مختصر تعارف گلستان زہراء

(تعارف، اہداف ،کارکردگی اور آینده پروگراموں کا ایک مختصر جائزہ)

گلستان زہراء،ایک خالص دینی،علمی اورتبلیغی پلیٹ فارم ہے کہ جس کی تشکیل کا مقصد مومنین و مومنات خصوصاً نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت انجام دینا ہے۔ایسی تربیت کہ جس کی بنیاد علم اور تقویٰ پر ہو۔اور جس کی عمارت محکم دلیلوں پر قائم ہو۔اور آج کی نسل جدید ،اسلامی تعلیمات کو اس کے اصلی اور حقیقی منابع سے ،بغیر کسی ملاوٹ اور تحریف کے،حاصل کر سکے۔اور دین مبین اسلام کے خلاف ہونے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر سکیں، تاکہ آج کی نئی نسل اس آیت کا مصداق بن سکے

كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ۔ (العمران ،۱۱۰)

تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

اہداف اور مقاصد

1. اسلامی معارف و مبانی کی تعلیم و ترویج کےلیے تعلیم اور تبلیغ کے میدان میں ایک منظم تحریک شروع کرنا ۔

2. احیاء عزاداری سید الشہدا اور مقصد قیام امام حسین علیہ السلام ۔

3. خرافات، بدعات اور انحرافات سے پاک معتبر اسلامی معارف کی ترویج ۔

4. مومنین کو صحیح اعتقادات کے مبانی اور معارف سے آگاہ کرنا ۔

5. فکری اور ثقافتی انحرافات کا مقابلہ کرنے کےلیے صحیح اسلامی تعلیمات کی ترویج اور اصلاح معاشرہ کےلیے اقدامات۔

7. ایسے نوجوانوں کی تحقیق کے میدان میں رہنمائی و حوصلہ افزائی جو صحیح اسلامی نقطہ نظر کو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں ۔

8. جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنا ۔

9. طلباء و طالبات کے درمیان مختلف موضوعات کے علمی مقابلوں کا انعقاد ۔

10. ، اسلامی دروس اور لیکچرز کی ریکارڈنگ اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی نشر و اشاعت۔

فعالیت

1۔جامعہ مسجد امام علی علیہ السلام ، جس میں نماز پنجگاہ کے علاوہ ، دعا و مناجات اور ہر روز کا درس اخلاق اور نماز جمعہ کا مرکزی اجتماع شامل ہیں ۔

2۔قدیمی امام بارگاہ جس میں عشرہ محرم کے علاوہ مختلف مناسبات کی سالانہ مجالس عزاء برپا ہوتی ہیں ۔

3۔ فلٹر پلانٹ ، جس سے ہر روز اہل علاقہ مستفید ہوتے ہیں ۔

4 ۔ قرآن و دینیات سینٹر

5 ۔ عید الاضحی کے موقع پر اجتماعی قربانی کا اہتمام

6 ۔ ماہ مبارک رمضان میں تقسیم راشن و عیدی

7 ۔ مختلف دینی موضوعات پر علمی و تربیتی مقابلوں کا انعقاد

8۔ گلستان زہراء یوٹیوب چینل کا قیام

9۔فیس بک پر ایک علمی اورتبلیغی پیج کا قیام کہ جس پر ہر روز آیات قرآنیہ،احادیث معصومین، ؑ معتبر تاریخی واقعات،اور اخلاق پر مبنی پوسٹس ۔

10۔واٹس ایپ پر مومنین کرام کی علمی اور فکری تربیت اور اخلاقی ارتقاء کے پیش نظر گروپ کا قیام،کہ جس میں ہر روز بلا ناغہ روایات معتبرہ، اخلاقی واقعات،مختلف مناسبتوں کے حوالے سے پوسٹس شئیر کی جاتی ہیں۔

11۔ مختلف مقامات پر ،تعطیلات کے ایام میں ورکشاپس کا انعقاد اور کالج اور یونیورسٹی کے طلاب کے لیے مختصر ایام میں معارف دینی سے آشنائی کا بہترین موقع۔کہ جس میں نوجوانان ملت کی علمی،فکری اور اخلاقی تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔

