آئمہ اہل بیت ؑ کی ولادت ہوتی ہے یا ظہور ہوتا ہے ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آئمہ اہل بیت ؑ کی ولادت ہوتی ہے یا ظہور ہوتا ہے ؟
کچھ سالوں سے ایک خاص طبقه شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہے وہ کہتے ہیں کہ معصوم کی ولادت نہیں بلکہ نزول اور ظہور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے۔
ان کا عقیدہ یہ ہے کہ معصومینؑ آسمان سےبراۂ راست نازل ہوتے ہیں اور شکموں اور ارحام میں نہیں ہوتے، ان کے عقیدے کی دلیل میں کوئی ایک بھی حدیث نہیں ہے البتہ قرآن کی ایک آیت میں جہاں نور کے نزول کی بات کی گئی ہے وہاں وہ نور سے مراد آئمہؑ لیتے ہیں جبکہ قرآن کے حکم کے مطابق یہاں نور سے مراد قرآن پاک ہے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ، اور اگر آئمہؑ بھی مراد ہیں تو اس اعتبار سے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر (قرآن ناطق اور عملی قرآن) ہیں۔
اعتراض: ہماری بھی ولادت ہوتی ہے اور انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی بھی ولادت ہوتی ہے تو ہمارے اور انکے درمیان کیا فرق رہ گیا؟
جواب:یہ اعتراض ایک جاہلانہ اعتراض ہے جس کا مقصد فقط مومنین کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانا ہے، لیکن اس کا جواب ہم مومنین کے اطمنیان قلب کیلئے ذکر کریں گے۔
دیکھئے لفظ انسان ایک عالم شخص پر بھی صادق آتا ہے اور جاہل شخص پر بھی، ایک شرابی پر بھی اور متقی و پرہیز گار پر بھی، کیا عالم اور جاہل ، شرابی اور پرہیزگار سب برابر ہیں؟ ہر عقلمند شخص یہی کہے گا کہ ہرگز برابر نہیں ہیں، اگرچہ ہیں تو سب انسان ۔لیکن مراتب میں فرق ہوتا ہے حقیقت میں نہیں حقیقت سب کی انسان ہے۔ اسی طرح ہماری اورآئمہ ؑ کی ولادت میں فرق ہوتا ہے جس کی وضاحت شیعہ کتب میں موجود ہے لیکن ہوتی سب کی ولادت ہی ہے ۔
لغت میں دیکھا جائے تو لفظ ولادت کے معنی ، پیدا ہونا ہے ۔ ظہور کے معنی ،کسی مخفی چیز کے ظاہر ہونے کے ہیں اور نزول کے معنی ، اُترنا یا اُتارے جانے کے ہیں ۔
امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:
إِنَّهُ شَرٌّ عَلَيْكُمْ أَنْ تَقُولُوا بِشَيْءٍ مَا لَمْ تَسْمَعُوهُ مِنَّا۔
یہ تمہاری انتہائی بری بات ہوگی کہ تم وہ عقیدہ رکھو جو تم نے ہم سے نہیں سنا۔
(اصول کافی۔ کتاب: الایمان و الکفر باب: الضلال حدیث: 1)
اس نظریہ کے نقصانات
1 ۔ جب ولادت کا انکار ہوگا تو شہادت کا بھی انکار کرنا ہوگا ، کیونکه ظاهر هے جب کوئی پیدا ہی نہیں هوا تو قتل کیسے ہو سکتا ہے ۔
2 ۔ ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا پڑے گا ، کیونکہ زیارت وارثہ میں امام نے فرمایا:
اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ
میں گواہی دیتا ہوں آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور بن کر رہے۔
3 ۔ وہ تمام زیارتیں اور دعائیں جو معارف ایمان و عقاید سے بھر پور ہیں اور جن میں دشمنان محمد و آل محمد ﷺ پر لعنت کی گئی ہے ان تمام سے انکار کر دیا جائے گا اس لئے کہ جب کسی نے شہید ہی نہیں کیا تو لعنت کس بات کی ۔
4 ۔ جب آئمہ اہل بیت ؑ پیدا ہی نہیں ہوتے تو نسل سادات کہاں سے وجود میں آ گئی ؟ کیا تمام سادات کا بھی ظہور ہوتا ہے ؟ لہذا اس عقیدے کو ماننا ہے تو نسل سادات کا انکار کرنا ہوگا ۔
5 ۔ اس روایت سے انکار کرنا ہوگا جس میں ہے کہ امام حسین ؑ شکم مادر میں کلام کرتے تھے ۔
6 ۔ اگرظہور ہی ہوتا ہے تو حضرت فاطمہ ؑ کے شکم میں جناب محسن کی شہادت کا انکار کرنا ہوگا ۔
