۔ پس تلاوت کرنے والے اس کی آیات کو پڑھنے سے جنت کے درجات پر اوپر جائیں گے۔ اے روزہ دار ! تمہیں خوشخبری ہو کہ تم ایسے مہینے میں ہو کہ جس میں روزہ تم پر فرض کیا گیا ہے اور اس میں تمہارا سانس لینا، تسبیح شمار ہوتا ہے اور اس میں تمہاری نیند، عبادت ہے اور اس میں تمہاری اطاعت قبول ہے اور اس میں تمہارے گناہ معاف ہیں اور تمہاری آوازیں اس میں سنی جاتی ہیں اور تمہاری مناجات پر اس میں رحم کیا جاتا ہے اور یقینا میں نے اپنے حبیب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے سنا کہ آپ فرماتے تھے: بیشک ماہ رمضان کی ہر رات کو افطار کے وقت اللہ تبارک و تعالی کی آگ سے کچھ آزاد کیے گئے (افراد) ہیں جن کی تعداد کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان کی تعداد، اس کی بارگاہ میں علم غیب میں ہے (یعنی روزانہ افطار کے وقت اتنی کثرت سے لوگ بخشے جاتے ہیں) ۔ پس جب اس مہینہ کی آخری رات آتی ہے تو اللہ اس رات میں اس سارے مہینہ میں آزاد کی ہوئی تعداد کے برابر، لوگوں کو آزاد کرتا ہے۔ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ زِدْنَا مِمَّا حَدَّثَكَ بِهِ حَبِيبُكَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ أَخِي وَ ابْنَ عَمِّي رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ مَنْ صَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَحَفِظَ فِيهِ نَفْسَهُ مِنَ الْمَحَارِمِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ الْهَمْدَانِيُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ زِدْنَا مِمَّا حَدَّثَكَ بِهِ أَخُوكَ وَ ابْنُ عَمِّكَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ‏ إِيمَاناً وَ احْتِسَاباً دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ الْهَمْدَانِيُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ زِدْنَا مِمَّا حَدَّثَكَ بِهِ خَلِيلُكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ فَقَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ سَيِّدَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُفْطِرْ فِي شَيْ‏ءٍ مِنْ لَيَالِيهِ عَلَى حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَ الْهَمْدَانِيُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ زِدْنَا مِمَّا حَدَّثَكَ بِهِ سَيِّدُ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ فِي هَذَا الشَّهْرِ فَقَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ أَفْضَلَ الْأَنْبِيَاءِ وَ الْمُرْسَلِينَ وَ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ يَقُولُ إِنَّ سَيِّدَ الْوَصِيِّينَ يُقْتَلُ فِي سَيِّدِ الشُّهُورِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا سَيِّدُ الشُّهُورِ وَ مَنْ سَيِّدُ الْوَصِيِّينَ قَالَ أَمَّا سَيِّدُ الشُّهُورِ فَشَهْرُ رَمَضَانَ وَ أَمَّا سَيِّدُ الْوَصِيِّينَ فَأَنْتَ‏ يَا عَلِيُّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ قَالَ إِي وَ رَبِّي إِنَّهُ يَنْبَعِثُ أَشْقَى أُمَّتِي شَقِيقُ عَاقِرِ نَاقَةِ ثَمُودَ ثُمَّ يَضْرِبُكَ ضَرْبَةً عَلَى فَرْقِكَ تُخْضَبُ مِنْهَا لِحْيَتُكَ فَأَخَذَ النَّاسُ بِالْبُكَاءِ وَ النَّحِيبِ فَقَطَعَ ع خُطْبَتَهُ وَ نَزَلَ‏. ھمدان قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا : اے امیرالمومنین ! رسول اکرم نے اس مہینے کے بارے میں کچھ اور فرمایا ہو تو ہمیں بتائیے امیرالمومنین نے فرمایا : ہاں ؛ میں نے اپنے چچا زاد بھائی رسول خدا سے سنا کہ فرمایا : جو بھی شخص اس مہینے میں روزے رکھے اور خود کو حرام سے بچائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا اس ھمدانی شخص نے پھر مزید احادیث کا تقاضا کیا تو امام علی علیہ السلام نے فرمایا : میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ جو اللہ پر ایمان اور اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس مہینے میں روزہ رکھے تو جنت اس کا ٹھکانہ ہو گا اس شخص نے پھر مزید کا تقاضا کیا تو امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: اولین و آخرین انبیاء کے سردار سے میں نے سنا کہ فرمایا: جو بھی روزہ رکھے اور رات کو حرام کھانے سے پرہیز کرے تو جنت میں داخل ہو گا اس نے پھر مزید احادیث کا تقاضا کیا تو فرمایا : انبیاء اور رسل اور مقرب فرشتوں سے افضل ھستی رسول خدا نے اس ماہ رمضان کے بارے میں فرمایا : جان لو ! تمام اوصیاء کا سردار افضل ترین مہینے میں شھید ہو گا میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اوصیاء کے سردار اور افضل ترین مہینے سے کون مراد ہیں ؟ فرمایا : افضل ترین مہینہ ماہ مبارک رمضان ہے اور اوصیاء کے سردار آپ ہیں یا علی مزید فرمایا : یا علی میری امت کا بدبخت اور شقی ترین شخص کھڑا ہو گا اور آپ کے سر مبارک پر وار کرے گا اور آپ کے خون سے آپ کا چہرہ رنگین ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔ اس وقت مسجد میں لوگوں کے نالہ و شیون کی صدائیں اتنی بلند ہوئیں کہ آپ کو خطبہ ختم کرنا پڑا ۔۔۔ الخصال شیخ صدوق 207/1