12 ۔ ضرورت مندوں کی حاجت روائی۔

گلستان زہراء ، کپورو والی ، سیالکوٹ

رابطہ: 03006151465 - 03192437646

ہمیشہ یاد رکھنے کی باتیں

♥️چار قسم کے لوگوں کے ساتھ مہربان رہیں 

1️⃣باپ  

2️⃣ماں  

3️⃣بھائی 

4️⃣بہن

♥️چار چیزیں اپنے اندر پیدا کریں 

1️⃣صبر  

2️⃣کَرَم  

3️⃣بردباری  

4️⃣علم

♥️چار قسم کے لوگوں سے نیکی کرنی چاہیے 

1️⃣مخلص  

2️⃣باوفا 

3️⃣کریم  

4️⃣صادق

♥️چار چیزوں کو اپنی زندگیوں سے مت نکالنا 

1️⃣نماز ، 

2️⃣قرآن ، 

3️⃣ذکر خدا ، 

4️⃣صله رحمی

ہر کام قابل تلافی نہیں ہوتا

ایک عورت نے اپنے پڑوسی کے بارے میں بہت سی بے بنیاد باتیں گھڑیں اور انہیں پھیلانا شروع کردیا۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد، آس پاس کے سبھی لوگ ان افواہوں سے آگاہ ہوگئے۔ جس شخص کے خلاف یہ افواہیں پھیلائی گئی تھیں اسے شدید صدمہ ہوا اور اسے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 بعد میں اس عورت کو اپنے پڑوسی کا حال دیکھ کر احساس ہوا کہ ان جھوٹی افواہوں کی وجہ اس کے پڑوسی کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اسے اپنے اس عمل پر افسوس ہوا۔ وہ ایک حکیم کے پاس گئی تاکہ اپنے اس عمل کا ازالہ کرنے میں اس سے مدد حاصل کرے۔

حکیم نے اسے کہا: بازار سے ایک مرغی خریدو اور اسے ذبح کر کے اس کے پروں کو اپنی رہائش گاہ کے قریب سڑک پر ایک ایک کر کے بکھیر دو۔ وہ عورت اس راہ حل سے حیرت زدہ تو ہوئی، لیکن اس نے اسے انجام دیا۔

اگلے دن حکیم نے اس سے کہا کہ اب جاؤ اور ان پروں کو اکٹھا کر کے میرے پاس لاؤ۔ وہ عورت گئی لیکن چار سے زیادہ پر اسے نہیں مل پائے۔ وہ متحیر حالت میں حکیم کے پاس آئی تو اس کی حیرت کو دیکھ کر حکیم نے کہا، پروں کو بکھیرنا تو آسان تھا لیکن انہیں اکٹھا کرنا اتنی آسان بات نہیں۔ بالکل اسی طرح افواہیں گھڑنا اور ان کو پھیلانا تو ایک آسان کام تھا لیکن اس کی پوری تلافی کرنا ناممکن ہے۔

پس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ بات اچھی ہو یا بری ایک دفعہ منہ سے نکلی تو پھر واپس نہیں آئے گی۔ ہمیشہ کوشش کریں کہ ایسی بات کریں جو دوسروں کی خوشی کا باعث بنے نہ توہین اور پریشانی کا۔

نماز کا قضا ہونا ناقابل تلافی نقصان

✍ایک شخص سفر تجارت کا ارادہ رکھتا تھا امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور استخاره کی درخوست کی ، استخاره بد آیا لیکن وہ پھر بھی سفر پر چلا گیا اتفاقاً سفر بہت اچھا گزرا اور منافع بھی بہت کمایا ۔ سفر سے واپسی پر امام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا 

اور عرض کی : 

یابن رسول الله ! آپ کو یاد ہوگا سفر پہ جانے سے پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا آپ نے استخارہ کیا تھا اور استخارہ بد آیا تھا لیکن میرا سفر اچھا رہا ہے اور منافع بھی بہت کمایا ہے . 

امام مسکرائے اور فرمایا : (تمہیں یاد ہے سفر میں تم فلاں شخص کے گھر گئے تھے تھکے ہوئے تھے نماز مغربین پڑھ کے کھانا کھا کے سوگئے تھے اور صبح جب اٹھے تو سورج طلوع ہوگیا تھا اور آپ کی نماز صبح قضا ہو گئی تھی؟ 

عرض کی جی یاد ہے. 

امام نے فرمایا : اگر خداوند دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے تجھے عطا کر دے تو بھی اس خسارت (نماز صبح کے قضا ہونے) کا جبران نہیں ہو سکتا  

قال علی علیه السلام: 

لَا یَخْرُجِ الرَّجُلُ فِی سَفَرٍ یَخَافُ مِنْهُ عَلَى دِینِهِ وَ صَلَاتِهِ 

انسان کو ایسے سفر پر نہیں جانا چائیے جس میں اسے دین یا نماز کے کھونے کا خوف ہو

📙وسائل الشیعہ، ج11، ص344

ترک گناہ کا نسخہ

ایک دن ایک عالم دین کا شاگرد اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں جوان ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ نامحرم عورتوں کو نہ دیکھوں اس کے باوجود اپنی آنکھوں پر قابو نہیں پا سکتا۔ مجھے کچھ بتائیں میں کیا کروں؟

عالم دین نے دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ اسے دیا اور کہا کہ اسے فلاں جگہ تک پہنچانا ہے اور اس بات کا خیال رہے کہ اس میں سے ایک قطرہ بھی گرنے نہ پائے۔