7 ۔ عید میلاد النبی اور جشن مولود کعبہ کا انکار کرنا پڑے گا ۔
قرآن کی روشنی میں
آیت نمبر 1
حضرت زکریا ؑ فرماتے ہیں:
و انی خفت الموالی من وراء ی وکانت امراتی عاقرا فھب لی من لدنک ولیا۔
اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔
(سورہ مریم آیت 5)
اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ا ن لوگوں کاظہور ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا مسئلہ تھا کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں ؟
آیت نمبر 2
فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا۔ فا اجاء ھا المخاض الی جذع النخلتہ۔۔ ۔
اور مریم اس بچے سے حاملہ ہوگئیں اور وہ اسے لے کر دور مقام پر چلی گئیں۔ پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔
(سورہ مریم آیت 22۔23)
یہ واقعہ حضرت مریم (ع) کا ہے۔ آپ لوگ دیکھیں کہ یہاں پر اللہ نے حمل کا لفظ استعمال کیا ہے اور درد زہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اب اگر حضرت عیسی کی ولادت نہ ہوتی بلکہ ظہور ہوتا آسمانوں سے تو پھر یہ حمل اور درد زہ کے الفاظ کے کیا معنی ہیں ؟
آیت نمبر 3
حملتہ امہ کرحا و وضعتہ کرھا۔
اس کی ماں نے تکلیف سہ کر اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور تکلیف اٹھا کر اسے جنا ۔
(سورہ الاحقاف آیت 15)
اس آیت میں اللہ نے حمل کا بھی لفظ استعمال کیا ہے اور ساتھ میں ماں کے پیٹ کے الفاظ بھی ہیں۔!
روایات کی روشنی میں
جناب فاطمہؑ بنت اسد نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا:
وبهذا المولود الذي في أحشائي الذي يكلّمني ويؤنسني بحديثه، وأنا موقنة أنّه إحدى آياتك ودلائلك
اور تجھے اس مولود کا واسطہ کہ جو میرے بطن میں ہے جو مجھ سے باتیں کرتا ہے میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے مجھے یقین ہے یہ تیری نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دلائل میں سے ایک دلیل ہے ۔
الأمالي للطوسي: 706
حضرت امام علی ابن ابی طالب (ع) کی ولادت کے وقت ان کی والدہ جناب فاطمہ بنت اسد نے جو دعا فرمائی وہ اس طرح تھی:
ربی انی مومنہ بک و بما جاء من عندک من رسل و کتب مصدقہ بکلام جدی ابراہیم فبحق الذی بنی ھذا البیت و بحق المولود الذی فی بطن لما یسرت وعلی ولادتی
خدا وندا میں ایمان لائی ہوں تجھ اور ان چیزوں پر جو تیرے رسول لائے اور ان کتابوں پر جو مصدقہ ہیں میرے جد ابراہیم کی پس واسطہ اس کے حق کا جس نے اس گھر کو بنایا اور اس مولود کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے میرے اوپر ولادت کی سختی کو آسان کر دے ۔
(مناقب ابن شہر آشوب، جلد 2، صفحہ 173 ، امالی صدوق صفحہ 195 ، الدمعتہ الساکبہ، شیخ بہائی، جلد 1, صفحہ 180 )
امام جعفر صادق ؑ کے ایک انتہائی قابل قدر صحابی امام موسی کاظم (ع) کی ولادت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
ذکرت انہ سقط من بطنھا حین سقط و اضعا یدیہ علی الارض۔
جب وہ بطن سے جدا ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی طرف اٹھایا۔۔۔
الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ 385 طبع بیروت
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:
فیمکث فی الرحم اربعین یوما لا یسمع الکلام ثم یسمع الکلام بعد ذلک۔
امام چالیس دن رات اس طرح شکم مادر میں رہتا ہے وہ کسی کی آواز نہیں سنتا اور اس کے بعد وہ آواز سننے لگتا ہے۔
الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387، طبع بیروت
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:
