محمد بن عثمان عمری (دوسرے نائبِ امام)

محمد بن عثمان عمری ؒ (دوسرے نائبِ امام)

سید مبشر مہدی اشہر

ایم فل اردو ادبیات

11 ہجری قمری میں پیغمبرِ اکرم ؐ کی وفات ِحسرت آیات کے  ساتھ ہی نبوّت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہدایتِ انسانی کے لیے سلسلہءِ امامت کا آغاز ہوا۔جانشینِ رسول ؐ  و امامِ اول حضرتِ علیؑ سے امامِ یازدھم حسن عسکری ؑ تک گیارہ آئمہ اہلبیت نے امتِ مسلمہ کی رہنمائی اور تعلیماتِ دین کی محافظت  کا فریضہ سر انجام دیا ۔اسی دوران میں بنوامیّہ کی  ظالم و جابر حکومت کے قیام اور زوال کے بعد بنو عباس کی حکومت قائم ہوئی۔آئمہ اہلبیت ؑ اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ برتاؤ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بنو عباس کی مخاصمت اور ظلم و جبر بنو امیّہ سے کچھ کم نہیں رہا۔

عباسی خلیفہ  معتمد عباسی کے دور میں امام حسن عسکری ؑ کی شہادت کا سانحہ پیش آیا ۔ بارھویں امام  حضرت امام مہدی ؑ نے اپنے والدِ گرامی کے نمازِ جنازہ کی امامت کے بعد بنو عباس کی عداوت اور مکدّر سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے حالات ناسازگار ہونے کے باعث  غیبت  اختیار کر لی۔یہ 260  ہجری قمری کا زمانہ تھا۔اعیان ِ حکومت  کے ساتھ ساتھ عوام الناس سے پوشیدہ ہونے اور اپنے شیعوں سے  براہِ راست رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے امامؑ نے اپنے والد گرامی کے محترم اصحاب میں سے ایک معتمد علیہ شخص عثمان بن سعید  عَمری کو اپنا نمائندہ خاص مقرر کیا  تاکہ  مومنین سے بالواسطہ رابطہ برقرار رہے۔یہ  غیبتِ صغریٰ کا آغاز تھا۔

آئمہ اہلبیت ؑ  پر  جابر حکومتوں  کی کڑی نگرانی اور جاسوسی  سے  شیعوں کوآئمہ سے رابطہ کرنے میں مشکلات  پیش آتی رہیں ۔انھی مشکلات کو دیکھتے ہوئے عوام الناس  میں آئمہ  اہلبیت  اپنے ثقہ اور امین اصحاب میں سے  نمائندے  اور وکیل مقرر کرتے رہے اور یہ سلسلہ امامِ چہارم علی بن حسین ؑ زین العابدین  کے دور ہی سے شروع ہو چکا تھا ۔بعد میں آنے والے آئمہ نے بھی اپنے تربیت یافتہ اور قابلِ اعتماد اصحاب  میں سے  وکلاء اور سفیروں کا تعین و تقرر حسب ِ سابق جاری رکھا۔ انھی وکلا اور سفرا کے ذریعے اموالِ شرعی بھی جمع کر کے امام ؑ تک پہنچائے  جاتے رہے۔گیارھویں امام کے بعد تو اس چیز کی مستقل ضرورت آن پڑی تھی  اس لیے 260 ہجری میں  نائب کا تقرر کیا گیا۔امامِ زمانہؑ اور  عوام کے درمیان نائبین کےذریعے رابطے اور  غیبتِ صغریٰ کا دورانیہ تقریباً 70 برس تک جاری رہا ۔260 ہجری سے 329 ہجری تک کے اس دورانیے میں چار اشخاص بطورِ نائب  گزرے ہیں انھی چاروں کو نوّاب ِ اربعہ کی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے۔  دینی امور کی انجام دہی اور امام ؑ کے وجود کو مخفی رکھتے ہوئے عوام الناس اور امام ؑ کے درمیان سفارت  جیسی ذمہ داریاں  ان کے کاندھوں  پر تھیں۔

نواب ِ اربعہ کے متعلق  معلومات   سب سے پہلے شیخ صدوق ؒ کی کتاب  " کمال الدین و تمام النعمۃ" میں اور بعد میں شیخ طوسیؒ کی کتاب "الغیبۃ" میں مذکور ہیں۔پہلے نائب عثمان بن سعید  ؒ پانچ سال جب کہ دوسرے نائب محمد بن عثمانؒ کی مدتِ نیابت 40 سال (265ھ سے 305ھ ) ان کی وفات تک رہی۔ہرنائب اپنے بعد میں آنے والے نائب کی بحکم ِ امام ؑ تعیین کی اطلاع  بوقتِ وفات دیتا رہا۔محمد بن عثمانؒ  ان میں سے دوسرے فرد ہیں جو اپنے والد اور پہلے نائب عثمان بن سعیدؒ کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے ۔ان کی  کنیّت ابو جعفر  جب کہ القاب میں عَمری اور زیات مشہور ہیں۔ان کی تقرری بھی امام ِ زمانہ ؑ کی طرف سے وارد شدہ ایک توقیع ہی  کے ذریعے ہوئی  جس  میں ان سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت بھی کی گئی ہے۔اس توقیع   سے اقتباس درج ذیل ہے۔

"تمھارے والد نے نیک زندگی گزاری اور قابلِ ستائش وفات پائی ۔خدا ان پر رحمت نازل فرمائے اور ان کو اپنے دوستوں کے ساتھ ملا دے۔وہ لوگوں کے امورِ دینیہ میں کوشاں رہے۔انھوں نے ہر وہ کام کیا جس سے وہ مومنین سے نزدیکی اور خدا کا قُرب حاصل کریں ۔خدا ان کے چہرے کو روشن  اور ان کی خطاؤں کو معاف فرمائے۔۔۔۔۔ یہ ان کی نیک بختی کی انتہا تھی کہ خدا نے انھیں تم سا فرزند عطا فرمایا ۔ تم ان کے خلفِ صالح ہو، ان کے قائم مقام ہو اور ان کے لیے طلبِ رحم کرنے والے ہو۔"

محمد بن عثمان ؒنے جیسے ہی اپنا منصب سنبھالا    اپنے والدِ محترم  کی طرح شیعان ِ اثنا عشریہ سے ان کے اموالِ شرعی  زکوۃ و خمس اور ہدایا وغیرہ وصول کرنے کے لیے وکلا و سفراء مقرر کیے جو  جمع شدہ اموال ِ شرعی اور خطوط کو ان تک بحفاظت پہنچاتے تھے۔دور دراز کے علاقوں کے شیعوں کے ساتھ رابطے کا ایک منظم نظام  استوار کیا  ۔محمد بن عثمانؒ ان اموال کو امامؑ کی رضامندی اور اجازت سے مطلوبہ مقامات پر خرچ کیا کرتے تھے۔نائبین حضرات شیعان ِ آلِ محمد کو درپیش تمام مسائل ِ شرعی ، علمی اور اعتقادی کو تحریری شکل میں امام ؑ تک پہنچاتے تھے اور امام ؑ کی طرف سے دیا گیا تحریری جواب واپس لوگوں تک پہنچانا بھی انھی کی ذمہ داری تھی۔

محمد بن عثمانؒ اور ان کے والد اصحاب ِ آئمہ میں  اہم مقام کے حامل تھے۔دونوں باپ بیٹے کے متعلق شیخ طوسی کی کتاب الغیبۃ میں وارد ایک توقیع میں وارد ہے کہ

"عثمان بن سعید عمری اور ان کا بیٹا دونوں قابلِ اعتماد اور ثقہ ہیں وہ جو کچھ  بھی تم تک پہنچائیں وہ میری جانب سے ہے اور جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ میری طرف سے ہے۔ان (دونوں ) کی بات سُنو اور ان کی پیروی کرو۔کیوں کہ وہ ثقہ اور امین ہیں۔"

محمد بن عثمانؒ کے امام ؑ کے نزدیک مقام و مرتبے کے حوالے سے علامہ طبرسی نے علامہ کلینی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  اسحاق بن یعقوب کے خط کے جواب میں  امامؑ نے ارشاد فرمایا :

"محمد بن عثمان امین اور ثقہ ہیں اور ان کی تحریر میری تحریر ہے۔"

دوسرے نائبین کی طرح محمد بن عثمانؒ بھی    بغداد میں رہائش پذیر رہے جب کہ اس دور کے زیادہ تر شیعہ قم ، نیشا پور، خراسان ، ہمدان ، کوفہ ، یمن اور مصر وغیرہ میں آباد تھے۔ایسی صورتِ حال میں جب کہ عباسی  حکومت بارھویں امامؑ کی تلاش میں سرگرم تھی اور حکومتی جاسوس جا بجا پھیلے ہوئے تھے۔ حکومتی دارالحکومت بغداد میں سُنّی مرکزیت کی موجودگی میں  لوگوں کے درمیان غیر معروف طریقے سے تمام امور اور ذمہ داریوں کو بخیروخوبی انجام دینا اتنا آسان نہیں تھا ۔محمد بن عثمان نے حالات کا صحیح ادراک کرتے ہوئے دانش مندی سے معتدل روش کو اختیار کیا اور ہر امر میں حفاظت اور فعالیت کو مخفی رکھنا  اپنی پہلی ترجیح  قرار دیا۔ان کی اس عمومی روش اور محفوظ پالیسیوں کی بدولت عباسی حکومت میں اہلِ تشیّع کوبھی اہم عہدوں پر فائز رہنے کا موقع ملا ۔

نوابِ اربعہ اپنے منصب کے تقاضے کے مطابق  اپنی نجی زندگی میں  تقویٰ ، پرہیز گاری اور عدالت کے مرتبے پر فائز رہے ۔ مشہور دعاؤں میں سے دعائے سمات ، دعائے افتتاح اور زیارتِ آلِ یٰسین محمد بن عثمان کے توسُّط ہی سے نقل ہوئی ہیں ۔نائبِ دوّم دینی علوم میں بھی  مہارت رکھتے تھے۔محمد بن عثمان کی دُختر امِّ کلثوم کا بیان ہے کہ :

" میرے پدرِ بزرگوار نے کئی جلدوں پر مشتمل کتاب تصنیف کی تھی جس میں امام حسن عسکری ؑ اور اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کیے ہوئے علوم  اور احکام کو جمع کیا تھا ۔انھوں نے اپنے انتقال کے وقت وہ سارا سامان (اپنے بعد والے تیسرے نائبِ امامؑ )حسین بن رَوح ؒ کے حوالے کردیا تھا۔"

محمد بن عثمانؒ وہ خوش نصیب ہیں کہ امام ِ زمانہ کی زیارت سے شرف یاب ہوتے رہے انھی سے مروی ہے کہ امامِ زمانہ ؑ ہر سال حج میں تشریف لاتے ہیں اور لوگوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں لیکن لوگ انھیں پہچان نہیں سکتے۔میری آخری ملاقات بھی ان سے حج کے موقع پر ہوئی تھی۔جب وہ خانہ خدا کے قریب اس دعا میں مشغول تھے۔"خدایا میرے وعدے کو پورا فرما ۔ خدایا مجھے دشمنوں سے انتقام لینے کا موقع عطا فرما۔"

دنیوی مال و دولت اور جاہ و مرتبہ کی خواہش  ہمیشہ انسان  کے لیے ایک آزمائش رہی ہے ۔اہلِ تشیّع میں سے بھی ہردور میں کچھ افراد اموالِ دنیوی کے لالچ میں امامِ حق سے منحرف ہوتے رہے ہیں ۔زمانہ غیبتِ امام میں تو یہ خطرہ مزید بڑھ گیا تھا  کیوں کہ عوام کا امامؑ کے ساتھ براہِ راست رابطہ نہیں تھا ۔ ایسی صورتِ حال میں نواب ِ اربعہ کے لیے اموالِ دنیوی کے لالچ میں منحرف و گمراہ ہونے والےا شخاص کی نشان دہی کرنا اور عوام کو ان سے دور رہنے کی ہدایت کرنا  ایک اہم ذمے داری تھی۔

پہلے نائب عثمان بن سعید ؒ کی وفات کے بعد ابنِ ہلال کرخی منحرف ہوگیا تھا اور محمد بن عثمانؒ کی جگہ نیابت کا دعویٰ کردیا ۔ تو اس شخص کی رد میں امامؑ کی طرف سے وارد شدہ توقیع کی عبارت درج ذیل تھی۔

"میں بے زار ہوں ابن ِ ہلال سے اور اُن سے جو اس سے دوری اختیار نہ کریں ۔خدا اسے نہ بخشے جو کچھ میں نے کہا ہے ۔ اس کو اسحٰق اور اس کے ہم وطنوں کو بتا دو ۔"

اس کی مثل محمد بن نصیر النمیری تھا ۔ یہ بھی امام حسن عسکری ؑ کے اصحاب میں سے تھا اس نے بھی امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ جب اس کا گمراہ کُن عقیدہ ظاہر ہوا تو دوسرے نائب محمد بن عثمانؒ  نے اس سے برائت کا اظہار کیا ۔تیسرا  منحرف ہونے والا شخص  اصحاب ِ امام یازدھم میں سے محمد بن  علی بن ہلال  تھا۔اس نے منحرف ہوکے امام ؑ کے وکیل ہونے کا دعویٰ کیا اور محمد بن عثمان کی نیابت کا انکار کیا ۔ اموالِ  امام میں سے خیانت کا مرتکب ہوا ۔ اس پر امام ؑ کی طرف سے لعنت اور برائت کی توقیع وارد ہوئی۔

اس کے علاوہ ان کے دور کے اہم واقعات میں سے ایک صاحب ِ زنج کا قیام تھا جو خود کو زیدی سادات سے منسوب کیا کرتا تھا۔ یہ شخص پندرہ برس تک عباسی حکومت کے لیے دردِ سر بنا رہا۔دوسرا اسماعیلیہ کی شاخ قرامطہ کا ظاہر ہونا تھا   یہ  فرقہ بھی  عباسیوں سے برسرِ پیکار رہا۔یہ دونوں واقعات عباسی حکومت کی نظر میں اثنا عشری  شیعوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے تھے۔لیکن امامِ زمانہ ؑ کی رہنمائی سے  محمد بن عثمان کی یہ  دانش مندانہ روش رہی کہ وہ ان دونوں تحریکوں سے دُور اور لا تعلق رہے ۔امامِ زمانہؑ کی طرف سے ابوالخطاب قرامطی کی مذمت میں وارد ہونے والی توقیع کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے شیعوں کو ان غلط اور گمراہ فرقوں سے میل جول رکھنے سے منع کررہے ہیں۔

محمد بن عثمانؒ چالیس سال تک امامِ زمانہ ؑ کے نائب ِ خاص کے عہدے پر فائز رہے ۔ انھوں نے احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ۔ اپنی وفات سے دو ماہ قبل اپنی قبر کھدوائی ۔ لوگوں نے استفسار کیا تو بتایا کہ مجھے امام ؑ نے  میری وفات کی خبر دی ہے اور میں اپنی تاریخ ِ وفات سے آگاہ ہوں  ۔اپنے بعد بحکمِ امام تیسرے نائب حُسین بن رَوح کی تقرری کا اعلان کیا اور جمادی الاول 305 ہجری کو وفات پائی۔خدا ان پر رحم فرمائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابیات

الغیبۃ     شیخ طُوسی

الاحتجاج       علامہ طبرسی

اکمال الدین و تمام النعمۃ      شیخ صدوق

نقوشِ عصمت     علامہ ذیشان حیدر جوادی


 
شخصیت  حضرت زینب سلام اللہ علیہا
اسد عباس اسدی
 assadabbas409@gmail.com 
    مقدمہ
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت تاریخ اسلام میں اور خصوصا نہضت کربلا میں انتہائی تاثیر گزار شخصیت ہے معاصر میں شیعہ اور سنی محققان نے حضرت زینب کی شخصیت کے مختلف پہلؤں پر قابل ذکر تحقیقات کی ہیں ، متاخرین کی تالیفات میں سے کتاب زینب کبریٰ تالیف جعفر النقدی ، ناسخ التواریخ حضرت زینب تالیف عباسقلی خان سپھر، مع بطلہ کربلا تالیف محمد جواد مغنیہ ، السیدہ زینب تالیف باقر شریف القرشی ، المراۃ العظیمہ تالیف حسن الصفار ، الخصائص الزینبیہ تالیف نور الدین الجزائری ،  قابل ذکر ہیں ۔
اور سنیوں کی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت پر  لکھی گئی کتابوں میں سے ، زینب بنت علی تالیف عبدالعزیز سید الاھل ،  العقیلۃ الطاہرہ تالیف احمد فہمی محمد المصری ،  حفیدۃ الرسول تالیف احمد الشرباصی الازہری ، بطلۃ کربلا تالیف عایشہ بنت الشاطی ، ابنۃ الزہراء  بطلۃ الفداء  زینب تالیف علی احمد شلبی ، السیدہ زینب تالیف موسی محمد علی ، قابل ذکر ہیں ۔
زینب بنت علیؑ
زینب (س)  دختر علی بن ابی طالب (ع) اور فاطمہ زہرا (س) ، آپ کی کنیت  ام کلثوم اور ام حسن  [1]ہے ، آپ کا مشہور ترین لقب ، الکبری ہے ۔ الصدیقہ الصغری ، العقیلہ  [2]، عقیلہ بنی ہاشم  [3]، عارفہ ، کاملہ ، عالمہ اور عابدہ آل علی ، سب آپکے القاب ہیں [4] ۔  اگر نسب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو شریف ترین نسب حضرت زینب (س) کا ہے ، نانا رسول اللہ ، بابا علی ، ماں فاطمہ ، بھائی حسنین کریمینؑ
زمان ولادت
آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں آپ کی بہن ام کلثوم کی طرح قدیم منابع میں کوئی معتبر روایت نہیں ملتی ، بعض متاخر کتابوں میں ، 5 جمادی الاولیٰ سال پنجم یا ششم ہجری ، ماہ شعبان سال ششم ، اور ماہ رمضان سال نہم ہجری ذکر ہوا ہے  [5]۔ سیوطی رسالہ الزینبیہ میں کہتے ہیں : زینب کبری پانچ سال قبل از رحلت رسول اللہ دنیا میں آئیں  [6]۔ آپکی تاریخ ولادت میں اختلاف یہ سوال ایجاد کرتا ہے کہ آپ حضرت فاطمہ کی بڑی بیٹی ہیں یا چھوٹی ؟
سنی  علماء کی نگاہ میں  
 اہل سنت مؤرخین اور نسب شناسان نےحضرت زینب کا سال تولد ذکر نہیں کیا ، اور  یہ کہ حضرت زہراء کی کون سی بیٹی بڑی ہے بطور صریح اظہار نظر نہیں کیا ،  بعض نے تو حضرت زینب کا نام جناب ام کلثوم کے بعد ذکر کیا ہے حضرت زہراء کی اولاد کی یہ ترتیب پہلی بار اپنی  کتاب الطبقات الکبری ابن سعد (م 230 ) میں ذکر ہوئی ہے  [7]اور اس کے بعد دیگران نے جیسے : ابن عبدالبر قرطبی ( م 463 ) اپنی کتاب استعاب میں ، ابن اثیر (م 630 )  اپنی کتاب اسد الغابہ میں ، ابن حجر عسقلانی  (م852 )  اپنی کتاب الاصابہ  میں اسی ترتیب سے نقل کرتے ہیں ۔
اور دوسر ی طرف مسعودی اپنی کتاب التنبیہ و الاشراف  [8]میں ، ابن قتیبہ (م 282 ) المعارف [9] میں ،  ابن حزم (م 456 ) جمھرہ انساب العرب [10] میں ، ابن جوزی (م597 ) المنتظم[11] میں ،  الشافعی (م562) مطالب السؤول میں ، سبط ابن جوزی (م654) تذکرۃ الخواص[12] میں ، ابن ابی الحدید  نہج البلاغہ کی شرح [13]میں ، حضرت زہراء ؑ کی اولاد کا ذکر کرتے وقت  حضرت زینب کے حلات کا سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں[14] ۔ ابن جوزی تصریح کرتے ہیں کہ زینب ، حضرت فاطمہ کی  تیسری اور ام کلثوم چوتھی بیٹی ہیں[15]   ۔
شیعہ علماء کی نگاہ میں
اکثر شیعہ علماء نے حضرت فاطمہ زہراء کی اولاد کے ذکر میں  حضرت زینب کو پہلے نمبر پر شمار کیا  ہے [16]
حضرت علی علیہ السلام کی بیٹیوں کے ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے  اکثر مؤرخین کو حضرت علی کی بیٹیوں کے حالات زندگی لکھنے میں مشکل کا سامنا رہا
العبیدلی  (م277)  ایک نسب شناس تھا کتاب اخبار الزینبیات  میں حضرت علی کی بیٹیوں کو  بہت واضح اور روشن انداز میں ذکر کرتا ہے ، یہ معتقد ہے کہ حضرت زہراء کی دوسری بیٹی کا نام بھی زینب تھا  حضرت فاطمہ نے خود اپنی بیٹی کا نام زینب رکھا لیکں رسول اللہ نے اپنی خالہ کے ساتھ شباہت [17]کی وجہ سے اس بچی کی کنیت ام کلثوم رکھ دی[18]  ۔ العبیدلی ام کلثوم کو زینب الوسطی ٰ کہتے ہیں اور زینب الصغریٰ ایک اور بیٹی کو سمجھتے ہیں کہ جس کی شادی محمد بن عقیل کے ساتھ ہوئی  [19]۔    شیخ  مفید حضرت زہرا کی دوسری بیٹی کو زینب صغری ٰ جانتے ہیں اور اس کی کنیت ام کلثوم ذکر کرتے ہیں   ۔ مسعودی اسی کو زینب کبری ٰ  کہتے ہیں  ۔ الزبیری  نصب شناس متقدم  اپنی کتاب " نسب قریش " میں ام کلثوم کو الکبری ٰ  کا لقب دیتے ہیں
اکثر شیعہ علماء کرام حضرت زینب کو  حضرت زہراء کی بڑی بیٹی جانتے ہیں جیساکہ ، شیخ مفید  الارشاد میں ، اربلی کشف الغمہ میں ، طبرسی اعلام الوری میں ، زینب کو الکبری اور ام کلثوم کو زینب صغری ذکر کرتے ہیں ۔ قرائن اور شواہد بھی یہی اشارہ کرتے ہیں کہ حضرت زینب بڑی بیٹی ہیں ۔
 حضرت زینب کی خصوصیات
حضرت زینب  بے شمار فضائل و کمالات کی مالک ہیں جن کو ایک مقالہ میں ذکر نہیں کیا جا سکتا  ، بطور نمونہ چند فضیلتیں  ملاحظہ فرمائیں
علم
کوفہ اور دربار یزید میں آیات قرآنی پر استوار حضرت زینب کا عالمانہ کلام و خطبات آپ کے علمی کمالات کا واضح ثبوت ہیں۔ آپ نے اپنے والد ماجد حضرت علیؑ اور والدہ ماجدہ حضرت زہراؑ سے احادیث بھی نقل کی ہیں.[20]
اس کے علاوہ آپ کوفہ میں حضرت علیؑ کی خلافت کے دوران خواتین کے لئے قرآن کی تفسیر کا درس بھی آپ کی علم دانش کا ناقابل انکار ثبوت ہے[21]۔ [16]
حضرت زينبؑ رسول اللہؐ اور علی و زہراءؑ کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ صحابیۃ الرسولؐ تھیں اور منقول ہے کہ آپ روایت حدیث کے رتبے پر فائز تھیں چنانچہ محمّد بن عمرو، عطاء بن سائب، فاطمہ بنت الحسین اور دیگر نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں[22]۔
حضرت زینبؑ نے حضرات معصومینؑ سے متعدد حدیثیں مختلف موضوعات میں نقل کی ہیں منجملہ: شیعیان آل رسولؐ کی منزلت، حب آل محمد، واقعۂ فدک، ہمسایہ، بعثت وغیرہ.
سننے والوں کیلئے آپ کے خطبات اپنے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے خطبات کی یاد تازہ کرتے تھے[23]۔ کوفہ اور یزید کے دربار میں آپ کا خطبہ نیز عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ آپ کی گفتگو اپنے والد گرامی کے خطبات نیز اپنی والدہ گرامی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبہ فدکیہ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے[24]۔
کوفہ میں آپ کے خطبے کے دوران ایک بوڑھا شخص روتے ہوئے کہہ رہا تھا:
"میرے ماں باپ ان پر قربان ہو جائے، ان کے عمر رسیدہ افراد تمام عمر رسیدہ افراد سے بہتر، ان کے بچے تمام بچوں سے افضل اور ان کی مستورات تمام مستورات سے افضل اور ان کی نسل تمام انسانوں سے افضل اور برتر ہیں[25]۔
عبادت
حضرت زینب كبریؑ راتوں کو عبادت کرتی تھیں اور اپنی زندگی میں آپ نے کبھی بھی نماز تہجد کو ترک نہيں کیا۔ اس قدر عبادت پروردگار کا اہتمام کرتی تھیں کہ عابدہ آل علی کہلائیں[26]۔ آپ کی شب بیداری اور نماز شب دس اور گیارہ محرم کی راتوں کو بھی ترک نہ ہوئی۔ فاطمہ بنت الحسینؑ کہتی ہیں:
شب عاشور پھوپھی زینبؑ مسلسل محراب عبادت میں کھڑی رہیں اور نماز و راز و نیاز میں مصروف تھیں اور آپ کے آنسو مسلسل جاری تھے[27]۔
خدا کے ساتھ حضرت زینبؑ کا ارتباط و اتصال کچھ ایسا تھا کہ حسینؑ نے روز عاشورا آپ سے وداع کرتے ہوئے فرمایا:
"یا اختي لا تنسيني في نافلة الليل" ترجمہ: میری بہن! نماز شب میں مجھے مت بھولنا[28]۔
صبر و استقامت
حضرت زینبؑ صبر و استقامت میں اپنی مثال آپ تھیں۔ آپ زندگی میں اتنے مصائب سے دوچار ہوئیں کہ تاریخ میں آپ کو ام المصائب کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ کربلا میں جب اپنے بھائی حسینؑ کے خون میں غلطاں لاش پر پہونچیں تو آسمان کی طرف رخ کرکے عرض کیا:
بار خدایا! تیری راہ میں ہماری اس چھوٹی قربانی کو قبول فرما[29]۔
آپ نے بارہا امام سجّادؑ کو موت کے منہ سے نکالا؛ منجملہ ان موارد میں سے ایک ابن زیاد کے دربار کا واقعہ ہے، جب امام سجّادؑ نے عبید اللہ بن زياد سے بحث کی تو اس نے آپؑ کے قتل کا حکم دیا. اس موقع پر حضرت زینبؑ نے بھتیجے کی گردن میں ہاتھ ڈال کر فرمایا: "جب تک میں زندہ ہوں انہیں قتل نہيں کرنے دونگی[30]۔
واقعۂ کربلا  ، شب عاشورا
شیخ مفید امام سجاد ؑ سے یوں روایت کرتے ہیں: شب تاسوعا میں اپنے والد کے پاس بیٹھا تھا اور پھوپھی زینب ہمارے پاس تھیں اور امام حسین میری دیکھ بھال میں مصروف تھے کہ امام حسین خیمے میں گئے جہاں ابوذر غفاری کے غلام جوین انکے ساتھ تھے۔ آپ اپنی تلوار کو تیز کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے:
یا دهر افّ لک من خلیل                            کم لک بالاشراق والاصیل
اے دنیا! تیری دوستی پر افسوس! کتنے ایسے خلیل                            تمہیں پانے والے اشراق اور اصیل ہیں
من صاحب او طالب قتیل                         والدّہر لا یقنع بالبدیل
ان میں سے کچھ صاحب اور طالب قتیل ہیں                   اور زمانہ بدیل پر قناعت نہیں کرتا
پس امام حسین نے ان اشعار کی دو تین مرتبہ تکرار کی یہاں تک کہ میں نے آپ کے مقصود کو پا لیا، مجھ پر گریہ غالب ہوا لیکن میں آنسو پی گیا اور میں جان گیا مصیبت نازل ہونے والی ہے۔ میری پھوپھی رقت قلبی (جو عورتوں کی خصوصیت ہے) کی وجہ سے یہ سننے کی طاقت نہ لا سکی، جلدی سے اٹھیں اور میرے والد کے پاس پہنچیں تو مخاطب ہوئیں: واہ مصیبتا! کاش مجھے موت آ جاتی،آج میری ماں فاطمہ، باپ علی اور بھائی حسن فوت ہو گئے، اے گذشتگان کے جانشین! باقی رہ جانے والوں کی ڈھارس! یہ سننا تھا کہ امام حسین نے انکی طرف نگاہ کی اور فرمایا: اے بہن! شیطان تجھ پر غلبہ حاصل نہ کر لے، آپ نے بھری ہوئی آنکھوں سے فرمایا: اگر پرندے کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تو وہ سو جائے گا۔
پس حضرت زینب ؑ نے کہا:‌ مجھ پر وائے ہو! کیا یہ بزور شمشیر تمہاری جان لیں گے؟ ایسا ہے تو یہ مجھے اور زیادہ غمگین کر دیا اور یہ میرے لئے زیادہ ناقابل برداشت ہے یہ کہہ کر پھوپھی نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور گریبان پارہ پارہ کر لیا، آپ بیہوش ہو کر گر گئیں۔ پس حسین ؑ اٹھے اور پانی کے چھینٹے آپ کے چہرے مارے اور فرمایا:
اے بہن! خدا کا خوف کیجئے، صبر اور شکیبائی اختیار کیجئے! جان لیجئے کہ اہل زمین اس دنیا سے چلے گئے اور نہ ہی اہل آسمان باقی نہیں رہے گے، ہر چیز فانی ہے صرف وہ وجہ اللہ باقی رہے گا جس نے اپنی قدرت سے خلق کیا اور پھر انہیں اپنی طرف لوٹائے گا اور وہ یگانہ و یکتا ہے۔ میرے والد مجھ سے بہتر تھے اور میری والدہ مجھ سے بہتر تھی اسی طرح میرے بھائی بھی مجھ سے بہتر تھے اور رسول خدا صلّی اللّه علیہ و آلہ ہمارے اور سب مسلمانوں کیلئے نمونۂ عمل ہیں۔
امام نے ان الفاظ کے ساتھ انکی دلداری کی اور فرمایا: اے بہن! میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں تم میرے بعد اس قسم کو مت توڑنا، جب دیگران پر حزن و غم طاری ہو تو آپ میری خاطر اپنا گریبان چاک نہ کریں، چہرہ مت پیٹیں اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں۔ یہ کہہ کر حضرت زینب کو میرے پاس بٹھا دیا اور اپنے اصحاب کے پاس چلے گئے[31]۔
عصر عاشور جب سیدہ زینبؑ نے دیکھا کہ امام حسینؑ خاک کربلا پر گرے ہوئے ہیں اور دشمنان دین نے آپ کے مجروح جسم کو گھیرے میں لے کر آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ خیمے سے باہر آئیں اور عمر ابن سعد سے مخاطب ہوکر فرمایا:
يابن سَعد! أَیُقتَلُ اَبُو عبد اللهِ وَأَنتَ تَنظُرُ اِلَيهِ. (ترجمہ: اے سعد کے بیٹے! ابو عبد اللہ (امام حسنؑ) کو قتل کیا جارہا ہے اور تو تماشا دیکھ رہا ہو؟!)[32]۔
ابن سعد خاموش رہا اور زینب کبریؑ نے بآواز بلند پکار کر کہا: "وا اَخاهُ وا سَیِّداهُ وا اَهْلِ بَیْتاهْ ، لَیْتَ السَّماءُ اِنْطَبَقَتْ عَلَی الْاَرضِ وَ لَیْتَ الْجِبالُ تَدَکْدَکَتْ عَلَی السَّهْل.(ترجمہ: آہ میرے بھائی! آہ میرے سید و سرور! آہ اے خاندان پیمبرؐ! کاش آسمان زمین پر گرتا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر صحراؤں پر گرجاتے)[33]۔
حضرت زینبؑ نے یہ جملے ادا کرکے تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا. آپ اپنے بھائی کی بالین پر پہنچیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر بارگاہ رب متعال میں عرض گزار ہوئیں: "اے میرے اللہ! یہ قربانی ہم سے قبول فرما[34]۔
محافظہ امامت
مظلوم کربلا کی شہادت کے بعد زینب کبریٰ کی اصل ذمہ داری   سلسلہ امامت کو منقطع ہونے سے بچانا تھا   ہمارا اعتقاد ہے کہ سلسلہ امامت کی چوتھی کڑی سید سجاد(ع) ہیں ،چنانچہ عبیداللہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو دستور دیا تھا کہ اولاد امام حسین (ع) میں سے تمام مردوں کو شہید کئے جائیں،دوسری طرف مشیت الہی یہ تھی کہ مسلمانوں کیلئے ولایت اور رہبری کایہ سلسلہ جاری رکھا جائے ، اس لئے امام سجاد (ع) بیمار رہے اور آپ کا بیمار رہنا دوطرح سے آپ کے  زندہ رہنے کیلئے مدد گار ثابت ہوا۔1۔ امام وقت کا دفاع کرنا واجب تھا جو بیماری کی وجہ سے آپ سے ساقط ہوا ۔2۔ دشمنوں کے حملے اور تعرضات سے بچنے کا زمینہ فراہم کرنا تھا جو بیماری کی وجہ سے ممکن ہوا۔کہاں کہاں زینب (س) نے امام سجاد (ع)کی حفاظت کی؟جلتے ہوئے خیموں سے امام سجاد (ع) کی حفاظت تاریخ کا ایک وحشیانہ ترین واقعہ عمر سعد کا اھل بیت امام حسین (ع) کے خیموں کی طرف حملہ کر کے مال واسباب کا لوٹنا اور خیموں کو آگ لگانا تھا ۔ اس وقت اپنے وقت کے امام سید الساجدین (ع) سے حکم شرعی پوچھتی ہیں: اے امامت کے وارث اور بازماندگان کے پناہ گاہ ! ہمارے خیموں کو آگ لگائی گئی ہے ، ہمارے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟ کیا انہی خیموں میں رہ کر جلنا ہے یا بیابان کی طرف نکلنا ہے؟!امام سجاد (ع) نے فرمایا:آپ لوگ خیموں سے نکل جائیں۔ لیکن زینب کبری (س) اس صحنہ کو چھوڑ کر نہیں جاسکتی تھیں، بلکہ آپکا امام سجاد (ع) کی نجات کیلئے رکنا ضروری تھا۔راوی کہتا ہے کہ میں دیکھ رہا تھا خیموں سے آگ کے شعلے بلند ہورہے تھے اور ایک خاتون بیچینی کےعالم میں خیمے کے در پر کھڑی چاروں طرف دیکھ رہی تھیں، اس آس میں کہ کوئی آپ کی مدد کو آئے ۔ پھر آپ ایک خیمہ کے اندر چلی گئی ۔ اور جب باہر آئی تو میں نے پوچھا : اے خاتون !اس جلتے ہوئے خیمے میں آپ کی کونسی قیمتی چیز رکھی ہوئی ہے ؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہی ہے کہ آگ کا شعلہ بلند ہورہا ہے؟!زینب کبری (س)یہ سن کر فریاد کرنے لگیں :اس خیمے میں میرا ایک بیماربیٹا ہے جو نہ اٹھ سکتا ہے اور نہ اپنے کو آگ سے بچا سکتا ہے ؛جبکہ آگ کے شعلوں نے اسے گھیر رکھا ہے ۔آکر کار زینب کبری (س) نے امام سجاد (ع) کو خیمے سے نکال کر اپنے وقت کے امام کی جان بچائی ۔شمر کے سامنے امام سجاد(ع) کی حفاظت
امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد لشکر عمر سعد خیمہ گاہ حسینی کی طرف غارت کے لئے بڑھے ۔ایک گروہ امام سجاد (ع) کی طرف گئے ، جب کہ آپ شدید بیمار ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھ نہیں سکتے تھے ۔ ایک نے اعلان کیا کہ ان کے چھوٹوں اور بڑوں میں سے کسی پربھی رحم نہ کرنا ۔دوسرے نے کہا اس بارے میں امیر عمر سعد سے مشورہ کرے ۔ شمر ملعون نے امام (ع) کو شہید کرنے کیلئے تلوار اٹھائی ۔ حمید بن مسلم کہتا ہے : سبحان اللہ ! کیا بچوں اوربیماروں کو بھی شہید کروگے؟! شمر نے کہا : عبید اللہ نے حکم دیا ہے ۔ حضرت زینب (س) نے جب یہ منظر دیکھا تو امام سجاد (ع) کے قریب آئیں اور فریاد کی: ظالمو! اسے قتل نہ کرو۔ اگرقتل کرنا ہی ہے تو مجھے پہلے قتل کرو ۔آپ کا یہ کہنا باعث بنا کہ امام (ع)کے قتل کرنے سے عمر سعد منصرف ہوگیا۔-4-امام سجاد (ع) کو تسلی دینا
جب اسیران اہل حرم کوکوفہ کی طرف روانہ کئے گئے ، تو مقتل سے گذارے گئے ، امام(ع) نے اپنے عزیزوں کو بے گور وکفن اور عمر سعد کے لشکر کے ناپاک جسموں کو مدفون پایا تو آپ پر اس قدر شاق گزری کہ جان نکلنے کے قریب تھا ۔ اس وقت زینب کبری (س) نے آپ کی دلداری کیلئے ام ایمن سے ایک حدیث نقل کی ،جس میں یہ خوش خبری تھی کہ آپ کے بابا کی قبر مطہر آیندہ عاشقان اور محبین اہلبیت کیلئےامن اورامید گاہ بنے گی۔لِمَا أَرَى مِنْهُمْ قَلَقِي فَكَادَتْ نَفْسِي تَخْرُجُ وَ تَبَيَّنَتْ ذَلِكَ مِنِّي عَمَّتِي زَيْنَبُ بِنْتُ عَلِيٍّ الْكُبْرَى فَقَالَتْ مَا لِي أَرَاكَ تَجُودُ بِنَفْسِكَ يَا بَقِيَّةَ جَدِّي وَ أَبِي وَ إِخْوَتِي فَقُلْتُ وَ كَيْفَ لَا أَجْزَعُ وَ أَهْلَعُ وَ قَدْ أَرَى سَيِّدِي وَ إِخْوَتِي وَ عُمُومَتِي وَ وُلْدَ عَمِّي وَ أَهْلِي مُضَرَّجِينَ بِدِمَائِهِمْ مُرَمَّلِينَ بِالْعَرَاءِ مُسَلَّبِينَ لَا يُكَفَّنُونَ وَ لَا يُوَارَوْنَ وَ لَا يُعَرِّجُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ وَ لَا يَقْرَبُهُمْ بَشَرٌ كَأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الدَّيْلَمِ وَ الْخَزَرِ فَقَالَتْ لَا يَجْزَعَنَّكَ مَا تَرَى فَوَ اللَّهِ إِنَّ ذَلِكَ لَعَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى جَدِّكَ وَ أَبِيكَ وَ عَمِّكَ وَ لَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ‏ مِيثَاقَ أُنَاسٍ مِنْ هَذِه الْأُمَّةِ لَا تَعْرِفُهُمْ فَرَاعِنَةُ هَذِهِ الْأَرْضِ وَ هُمْ مَعْرُوفُونَ فِي أَهْلِ السَّمَاوَاتِ أَنَّهُمْ يَجْمَعُونَ هَذِهِ الْأَعْضَاءَ الْمُتَفَرِّقَةَ فَيُوَارُونَهَا وَ هَذِهِ الْجُسُومَ الْمُضَرَّجَةَ وَ يَنْصِبُونَ لِهَذَا الطَّفِّ عَلَماً لِقَبْرِ أَبِيكَ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ لَا يَدْرُسُ أَثَرُهُ وَ لَا يَعْفُو رَسْمُهُ عَلَى كُرُورِ اللَّيَالِي وَ الْأَيَّامِ وَ لَيَجْتَهِدَنَّ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَ أَشْيَاعُ الضَّلَالَةِ فِي مَحْوِهِ وَ تَطْمِيسِهِ فَلَا يَزْدَادُ أَثَرُهُ إِلَّا ظُهُوراً وَ أَمْرُهُ إِلَّا عُلُوّا-5- بحار ، ج۴۵، ص۱۷۹ ۱۸۰  خود امام سجاد (ع) فرماتے ہیں : کہ جب میں نے مقدس شہیدوں کے مبارک جسموں کو بے گور وکفن دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔یہاں تک کہ میری جان نکلنے والی تھی ، میری پھوپھی زینب(س) نے جب میری یہ حالت دیکھی تو فرمایا: اے میرے نانا ،بابا اور بھائیوں کی نشانی ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تیری جان نکلنے والی ہے ۔تو میں نے جواب دیا کہ پھوپھی اماں ! میں کس طرح آہ وزاری نہ کروں ؟جب کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے بابا اور عمو اور بھائیوں اور دیگر عزیزو اقرباء کو خون میں لت پت اور عریان زمین پر پڑے دیکھ رہا ہوں۔اور کوئی ان کو دفن کرنے والے نہیں ہیں۔ گویا یہ لوگ دیلم اور خزر کے خاندان والے ہیں ۔زینب (س) نے فرمایا: آپ یہ حالت دیکھ کر آہ وزاری نہ کرنا ۔خدا کی قسم ،یہ خدا کے ساتھ کیا ہوا وعدہ تھا جسے آپ کے بابا ، چچا ،بھائی اور دیگر عزیزوں نے پورا کیا ۔خدا تعالی اس امت میں سے ایک گروہ پیدا کریگا جنہیں زمانے کےکوئی بھی فرعون نہیں پہچان سکے گا ۔ لیکن آسمان والوں کے درمیان مشہور اور معروف ہونگے۔ان سے عہد لیا ہوا ہے کہ ان جدا شدہ اعضاء اور خون میں لت پت ٹکڑوں کو جمع کریں گے اور انہیں دفن کریں گے۔وہ لوگ اس سرزمین پر آپ کے بابا کی قبر کے نشانات بنائیں گےجسے رہتی دنیا تک کوئی نہیں مٹا سکے گا۔سرداران کفر والحاد اس نشانے کو مٹانے کی کوشش کریں گے، لیکن روز بہ روز ان آثار کی شان ومنزلت میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا
دربار ابن زیاد میں امام سجاد (ع) کی حفاظت
قَالَ الْمُفِيدُ فَأُدْخِلَ عِيَالُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا عَلَى ابْنِ زِيَادٍ فَدَخَلَتْ زَيْنَبُ أُخْتُ الْحُسَيْنِ ع فِي جُمْلَتِهِمْ مُتَنَكِّرَةً وَ عَلَيْهَا أَرْذَلُ ثِيَابِهَا وَ مَضَتْ حَتَّى جَلَسَتْ نَاحِيَةً وَ حَفَّتْ بِهَا إِمَاؤُهَا فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ مَنْ هَذِهِ الَّتِي انْحَازَتْ فَجَلَسَتْ نَاحِيَةً وَ مَعَهَا نِسَاؤُهَا فَلَمْ تُجِبْهُ زَيْنَبُ فَأَعَادَ الْقَوْلَ ثَانِيَةً وَ ثَالِثَةً يَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَهُ بَعْضُ إِمَائِهَا هَذِهِ زَيْنَبُ بِنْتُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا ابْنُ زِيَادٍ وَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَحَكُمْ وَ قَتَلَكُمْ وَ أَكْذَبَ أُحْدُوثَتَكُمْ فَقَالَتْ زَيْنَبُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا بِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ص وَ طَهَّرَنَا مِنَ الرِّجْسِ تَطْهِيراً إِنَّمَا يَفْتَضِحُ الْفَاسِقُ ۔۔۔ ثُمَّ الْتَفَتَ ابْنُ زِيَادٍ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقِيلَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ فَقَالَ أَ لَيْسَ قَدْ قَتَلَ اللَّهُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ فَقَالَ عَلِيٌّ قَدْ كَانَ لِي أَخٌ يُسَمَّى عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ قَتَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها وَ الَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنامِها فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ وَ لَكَ جُرْأَةٌ عَلَى جَوَابِي اذْهَبُوا بِهِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ فَسَمِعَتْ عَمَّتُهُ زَيْنَبُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ زِيَادٍ إِنَّكَ لَمْ تُبْقِ مِنَّا أَحَداً فَإِنْ عَزَمْتَ عَلَى قَتْلِهِ فَاقْتُلْنِي مَعَهُ فَنَظَرَ ابْنُ زِيَادٍ إِلَيْهَا وَ إِلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ عَجَباً لِلرَّحِمِ وَ اللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّهَا وَدَّتْ أَنِّي قَتَلْتُهَا مَعَهُ‏ دَعُوهُ فَإِنِّي أَرَاهُ لِمَا بِهِ فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَمَّتِهِ اسْكُتِي يَا عَمَّةُ حَتَّى أُكَلِّمَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ ع فَقَالَ أَ بِالْقَتْلِ تُهَدِّدُنِي يَا ابْنَ زِيَادٍ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَتْلَ لَنَا عَادَةٌ وَ كَرَامَتَنَا الشَّهَادَة-    بحار ،ج۴۵،ص۱۱۷،۱۱۸۔جب خاندان نبوت ابن زیاد کی مجلس میں داخل ہوئی ؛ زینب کبری دوسری خواتین کے درمیان میں بیٹھ گئیں ؛ تو ابن زیاد نے سوال کیا : کون ہے یہ عورت ، جو دوسری خواتین کے درمیان چھپی ہوئی ہے؟ زینب کبری نے جواب نہیں دیا ۔ تین بار یہ سوال دہرایاتو کنیزوں نے جواب دیا : اے ابن زیاد ! یہ رسول خدا (ص) کی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرا (س)کی بیٹی زینب کبری (س)ہے ۔ ابن زیاد آپ کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اس خدا کا شکر ہے جس نے تمہیں ذلیل و خوار کیا اور تمھارے مردوں کو قتل کیا اور جن چیزوں کا تم دعوی کرتے تھے ؛ جٹھلایا ۔ابن زیاد کی اس ناپاک عزائم کو زینب کبری (س)نے خاک میں ملاتےہوئے فرمایا:اس خدا کا شکر ہے جس نے اپنے نبی محمد مصطفیٰ (ص) کے ذریعے ہمیں عزت بخشی ۔ اورہرقسم کے رجس اور ناپاکی سے پاک کیا۔ بیشک فاسق ہی رسوا ہوجائے گا ۔جب ابن زیاد نے علی ابن الحسین (ع)کو دیکھا تو کہا یہ کون ہے؟ کسی نے کہا : یہ علی ابن الحسین (ع)ہے ۔تو اس نے کہا ؛کیا اسے خدا نے قتل نہیں کیا ؟ یہ کہہ کر وہ بنی امیہ کا عقیدہ جبر کا پرچار کرکے حاضرین کے ذہنوں کو منحرف کرنا چاہتے تھے اور اپنے جرم کو خدا کے ذمہ لگا کر خود کو بے گناہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔امام سجاد (ع) جن کے بابا او ر پوراخاندان احیاء دین کیلئے مبارزہ کرتے ہوئے بدرجہ شہادت فائز ہوئے تھے اور خود امام نے ان شہداء کے پیغامات کو آنے والے نسلوں تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کی تھی ، اس سے مخاطب ہوئے : میرا بھائی علی ابن الحسین (ع) تھا جسے تم لوگوں نے شہید کیا ۔ابن زیاد نے کہا : اسے خدا نے قتل کیا ہے ۔امام سجاد (ع) نے جب اس کی لجاجت اور دشمنی کو دیکھا تو فرمایا: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ -7- زمر ۴۲۔
 اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے ۔ اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے ،اس کی روح کو روک لیتا ہے ۔ اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدّت کے لئے آزاد کردیتا ہے - اس بات میں صاحبان فکر و نظر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ۔ابن زیاد اس محکم اور منطقی جوا ب اور استدلال سن کر لا جواب ہوا تو دوسرے ظالموں اور جابروں کی طرح تہدید پر اتر آیا اور کہنے لگا : تو نے کس طرح جرات کی میری باتوں کا جواب دے ؟! جلاد کو حکم دیا ان کا سر قلم کرو ۔ تو اس وقت زینب کبری (س) نے سید سجاد (ع)کو اپنے آغوش میں لیا اور فرمایا:اے زیاد کے بیٹے ! جتنے ہمارے عزیزوں کو جو تم نے شہید کیا ہے کیا کافی نہیں؟!خدا کی قسم میں ان سے جدا نہیں ہونگی ۔ اگر تو ان کو شہید کرنا ہی ہے تو پہلے مجھے قتل کرو۔یہاں ابن زیاد دوراہے پر رہ گیا کہ اس کے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ؟ ایک طرف سے کسی ایک خاتون اوربیمار جوان کو قتل کرنا ۔ دوسرا یہ کہ زینب کبری (س)کو جواب نہ دے پانا۔ یہ دونوں غیرت عرب کا منافی تھا ۔اس وقت عمرو بن حریث نے کہا: اے امیر! عورت کی بات پر انہیں سزانہیں دی جاتی، بلکہ ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنا ہوتا ہے ۔ اس وقت ابن زیاد نے زینب کبری(س) سے کہا: خدا نے تمھارے نافرمان اور باغی خاندان کو قتل کرکے میرے دل کو چین اور سکون فراہم کیا ۔اس معلون کی اس طعنے نے زینب کبری(س) کا سخت دل دکھا یااورلادیا ۔ اس وقت فرمایا: میری جان کی قسم ! تو نے میرے بزرگوں کو شہید کیا، اور میری نسل کشی کی ، اگر یہی کام تیرے دل کا چین اور سکون کا باعث بنا ہے تو کیا تیرے لئے شفا ملی ہے ؟! ابن زیاد نے کہا : یہ ایک ایسی عورت ہے جو قیافہ کوئی اور شاعری کرتی ہے ۔ یعنی اپنی باتوں کو شعر کی شکل میں ایک ہی وزن اور آہنگ میں بیان کرتی ہے ۔ جس طرح ان کا باپ بھی اپنی شاعری دکھایا کرتا تھا ۔زینب کبری (س) نے کہا: عورت کو شاعری سے کیا سروکار؟! لیکن میرے سینے سے جو بات نکل رہی ہے وہ ہم قیافہ اور ہم وزن ہے-8-۔آخر میں مجبور ہوا کہ موضوع گفتگو تبدیل کرے اور کہا: بہت عجیب رشتہ داری ہے کہ خدا قسم ! میرا گمان ہے کہ زینب چاہتی ہے کہ میں اسے ان کے برادر زادے کے ساتھ قتل کروں؛ انہیں لے جاؤ؛ کیونکہ میں ان کی بیماری کو ان کے قتل کیلئے کافی جانتاہوں۔اس وقت امام سجاد(ع) نے فرمایا : اے زیاد کے بیٹے ! کیا تو مجھے موت سے ڈراتے ہو ؟ کیا تو نہیں جانتا ، راہ خدا میں شہید ہونا ہمارا ورثہ اور ہماری کرامت ہے ۔
فاطمہ صغریٰ کی حفاظت
دربار یزید میں ایک مرد شامی نے جسارت کے ساتھ کہا : حسین کی بیٹی فاطمہ کو ان کی کنیزی میں دے دے ۔ فاطمہ نے جب یہ بات سنی تو اپنی پھوپھی سے لپٹ کر کہا : پھوپھی اماں ! میں یتیم ہوچکی کیا اسیر بھی ہونا ہے ؟!!فَقَالَتْ عَمَّتِي لِلشَّامِيِّ كَذَبْتَ وَ اللَّهِ وَ لَوْ مِتُّ وَ اللَّهِ مَا ذَلِكَ لَكَ وَ لَا لَهُ فَغَضِبَ يَزِيدُ وَ قَالَ كَذَبْتِ وَ اللَّهِ إِنَّ ذَلِكَ لِي وَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ قَالَتْ كَلَّا وَ اللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ مِنْ مِلَّتِنَا وَ تَدِينَ بِغَيْرِهَا فَاسْتَطَارَ يَزِيدُ غَضَباً وَ قَالَ إِيَّايَ تَسْتَقْبِلِينَ بِهَذَا إِنَّمَا خَرَجَ مِنَ الدِّينِ أَبُوكِ وَ أَخُوكِ قَالَتْ زَيْنَبُ بِدِينِ اللَّهِ وَ دِيْنِ أ بِي وَ دِيْنِ أَخِي اهْتَدَيْتَ أَنْتَ وَ أَبُوكَ وَ جَدُّكَ إِنْ كُنْتَ مُسْلِماً قَالَ كَذَبْتِ يَا عَدُوَّةَ اللَّهِ قَالَتْ لَهُ أَنْتَ أَمِيرٌ تَشْتِمُ ظَالِماً وَ تَقْهَرُ لِسُلْطَانِكَ فَكَأَنَّهُ اسْتَحْيَا وَ سَكَتَ وَ عَادَ الشَّامِيُّ فَقَالَ هَبْ لِي هَذِهِ الْجَارِيَةَ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ اعْزُبْ وَهَبَ اللَّهُ لَكَ حَتْفاً قَاضِياً فَقَالَ الشَّامِيُّ مَنْ هَذِهِ الْجَارِيَةُ فَقَالَ يَزِيدُ هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ وَ تِلْكَ زَيْنَبُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ الشَّامِيُّ الْحُسَيْنُ ابْنُ فَاطِمَةَ وَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الشَّامِيُّ لَعَنَكَ اللَّهُ يَايَزِيدُ تَقْتُلُ عِتْرَةَ نَبِيِّكَ وَ تَسْبِي ذُرِّيَّتَهُ وَ اللَّهِ مَا تَوَهَّمْتُ إِلَّا أَنَّهُمْ سَبْيُ الرُّومِ فَقَالَ يَزِيدُ وَ اللَّهِ لَأُلْحِقَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ-3  بحار،ج۴۵ ص ۱۳۶،۱۳۷۔زینب کبری(س) نے شہامت اور جرئت کے ساتھ مرد شامی سے مخاطب ہوکر کہا: خدا کی قسم تو غلط کہہ رہا ہے ، تمھاری کیا جرئت کہ تو میری بیٹی کو کنیز بنا سکے؟!!یزید نے جب یہ بات سنی تو غضبناک ہوا اور کہا: خدا کی قسم یہ غلط کہہ رہی ہے ۔ میں اگر چاہوں تو اس بچی کو کنیز ی میں دے سکتا ہوں۔زینب کبری (س) نے کہا : خدا کی قسم تمھیں یہ حق نہیں ہے ؛ مگر یہ کہ ہمارے دین سے خارج ہو جائے۔یہ بات سن کر یزید نے غصے میں آکر کہا : میرے ساتھ اس طرح بات کرتی ہو جبکہ تیرے بھائی اور باپ دین سے خارج ہوچکے ہیں ۔زینب کبری(س) نے کہا:اگرتو مسلمان ہو اور میرے جد اور بابا کے دین پر باقی ہو تو تواورتیرے باپ داداکو میرے باپ دادا کے ذریعے ہدایت ملی تھی۔یزید نے کہا : تو جھوٹ بولتی ہو اے دشمن خدا ۔زینب کبری(س) نے فرمایا: تو ایک ظالم انسان ہو اور اپنی ظاہری قدرت اور طاقت کی وجہ سے اپنی بات منوانا چاہتے ہو۔اس بات سے یزید سخت شرمندہ ہوا اور چپ ہوگیا۔اس وقت مرد شامی نے یزید سے دوبارہ کہا :اس بچی کو مجھے دو ۔یزید نے اس سے کہا :خاموش ہوجا !خدا تجھے نابود کر ے ۔اس شامی نے کہا: آخر یہ بچی کس کی ہے؟!یزید نے کہا: یہ حسین کی بیٹی ہے ۔ اور وہ عورت زینب بنت علی ابن ابیطالب ہے ۔اس مرد شامی نے کہا : حسین !!فاطمہ اورعلی (ع) کا بیٹا؟! جب ہاں میں جواب ملا تو کہا: اے یزید ! خدا تجھ پر لعنت کرے ! پیامبر(ص) کی اولادوں کو قتل کرکے ان کی عترت کو اسیر کرکے لے آئے ہو!خدا کی قسم میں ان کو ملک روم سے لائے ہوئے اسیر سمجھ رہا تھا ۔یزید نے کہا : خدا کی قسم ! تجھے بھی ان سے ملحق کروں گا ۔ اس وقت اس کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم دیا ۔
بھائی کی شہادت پر رد عمل
حضرت زینبؑ بھائی امام حسینؑ کے بے جان جسم کے پاس کھڑے ہوکر مدینہ کی طرف رخ کیا اور دل گداز انداز ميں نوحہ گری کرتے ہوئے کہا:
وا محمداه بناتك سبايا و ذريتك مقتلة تسفي عليهم ريح الصبا، و هذا الحسين محزوز الرأس من القفا مسلوب العمامة و الردا، بابي من اضحي عسكره في يوم الاثنين نهبا، بابي من فسطاطه مقطع العري، بابي من لا غائب فيرتجي و لا جريح فيداوي بابي من نفسي له الفدا، بابي المهموم حتي قضي، بابي العطشان حتي مضي، بابي من شيبته تقطر بالدماء، بابي من جده محمد المصطفي، بابي من جده رسول اله السماء، بابي من هو سبط نبي الهدي، بابي محمد المصطفي، بابي خديجة الكبري بابي علي المرتضي، بابي فاطمة الزهراء سيدة النساء، بابي من ردت له الشمس حتي صلي.
ترجمہ: اے محمد یہ آپ کی بیٹیاں ہیں جو اسیر ہوکر جارہی ہیں. یہ آپ کے فرزند ہیں جو خون میں ڈوبے زمین پر گرے ہوئے ہیں، اور صبح کی ہوائیں ان کے جسموں پر خاک اڑا رہی ہیں! یہ حسین ہے جس کا سر پشت سے قلم کیا گیا اور ان کی دستار اور ردا کو لوٹ لیا گیا؛ میرا باپ فدا ہو اس پر جس کی سپاہ کو سوموار کے دن غارت کی گئیں، میرا باپ فدا ہو اس پر جس کے خیموں کی رسیاں کاٹ دی گئیں! میرا باپ فدا ہو اس پر جو نہ سفر پر گیا ہے جہاں سے پلٹ کر آنے کی امید ہو اور نہ ہی زخمی ہے جس کا علاج کیا جاسکے! میرا باپ فدا ہو اس پر جس پر میری جان فدا ہے؛ میرا باپ فدا ہو اس پر جس کو غم و اندوہ سے بھرے دل اور پیاس کی حالت میں قتل کیا گیا؛ میرا باپ فدا ہو اس پر جس کی داڑھی سے خون ٹپک رہا تھا! میرا باپ فدا ہو جس کا نانا رسول خداؐ ہے اور وہ پیغمبر ہدایتؐ، اور خدیجۃالکبریؑ اور علی مرتضیؑ، فاطمۃالزہراؑ، سیدة نساء العالمین کا فرزند ہے، میرا باپ فدا ہو اس پر وہی جس کے لئے سورج لوٹ کے آیا حتی کہ اس نے نماز ادا کی[35]... حضرت زینبؑ کے کلام اور آہ و فریاد نے دوست اور دشمن کو متاثر و مغموم کیا اور سب کو رلا دیا[36]۔
دربار كوفہ
کوفہ میں حضرت زینب کا خطبہ
عاشورا کے بعد اہل بیت کے اسیروں کو بازار میں لایا گیا۔ کوفہ میں زینب بنت علی نے ایک اثردار خطبہ دیا جس نے لوگوں پر بہت زیادہ اپنا اثر چھوڑا۔
بُشر بن خُزیم اسدی حضرت زینبؑ کے خطبے کے بارے میں کہتا ہے:
اس دن میں زینب بنت علیؑ کو دیکھ رہا تھا؛ خدا کی قسم میں نے کسی کو خطابت میں ان کی طرح فصیح و بلیغ نہیں دیکھا؛ گویا امیرالمؤمنین علی بن ابیطالبؑ کی زبان سے بول رہی تھیں۔ آپ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر ایک غضبناک لہجے میں فرمایا: "خاموش ہوجاؤ"! تو نہ صرف لوگوں کا وہ ہجوم خاموش ہوا بلکہ اونٹوں کی گردن میں باندھی گھنٹیوں کی آواز آنا بھی بند ہوگئی[37]۔ حضرت زینب کا خطاب اختتام پذیر ہوا لیکن اس خطبے نے کوفہ میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی تھی اور لوگوں کی نفسیاتی کیفیت بدل گئی تھی۔ راوی کہتا ہے: کہ علیؑ کی بیٹی کے خطبے نے کوفیون کو حیرت زدہ کر دیا تھا اور لوگ حیرت سے انگشت بدندان تھے۔
خطبے کے بعد شہر میں [یزیدی] حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کی علامات ظاہر ہونے لگیں چنانچہ اس حکومت کے خلاف احتمالی بغاوت کے سد باب کیلئے اسیروں کو حکومت کے مرکزی مقام دار الامارہ لے جانے حکم دیا گیا[38]۔
حضرت زینبؑ دیگر اسیروں کے ہمراہ دارالامارہ میں داخل ہوئیں اور وہاں حاکم کوفہ عبید اللہ بن زياد کے ساتھ آپ نے مناظرہ کیا[39]۔
حضرت زینبؑ کی تقریر نے عوام پر گہرے اثرات مرتب کئے اور بنو امیہ کو رسوا کردیا۔ اس کے بعد عبید اللہ بن زياد نے اسیروں کو قید کرنے کا حکم دیا. کوفہ اور دارالامارہ میں حضرت زينبؑ کے خطبات، امام سجادؑ، ام کلثوم اور فاطمہ بنت الحسین، کی گفتگو، عبداللہ بن عفیف ازدی اور زید بن ارقم کے اعتراضات نے کوفہ کے عوام میں جرأت پیدا کر دی یوں ظالم حکمران کے خلاف قیام کا راستہ ہموار ہوا؛ کیونکہ کوفہ والے حضرت زینبؑ کا خطبہ سننے کے بعد نادم و پشیمان ہوگئے اور خاندان عصمت و طہارت کے قتل کا بدنما داغ جو ان کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ بن گیا تھا کو مٹانے کیلئے راہ کسی راہ حل تلاش کرنے لگے یوں ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ آخرکار مختار کی قیادت میں خون حسین ابن علی کے انتقام کیلئے قیام کیا۔
شام
واقعۂ کربلا کے بعد یزید نے ابن زیاد کو اسرائے اہل بیت کو شہیدوں کے سروں کے ہمراہ شام بھیجنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اہل بیت اطہارؑ کا یہ کاروان شام روانہ ہوا[40]۔
اسرائے اہل بیتؑ کے شام میں داخل ہوتے وقت یزید کی حکومت کی جڑیں مضبوط تھیں؛ شام کا دارلخلافہ دمشق جہاں لوگ علیؑ اور خاندان علی کا بغض اپنے سینوں میں بسائے ہوئے تھے؛ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی کہ لوگوں نے اہل بیت رسولؐ کی آمد کے وقت نئے کپڑے پہنے شہر کی تزئین باجے بجاتے ہوئے لوگوں پر خوشی اور شادمانی کی کیفیت طاری تھی گویا پورے شام میں عید کا سماں تھا[41]۔
لیکن اسیروں کے اس قافلے نے مختصر سے عرصے میں اس شہر کی کایہ ہی پلٹ کر رکھ دی۔ امام سجّادؑ اور حضرت زینبؑ نے خطبوں کے ذریعے صراحت و وضاحت کے ساتھ بنی امیہ کے جرائم کو بے نقاب کیا جس کے نتیجے میں ایک طرف سے شامیوں کی اہل بیت دشمنی، محبت میں بدل گئی اور دوسری طرف سے یزید کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا تب یزید کو معلوم ہوا کہ امام حسینؑ کی شہادت سے نہ صرف اس کی حکومت کی بنیادیں مضبوط نہیں ہوئی بلکہ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہونے شروع ہو گئی تھی۔
دربار یزید
یزید نے ایک با شکوہ مجلس ترتیب دیا جس میں اشراف اور سیاسی و عسکری حکام شریک تھے[42]۔ اس مجلس میں یزید نے اسیروں کی موجودگی میں [وحی، قرآن، رسالت و نبوت کے انکار پر مبنی] کفریہ اشعار کہے اور اپنی فتح کے گن گائے اور قرآنی آیات کی اپنے حق میں تاویل کی[43]۔
یزید نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ساتھ امام حسینؑ کے مبارک لبوں کی بے حرمتی کرنا شروع کیا[44] اور رسول اکرمؐ اور آپ کی آل کے ساتھ اپنی دشمنی کو علنی کرتے ہوئے کچھ اشعار پڑھنا شروع کیا جن کا مفہوم کچھ یوں ہے:
"اے کاش میرے آباء و اجداد جو بدر میں مارے گئے زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ قبیلہ خرزج کس طرح ہماری تلواروں کی ستم کا نشانہ بنا ہے، تو وہ اس منظر کو دیکھ کر خوشی سے چیخ اٹھتے: اے یزید! تہمارے ہاتھ کبھی شل نہ ہو! ہم نے بنی‌ہاشم کے بزرگان کو قتل کیا اور اسے جنگ بدر کے کھاتے میں ڈال دیا اور اس فتح کو جنگ بدر کی شکست کے مقابلے میں قرار دیا۔ بنی ہاشم نے سیاسی کھیل کھیلا تھا ورنہ نہ آسمان سے کوئی چیز نازل ہوئی ہے اور نہ کوئی وحی اتری ہے[45]۔ میں خُندُف[46] کے نسل میں سے نہیں ہو اگر احمد(حضرت محمد) کی اولاد سے انتقام نہ لوں۔
اتنے میں مجلس کے ایک کونے سے حضرت زینبؑ اٹھی اور بلند آواز میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ یزید کے دربار میں جناب زینبؑ کے اس خطبے نے امام حسینؑ کی حقّانیت اور یزید کے باطل ہونے کو سب پر واضح اور آشکار کیا۔
خطبے کے فوری اثرات
حضرت زینبؑ کے منطقی اور اصولی خطبے نے دربار یزید میں موجود حاضرین کو اس قدر متأثر کیا خود یزید کو بھی اسرائے آل محمد کے ساتھ نرمی سے پیش آنے پر مجبور کیا اور اس کے بعد اہل بیتؑ کے ساتھ کسی قسم کی سخت رویے سے پرہیز کرنا پڑا [47]۔
دربار میں حضرت زینبؑ کی شفاف اور دوٹوک گفتگو سے یزید کے اوسان خطا ہونے لگے اور مجبور ہو کر اس نے امام حسینؑ کی قتل کو ابن زیاد کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے اسے لعن طعن کرنا شروع ہو گیا[48]۔
یزید نے اطرافیوں سے اسرائے آل محمد کے بارے میں مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ اس موقع پر اگرچہ بعض نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو بھی قتل کیا جائے لیکن نعمان بن بشیر نے اہل بیتؑ کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کا مشورہ دیا[49]۔ اسی تناظر میں یزید نے اسراء اہل بیت کو شام میں کچھ ایام عزاداری کرنے کی اجازت دے دی۔ بنی امیہ کی خواتین منجملہ ہند یزید کی بیوی شام کے خرابے میں اہل بیتؑ سے ملاقات کیلئے گئیں اور رسول کی بیٹیوں کے ہاتھ پاؤں چومتی اور ان کے ساتھ گریہ و زاری شریک ہوئیں۔ تین دن تک شام کے خرابے میں حضرت زینبؑ نے اپنے بھائی کی عزاداری برگزار کی[50]۔
آخرکار اسرائے اہل بیتؑ کو عزت و احترام کے ساتھ مدینہ پہنچایا گیا[51]۔
حضرت زینب کے خطبہ کے چند اقتباسات :
 سیدہ زينبؑ نے حمد و ثنائے الہی اور رسول و آل رسول پر درود وسلام کے بعد فرمایا:
اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنا دامن برائیوں سے داغدار کیا، اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا.
اے یزید کیا تو سمجھتا ہے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے لیپٹ سمیٹ کرکے ہمارے لئے تنگ کردیئے ہیں؛ اور آل رسولؐ کو زنجیر و رسن میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو درگاہ رب میں سرفراز ہوا ہے اور ہم رسوا ہوچکے ہیں؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کرکے تو نے خدا کے ہاں شان ومنزلت پائی ہے؟ تو آج اپنی ظاہری فتح کے نشے میں بدمستیاں کررہا ہے، اپنے فتح کی خوشی میں جش منا رہا ہے اور خودنمایی کررہا ہے؛ اور امامت و رہبری کے مسئلے میں ہمارا حقّ مسلّم غصب کرکے خوشیاں منارہا ہے؛ تیری غلط سوچ کہیں تجھے مغرور نہ کرے، ہوش کے ناخن لے کیا تو اللہ کا یہ ارشاد بھول گیا ہے کہ: "بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟. آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے ، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے . اور زمامداری[خلافت] کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے . اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کی سانس لے . کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ  وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْماً وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ۔
ترجمہ: اور یہ کافر ایسا نہ سمجھیں کہ ہم جو ان کی رسی دراز رکھتے ہیں یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے ہم تو صرف اس لیے انکی رسی دراز رکھتے [اور انہیں ڈھیل دیتے] ہیں[52].
اس کے بعد فرمایا : اے طلقاء (آزاد کردہ غلاموں) کے بیٹے کیا یہ انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو پردے میں بٹها رکھا ہے اور رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے. تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کی. تیرے حکم پر اشقیاءنے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر شہر پھرائے . تیرے حکم پر دشمنان خدا اہل بیت رسولؐ کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے. اور لوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے لوگ سب ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں. ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں. آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے. آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں. آج آلِ محمد کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے.
اس شخص سے بھلائی کی کیا امید ہو سکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں حمزہ بن عبدالمطلبؑ کا جگر چبایا ہو. اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس نے شہیدوں کا خون پی رکها ہو. وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے.
اے یزید! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ "آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں!
اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علیؑ کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی شان میں بے ادبی کر رہا ہے!
اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہوگا اور تو فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھےگا جبکہ تو نے اپنے ظلم و ستم کے ذریعے فرزند رسول خدا اور عبدالمطلب کے خاندان کے ستاروں کا خون بہا کر ہمارے دلوں پر لگے زخموں کو گہرا کردیا ہے اور دین کی جڑیں کاٹنے کے لئے گھناونے جرم کا مرتکب ہوا ہے! تو نے اولاد رسول کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے ہیں.
تو نے خاندان عبد المطلب کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں.
آج تو آلِ رسول کو قتل کر کے اپنے بد نہاد[برے] اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے. تو سمجھتا ہے کہ وہ تیری آواز سن رہے ہیں؟ ! (جلدی نه کر) عنقریب تو بهی اپنے ان کافر بزرگوں سے جا ملے گا اور اس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے باز رہتا.
اس کے بعد آسمان کی طرف رخ کرکے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا! تب انہیں معلوم ہو گا کہ کون زیادہ برا ہے مکان کے اعتبار سے اور زیادہ کمزور ہے لاؤ لشکر کے لحاظ سے؟! اے ہمارے پروردگار، تو ہمارا حق اور ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے؛ اے پرودگار! تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے . اور اے خدا! تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کیا. اے یزید ! (خدا کی قسم) تو نے جو ظلم کیا ہے یہ تو نے اپنے اوپر کیا ہے؛ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کر دی ہے؛ اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹ رکھا ہے. تو رسولِ خدا کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناونے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا. نیز رسول کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا!؟
اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا . اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا . خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر چکے ہیں . بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں . "اور انہیں جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں، ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے یہاں رزق پاتے ہیں".
اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ، عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے . اور جبرائیلِ امین آلِ رسول کی گواہی دیں گے . پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعہ تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا . اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے ۔عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا . ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ "کیا برا بدل (انجام) ہے یہ ظالموں کے لیے" ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں.       
فاتح شام کی واپسی
حضرت زینب اور امام سجاد کی تقریروں نے شام کے اوضاع و احوال کو برعلیہ یزید متحول کیا ۔ جس کے بعد یزید نے اپنا روش تبدیل کر کے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ یزید کو معلوم ہوا کہ اب اہلبیتعليه‌السلام کو مزید شام میں ٹھہرانا اس کی مفاد میں نہیں، لہذااس نے اہلبیت اطہارعليه‌السلام کو مدینہ واپس بھیجنے کا انتظام کیا ۔
فارسی کے اشعار میں فاتحانہ واپسی کو شاعر نے زکر کیا [53] جس کا مفہوم یہ ہے :
کہ زینب کبری (س) نے شام اور شام والوں (یزیدیوں )کوتباہ کرکے نکلیں ۔زمین کربلا سے لےکر کوفہ اور شام تک جہاں جہاں آپ نے قدم رکھا ؛ فتح کرکے نکلیں۔علی  کے لب ولہجے اور دردناک فریاد میں کربلا کا الم ناک واقعہ کوفہ والوں کے سامنے تفصیل سے بیان فرما کرچلیں ۔صاف الفاظ میں کہہ دوں کہ اس دلیر اور عظیم خاتون نے اپنے بیان اور خطاب کے ذریعے اپنے دشمن کو بوکھلا کر رکھ دیں
شعلہ بیان خطبے کے ذریعے یزید اور ان جیسے ظالموں کے ایوانوں کی بنیاد یں قلع قمع کرکے نکلیں ۔ جب آپ کو اسیر بناکر شام لائی گئی تو اس وقت شام والے شراب نوشی میں مصروف اور جشن منارہے تھے ؛ لیکن جب آپ شام سے نکلنے لگیں تو اس وقت شام کو ، شام غریبان میں بدل کرنکلیں ۔
بحار الانوار میں بیان ہوا ہے کہ جب ہندہ یزید کی بیوی نے اپنا خواب اسے سنایا تو وہ بہت زیادہ مغموم ہوا ۔ اور صبح کو اہل بیت اطھارعليه‌السلام کو دربار میں بلایا اور کہا : میں پشیمان ہوں ۔ ابھی آپ لوگوں کو اختیار ہے کہ اگر شام میں رہنا چاہیں تو رہائش کا بندوبست کروں گا اور اگر مدینہ جانا چاہیں تو سفر کے لئے زاد راہ اور سواری کا انتظام کروں گا ۔
اس وقت زینب کبری ٰ (س)نے یزید سے مطالبہ کیا کہ ان کو اپنے شہیدوں پر رونے کا موقع نہیں ملا ہے ، ان پر رونے کیلئے کسی مکان کا بندوبست کیا جائے ، اس طرح تین دن شام میں مجلس عزا برپا ہوئی اور اہل شام کے تمام خواتین اس مجلس میں شریک ہوگئیں ، یہا ں تک کہ ابوسفیان کے خاندان میں سے ایک عورت بھی باقی نہیں تھی جو امام حسینعليه‌السلام پر رونے اور اہلبیتعليه‌السلام کی استقبال کیلئے نہ آئی ہو۔[54]
جب فاتح شام کی روانگی کا وقت آیا تو زرین محمل کا انتظام کیا گیا تو شریکۃ الحسین(س) نے بشیر بن نعمان سےکہا : اجعلوھا سوداء حتی یعلم الناس انا فی مصیبۃ و عزاء لقتل اولادالزہرا(س) ۔ ان محملوں کو سیاہ پوش بنائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم اولاد زہرا (س)کے سوگ اور مصیبت میں ہیں ۔
جب اہلبیتعليه‌السلام عراق پہنچے اور زمین کربلا میں وارد ہوئے تو دیکھا کہ جابر بن عبداللہ انصاریرحمه‌الله اور بنی ہاشم کے کچھ افراد سید الشہداعليه‌السلام کے قبر مبارک پر زیارت کرتے ہوئے رورہے ہیں ۔ لہوف کے مطابق ۲۰ صفر کو شہدا کے سروں کو ان کے مبارک جسموں سے ملائے گئے۔[55]
زینب کبری (س) اپنے بھائی کی قبر سے لپٹ کر فریاد کرنے لگی: ہای میرا بھیا ہای میرا بھیا ! اے میری ماں کا نور نظر ! میری آنکھوں کا نور ! میں کس زبان سے وہ مصائب اور آلام تجھے بیان کروں جو کوفہ اور شام میں ہم پر گذری ؟ اور پست فطرت قوم نے کس قدر آزار پہنچائی؟ناسزا باتیں سنائی ؟
وفات حضرت زینب ؑ
کتاب اخبار الزینبیات (العبیدلی) تنہا ایسی کتاب ہے جس میں حضرت زینب ؑ کی رحلت کے زمان و مکان کو ذکر کیا گیا ہے  ، اس کتاب کے مطابق   حضرت زینب کی وفات 15 رجب 62 قمری کو مصر میں ہوئی ہے  [56]۔ گرچہ احتمال قوی یہی ہے کہ حضرت زیہنب کی وفات 62 ہجری کو واقعہ کربلا کے کچھ عرصہ بعد ہی ہوئی ہے کیونکہ اس  کے بعد تاریخ میں  بی بی کے بارے میں کوئی گزارش موجود نہیں  ہے لیکن العبیدلی کی خبر پر مورخین اتنا اعتماد نہیں کرتے اس لئے بی بی کے محل وفات اور  مدفن میں اختلاف پایا جاتا ہے۔   
حضرت زینب  سے منقول چند روایات
1۔ الا من مات على حب آل محمد مات شهیدا
 آگاه ہو جائیں جو بھی محبت آل محمد پر مرے شہید ہے  [57]
2۔ و نحن وسیلته فى‏ خلقه و نحن خاصته و محل‏ قدسه و نحن حجته فى غیبه و نحن ورثه انبیائه...ہم خدا اور اسکی مخلوق کے درمیان وسیلہ ہیں .ہم   خدا کے برگزیدہ ہیں   محل پاکی  ، راہنماہاى روشن خداکی روشن رہنما ء اور   وارث پیغمبران خدا ہیں[58] .
3۔ خَیْرٌ لِلِنّساءِ انْ لایَرَیْنَ الرِّجالَ وَلایَراهُنَّ الرِّجالُ.
عورت کی شخصیت کی حفاظت  کیلئے بہترین چیز یہ ہے کہ کوئی مرد اسے نہ دیکھے اور وہ مردوں کے دیکھنے کا سبب نہ بنے[59]   .
4۔ ما یَصَنَعُ الصّائِمُ بِصِیامِهِ إذا لَمْ یَصُنْ لِسانَهُ وَ سَمْعَهُ وَ بَصَرَهُ وَ جَوارِحَهُ.
جو روزه دار اپنی   زبان ، کان  ، آنکھ اور اپنے   دیگر اعضاء و جوارح  کو  کنٹرول نہیں کرتا  اسکے روزہ کا کوئی فائدہ نہیں  ۔ [60]
5۔ الرَّجُلُ اُحَقُّ بِصَدْرِ دابَّتِهِ، وَ صَدْرِ فِراشِهِ، وَالصَّلاهِ فی مَنْزِلِهِ إلاَّ الاْمامَ یَجْتَمِعُ النّاسُ عَلَیْهِ۔
ہر شخص اپنی سواری اور گھر کی تزیین  اور اسمیں اقامہ نماز   کی نسبت دوسروں پر اولویت رکھتا ہے لیکن امام جماعت کہ کس کے پیچھے لوگ نماز پڑھتے ہیں سب پر اولویت رکھتا ہے [61]۔
6۔ خابَتْ أُمَّهٌ قَتَلَتْ إبْنَ بِنْتِ نَبِیِّها.
وہ لوگ کبھی سعادت مند نہیں ہو سکتے جو اپنے نبی کی اولاد کا قتل کریں [62] 
 