 زکات فطرہ کے انفرادی اور معاشرتی اثرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زکات فطرہ کے انفرادی اور معاشرتی اثرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسد عباس اسدی

مقدمه

دینِ اسلام کا کمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق کائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کے ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’ زکو ٰۃ ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکو ٰۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکو ٰۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔

ادائیگی زکو ٰۃ دین اسلام کا اہم ترین حکم ہے ۔ زکو ٰۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد، اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ہیں ۔

جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر ہے ۔ اور جو شخص زکات کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،جس کی وضاحت سورہ توبہ کی آیت 34۔35 میں موجود ہے ۔

زکوٰۃ ایک اہم ترین فریضہ ہے جسے نماز اور جہاد کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور یہ دین کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔

زکات کا مفہوم

زکوٰۃ لفظ "زکو" سے ماخوذ ہے اور اس کے لغوی معنی نشوونما کے ہیں[1]، تزکیہ، نیکی اور تقویٰ [2] اور حمد و ثناء ہے [3]۔

اور اس کا اصل معنی خدائی نعمتوں سے حاصل ہونے والا اضافہ ہے جو دنیاوی معاملات میں استعمال ہوتا ہے اور آخرت کا اجر رکھتا ہے [4]۔

فقہی اصطلاح میں اس سے مراد صدقہ اور ایک خدائی حق ہے جو مخصوص شرائط کے ساتھ مال کی ایک خاص مقدار تک پہنچنے پر ادا کیا جاتا ہے[5]، اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ‏ وَ تُزَکِّیهِمْ بِها [6]

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں ۔

اهمیت زکات

زکوٰۃ کی اہمیت اس قدر ہے کہ قرآن مجید میں نماز کے ساتھ اس کا ذکر ہے اور دعا کی قبولیت زکوٰۃ کی ادائیگی سے مشروط ہے۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور فرمایا ہے:

‌أَقِیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ‌‌ [7]۔

پس وہ شخص جو نماز قائم کرتا ہے لیکن زکوٰۃ نہیں دیتا،گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں ہے [8]۔

قرآن نے زکوٰۃ کی ادائیگی کو سعادت کا سبب اور کامیاب مومنین کی خصوصیت قرار دیا ہے:

وَ الَّذینَ هُمْ لِلزَّکاةِ فاعِلُون [9]

زکوٰۃ اللہ کی رحمت کے حصول کی بنیاد ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

وَ رَحْمَتی‏ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ‏ءٍ فَسَأَکْتُبُها لِلَّذینَ یَتَّقُونَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ الَّذینَ هُمْ بِآیاتِنا یُؤْمِنُونَ [10]

اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے، اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں

زکوٰۃ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے، اسی لیے قرآن مشرکین کے بارے میں کہتا ہے:

فَإِنْ تابُوا وَ أَقامُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّکاةَ فَإِخْوانُکُمْ فِی الدِّینِ،[11]

لیکن اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں ۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

بنی الاسلام علی خمسة اشیاء : علی الصلاة و الزکاة والحج والصوم والولایة[12]

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے ۔ نماز ، زکات ، حج ، روزہ اور ولایت

امیر المومنین علی علیہ السلام نے بھی زکوٰۃ کو خدا کا قرب، گناہوں کا کفارہ اور آگ سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا اور فرمایا:

یقیناً زکوٰۃ ادا کرنا اور نماز پڑھنا ایسے عوامل ہیں جو مسلمانوں کو خدا کے قریب کرتے ہیں، لہٰذا جو شخص اطمینان قلب کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا ہے، یہ اس کے گناہوں کا کفارہ اور جہنم کی آگ سے انسان کی حفاظت کرتی ہے، جو شخص خوشی سے زکوٰۃ ادا نہیں دیتا وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل کی سنت سے غافل ہے، اس کا ثواب کم ہوگا، اس کے اعمال برباد ہوں گے اور وہ ہمیشہ پشیمان رہے گا۔[13]

زکات فطرہ کے ادا کرنے کا فلسفه

درحقیقت جن لوگوں کو روزے کی توفیق نصیب ہوئی ہے اور وہ ایک مہینے کے لیے خدا کے مہمان ہیں، وہ اس بابرکت مہینے کی کامیابی کے شکرانے کے طور پر عید الفطر کے موقع پر بندگی پروردگار کا جشن منانا چاہتے ہیں تو اس جشن میں اپنے غریب بھائیوں کو بھی شریک کریں ۔

اس لیے زکات فطرہ کی ادائیگی کی ایک اہم ترین حکمت یہ ہے کہ غریبوں، محروموں اور مظلوموں کی انتہائی احترام کے ساتھ اس طرح مدد کی جائے کہ ان کے انسانی وقار کو محفوظ رکھا جائے، تاکہ اس کے ذریعے وہ لوگ جن کی کمر مشکل معاشی حالات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، یا معذور اور بوڑھے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

زکات فطرہ کے اثرات

الٰہی فرائض مصالح انسانی کے مطابق ہیں ، زکوٰۃ کا حکم بھی اسی طرح ہے اور زکوٰۃ کے انفرادی، سماجی اور اقتصادی اثرات اور برکات دینے والے اور لینے والے دونوں پر مرتب ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

الف) انفرادی اثرات

1۔ روح کی طهارت

قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَکِّیهِمْ بِها [14]

ان کے اموال میں سے صدقہ لے لو، تاکہ تم اس سے ان کو پاک و پاکیزہ کرو ۔

رذایل نفسانی میں سے ایک، خرچ کرنے میں بخل ،اور مال جمع کرنے میں حرص ہے،قرآن نے ان برائیوں کا تذکرہ صفت «بخل» و «شُحّ» سے کیا ہے،بعض روایات کے مطابق «شحّ» بخل سے زیادہ سخت ہے۔

بخیل یہ ہے جو کچھ اپنے پاس ہے اسے روک لے،لیکن «شحّ» شخص دوسروں کے مال میں بھی بخل کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دیکھتا ہے حاصل کرنا چاہتا ہے،چاہے وہ حلال ہو یا ناجائز، وہ کبھی بھی اس سے مطمئن نہیں ہوتا جو خدا نے اس کے لیے دیا ہے[15]۔

زکوٰۃ کی ادائیگی انسان کو مادی لگن سے آزاد کرتی ہے اور اس کی روح کو ان برائیوں سے پاک کرتی ہے، لہٰذا، قرآن پاک ان لوگوں کو ممتاز کرتا ہے جو اپنی جائیداد میں فقیر اور محروم کے لیے ایک مخصوص حق کو پہچانتے ہیں اور ادا کرتے ہیں [16]۔

گناہوں کی بخشش

زکوٰۃ کے آثار میں سے ایک اثر یہ ہے کہ اس کے ادا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش دی جاتی ہے اور وہ گناہوں اور پلیدگیوں سے پاک ہو جاتے ہیں،جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