الاوصیاء اذا حملت بھم امہاتھم اصابھا فترۃ شبہ الغشیہ ۔
جب اماموں کی مائیں حاملہ ہوتی ہیں تو ان کو ایک قسم کی غشی لاحق ہوتی ہے۔
الکافی، شیخ کلینی، جلد 1, صفحہ 387 طبع بیروت
امام رضا ؑ نے فرمایا :
امام کی جملہ صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ
واذا وقع علی الارض من (بطن) امہ وقع علی راحتیہ رافعا صوت بالشہادۃ
شکم مادر سے جب زمین پر آئے گا تو اپنی ہتھیلیوں کے سہارے بیٹھے گا اور شہادتین کے لئے اپنی آواز بلند کرے گا۔
خصال، شیخ صدوق، صفحہ 528 طبع قم/احتجاج, شیخ طبرسی، صفحہ 509 طبع قم/ معانی الاخبار، شیخ صدوق، صفحہ 102 طبع قم
امام علی ؑ نے فرمایا:
وَأَنَا وُلِدتُ في المحل البعيد المرتقى
اور میں ایک بلند مرتبہ مقام پر پیدا ہوا۔
الفضائل، فضل بن شاذان بن جبرئيل القمي، ص 80/ الإمام علي بن أبي طالب علیه السلام، أحمد الرحماني الهمداني، ص370، ح19
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:
فان الامام یسمع الکلام فی بطن امہ
امام شکم مادر میں آواز سنتا ہے۔
بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 543 طبع قم/بحار، علامہ مجلسی، جلد 25 صفحہ 431 طبع قم
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:
لا تتکلمو ا فی الامام فان الامام یسمع الکلام وھو جنین فی بطن امہ
امام کے مقام و منزلت کے بارے میں گفتگو نہ کریں کیونکہ امام وہ ہوتے ہیں جو شکم مادر میں بھی سنتے ہیں۔
بصائر الدرجات، شیخ صفار، صفحہ 564 طبع قم/ تفسیر الصافی, شیخ محسن کاشانی، جلد 1 ص 497 طبع بیروت
امام زمان ؑ کے نائب خاص علی بن محمد سے روایت ہے:
ولد الصاحب علیہ السلام للنصف من شعبان
امام زمان (عج) کی ولادت نصف شعبان میں ہوئی۔
اکمال الدین، شیخ صدوق، صفحہ 430 طبع قم
امیرالمؤمنین علی ؑ کے ایک زیارت نامے میں ہم سب پڑھتے ہیں:
الْمَوْلُودِ فِى الْكَعْبَةِ
سلام ہو آپ پر اے وہ جو کعبہ میں پیدا ہوئے"۔
(المزار الكبير، ابن المشهدي، الشيخ ابو عبدالله محمد بن جعفر، ص256-257، زیارت نمبر 10، تحقيق: جواد القيومي الاصفهاني / بحار الانوار، مجلسی، ج97، ص302. )
امام رضا علیہ السلام نے امام ابو جعفر محمد بن علی التقی الجواد علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں فرمایا:
هَذَا الْمَوْلُودُ الَّذِي لَمْ يُولَدْ مَوْلُودٌ أَعْظَمُ بَرَكَةً عَلَي شِيعَتِنَا مِنْهُ۔
یہ وہی مولود ہے جو ہمارے پیروکاروں کے لئے اس سے زیادہ عظیم مولود پیدا نہیں ہوا ۔
(الکافی، ج1، ص 321)
امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ بشار امام جعفر صادق ؑ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جاؤ تم ملعون ہو اور میں تیرے ساتھ ایک چھت کے نیچے جمع نہیں ہو سکتا ، وہ اٹھ کر چلا گیا تو آپ ؑ نے فرمایا:
کہ خدا اسے غارت کرے اس نے خدا کی بھی توہین کی ہے، یہ شیطان ابن شیطان ہے میرے شیعوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ، میں اللہ کا بندہ ہوں ، اصلاب و ارحام کی منزلوں سے گزرا ہوں. مجھے بھی ایک دن مرنا ہے اور میدان حشر میں جواب دینا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق و مذاہب اربعہ، استاد اسد حیدر نجفی، صفحہ 247
اب ہم چند علماء کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی کتب میں آئمہ کے متعلق ولادت کا باب باندھا ہے
شیخ کلینی
جن کی وفات امام زمان (عج) کی غیبت صغری میں ہوئی اور جن کی حدیث کی کتاب اب مذہب شیعہ کی پہچان بن چکی ہوئی ہے۔ آپ اپنی کتاب الکافی میں آئمہ کی ولادت کاباب اس طرح باندھتے ہیں: باب موالید الائمہ" صفحہ 385 طبع بیروت۔