 
 
 
 
[1]  انساب الطالبيين،‌ ابن عنبه، المجدي في انساب الطالبيين، علي بن محمد العلوي، قم، مكتبة المرعشي النجفي، 1409، ص 18
[2]  الاصيلي في انساب الطالبيين، ابن الطقطقي الحسني، قم مكتبة‌ المرعشي النجفي، 1418، ص 58
[3]  مقاتل الطالبيين، ابي الفرج اصفهاني، موسسه الاعلمي للمطبوعات، ص 95
[4]  زينب الكبري، جعفر النقدي، نجف، مطبعة الحيدرية، ص17
[5]  زينب الكبري، ص 18؛ فاطمة‌الزهراء بهجة‌ قلب المصطفي، احمد الرحماني الهمداني، ‌تهران، ‌نشر المرضية، 1372ش،‌ ص 634
[6]   زينب(س) الكبري،‌ جعفر النقدي، ص 28، وفيات الائمة،‌ ص 431
[7]  الطبقات الكبري، ج6، ص 19
[8]   التنبيه و الاشراف، علي بن الحسين المسعودي، بيروت، دار و مكتبة ‌الهلال، 1421، ص 274
[9]  المعارف، عبدالله بن مسلم بن قتيبه، الهيئة المصرية للطباعة الكتاب، چاپ ششم، ص 211
[10]  جمهرة انساب العرب، ابن حزم الاندلسي، بيروت، ‌دارالكتب العلمية،  1422، ص 37
[11]  المنتظم، ابن الجوزي، بيروت، دارالكتب العلمية، 1412، ج5، ص 69
[12]  تذكرة‌ الخواص، سبط بن الجوزي، بيروت، موسسة اهل البيت، 1401، ص288
[13]  شرح نهج البلاغه، ابن ابي الحديد، ج9، ‌ص 242
[14]   جمهرة ‌انساب العرب، ابن حزم اندلسي، بيروت، دارالكتب العلمية، 1424، 37-38
[15]  تذكرة الخواص، ص 288
[16]  مناقب اميرالمومنين علي بن ابي‌طالب، ‌محمد بن سليمان الكوفي،‌ قم،‌ مجمع احياء ‌الثقافة‌ الاسلامية، 1423،‌ ص 683، الهداية ‌الكبري، حسين بن حمدان الخصيبي، (م334)، موسسه البلاغ،‌ ص 94
[17]  رحلة ابن بطوطة، ج1،‌ ص 92
[18]  اخبار الزينبيات، يحيي بن حسن العبيدلي،  نشره محمد جواد مرعشي نجفي، بي جا، بي تا، ص 123-124، رحلة ابن بطوطه، محمد بن عبدالله الطنجي، ابن بطوطة، بيروت، ‌المكتبة ‌العصرية، 1425، ج1، ص 92
[19]  اخبار الزينبيات، ص 125
 [20]  ابن عساکر ،اعلام النساء ، ص ۱۸۹
[21] دلائل الامامہ طبری ، ج۳ ، ص۵۷
[22] نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج۱۶ ، ص ۲۱۰
[23]  احمد بہشتی ، زنان نامدار در قرآن و حدیث ، ص ۵۱
[24] سید کاظم ارفع ، حضرت زینب سیرہ عملی اہل بیت ، ص ۸۸
[25]  سید ابن طاووس ، اللہوف ، ص ۱۷۹
[26] جعفر النقدی ، ص ۶۱
[27]  محلاتی ، رحاحین الشریعہ ، ۱۳۴۹ ش ، ج۳ ، ص۶۲
[28]  زبیح اللہ محلاتی ، ج۳ ، ص ۶۲
[29]  سید علی نقی فیض الاسلام ، خاتون دوسرا ، ص ۱۸۵
[30]  محمد باقر مجلسی ، بحارالانوار ، ج۴۵ ، ص۱۱۷
[31]  مفید ، الارشاد ، ۱۳۷۲ ش ، ج ۲ ، ص ۹۴-۹۳
[32]  علی نظری منفرد ، قصہ کربلا ، ص ۳۷۱
[33]  سید ابن طاووس ، ص ۱۶۱-۱۵۹
[34]  علی نقی فیض الاسلام ، ص ۱۸۵
[35]  ابو مخنف ، وقعہ الطف ، ص ۲۵۹
[36]  ابو مخنف ، وقعہ الطف ، ص ۲۹۵
[37]  احمد صادقی اردستانی ، ص ۲۲۷ – ۲۲۸
[38]  احمد صادقی اردستانی ، ص ۲۴۶
[39]  ابو مخنف ، وقعہ الطف ، ص ۲۹۹
[40]  شہید سید عبد الکریم ہاشمی نژاد ، ص ۳۲۶
[41]  محمد محمدی اشتہاردی ، ص ۳۲۷ -۳۲۸ 
[42]  سید عندالکریم ہاشمی نژاد ، ص ۳۳۰
[43]  محمد محمدی اشتہاردی ، ص ۲۴۸
[44]  حسن الہی ، زینب کبری عقیلہ بنی ہاشم ، ص ۲۰۸
[45]  ابو مخنف ، وقعہ الطف ، ص ۳۰۶ – ۳۰۷
[46]  یزید کی دادی
[47]  مجلسی ، بحار الانوار ، ج ۴۵ ، ص ۱۳۵
[48]  شیخ مفید ، الارشاد ، ص ۳۵۸
[49]   مجلسی ، بحار الانوار ، ج ۴۵ ، ص ۱۳۵
[50]  ابو مخنف ، وقعہ الطف ، ص ۳۱۱
[51]  ابن عساکر ، اعلام النساء ، ص ۹۱
[52]  سورہ آل عمران آیت ۱۷۸ ؛ اردو ترجمہ سید علی نقی نقن ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ص ۱۳۳
 [53]    سیرہ واندیشہ حضرت زینب، ص۳۱۳۔
[54]   ۔ تاریخ طبری ، ج۳ ، ص۳۳۹۔
 [55]   ۔ ناسخ التواریخ حضرت زینب کبریٰ۔
[56]  اخبار الزينبيات، ص 116
[57]  اثبات الهداة، ج۲
[58]  مشارق انوار الیقین، ص ۵۱
[59]  بحارالأنوار: ج ۴۳، ص ۵۴، ح ۴۸
[60]  مستدرک الوسائل، ج ۷، ص ۳۳۶، ح ۲
[61]  مجمع الزّوائد، ج ۸، ص ۱۰۸
[62]  مدینه المعاجز، ج ۳، ص ۴۳۰

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا قم میں ورود

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا قم میں ورود

 

ساجد محمود

کارشناسی ارشد (رشتہ تفسیر)

Sajjidali3512@gmail.com

ولادت
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھوپھی محترمہ ہیں۔آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ہجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور ممتاز صاحبزادی ہیں۔

القاب

  شیخ عباس قمی اس کے  بارے میں لکھتے ہیں :امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں سب سے بافضیلت سیدہ ،جلیلہ اور  معظمہ فاطمہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام تھیں جو معصومہ کے نام سے مشہور تھیں۔آپ کا نام فاطمہ اور سب سے مشہور لقب معصومہ تھا ۔یہ لقب انہیں  اپنے بھائی امام ہشتم علی رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا۔ اگرچہ زمانے نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی مسلسل گرفتاریوں اور شہادت کے ذریعے آپ سے باپ کی محبت چھین لی تھی لیکن بڑے بھائی کے شفقت بھرے ہاتھوں نے آپ کے دل پر غم کے بادل نہیں آنے دیئے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بچپن سے ہی اپنے بڑے بھائی امام علی رضا علیہ السلام سے بہت زیادہ مانوس تھیں، انہی  کے پر مہر دامن میں پرورش پائی اور علم و حکمت اور پاکدامنی اور عصمت کے اس بے کران خزانے سے بہرہ مند ہوئیں۔آپ کے مزید القاب میں طاہرہ، عابدہ، رضیہ، تقیہ، عالمہ، محدثہ، حمیدہ اور رشیدہ شامل ہیں جو اس عظیم خاتون کے فضائل اور خوبیوں کا ایک گوشہ ظاہر کرتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیعیان اہل بیت (س) کا ایک گروہ کافی دور سے امام موسی کاظم علیہ السلام کی زیارت کیلئے آیا لیکن آپ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس گروہ میں شامل افراد امام علیہ السلام سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے تھے کہ جو انہوں نے لکھ کر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو سونپ دیئے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ان تمام سوالات کے جوابات لکھ کر دوسرے دن انہیں واپس کر دیئے۔واپس جاتے ہوئے اس گروہ کی امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے اس واقعے کی خبر امام علیہ السلام کو دی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے وہ سوالات اور جوابات دکھاؤ۔ جب امام علیہ السلام نے ان سوالات اور جوابات کو دیکھا تو فرمایا: ابوها فداها؛یعنی ایسی بیٹی کا باپ اس کے صدقے ہو جائے۔

 

 

ولادت تا ہجرت

اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہی سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہان والدین اور بہن بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے۔عبادت  اور  زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات اور مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی ابھری ہوئی خصوصیات تھیں۔ سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی  تھے۔

علم و دانش کا سرچشمہ 

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوا اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا۔ آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ (ع) کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے۔

ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: امام موسی کاظم علیہ السلام  کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے  بلند  ہے۔یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں آئمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی  طرح عالمہ غیر مُعَلَّمہ  ہیں۔عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے۔

دعوت نامہ

ان دونوں بہن بھائیوں کے درمیان محبت اور انس انتہائی گہرا تھا، لہذا امام علی رضا علیہ السلام کی جدائی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کیلئے  بہت  مشکل تھی اور  یہ جدائی امام علی رضا علیہ السلام کیلئے بھی قابل برداشت نہیں تھی۔ لہذا مرو میں مستقر ہونے کے بعد امام علی رضا علیہ السلام نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو ایک خط لکھا اور ایک با اعتماد غلام کے ذریعے اس کو مدینہ بھجوایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ راستے میں کہیں نہ رکے تا کہ وہ خط جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بھی خط ملتے ہی سفر کے لئے آمادہ  ہو گئیں اور مدینہ سے ایران کی طرف روانہ ہو گئیں۔

ایران کی طرف ہجرت اور قم میں داخل ہونا

تاریخ قم کے مؤلف نے یوں لکھا ہے: سنہ200 ہجری میں مامون عباسی نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو مدینے سے "مرو" بلایا۔ مامون کا اصلی مقصد امام علیہ السلام کو اپنے نزدیک رکھ کر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا تھا لیکن اس نے افکار عمومی میں یہ مشہور کرایا کہ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو اپنی ولایت عہدی(جانشینی) کیلئے بلایا ہے۔ سنہ 201 ہجری میں آپ کی بہن حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا  نے اپنے بھائی کے دیدار کی خاطر "مرو" کا سفر کیا ۔ اس سفر میں حضرت معصومہ نے اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے ایک قافلے کے ساتھ ایران کی جانب سفر کیا۔ جب ساوہ کے مقام پر پہنچیں تو اہل بیت کے دشمنوں نے اس کاروان  پر حملہ کیا ان کے ساتھ لڑائی میں آپ کے سب بھائی اور بھتیجے شہید ہو گئے۔ حضرت معصومہ  سلام اللہ علیہا  نے جب اپنے سب عزیزوں کے جنازوں کو خون میں غلطاں دیکھا تو سخت بیمار ہو گئیں۔ اس حادثے کے بعد آپ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ انہیں قم کی طرف لے جائے۔

دوسرے قول کے مطابق جب آپ کی بیماری کی خبر آل سعد تک پہنچی تو انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے قم تشریف لانے کی درخواست کریں ، لیکن موسی بن خزرج جو کہ  امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے، نے اس کام میں پہل کی اور حضرت  معصومہ  سلام اللہ علیہا کی خدمت میں جا کر آپ کے اونٹ کی مہار پکڑی، آپ کو قم کی طرف لے آئے اور اپنے گھر میں ٹھرایا۔  بعض منابع کے مطابق آپ 23 ربیع الاول کو اہل قم کے والہانہ استقبال میں قم میں وارد ہوئیں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے 17 دنوں تک قم میں زندگی گزاری اور اس مدت میں ہمیشہ مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخر ی ایام اللہ تعالٰی کے ساتھ راز و نیاز اور انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ بسر فرمائے ۔آپ کی عبادت گاہ موسی بن خزرج کا گھر تھا جو کہ اب ستیہ یا بیت النورکے نام سے مشہور ہے۔

زیارت کی فضیلت

وہ روایات جو آپ کی زیارت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں آپ کے فضائل کی بہترین سند ہیں کیونکہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو اس مرقد مطہر و منور کی زیارت کی تشویق فرمائی ہے نیز اس کا بہت عظیم ثواب بیان فرمایا ہے یہ ثواب ایسا ہے کہ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں امام رضا علیہ السلام کے بعد فقط آپ ہی کے سلسلے میں کتابوں میں ملتا ہے ۔حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلے میں ائمہ معصومین سے متعدد احادیث و روایت نقل ہوئی ہیں, ہم یہاں فقط چند روایات ذکر کرتے  ہیں:

1۔قم کے نامور محدث  سعد ابن سعدکہتے ہیں :میں امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہؤا تو امام ہشتم علیہ السلام نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے  سعد! ہماری ایک قبر تمہارے ہاں ہے۔میں نے عرض کیا:میری جان آپ پر فدا ہو؛ کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر کے مزار کی بات کررہے ہیں؟ فرمایا:  مَنْ زارَها فَلَهُ الجَنَّةُ ؛ جو شخص ان کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے ان کی زیارت کرے، اس کے لئے بہشت ہے۔[1]

2۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: مَن زارَها عَارِفاً بِحَقِّها فَلَهُ الجَنَّةُ ؛ جو کوئی ان کی زیارت کرے اور ان کے حق کی معرفت رکهتا ہو اس پر جنت واجب ہے۔[2]  ایک اور حدیث میں ہے کہ:  ان کی زیارت بہشت کے ہم پلہ ہے۔

3۔ نیز فرمایا:« اِنَّ زيارَتَها تُعادِلُ الْجَنَّةَ ؛ جو شخص ان کی زیارت کرے اس کی جزا بہشت ہے۔[3]

4۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: « مَنْ زارَ الْمَعْصُومَةَ عَارِفاً بِحَقِّها فَلَهُ الجَنَّةُ ؛جو شخص از روئے معرفت آپ کی زیارت کرے اس کا انعام جنت ہے۔[4]

5۔ نیز فرمایا :مَنْ زارَ الْمَعْصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زارَني ؛ جو شخص قم میں حضرت معصومہ (س) کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔[5]

6۔ اس سلسلے میں روایت ہے کہ ابن الرضا امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام نے فرمایا: مَن زارَ قَبرَ عَمَّتي بِقُمَّ ، فَلَهُ الجَنَّةُ ؛جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے۔[6]

7۔ایک مؤمن امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے مشہد گیا اور وہاں سے کربلا روانہ ہوا اور ہمدان کے راستے کربلا چلا گیا۔ سفر کے دوران اس نے خواب میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: کیا ہوتا اگر تم سفر کے دوران قم سے عبور کرتے اور میری ہمشیره کی زیارت کرتے؟۔

8۔آقای   خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص میری زیارت کے لئے نہ آسکے( رے) میں میرے بهائی (حمزه ) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا۔[7]

امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا : اِنَّ لِلّهِ حَرَمَا وَ هُوَ مَكَّةُ وَ لِرَسولِهِ حَرَمَا وَ هُوَ الْمَدينَةُ وَ لِاَميرِ الْمُؤمِنيينْ حَرَمَا وَ هُوَ الْكُوفَةُ وَ لَنا حَرَمَا و هُوَ قُمْ وَ سَتُدْفَنُ فيهِ اِمْرَأَةٌ مَنْ وُلْدي تُسَمّي فاطِمَةُ مَنْ زارَها وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ؛ خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے رسول کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے ، امیرالموٴمنین کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے ہمارے لئے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے ، عنقریب وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون دفن کی جائے گی جس کا نام فاطمہ ہوگا   جو بھی اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی۔ راوی کہتا ہے  امام علیہ السلام نے یہ حدیث اس وقت ارشاد فرمائی کہ جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ حاملہ بھی نہ ہوئی تھیں ۔[8]

اس روایت سے خصوصا اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل یہ حدیث صادر ہوئی بخوبی اندازہ ہوتا ہے  کہ حضرت فاطمہ معصومہ کا قم میں دفن ہونا خداوند عالم کے اسرار میں سے ایک سر خفی ہے اور اس کا تحقق مکتب تشیع کی حقانیت کی ایک عظیم دلیل ہے۔

اگرچہ یہ ساری روایات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی فضیلت اور اہمیت پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان روایات میں بعض نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جیسے: جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہوجانا، جو لفظ ( لہ) سے  سمجھے جاتے ہیں اور ان کی زیارت کا حضرت رضا علیہ السلام کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت رضا علیہ السلام کا اپنے شیعہ سے شکوہ کرنا جس نے حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت نہیں کی تهی۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں (علیہم السلام) نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے: امام صادق، امام رضا و امام جواد علیہم السلام  اور دلچسپ  بات یہ  ہے کہ امام صادق  علیہ السلام نے حضرت معصومہ کی ولادت با سعادت سے بہت پہلے بلکہ آپ (س) کے والد امام کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔

دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت ہے جس میں حضرت معصومہ کی زیارت امام رضا علیہ السلام کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔ زید شحّام نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ : یا بن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:  جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی ، كَمَنْ زَارَ رَسُولَ اللَّهِ ص ؛ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کی ہو  چنانچہ جس نے سیده معصومہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا  کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا کی زیارت کی ہے اور پهر حضرت رضا علیہ السلام  جو سیدہ معصومہ کی زیارت کو اپنی زیارت کے برابر قراردیتے ہیں فرماتے ہیں  :أَلَا فَمَنْ زَارَنِي وَ هُوَ عَلَى غُسْلٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ‏ ؛ آگاه رہو کہ جس نے غسل زیارت کرکے میری زیارت کی وه گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح کہ وه ماں سے متولد ہوتے وقت گناہوں سے پاک تها۔[9] ان احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیده معصومہ سلام الله کی زیارت گناہوں کا کفاره بهی ہے اور جنت کی ضمانت بهی ہے بشرطیکہ انسان زیارت کے بعد گناہوں سے پرہیز کرے۔

دو حدیثوں میں امام صادق اور امام رضا علیہما السلام نے زیارت کی قبولیت اور وجوب جنت کے لئے آپ (س) کے حق کی معرفت کو شرط قرار دیا ہے اور ہم آپ (س) کی زیارت میں پڑهتے ہیں :يا فاطِمَة ا ِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْہ ِشَأْناً مِنَ الشَّأْن ؛اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرما کیونکہ آپ کے لئے خدا کے نزدیک ایک خاص شأن و منزلت ہے۔ امام صادق علیہ السلام کے ارشاد گرامی کے مطابق تمام شیعیان اہل بیت علیہم السلام  حضرت سیده معصومہ سلام الله کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں  گے اور زیارت نامے میں ہے کہ آپ ہماری شفاعت فرمائیں کیونکہ آپ کے لئے ایک خاص شأن و منزلت ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ یہ شأن، شأنِ ولایت ہے جو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو حاصل ہے اور اسی منزلت کی بنا پر وه مؤمنین کی شفاعت فرمائیں گی اور اگر کوئی اس شأن کی معرفت رکهتا ہو اور آپ کی زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا سے منقول روایات

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے فضائل اور کمالات کے مختلف پہلو ہیں  اس مختصر مقالہ میں یہ وسعت نہیں ہے کہ تمام پہلوؤں کو   بیان کیا جائے، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی فضائل و کمالات کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ سے بعض روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے فقط تین کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ مُوسَي بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ الصادِقِ جَعْفَرِِ بْنِ مُحَمَدٍ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ الْباقِرِ مُحَمَدِ بْنِ عَلِيٍ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ السَجادِ عَلِيِ بْنِ الْحُسَيْنِ زَينِ الْعابِدينَ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ(ص)، قالَتْ قالَ رَسُولُ اللهِ: اَلا مَنْ ماتَ عَلي حُبِ آلِ مُحَمَدٍ ماتَ شَهِيداً؛ حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام فاطمہ بنت امام جعفر صادق علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام باقر علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام سجاد علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے وہ زینب بنت امیر الموٴمنین علیہ السلام وہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہاسے نقل فرماتی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فر مایا : آگاہ ہو جاوٴ کہ جو آل محمد کی محبت پر مرے گا وہ شہید مرا ہے۔[10]

حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی قدر و منزلت

حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَ زَيْنَبُ وَ أُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ع قُلْنَ حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَ سُكَيْنَةُ ابْنَتَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ ع عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ مُجَوَّفَةٍ وَ عَلَيْهَا بَابٌ مُكَلَّلٌ بِالدُّرِّ وَ الْيَاقُوتِ وَ عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى الْبَابِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه‏ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيٌّ وَلِيُّ الْقَوْمِ وَ إِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى السِّتْرِ بَخْ بَخْ مِنْ مِثْلِ شِيعَةِ عَلِيٍّ فَدَخَلْتُهُ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ عَقِيقٍ أَحْمَرَ مُجَوَّفٍ وَ عَلَيْهِ بَابٌ مِنْ فِضَّةٍ مُكَلَّلٍ بِالزَّبَرْجَدِ الْأَخْضَرِ وَ إِذَا عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى الْبَابِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيٌّ وَصِيُّ الْمُصْطَفَى وَ إِذَا عَلَى السِّتْرِ مَكْتُوبٌ بَشِّرْ شِيعَةَ عَلِيٍّ بِطِيبِ الْمَوْلِدِ فَدَخَلْتُهُ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ زُمُرُّدٍ أَخْضَرِ مُجَوَّفٍ لَمْ أَرَ أَحْسَنَ مِنْهُ وَ عَلَيْهِ بَابٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ مُكَلَّلَةٍ بِاللُّؤْلُؤِ وَ عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى السِّتْرِ شِيعَةُ عَلِيٍّ هُمُ الْفَائِزُونَ فَقُلْتُ حَبِيبِي جَبْرَئِيلُ لِمَنْ هَذَا فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ لِابْنِ عَمِّكَ وَ وَصِيِّكَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع يُحْشَرُ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً إِلَّا شِيعَةَ عَلِيٍّ ؛فاطمہ معصومہ علیہا السلام (اسی مذکورہ سند سے ) فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے نقل فرماتی ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : جب شب معراج، میں بہشت میں داخل ہوا تو ایک قصر دیکھا جس کا ایک دروازہ یاقوت اور موتیوں سے آراستہ تھا اس کے دروازے پر ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: خدا کے علاوہ کوئی لائق پرستش نہیں محمد اللہ کے رسول اور علی لوگوں کے رہبر ہیں  اور اس کے پردے پر لکھا تھا :آفرین  آفرین   علی علیہ السلام کے شیعوں جیسا کون ہے؟ میں اس قصر میں داخل ہوا وہاں ایک عمارت دیکھی جو عقیق سرخ سے بنی ہوئی تھی اس کا دروازہ چاندی کا تھا جو زبرجد سے مرصع تھا اس در پر بھی ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: محمد خدا کے رسول اور علی مصطفیٰ کے وصی ہیں۔اس کے پردے پر مرقوم تھا: علی شیعوں کو حلال زادہ ہونے کی مبارک باد دے دو۔میں داخل ہوا تو وہاں زبرجد سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس سے بہتر میں نے نہیں دیکھا تھا اس محل کا دروازہ سرخ یاقوت کا تھا جو موتیوں سے مزین تھا اس پر ایک پردہ لٹکا تھا میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ پردے پر لکھا ہے: علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔ میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ یہ محل کس کا ہے جبرئیل نے کہا آپ کے چچا زاد بھائی، وصی و جانشین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کا ہے قیامت کے دن سب بجز علی کے شیعوں کے ننگے پاوٴں وارد ہونگے۔[11]

مَنْ أصْعَدَ إلی اللّهِ خالِصَ عِبادَتِهِ، أهْبَطَ اللّهُ عَزَّوَجَلَّ لَهُ أفْضَلَ مَصْلَحَتِهِ؛حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی خالص عبادت اللہ تعالی کی بارگاہ میں بھیجے گا خدا اپنی بہترین مصلحتیں اس کی جانب اتارے گا۔[12]

 

 


[1] ۔ عوالم العلوم:ج 21، ص 353۔

[2] ۔  بحار الانوار: ج 48 صفحہ 307۔

[3] ۔ تاريخ قم: ص 214۔

[4] ۔ عیون اخبارالرضا (ع)۔

[5] ۔ ناسخ التواريخ:ج 3، ص 68۔

[6] ۔ كامل الزيارات ، ص 536۔

[7] ۔ زبدة التصانيف، ج 6، ص 159۔

[8] ۔ تاريخ قم: ص 214۔

[9] ۔ عیون اخبار الرضا : ج 2، ص 260۔

[10] ۔اللولؤ الثمینہ: ص  217۔

[11] ۔بحار الأنوار : ج‏65، ص: 77

[12]۔میزان الحکمة: ج 2 ، ص 882۔

تعصب،قرآن کی نگاه میں

 