الزَّکَاةُ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ [17]۔

زکات گناہوں کو ختم کر دیتی ہے

امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ أَعْطَاهَا طَیِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ کَفَّارَةً [18]

جو شخص رضائے خدا کیلئے زکوٰۃ ادا کرے گا، اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔

3۔تقرب الهی

زکوٰۃ کی ادائیگی حکومتوں کے عائد کردہ ٹیکسوں کی طرح نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک حقیقت عبادی ہے جو ایمان اور یقین کی روح سے پیدا ہوتی ہے اور زکوٰۃ دینے والا خدا کی خوشنودی اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین علی ؑ نے زکوٰۃ کو مسلمانوں کیلئے تقرب خدا کا ذریعہ قرار دیا ہے:

إِنَّ الزَّكَاةَ جُعِلَتْ مَعَ الصَّلَاةِ قُرْبَاناً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَمَنْ أَعْطَاهَا طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ كَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارِ حِجَازاً وَ وِقَايَةً؛ فَلَا يُتْبِعَنَّهَا أَحَدٌ نَفْسَهُ وَ لَا يُكْثِرَنَّ عَلَيْهَا لَهَفَهُ، فَإِنَّ مَنْ أَعْطَاهَا غَيْرَ طَيِّبِ النَّفْسِ بِهَا يَرْجُو بِهَا مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهَا، فَهُوَ جَاهِلٌ بِالسُّنَّةِ، مَغْبُونُ الْأَجْرِ، ضَالُّ الْعَمَلِ، طَوِيلُ النَّدَمِ. [19]

اس نے نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو بھی مسلمانوں کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بنایا۔ جو شخص خوشی سے اور قناعت کے ساتھ زکوٰۃ دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے اور اسے جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رکھے گا۔ لہٰذا زکوٰۃ دینے والے کو ہمیشہ اس کا خیال نہیں رکھنا چاہیے اور ادا کرنے پر پشیمان نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ جو شخص زکوٰۃ دیتا ہے لیکن نیک دل اور اطمینان قلب کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے اس امید کے ساتھ کہ اس کو اس سے بہتر کچھ ملے گا جو اس نے دیا ہے، ایسا شخص سنت نبوی سے ناواقف ہے اور اس نے ثواب میں کمی کی ہے۔ وہ اپنا غصہ کھو دے گا اور اپنے کیے پر پشیمان ہو گا۔

4 ۔ عذاب سے استثنیٰ

امیر المومنین علی ؑ نے فرمایا:

فَمَنْ أَعْطَاهَا طَیِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ کَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارحِجَازاً وَ وِقَایَةً

جو شخص اسے خوش دلی سے رضائے پروردگار کیلئے دے گا، یہ اس کے لیے کفارہ اور آگ سے حفاظت ہے [20]

اطمینان

غربت کا شکار شخص روزی کمانے کے بارے میں بے چینی اور خوف کا شکار ہوتا ہے، بنیادی ضروریات سے محرومی عام طور پر عبادت، خدمت اورالہی فرائض کے حصول کو مشکل بنا دیتی ہے ،ایسی صورت میں زکوٰۃ ان کی مادی ضروریات کو پورا کر کے ان سے پریشانیاں اور ان کی روحانی تکالیف کو دور کر کے انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اظہار تشکر کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:

فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ هذَا الْبَیْتِ الَّذی أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَ آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ [21]

وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا، اور خوف اور عدم تحفظ سے محفوظ رکھا۔

6 ۔ صحت کی ضمانت

ہمارے ہاں احادیث موجود ہیں کہ زکات فطرہ دینے سے اس سال موت سے بچا جا سکتا ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق ؑ کی ایک روایت میں ہے:

عَنْ مُعَتِّبٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ: اذْهَبْ فَأَعْطِ عَنْ عِیَالِنَا الْفِطْرَةَ- وَ عَنِ الرَّقِیقِ وَ اجْمَعْهُمْ وَ لَا تَدَعْ مِنْهُمْ أَحَداً- فَإِنَّکَ إِنْ تَرَکْتَ مِنْهُمْ إِنْسَاناً تَخَوَّفْتُ عَلَیْهِ الْفَوْتَ- قُلْتُ وَ مَا الْفَوْتُ قَالَ الْمَوْتُ[22]

امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کروں اور ان سب کا خیال رکھوں اور ان میں سے کسی کو بھی نہ بھولنا کیونکہ اگر تم ان میں سے کسی کو چھوڑ دو گے تو مجھے ان کی موت کا اندیشہ ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ فوت سےآپ کی کیا مراد ہے ؟ آپؑ نے فرمایا: موت۔

لہٰذا زکوٰت فطرہ کی ادائیگی کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ صحت وسلامتی کی ضمانت ہے۔

ب. آثار اقتصادی

1. دولت میں اضافہ

اگرچہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ظاہری طور پر مال میں کمی نظر آتی ہے، لیکن مادی تصورات کے برعکس یہ دولت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:

وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ [23]

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اللہ اس کا بدلہ دے گا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ایک خطبہ میں فرمایا:

‌فَفَرَضَ اللَّهُ الْإِیمَانَ تَطْهِیراً مِنَ الشِّرک وَ الصَّلَاةَ تَنْزِیهاً عَنِ الْکِبْرِ وَ الزَّکَاةَ زِیَادَةً فِی الرِّزْقِ [24]

اللہ تعالیٰ نے ایمان کو واجب کیا تاکہ دلوں کو شرک سے پاک کرے اور زکوٰۃ کو بیماری سے پاک کرنے کے لیے فرض کیا ہے۔

کسی نے امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا ، خدا اس چیز کو لوٹاتا ہے جو ہم خرچ کرتے ہیں؟ تو میں جو کچھ بھی خرچ کرتا ہوں اسے کیوں نہیں لوٹایا جاتا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا: نہیں، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: پھر ایسا کیوں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں نہیں جانتا۔ امام ؑ نے فرمایا: "اگر تم میں سے کوئی حلال مال کمائے اور اسے حلال طریقے سے خرچ کرے تو وہ ایک درہم بھی خرچ نہیں کرتاجب تک کہ خدا اسے اس کا اجر نہ دے دے[25]۔

دولت کی ایڈجسٹمنٹ

اسلامی معاشیات کے مقاصد میں سے ایک معاشرے میں دولت کا بہاؤ اور دولت مندوں کے ہاتھوں میں اس کا ارتکاز ہے۔ زکوٰۃ کے آٹھ استعمال بتا کر قرآن کریم نے مال کی تقسیم کے لیے اپنے عملی منصوبے کی ایک خوبصورت مثال ظاہر کی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت واضح ہو جاتا ہے جب ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ کی اشیاء میں سے ایک سونے اور چاندی کے سکّے ہیں، جو معیشت اور دولت میں اثرانداز ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ تجارتی سرمائے پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا مستحب ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

وَ الَّذینَ یَکْنِزُونَ‏ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَها فی‏ سَبیلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلیمٍ [26]

اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی نوید سنا دو ۔

غربت کا خاتمہ

بعض روایات میں زکوٰۃ کے وجوب کا مقصد غربت کا خاتمہ بتایا گیا ہے، یحیی بن سعید کہتے ہیں:

عمر بن عبدالعزیز نے مجھے زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے افریقہ بھیجا ، زکوٰۃ جمع کرنے کے بعد مجھے کوئی فقیر نہ ملا جسے میں زکات دے سکتا، اس لیے میں نے غلام خریدے اور انہیں آزاد کر دیا۔

غریبوں کی یہ کمی غربت کے خاتمے میں زکوٰۃ کے کردار کی نشاندہی کرتی ہے، امیر المومنین علی ؑ مالک اشتر کو اپنے ایک حکم نامہ میں بیت المال میں ضرورت مندوں کا حصہ یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

خدارا خدارا، معاشرے کے ان نچلے اور محروم طبقوں کا خیال کریں جن کے پاس کچھ نہیں ، بے زمینوں، محتاجوں، مصیبت زدوں اور مصائب میں گھرے افراد کا خدا کیلئے خیال رکھیں ، اس محروم طبقے میں کچھ لوگ تنگ دست ہیں اورکچھ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، اس لیے خدا را ان کے حق کے محافظ بنیں جو اللہ نے اس طبقے کے لیے مقرر کیا ہے، بیت المال کا ایک حصہ اور اسلامی فتوحات کی زمینوں سے اناج کا ایک حصہ ہر شہر میں نچلے طبقے کے لیے مختص کرنا، اس لیے کہ اس میں دور کے مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا قریب کے مسلمانوں کا، اور اس کی نگہبانی کی ذمہ داری تم پر ہے [27]۔