اپنے ایک اور شاگرد کو کہا کہ وہ اس کے ساتھ رہے اور اگر دودھ کا ایک قطرہ بھی گرائے تو تمام لوگوں کے سامنے اسے تھپڑ مارنا۔ اس جوان نے دودھ کا پیالہ صحیح و سالم حالت میں حتی ایک قطرہ بھی گرانے کے بغیر مخصوص جگہ تک پہنچایا۔ 

جب واپس عالم دین کے پاس پلٹا تو اس نے پوچھا: راستے میں کتنی لڑکیوں کو دیکھا ہے؟ کہا: ایک بھی نہیں۔ مجھے تو فقط یہی فکر تھی کہ کہیں دودھ نہ گر جائے اور لوگوں کے سامنے تھپڑ کھانے سے ذلت و رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

عالم دین نے کہا: مومن شخص بھی اسی طرح ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام کو دیکھ رہا ہے۔ اور ہمیشہ روز قیامت کے حساب و کتاب، میدان حشر میں لوگوں کے سامنے رسوائی اور عذاب جہنم سے ڈرتا رہتا ہے۔

کم ارزش چیزوں کے لئے قیمتی چیزوں کو ضائع نہ کریں

رات کے وقت راستے میں جاتے ہوئے ایک شخص کا پاؤں ایک سکے سے ٹکرایا۔ اس نے سوچا کہ یہ سونے کا سکہ ہے۔ اس نے اسے دیکھنے کے لئے ایک کاغذ کا ٹکڑا جلایا۔ جب دیکھا تو وہ پانچ روپے والا سکہ تھا اور اسے دیکھنے کے لئے جسے کاغذ سمجھ کر جلایا تھا وہ ہزار روپے والا نوٹ تھا۔ اس وقت اسے احساس ہوا کہ میں نے کس چیز کے لئے کسے جلا دیا ہے۔

یہی ہماری زندگی کا حال ہے۔ قیمتی چیزوں کو بے قیمت چیزوں کے لئے نذر آتش کر دیتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔

اپنے سکون کو دیکھا دیکھی اور دوسروں کے ساتھ اپنا مقایسہ کرنے میں برباد کر دیتے ہیں۔

اپنی جان کو عارضی و بے وقعت دباؤ اور پریشانی کی وجہ سے خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

قضا و قدر الہی پہ خوش رہیں، اس کے فضل و کرم کے امیدوار رہیں۔ اور ذکر الٰہی سے اپنے اطمینان قلب کو بڑھاتے رہیں۔

گڈریا اور مسافر

ایک شخص اپنی ذاتی گاڑی پر کہیں سفر پہ گیا ہوا تھا، اذان ظہر کے وقت شہر کے باہر ایک روڈ پر اس نے ایک چرواہے کو دیکھا کہ جو ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا۔ اور ساتھ میں اس کی بھیڑیں بھی چر رہی تھیں۔ 

اسے یہ منظر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، اور اس نے چرواہے کے پاس جا کر اس سے پوچھا: 
تمہیں کون سی چیز اول وقت میں نماز پڑھنے پر وادار کرتی ہے؟!
چرواہے نے جواب دیا: جب میں اپنی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے سیٹی بجاتا ہوں تو یہ فوراً میرے پاس جمع ہو جاتی ہیں۔ اور اگر خدا مجھے اپنے قریب بلائے اور میں نہ جاؤں تو پھر تو میں ان بھیڑوں سے بھی بدتر ہوں۔
ذرا سوچیے اگر ہمارے حلقے کا MPA ہمیں ملنے کے  لئے بلائے تو ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور دعوت نامے اور ملاقات کے بارے میں پورے محلے کو بتاتے لیکن جب تمام جہانوں کا پروردگار ہمیں اپنے دربار میں بلاتا ہے تو ہم اذان کی آواز سنتے ہوئے بھی رب کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہوتے۔

برے رویے پر ناراضگی کی بجائے ہمدردی

ایک دن حکیم سقراط نے ایک مرد کو دیکھا جو بہت غصّے میں تھا۔ سقراط نے اس سے ناراضگی کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا:

میں نے راستے میں ایک واقف شخص کو دیکھا ہے، میں نے اسے سلام کیا لیکن اس نے جواب ہی نہیں دیا! اور لاپرواہی سے میرے پاس سے گزر گیا۔ مجھے اس کے اس رویے سے بہت دکھ ہوا ہے۔ 

سقراط نے کہا: تو اس بات کا غصّہ کیسا؟

اس مرد نے تعجب کرتے ہوئے کہا: ظاہر ہے اس قسم کا رویہ ناراضگی کا سبب تو بنتا ہے۔

سقراط نے اس سے پوچھا:

اگر تو راستے میں کسی ایسے شخص کو دیکھتا کہ جو زمین پر گرا ہوا ہوتا اور درد کی وجہ سے کروٹیں بدل رہا ہوتا! آیا تو اس کی اس حالت پر برا مناتا اور اس سے ناراض ہوتا؟