نگارش: غلام یسین

 

کسی بھی چیز یا شخص کے ساتھ غیر منطقی اور غیر معقول وابستگی انسان کی بد ترین صفت ہے  جسے تعصب کہا جاتا ہے ۔ تعصب بنی نوع انسان کے معنوی تکامل کی راہ میں شدید رکاوٹ ہے۔ گذشتہ امتوں کے دین الہی سے انحراف کا ایک اہم سبب یہی تعصب اور غیر معقول وابستہ ہو نا ہے ۔  وہ  تعصب کی بنیاد پر اپنے آباؤ و اجدادکی  اندھی تقلید پر قائم رہے جس کی وجہ سے راہ ہدایت سے بھٹک گئے۔ قرآن  کریم کی رو سے اندھی تقلید کا اصلی سبب جاہلانہ تعصب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  متعصب افراد اپنے اجداد کی پیروی  کے نتیجے کسی دین کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہوتے اگرچہ وہ دین انسانی فطرت اور عقل کے عین مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن نے  تعصب کو انسانوں کے زوال، گمراہی اور جہنمی ہونے کا سبب قرار دیاہے ۔  فرعون اور قوم موسی علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام کو کہا تھا:

قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَاءَنَا وَ تَكُونَ لَكُمَا الْكِبرِْيَاءُ فىِ الْأَرْضِ وَ مَا نحَنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ۔(یونس،۷۸)؛

وہ کہنے لگے: کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس راستے سے پھیر دو جس پرہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ملک میں تم دونوں کی بالادستی قائم ہو جائے؟ اور ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

اسی  طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشرکین نے کہا:

بَلْ نَتَّبِعُ ما أَلْفَیْنا عَلَیْهِ آباءَنا (بقرہ، ۱۷۰)

ہم اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلیں گے ۔

امیر المؤمنین علیہ السلام کی نگاہ میں ابلیس لعین تعصب کا بانی ہے :

 «الَّذِي وَضَعَ أَسَاسَ الْعَصَبِيَّةِ...»؛ شیطان نے ہی تعصب کی بنیاد ڈالی ہے ۔(نہج البلاغہ، دشتی، ج۱، ص۱۹۳)  کیونکہ اس نے کہا تھا کہ :

قالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَني‌ مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طين‌۔ (ص، ۷۶)

میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے آگ سے خلق کیا ہے اور آدم کو مٹی سے ۔

آج دنیا تعصب کی آگ میں جل  رہی ہے ۔ کہیں قومی تعصب، کہیں مذہبی تعصب اور کہیں لسانی اور زبانی تعصب تاہے  اور اسی تعصب کی بنا پر لوگ ایک دوسرے پر برتری جتلاتے ہیں ۔ قوم و مذہب و ملت کو کامیابی اور نیک بختی کا اصلی سبب جانا جاتا ہے  ۔ آنکھوں پر تعصب کے ایسے پردے لٹک  چکےہیں کہ حق  و باطل کی پہچان ختم ہوچکی ہے یہاں تک کہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹی گواہیوں  کا رواج عام ہو گیا ہے ۔ قوم پرستی اور قبیلہ پروری کی بنیاد پر اپنے خاندان کے افراد کو ہر حال میں سچا ثابت کرنے کی کوشش  کی جاتی ہے بلکہ سچا ثابت کرکے ہی دم لیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے اس سے سختی سے منع کیاہے بلکہ اسے شیطانی عمل قرار دیاہے ۔اگر تعصب کے شعلے بجھ جائیں تو  بہت سے مسائل خود بخود حل  ہو جائیں گے۔ ہم ان شاء اللہ اس مقالے میں تعصب کےساتھ مربوط آیات  کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ متعدد آیات میں دنیا کے مسلمانوں کی ایک اہم مشکل تعصب ہے اوراسی تعصب کی وجہ سے اسلامی معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے قاصر ہیں۔

 

قومی تعصب

کسی  قوم  یا گروہ کے ساتھ وابستہ ہونا ، قومی یا حزبی تعصب کہلاتا ہے ۔ یہ ایسا تعصب ہے جو انسان کو حقیقت سمجھنے اور ماننے سے روکتا ہے ۔ انسان کسی قوم یا گروہ کے رہبر اور رہنما سے اتنا متاثر ہو جاتا ہے کہ حق کا معیار صرف اسی کے افکار کو سمجھتا ہے اور تمام درست اور نا درست کو اسی ترازو پر تولتا ہے ۔ پس جو کچھ لیڈر کہتاہے بغیر کسی کمی اور زیادتی کےاسی کو قبول کر لیتا ہے  اور اپنے آپ کو اصلاح پسند اور معیار حق سمجھنے  لگتا ہے ۔لہٰذا قرآن مجید اس کے متعلق فرماتا ہے :

وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُواْ فىِ الْأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نحنُ مُصْلِحُونَ (بقره،11)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو کہتے ہیں: ہم تو بس اصلاح کرنے والے ہیں۔

کسی ایک گروہ یا قوم کے ساتھ منسلک ہونا اور دوسروں کو ناحق سمجھنا نجات کا سبب نہیں بلکہ ایمان اور نیک عمل نجات کا وسیلہ ہے  جیسا کہ قرآن ارشاد فرماتا ہے :

مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ عَمِلَ صالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ (بقره، 62)

جو کوئی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور ایک نیک عمل بجا لائے تو ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

دینی تعصب

 

قرآن کریم گذشتہ اقوام کے  دینی تعصب کے بارے متعدد مقامات پر گفتگو کرتا ہے  جیسا کہ حضرت ہود علیہ السلام کی  قوم کے بارے میں فرماتا ہے:

قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَ نَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَاؤُنَا  فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ(اعراف،70)

انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کریں اور جن کی ہماری باپ دادا پرستش کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں؟ پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے لیے وہ (عذاب) لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

تعصب کی وجہ سے ان کی  نگاہ میں توحید الہی ایک خوفناک امرتھا  اور بے شعور بتوں کی پوجا  اہم کام تھا۔

یہودیوں کا مذہبی تعصب

الف) دوسرے ادیان پر برتری

تعصب کی بنا پر یہودی ہمیشہ اپنے دین کو دوسرے ادیان پر برتر سمجھتے تھے ۔ اپنے دین کو حق دوسرے ادیان کو باطل سمجھتے تھے چنانچہ وہ کہتے تھے :

وَ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً (بقره،80)

اور ( یہودی )کہتے ہیں: ہمیں تو جہنم کی آگ گنتی کے چند دنوں کے علاوہ چھو نہیں سکتی۔

لیکن اللہ تعالی نے ان کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے فرمایا:

قُلْ أَتخَّذْتمُ عِندَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَن يخُلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلىَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ(بقره،80)

(اے رسول)کہدیجیے:کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے رکھاہے کہ اللہ اپنے عہد کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا یا تم اللہ پر تہمت باندھ رہے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے ۔

 

حق اور کامیابی کا  معیار خدا پر ایمان اور عمل صالح ہے نہ تعصب کی بنا پر کسی مذہب اور دین کے ساتھ وابستہ ہو جانا۔ اللہ تعالی صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں اس نکتہ کی طرف یوں اشارہ فرتا ہے :

وَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَتِ أُوْلَئكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ  هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ(بقره، 82)

  اور جو ایمان لائیں اور اچھے اعمال بجا لائیں، یہ لوگ اہل جنت ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

ایک اور مقام پر فرماتا ہے :

بَلىَ‏ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ محُسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يحَزَنُونَ(بقره،112)

ہاں! جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا اور وہ نیکی کرنے والاہے تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی حزن۔

ب) اپنے آپ کو حق اور دوسروں کو باطل سمجھنا

یہود و نصاری نہ صرف اپنے آپ کو حق اور دوسروں کو باطل سمجھتے ملکہ ایک دوسروے کو نیچا دیکھانے کےلئے ہمیشہ آپس میں جھکڑتے رہتے تھے ۔ قرآن مجید نے ان کی اس ذہنیت کی یوں منظر کشی کی ہے :

وَ قالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصارى‏ عَلى‏ شَيْ‏ءٍ وَ قالَتِ النَّصارى‏ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلى‏ شَيْ‏ءٍ وَ هُمْ يَتْلُونَ الْكِتابَ كَذلِكَ قالَ الَّذينَ لا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ فيما كانُوا فيهِ يَخْتَلِفُونَ (بقره، 113)

اور یہود کہتے ہیں: نصاریٰ کا مذہب کسی بنیاد پر استوار نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں : یہود کا مذہب کسی بنیاد پر استوار نہیں، حالانکہ وہ (یہود و نصاریٰ) کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اس طرح کی بات جاہلوں نے بھی کہی، پس اللہ بروز قیامت ان کے درمیان اس معاملے میں فیصلہ کرے گا جس میں یہ اختلاف کرتے تھے۔

اسی طرح یہود و نصاری اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور دوسرے ادیان کے ماننے والوں کو اپنے مذہب کے ساتھ منسلک ہونے کی دعوت دیتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دین ابراہیمی کی پیروی کرنے کا حکم دیا جیسا کہ قرآن میں ارشاد فرمایا:

وَ قالُوا كُونُوا هُوداً أَوْ نَصارى‏ تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْراهيمَ حَنيفاً وَ ما كانَ مِنَ الْمُشْرِكينَ (بقره،135)

وہ لوگ کہتے ہیں: یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے، ان سے کہدیجیے : (نہیں)بلکہ یکسوئی سے ملت ابراہیمی کی پیروی کرو اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھے۔

ج) اپنے آپ کو آخرت کا حقدار سمجھنا

یہودیوں کی  بدترین صفت یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو آخرت کی بے پایان نعمتوں کا مستحق گردانتے تھے حالانکہ قرآن کریم نے ان کے اس دعوے کو واضح طور پر جھٹلا یا ہے  اور ان کو چیلنج کیا ہے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو تو دلیل لے آؤ اور وہ دلیل موت کی تمنا ہے ، چنانچہ قرآن کریم میں ہم پڑھتے ہیں:

قُلْ إِن كاَنَتْ لَكُمُ الدَّارُ الاَخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ. (بقره،94)

کہدیجیے: اگر اللہ کے نزدیک دار آخرت دوسروں کی بجائے خالصتاً تمہارے ہی لیے ہے اور تم ( اس بات میں ) سچے بھی ہو تو ذرا موت کی تمنا کرو۔

 قرآن کی نگاہ میں حقیقی مومن وہ ہیں جو کبھی حق کو کسی دوسری چیز پر قربان نہیں کرتے  بلکہ ہمیشہ  حق کی سربلندی کی سعی کرتے ہیں  جیسا کہ سورہ توبہ میں ارشاد رب العزت ہے:

قُلْ إِنْ كانَ آباؤُكُمْ وَ أَبْناؤُكُمْ وَ إِخْوانُكُمْ وَ أَزْواجُكُمْ وَ عَشيرَتُكُمْ وَ أَمْوالٌ اقْتَرَفْتُمُوها وَ تِجارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسادَها وَ مَساكِنُ تَرْضَوْنَها أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ جِهادٍ في‏ سَبيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَ اللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفاسِقينَ. (توبه،24)

کہدیجیے:تمہارے آباءاور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری اور تمہارے وہ اموال جو تم کماتے ہو اور تمہاری وہ تجارت جس کے بند ہونے کا تمہیں خوف ہے اور تمہاری پسند کے مکانات اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور راہ خدا میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو ٹھہرو! یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ فاسقوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔

آباؤ و اجداد کی تقلید

قرآن کریم نے مشرکین کی جانب سے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کی شدت سے مذمت کی ہے اور اس عجیب اور بے دلیل منطق کی نفی کی ہے  چنانچہ فرمایا ہے :

وَ إِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُواْ مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَاءَنَا أَوَ لَوْ كاَنَ ءَابَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْا وَ لَا يَهْتَدُونَ. (بقره،170)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے، خواہ ان کے آباء و اجداد نے نہ کچھ عقل سے کام لیا ہو اور نہ ہدایت حاصل کی ہو۔

البتہ یہ بات واضح  کردینا ضروری ہے کہ  آباؤ اجداد کی تقلید ہر صورت میں قابل مذمت نہیں ہے بلکہ  اگر وہ عقلمند  اور ہدایت یافتہ افراد تھے تو نہ صرف ان کی تقلید قابل مذمت نہیں بلکہ ان کی اتباع عین عقلانیت ہے۔اگرچہ آیات قرآنی کا لحن بتا رہا ہے کہ مشرکین کے اجداد عقلمند نہ تھے بلکہ نادان اور جاہل افراد تھے ۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر  آباؤ اجداد کی اندھی تقلید  اور پیروی کی  مذمت  کی  ہے اور اسج سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس  کی وجہ سے انسان کے چشم و گوش بند ہو جاتے ہیں  اور انسان ہدایت کے راستے کو گم کر بیٹھتا ہے ۔ (تفسير نمونه، ج‏1، ص: 576) سوره مائده میں  اپنے بزرگوں کی پیروی کرنے والے اہل کتاب  کے بارے میں آیا ہے :

قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُواْ فىِ دِينِكُمْ غَيرْ الْحَقّ‏ وَ لَا تَتَّبِعُواْ أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّواْ مِن قَبْلُ وَ أَضَلُّواْ كَثِيرًا وَ ضَلُّواْ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ. (مائده، 77)

کہدیجیے: اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو پہلے ہی گمراہی میں مبتلا ہیں اور دوسرے بہت سے لوگوں کو بھی گمراہی میں ڈال چکے ہیں اورسیدھے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔

اسی سورہ میں ایک اور مقام پر بتایا گیا ہےکہ آباؤ اجداد کی اندھی تقلید حق کو تسلیم کرنے سے رکاوٹ ہے :

وَ إِذَا قِيلَ لهَمْ تَعَالَوْاْ إِلىَ‏ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَ إِلىَ الرَّسُولِ قَالُواْ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَاءَنَا أَ وَ لَوْ كاَنَ ءَابَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْا وَ لَا يهَتَدُونَ. (مائده، 104)

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو دستور اللہ نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں: ہمارے لیے وہی دستور کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، خواہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور ہدایت پر بھی نہ ہوں۔

حقیقی عزت و افتخار

متعصب اور ضدی لوگ اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کو ہی عزت و افتخار کا حقیقی سبب جانتے ہیں  جبکہ قرآن کریم نے ان کی اس سوچ پر قلم بطلان کھینچا ہے اور  ایمان اور عمل صالح کو عزت اور افتخار کا حقیقی سبب قرار دیا ہے ۔چنانچہ سورہ نساء میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تجَرِى مِن تحَتِهَا الْأَنْهَارُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَ مَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا. (نساء،122)

اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں عنقریب ہم انہیں ایسی جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ وہاں ابد تک ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا سچا وعدہ ہے اور بھلا اللہ سے بڑھ کر سچی بات کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟

 تعصب کے آثار

1۔ حق سے انکار

قرآن کریم ،ضدی اور متعصب اہل کتاب کے بارے فرماتا ہے کہ اہل کتاب کے علماء ، پیغمبر اسلام کو اچھی طرح پہچانتے تھے لیکن ان کا ایک گروہ ایسا تھا جو حق کو چھپاتا اور اس کا انکار کرتا تھا۔(تفسير نمونه، ج‏1، ص 499)قرآن میں ارشاد رب العزت ہے :

الَّذِينَ آتَيْناهُمُ الْكِتابَ يَعْرِفُونَهُ كَما يَعْرِفُونَ أَبْناءَهُمْ وَ إِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَ هُمْ يَعْلَمُونَ.(بقره، 146)

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (رسول)کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور ان میں سے ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپا رہا ہے۔

اگرچہ اہل کتاب کے ایک گروہ نے واضح نشانیاں دیکھ کر اسلام قبول کر لیا جیسا کہ یہودی عالم عبد اللہ بن سلام جس نے اسلام قبول لیا تھا کہتا ہے: میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے  بیٹے سے زیادہ پہچانتا ہوں۔(تفسير نمونه، ج‏1، ص 499)

قرآن کریم  میں متعدد مقامات پر بتایا گیا ہے کہ تعصب ہی حق سے انکار کا اصلی سبب ہے ۔ ہم ذیل میں اس بارے میں چند آیات کی تلاوت کرتے ہیں:

وَ قالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَ قالَتِ النَّصارى‏ الْمَسيحُ ابْنُ اللَّهِ ذلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْواهِهِمْ يُضاهِؤُنَ قَوْلَ الَّذينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (توبه،30)

اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں ان لوگوں کی باتوں کے مشابہ ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں، اللہ انہیں غارت کرے، یہ کدھر بہکتے پھرتے ہیں؟

سورہ اعراف میں فرماتا ہے:

قالُوا أَ جِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَ نَذَرَ ما كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتِنا بِما تَعِدُنا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقينَ (اعراف،70)

انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کریں اور جن کی ہماری باپ دادا پرستش کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں؟ پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے لیے وہ (عذاب) لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو.

سورہ یونس میں یوں آیا ہے :

قالُوا أَجِئْتَنا لِتَلْفِتَنا عَمَّا وَجَدْنا عَلَيْهِ آباءَنا وَ تَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِياءُ فِي الْأَرْضِ وَ ما نَحْنُ لَكُما بِمُؤْمِنينَ (يونس، 78)

وہ کہنے لگے: کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس راستے سے پھیر دو جس پرہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ملک میں تم دونوں کی بالادستی قائم ہو جائے؟ اور ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

سورہ رعدہ میں فرماتا ہے:

وَ الَّذِينَ ءَاتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَ مِنَ الْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَ لَا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ أَدْعُواْ وَ إِلَيْهِ مَابِ(رعد، 36)

اور جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ آپ کی طرف نازل ہونے والی کتاب سے خوش ہیں اور بعض فرقے ایسے ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے، کہدیجئے: مجھے تو صرف یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں، میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوںاوراسی کی طرف مجھے رجوع کرناہے.

2.  تکبر

اہل کتاب منطقی بات کو ماننے والے نہ تھے اور اپنی کتاب میں موجود احکام کو پس پشت ڈال دیتے تھے۔ اگر ان سے پوچھا جاتا کہ تمہارے اس کام کی دلیل کیاہے تو وہ  نسلی تعصب کو دلیل بتاتے تھے ۔(تفسير نمونه، ج‏2، ص: 485) لہٰذا دینی اور قومی تعصب حق کو سمجھنے سے رکاوٹ اور انسان کے اندر غرور پیدا ہونے کا سبب ہے ۔ ایسے تعصب کے متعلق قرآن کریم یوں ارشاد فرماتا ہے:

أَ لَمْ تَرَ إِلىَ الَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلىَ‏ كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلىَ‏ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَ هُم مُّعْرِضُونَ * ذَالِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ وَ غَرَّهُمْ فىِ دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفْترَونَ (آل عمران،23، 24)

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیاہے انہیں کتاب خدا کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کج ادائی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے۔  ان کا یہ رویہ اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں:جہنم کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو نہیں سکتی اور جو کچھ یہ بہتان تراشی کرتے رہے ہیں اس نے انہیں اپنے دین کے بارے میں دھوکے میں رکھا ہے۔

ایک اور مقام پر فرماتا ہے:

وَ قَالَتِ الْيَهُودُ وَ النَّصَارَى‏ نَحنُ أَبْنَؤُاْ اللَّهِ وَ أَحِبَّؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم بَلْ أَنتُم بَشرَ مِّمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَ يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَ لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا  وَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ(مائده، 18)

اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں: ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہدیجیے: پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے؟ بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے بشر ہو، وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان موجود ہے سب پر اللہ کی حکومت ہے اور (سب کو)اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

۳۔ دینی رہنماؤں کے بارے غلو

آسمانی  اور الہی ادیان سے انحراف کا ایک اہم اور اصلی سر چشمہ یہ ہے کہ لوگ اپنے دینی رہنماؤں کے بارے میں غلو سے کام لیتے  ہیں اور ان کو حد سے بڑھا دیتے ہیں ۔ ان کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت  کے نتیجے میں ایسی صورتحال پیش آتی ہے۔لہٰذا غلو کی وجہ سے یکتاپرستی کی بنیاد کھوکھلی ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام غلو اور غالیوں کےساتھ سختی سے پیش آتا ہے  حتی کہ کفار سے بھی زیادہ غالیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ (تفسير نمونه، ج‏4، ص: 221)

حضرت عیسی علیہ السلام کے بارےمیں عیسائیوں نے غلو کیا اور ان کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ قرآن کریم نے ان کے باطل عقیدے پر خط بطلان کھینچا ہے ، ان کو غلو سے منع کیااور فرمایا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں بلکہ حضرت مریم سلام للہ علیہا کے بیٹے ہیں :

يا أَهْلَ الْكِتابِ لا تَغْلُوا في‏ دينِكُمْ وَ لا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلاَّ الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسيحُ عيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَ كَلِمَتُهُ أَلْقاها إِلى‏ مَرْيَمَ وَ رُوحٌ مِنْهُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رُسُلِهِ وَ لا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انْتَهُوا خَيْراً لَكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلهٌ واحِدٌ سُبْحانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ وَ كَفى‏ بِاللَّهِ وَكيلاً (نساء، 171)

اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو سے کام نہ لو اور اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا کچھ نہ کہو،بے شک مسیح عیسیٰ بن مریم تو اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم تک پہنچا دیا اور اس کی طرف سے وہ ایک روح ہیں، لہٰذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور یہ نہ کہو کہ تین ہیں، اس سے باز آ جاؤ اس میں تمہاری بہتری ہے، یقینا اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے، اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو، آسمانوں اور زمین میں موجود ساری چیزیں اسی کی ہیں اور کارسازی کے لیے اللہ کافی ہے۔

اس آیت کی روشنی میں عیسائیوں کے مندرجہ ذیل نظریات کو باطل قرار دیا گیا ہے:

۱۔ حضرت عیسی علیہ السلام  ، اللہ کے نہیں بلکہ صرف حضرت مریم علیہا السلام کے فرزند ہیں۔

۲۔ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے فرزند نہیں بلکہ اس کے نبی ہیں۔

۳۔ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے فرزند نہیں بلکہ کلمۃ اللہ ہیں۔

۴۔ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے فرزند نہیں بلکہ روح اللہ ہیں۔

۴۔ فهم حق  میں رکاوٹ

تعصب کبھی انسان کےلئے حق کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے جیساکہ یہودی تعصب اور قوم پرستی  کی وجہ سے اپنے آپ کو سب سے بہتر قوم اور اللہ کے فرزند سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ ہم سے امتحان نہیں لے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سب سے پہلے ان کی قوم پرستی حق سمجھنے سے مانع بن گئی اور پھر حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن کریم میں اس بات کی طرف اشار ہ ہوا ہے  کہ یہ قومی تعصب  یہودیوں کی بے خبری اور حقائق سے نابلد رہنے کا سبب ہے:

وَ حَسِبُواْ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُواْ وَ صَمُّواْ ثُمَّ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُواْ وَ صَمُّواْ كَثِيرٌ مِّنهْمْ  وَ اللَّهُ بَصِيرُ بِمَا يَعْمَلُونَ(مائده،71)

اور ان کاخیال یہ تھا کہ ایسا کرنے سے کوئی فتنہ نہیں ہو گا اس لیے وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں اکثر اندھے اور بہرے ہو گئے اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

قوم پرستی کی وجہ سے  انسان کی آنکھوں اور کانوں پر پردے پڑ جاتے ہیں اور انسان حق کو دیکھنے  اور سننے سے  محروم ہوجاتے ہیں  بلکہ اپنے افکار و نظریات پر ڈٹ جاتے ہیں۔

فَتَقَطَّعُواْ أَمْرَهُم بَيْنهَمْ زُبُرًا كلُ حِزْبِ بِمَا لَدَيهْمْ فَرِحُونَ. (مومنون، 53)

مگر لوگوں نے اپنے (دینی) معاملات میں تفرقہ ڈال کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اب ہر فرقہ اپنے پاس موجود (نظریات) پر خوش ہے۔

فیصلہ جات میں تعصب  کی ممانعت

قرآنی دستور کے مطابق معاشرے میں عدل و انصاف کا حکم دیا  گیا ہے مخصوصا یتیموں اور بیویوں کے حق میں۔ پس ضروری ہے کہ اپنے فیصلہ جات میں تعصب اور قوم پرستی کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔چنانچہ اللہ تعالی ، قرآن کریم میں اہل ایمان کو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامينَ بِالْقِسْطِ شُهَداءَ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلى‏ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقيراً فَاللَّهُ أَوْلى‏ بِهِما فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوى‏ أَنْ تَعْدِلُوا وَ إِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبيراً (نساء،135)

اے ایمان والو! انصاف کے سچے داعی بن جاؤ اور اللہ کے لیے گواہ بنو اگرچہ تمہاری ذات یا تمہار ے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اگر کوئی امیر یا فقیر ہے تو اللہ ان کا بہتر خیرخواہ ہے، لہٰذا تم خواہش نفس کی وجہ سے عدل نہ چھوڑو اور اگر تم نے کج بیانی سے کام لیا یا(گواہی دینے سے) پہلوتہی کی تو جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے یقینا خوب باخبر ہے۔

اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ حتی گواہی کے موارد میں قومی، لسانی، مذہبی تعصبات سے بالا تر ہو کر گواہی دی جائے اور گواہی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہونی چاہئے  اگرچہ اپنے رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

۵۔  گناه کا سرچشمہ

قرآن کریم کی نگاہ میں تعصب اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کو گناہ اور فحشاء کا سرچشمہ کہا گیا ہے۔ تعصب رکھنےوالے لوگ جب برے اور قبیح افعال انجام دیتے تو کہتے ہیں کہ ہم اس لئے یہ کام کر رہے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے آباؤاجداد کو یہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔قرآن نے  ان کی یوں نقشہ کشی کی ہے :

وَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً قالُوا وَجَدْنا عَلَيْها آباءَنا(اعراف، 28)

اور جب یہ لوگ کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا ہے۔

اس سے بالاتر یہ کہ کبھی  نعوذ باللہ اپنی بے حیائی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے :

وَ اللَّهُ أَمَرَنا بِها(اعراف، 28)

اور اللہ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح اور روشن جواب دیا ہے کہ برائی کا حکم دینا  خدا کا کام نہیں بلکہ یہ شیطان کا کام ہے۔اللہ  تو صرف نیکیوں اور اچھائیوں کا حکم دیتا ہے ۔ تم اللہ پر  بہتان باندھتے ہو۔   اسی آیت میں فرماتا ہے:

قُلْ إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ (اعراف، 28)

کہدیجیے:اللہ یقینا بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تعصب جیسی مہلک بیماری سے نجات عطا فرمائے ۔

 

 

پیغمبر اکرم ﷺ کی متعدد ازدواج مستشرقین کی نظر میں

 

محسن مختار فانی

ایم فل تفسیر و علوم قرآن

جامعہ المصطفی العالمیہ قم المقدسہ  ایران

 

مقدمہ

نبی اکرم ﷺ اور ان کے خاندان کی زندگی کا ایک  بہت بڑا مسئلہ رسول خدا کی بیویوں کی کثرت ہے۔ ان میں سے کچھ ، نبی کے زمانے کے حقائق اور تقاضوں سے قطع نظر ، کثرت ازدواج کو پیغمبر ﷺ  کی زندگی میں ایک نقطہ ضعف سمجھتے ہیں اور یہ کہ نبی ﷺ  کی تعدد ازدواج سوائے ہوس کے کچھ نہیں تھی ، جبکہ ایسا نظریہ یہ نبیﷺ  کے خلاف تھمت اور  الزام کے سوا کچھ نہیں ہے  اور حتیٰ کہ بعض مستشرقین نے بھی اس نظریے کو صبر اور حوصلہ سے مسترد کر دیا ہے۔ ہم نے مستشرقین منفی خیالات کا اظہار کیا اور مختصر طور پر ہر ایک کو جواب دیا ، اور پھر ہم کثرت ازدواج کے بارے میں مثبت اور منصفانہ رائے لائے۔ ان تمام نظریات کے بعد ، ہم نے جانچ پڑتال کی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی شادیوں کی کثرت نہ صرف جسمانی خواہشات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک جامع کی فراہمی اور خاص طور پراس وقت کا تقاضا تھا اور  اس میں سیاسی ، سماجی اور ثقافتی مقاصد شامل تھے۔

نبی اکرم ﷺ  کی کثرت ازدواج بارے میں مستشرقین کے خیالات

نبی اکرم ﷺ  کی کثرت ازدواج بارے میں مستشرقین کے منفی نقطہ نظر میں چند نکات قابل ذکر ہیں۔

1- بعض مستشرقین کو نبی کریم ﷺ کی شخصیت کا صحیح اندازہ نہیں ہے اور ان کے تمام اعمال بشمول تعدد ازدواج ، مادی شمار کیا ہے۔

2: کچھ مستشرقین ، کیونکہ وہ عیسائی اور مذہبی ہیں ، شادیوں کو انسانوں کی روحانیت اور تقدس سے متصادم سمجھتے ہیں۔

 3: کچھ مغربی مصنفین اموی ، عباسی ، عثمانیوں اور مسلمان بادشاہوں ،جن کے پاس صرف اسلام کا نام پیغمبر کا جانشین تھا ،  انہوں   نے پیغمبر اسلام ﷺ کے اس عمل کو   بد سلوکی سے منسوب کیا۔

4: کچھ دوسروں نے جھوٹی روایات  ، جو مسلمانوں کی  تاریخ اور احادیث کی کتابوں  میں درج تھی ان کو ایک  ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔

5: چونکہ کچھ مستشرقین  ،سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے محدود تھے ، اس لیے ان میں سے بعض کا اسلام اور حضور نبی اکرم ﷺ اور ان کے خاندان کے بارے میں متعصبانہ نقطہ نظر نے بھی ان غلط فیصلوں کی راہ ہموار کی ہے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص195و 196)

اگر ہم پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے خاندان کی ذاتی زندگی کے بارے میں مستشرقین کے بیانات کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ: جب بھی اسلام اور غیر اسلام کے درمیان مقابلے اور چیلنجز ہوتے ہیں ، مستشرقین نے پیغمبر اسلامﷺ  کی زندگی کے بارے میں زیادہ جنونی اور غیر منطقی  نقطہ نظر اختیار کیا ہے ، اور جب بھی کم چیلنجز ہوئے انہوں نے اس مسئلے کا زیادہ حقیقت پسندانہ مطالعہ کیا ہے۔ اس وجہ سے ، مستشرقین پیغمبرﷺ  کی کثرت ازدواج  کے بارے میں مختلف انداز میں فیصلہ کرتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی  کثرت ازدواج  کے بارے میں مستشرقین  کی منفی تفسیر؛

  جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے ، مستشرقین پیغمبرﷺ  کی کثرت ازدواج  کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ یہاں ہم پہلے ان لوگوں کے خیالات پیش کرتے ہیں جنہوں نے پیغمبرﷺ  کی کثرت ازدواج  کو غیر قانونی سمجھا ہے ، پھر ان کی تنقید میں ہم دوسری قسم کے بیانات کا حوالہ دیں گے جنہوں نے نسبتا   درست تجزیے فراہم کیے ہیں۔( نجمی، محمدصادق، سیري درصحیحین، ص،300-290.)

گوستاو لوبن (1841-1931م)

کتاب’  تمّدن اسلام و عرب‘ میں لکھتا ہے کہ؛ اگر محمدﷺ  کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو یہ صرف ضرورت سے زیادہ محبت ہے جو اسے عورتوں سے تھی۔ ( گوستاو لوبون، تمّدن اسلام و عرب،ص120.) وہ نبی کریم ﷺ  کی ازواج مطہرات کی کثرت کی وجہ کو عورتوں سے محبت میں سمجھتا ہے اور لکھتا ہے: رسول اللہ ﷺ  اپنے آخری دور میں عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتے تھے  اور اس امر کو دوسروں سے پوشیدہ بھی نہ رکھا ، اور فرمایا؛  ’’مجھےاس دنیا میں تین چیزیں  پسند ہیں: خوش بو ، عورت اور نماز جو میری آنکھوں کا نور ہے ‘‘۔ عورتوں سے پیغمبر کی اس محبت نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ نبیﷺ  نے ان عورتوں کی عمر کی بھی  پرواہ نہیں کی جن سے اس نے شادی کی تھی۔ اس نے عائشہ نامی ایک دس(10) سالہ لڑکی سے شادی کی اور اکیاون(51) سالہ خاتون میمونہ  کا انتخاب کیا۔ عورتوں سے اس کی محبت کی وجہ سے ، ایک دن ، زید (اس کا گود لیا ہوا بیٹا) کی بیوی پر نظر پڑی اور اس سے اس قدر پیار ہو گیا کہ زید نے اسے طلاق دے دی اور اس کی شادی نبیﷺ  سے کر دی۔ چونکہ مسلمان اس کو غلط سمجھتے تھے ، اس لیے قرآن کی آیات نازل ہوئیں اور اس نے کہا کہ یہ شادی مصلحت کی بنیاد پرتھی۔ مسلمان بھی خاموش رہے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص:197.)

بالآخرجب پیغمبر کو احساس ہوا کہ بہت سی بیویاں ہونا پریشانیوں اور مشکلات کا سبب بنتا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو چار سے زیادہ بیویاں رکھنے سے منع کیا۔( گوستاو لوبون، تمدن اسلام و عرب،ترجمہ: سیدہاشم رسولی محلاتی،ص116-125.)