اسی طرح آپ ہر امام کی ولادت کا باب اس طرح باندھتے ہیں: باب مولد امیرالمومنین" صفحہ 452، باب مولد الزہراء فاطمہ ص 458 وغیرہا
سید رضی
نہج البلاغہ جیسی مشہور و معروف کتاب کے مصنف سید رضی خصائص امیرالمومنین صفحہ 39 طبع بیروت میں لکھتے ہیں:
ولد علیہ السلام بمکہ فی البیت الحرام ۔۔۔ولدہ ہاشمی مرتین ولا نعلم مولود ولد فی الکعبہ وغیرہ
امیر المونین خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہیں ۔ آپ پہلے ہاشمی ہیں جو سلسلہ نسب میں نجیب الطرفین ہیں، آپ کے علاوہ کوئی خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔
علامہ مجلسی
علامہ مجلسی نے امام کی ولادت کے احوال میں 22 احادیث جمع کی ہیں، ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث آپ کی خدمت میں پیش کئے دیتے ہیں اگر کسی کو مکمل احادیث چاہیں تو اردو ترجمہ کے ساتھ گوگل سے مل جائیں گی ۔
امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:
تفسير القمي أَبِي عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:
إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْإِمَامَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ۔۔۔
جب اللہ تبارک و تعالٰی امام کو ان کی ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ۔۔۔
امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:
بصائر الدرجات عَبَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:
إِنَّ نُطْفَةَ الْإِمَامِ مِنَ الْجَنَّةِ وَ إِذَا وَقَعَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ إِلَى الْأَرْضِ ۔۔۔
امام کا نطفہ جنت سے ہے، پھر جب امام ماں کے پیٹ سے زمین پر وارد ہوتا ہے ۔۔۔
امام باقر ؑ نے فرمایا:
بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى الْإِمَامِ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَكَلَّمُ بِهِ فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْمَعُ الْكَلَامَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ۔۔۔
تم میں سے جب کوئی امام کے پاس حاضر ہو تو خیال رکھے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ بیشک امام ماں کے پیٹ میں کلام کو سنتا ہے۔ ۔۔
امام صادق ؑ نے فرمایا:
بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحُصَيْنِ الْحُصَيْنِيِّ وَ الْمُخْتَارِ بْنِ زِيَادٍ جَمِيعاً عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي سُكَيْنَةَ عَنْ بَعْضِ رِجَالِهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ:
دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أُوَدِّعُهُ فَقَالَ اجْلِسْ شِبْهَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ يَا إِسْحَاقُ كَأَنَّكَ تَرَى أَنَّا مِنْ هَذَا الْخَلْقِ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِمَامَ مِنَّا بَعْدَ الْإِمَامِ يَسْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فَإِذَا وَضَعَتْهُ أُمُّهُ
اسحاق بن عمار کہتا ہے: میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے الوداع کہنے گیا۔ آپ (ع) نے غصہ کی کیفیت میں فرمایا، بیٹھ جاؤ۔ پھر فرمایا: اے اسحاق! تم کیا سمجھتے ہو کہ میں اس مخلوق کی طرح ہوں؟ کیا نہیں جانتے کہ ہم میں سے جو امام کے بعد امام ہوتا ہے وہ اپنی ماں کے پیٹ میں سنتا ہے۔ جب اس کی ماں اسکو جنم دیتی ہے ۔۔۔
تمت بالخير
علمی ، فکری ، تحقیقی ، تبلیغی