تو اس نے حکیم سے کہا ہرگز نہیں! کیونکہ ظاہر ہے کوئی بھی کسی کی بیماری پر ناراض نہیں ہوتا۔ 

سقراط نے سوال کیا۔ تو پھر ناراضگی کی بجائے اس مریض کے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟

اس نے جواب دیا: اس کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا اظہار کرتا اور کوشش کرتا کہ اس کے لئے کسی ڈاکٹر کو بلا کے لاؤں یا کوئی دوا لاؤں۔

سقراط نے کہا: تو اس کے ساتھ اچھا سلوک اس لئے کرنا چاہتا تھا کہ وہ مریض ہے۔ آیا جس شخص کا کردار اچھا نہیں کیا وہ فکری طور پر مریض نہیں ہے؟  

 فکری و ذہنی بیماری کا نام غفلت ہے۔ جو شخص غافل ہے اور بدی انجام دیتا ہے تو اس کے ساتھ ناراض ہونے کی بجائے اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور اس کی مدد کی جائے۔  

پس کسی سے ناراض نہ ہوں اور کینے کو دل میں جگہ نہ دیں۔ جان لیں کہ جو بھی برائی کا مرتکب ہوتا ہے روحانی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔

مـــاں کی دعاؤں کا اثر

ابو سعید ابوالخیر سے کسی نے سوال کیا:آپ نے اتنی شہرت کیسے حاصل کی ہے؟

اس نے کہا کہ ایک رات کو میری ماں نے مجھ سے پانی مانگا، پانی لانے میں مجھ سے تھوڑی سی دیر ہو گئی اور جب میں ماں کے پاس پہنچا تو وہ سو چکی تھی!

اسے جگانے کے لئے میرا جی نہیں کر رہا تھا، اس لئے میں پانی کا پیالہ ہاتھ میں لئے وہیں بیٹھا رہا، 

جیسے ہی ایک دفعہ ماں نے آنکھیں کھولیں اور پانی کا پیالہ میرے ہاتھ میں دیکھا تو مجھ سے سارا واقعہ دریافت کیا جب میں نے بتایا تو، ماں نے کہا:

 «مجھے امید ہے کہ تو پورے عالم میں شہرت حاصل کرے گا»

یہ الله تعالیٰ کے نزدیک ماں کی قدر و منزلت اور اس کی دعا کی تاثیر کی ایک چھوٹی سی داستان تھی!!!

آئیں اپنی پیاری ماں کی اطاعت اور عدم نافرمانی کے اسے راضی کریں۔ کیونکہ والدین کی خوشی اور ان کی دعا کا شامل حال ہونا ہماری سعادتمندی اور خوشحالی کا باعث ہے۔

برے رویے پر ناراضگی کی بجائے ہمدردی

ایک دن حکیم سقراط نے ایک مرد کو دیکھا جو بہت غصّے میں تھا۔ سقراط نے اس سے ناراضگی کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا:

میں نے راستے میں ایک واقف شخص کو دیکھا ہے، میں نے اسے سلام کیا لیکن اس نے جواب ہی نہیں دیا! اور لاپرواہی سے میرے پاس سے گزر گیا۔ مجھے اس کے اس رویے سے بہت دکھ ہوا ہے۔ 
سقراط نے کہا: تو اس بات کا غصّہ کیسا؟
اس مرد نے تعجب کرتے ہوئے کہا: ظاہر ہے اس قسم کا رویہ ناراضگی کا سبب تو بنتا ہے۔
سقراط نے اس سے پوچھا:
اگر تو راستے میں کسی ایسے شخص کو دیکھتا کہ جو زمین پر گرا ہوا ہوتا اور درد کی وجہ سے کروٹیں بدل رہا ہوتا! آیا تو اس کی اس حالت  پر برا مناتا اور اس سے ناراض ہوتا؟
تو اس نے حکیم سے کہا ہرگز نہیں!  کیونکہ ظاہر ہے کوئی بھی کسی کی بیماری پر ناراض نہیں ہوتا۔ 
سقراط نے سوال کیا۔ تو پھر ناراضگی کی بجائے اس مریض کے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟
اس نے جواب دیا: اس کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا اظہار کرتا اور کوشش کرتا کہ اس کے لئے کسی ڈاکٹر کو بلا کے لاؤں یا کوئی دوا لاؤں۔
سقراط نے کہا: تو اس کے ساتھ اچھا سلوک اس لئے کرنا چاہتا تھا کہ وہ مریض ہے۔ آیا جس شخص کا کردار اچھا نہیں کیا وہ فکری طور پر مریض نہیں ہے؟  
 فکری و ذہنی بیماری کا نام غفلت ہے۔ جو شخص غافل ہے اور بدی انجام دیتا ہے تو اس کے ساتھ ناراض ہونے کی بجائے اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور اس کی مدد کی جائے۔  
پس کسی سے ناراض نہ ہوں اور کینے کو دل میں جگہ نہ دیں۔ جان لیں کہ جو بھی برائی کا مرتکب ہوتا ہے روحانی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•       

اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ایک نمونہ

بحر سقا نے امام صادق علیہ السّلام سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے مجھے فرمایا:

اے بحر! حسن خلق، امور میں آسانی کا باعث ہے۔ اور پھر فرمایا کیا میں تمہیں وہ واقعہ نہ سناؤں کہ جسے تمام ایل مدینہ جانتے ہیں؟ 
میں نے عرض کیا: کیوں نہیں!
تو انہوں نے فرمایا:
ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم مسجد میں بیٹھے، چند صحابہ کے ساتھ باتی کر رہے تھے۔ انصار میں سے کسی شخص کی ایک چھوٹی سی کنیز مسجد میں داخل ہوئی اور حضور ص کے قریب آئی۔ اس نے چپکے سے آپ کی عبا کے دامن کو پکڑ کر کھینچا، جیسے ہی آپ ص نے محسوس کیا، اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور سوچا کہ شاید اس بچی کو میرے ساتھ کوئی کام ہے، لیکن جب آپ ص اٹھے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اور آپ بھی اسے کچھ کہے بغیر بیٹھ گئے۔ پھر اس نے عبا کے دامن کو پکڑ کر کھینچا، حضرت ص پھر کھڑے ہوئے، حتی تین بار ایسا ہوا، جب چوتھی مرتبہ حضرت ص اٹھے تو اس نے آپ ص کی عبا سے چھوٹا سا ٹکڑا کاٹا اور چلی گئی۔ 
صحابہ کرام اس منظر کو دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا: 
اے کنیز لڑکی! تو نے یہ کیا کیا ہے؟  تو نے حضور ص کو تین بار اپنی جگہ سے اٹھایا ہے اور کچھ بھی نہیں بولی اور آخر میں ان کی عبا کو کاٹ لیا ہے۔ تو نے ایسا کیوں کیا ہے؟
کنیز لڑکی نے کہا: 
ہمارے گھر میں ایک شخص مریض ہے، اہل خانہ نے مجھے حضور ص کی عبا کا چھوٹا سا ٹکڑا کاٹنے کے لئے بھیجا ہے تاکہ اس مریض کے ہاتھ پر باندھیں اور وہ شفا یاب ہو جائے۔ میں ہر بار عبا کا ٹکڑا کاٹنا چاہتی تھی مگر مجھے شرم آتی تھی اور نہیں کاٹ سکتی تھی اور ان سے اس کے لئے اجازت لینا بھی مجھے اچھا نہیں لگا لہذا مجھے اس کے لئے یہی ترکیب سوجھی ۔ 
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بغیر کسی  غصّے اور ناراضگی کے اس چھوٹی کنیز کو الوداع کہہ دیا۔

​​📖 متن کلام

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزِ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ عَنْ بَحْرٍ اَلسَّقَّاءِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ:

يَا بَحْرُ حُسْنُ اَلْخُلُقِ يُسْرٌ ثُمَّ قَالَ أَ لاَ أُخْبِرُكَ بِحَدِيثٍ مَا هُوَ فِي يَدَيْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ اَلْمَدِينَةِ.

قُلْتُ: بَلَى!

قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسٌ فِي اَلْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَتْ جَارِيَةٌ لِبَعْضِ اَلْأَنْصَارِ وَ هُوَ قَائِمٌ فَأَخَذَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَقَامَ لَهَا اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَلَمْ تَقُلْ شَيْئاً وَ لَمْ يَقُلْ لَهَا اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ شَيْئاً حَتَّى فَعَلَتْ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَامَ لَهَا اَلنَّبِيُّ فِي اَلرَّابِعَةِ وَ هِيَ خَلْفَهُ فَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ ثُمَّ رَجَعَتْ.

فَقَالَ لَهَا اَلنَّاسُ: فَعَلَ اَللَّهُ بِكِ وَ فَعَلَ حَبَسْتِ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لاَ تَقُولِينَ لَهُ شَيْئاً وَ لاَ هُوَ يَقُولُ لَكِ شَيْئاً. مَا كَانَتْ حَاجَتُكِ إِلَيْهِ؟

قَالَتْ: إِنَّ لَنَا مَرِيضاً فَأَرْسَلَنِي أَهْلِي لآِخُذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ لِيَسْتَشْفِيَ بِهَا فَلَمَّا أَرَدْتُ أَخْذَهَا رَآنِي فَقَامَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ أَنْ آخُذَهَا وَ هُوَ يَرَانِي وَ أَكْرَهُ أَنْ أَسْتَأْمِرَهُ فِي أَخْذِهَا فَأَخَذْتُهَا.

📚 الکافی، ج2، ص102.