گستاو لوبن کے نظریہ کی تردید:

اگر ہم گستاولوبن کے نظریہ کو رد کرنا چاہیں تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ  مسٹر گستاولوبن نے پہلے  اپنے الفاظ پر توجہ نہیں دی کیونکہ انہوں نے خود کہا تھا کہ نبیﷺ  کی یہ انتہائی محبت نبیﷺ کی زندگی کے آخری حصے میں تھی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ نبیﷺ نے  جوانی میں ایسی محبت نہیں تھی اور اپنی زندگی کے اختتام پر پچاس سال کی عمر میں انتہائی محبت تھی۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر یہ معاملہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی پہلی بیوی (خدیجہ) سے جب تک کہ وہ پچاس سال کے نہیں تھے ، خود کو راضی کیوں کیا؟ پھر اس نے کہا کہ "نبیﷺ  آخر میں سمجھ گیا کہ بہت سی بیویوں کا ہونا پریشانیوں اور مشکلات  کا باعث بنتا ہے ، مسلمانوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں رکھنا حرام ہے۔تو یہاں پہ ہم یہ کہیں گے کہ جو اشکال زیادہ بیویوں پروارد ہوتاہے وہ چار عورتوں پر بھی  بنتا ہے ، اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کو  چار عورتوں کی  اجازت بھی نہیں دینی چاہیےبلکہ کہتے کہ ایک عورت کافی ہے ، لہذا گستاو لوبن کا یہ بیان دانشمندانہ نہیں ہے۔

رابرٹ ساوتی (17741843 م)

انیسویں صدی کے ہسپانوی مصنفین میں سے ایک’’ رابرٹ ساوتی‘‘ نبی ﷺ  کی مختلف شادیوں اور نبیﷺ  کی شخصیت کے بارے میں لکھتا ہے:

محمد ﷺ نے معاشرے کے تانے بانے کے خلاف کوئی نئی چیز نہیں بنائی۔ اس نے معاشرے کی بدکاریوں اور توہین کو ویسے ہی قبول کیا جیسا کہ وہ پہلے سے تھا۔ دوسرے مذاہب کے بانیوں نے اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی  دلچسپی نہیں لی اور خود کو محفوظ رکھا، لیکن محمد نے انسانی جبلتوں پر اس طرح کا تسلط حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے اپنے آپ کو ان جبلتوں کے خلاف کمزور سمجھا اور اپنے اندر اتنی طاقت نہیں پائی کہ ان جبلتوں پر قابو پا سکے۔( ر.ک :   Das Lebrn and die Lehre des Mohammd: ص ،  . x-x1   ی ا شخصیت محمد، توره آ ندره و محمد و پیدایش اسلام، مارگولیوت، ص176.)

رابرٹ ساوتی کے نظریہ کی تردید:

ہم جناب رابرٹ ساوتی کو  اس طرح جواب دیں گے کہ کثرت ازدواج کا مسئلہ ایک سماجی اور ثقافتی مسئلہ ہے جو مختلف اوقات اور مقامات اور مختلف معاشروں میں رائج ہے ، اور رسول اللہ ﷺ  کی شادیاں ایک جنسی جبلت نہیں تھیں بلکہ ایک جامع  اور معاشرہ کی ترویج تھی ۔رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور رسول اللہ ﷺکے کردار کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ  ہمیشہ ایک جامع  اور معاشرہ کی ترویج کے لیے کوشاں رہے۔

ویلیام موئیر(18191905 م)

اپنی چار جلدوں پر مشتمل’’  زندگی محمد ﷺ  و تاریخ اسلام‘‘ کے عنوان سے لکھی گٗی کتاب میں بیان کرتا ہے:

جہاں مدینہ میں حالات بدل رہےتھے۔ وہاں دنیاوی طاقت ، عزائم اور خود اطمینان ،نبیﷺ  کی زندگی کے عظیم مقصد کے ساتھ جلدی شا مل ہو رہےتھے اور یہ سب کچھ دنیاوی طریقوں سے حاصل ہوتا ہے۔ آسمانی پیغامات آزادانہ طور پر سیاسی کارروائی کے جواز کے لیے بھیجے جاتے ہیں ... درحقیقت،جبلت اور ذاتی انتہا پسندی نہ صرف جائز ہے ، بلکہ الہی فرمان کے اثبات سے بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص:198)

 ایک خاص اجازت اور استحقاق دیا گیا ہے جو نبی کو کئی بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ( سرویلیام موئیر، زندگی محمد، فصل37،ص520.)

ویلیام موئیر کے نظریہ کی تردید:

یہاں یہ کہنا چاہیے کہ یہ سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺ  کی یہ شادیاں حکم الٰہی کی منظوری کے ساتھ تھیں ، لیکن اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ جنسی جبلت نہیں تھی ، اس میں کئی مقاصد موجود تھے، جن پر ہم بعد میں بات کریں گے ، انشاء اللہ۔ اور مسٹر ویلیام موئیر نے مدینہ کے حالات پر غور کرتے ہوئے ایک طرف توجہ دی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک فطری اور ذاتی انتہا پسندی ہے جبکہ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ  کی ان شادیوں کےعظیم مقاصد اور ارادے تھے جو عین مدینہ کے حالات کے مطابق تھے۔

امیل منغم

مستشرقین  میں سے ایک اور امیل منغم پیامبر ﷺ کی کثرت ازدواج کے حوالے سے نظریہ بیان کرتا ہے کہ محمد ﷺ  کی شادیوں کا آغاز، ان کا عورتوں سے زیادہ محبت کی وجہ سے ہوا اور کہتا ہے:( قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 پاییز و زمستان ، 1395، ص ، 64.)

"شعر محمد بالعقد الاخیر من عمره بمیل کبیر الی نساء "  نبی ﷺ کی زندگی کے آخری ادوار میں ،محمدﷺ  کے  اشعار، خواتین میں زیادہ دلچسپی کے حوالے سے تھے ۔( فواد محمود، افترائات المستشرقین علی الاصول العقیده فی الاسلام ، ص 213.)

امیل منغم کے نظریہ کی تردید:

مسٹر امیل منغم کے جواب میں یہی کہا جانا چاہیے کہ جومسٹر گستاو لوبن کے نظریہ کے ردمیں ہم نے کہا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ نبیﷺ  کو جوانی میں عورتوں میں اتنی دلچسپی نہ ہو اورعمر کے  آخری حصہ  میں جب وہ پچاس سال کے ہو جائیں تو عورتوں سے   انتہائی محبت ہو ۔ نبی ﷺ  کے لیے ایسے الفاظ،الزامات اور ان کی شخصیت کی اہمیت کو کم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

نبی کریم ﷺ کی  کثرت ازدواج  کے بارے میں مستشرقین  کی منصفانہ تفسیر؛

ان میں سے کچھ مستشرقین  ،رسول اللہ ﷺ کی  کثرت ازدواج  کے بارے میں منصفانہ نظریہ رکھتے ہیں جن میں بعض کے نظریات کو ہم یہاں پر  مختصر بیان کریں گے۔

ویل دورانٹ(1885 1981م)

مشہور مغربی مصنف ویل دورانٹ   نبیﷺ کی  کثرت ازدواج  کے تجزیے میں لکھتا ہے:

پیامبر اکرمﷺ  نے دس خواتین  سے شادی کی اور دو کنیزیں  بھی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ مغرب کے لوگوں نے  اس کو اپنایا ہے۔ لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا  کہ اس وقت بہت سے قبائلیوں کی اموات کی وجہ سے بیویوں کی کثرت، ایک اخلاقی فریضہ تھا۔ پیامبر اکرمﷺ کے زمانہ میں کثرت ازدواج معمول اور رواج تھا ۔ اسی وجہ سے پیامبر اکرمﷺ نے بھی کثرت ازدواج کو اپنایا۔ لیکن یہ بات قابل دید ہے کہ نبی اکرم  ﷺ  کا یہ کام  جنسی جبلت یا جنسی غریزہ  نہیں کی تھا۔( ویل دورانٹ، تاریخ تمدن ، ۴/ ۲۲۰، ترجمہ : ابوالقاسم پاینده ، ص ۳۲- ۳۴ . عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 216.)

جان دیون پورٹ  (17891877م)

اسلام پسندمستشرقین نے  ایک کتاب "عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن  " اسلام کی طرف منصفانہ نگاہ کرتے ہوئےاور پیامبر اکرم ﷺ  کادفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مشرق میں بیویوں کی کثرت عزت مآب ابراہیم علیہ السلام کے بعد سے عام ہے... حضرت محمد ﷺ  ایک ایسے عمل کو جائز سمجھتے تھے جس کا نہ صرف احترام کیا جاتا تھا بلکہ اسے سابقہ دور میں خدا نے برکت اور رحمت قرار دیا تھا اور نئے دور میں بھی اسے جائز اور قابل احترام قرار دیا گیا تھا۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 215.) لذا پیامبر اکرم ﷺ  اس تہمت اور شہوت پرستی سے بری و ذمہ ہیں  ۔ ( عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن  ، ترجمہ، سید غلام رضا سعیدی ، ص 171و 176).

اگر نبی اکرم ﷺ کی ازدواج شہوت پر مبنی ہوتی تو  ضروری تھا کہ پیامبر ﷺ اپنی زینت اور نما ئش کے لیے ایسے وسایل کا استعمال کرتے جس میں خوبصورتی کا اظہار ہوتا ہے جبکہ کافی  آیات  نفی کی نشاندہی کرتی ہیں  اور تمام خواتین کو اس کے استعمال سے روکا بھی جاتا ہے۔ اس معاملے میں نو(9) عورتوں کی پاسداری اور پیامبر اکرم ﷺ کی طرف نسبت اپنی انسانیت اور ان  کے عظیم درجے پر فائز ہونے کی بہترین دلیل بھی ہے۔( عقیقی بخشایشی، ہمسران رسول خدا، ص 80.)

تھامس کارلایل (17951881 م)

وہ کہتے ہیں: محمدﷺ اپنے دشمنوں کے الزامات و تھمات کے باوجود کبھی بھی  شہوت کا شکار نہیں ہوئے۔ فقط دشمنی کی بنا  پر پیامبر اکرم ﷺ پر ہوس کا الزام لگایا گیا۔ محمد جیسے شخص پر ہوس کا الزام لگانا یا یہ کہنا کہ شہوت اور لذت نفس پر ان کا کنٹرول نہ تھا، ناانصافی ہے ۔ محمد ﷺ اور شہوت اور لذت نفس کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔( دوانی، پیامبر اسلام از نظر دانشمندان شرق و غرب، ص 85۔)

ال ۔ آ۔  سید یو(10431099م)

فرانسیسی مستشرق  ’’ال ۔ آ۔  سید یو ‘‘عورتوں کی سماجی حیثیت اور نبیﷺ  کی کثرت ازدواج کی فضیلت کو بہتر بنانے کے لیے خدا کے رسولﷺ کی کوششوں کے بارے میں لکھتا ہے:

مشرق میں عورتوں کی حالت زار کو محمدﷺ سے منسوب کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ اس نے عورت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ عرب عورت تیزی سے بڑہتی ہے اور تیزی سے ٹوٹ جاتی ہے۔ فطرت اسے عاجز بناتی ہے۔ اس نے چار عورتوں سے شادی کی اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ بیوی رکھنا بہتر ہے۔ اگر اس نے خودیعنی پیامبر اکرمﷺ نے خود اس  کا اختلاف کیا ہےتو یہ کچھ سیاسی پہلو کی وجہ سے تھا کہ اس کی شادی کے نتیجے میں کچھ قبائل نے ان کی اطاعت کی۔( زمانی ، شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان ، ص 217. آل. آ. سید یو ، تاریخ عرب العام ،ترجمہ بہ عربی : عادل زعیتر ،ج1، نقل از : اسلام ازدیدگاه دانشمندان جہان ، ص 405عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 217- 218.)

ایلیا پاو لو ویچ پطروش فسکی(18981977م)

ایک سے زیادہ شادیوں کے لیے پیغمبراکرمﷺ کی حوصلہ افزائی کے بارے میں ، وہ کہتے ہیں: کثرت ازدواج کی ترغیب زیادہ تر قدیم عربوں کا عقیدہ تھا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کی قابلیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی ازدواجی حیثیت کا وجود ضروری ہے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص،218. اسلام ازدیدگاه دانشمندان جہان، ص، 36.)

 نظریات کا تحقیقی جائزہ

تاریخ میں کثرت ازدواج

ازدواج کی کثرت نبی  کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ بہت سے گذشتہ انبیاء من جملہ موسیٰ علیہ السلام کی سنت رہی ہے ، انجیل کی کتاب میں کوئی ایسی نص یا روایت  نہیں ہےکہ جس میں ازدواج کی کثرت کو حرام کہا گیا ہو۔ (قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 ، پاییز و زمستان ، 1395، ص ،67.)

1: پولس نقل کرتا ہے ایک مذہبی شخص اگر وہ رہبانیت کو برقرار نہیں رکھ سکتا تو انہیں ایک عورت پر ہی اکتفا کرنا چاہیے ، لیکن دوسری صورت میں وہ جتنی عورتیں چاہے شادی کر سکتاہے۔( استنبولی ،مصطفی نساء حول الرسول ، ص 332.)

2: سٹر مارک اور جین برگ کا خیال ہے کہ مہذب قبائل اور قبیلوں میں تعدد ازدواج ایک نظام تھا اور وہ بعد میں صرف تقلید کی وجہ سے ایک شریک حیات سے مطمئن ہو گئے۔( جبری ، السیره النبویہ ، ص 154.)

3: ول ڈیورنٹ کہتا ہے: قرون وسطی کے علماء دین  کا خیال تھا کہ کثرت ازدواج ،اسلام کے اقدامات میں سے ایک ہے ، جبکہ ایسا نہیں ہے اور قدیم معاشروں میں کثرت ازدواج کا بہاؤ  ان  کے رواج کے مطابق تھا۔( حسن زمانی ، مستشرقان و قرآن ، ص 447.)

4: گستاولوبون کہتا ہے: کثیر ازدواج کا رواج قبل از اسلام ہے اور تمام مشرقی قبائل میں عام ہے ، بشمول ایرانی ، عرب و. . . تعدد ازدواج کا رواج اسلام سے بالکل بھی متعلق نہیں ہے۔( گوستاولوبون ، تمدن اسلام و غرب ، ص 90.)

کثرت ازدواج کی ضرورت

مختلف عوامل کی وجہ سے ، بہت سی خواتین اور لڑکیاں زندگی بھر شادی کی نعمتوں سے محروم رہتی ہیں اور پھر یا تو خود اپنا آپ  بیچ دیتی ہیں یا خوفناک سزا کا سامنا کرتی ہیں۔

1: مردوں کے مقابلہ میں عورتوں   کا تعدادمیں زیادہ ہونا ۔

2: مردوں کی ایک بڑی تعدادکا مختلف  حادثات کی وجہ سے مر جانا۔

3: عورتوں کا ایام مخصوصہ میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی نااہلی۔

4: خواتین کےمقابلہ میں  مردوں کا تنوع۔

اسلام نے کثرت ازدواج کو عمومی طور پر صرف جائز ہی نہیں سمجھا ، بلکہ کثرت ازدواج کو محدوداور مقیدبھی کیا ہے۔اور صرف یہی نہیں  کہ کثرت ازدواج عورت کی حیثیت کو گھٹانےوالےعنصر کو کم نہیں کرتا ،  بلکہ ، یہ خاندان میں خواتین کے مقام کو بلنداورمحفوظ رکھتا ہے اور کچھ مردوں کی ناجائز  زیادتی کو روکتا ہے۔(قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 ، پاییز و زمستان ، 1395، ص ،69.)

مستشرقین کے نظریات کی تردید

حضور اکرم ﷺ  کی شادیوں کے فلسفے کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں ، محدود جگہ کی وجہ سے ، ہم صرف مختصر طور پر حضور ﷺکی شادیوں اور حضوراکرم ﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں مستشرقین کے نظریات کی تردید کریں گے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 199.)

الف) حضوراکرم  ﷺ کی شخصیت اور کردار سے متصادم

1: طول طویل عبادت۔

2: زہدو تقوی اور دنیا سے بے رغبت۔

3: شجاعت اور فداکاری۔

4: مشکلات میں استحکام اور پائیداری۔

5- حضور نبی اکرم ﷺ اور ان کے اہل خانہ کی عفت اور پاکدامنی۔

ب) تاریخی حقائق سے متصادم۔

1- پیغمبراکرم ﷺ کے تبلیغی اور سیاسی اہداف۔

2: نبی اکرمﷺ کے تعلیمی اہداف۔

3: غلاموں اور کنیزوں  کی آزادی۔

4: خواتین کے مقام کا احترام کرنا۔

5: جاہلانہ اور جھوٹی روایات اور رواج کی تردید۔

نتیجہ

نبی اکرم ﷺ کی شادیاں حکم الٰہی سے اور حکمت پر مبنی تھیں ، لہٰذا  نبی اکرم ﷺ کی شادیاں کوکسی بھی ہوس اور شہوت  پرستی والی تفسیر کرنا نا مناسب ہے ۔ اس کے نتیجے میں نبی اکرم ﷺ کی شادیوں کی بعض وجوہات قابل ذکر  ہیں:

1- نبی اکرمﷺ  نے اپنی زندگی کا بہترین دور (جوانی) یک زوجیت کے ساتھ گزارا اور خدیجہ کے زندہ رہنے تک دوسری شادی نہیں کی ، جبکہ اس وقت عرب معاشرے میں تعدد ازدواج کافی عام تھی۔

2: نبی اکرم ﷺکی زیادہ تر ازداواج ،  عام طور پر بوڑھی ، بیوہ اور بے سہارا عورتوں کے ساتھ وابستہ تھیں  جو کہ ہوس اور شہوت  کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔

3: نبی اکرم ﷺکی کچھ شادیاں یتیموں اور تنہا رہ  جانے والوں کی حفاظت اور ان لوگوں کی عزت کو محفوظ کرنے کے لیے تھیں جو پہلے عزت اور سرفرازی میں زندگی گذاررہےرہتے تھے ، جیسے سودہ ، زینب بنت خزیمہ اور ام سلمہ ۔

4: نبی اکرم ﷺ  کی کچھ دوسری شادیاں جہالت کی جھوٹی روایات کو توڑنے اور لوگوں کے ہاتھوں اور پاؤں سے جہالت کی بیڑیاں توڑنے کی وجہ سے ہوئیں ، جیسے؛ جحش کی بیٹی زینب سے شادی کی۔

5: نبی اکرم ﷺ   کی شادیوں کی ایک اور وجہ اسیروں ، غلاموں کی سرپرستی اور مختلف قبائل کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا اور ان کے خطرے کو دور کرنا تھا۔ جیسے؛  جویریہ  سے شادی کی۔

6: نبی اکرم ﷺ   کی کچھ دوسری شادیاں سیاسی خیالات اور بعض قبائل کی اسلام کی طرف سازش کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے انجام دی گئیں ، جیسے کہ ام حبیبہ ، حفصہ اور عائشہ سے شادی کی۔(قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 ، پاییز و زمستان ، 1395، ص ،85.)

منابع

1: آل. آ. سید یو ، تاریخ عرب العام ،ترجمہ بہ عربی : عادل زعیتر ،ج1.

 2: الاستنولی، محمود مہدی، ابونصرالسبی، مصطفی نساء حول الرسول، 1423ق.

3: الجبری، عبدالمتعال محمد ، السیره النبویہ و اوہام المستشرقین ، قاہره ؛مکتبہ وہبہ.

4: حاکم نیشابوری، المستدرک الصحیحین، کوشش مصطفی عبدالقادرعطا، بیروت؛دارالکتب العلمیہ،1411ق.

5: دوانی، علی، پیامبر اسلام از نظر دانشمندان شرق و غرب ، قم ، انتشارات اسلام .

6: عذر تقصیر  بہ  پیشگاہ  محمد  و قرآن  ،  ترجمہ، سید غلام رضا سعیدی ،،قم، دارالتبلیغ الاسلامی،تہران 1388.

7: زمانی ، محمد حسن، شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان ، قم، بوستان کتاب 1385.

8: زمانی ،محمد حسن، مستشرقان و قرآن ،قم، بوستان کتاب 1385.

9: سرویلیام موئیر، زندگی محمد،

10: عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم،قم؛ترجمہ و نشر المصطفی، 1392ش.

11: عقیقی بخشایشی، ہمسران رسول خدا،قم، دارالتبلیغ الاسلامی ، چاپ سوم ، 1352ش.

12: فواد محمود، افترائات المستشرقین علی الاصول العقیده فی الاسلام.

13: گوستاو لوبون، تمدن اسلام و عرب،ترجمہ: سیدہاشم رسولی محلاتی، انتشارات کتابچی، اول، تهران،1378.

14: محمدی، ،محمد حسین ،قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21، پاییز و زمستان ، 1395.

15: نجمی، محمدصادق، سیري درصحیحین،جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، 1471.

16: ویل دورانٹ، تاریخ تمدن ، 4/ 220، ترجمہ : ابوالقاسم پاینده ،تہران؛ انتشارات علمی و فرهنگی، چاپ دازدہم، 1385ش.

 

امام حسن عسکری علیہ السلام  اور  آپکے  اصحاب


 
ساجد علی جمالی
ایم فل تاریخ اہل بیت
جامعۃ المصطفی العالمیہ قم ایران
Sajidalijamali14@gmail.com
 
مقدمہ
حسن بن علی بن محمد (232۔260 ھ )، امام حسن عسکریؑ کے نام سے مشہور شیعوں کے گیارہویں امام ہیں۔ آپ امام علی نقیؑ کے فرزند اور امام مہدیؑ کے والد ہیں۔ آپ کا مشہور لقب عسکری ہے جو حکومت وقت کی طرف سے آپ کو شہر سامراء جو اس وقت فوجی چھاونی کی حیثیت رکھتا تھا، میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ آپ کے دوسرے القاب میں ابن‌ الرضا، ہادی، نقی، زکی، رفیق اور صامت مشہور ہیں۔
حکومت وقت کی کڑی نگرانی کی وجہ سے اپنے پیرکاروں سے رابطہ برقرار رکھنے کے لئے آپ نے مختلف شہروں میں نمائندے مقرر کئے اور وکالت سسٹم کے تحت اپنے نمایندوں سے رابطے میں رہے۔ عثمان بن سعید آپ کے خاص نمائندوں میں سے تھے جو آپؑ کی شہادت کے بعد غیبت صغریٰ کی ابتدا میں امام زمانہ(عج) کے پہلے نائب خاص بھی رہے ہیں۔
امام حسن عسکریؑ 8 ربیع الاول سنہ 260 ھ کو 28 سال کی عمر میں سامرا میں شہید ہوئے اور اپنے والد امام علی نقیؑ کے جوار میں دفن ہوئے۔ ان دونوں اماموں کا مدفن حرم عسکریین کے نام سے مشہور ہے اور عراق میں شیعہ زیارتگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ حرم دو مرتبہ دہشت گردوں کے ہاتھوں مسمار ہوا۔ پہلا حملہ 22 فروری 2006 ء کو جبکہ دوسرا حملہ اس کے 16 مہینے بعد یعنی 13 مئی 2007ء کو کیا گیا۔
نسب
امام حسن عسکریؑ کا نسب آٹھ واسطوں سے شیعوں کے پہلے امام علی بن ابی طالبؑ سے ملتا ہے۔ آپؑ کے والد گرامی شیعہ اثنا عشریہ کے دسویں امام امام علی النقیؑ ہیں۔ شیعہ مصادر کے مطابق آپ کی والدہ کنیز تھی جنکا نام حُدیث یا «حدیثہ» تھا[1]۔کچھ اور اقوال کے مطابق آپکی مادر گرامی کا نام "سوسن"[2]اور "عسفان"[3]یا "سلیل"[4]بتایا گیا ہے اور دوسری عبارت میں"کانت من العارفات الصالحات"( یعنی وہ عارفہ اور صالحہ خواتین میں سے تھیں") کے ساتھ آپ کا تعارف کروایا گیا[5]۔
آپ کا صرف ایک بھائی جعفر تھا جو امام حسن عسکری کے بعد امامت پر دعوا کرنے کی وجہ سے جعفر کذاب کے نام سے معروف ہوا اور امام حسن عسکری کی اور کوئی اولاد ہونے سے انکار کرتے ہوئے خود کو امامت کی میراث کا اکیلا دعویدار قرار دیا[6]۔سید محمد اور حسین آپ کے دوسرے بھائی تھے[7]۔
القاب
آپ کے القاب صامت، ہادی، رفیق، زکی، نقی لکھے گئے۔ کچھ مورخین ںے آپکا لقب خالص بھی کہا۔ ابن الرضا کے لقب سے امام محمد تقی، امام علی نقی اور امام حسن عسکریؑ مشہور ہوئے[8]۔ امام حسن عسکریؑ کے والد محترم امام علی نقی نے تقریباً 20 سال اور 9 مہینے سامراء میں زندگی بسر کی۔ اسی وجہ سے یہ دو امام عسکری کے نام سے مشہور ہوئے، عسکر سامراء کا ایک غیر مشہور عنوان تھا[9]۔جیسے امام حسن اور امام حسن عسکری کے مشترک نام ہونے کی وجہ سے امام حسن عسکری کو اخیر کہا جاتا ہے[10] ۔
احمد بن عبیداللہ بن خاقان نے امام عسکریؑ کی ظاہری صورت یوں بیان کی ہے: آپ کالی آنکھیں، بہترین قامت، خوبصورت چہرہ اور مناسب بدن کے مالک تھے۔
کنیت
آپؑ کی کنیت ابو محمد تھی۔ بعض کتابوں میں ابوالحسن[11]، ابو الحجہ[12]، ابوالقائم[13]مذکور ہیں۔
تولد:
معتبر منابع کے مطابق آپ مدینہ میں پیدا ہوئے[14]۔ بعض نے آپ کی جائے پیدائش سامرا ذکر کی ہے[15]۔کلینی اور اکثر متقدم امامی منابع آپ کی ولادت ربیع الثانی ۲۳۲ھ [16]شمار کرتے ہیں۔ بلکہ اسے امام نے خود ایک روایت میں بیان کیا ہے[17]۔ شیعہ و سنی بعض قدیمی مصادر میں حضرت کی ولادت 231ھ میں ہونے کا ذکر ہے[18]۔شیخ مفید نے اپنے بعض آثار میں گیارہویں امام کی ولادت کو 10 ربیع الاخر ذکر کی ہے[19]۔ چھٹی صدی میں یہ قول متروک ہو گیا اور اس کی جگہ 8 ربیع الاول معروف ہو گیا[20]اور امامیہ کے ہاں یہی مشہور قول بھی ہے۔ بعض اہل سنت اور شیعہ مآخذ حضرت کی پیدائش کا سال ۲۳۱ ھ نیز لکھتے ہیں[21]۔
ازواج:‌
مشہور قول کے مطابق امام عسکریؑ نے بالکل زوجہ اختیار نہیں کی اور آپکی نسل ایک کنیز کے ذریعے آگے بڑھی جو کہ حضرت مہدی(عج) کی مادر گرامی ہیں۔ لیکن شیخ صدوق اور شہید ثانی نے یوں نقل کیا ہے کہ امام زمان(عج) کی والدہ کنیز نہ تھیں بلکہ امام عسکریؑ کی زوجہ تھیں[22]۔
منابع میں امام مہدی(عج) کی والدہ کے مختلف اور متعدد نام ذکر ہوئے ہیں اور منابع میں آیا ہے کہ امام حسن عسکریؑ کے زیادہ تر خادم رومی، صقلائی اور ترک تھے[23]اور شاید امام زمانہ(عج) کی والدہ کے نام مختلف اور متعدد ہونے کی وجہ امام حسن عسکری کی کنیزوں کی تعداد کا زیادہ ہونا ہی ہو یا پھر امام مہدی(عج) کی ولادت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے آپ کی والدہ کے نام متعدد بتائے جاتے تھے۔
لیکن جو بھی حکمت تھی۔ آخری صدیوں میں امام زمانہ (عج) کی والدہ کے نام کے ساتھ نرجس کا عنوان شیعوں کے لئے باعث پہچان تھا۔ دوسری طرف جو سب سے مشہور نام منابع میں ملتا ہے وہ صیقل ہے[24]۔دوسرے جو نام ذکر ہوئے ہیں ان میں سوسن [25]، ریحانہ اور مریم[26]بھی ہیں۔
اولاد:‌
اکثر شیعہ اور سنی منابع کے مطابق، آپ کے اکلوتے فرزند امام زمانہ(عج) ہیں جو کہ محمد کے نام سے مشہور ہیں[27]۔
امام حسن عسکریؑ، حضرت امام زمانہ(عج) کے والد ہونے کے ناطے[28]، امام حسن عسکریؑ کی شخصیت کا یہ پہلو اہل تشیع کے نزدیک جانا پہچانا ہوا ہے۔ اور امامیہ (اہل تشیع) کے نزدیک مشہور ہے ہے کہ امام مہدی(عج) کی ولادت 15 شعبان سنہ 255 ھ کو ہوئی، لیکن تاریخ میں اور مختلف قول بھی موجود ہیں جن کے مطابق آپ کی ولادت سنہ 254 ھ یا سنہ 256 ھ میں ہوئی ہے[29]۔
آپ کی اولاد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، بعض نے تین بیٹے اور تین بیٹیوں کا کہا ہے۔ اسی قول سے ملتا جلتا قول اہل تشیع کے نزدیک بھی موجود ہے[30]؛ خصیبی نے امام مہدی(عج) کے علاوہ امام حسن عسکری ؑ کی دو بیٹیوں کے نام فاطمہ اور دلالہ ذکر کیے ہیں[31]۔ ابن ابی الثلج نے امام مہدی کے علاوہ ایک بیٹے کا نام موسی ، اسی طرح دو بیٹیوں کے نام فاطمہ اور عائشہ (یا ام موسی) بتائے ہیں[32]۔ لیکن انساب کی کتابوں میں مذکورہ نام، امام حسن عسکریؑ کے بہن بھائیوں کے طور پر ملتے ہیں[33] جو شاید ان مورخوں نے آپ کی اولاد کے عنوان سے ذکر کر دیے ہیں۔ اس کے برعکس، بعض اہل سنت کے علماء جیسے ابن جریر طبری، یحیٰ بن صاعد اور ابن حزم کا عقیدہ ہے کہ آپ کی کوئی اولاد تھی ہی نہیں[34]۔ لیکن مذکورہ بالا روایات کو دیکھا جائے تو یہ ایک بے بنیاد دعوے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
سامرا آمد:
بچپنے میں ہی امام حسن عسکری، اپنے والد گرامی امام ہادی کے ساتھ جبری طور پر عراق طلب کر لئے گئے اس زمانے میں عباسیوں کا دارالحکومت سامرا تھا یہاں آپ کو تحت نظر رکھا گیا ۔بعض کتابوں میں 236 ھ کو اور [35]بعض میں ۲۳۳ ھ کو اس سفر کا سال قرار دیا ہے[36]۔ مذکور ہے۔ امام حسن عسکری نے اپنی اکثر عمر سامرا میں گزاری اور مشہور ہے کہ صرف آپ ہی وہ امام ہیں جو حج پہ نہیں گئے، لیکن عیون اخبار الرضا اور کشف الغمہ میں راوی نے آپ سے ایک حدیث نقل کی ہے اور وہ انہوں نے مکہ میں امام سے سنی ہے[37]، مکہ کے اس سفر کے علاوہ جرجان کی طرف ایک سفر کا بھی ذکر ہوا ہے[38]۔
آپ کے دورۂ امامت میں معتز عباسی (۲۵۲-۲۵۵ ھ)، مہتدی (۲۵۵-۲۵۶ ھ) و معتمد (۲۵۶-۲۷۹ ھ)۔[39] عباسی خلیفہ رہے۔
امامت کی مدت اور دلائل
جس طرح کے شیخ مفید لکھتے ہیں کہ حسن بن علی (امام عسکری) اپنے والد (امام ہادی) کی شہادت کے سال ۲۵۴ قمری کے بعد، اپنے معاصرین میں سے فضیلت اور برتری رکھنے کی وجہ اور امام ہادیؑ کی روایات کے مطابق آپؑ اہل تشیع کے گیارہویں امام ہیں[40]۔ علی بن عمر نوفلی، امام ہادیؑ سے ایک روایت نقل کرتا ہے: „امام ہادیؑ کے ساتھ آپ کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا کہ آپ کا بیٹا محمد-ابو جعفر- کا گزر ہوا، میں نے عرض کی: میں آپ پر قربان جاؤں! آپ کے بعد ہمارا امام یہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: میرے بعد امام حسن ہو گا۔
بہت کم تعداد میں محمد بن علی کی امامت (جو کہ امام ہادیؑ کی زندگی میں ہی دنیا سے چلے گئے) اور جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاتی ہے جعفربن علی کو اپنا امام سمجھتے تھے، امام ہادیؑ کے اکثر دوستان اور یاران نے امام حسن عسکریؑ کی امامت کو قبول کیا مسعودی، شیعہ اثنا عشری کو امام حسن عسکریؑ اور آپ کے فرزند کے پیروکاروں میں سے مانتا ہے کہ یہ فرقہ تاریخ میں قطیعہ کے نام سے مشہور ہوا ہے[41]۔
امام عسکریؑ ۲۵۴ تا ۲۶۰ تک ۶ سال کی مدت امامت کے فرائض انجام دیتے رہے پھر انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے امام زمانؑ امامت پر فائز ہوئے ۔
سیاسی حالات
امام حسن عسکریؑ کی امامت عباسی تین خلفاء کی خلافت کے دور میں تھی: معتز عباسی(252-255ھ)، مہتدی (255-256ھ) اور معتمد (256-279ھ)۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں عباسی حکومت امیروں کیلئے ایک بازیچہ بن چکی تھی خاص طور پر ترک نظامی سپہ سالاروں کا حکومتی سسٹم میں مؤثر کردار تھا ۔امام کی زندگی کی پہلی سیاسی سرگرمی اس وقت تاریخ میں ثبت ہوئی جب آپ کا سن 20 سال تھا اور آپ کے والد گرامی زندہ تھے ۔آپ نے اس وقت عبدالله بن عبدالله بن طاہر کو خط لکھا جس میں خلیفۂ وقت مستعین کو باغی اور طغیان گر کہا اور خدا سے اس کے سقوط کی تمنا کا اظہار کیا۔یہ واقعہ مستعین کی حکومت کے سقوط سے چند روز پہلے کا ہے ۔ عبد اللہ بن عبد اللہ عباسی حکومت میں صاحب نفوذ اور خلیفۂ وقت کے دشمنوں میں سے سمجھا جاتا تھا[42]۔
مستعین کے قتل کے بعد اس کا دشمن معتز تخت نشین ہوا ۔حضرت امام حسن عسکری کے مقتول خلیفہ کی نسبت احتمالی اطلاعات کی بنا پر معتز نے شروع میں آپ کی اور آپ کے والد کی نسبت ظاہری طور پر کسی قسم کے خصومت آمیز رویہ کا اظہار نہیں کیا ۔حضرت امام علی نقی کی شہادت کے بعد شواہد اس بات کے بیان گر ہیں کہ امام حسن عسکری کی فعالیتیں محدود ہونے کے باوجود کسی حد تک آپ کو آزادی حاصل تھی ۔آپ کی امامت کے ابتدائی دور میں آپ کی اپنے شیعوں سے بعض ملاقاتیں اس بات کی تائید کرتی ہیں لیکن ایک سال گزرنے کے بعد خلیفہ امام کی نسبت بد گمان ہو گیا اور اس نے 255ق میں امام کو زندان میں قید کر دیا لہذا امام آزار و اذیت میں گرفتار ہو گئے ۔نیز امام حسن عسکری اس کے بعد کے خلیفہ مہتدی ک دور میں بھی زندان میں ہی رہے ۔256ق میں معتمد کی خلافت کے آغاز میں اسے شیعوں کے مسلسل قیاموں کا سامنا کرنا پڑا اور امام زندان سے آزاد ہوئے ۔ایک دفعہ پھر امام کو موقع ملا کہ وہ اپنے شیعوں کو مرتب و منظم کرنے کیلئے معاشرتی اور مالی پروگراموں کا اہتمام کر سکیں۔امام کی یہی فعالیتیں وہ بھی عباسی دار الحکومت میں ایک دفعہ پھر ان کیلئے پریشانی کا موجب بن گئیں۔ پس 260 ق میں معتمد کے دستور پر امام حسن عسکری کو دوبارہ زندانی کیا گیا اور خلیفہ روزانہ امام سے مربوط اخبار کی چھان بین کرتا [43]۔ ایک مہینے کے بعد امام زندان سے آزاد ہوئے لیکن مامون کے وزیر حسن بن سہل کے گھر میں نظر بند کر دئے گئے جو واسط نامی شہر کے قریب تھا [44]۔
قیام اور شورشیں
امام حسن عسکریؑ کے زمانے میں شیعوں کی جانب سے عباسیوں کے خلاف تحریکیں اٹھیں اور کچھ سوئے استفادہ کی بنیاد پر علویوں کے نام سے شورشیں برپا ہوئیں۔
علی بن زید اور عیسی بن جعفر کا قیام
یہ دونوں علوی امام حسن مجتبیؑ کے ممتاز صحابہ میں سے تھے ۔انہوں نے سال ۲۵۵ ہجری کو کوفہ میں قیام کیا۔ معتز عباسی نے سعید بن صالح کی سرکردگی میں فوج بھیج کر اس قیام کو شکست دی [45]۔
علی بن زید بن حسین
یہ امام حسینؑ کی اولاد میں سے تھا ۔انہوں نے مهتدی عباسی کے زمانے میں کوفہ میں قیام کیا۔ شاه بن میکال ایک بڑی فوج کے ساتھ اس کے مقابلے میں آیا لیکن شکست سے دو چار ہوا ۔ معتمد عباسی جب تخت نشین ہوا تو اس نے کیجور ترکی کو اس کے مقابلے کیلئے بھیجا ۔ علی بن زید نے پسپائی اختیار کی اور فرار ہو گیا بالآخر سنہ257 ہجری میں قتل ہوا [46]
احمد بن محمد بن عبدالله
اس نے معتمد عباسی کے زمانے میں مصر کے برقہ اور اسکندریہ کے درمیان قیام کیا۔ بہت بڑی تعداد اپنے پیروکاروں کی پیدا کر لی اور خلافت کا ادعا کیا ۔ترک خلیفہ نے کارگزار احمد بن طولون کو اسکے مقابلے کیلئے بھیجا تا کہ اس کے اطرافیوں کو اس سے جدا اور منتشر کرے۔احمد بن محمد بن عبد اللہ نے مقاومت کی اور انہوں نے اسے قتل کر دیا [47]۔
صاحب زنج کی شورش
علی بن محمد عبدالقیسی نے سال ۲۵۵ق میں معتمد عباسی کے دور میں قیام کیا۔ اس نے اپنے آپ کو علویوں سے منسوب کیا جبکہ وہ نسب کے لحاظ سے علوی نہیں تھا کیونکہ اکثر نسب شناسانعبداقیس کی شاخ میں قرار دیتے ہیں[48]۔ نیز وہ کردار کے لحاظ سے بھی علویوں کے نزدیک نہیں تھا  [49]وہ عقیدے کے لحاظ سے خوارج کا ہم عقیدہ تھا[50]۔امام حسن عسکری نے واضح طور پر اعلان کیا تھا صاحب زنج اہل بیت سے نہیں ہے  [51]۔اس نے غلاموں کی آزادی کے نعرے کے ساتھ بصره کے مدینۃ الفتح اور کرخ کے درمیان بئر نخل نامی محلے سے قیام کا آغاز کیا ۔طولانی مدت تک اس نے عباسیوں کے سامنے مقاومت کی جو 15 سال تک جاری رہی ۔نہایت کار سال ۲۷۰ھ میں قتل ہو گیا[52]۔
شیعوں سے رابطہ
امام حسن عسکری کے دور میں معاشرے میں اکثریتی مذہب اہل سنت تھا اور اسی طرح عباسیوں کی جانب سے شیعہ سخت حالات میں ہونے کی وجہ سے تقیہ کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ان حالات میں امام حسن عسکری نے شیعوں کے امور چلانے کیلئے اور وجوہات شرعی کی جمع آوری کیلئے مختلف علاقوں میں اپنے وکیلوں کو روانہ کرتے تھے[53]۔
امام سے ملاقات
جاسوسی کے پیش نظر شیعوں کیلئے ہر وقت امام سے ملاقات کرنا نہایت مشکل تھا یہاں تک کہ خلیفۂ عباسی کئی مرتبہ بصرہ گیا تو جاتے ہوئے امام کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتا تھا ۔اس دوران امام کے اصحاب آپ کی زیارت کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھتے تھے [54]۔اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیعوں کیلئے مستقیم طور پر امام سے ملنا کس قدر دشوار تھا۔ اسماعیل بن محمد کہتا ہے: جہاں سے آپ کا گزر ہوتا تھا میں وہاں کچھ رقم مانگنے کے لئے بیٹھا اور جب امامؑ کا گزر وہاں سے ہوا تو میں نے کچھ مالی مدد آپ سے مانگی[55]۔ ایک اور راوی نقل کرتا ہے کہ ایک دن جب امامؑ کو دار الخلافہ جانا تھا ہم عسکر کے مقام پر آپ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے، اس حالت میں آپ کی جانب رقعہ توقیعی (یعنی کچھ لکھا ہوا) ہم تک پہنچا جو کہ اسطرح تھا: کوئی مجھ کو سلام اور حتیٰ میری جانب اشارہ بھی نہ کرے، چونکہ مجھے امان نہیں ہے[56]۔اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ کس حد تک امام اور شیعوں کے درمیان روابط کو زیر نظر رکھتا تھا۔ البتہ امام اور آپ کے شیعہ مختلف جگہوں پر آپس میں ملاقات کرتے تھے اور ملاقات کے مخفیانہ طریقے بھی تھے جو چیز آپ اور شیعوں کے درمیان رابطہ رکھنے میں زیادہ استعمال ہوئی وہ خطوط تھے اور بہت سے منابع میں بھی یہی لکھا گیا ہے[57]۔
امام کے نمائندے
حاکم کی طرف سے شدید محدودیت کی وجہ سے امامؑ نے اپنے شیعوں سے رابطہ رکھنے کے لئے کچھ نمائندوں کا انتخاب کیا ان افراد میں ایک آپ کا خاص خادم عقید تھا جس کو بچپن سے ہی آپ نے پالا تھا، اور آپ کے بہت سے خطوط کو آپ کے شیعوں تک پہنچاتا تھا[58]۔ اسی طرح آپکے خادم جس کی کنیت ابو الادیان تھی اس کے ذمےبعض خطوط پہنچانا تھا[59]۔ لیکن جو امامیہ منابع میں باب کے عنوان سے (امام کا رابط اور نمائندہ) پہنچانا جاتا تھا وہ عثمان بن سعید ہے اور یہی عثمان بن سعید امام حسن عسکریؑ کی وفات کے بعد اور غیبت صغریٰ کے شروع کے دور میں پہلے باب کے عنوان سے یا دوسرے لفظوں میں سفیر، وکیل اور امام زمان(عج) کے خاص نائب میں سے تھا[60]۔
مراسلہ نگاری
امام کا اپنے شیعوں سے رابطہ خطوط کے ذریعے بھی تھا ۔نمونے کے طور پر علی بن حسین بن بابویہ [61] اور قم کے لوگوں کے خط کو ذکر کیا سکتا ہے [62] شیعہ اپنے مسائل اور مختلف موضوعات کے متعلق سوالات خط کی صورت میں لکھتے اور امام انہیں تحریری صورت میں جواب دیتے تھے ۔
معارف دینی کی وضاحت
آخری آئمہ کے زمانے میں امامت سے مربوط ابہامات اور پیچیدگوں کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسن عسکری ؑکے اقوال اور خطوط میں اس کے متعلق ارشادات کا مشاہدہ کرتے ہیں جیسے زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی [63]۔اگر امامت کا سلسلہ منقطع ہوجائے اور اس کا تسلسل ٹوٹ جائے تو خدا کے امور میں خلل واقع ہو جائے گا [64]۔ زمین پر خدا کی حجت ایسی نعمت ہے جو خدا نے مؤمنوں کو عطا کی ہے اور اس کے ذریعے ان کی ہدایت کرتا ہے [65]۔
اس زمانے کی ایک اور دینی تعلیم کہ جس کی وجہ سے شیعہ تحت فشار رہے وہ مومنین کو آپس میں صبر کی تلقین انتظار فرج کا پیغام ہے جو امام کے ارشادات میں زیادہ بیان ہوا ہے [66]۔اسی طرح آپ کی احادیث میں شیعوں کے درمیان باہمی منظم ارتباط اور باہمی بھائی چارے کی فضا کے قیام کے بارے میں بیشتر تاکید ملاحظہ کی جا سکتی ہے[67]۔
تفسیر قرآن
امام حسن عسکری ؑ کے مورد توجہ قرار پانے والی چیزوں میں سے ایک تفسیر قرآن کا عنوان ہے ۔تفسیر قرآن کا ایک مکمل اور تفصیلی متن امام حسن عسکری(تفسیر امام حسن عسکری) سے منسوب ہے کہ جو امامیہ کے قدیمی آثار میں شمار ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ امام کی طرف اس کتاب کی نسبت درست نہ ہونے کی صورت میں بھی اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہئے کہ تفسیری ابحاث کی نسبت امام حسن عسکریؑ کی شہرت نے اس کتاب کے امام کی طرف منسوب ہونے کے مقدمات فراہم کئے ہیں ۔
کلام اور عقائد
ایسے حالات میں امامیہ کی رہبری اور امامت حضرت امام حسن عسکری ؑ کے ہاتھ آئی جب امامیہ کی صفوں میں بعض ایسی اعتقادی مشکلات موجود تھیں جن میں سے کچھ تو چند دہائیاں پہلے اور کچھ آپ کے زمانے میں پیدا ہوئیں۔ان اعتقادی مسائل میں سے خدا کی جسمیت کی نفی ایک مسئلہ تھا کہ جو کافی سال پہلے پیدا ہوا تھا اور ممتاز ترین اصحاب ہشام بن حکم اور ہشام بن سالم کے درمیان اس کی وجہ سے اختلافات پائے جاتے تھے ۔امام حسن عسکری کے زمانے میں اس مسئلے نے اتنی شدت اختیار کی کہ سہل بن زیاد آدمی نے امام کو خط لکھ کر آپ سے راہنمائی حاصل کرنے کی درخواست کی۔
امام نے اسے جواب دیتے ہوئے ابتدائی طور پر اللہ کی ذات کے متعلق بحث کرنے سے پرہیز کرنے کا کہا پھر قرآنی آیات سے اس مسئلہ کی جانب ہوں اشارہ فرمایا کہ قرآن میں اس طرح آیا ہے :
 