یہ اقدام مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں ہے، کیونکہ اسلامی معیشت کے مقاصد میں سے ایک مستقل طور پر محتاجوں حتیٰ کہ کفار کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام کا گزر ایک لاچار بوڑھے کے پاس سے ہوا جو بھیک مانگ رہا تھا،مولا نے اس کا حال پوچھا توبتایا گیا وہ عیسائی ہے، امیر المومنین علی (علیہ السلام) نے فرمایا:

جب جوان تھا تو کام کیا ، اب جب کہ وہ بوڑھا اور بے بس ہے تو اس کے اخراجات بیت المال سے ادا کرو۔ [28]

زکوٰۃ بھی اسی طرح ہے، کیونکہ غریب، مساکین، مسافر اور قرض دار جو قرض ادا کرنے سے عاجز ہیں وہ زکوٰۃ کے استعمال کا حصہ ہیں اور قرآن نے اسے ایک ابدی اور دائمی پروگرام قرار دیا ہے۔

سرمایہ کے جمود کو روکنا

جن اشیاء پر زکوٰۃ واجب ہے ان میں سونے اور چاندی کے سکے بھی شامل ہیں جو کہ معصومین علیہم السلام کے زمانے میں رائج کرنسی تھے۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی ایک وجہ خدا کا کلام ہے جس میں کہا گیا ہے:

وَ الَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَها فِی سَبِیلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِیمٍ [29]

اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت سنا دو ۔

اس آیت میں خدا نے سونا چاندی سے ترک انفاق پر سزا کا وعدہ کیا ہے اور اس کا اطلاق صرف زکوٰۃ جیسے واجبات کو ترک کرنے پر ہوتا ہے [30]۔

ج۔ آثار نظامی

دفاعی قوت کو مضبوط کرنا

زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک کا عنوان«فی سَبِیل الّله» ذکر ہوا ہے، اس میں شک نہیں کہ جہاد «سبیل الله» کا واضح مصداق ہے، اگرچہ شیعہ علماء کے مطابق، زکات کا اطلاق تمام مسلمانوں کے مفادات پر ہوتا ہے، جیسے کہ مساجد اور پلوں کی تعمیر کے اخراجات [31] وغیرہ ۔

اہل سنت علماء نے «سبیل الله» کو صرف جہاد کے لیے سمجھا ہے اور زکوٰۃ کو عوامی مفادات پر خرچ کرنے کو جائز نہیں سمجھا ہے[32]۔ بہر صورت زکوٰۃ اسلامی معاشرے کی دفاعی قوت میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

د۔ آثار اجتماعی

مخالفین کو اپنی طرف متوجہ کرنا

زکوٰۃ کے مستحقین میں سے ایک وہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے «وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» کے طور پر کیا ہے۔ اور «وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کا حصہ لے کر رفتہ رفتہ اسلام قبول کرتے ہیں یا اگر مسلمان نہیں ہوتے تو دشمن کو پسپا کرنے میں یا دینی مقاصد کی تکمیل میں مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں [33]۔

امیروں سے حسد و ناراضگی دور کرنا

معاشرے میں ایک طبقہ جو اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں، بعض اوقات ان لوگوں میں ناراضگی اور حسد ،خونی تصادم کا باعث بن جاتا ہے جس کی بہت سی تاریخی مثالیں موجود ہیں۔

زکوٰۃ کا حکم اس لئے ہے تاکہ ضرورت مندوں کو یہ احساس رہے کہ امیر ان کی مشکلات سے بے خبرنہیں ہیں، اور ان کی سرگرمیوں کا ایک حصہ ضرورت مندوں سے متعلق ہے ۔

اسی مناسبت سے جب قرآن مومنین کے لیے ولایت کے تعلق کو بیان کرتا ہے اور یہ کہہ کر انتہائی یکجہتی کا اعلان کرتا ہے کہ «بَعْضُهُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ» ، ان کی صفات میں یہ بیان کرتا ہے «وَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ» [34] وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔شہید مطہری لکھتے ہیں:

نماز مخلوق اور خالق کے درمیان تعلق کی ایک مثال ہے، اور زکوٰۃ مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات کی ایک مثال ہے، جو اسلامی ہمدردی کے نتیجے میں ایک دوسرے کی حمایت، تعاون اور مدد کرتے ہیں۔ یہ آیت اور کچھ دوسری آیات جن میں عمومی مثبت محبت کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ نہ صرف دلی محبت بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان اچھے تعلقات کے تناظر میں مسلمانوں کے لیے ایک قسم کی وابستگی اور ذمہ داری کو ثابت کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے ایک مشہور حدیث میں فرمایا:

مومنین کی آپس میں محبت زندہ جسم کی طرح ہے، جب ایک حصہ میں درد ہوتا ہے تو دوسرے اعضاء بھی بے تاب ہوجاتے ہیں[35]۔

زکوٰۃ الفطر کا ایک اہم استعمال یہ ہے کہ اسے غریبوں پر خرچ کیا جائے، غریب وہ ہیں جو اپنے سالانہ اخراجات پورے نہیں کر سکتے۔


[1] ۔ احمد فیّومی؛ المصباح المنیر؛ ج 1-2، ص 254‌۔

[2] ۔ خلیل ابن احمد فراهیدی؛ العین؛ ج ‏5، ص 394‌۔

[3] ۔ مبارک بن‌اثیر؛ النهایه فی غریب الحدیث و الاثر؛ ج 2، ص 307‌۔

[4] ۔ حسین بن محمد راغب اصفهانی؛ مفردات الفاظ القرآن؛ ص380‌ ۔

[5] ۔ محمد‌حسن نجفی؛ جواهر الکلام فی شرح شرائع الإسلام؛ ج ‌15، ص 3‌۔

[6] ۔ توبه/ 103۔

[7] ۔ بقره/ 43۔

[8] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه‌؛ ج 9، ص 22۔

[9] ۔ مؤمنون‌/ 4‌۔

[10] ۔ ا عراف/ 156۔

[11] ۔ توبه/ 11۔

[12] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه‌؛ ج 1، ص 13؛ کافی ، ج ۲، کتاب الایمان والکفر، باب دعائم الاسلام، ح ۵۔

[13] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه؛ خطبه 199۔

[14] ۔ توبه/ 103۔

[15] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه؛ ج 9، ص 38۔

[16] ۔ معارج/ 19- 25۔

[17] ۔ محمد بن یعقوب کلینی؛ الکافی؛ ج 2، ص 19۔

[18] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه؛ خطبه 199۔

[19] ۔ ایضا ۔

[20]۔ ایضا۔

[21] ۔ قریش/ 3 و 4۔

[22] ۔ اصول کافی، ج4، ص174؛ (بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، درس تفسیر، 9/7/1387)۔

[23] ۔ سبأ/ 39۔

[24] ۔ محمد بن علی صدوق؛ کتابُ من لایحضره الفقیه؛ ج ‌3، ص 568۔

[25] ۔ محمد بن یعقوب کلینی؛ الکافی؛ ج 2، ص 486۔

[26] ۔ توبه/34 ۔

[27] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه‌؛ ص583۔

[28] ۔ محمد بن حسن طوسی؛ تهذیب الاحکام؛ ج 6، ص 293۔

[29] ۔ توبه/24۔

[30] ۔ حسن بن یوسف حلّی؛ تذکره الفقهاء؛ ج 5، ص 118؛ محمد‌حسن نجفی؛ جواهر الکلام فی شرح شرائع الإسلام؛ ج 13، ص 312؛ سید ابوالقاسم خویی؛ موسوعة الامام الخویی؛ ج 23، ص 260 و 261۔

[31] ۔ محمد بن حسن طوسی؛ التّبیان فی تفسیر القرآن؛ ج 5، ص 245۔

[32] ۔ یوسف القرضاوی؛ فقه الزّکاه؛ ج 2، ص 656۔

[33] ۔ سید محمدحسین طباطبایی؛ المیزان فی تفسیر القرآن؛ ج 9، ص 311۔

[34] ۔ توبه/ 71۔

[35] ۔ مرتضی مطهری؛ مجموعه آثار؛ ج 3، ص 265۔