جوان چور اور خوبصورت عورت

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے صحابہ میں ایک جوان تھا جسے ظاہری طور پر لوگ بہت اچھا انسان سمجھتے تھے اور کسی کو بھی اس کے گناہگار ہونے کا شک نہیں تھا۔ دن کے وقت وہ مسجد اور بازار میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا، لیکن رات کے وقت لوگوں کے گھروں میں چوریاں کرتا تھا۔

ایک دن اس نے ایک گھر دیکھا اور ارادہ کیا کہ جب رات ہو گی تو اس گھر میں چوری کروں گا۔ وہ اندھیرا پڑتے ہی گھر کی دیوار پر چڑھ گیا۔ گھر کے اندر دیکھا تو گھر قیمتی سامان سے بھرا ہوا تھا اور اس گھر میں فقط ایک نوجوان خاتون رہتی تھی۔ اس کا شوہر فوت ہوگیا تھا اور اس کا کوئی رشتہ دار نہیں تھا۔ وہ اس گھر میں تنہا رہتی تھی۔ وہ عورت رات کا کچھ حصہ نماز شب اور عبادت میں گزارتی تھی۔
نوجوان چور اس عورت کی خوبصورتی کو دیکھ کر گناہ کا  سوچنے لگا۔ اور اپنے آپ سے کہنے لگا کہ آج کی رات دولت بھی ملے گی اور شباب کی لذّت بھی حاصل ہو گی! وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اچانک نور الہی کی ایک کرن اس کے جسم سے ٹکرائی اور اس کے تاریک دل کو ہدایت کے نور سے روشن کیا۔ تو اس نے اپنے آپ سے کہا:
"اگر میں نے اس عورت کی جائیداد لے لی اور اس کے عفت کو داغدار کردیا اور تھوڑے ہی وقت کے بعد جب  مروں گا اور خدائی عدالت میں بلایا جاؤں گا، تو وہاں روز قیامت کے مالک کو کیا جواب دوں گا؟
اسے اپنی اس حرکت پر پچھتاوا ہوا، دیوار سے نیچے اترا اور شرمندہ ہوکر گھر لوٹ آیا۔ 
اگلی صبح وہ مسجد میں آیا اور یارانِ پیغمبر ص کے ساتھ مل گیا۔ اسی دوران وہی خوبصورت عورت مسجد میں آئی اور رسول اللہ ص کی خدمت میں عرض کرنے لگی:
اے اللہ کے رسول! میں اکیلی عورت ہوں میرے پاس گھر اور دولت ہے۔
میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اور میں اکیلی ہو گئی ہوں۔ کل رات میں نے اپنے گھر کی دیوار پر سایہ دیکھا۔
مجھے لگتا ہے کہ شاید وہ کوئی چور تھا، میں بہت خوفزدہ ہو گئی اور صبح تک نیند بھی نہیں آئی۔
میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ میری شادی کر دیں، مجھے مال و دولت کچھ بھی نہیں چاہئے۔ "کیونکہ وہ سب کچھ میرے پاس ہے۔"
اس وقت رسول اللہ ص نے حاضرین مسجد پر سیک نگاہ ڈالی اور اس مجمعے میں موجود اس چور نوجوان کی طرف مہربانی سے دیکھا اور اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا:
"کیا تم شادی شدہ ہو؟"
اس نے عرض کیا: نہیں!
کیا تم اس جوان عورت سے شادی کے لئے تیار ہو؟
 عرض کیا: جو آپ کا حکم!
نبی اکرم ص نے ان دونوں کا نکاح پڑھایا اور کہا: 
"اٹھو اور اپنی بیوی کے ساتھ گھر جاؤ!
متقی نوجوان اٹھ کر اس عورت کے ساتھ گھر گیا اور خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے نماز پڑھنے اور عبادت خدا میں مشغول ہو گیا۔
وہ عورت،  اپنے جوان شوہر کے اس کام سے بہت حیران ہوئی اور پوچھا: 
"یہ اتنی عبادت کس لئے ہے!؟
نوجوان نے جواب دیا:
 اے میری با وفا زوجہ! میری عبادت کا ایک سبب ہے۔
میں وہی چور ہوں جو کل رات آپ کے گھر آیا تھا لیکن خدا کی رضا کی خاطر، میں نے تیری عفت کو پامال نہیں کیا۔ اور اس رحیم خدا نے، میرے تقویٰ اور توبہ کی وجہ سے، حلال طریقے سے، تجھے اس مکان اور سارے مال و اسباب کے مجھے عطا دیا۔
تو کیا خدا کی اس عظیم عنایت کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی زیادہ سے زیادہ عبادت نہ کروں؟
اس عورت نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، دعا اور عبادت، خدا کے شکر ادا کرنے کا اعلی نمونہ ہے۔
📚 منبع: عرفان اسلامی، حسین انصاریان، ج8، ص254.

حکایت: کچی پینسل

ایک عالم پینسل کے ساتھ لکھنے میں مشغول تھا.