اللہ واحد و یکتا ہے، وہ نہ تو کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس سے پیدا ہوا ہے۔ اسکا کوئی نظیر و ہمتا نہیں ہے ۔وہ پیدا کرنے والا ہے پیدا ہونے والا نہیں ہے ۔ جسم اور غیر جسم سے جسے چاہے خلق کرسکتا ہے ۔وہ خود جسم و جسمانیت سے مبرا ہے۔۔۔۔کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ہے وہ بصیر اور سمیع ہے ۔[68]
فقہ
علم حدیث میں آپ کو فقیہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے [69]۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے اصحاب کے درمیان اس لقب سے خصوصی طور پر پہچانے جاتے تھے ۔اسی بنیاد پر فقہ کے بعض ابواب میں آپ سے احادیث منقول ہیں۔ البتہ امامیہ مذہب کی فقہ کا بیشترین حصہ حضرت امام جعفر صادق ؑ سے ترتیب شدہ ہے اور اس کے بعد فقہ نے اپنے تکمیلی مراحل طے کئے ہیں لہذا امام حسن عسکری کی زیادہ تر احادیث ان فروعی مسائل کے بارے میں ہیں جو اس دور میں نئے پیدا ہوئے تھے یا ان مسائل کے بارے میں ہیں جو انکے زمانے میں چیلنج کے طور پر پیش ہوئے ۔مثال کے طور پر رمضان کے آغاز کا مسئلہ اور خمس کی بحث  [70]۔
شہادت:
مشہور قول کے مطابق امام عسکریؑ ربیع الاول سنہ۲۶۰ ھ کے شروع میں معتمد عباسی کے ہاتھوں 28 سال کی عمر میں مسموم ہوئے اور اسی مہینے کی 8 تاریخ کو 28 سال کی عمر میں سرّ من رأی (سامرا) میں جام شہادت نوش کرگئے[71]۔ البتہ ربیع الثانی اور جمادی الاولی میں شہید ہونے کے بارے میں بھی بعض روایات ملتی ہیں[72]۔ طبرسی نے اعلام الوری میں لکھا ہے کہ اکثر امامیہ علما نے کہا ہے کہ امام عسکری زہر سے مسموم ہوئے اور اس کی دلیل امام صادقؑ کی ایک روایت ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں «و الله ما منّا الا مقتول شہيد»[73].بعض تاریخی گزارشات کے مطابق یہ سمجھ میں آتا ہے کہ معتمد سے پہلے کے دو خلیفے بھی امام عسکریؑ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ ایک روایت میں مذکور ہے کہ معتز عباسی نے حاجب کو حکم دیا کہ وہ امامؑ کو کوفہ کے راستے میں قتل کرے لیکن لوگوں کو جب پتہ چلا تو یہ سازش ناکام ہوئی  [74]۔ ایک اور گزارش کے مطابق مہتدی عباسی نے بھی امام کو زندان میں شہید کرنے کا سوچا لیکن انجام دینے سے پہلے اس کی حکومت ختم ہوئی[75]۔ امام عسکریؑ سامرا میں جس گھر میں اپنے والد ماجد امام علی نقی علیہ السلام دفن ہوئے تھے ان کے پہلو میں دفن ہوئے [76]۔
حرم
امام عسکری کی شہادت کے بعد آپؑ کو آپ کے والد گرامی امام علی النقیؑ کے جوار میں دفن کیا گیا[77]۔ بعد میں اس جگہ ایک بارگاہ بنی جو حرم امامین عسکریین سے مشہور ہے۔ امامین عسکرینؑ کا حرم دو بار وہابی دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بن چکا ہے۔ پہلا حملہ 22 فروری 2006ء کو[78] دوسرا حملہ سولہ ماہ بعد یعنی 13 جون 2007ء کو ہوا [79]۔ تخریب حرم عسکریین اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ 2008ء کو حرم کی تعمیر نو شروع ہوگئی۔اور 2015ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔
امام کے اصحاب
(۱)         ابراہیم بن مَہزیار اہوازی
 تیسری صدی ہجری کے شیعہ محدث، امام محمد تقی علیہ السلام کے صحابی اور امام علی نقی علیہ السلام و امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایات نقل کرنے والے روات میں سے ہیں۔ ابراہیم خوزستان (ایران) کے علاقہ دورق کے رہنے والے تھے۔[80] نجاشی کے بقول ان کے والد عیسائی تھے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔[81] ان کی ولادت اور وفات کے سلسلہ میں معلومات دسترس میں نہیں ہیں۔ اس کے باوجود بعض محققین نے بعض دلائل و قرائن سے استناد کرتے ہوئے ان کے زندگی کا زمانہ 195 سے 265 ھ کے درمیان گمان کیا ہے۔[82]ان دلائل میں سے بعض یہ ہیں کہ وہ امام محمد تقی ؑ (شہادت 220 ھ)[83] کے صحابی تھے امام حسن عسکری ؑ کی شہادت (260 ھ) کے بعد بھی زندہ تھے[84] اور بعض روایت میں انہیں امام زمانہ ؑ کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔[85]
ان کے تین بیٹے حسین، علی و محمد تھے۔ محمد امام حسن عسکری ؑ کے اصحاب میں سے تھے[86] اور ایک روایت کے مطابق امام زمانہ ؑ کی خدمت میں شرفیاب ہو چکے ہیں[87]۔ محقق معاصر علی اکبر غفاری کے مطابق ان کا نام کتب رجال میں ذکر نہیں ہوا ہے[88]۔ بعض شیعہ منابع رجالی و روایی میں ان کی کنیت ابو اسحاق نقل ہوئی ہے[89]۔شیعہ منابع روایی میں ابراہیم بن مہزیار سے احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آیت اللہ خوئی کے مطابق، 50 سے زیادہ روایات کی سند میں ان کا نام ذکر ہوا ہے۔ شیعہ ماہرین رجال کے درمیان ان کی روایات کے معتبر ہونے کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ ان کی وثاقت کے اثبات کے لئے کتاب کامل الزیارات کی بعض روایات کی سند میں ان کا نام ذکر ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ بعض علمائے رجال نے کامل الزیارات میں کسی راوی کے نام کے ذکر ہونے کو ایک عمومی وثاقت کے دلائل میں سے قرار دیا گیا ہے۔
(۲) عُثمان بن سعید عَمْری (متوفی 265 ھ سے قبل)
اَبو عَمرو کے نام سے مشہور، امام زمانہؑ کی غیبت صغری کے زمانے میں نواب اربعہ میں سے پہلے نائب خاص ہیں۔ آپ کو امام علی نقیؑ، امام عسکریؑ اور امام مہدیؑ کے اصحاب میں سے شمار کیا گیا ہے لیکن کیا آپ کا شمار امام محمد تقی کے اصحاب میں بھی ہوتا ہے یا نہیں، اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سنہ 260 ھ میں امام مہدیؑ کی امامت کے آغاز سے لے کر تقریبا 6 یا 7 سال تک آپ امام زمانہؑ کے نائب خاص رہے۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن عثمان عمری اس عہدہ پر فائز ہوئے۔ نیابت کے دوران آپ بغداد چلے گئے اور نیابت کا پورا عرصہ وہیں پر ہی مقیم رہے۔ بغداد سمیت عراق کے مختلف شہروں میں انہوں نے اپنے وکلاء مقرر کر رکھے تھے جو شرعی وجوہات کو لوگوں سے جمع کرکے ان تک پہنچاتے تھے۔ امام مہدی ؑ نے ان کی وفات پر ان کے بیٹے محمد بن عثمان کو تسلیتی خط تحریر فرمایا۔ مختلف متون روایی میں عثمان بن سعید کو متعدد القابات جیسے زَیّات و عَمْری سے یاد کیا گیا ہے۔ عثمان بن سعید کی تاریخ ولادت سے متعلق کوئی دقیق معلومات نہیں ہیں۔ لیکن کہا گیا ہے کہ آپ گیارہ سال کی عمر سے ہی امام محمد تقیؑ کے خادم کے طور پر امام کے گھر میں کام کرتے تھے اور بعد میں امام نے انہیں اپنا نمائندہ بنایا یوں آپ امام کے با اعتماد اصحاب میں سے تھے۔[90]
آپ امام علی نقی ؑ، امام حسن عسکری ؑ اور امام زمانہ ؑ‌ کے بھی وکیل رہے ہیں اسی بنا پر ہمیشہ ان حضرات معصومین کے بھی مورد اعتماد ٹھہرے ہیں۔ عثمان بن سعید شروع میں سامرا میں رہتے تھے اور امام حسن عسکری ؑ کی شہادت کے بعد وہ بغداد چلے گئے۔ اس وقت سامرا عباسیوں کا دار الخلافہ اور فوجی چھاونی تھا جو اپنی حکومت کے آغاز سے ہی آئمہ معصومین کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ روا نہیں رکھتے تھے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ احتمال زیادہ قوی ہے کہ عثمان بن سعید نے اسی وجہ سے سامراء سے بغداد کی طرف ہجرت کی اور وہاں پر کرخ نامی جگہ کو جو ایک شیعہ نشین علاقہ تھا، سکونت کیلئے انتخاب کرکے اسے شیعوں کی رہبری کیلئے مرکز قرار دے دیا۔[91]
(۳) محمد بن حسن صفار قمی
امامیہ مکتب کے محدث، فقیہ اور امام حسن عسکریؑ کے اصحاب میں سے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ صفار متعدد رسالوں کے مصنف تھے لیکن وہ مستقل شکل میں ہم تک نہیں پہنچے ہیں۔ شیعہ ائمہ کے فضائل، خصوصیات اور دلائل پر مشتمل احادیث کا مجموعہ بنام بصائرالدرجات ان سے منسوب ہے۔
محمد بن حسن صفار قمی اعرج کے نام سے معروف عیسی بن موسی بن طلحہ اشعری کے ایرانی غلاموں میں سے تھے۔[92] اسی مناسبت سے اشعری سے منسوب ہیں۔ تاریخ ولادت معلوم نہیں ہے۔ وفات کا سال ۲۹۰ قمری قم مذکور ہے[93] جو غیبت صغری سے متصل تھا۔[94]
شیخ طوسی کے مطابق وہ امام حسن عسکریؑ کے صحابی تھے۔ انکی صحابیت عمدہ ترین شاہد سوالات کا مجموعہ ہے جن کے متعلق انہوں نے امام حسن عسکریؑ سے استفسار کیا تھا۔[95]ممکن ہے یہ خط و کتابت ائمہ کی طرف سے وکالتی نظام کے تحت انکے وکیل اور نمائندہ ہونے کی بیان گر ہو۔
حدیثی منابع میں انہیں ممولہ کے لقب سے بھی تعبیر کیا گیا ہے جبکہ منابع میں کبھی حمولہ بھی آیا ہے۔ بعض منابع میں امام حسن عسکریؑ سے پوچھے گئے سوالات کے مجموعے کو بھی ممولہ کہا گیا ہے۔[96]
(۴) ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری، (متوفی 305 ھ)
امام زمانہ (عج) کے نواب اربعہ میں سے دوسرے نائب خاص ہیں۔ انھوں نے ابتداء میں امام زمانہ (ع) کے وکیل اور اپنے والد عثمان بن سعید عمری کے معاون اور بعد میں اپنے والد کی موت کے بعد آپ (ع) کے دوسرے نائب خاص کے عنوان سے چالیس سال تک خدمات انجام دیں۔ محمد بن عثمان کی نیابت کے حوالے سے امام حسن عسکری (ع) کی روایت اور امام زمانہ (ع) کی توقیع مبارک میں تصریح ہونے کے باوجود امام زمانہ (ع) کی غیبت کے دوران آپ کی عمومی نیابت کے فرائض انجام دینے والے نائبین میں سے بعض نے ان کی نیابت خاص کے بارے میں شک و تردیک کا اظہار کیا ہے اور بعض نے ان کے مقابلے میں امام کی جانب سے نیابت کا دعوی بھی کیا۔ اپنے والد کی طرح محمد بن عثمان نے بھی بعض معاونین کا انتخاب کیا جو ان وکالتی اور نیابتی امور کی انجام دہی میں ان کی مدد کرتے تھے۔ محمد بن عثمان اپنے زمانے کے فقہاء میں سے تھے اور علم فقہ میں وہ صاحب تالیف بھی تھے اسی طرح امام مہدی (ع) کے بارے میں ان سے بعض روایات بھی نقل ہوئی ہیں۔ بعض مشہور دعائیں جیسے دعائے سمات، دعائے افتتاح و زیارت آل‌ یاسین وغیرہ نیز ان کے ذریعہ سے نقل ہوئی ہیں۔
محمد بن عثمان عمری کی تاریخ پیدائش کے بارے میں دقیق معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ دینی منابع میں ان کا نام محمد بن عثمان بن سعید (امام مہدی (ع) کے پہلے نائب خاص کے عنوان سے) اور ان کی کنیت ابو جعفر ذکر ہوئی ہے۔ آپ کا تعلق بنی اسد کے قبیلہ سے تھا۔[97]ان کے بارے میں حدیثی اور رجالی منابع میں اس کے علاوہ کوئی اور کنیت ذکر نہیں ہوئی ہے۔[98] البتہ ان کے کئی القاب مختلف منابع میں ذکر ہوئے ہیں: کبھی ان کو عَمْری[99]کہا گیا ہے۔ اکثر رجالی اور حدیثی کتابوں میں انہیں اسی نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کو اسدی[100] اور کہیں کوفی[101] کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ سمان[102] اور عسکری[103] بھی ان کے القاب میں سے ہیں۔
(۵) ابو القاسم حسین بن روح نوبختی (متوفی 326ھ)
امام زمانہ(عج) کے تیسرے نائب خاص، امام حسن عسکریؑ کے اصحاب اور بغداد میں محمد بن عثمان (دوسرے نائب خاص) کے قریبی معتمدین میں سے تھے۔ محمد بن عثمان نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں امام زمانہؑ کے حکم سے حسین بن روح کو اپنا جانشین مقرر کیا۔نیابت کے ابتدائی دور میں حسین بن روح بنی عباس کے حکام کے یہاں ممتاز مقام و منصب کے حامل تھے۔ لیکن بعد میں ان کے تعلقات خراب ہو گئے یوں آپ کو کچھ مدت کیلئے مخفیانہ زندگی گزارنا پڑا اور آخر کار پانچ سال کیلئے زندان بھی جانا پڑا۔
حسین بن روح کے دوران نیابت کے اہم ترین واقعات میں سے ایک شلمغانی کا واقعہ ہے جو ان کا مورد اعتماد وکیل تھا لیکن گمراہی کا شکار ہوا۔ اس بنا پر امام زمانہؑ کی طرف سے ان کی مذمت میں توقیعات بھی صادر ہوئیں۔بعض فقہی کتابوں کی تصنیف اور علمی مناظرات میں مختلف موضوعات پر عبور اور تسلط رکھنے کی بنا پر آپ کو علمی حلقوں میں ممتاز حیثیت حاصل تھی یہاں تک کہ بعض احادیث کی کتابوں میں کرامات بھی ان سے منسوب کی گئی ہیں۔
آپ کی تاریخ پیدایش کے حوالے سے کوئی دقیق معلومات دستیاب نہیں ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم جبکہ نوبختی، روحی[104] اور قمی[105] کے القاب سے ملقب ہیں۔ ایران کے شہر آبہ (ساوہ کے نزدیک) کی زبان بولنے اور وہاں کے باسیوں سے رفت و آمد کی وجہ سے آپ کو قمی کہا جاتا تھا[106]۔ لیکن اکثر منابع میں آپ نوبختی کے نام سے مشہور ہیں۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ماں کی طرف سے خاندان نوبختی سے تعلق رکھتا تھا اسلئے اس نام سے مشہور ہوئے ہیں[107]۔ بعض مورخین کے مطابق آپ کا تعلق قم کے ایک قبیلہ بنی نوبخت سے تھا اور امام زمانہ کے پہلے نائب عثمان بن سعید کی نیابت کے دوران بغداد چلے گئے تھے[108]۔
(۶)  علی بن محمد سَمُرِیّ (متوفی 329 ھ)
غیبت صغری کے زمانے میں امام زمانہ (عج) کے چوتھے اور آخری نائب خاص ہیں جو حسین بن روح نوبختی کے بعد تین سال کیلئے عہدہ نیابت پر فائز رہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ ان کے مکاتبات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنجناب (ع) کے اصحاب میں سے تھے۔ ان کی مدت نیابت باقی نائبین خاص کی نسبت مختصر رہی ہے لیکن تاریخی منابع میں اس کی کوئی خاص علت بھی ذکر نہیں ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت وقت کی جانب سے شدید دباؤ اور اس دور کے سیاسی و سماجی حالات کی وجہ علی بن محمد سمری کی نیابت کے دوران ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھی دوسروں کی نسبت واضح کمی آگئی تھی۔ امام زمانہ (ع) کی طرف سے آپ کے نام صادر ہونے والی توقیع جس میں امام (ع) نے آپ کی موت اور نیابت خاصہ کی مدت کے اختتام کی خبر دی تھی جو ان کی زندگی میں واقع ہونے والے اہم واقعات میں سے ہیں۔ ان کی وفات سے امام زمانہ (ع) کے ساتھ براہ راست رابطہ منقطع ہوا یوں غیبت کبری کا دور شروع ہو گیا۔
علی بن محمد سمری کی تاریخ ولادت کسی منابع میں ذکر نہیں ہوئی ہے۔ ان کی کنیت ابوالحسن[109] اور ان کا لقب سَمَری، سَیمُری، سَیمَری و یا صیمَری بتا یا جاتا ہے لیکن وہ سَمَری کے نام سے مشہور تھے۔ سَمَّر یا سُمَّر یا صیمر بصرہ کے کسی گاؤں کا نام ہے جہاں ان کے اقارب زندگی بسر کرتے تھے[110]۔
علی بن محمد سمري ایک دیندار شیعہ خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کا خاندان ائمہ معصومین کی خدمت گزاری کے حوالے سے مشہور تھے اور ان کی اسی خاندانی شرافت کی وجہ سے امام زمانہ کے نائب خاص کے عہدے پر فائز ہونے میں انہیں زیادہ مخالفتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا[111]۔
یعقوبی کے مطابق ان کے خاندان کے بہت سارے اکابرین بصرہ میں وسیع املاک و جائداد کے مالک تھے جنھوں نے ان املاک کی نصف آمدنی گیارہویں امام(ع) کے لئے وقف کی تھی۔ امام(ع) ہر سال مذکورہ آمدنی وصول کرتے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کرتے تھے[112]۔
علی بن محمد سمری کے بعض دیگر اقارب میں سے علی بن محمد بن زیاد ہیں جو امام حسن عسکری(ع) کے وکلاء میں سے تھے جنہوں نے امام زمانہ (عج) کی امامت کے اثبات کی غرض سے الاوصیاء کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے[113]۔
شیخ طوسی نے انہیں علی بن محمد صیمری کے عنوان سے امام حسن عسکری کے اصحاب کے زمرے میں شمار کیا ہے[114]۔ اور ان کے حضرت امام حسن عسکری(ع) کے ساتھ مکاتبات بھی نقل ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے وہ خود کہتے ہیں: امام حسن عسکری (ع) نے مجھے لکھا کہ "تمہیں گمراہ کرنے والا ایک فتنہ پیش آنے والا ہے۔ پس اس سے ہوشیار رہو اور اس سے پرہیز کرو" اس کے تین دن بعد بنی ہاشم کیلئے ایک ناگوار حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے بنی ہاشم کیلئے بہت ساری دشواریاں پیش آئیں۔ اس وقت میں نے امام کو ایک خط لکھا اور سوال کیا کہ آیا وہ فتنہ جس کے بارے میں آپ نے پیشن گوئی کی تھی یہی ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا نہیں وہ اس کے علاوہ ہے لہذا اپنی حفاظت کریں۔ اس کے کچھ دن بعد عباسی خلیفہ معتز بالله کے قتل کا واقعہ پیش آیا[115]۔
(۷)  محمد بن حسین بن ابی الخطاب زید زَیّات ہمدانی کوفی (متوفی 262 ھ)
ابن ابی الخطاب کے نام سے معروف ہیں۔ ان کا شمار شیعہ محدثین اور تین اماموں امام محمد تقی علیہ السلام، امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب میں ہوتا ہے۔کلینی (متوفی 328 یا 329 ھ) نے اصول کافی میں مختلف مقامات پر محمد بن الحسین اور ابن قولویہ نے [116] محمد بن الحسین بن ابی الخطاب کے نام سے ان کا ذکر کیا ہے۔
نجاشی نے ان کا نام، کنیت اور ان کے والد کا نام یوں ذکر کیا ہے: محمد بن الحسین بن ابی الخطاب ابو جعفر الزَّیات الہمدانی[117]
علامہ حلّی نے بھی اسی صورت میں ذکر کیا ہے البتہ ظاہر ہوتا ہے کہ الحسین کے بجائے ابی الحسین ذکر کیا ہے[118]۔
تین اماموں کی مصاحبت
مامقانی نے انہیں امام محمد تقی (ع)، امام علی نقی (ع) اور امام حسن عسکری (ع) کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ ان سے منقول روایات کا سلسلہ کبھی تین اور چھ واسطوں کے ذریعے ائمہ سے متصل ہو کر امیرالمومنین علی (ع) پر منتہی ہوتا ہے[119]۔
نجاشی نے ان کی روایات کو مورد اطمینان قرار دیا ہے اور انہیں اجلّہ محدثین شیعہ، کثیر الروایہ، ثقہ، شناختہ شدہ اور صاحب تصنیف کے الفاظ سے یاد کیا ہے[120]۔
کثرت روایات، ان کی احادیث اور تین اماموں کے زمانے کو درک کرنے کی وجہ سے بعض مآخذ میں ان کا شمار ان افراد میں سے کیا ہے جو بچپن میں ائمہ کی خدمت میں رہے ہیں[121]۔ آقا بزرگ تہرانی نے ان کی عمر تقریبا سو سال ذکر کی ہے[122]۔
آثار
نجاشی نے درج ذیل آثار کو ان سے منسوب کیا ہے:کتاب التوحیدکتاب المعرفة و البداءکتاب الرد علی اہل القدرکتاب الامامةکتاب اللؤلؤةکتاب وصایا الائمة علیہم السّلامکتاب النّوادر۔[123]
خود ابن ابی الخطاب سے اس سے زیادہ تالیفات کی روایت مروی ہے۔ [124]
(۸) داؤد بن قاسم بن اسحاق (متوفی 261 ھ)
 ابو ہاشم جعفری و داود بن قاسم جعفری کے نام سے مشہور، شیعوں کے چار ائمہ امام علی رضا، امام محمد تقی، امام علی نقی اور امام حسن عسکریؑ کے اصحاب میں سے شمار ہوتے ہیں۔ وہ موثق اور امامیہ کے معروف راویوں میں ہیں۔
ان کا مکمل نام اور نسب: داوود بن قاسم بن اسحاق بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہے۔ ان کے والد قاسم بن اسحاق اصحاب امام صادقؑ [125]اور محمد بن عبداللہ، معروف بنام نفس زکیہ کے طرفداروں میں تھے۔ نقل ہوا ہے کہ وہ نفس زکیہ کی طرف سے امیر یمن مقرر ہوئے اس سے پہلے کہ وہ اپنے فرائض نبھانا شروع کرتے نفس زکیہ قتل ہو گئے[126]۔
ابو ہاشم کی دادی (قاسم بن اسحاق کی ماں)، ام حکیم بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھی۔ ان کے فرزند ابو ہاشم امام جعفر صادق ؑ کے خالہ کے بیٹے تھے[127]۔
ان کی زندگی کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں لیکن بعض مصادر کی صراحت کے مطابق بغداد نشین تھے[128]۔  اور احتمال ہے کہ وہ دوم ہجری کے آخری سالوں میں پیدا ہوئے کیونکہ مدینہ سے مرو کے سفر امام رضاؑ کے دوران شہر ایذہ (ایذج) میں امام کی ملاقات کیلئے گئے ہیں[129]۔
شیعوں اور ائمہ کے درمیان رابطے کا وسیلہ وکالت تھی کہ جس کی خلفای عباسی کی طرف سے کڑی نگرانی ہونے لگی اور غیبت امام زمان (عج) کا زمانہ نزدیک آنے لگا تھا۔ ابو ہاشم جعفری ائمہؑ کے مورد اعتماد صحابی تھے جو غیبت صغرا کے زمانے میں ایک مدت کیلئے وکیل رہے[130]۔
روایت‌ کرنے والے
شیعہ محدثین کی ایک جماعت نے اس سے نقل حدیث کیا جیسے علی بن ابراہیم قمی، یحیی بن ہاشم، اسحاق بن محمد نخعی، سہل بن زیاد آدمی، محمد بن حسان، ابو احمد بن راشد، احمد بن محمد بن عیسی، محمد بن عیسی، محمد بن ولید، محمد بن احمد علوی، احمد بن اسحاق، محمد بن زیاد، احمد بن ابی عبداللہ برقی، فضل بن شاذان نیشابوری، سعد بن عبداللہ اشعری، عبد اللہ بن جعفر حمیری و[131] ...
اقوال علما
ابی جعفر برقی (متوفی 274 یا 280 ھ) ، کشی (متوفی 330 ھ)، مسعودی (متوفی 346 ھ)، نجاشی (متوفی 450 ھ)، شیخ طوسی (متوفی 460 ھ) الفہرست، او ررجال میں، ابن داوود حلی (متوفی 707 ھ)، علامہ حلی (متوفی 726 ھ) وغیرہ نے ابو ہاشم کو عالم، عابدِ زاہد، عظیم المنزلت، ائمہ کے نزدیک جلیل و شریف القدر جیسی صفات سے یاد کیا ہے۔[132]
تہمت غلو
جہاں ماہرین رجال نے ان کی تعریف بیان کی ہے وہیں کشی نے اپنے رجال میں سوانح ابو ہاشم کے آخر میں بعض روایات ذکر کی ہیں جن میں ان کی طرف غلو کی نسبت دی گئی ہے[133]۔ کشی کے علاوہ کسی اور نے غلو کی نسبت نہیں دی ہے۔
ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی طرف سے ائمہ کے معجزات کی کثیر روایات کے نقل کی وجہ سے ان کی طرف غلو کی نسبت دی گئی ہے[134]۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ان روایات میں ائمہ کے معجزات بیان کرنے کے در پے تھے کہ جو ائمہ کی نسبت نہایت اخلاص کی علامت تھے۔ صرف کشی نے غلو کی نسبت ذکر کی ہے جبکہ دیگر ماہرین نے ان سے اس نسبت کی نفی کی ہے جیسے:
مامقانی:
امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ابو ہاشم کیلئے سفارت و وکالت کا مرتبہ ہر قسم کی توثیق و تعدیل سے بالاتر ہے۔ اس شخص کی وثاقت، جلالت اور بزرگی میں کسی قسم کا شک نہیں ہے[135]۔
آیت اللہ خوئی:
کشی کی عبارت میں غلو کی دلالت دو لحاظ سے قابل تحقیق ہے پہلی یہ کہ روایت میں تحریف ہوئی ہے یا اس سے ظاہری معنا کے علاوہ کسی اور معنا کا ارادہ کیا جائے جبکہ یہ دونوں باتیں ابو ہاشم جیسی ممتاز شخصیت کی نسبت منتفی ہیں۔ لہذا کیسے اس شخصیت کی طرف غلو کی نسبت دی جائے۔ ان کی وثاقت میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔[136]امام حسن عسکری کے وہ معجزات کہ جنہیں ابو ہاشم نے مشاہدہ کیا وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں جو یہاں ذکر ہوئے، ابو ہاشم سے مروی ہے: میں جب بھی امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہما السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان سے برہان و دلائل کا ہی مشاہدہ کیا ہے۔[137]
تالیفات
ابو ہاشم کی دو کتابیں اخبار ابو ہاشم‌ اور کتاب شعر‌ مدح اہل بیت ؑ میں ذکر ہوئی ہیں۔[138] ابن عیاش نے ان دونوں کی جمع آوری کی ہے۔[139]البتہ اب یہ دونوں کتابیں دسترس میں نہیں ہیں۔
(۸) سَہل بْن زیاد آدمی (حیات: سنہ 255 ھ)
سَہل بْن زیاد  کا شمار تیسری ہجری کے شیعہ محدثین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے امام محمد تقیؑ، امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ سے روایات کو نقل کیا ہے۔ ان کا نام 2300 سے زیادہ حدیثوں کی سند میں آیا ہے۔ اس کے باوجود بھی علمائے رجال شیعہ، ان کی وثاقت پر اختلاف نظر رکھتے ہیں۔ شیعوں کے بعض علمائے رجال جیسے احمد بن علی نجاشی، ابن غضائری اور سید ابو القاسم خوئی نے سہل بن زیاد کو غلو کے اتہام میں قم سے اخراج کی وجہ سے ان کی تضعیف کی ہے۔ لیکن بعض علمائے رجال جیسے وحید بہبہانی، محدث نوری اور سید محمد مہدی بحر العلوم نے ان کی توثیق کی ہے۔ شیخ اجازہ ہونا، کثرت سے روایات کرنا، کتب اربعہ کے مصنفین کا اس پر اعتماد کرنا، شیخ طوسی کا اپنی کتاب رجال میں ان کی وثاقت بیان کرنا اور اسی طرح فقہا کا ان کی روایات کی بنا پر فتوی دینا ان کی وثاقت کے دلایل میں سے ہے۔علامہ مجلسی اور سید محمد مہدی بحر العلوم کے مطابق اگر سہل کی وثاقت کو قبول نہ کیا جائے تو صرف اس لئے کہ وہ مشایخ اجازہ میں سے تھے ان کی روایات صحیح ہیں۔سہل کی رجالی اور حدیثی شخصیت کے بارے میں اور اس کی وثاقت کو ثابت کرنے کے لئے کافی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ جیسے محمد جعفر طبسی کی کتاب مسند سہل بن زیاد الآدمی جو پانچ جلد پر مشتمل ہے، اس کی روایات کو ابواب فقہ کی ترتیب کے اعتبار سے جمع کیا گیا ہے۔سہل بن زیاد آدمی تیسری ہجری میں حدیث کے راوی تھے۔ انہوں نے کچھ وقت قم میں گزارا، احمد بن محمد بن عیسی اشعری نے انہیں کذّاب (جھوٹا) کہا اور قم سے باہر نکال دیا۔ اس طرح وہ شہر ری چلے گئے۔[140]سہل نے امام حسن عسکریؑ سے 15 ربیع الثانی سنہ 255 کو خط و کتابت کیا۔[141]یہ نامہ مسئلہ توحید کے بارے میں تھا کہ جسے شیخ صدوق نے اپنی کتاب توحید میں نقل کیا ہے۔[142]سہل کی کنیت ابو سعود تھی۔[143]
شیعوں کے رجال کے مصنف علی نمازی شاہرودی (متوفی 1364 ش) کے مطابق سہل بن زیاد کی شخصیت کے بارے میں دو نظریات ہیں:
1 ۔تضعیف:
یہ نظر علمائے رجال جیسے نجاشی،ابن غضائری،شیخ طوسی الفہرست میں اور آیت‌ اللہ خویی کی ہے۔ اس گروہ کی دلیل یہ ہے کہ سہل ابن زیاد کو احمد بن محمد بن عیسی اشعری نے غلو اور جھوٹ کی نسبت دی اور قم سے اخراج کر دیا۔اس کے با وجود نمازی شاہرودی نے کہا ہے کہ اس کی احادیث میں ایسی کوئی چیز جو ضعف یا اس کے عقیدہ میں غلو کا سبب ہو، نہیں پائی جاتی اور یہ بھی احتمال دیا ہے کہ اس کی طرف غلو کی نسبت کا سبب وہ روایات ہیں جو مقام و منزلت اہلبیتؑ پر دلالت کرتی ہیں۔اسی طرح سید محمد مہدی بحر العلوم کا خیال ہے کہ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو دوسرے ضعیف راویوں کی طرح اس کی مذمت کے بارے میں بھی ائمہ معصومینؑ کی روایات ہونی چاہئے تھیں۔[144]
2 ۔توثیق:
وحید بہبہانی،عبداللہ مامقانی، محدث نوری،سید محمد مہدی بحر العلوم اور شیخ طوسی کی کتاب رجال  یہ وہ علمائے رجال ہیں کہ جنہوں نے سہل بن زیاد کی توثیق کی ہے۔ کثرت سے روایات کرنا، شیخ طوسی کا اپنی کتاب رجال میں اس کی وثاقت کو درج کرنا، کتب اربعہ کے مصنفین کا اس کے اوپر اعتماد خاص طور سے شیخ کلینی کا اعتماد کرنا، شیخ اجازہ ہونا، اور فقہا کا اس کی روایات کی بنا پر فتوی دینا وغیرہ یہ سب وہ دلائل ہیں جو مندرجہ بالا علمائے رجال نے پیش کئے ہیں۔آیت اللہ خوئی نے یہ احتمال دیا ہے کہ شیخ طوسی کے ذریعہ جو سہل بن زیاد کی توثیق ہوئی ہے وہ نسخہ لکھنے والوں نے اضافہ کیا ہے یا خود شیخ طوسی سے سہو القلمی (بھولے سے لکھ گیا) ہو گئی ہے۔علامہ بحر العلوم اور علامہ مجلسی کے نظریہ کے مطابق اگر سہل کی وثاقت کو قبول نہ کیا جائے تب بھی اس کی روایات کا شمار حدیث صحیح میں ہوتا ہے اور وہ سب قابل اعتماد ہیں۔ اس لئے کہ وہ مشایخ اجازہ (جو بہت زیادہ روایات کو حفظ، اسے لکھنے اور حفظ میں دقت اور نقل حدیث میں مرجعیت کا مقام رکھے) میں سے ہے۔[145]
نقل روایت
آیت اللہ خوئی نے اپنی کتاب معجم رجال الحدیث میں فرمایا ہے کہ سہل کا نام اسناد حدیث میں 2304 بار ذکر ہوا ہے۔[146]حسن مہدوی نے اپنی کتاب «سہل بن زیاد در آیینہ علم رجال» میں کہا ہے کہ الکافی میں 1537، تہذیب میں 442، استبصار میں 139، کامل الزیارات میں 9، من لا یحضر الفقیہ میں 7 اور امالی صدوق میں 3 روایت سہل سے نقل ہوئی ہیں۔[147] اسی طرح کتاب التوحید اور النوادر سہل کے آثار میں شمار کی جاتی ہیں۔[148]
سہل بن زیاد نے امام محمد تقیؑ، امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ سے روایات کو نقل کیا ہے۔[149] اس کی روایات کا موضوع اعتقادات اور فقہی زمینہ پر مشتمل ہے۔[150] محمد بن جعفر طبسی کی کتاب «مسند سہل بن زیاد آلادمی من اصحاب الامام الجواد و الہادی و العسکری علیہم‌السلام» جو سہل بن زیاد کی روایات پر پانچ جلد پر مشتمل ہے اور جس کی وسائل الشیعہ کی ترتیب کے اعتبار سے جمع آوری کی گئی ہے۔ اس کتاب میں روایات کو سند کامل اور کتاب مراۃ العقول، بحار الانوار، الوافی اور اصول کافی کی شرح کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔[151]
احمد بن فضل بن محمد ہاشمی، محمد بن احمد بن یحیی، محمد بن حسن بن صَفّار، ابن قولویہ، علی بن ابراہیم، ابوالحسین اسدی و ۔۔۔ نے سہل سے روایت کی ہے۔[152] سہل بن زیاد کی رجالی شخصیت اور اس کی روایات کے سلسلے میں فارسی اور عربی زبان میں من جملہ کتابیں لکھی گئی ہیں:
«سہل بن زیاد در آیینہ علم رجال» اثر حسن مہدوی: یہ کتاب سہل کی وثاقت کے اثبات کے لئے لکھی گئی ہے۔[153]سہل کے مشایخ اور راویوں کی پہچان، اس کے بارے میں علمائے رجال کے نظریات پر گفتگو اور اس کی روایات کی تحلیل وغیرہ اس کتاب کے عناوین ہیں۔[154]مرکز فقہی ائمہ اطہارؑ نے اس کتاب کو نشر کیا ہے۔دراسۃ فی شخصيۃ سہل بن زیاد و روایاتِہ اثر حیدر عبدالکریم مسجدی: اس کتاب کا محور سہل کی وہ روایات ہیں جو کتاب کافی میں نقل ہوئی ہیں اور زبان عربی میں ہے۔ سہل کی شخسیت پر گفتگو، اس کے راوی اور مشایخ وغیرہ اس کتاب کے عناوین ہیں۔[155]
سہل بن زیاد الآدمی بین الوثاقۃ و الضعف: محمد جعفر طبسی کی یہ کتاب مرکز فقہی ائمہ اطہار کے انتشارات سے نشر ہوئی ہے۔[156]
(۹) محمد بن احمد بن جعفر قطان قمی
 غیبت صغری میں امام زمانہ (ع) کے نائب اول اور نائب دوم کے خاص وکیلوں اور معاونوں میں سے تھے۔ شیخ طوسی نے انہیں امام حسن عسکری (ع) کے اصحاب میں شمار کیا ہے کہ جنہوں نے امام علی نقی (ع) کو بھی درک کیا ہے اور شیخ صدوق کے نقل کے مطابق انہیں امام عصر (ع) کے دیدار کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔روایات میں ان کے نام کے ساتھ قمی کا لفظ استعمال ہوا ہے شاید یہ ان کے محل ولادت یا ابتدائی محل زندگی کی طرف اشارہ ہو۔ وہ غیبت صغری کے زمانہ میں شہر بغداد میں مقیم تھے۔ ان کا لقب قطان (روئی فروش)[157] اور اسی طرح سے عطار[158] ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے ان کے مشغلہ کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ان کی کنیت ابو جعفر تھی۔[159]
تین اماموں کے محضر میں
شیخ طوسی نے ان کا شمار امام حسن عسکری (ع) کے وکلاء اور اصحاب میں کیا ہے اور مزید کہا ہے کہ انہوں نے امام علی نقی (ع) کو بھی درک کیا ہے۔[160]اسی طرح سے شیخ صدوق نے انہیں بغداد کے ان وکلاء میں شمار کیا ہے جنہیں امام مہدی (ع) کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے۔[161]
امام عصر سے خاص قربت
رجال کشی میں احمد بن ابراہیم مراغی سے ایک روایت ان کی مدح میں اس طرح سے ذکر ہوئی ہے:
و لیس له ثالث فی الارض فی القرب من الاصل یصفنا لصاحب الناحیة۔ [162]اس حدیث سے امام زمانہ (ع) سے ان کی قربت کا پتہ چلتا ہے۔
وکالت
اس سلسلہ میں نقل ہونے والی گزارشات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن احمد قطان غیبت صغری کے ابتدائی سالوں میں امام زمانہ (ع) کے نائب اول و نائب دوم کے خاص وکیلوں اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور کبھی کبھی خود امام مہدی (ع) وجوہات شرعیہ کے سلسلہ میں بلا واسطہ ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم صادر فرمایا کرتے تھے۔[163]ان کے لقب قمی کے پیش نظر گویا ان کی وکالت اور فعالیت کا علاقہ قم تھا۔ البتہ بعض دیگر شواہد کے مطابق، غیبت صغری کے آغاز کے ساتھ ہی وہ بغداد منتقل ہو گئے اور احمد بن اسحاق و حاجز بن یزید وشاء کے ہمراہ نائب اول و نائب دوم کے معاون اعلی کے طور پر فعالیت میں مشغول ہو گئے۔[164]شیخ صدوق نے ان کا شمار بغداد کے وکلاء کے اس گروہ میں کیا ہے جو امام زمانہ (ع) کی زیارت سے شرفیاب ہوئے۔[165]محمد بن احمد بن قطان وکالت کے سلسلہ میں اعلی منزلت پر فائز تھے اور ان کا کردار معاون سفیر کا تھا اور جیسا کہ جیسا شیخ مفید کی روایت[166]سے معلوم ہوتا ہے کہ وکالت کے سلسلہ میں محمد بن احمد کا رتبہ اس قدر بلند تھا کہ بعض شیعہ انہیں امام مہدی (ع) کا نائب اور سفیر تصور کرتے تھے۔[167]
بعض گزارشات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعوں اور امام کے درمیان خط و کتابت اور توقیعات کے صدور کا ذریعہ تھے۔[168]
نتیجہ
امام حسن عسکری علیہ السلام  اور آپ کے اصحاب کے حالات پڑھنے کے بعد ہمیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کتنے مشکل حالات میں بھی ہمارے اماموں نے ہم تک دین پہنچایا جہاں امام کی طرف  ایک چھوٹا سا اشارہ کرنا بھی امام یا امام کے صحابی کیلیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا وہاں بھی نظام وکالت رے اماوکوبرقرار رکھا  اور پھر وہی نظام نائبین امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف میں نظر آتا ہے اور غیبت کبرٰی کے دور میں یہی نظام مراجع عظام کی  صورت میں نظر آتا ہے تو ہمیں اس پورے  نظام کی قدر کرنی چاہیے کہ کن مشکلات سے ہوتا ہوا یہ نظام ہم تک پہنچا ہے
والسلام علیکم  ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
 