 بچے نے پوچھا: 

کیا لکھ رہے ہیں؟

 عالم مسکرایا اور کہا: 

میری تحریر سے کہیں زیادہ مہم یہ پینسل ہے جس سے میں لکھ رہا ہوں!

 جب تم بڑے ہونا تو اس پینسل جیسا بننا، بچے نے بڑا تعجب کیا‼️

کیونکہ پینسل میں اسے کچھ خاص نظر نہیں آ رہا تھا. 

عالم نے کہا: پانچ خصلتیں اس پینسل سے سیکھو!

1️⃣ آپ بڑے بڑے کام کر سکتے ہو لیکن کبھی مت بھولنا کہ ایک ہاتھ ہے جو تمہاری حرکات کو کنٹرول کر رہا ہے اور وہ خدا ہے۔

2️⃣ کبھی پینسل تراش کا استعمال بھی کرنا چاہئے یہ تکلیف دہ تو ہے لیکن اس کی نوک کو تیز کر دیتی ہے. پس جان لو تکلیفیں اور مشکلیں آپ کو اچھا بنا دیتی ہیں۔

3️⃣ پینسل کی غلطی کبھی بھی آپ ریزر سے مٹا سکتے ہیں پس جان لو غلطی کی درستگی کوئی غلط کام نہیں۔

4️⃣ پینسل کی لکڑی لکھنے کےلئے مھم نہیں ہے مھم وہ سکہ ہے جو اندر ہوتا ہے پس جان لو ہمیشہ اپنے اندر میں دیکھتے رہو کہ کیا چیز اس میں ہے۔

5️⃣ پینسل ہمیشه اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے پس جان لو جو کام بھی تم اپنی زندگی میں کرتے ہو کچھ اثرات اس کے رہ جاتے ہیں اس لیے اپنے اعمال کے انتخاب میں دقت کریں۔

حکایت: دوسروں کے عیب چھپانا

ایک بادشاہ تھا جو ایک انکھ سے اندھا اور ایک ٹانگ  سے معذور تھا بادشاہ نے اپنی سلطنت کے تمام پینٹرز کو دربار میں بلایا اور کہا کہ میری ایک خوبصورت سی تصویر بناؤ لیکن کوئی نہیں بنا سکا کیونکہ بادشاہ سلامت میں تو دو بہت بڑے عیب تھے ایک تو آنکھ نہیں دوسرا ایک ٹانگ سے لنگڑا بھی، پینٹنگ کیسے خوبصورت بنتی؟

آخرکار ایک پینٹر نے کہا میں ایسی خوبصورت تصویر بنا سکتا ہوں اور اس نے بادشاہ کی تصویر بنا کر سب کو حیران کر دیا اس نے تصویر بنائی کہ جس میں بادشاہ ایک آنکھ بند کر کےاور ایک ٹانگ پہ گھٹنے کے بل بیٹھ کے شکار پر نشانہ لگا رہا ہے ۔

🔶 ہم بھی لوگوں کی ایسی تصویریں بنا سکتے ہیں کہ جن میں ان کے عیب چھپ جائیں اور خوبیاں واضح ہو جائیں.

 

حکایت: تو نے کیا سیکھا

ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا:

 آپ نے اپنی ساری عمر میں کیا کچھ سیکھا؟

بزرگ نےجواب دیا: 

میں نے سیکھا

🔹کہ دنیا قرض ہے جلدی یا دیر سے لوٹانا تو پڑے گا.

میں نے سیکھا

🔹کہ مظلوم کا حق جلدی یا دیر سے لیا ضرور جاتا ہے.

میں نے سیکھا  

🔹کہ ہماری دنیا ممکن ہے ایک لمحہ میں ختم ہو جائے لیکن ہم اس بات سے غافل ہیں.       

میں نے سیکھا  

 🔹کہ ہماری زندگی کا اصلی سرمایہ میٹھی گفتگو، فراخ دلی اور دوسروں کی خطاء سے درگذر کرنا  ہے.

میں نے سیکھا

🔹کہ دنیا میں دولت مند ترین لوگ وہ ہیں جن کے پاس سلامتی، امن اور سکون ہو۔

میں نے سیکھا

🔹 کہ جؤ بو کر گندم نہیں کاٹی جاتی .

میں نے سیکھا

🔹کہ زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر کام ختم نہیں ہوتے.

میں نے سیکھا 

🔹جو یہ چاہتا ہے کہ لوگ میری بات سنیں تو اسے دوسروں کی بھی سننی چاہیے.

میں نے سیکھا  

🔹کہ کسی کی شخصیت کو جاننا چاہتے ہو تو اس کے ساتھ سفر کرو.

میں نے سیکھا 

🔹 کہ جو ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں ہم وہ کر سکتے ہیں حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے.