[1]  کلینی ، کافی ، 1391 ق ، ج 1 ، ص 503 : شیخ مفید ، الارشاد ، 1414ق ، ج 2 ، 313
[2] ابن طلحہ  ، مطالب السؤل ، نجف ، 1371 ق ، ج2 ،ص78 ؛  سبط ابن جوزی ، تذکرہ الخواص ، نجف ، 1383ق ، ص 362 ۔
[3]  نوبختی ، فرق الشیعہ ، نجف ، 1355ق ، ص 92
[4]  مسعودی ، اثبات الوصیہ م بیروت 1409 ق ، ص 258
[5] حسین بن عبدالوہاب ، عیون النعجزات ، نجف1369ق ، ص 123
[6]  طبسی ، حیاۃ الام العسکری ، ص 344- 320 
[7]  مفید ، الرشاد ، 1413ق ، ج 2 ، ص 311-312 
[8]  ابن شہر آشوب ، مناقب ، ج 4 ، ص 421
[9]  ابن خلکان ، وافیات العیان ، ج 2 ، ص 94  
[10]  ابن شہر آشوب ، ج3 ، ص 526 ،
[11] دلائل الامامۃ ، طبری ، ص 424
[12]  موسسہ الامام العسکری ، خز علی ، ج1 ، ص 32
[13]  ہمان  
[14]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 258-266 ۔
[15]  ابن حاتم ، الدرالنظیم ، ص 737
[16]  نو بختی ، فرق الشیعہ ، 1355 ق ، ص 95
[17]  ابن رستم طبری ، دلائل الامامہ ، ق1413 ، ص 423
[18]  ابن ابی الثلج ، راریخ الاآئمہ  مجموعہ نفسیہ ، 1396 ق ، ص 14 ۔
[19]  مفید ، مسار الشیعہ ، 52 ، ابن طاووس ، الاقبال ، ج 3، ص 149
[20]  ابن شہر آشوب ، مناقب ال ابی طالب ، ج 3 ، ص 523
[21]  ابن ابی الثلج ، ص 14
[22]  شیخ صدوق ، کمال الدین ، ج 2 ، ص 418
[23]  مسعودی ، اظبات الوصیہ ۔ ص 266
[24] رک : شیخ صدوق ، کمال الدین ، ص 307 
[25] ابن ابی الثلج ، مجموعہ نفیسہ ، ص 27
[26]  رک : طریحی ، جامعہ المقوال ، ص 160 
[27]  ابن شہر آشوب ، مناقب ، ج 3 ، ص 523
[28]  ابن طلحہ ، مطالب السؤل ، ج 2 ، ص 78
[29]  رک : طریحی ، جامعہ المقال ، ص 190
[30]  زرندی ، معارج الوصول الی معرفہ فضل  ال الرسول (ص) ، ص 172
[31]  خصیبی ، الہدایہ الکبری ، ص 328
[32]  ابن ابی الثلج ، مجموعہ نفیسہ ، ص 22-21
[33]  فخر الدین رازی ، الشجرہ المبارکہ ، ص 78
[34]  ابن حزم ، جمہرۃ انساب العرب ، ص 61
[35]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 259
[36]  نوبختی ، فرق الشیعہ ، ص 92
[37]  شیخ صدوق ، عیون اخباز الرضا ، 1378 ق ، ج 2 ص 135
[38]  قطب الدین راوندی ، الخرائج و الجرائح ، ج 1 ، ص 425 – 426
[39] طبری ، دلائل الامامہ ، ج 1 ، 223
[40]  شیخ مفید ، الارشاد ، ص 495
[41]  مسعودی ، مروج الذھب ، ج 4 ، ص 112
[42]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 263
[43]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 268 
[44]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 269
[45] مسعودی ، مروج الذھب ، ج 4 ، ص 94
[46] ابن اثیر ، الکامل ، ج 7 ، ص 239 – 240
[47]  مسعودی ، مروج الذھب ، ج 4 م ص 108
[48]  تاریخ طبری ، ج 9 ، ص 410
[49]  مروج الذھب ، ج 4 ، ص 108
[50] ھمان
[51] مناقب ابن شہر آشوب ، ج 4 ، ص 428
[52]  مسعودی ، مروج الذھب ، ج 4 ، ص 108
[53]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 270
[54]  شیخ مفید ، الارشاد ، ص 387
[55]  اربلی ، کشف الغمہ فی معرفہ الآئمہ ، ج 2 ، ص 413
[56]  راوندی ، الخرائج و الجرائح ، ج 1 ، ص 439 
[57]  ابن شہر آشوب ، مناقب ، ج 4 ، ص 425
[58]  شیخ طوسی ، الغیبہ ، ص 272
[59]  شیخ صدوق ، کمال الدین م ص 475 
[60] پاکتچی ، حسن عسکری ، ص 626
[61] روضات الجنان ، ج 4 ، ص 273 و274
[62] ابن شہر آشوب ، المناقب ، ج 4 ، ص 425 (بیروت)
[63]  مسعودی اثبات الوصیہ ، ص 271
[64]  ابن بابویہ ، کمال الدین ، ص 43
[65]  رجال کشی ، ص 541
[66]  مناقب ابن شہر آشوب ، ج 3 ، ص 527
[67]  مناقب ابن شہر آشوب ، ج 3 ، ص 526
[68]  کلینی ، کافی ، ج 1 ، ص 103
[69]  طریحی ، جامع المقال ، ص 185
[70]  دائرہ المعارف بزرگ اسلامی ، ج 20 ، ص 630
[71]  کلینی ، کافی ، ج 1 ، 1391 ق ، ص 503
[72]  مقدسی ، بازپژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان ، 1391 ، ص 530-533
[73]  طبرسی ، اعلام الوری ، 1471 ق ، ج 2 ، ص 131
[74]  شیخ طوسی ، الغیبہ ، 1398 ق ، ص 208
[75]  مسعودی ، اثبات الوصیہ ، 1409 ق ، ص 268
[76]  شیخ مفید ، الارشاد ، 1414 ق ، ج 2 ، ص 313
[77]  شیخ مفید ، الارشاد ، 1414 ق ، ج 2 ، ص 313
[78]  خامہ یار ، تخریب زیارتگاھھای اسلامی در کشور ہای عربی ، ص 29 و 30
[79] خامہ یار ، تخریب زیارتگاھھای اسلامی در کشور ہای عربی ، ص 30
[80] ۔ نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۲۵۳.
[81] ۔ نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۲۵۳.
[82] ۔ گذشته، «ابراهیم بن مهزیار»، ج۲، ص۴۵۸.
[83] ۔ طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳ش، ص۳۷۴.
[84] ۔ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۱۸.
[85] . صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ص۴۴۵-۴۵۳.
[86] . طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳ش، ص۴۰۲.
[87] . صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۴۲.
[88] . صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۶۶، پانویس.
[89] نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۶؛ مامقانی، تنقیح المقال، ۱۴۳۱ق، ج۵، ص۱۷.
[90] . جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۲.
[91] . جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۹.
[92] . نجاشی، ص۳۵۴
[93] . نجاشی،رجال نجاشی،ص354 ش948۔
[94] . جباری، ص۱۹۵ .
[95] . طوسی، الفہرست، ص۲۲۱
[96] . طوسی، الابواب، ج۱، ص۴۰۲
[97] . مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۱، ص۳۴۴.
[98] . غفارزاده، زندگانی نواب خاص امام زمان، ۱۳۷۹ش، ص۱۵۵.
[99] . نجاشی، رجال نجاشی، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۰۸.
[100] . مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۳، ص۱۴۹.
[101]  مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۳، ص۱۴۹.
[102] . صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۴.
[103] . ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۶ق، ج۸، ص۱۰۹.
[104] طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۲۲۵.
[105] . کشی، رجال کشی، ۱۳۴۸ش، ص۵۵۷.
[106] صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۰۳-۵۰۴.، طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۱۹۵.، اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، ۱۳۴۵ش، ص۲۱۴.
[107] . اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، ۱۳۴۵ش، ص۲۱۴.
[108] . جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۲.
[109] . مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۲، ص۳۰۵.
[110] . جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۴۷۹.
[111] . جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت، ص210.
[112] . جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱ش، ص۵۸۳ بہ نقل از اثبات الوصیہ، ۱۴۲۶ق، ص۲۵۵.
[113] . جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۴۷۹.
[114] . طوسی، رجال، ص389.
[115] . صدر، تاریخ الغیبہ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۹۹.
[116] . ابن قولویه، کامل الزیارات، ص۳۷.
[117] . نجاشی، رجال، ص۲۳۶.
[118] . حلی، کتاب الرجال، ص۲۸۵.
[119]  . مامقانی، تتقیح المقال، ص۱۰۶
[120]  . نجاشی، رجال، ص۲۳۶.
[121]  . مامقانی، تتقیح المقال، ص۱۰۶ .
[122] آقابزرگ، الذریعة الی تصانیف الشیعة، ج۲، ص۳۳۴.
[123] ۔ نجاشی، رجال، ص۲۳۶.
[124] ۔ خویی، معجم رجال الحدیث، ج۱۵، ص۲۹۱.
 
[125] . نجاشی، رجال، ج۱، ص۳۶۲؛ ابن عنتبہ، عمدہ الطالب، ص۴۲؛ علامہ حلی، خلاصہ الاقوال، ص۱۴۲
[126] ۔ محدث قمی، منتہی الآمال، ج۲، باب دوازدہم، ص۵۵۶؛ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۲۶۴؛ طبری، تاریخ، ج۷، ص۵۶۱
[127] ۔ محدث قمی، الکنی و الالقاب، ج۱، صص۱۷۴ – ۱۷۵؛ ابن عنتبہ، عمدہ الطالب، صص۴۱ – ۴۲
[128] ۔ طوسی، الفہرست، ص۶۷؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۸، ص۳۶۹
[129] ۔ راوندی، الخرائج و الجرائح، ج۲، ص۶۶۱
[130] ۔ تفرشی، نقد الرجال، ج۲، ص۲۱۹؛ حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، ج۳، ص۲۰۸؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ص۴۱۶؛ امین، اعیان الشیعہ، ج۶، ص۳۷۸؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۶۵، ذیل حدیث ۱۳؛ تبریزی، ریحانہ الادب، ج۷، ص۲۹۵
[131] ۔ نکـ: اردبیلی، جامع الرواة، ج۱، ص۳۰۷؛ ابن بابویہ، مشیخہ، ص۵۱۷؛ ابن بابویہ، التوحید، صص۸۲-۸۳؛ کشی، رجال، ص۵۴۳-۵۴۴؛ نجاشی، رجال، ص۴۴۷
[132] ۔ بالترتیب برقی، رجال، ص۵۶. کشی، رجال، ص۴۷۸. مسعودی، مروج الذہب، ج۲، ص۵۵۳. نجاشی، رجال، ج۱، ص۳۶۲. طوسی، الفہرست، ص۱۸۱. طوسی، رجال، ص۴۳۱. ابن داوود، رجال، ص۱۴۶. علامہ حلی، خلاصہ الاقوال، ص۱۴۲. محدث قمی، الکنی و الالقاب، ج۱، ص۱۷۴. محدث قمی، منتہی الآمال، ج۲، باب دوازدہم، ص۵۵۶. مدرس تبریزی، ریحانہ الادب، ج۷، ص۲۹۵. صدر، تکملہ امل الآمل، ج۳، ص۳۵.قہپایی، مجمع الرجال، ج۲، ص۲۸۸- ۲۸۹. مجلسی، رجال مجلسی، ص۲۰۹. حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، ج۳، ص۲۰۷- ۲۰۸.امین، اعیان الشیعہ، ج۶، ص۳۷۷- ۳۷۸.مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، ج۲۶، ص۲۴۱.خویی، معجم الرجال الحدیث، ج۸، ص۱۲۲ - ۱۲۳.تستری، قاموس الرجال، ج۴، ص۲۵۶. اردبیلی، جامع الرواہ، ج۱، ص۳۰۷.
[133] ۔ کشی، رجال، ص۵۷۱.
[134] امین، اعیان الشیعہ، ج۶، ص۳۷۸.
[135] ۔ مامقانی، تنقیح المقال، ج۲۶، ص۲۴۷- ۲۴۸.
[136] ۔  خویی، معجم رجال الحدیث، ج۸، ص۱۲۴.
[137] ۔  محدث قمی، منتہی الآمال، ج۲، باب سیزدہم، ص۵۷۴.
[138] ۔  طوسی، الفہرست، ص۱۸۱.
[139] ۔  نجاشی، رجال، ج۱، ص۲۲۵ - ۲۲۶.
[140] ۔ نجاشی، رجال ‏النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۸۵۔
[141] ۔ نجاشی، رجال ‏النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۸۵۔
[142] ۔ شیخ صدوق، التوحید، ۱۳۹۸ھ، ص۱۰۱-۱۰۲۔
[143] ۔  طوسی، رجال، ۱۳۷۳ش، ص۳۸۷۔
[144] ۔ نجاشی، رجال ‏النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۸۵۔ ابن ‏غضائری، الرجال، ۱۴۲۲ھ، ص۶۶-۶۷۔ طوسی، فہرست، ۱۴۲۰ھ، ص۲۲۸۔ خویی، معجم ‏رجال ‏الحدیث، ۱۴۱۰ھ، ج۸، ص۳۴۰۔ نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، ۱۴۱۴ھ، ج۴، ص۱۷۶؛ خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ھ، ج۸، ص۳۳۹۔ نمازی، مستدرکات علم رجال الحدیث، ۱۴۱۴ھ، ج۴، ص۱۷۶-۱۷۷۔
[145] ۔ خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ھ، ج۸، ص۳۳۹۔ نوری، خاتمہ المستدرک، مؤسسہ آل‌ البیت، ج۵، ص۲۳۰-۲۱۳۔ بحر العلوم، الفوائد الرجالیۃ، ۱۳۶۳ش، ج‌۳، ص۲۳۔ طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳ش، ص۳۸۷۔ بحر العلوم، الفوائد الرجالیۃ، ۱۳۶۳ش، ج‌۳، ص۲۴۔ نمازی، مستدرکات علم رجال الحدیث، ۱۴۱۴ھ، ج۴، ص۱۷۶-۱۷۷۔ خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ھ، ج۸، ص۳۴۰۔ بحر العلوم، فوائد الرجالیہ، ۱۳۶۳ش، ج۳، ص۲۵؛‌ علامہ مجلسی، الوجیزۃ فی الرجال، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ص۹۱۔
[146] ۔  خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ھ، ج۸، ص۳۴۱-۳۴۲۔
[147] ۔  مہدوی، سہل بن زیاد در آیینہ علم رجال، ۱۳۹۱ش، ص۱۵۳۔
[148] ۔  نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۱۸۵۔
[149] ۔  طوسی، اختیار معرفۃ الرجال، ۱۴۰۴ھ، ج۲، ص۸۳۷۔
[150] ۔  مہدوی، سہل بن زیاد در آیینہ علم رجال، ۱۳۹۱ش، ص۱۵۴-۱۷۷۔
[151] ۔  طبسی، مسند سہل بن زیاد الآدمی، ۱۳۹۵ش، ص۶۰۔
[152] ۔  طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۳۶۵ش، المشیخۃ ج۱۰، ص۵۴۔
[153] ۔  مہدوی، سہل بن زیاد در آیینہ علم رجال، ۱۳۹۱ش، ص۱۵۰۔
[154] ۔  مہدوی، سہل بن زیاد در آیینہ علم رجال، ۱۳۹۱ش، پیشگفتار، ص۱۳۔
[155] ۔ دراسۃ فی شخصیۃ سہل بن زیاد و روایاتہ، پایگاہ اطلاع‌رسانی حدیث شیعہ۔
[156] ۔  طبسی، سہل بن زیاد الآدمی بین الوثاقۃ و الضعف، مرکز فقہی ائمہ اطہار۔
[157] ۔ طبری، دلائل الإمامة، ص۵۲۳۔
[158] ۔ رجال کشی، ص۵۳۴۔
[159] ۔ طبری، دلائل الإمامة، ص۵۲۳۔
[160] ۔ رجال شیخ طوسی، ص۴۳۶۔
[161] ۔ صدوق، کمال الدین، ص۴۴۲۔
[162] ۔ رجال کشی، ص۵۳۴۔
[163] ۔ طبری، دلائل الامامه، ص۵۱۹-۵۲۳؛ راوندی، الخرائج و الجرائح، ج۲، ص۷۰۲۔
[164] ۔ جباری، سازمان وکالت، ج۲، ص۵۵۷۔
[165] ۔ صدوق، کمال الدین، ص۴۴۲۔
[166] ۔ شیخ مفید، الإرشاد، ج۲، ص۳۶۰۔
[167] ۔ جباری، سازمان وکالت، ج۲، ص۵۵۹۔
[168] ۔  رجال کشی، ص۵۳۴۔

اہل سنت کے آئمہ، فقہاء اور علماء امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی میں

 

ساجد محمود

کارشناسی ارشد (رشتہ تفسیر)

Sajjidali3512@gmail.com

نسب

 حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چھٹے جانشین اور سلسلہ عصمت کی آٹھویں کڑی  ہیں آپ کے والد ماجد امام محمدباقر علیہ السلام تھے۔ آپ منصوص من اللہ معصوم تھے،علامہ ابن خلقان تحریر فرماتے ہیں کہ آپ سادات اہل بیت علیہم  السلام سے تھے اورآپ کی فضیلت اور آپ کا فضل و کرم بیان کا  محتاج  نہیں ہے۔[1]

والدہ

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی والدہ جناب ام فروة بنت قاسم بن محمد بن ابو بكر ہیں اور جناب ام فروۃ بنت قاسم کی والدہ اسماء بنت عبد الرحمن بن ابو بكر ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک فرمان میں بھی اسی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ جس میں امام فرماتے ہیں: ولدني أبو بكر مرتين۔