میں نے سیکھا 

🔹وہ سب جو آج قبروں میں دفن ہیں وہ بہت کچھ کر گئے مگر پھر بھی ان کی ہزاروں خواہشیں ان کے ساتھ دفن ہو گئیں.

حکایت: قانون کی پاسداری

حضرت علی ع قانون شکنی کرنے والوں مثلا چور وغیرہ کو زندان میں ڈالتے یا حد جاری کرتے.  

بعنوان نمونه

ایک شخص پر چوری کی حد جاری ہوئی تو اسکے قبیلے والے امام حسن ع کے پاس آئے کہ حضرت علی ع حد جاری کرنے کے حکم سے صرف نظر کریں. 

امام حسن ع نے فرمایا: 

«حضرت علی ع بہتر جانتے ہیں جو انہیں مناسب لگتا ہے وہی کرتے ہیں»

 پھر انہوں نے حضرت علی ع سے بات کی اور اپنی خواہش کا اظہار کیا. 

تو حضرت علی ع نے فرمایا:

 «میرے اختیار میں جو کچھ ہے وہ میں کوشش کروں گا» 

قبیلے والے سمجھے کہ حضرت علی اب حد جاری نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے دیکھا کہ حضرت علی ع نے حکم دیا کہ مجرم کو لایا جائے اور حد جاری کی جائے۔  

حضرت علی ع نے انہیں فرمایا: 

«مجرم کو حد جاری کرنے سے بچانا میرے اختیار میں نہیں»  

📚کلینی، الکافی، ج7، ص223، ح4.

📚ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص147.

حکایت

ایک با اخلاق اور نیک سیرت لیکن غریب لڑکا رشتہ مانگنے کے لئے ایک لڑکی کے گھر گیا تو لڑکی کے والد نے کہا:
تم غریب ہو اور میری بیٹی میں مشکلات کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے لہذا میں آپ کو بیٹی کا رشتہ نہیں دوں گا۔
پھر ایک مالدار لیکن بد اخلاق لڑکا اسی لڑکی کا رشتہ لینے کے لئے آیا تو اس کا باپ رشتہ دینے پر راضی ہو گیا اور اس لڑکے کے اخلاق کے بارے میں کہنے لگا: 
انشاء اللہ خدا اسے ہدایت کرے گا۔
اس وقت اس کی بیٹی نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:
بابا جان! کیا ہدایت کرنے والا خدا، روزی دینے والے خدا سے مختلف ہے؟

تو اس وقت وہ شخص لاجواب ہو گیا۔

حکایت


 ایک دکاندار سے کسی نے پوچھا کہ اس دکان سے کس طرح روزی کماتے ہو کہ جو ایک سنسان سی گلی میں ہے کہ جس میں سےکوئی گزرتا بھی نہیں۔

تو اس نے جوب میں کہا:

جس خدا کا موت کا فرشتہ ہمیں ہر مقام پر تلاش کر کے ہماری روح قبض کر لیتا ہے اس کا روزی پہنچانے والا فرشتہ ہمیں کیسے بھول سکتا ہے۔

شیطان کے غلبے کا سبب بننے والے گناہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک جگہ بیٹھے تھے کہ اچانک شیطان ایک رنگ برنگی ٹوپی پہنے ہوئے ان کے پاس آیا۔ جب نزدیک ہوا تو ٹوپی اتا کے مؤدبانہ انداز میں ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ 

حضرت موسیٰ ع نے پوچھا: تو کون ہے؟

کہنے لگا: میں ابلیس ہوں!

حضرت موسیٰ ع نے فرمایا: تو ابلیس ہے؟ خدا مجھے اور دوسروں کو تجھ سے پناہ دے!

ابلیس نے کہا: میں اللہ کے نزدیک تمہارے مقام کی کی وجہ سے تم پر سلام کرنے کے لئے آیا ہوں!

حضرت موسیٰ ع نے پوچھا: یہ کیسی ٹوپی ہے جو تو نے سر پہ رکھی ہوئی ہے؟

کہنے لگا: اس کے زرق برق رنگوں سے لوگوں کے دلوں کو جذب کرتا ہوں۔

حضرت موسیٰ ع نے فرمایا: مجھے ایسا گناہ بتا کہ اگر کوئی شخص اسے انجام دے تو تو اس پر غالب آ جاتا ہے اور جہاں چاہے اسے کھینچ کر لے جاتا ہے۔

ابلیس نے کہا: «إِذَا أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ وَ اِسْتَكْثَرَ عَمَلَهُ وَ صَغُرَ فِي عَيْنِهِ ذَنْبُهُ».

♦️ تین گناه ہیں کہ اگر انسان ان میں گرفتار ہو جائے تو میں اس پر غالب رہتا ہوں؛

🔸 جب انسان خود پسندی اختیار کرنے لگے؛

🔸 اپنے عمل کو زیادہ شمار کرے؛

🔸 اپنے گناہ کو چھوٹا سمجھے۔

الکافی، ج2، ص314