ولادت

آپ 17 ربیع الاول 83 ھ مطابق 702ء   مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کی ولادت تاریخ کو خدا نے بڑی عزت دے رکھی ہے ایک احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کو روزہ رکھنا ایک سال کے روزہ کے برابر ہے ۔امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ میرا فرزند ان چند مخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدا نے بندوں پر احسان فرمایا ہے اور یہی میرے بعد میرا جانشین ہو گا۔

 اسم گرامی ، کنیت اور القاب

آپ علیہ السلام کا اسم گرامی جعفر ۔ آپ کی کنیت عبد اللہ ،ابو اسماعیل ، اور آپ کے القاب صادق، صابر ،فاضل ، طاہر وغیرہ ہیں ۔علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفر بن محمد علیہ السلام کو صادق کے لقب سے ملقب فرمایا تھا ۔

علما ء لکھتے ہیں کہ جعفر  جنت میں ایک شیریں نہر کا نام ہے اسی کی مناسبت سےآپ کا لقب جعفر رکھا گیا ہے ،کیونکہ آپ کا فیض عام جاری نہر کی طرح تھا لہذا اسی لقب سے ملقب ہوئے ۔[2]

اولاد

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد کی تعداد دس ہے کہ جن میں سے سات بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں کہ جن کے نام درج ذیل ہیں:

1: اسماعيل، 2: عبداللہ، 3:أسماء کہ جن کی کنیت ام فروة ہے۔ان کی والدہ جناب فاطمہ بنت حسين بن علی بن حسين ہیں۔

4: امام موسى كاظم علیہ السلام ، 5: محمد کہ جو( ديباج)کے نام سے معروف ہیں۔ 6: اسحاق، 7:فاطمہ كبرىٰ۔ان کی والدہ جناب حميدہ بربريہ ہیں۔

8: عباس،9:علی، 10: فاطمہ صغرىٰ۔یہ مختلف ماؤں کے بطن سے ہیں۔

بادشاہان وقت

آپ کی ولادت کے وقت عبد الملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھر ولید، سلیمان ،عمربن عبد العزیز بن عبد الملک ،ہشام بن عبدالملک ،ولید بن یزید بن عبد الملک ،یزید الناقص ،ابراہیم بن ولید اور مروان الحمار اسی ترتیب سے خلیفہ مقرر ہوئے مروان الحمار کےبعد سلطنت بنی امیہ کا چراغ گل ہوگیا اور بنی عباس نے حکومت پہ قبضہ کرلیا ۔بنی عباس کا پہلا بادشاہ ابو العباس ،سفاح اور دوسرا منصور دوانقی ہوا ہے ۔ اسی منصورنے اپنی حکومت کے دوسال گزرنے کہ بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کو زہرسے شہیدکردیا۔[3]

علمی سرگرمیاں

امام صادق علیہ السلام کے دور امامت میں بنی امیہ اپنی اقتدار اور بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف تھی اسی بنا پر لوگوں خاص کر شیعوں کو کسی حد تک مذہبی آزادی نصیب ہوئی جس سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے امام علیہ السلام نے نے مختلف موضوعات پر علمی اور عقیدتی مباحث کا سلسلہ شروع فرمایا۔ اس علمی اور مذہبی آزادی جو آپ سے پہلے والے اماموں کو کمتر نصیب ہوئی تھی کی وجہ سے علم  کے متلاشی آپ کے علمی جلسات اور محافل میں آزادی سے شرکت کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ، کلام اور دیگر مختلف موضوعات پر آپ سے بہت زیادہ احادیث نقل ہوئی ہیں۔[4]

ایک سوال اور اس کا جواب

بسا اوقات بعض افراد کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم معصومین علیہم السلام کے فضائل بیان کرتے ہیں تو اس میں علم کی نشر و اشاعت کے بارے میں فقط امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام کا اسم مبارک دیکھنے کو ملتا ہے؟ باقی آئمہ علیہم السلام نے علمی ترقی اور علوم آل محمد کی نشر و اشاعت کے لیے اقدامات کیوں نہیں کئے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم معصومین علیہم السلام کے فضائل و مناقب کو بیان کرتے ہیں تو جو فضائل و مناقب اور صفات جمیلہ و حمیدہ ایک معصوم علیہ السلام کے لیے بیان کرتے ہیں وہ دوسرے کے لیے نہیں کرتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صفات اور مناقب دوسرے آئمہ علیہم السلام  میں نہیں پائے جاتے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ تمام آئمہ علیہم السلام ایک ہی طرح کے فضائل اور صفات جمیلہ و حميدہ کے مالک ہیں جو صفات ایک معصوم علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں وہی صفات تمام میں پائی جاتی ہیں کیونکہ تمام نور واحد ہیں اور معصومین علیہم السلام  میں سے ہر معصوم علیہ السلام اپنے زمانے کے تمام افراد سے کمال اور فضائل کے اعتبار سے افضل و اکمل ہوتے ہیں، لیکن ہر معصوم علیہ السلام کے زمانے کے حالات اور تقاضے دوسرے معصوم علیہ السلام سے فرق کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر معصوم علیہ السلام سے ظاہر ہونے والی صفات اور کمالات دوسرے معصوم علیہ السلام سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر معصوم علیہ السلام نے اپنے زمانے میں جو موقف اختیار کیا ہے اور جس روش کو اپنایا وہ دوسرے معصوم علیہ السلام مختلف ہوتا ہے مثلاً حضرت علی علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام سے شجاعت کا ظہور باقی معصومین علیہم السلام سے ظاہر ہونے والی شجاعت کی طرح نہیں ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں مشرکین و کفار اور اپنی ظاہری خلافت کے زمانے میں باغیوں اور فتنہ گروں کے خلاف مختلف جنگوں میں اپنی شجاعت  اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں  ایک الگ انداز سے اپنی شجاعت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جبکہ باقی معصومین علیہم السلام بھی اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے شجاع اور بہادر تھے لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں کسی جنگ میں شجاعت کا مظاہرہ کرنے کا کوئی واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا کیونکہ باقی آئمہ علیہم السلام اپنے زمانے کے حالات اور تقاضوں کے مطابق صبر اور جنگ نہ کرنے کا راستہ اختیار کرنے پر مامور تھے۔

لہذا امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے جس طرح مختلف علوم کو دنیا میں پھیلایا اور ان کی نشر و اشاعت کے بارے میں اقدامات کئے اس طرح باقی آئمہ علیہم السلام نے نہیں کیا کیونکہ ان دونوں ذوات مقدسہ کو ایک ظالم حکومت کے اختتام اور دوسری حکومت کی ابتداء میں کچھ عرصہ فراہم ہوا جس میں ہر دو ظالم حکومتیں اپنے مسائل میں الجھی ہوئی تھیں لہذا امام باقر علیہ السلام‌ اور امام صادق علیہ السلام نے اس فرصت سے فائدہ اٹھایا اور علوم آل محمد کی نشر و اشاعت کے لیے بھر پور کوشش کی اور مختلف اقدامات کئے، جبکہ دوسرے آئمہ علیہم السلام نے اپنے زمانے کے تمام افراد سے زیادہ علم رکھنے کے باوجود ایسا نہیں کیا کیونکہ انہیں کوئی ایسا  موقع فراہم نہیں ہوا جو ان دو ذوات مقدسہ کو ہوا ہے اسی لیے وہ علوم آل محمد کی نشر و اشاعت کے لیے اس طرح اقدام نہیں کر پائے۔

شاگردان

اس میں کوئی شک نہیں کہ خداوند متعال نے اہل بیت علیہم السلام کو بے مثال علوم اور معارف  سے نوازا  ہے ۔معصوم امام، رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جانشین ہیں اور رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد امت کے ہادی ہیں۔ جس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خداوند متعال نے علوم اور معارف عطا فرمائے اور ان علوم اور معارف کو سیکھنے میں وہ کسی استاد کے محتاج نہیں تھے اسی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے جا نشینوں کے پاس بھی خدائی علم ہے اور وہ اس علم کو سیکھنے میں کسی استاد کے محتاج نہیں ہیں، لہذا تاریخ میں یہ ثابت کرنا        ناممکن ہے کہ کوئی بشر معصومین علیہم السلام کے پاس اپنا علمی مسئلہ لے کر آیا ہو اور انہوں نے اس کی علمی مشکل حل نہ کی ہو بلکہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بڑے بڑے افراد یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ :لَوْ لاَ عَلِی لَھَلَکَ فَلَان...

اب ہم اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ تاریخ میں کن کن افراد نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے زانوئے ادب طے کیا اور سالہا سال امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے۔ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے مختلف علاقوں سے تقریباً چار ہزار افراد امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کسب فیض کیا یہاں تک کہ بعض حضرات امام جعفر صادق علیہ السلام کے مخالفین کے پیشوا تھے لیکن ان کے پاس جو کچھ تھا سب امام جعفر صادق علیہ السلام کا عطا کردہ تھا۔ شیخ طوسی اپنی رجال میں  3200 روایوں کا نام لیتے ہیں جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایات نقل کی ہیں۔[5] شيخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں آپ کے راویوں کی تعداد 4000 نقل کرتے ہیں۔[6]  اب  ہم  امام جعفر صادق علیہ السلام کے چار ہزار شاگردوں میں سے فقط  چند  مشہور  شاگردوں کا مختصر  تعارف کرواتے ہیں ۔ البتہ ان چار ہزار افراد میں شیعہ بھی ہیں اور سنی بھی ہیں، اس مختصر تحقیق میں فقط اہل سنت کے آئمہ، فقہاء اور علماء کا ذکر کریں گے کہ جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے زانوئے ادب طے کیا  ۔

اہل سنت کے آئمہ، فقہاء اور علماء کہ جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فيض کیا:

1۔ ابو حنیفہ

نعمان بن زوطی المعروف اہل کابل اور کوفہ میں پیدا ہوا، کوفہ میں ہی بڑا ہوا، بعد میں بغداد منتقل ہو گیا اور 150 ہجری میں فوت ہوا. وہ حنفی گروہ کا پیشوا اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا اور اس بات کو اہل سنت کے معتبر علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ آلوسی اہل سنت کے مشہور علماء میں سے ہیں وہ اپنی کتاب مختصر تحفۃ الاثنی عشریہ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :وهذا أبو حنيفة - رضي الله تعالى عنه - وهو بين أهل السنة كان يفتخر ويقول بأفصح لسان: لولا السنتان لهلك النعمان، يريد السنتين اللتين صحب فيهما لأخذ العلم الإمام جعفر الصادق - رضي الله تعالى عنه -. وقد قال غير واحد أنه أخذ العلم والطريقة من هذا ومن أبيه الإمام محمد الباقر ومن عمه زيد بن علي بن الحسين - رضي الله تعالى عنهم؛ یہ ابو حنیفہ ہیں در حالیکہ اہل سنت کے درمیان،ہمیشہ( امام صادق علیہ السلام کی شاگردی پر) فخر کرتے تھے اورفصیح زبان میں کہتے تھے: اگردو سال (امام صادق علیہ السلام کی شاگردی کے) نہ ہوتے تو نعمان ( یعنی میں ابو حنیفہ) ہلاک ہو جاتا ۔ ابوحنیفہ کی دو سال سے مراد وہ دو سال ہیں کہ جس میں انہوں نے امام صادق (علیہ السلام) سے کسب علم کیا، اور بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ ابو حنیفہ نے علم و طریقت، ان (یعنی امام صادق علیہ السلام) سےاوران کے پدربزرگوار امام محمد باقر (علیہ السلام) اوران کےعم،زید بن علی بن الحسین علیہم السلام   سےحاصل کیا ہے۔[7]

اور اسی شاگردی کی وجہ سے ابوحنیفہ خود اعتراف کرتا ہے : مَا رَأيتُ أفقهَ مِن جَعفَرِ بنِ مُحَمَّد ؛ میں نے جعفر بن محمد سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔[8]

اس کے باوجود ابو حنیفہ اس کوشش میں تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی مخالفت کرے اور کسی علمی مسئلہ میں انہیں شکست دے وہ خود کہتا ہے : جب منصور دوانیقی نے جعفر بن محمد کو حاضر کیا تو مجھے بھی بلایا اور کہا : لوگ جعفر بن محمد کے گرویدہ ہو گئے ہیں اس کو شکست دینے کے لیے مشکل سوال تیار کر، میں نے چالیس مشکل سوال تیار کیے. ایک دن منصور نے مجھے بلایا جب  مجلس میں داخل ہوا تو اچانک میری نگاہ جعفر بن محمد پر پڑی، دیکھا کہ وہ منصور کے دائیں جانب بیٹھے ہیں، جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر  ان کی ہیبت اور عظمت کا ایسا رعب  طاری ہوا کہ جب منصور نے میری یہ حالت دیکھی تو مجھے سے سلام نہیں لیا۔ میں نے سلام کیا اور منصور کے اشارے سے بیٹھ گیا۔منصور نے اپنا رخ امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف کیا اور کہا :یہ ابو حنیفہ ہے، انہوں نے فرمایا : اسے جانتا ہوں، پھر منصور نے اپنا رخ میری طرف کیا اور کہا : اے ابو حنیفہ اپنے سوال جعفر بن محمد کے سامنے بیان کر۔ اس کے بعد میں نے سوال کرنا  شروع کئے جو سوال کرتا تھا اس کا جواب  دیتے کہ اس کے بارے میں تیرا عقیدہ یہ ہے، اہل مدینہ  کا عقیدہ یہ ہے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے۔ بعض مسائل میں میرے عقیدہ کے موافق ، بعض مسائل میں اہل مدینہ کے موافق اور بعض مسائل میں دونوں کے مخالف تھے۔ اسی ترتیب سے میں نے چالیس سوال پوچھے اور انہوں نے جواب دیئے۔ جب تمام سوالوں کا جواب دے چکے ابو حنیفہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے کہا : اعلم النّاس اعلمهم باختلاف النّاس ۔[9]

مالک بن انس

اس کا نام مالک ہے، کنیت ابو عبداللہ، لقب امام دار الہجرہ ہے۔ سلسلۂ نسب مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر ہے۔ امام مالک 93 ہجری میں پیدا ہوا۔مدینہ میں عبداللہ بن مسعود والے گھر میں رہتا تھا ۔امام مالک خالص عرب تھے۔ بزرگوں کا وطن یمن تھا۔ اسلام کے بعد ان کے خاندان والوں نے مدینہ میں سکونت اختیار کر لی۔ اسے جعفر بن سلیمان عباسی کے زمانے میں مدینہ میں قتل کیا گیا اور تازیانے لگائے گئے اور اس کو اتنا گھسیٹا گیا کہ اس کا بازو بدن سے جدا ہو گیا اور آخر کار 179 ہجری میں فوت ہو گیا۔ یک بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا۔ اہل سنت علماء میں سے نووی اپنی کتاب تہذیب، شبلنجی اپنی کتاب نور الابصار، سبط جوزی اینی کتاب تذکرہ، امام شافعی اپنی کتاب مطالب، ابن حجر مکی اپنی کتاب صواعق، شیخ سلیمان اپنی کتاب ینابیع الموده اور ابو نعیم اپنی کتاب حلیہ میں میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مالک بن انس امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا۔[10]

وہ خود کہتا ہے : کچھ عرصہ جعفر بن محمد کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا،میں نے انہیں تین حالتوں میں دیکھا ہے: نماز پڑھ رہے ہوتے تھے یا روزے کی حالت میں ہوتے تھے یا قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے تھے، میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا کہ وضو کے بغیر حدیث کو نقل کیا ہو : ولایتکلّم بمالایعینه و کان من العلماء العباد و الزهاد الذین یخشون اللّه؛ جو چیز مفید نہیں ہوتی تھی اسے تکلم نہیں کرتے تھے عابد،زاہد اور خوف خدا رکھنے والے علماء میں سے تھے۔ و ما رات عین و لا سمعت اذن ولاخطر علی قلب بشرٍ افضل من جعفر بن محمد الصادق علماً و عبادةً و ورعاً؛ علم، پرہیزگاری اور عبادت میں جعفر بن محمد سے بڑھ کر نہ ہی میری آنکھ نے کسی کو دیکھا ہے اور نہ ہی میرے کان نے سنا ہے۔[11]

3۔سفیان ثوری

سفیان بن سعید بن ثوری کوفی 91 ہجری میں پیدا ہوئے، کچھ عرصہ بغداد میں رہے، بعد میں کوفہ منتقل ہو گئے اور 161 ہجرت میں انتقال کر گئے۔یہ بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے۔ اہل سنت علماء میں سے مختلف نے اپنی کتابوں جیسے تہذیب، نورالابصار، تذکرہ، صواعق، ینابیع الموده اور حلیہ میں اعتراف کیا ہے کہ سفیان ثوری امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے۔[12] اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ جس   میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسے انتہائی اہم امور کے بارے میں وصیت کی اور اس نے اس کو نقل کیا۔[13]

اہل سنت عالم دین محمد بن طلحہ اپنی کتاب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے کچھ شاگردوں کے نام ذکر کرتے ہیں  کہ ان میں سے ایک سفیان ثوری بھی ہے وہ لکھتے ہیں  : الإمام جعفر الصادق (عليه السلام) ... هو من عظماء أهل البيت وساداتهم (عليهم السلام) ذو علوم جمة ، وعبادة موفرة ، وأوراد متواصلة ، وزهادة بينة ، وتلاوة كثيرة ، يتتبع معاني القرآن الكريم ، ويستخرج من بحره جواهره ، ويستنتج عجائبه ، ويقسم أوقاته على أنواع الطاعات ، بحيث يحاسب عليها نفسه ، رؤيته تذكر الآخرة ، واستماع كلامه يزهد في الدنيا ، والاقتداء بهديه يورث الجنة ، نور قسماته شاهد أنه من سلالة النبوة ، وطهارة أفعاله تصدع أنه من ذرية الرسالة . نقل عنه الحديث ، واستفاد منه العلم جماعة من الأئمة وأعلامهم مثل : يحيى بن سعيد الأنصاري ، وابن جريج ، ومالك بن أنس ، والثوري ، وابن عيينة ، وشعبة ، وأيوب السجستاني ، وغيرهم (رض) وعدوا أخذهم عنه منقبة شرفوا بها وفضيلة اكتسبوها ؛ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت(علیہم السلام) کےعظیم اور بزرگ افراد میں سے ہیں- وہ کثیرالعلم،اور دائمی عبادت گزار انسان تھے اور ہمیشہ یاد خدا میں رہتے تھے ان کا زہد و تقویٰ سب پر آشکار تھا،قرآن کی کثرت سے تلاوت کرتے تھے،قرآن کے معانی و مفاہیم پر محققانہ و ماہرانہ نظر رکھتے تھے،اور قرآن کے معانی ومفاہیم کے سمندر سے جواہرات( قیمتی مطالب ومفاہیم ومعانی )  کا استخراج کرتے تھے،اور قرآن سے عجائب(نئی اور تازہ چیزیں )کا نتیجہ نکالتےتھے،انہوں نے اپنے اوقات کو اللہ کی مختلف اطاعات اور عبادات کے لئے تقسیم کر رکھا تھا اس طریقہ سےان اوقات میں اپنے محاسبہ نفس میں مشغول رہتے تھے- ان کا دیدار،آخرت کی یاد دلاتا تھا، اوران کا کلام سننا،دنیا میں زہد و تقویٰ کا باعث بنتا تھا،ان کے نقش قدم پہ چلنا جنت کا راہنما تھا،ان کے حسین وخوبصورت چہرہ کا نوراس بات کا گواہ تھا کہ وہ انبیاء کی اولاد اور ان کی نسل سے ہیں،اور ان کے اعمال وافعال کی طہارت و پاکیزگی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ رسالت و نبوت کی ذریت ہیں،ائمہ و بزرگ اساتذہ جیسے:يحيى بن سعيد انصاري،ابن جريج،مالك بن انس،(سفيان) ثوری،(سفيان) ابن عيينہ، وشعبہ،وايوب السجستانی اوران کےعلاوہ دوسرے افراد نے امام صادق علیہ السلام سے کسب علم کیا اور ان(امام صادق علیہ السلام) کی شاگردی اوران سے کسب علم کو اپنے لئے باعث فخروفضیلت سمجھتے تھے کہ جس سے وہ (ائمہ و بزرگان اہل سنت) آراستہ تھے ۔ [14]

سفيان بن عیینہ

سفیان بن عیینہ بن ابی عمران الکوفی 107 ہجری کو کوفہ میں پیدا ہوئےاور 198 ہجری کو دنیا سے انتقال کر گئے ۔ انہوں  نے ابوحنیفہ کے زمانے میں اپنی نوجوانی کے ایام میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فيض کیا۔ اہل سنت کے مختلف علماء نے اپنی کتابوں جیسے تہذیب ،نورالابصار ،تذکرہ ،صواعق ،ینابیع الموده ،حلیہ اور فصول میں لکھا ہے کہ سفیان بن عیینہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے۔[15]

ابو المحاسن ظاہری اہل سنت کے حنفی علماء میں سے ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں بعض آئمہ اور علمائے اہل سنت کے نام ذکر کیے ہیں جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فيض کیا ہے اور انہیں میں سے سفيان بن عیینہ بھی ہے وہ لکھتے ہیں : [ما وقع من الحوادث سنة 148] وفيها توفي جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علي زين العابدين بن الحسين بن علي بن أبى طالب رضي الله عنهم، الإمام السيد أبو عبد الله الهاشمي العلوي الحسيني المدني ... وكان يلقب بالصابر، والفاضل، والطاهر، وأشهر ألقابه الصادق ... وحدث عنه أبو حنيفة وابن جريج وشعبة والسفيانان ومالك وغيرهم. وعن أبي حنيفة قال: ما رأيت أفقه من جعفر بن محمد ؛ (جو واقعات سن 148 ہجری قمری میں رونما ہوئے ان کو بیان کرتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ ) اس سال ( امام) جعفر صادق (علیہ السلام) ابن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) نے وفات پائی وہ، امام و آقا تھے ابا عبداللہ ان کی کنیت تھی، اور وہ ہاشمی، علوی، حسینی اور مدنی تھے ۔ ان کو صابر، فاضل اور طاہر جیسے القاب سے پکارا جاتا تھا اور ان کا سب سے مشہور لقب صادق تھا۔ابوحنيفہ، ابن جريج، اور شعبہ اور سفيان بن عيينہ، سفيان، ثوری، مالک اور دوسرے افراد نے ان سے روایتیں نقل کی ہیں۔ ابو حنیفہ سے نقل ہوا کہ وہ کہتے تھے : میں  نے جعفر بن محمد( امام صادق علیہ السلام) سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔[16]

5۔ابن جریح

عبد الملک بن عبد العزیز بن جریح مکی اہل سنت کے علماء میں سے ہیں اور 80 ہجری کو ظاہراً بغداد میں پیدا ہوئے اور 149 یا 150 ہجری کو دنیا سے رحلت کی۔یہ بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے۔شیخ صدوق نے (ما یقبل من الدعاوی بغیر بیّنۃ) کے باب میں ایک روایت نقل کی ہے کہ جس کے سلسلہ سند میں ابن جریح بھی ہے اور اسی طرح اصول کافی میں  حلیت متعہ کے باب میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ جو افراد متعہ کے قائل ہیں ان میں سے ایک ابن جریح  بھی ہے۔ جب کسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے متعہ کے حلال ہونے کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا : الق عبدالملک بن جریح فاسأله عنها فانّ عنده منها علماً ؛ عبد الملک بن جریح سے ملاقات کر اور اس سے متعہ کے حلال ہونے کے بارے میں سوال کر کیونکہ  اس کے  پاس اس  کے بارے میں علم ہے۔[17]

6۔یحیی بن سعید انصاری

یحیی بن سعید بن قیس انصاری بنی نجار قبیلے سے تھا اور 143 ہجری کو ہاشمیہ میں دنيا سے انتقال کیا۔ منصور دوانیقی کی حکومت میں مدینہ کا قاضی تھا. یہ بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا۔[18] ابن صباغ مالکی اپنی کتاب میں کچھ افراد کے نام ذکر کرتے ہیں جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے سے روایات نقل کی ہیں اور ان میں سے یحیی بن سعید انصاری بھی ہیں ہے وہ لکھتے ہیں : كان جعفر الصادق ابن محمّد بن عليّ بن الحسين عليهم السلام ... وروى عنه جماعة من أعيان الاُمّة وأعلامهم مثل : يحيى بن سعيد وابن جريج ومالك بن أنس والثوري وابن عيينة وأبو حنيفة وشعبة وأبو أيّوب السجستاني وغيرهم ؛ جعفر الصادق ابن محمد بن علي بن الحسين عليہم السلام ان سے امت کے بزرگ علماء اور اساتذہ کی جماعت جیسے : يحیی بن سعيد، ابن جريج، مالك بن انس، الثوری، ابن عيينہ اور أبو حنيفہ و شعبہ اور ابو ايّوب  سجستانی اور دوسر ے لوگوں نے روایتیں نقل کی ہیں۔[19]

7۔قطان

ان کا مکمل نام یحییٰ بن سعید القطان بن فروخ تمیمی بصری ابو سعید کنیت اورنسبت القطان تمیمی تھی۔ آبائی وطن بصرہ  تھا ، وہیں سنہ120ھ میں ان کی ولادت ہوئی اور 198 ہجری میں ان کی وفات ہوئی. یہ اہل سنت کے بزرگان اور محدثین میں سے ہیں اور صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں۔ اہل سنت علماء  نے اپنی کتابوں جیسے تہذیب، ینابیع الموده اور اس کی مثل دوسری کتابوں میں تصریح کی ہے کہ قطان، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا [20]اور شیعہ علماء میں  سے  شیخ نجاشی اور ابن داؤد نے بھی اعتراف کیا ہے کہ یہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا۔[21]

 

8۔محمد بن اسحاق

محمد بن اسحاق بن یسار صاحب مغازی مدینہ میں پیدا ہوئے۔مکہ میں رہتے تھے اور 151 ہجری میں بغداد میں  انتقال کر گئے۔اہل سنت علماء میں صاحب تہذیب اور صاحب ینابیع الموده اور شیعہ علماء میں سے شیخ طوسی نے اپنی  کتاب رجال، علامہ نے اپنی کتاب خلاصہ میں  اعتراف کیا ہے کہ محمد بن اسحاق امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے۔[22]

9۔شعبہ بن حجاج

شعبہ نام اور ابو بسطام کنیت ہے۔ والد کا نام حجاج تھا، ان کے والد قصبہ واسط کے قریب ایک دیہات تہیمان کے رہنے والے تھے۔ 83ھ میں یہاں ہی  ان کی ولادت ہوئی۔ عام تذکرہ نگار ان کی جائے پیدائش واسط کو بتاتے ہیں مگر سمعانی نے لکھا ہے کہ واسط نہیں بلکہ اس کے ایک قریہ میں ان کی ولادت ہوئی۔ شعبہ اہل سنت کے بزرگان میں سے تھے اور اہل سنت علماء اپنی کتابوں جیسے تہذیب ،صواعق ،حلیہ ،ینابیع الموده، فصول، تذکرہ میں اعتراف کرتے ہیں کہ یہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے۔[23]

ابن تیمیہ اپنی کتاب میں کچھ افراد کے نام ذکر کرتا ہے جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فيض کیا اور ان میں شعبہ بن حجاج کا نام بھی ذکر کرتا،وہ لکھتا ہے : فإن جعفر بن محمد لم يجيء بعد مثله وقد أخذ العلم عنه هؤلاء الأئمة كمالك وابن عيينة وشعبة والثوري وابن جريج ويحيى بن سعيد وأمثالهم من العلماء المشاهير الأعيان؛ بیشک جعفر بن محمد ( امام جعفر صادق علیہ السلام) کے بعد ان کے مثل کوئی نہیں آیا اور اہل سنت کے بہت سے ائمہ و بزرگ علماء جیسے:مالک،سفیان بن عیینہ اورشعبہ،سفیان ثوری،ابن جریج، یحیی بن سعید اور اسی طرح دوسرے مشہور و معروف بزرگ علماء  نے امام صادق علیہ السلام سےعلم حاصل کیا۔[24]

10۔ ایوب سجستانی

ایوب بن ابی تمیمہ سجستانی بصری اہل سنت کے بزرگ فقہاء میں سے ہیں اور 65 سال کی عمر میں 131 ہجری میں طاعون کی بیماری سے بصرہ میں فوت ہوئے. اہل سنت علماء نے اپنی کتابوں جیسے تہذیب ،نورالابصار ،تذکرہ ،صواعق ،حلیہ اور فصول میں لکھا ہے کہ ایوب سجستانی امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا۔[25]

 

راويان

اہل سنت محدثین میں سے بہت سے ایسے نام دیکھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے احادیث نقل کی ہیں۔ ان میں سے بعض افراد کے نام ذکر کرتے ہیں :

1۔اسماعیل بن جعفر سے  ترمذی اور نسائی میں     روایات نقل کی گئی ہیں۔

2۔حاتم بن اسماعیل سے  بخاری کے علاوہ صحاح میں     روایات نقل کی گئی ہیں۔

3۔حسن بن صالح بن حی

4۔حسن بن عیاش سے مسلم اور نسائی نے  روایات نقل کی ہیں۔

5۔حفص بن غیاث  سے  مسلم، ابی داؤد اور ابن ماجہ نے   روایات نقل کی ہیں۔

6۔ زہیر بن محمد تمیمی

7۔زید بن سعید انماطی

8۔سعید بن سفيان اسلمی

9۔سفيان ثوری

10۔سلیمان بن بلال

11۔شعبہ بن حجاج

12۔ابو عاصم ضحاک بن مخلد نبیل

13۔سفیان بن عیینہ سے ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے   روایات نقل کی ہیں ۔

14۔عبداللہ بن میمون قداح  سے  ترمذی نے  روایات نقل کی ہیں ۔

15۔عبد العزیز بن عمران زہری سے ترمذی نے نقل کیا ہے ۔

16۔عبد العزیز بن محمد دراوردی سے مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایات نقل کی ہیں ۔

17۔عبد الوہاب بن عبد الحمید الثقفی سے مسلم، ترمذی، ابن داؤد اور ابن ماجہ نے روایات نقل کی ہیں ۔

18۔عثمان بن فرقد

19۔امام مالک سے ترمذی، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے روایات نقل کی ہیں ۔

20۔محمد بن اسحاق بن یسار

21 ۔حمد بن ثابت بنانی صحیح ترمذی میں ۔

22۔حمد بن میمون زعفرانی صحیح ابی داود میں۔

23۔سلم بن خالد زنجی۔

24۔معاویۃ  بن عمار دہنی  مسند احمد و افعال العباد میں۔

25۔موسی بن عمیر قرشی۔

26۔الامام الکاظم  صحیح ترمذی  اور  ابن ماجہ  میں۔

27۔ابوحنیفہ نعمان ثابت۔

28۔وہیب بن خالد  صحیح مسلم میں۔

29۔یحیی بن سعید انصاری  صحیح مسلم  اور  نسائی میں۔

30۔حیی بن سعید قطان  صحیح ابی داود  اور  نسائی میں۔

31۔یزید بن عبداللّه بن الهاد۔

32۔ابوجعفر رازی۔[26]

 

 

مآخذ

1۔محمد ذہبی، تذکرة الحفاظ، بیروت، داراحیاء التراث العربی۔

2۔محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1395۔

3۔الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ، ط 2، بیروت، دارالکتب العربی، 1390۔

4۔ابن حجر العسقلانی، تہذیب التہذیب، بیروت، دارالفکر، 1404 ق، اول۔

5۔تہذیب الکمال، بہ نقل از دراساتٌ و بحوثٌ مؤتمر الامام جعفر بن محمد الصادق، مجمع جہانی اہل بیت، 1382 هـ.ش۔

6۔ مختصر تاریخ العرب، عفیف البعلبکی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1967 م۔

7۔ابن تيميہ الحراني الحنبلی، ابوالعباس احمد عبد الحليم (متوفاى 728 هـ)، منہاج السنۃ النبويۃ  ، مؤسسۃ قرطبۃ، الطبعۃ: الاولى، 1406ه۔

8۔الاتابكی، جمال الدين ابی المحاسن يوسف بن تغری بردى (متوفاى874هـ)، النجوم الزاہرة فی ملوك مصر والقاہرة، ناشر: وزارة الثقافۃ والارشاد القومی ۔ مصر۔

9۔الشافعی، محمد بن طلحہ(متوفاي652هـ)، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول (ع)، ص 436 ، تحقيق : ماجد ابن احمد العطيہ۔

10۔المالكی المکی، علی بن محمد بن أحمد المعروف بابن الصباغ (متوفاي885هـ)، الفصول المہمۃ  فی معرفۃ الائمۃ، دار الحديث للطباعۃ والنشر  مركز الطباعۃ والنشر فی دار الحديث ۔قم، الطبعۃ  الاولى: 1422 – 1379 ش۔

 


[1] ۔دفیات الاعیان ،ج۱،ص105۔

[2] ۔ ارجح المطالب ،ص361۔

[3] ۔انوار الحسینیہ، ص 50۔

[4] ۔ زندگانی امام صادق علیہ السلام، ص 61۔

[5] ۔ اختیار معرفۃ الرجال، ج 3، ص 419۔

[6] ۔ الارشاد ،ج 2، ص 254۔

[7] ۔ مختصر تحفۃ الاثنی عشریہ۔

[8] ۔ تذکرة الحفاظ، ج1، ص 166۔

[9] ۔ اعلام الہدایہ، ج1، ص 229۔

[10] ۔ تہذیب التہذیب، ج 1، ص 88۔

[11] ۔ اعلام الہدایۃ، ج 8، ص 229 ـ 230۔

[12] ۔ اعلام الہدایہ،ج 1 ، ص 229۔

[13] ۔ اعلام الہدایہ،ج 1 ، ص 230۔

[14] ۔ مطالب السؤول في مناقب آل الرسول (ع)، ص 436۔

[15] ۔ اعلام الہدایہ،ج 1 ، ص 230۔

[16] ۔ النجوم الزاہرة في ملوك مصر والقاہرة، ج 2 ص 68۔

[17]۔ اعلام الہدایہ،ج 1  ص 230 و 231۔

[18] ۔ اعلام الہدایہ،ج 1  ص 230 و 231۔

[19] ۔ الفصول المہمۃ في معرفۃ الأئمۃ، ج 2 ص 907-908۔

[20] ۔ اعلام الہدایۃ، ج 8، ص 232۔

[21] ۔ اعلام الہدایۃ، ج 8، ص 232۔

[22] ۔ تہذیب الکمال، ج 2، ص 419۔

[23] ۔ تہذیب الکمال، ج 2، ص 419۔

[24] ۔ منہاج السنۃ  النبويۃ، ج 4 ص 126۔

[25] ۔ مختصر تاریخ العرب، ص 193۔

[26] ۔ دائرة المعارف، ص 617، ج 10۔ مختصر تاریخ العرب، ص 193۔