عید الفطر احادیث کی روشنی میں

💐 عید فطر احادیث کی روشنی میں

1️⃣ ۔ عید کی شب بیداری
✍️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
"مَن أحیا لَیلةَ العِیدِ ولَیلةَ النِّصفِ مِن‌شَعبانَ، لَم یمُتْ قَلبُهُ یومَ تَموتُ القُلوبُ؛
جو بھی عید اور نصف شعبان کی راتوں کو شب بیداری کرے اس کا دل اس دن مُردگی کا شکار نہیں ہوگا جب لوگوں کے دل مر جائیں گے۔
📚شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ج1، ص102، ح2

2️⃣ ۔ عبادات مقبولہ کی عید
✍️ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"إنَّما هُوَ عِیدٌ لِمَن قَبِلَ اللَّهُ صِیامَهُ وشَكَرَ قِیامَهُ وكُلُّ یومٍ لا یُعصَى اللَّهُ فیهِ فهُوَ عیدٌ؛
آج صرف ان لوگوں کی عید ہے جن کے روزوں کو اللہ نے قبول فرمایا ہو، اور اس کی شب زندہ داریوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے؛ اور ہر وہ دن عید ہے جب اللہ کی نافرمانی انجام نہ پائے"۔
📚 (نہج البلاغہ دشتی، حکمت 428).

3️⃣ ۔ یہ تمہارے لئے عید ہے اور تو اس کے اہل ہو
✍️ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"ألا وإنَّ هذا الیومَ یومٌ جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُم عِیداً وجَعَلَكُم لَهُ أهلاً، فَاذكُرُوا اللَّهَ یذكُركُم وَادْعُوهُ یستَجِب لَكُم؛
جان لو کہ اللہ نے آج کے دن کو تمہارے لئے عید قرار دیا اور تمہیں اس کا اہل قرار دیا، تو اللہ کو یاد کرو، تاکہ وہ بھی تمہیں یاد کرے اور اس کی بارگاہ میں دعا کرو تا کہ وہ استجابت فرمائے"۔
📚(شیخ صدوق، من لایحضره الفقیه، ج1، ص517)

4️⃣ ۔ زکوۃ فطرہ کا دن
✍️ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"مَن أدّى‌ زكاةَ الفِطرَةِ تَمَّمَ اللَّهُ لَهُ بها ما نَقَصَ مِن زكاةِ مالِهِ؛
جو بھی زکوۃ فطرہ دیدے، خداوند متعال اس کی برکت سے اس کمی کو پورا کرتا ہے جو زکوۃ دینے کے بموجب اس کے مال میں واقع ہوئی ہے"۔
📚 شیخ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج6، ص220، ح4

5️⃣۔ عید فطر کی دعا
✍️ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
"اللَّهُمَّ إِنَّا نَتُوبُ إِلَيْكَ فِي يَوْمِ فِطْرِنَا الَّذِي جَعَلْتَهُ‌ لِلْمُؤْمِنِينَ‌ عِيداً وَ سُرُوراً وَلِأَهْلِ مِلَّتِكَ مَجْمَعاً وَ مُحْتَشَداً؛ بار پروردگارا!
ہم تیری طرف پلٹ آتے اپنے فطر کے دن، جسے تو نے عید اور شادمانی قرار دیا ہے، اور اپنی ملت (امت مسلمہ) کے لئے اجتماع اور باہمی تعاون کا دن"۔
📚 صحیفہ سجادیہ، دعاء نمبر 45

6️⃣ ۔ عید فطر انعامات وصول کرنے کا دن
✍️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"عن جابر عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: قَالَ النَّبيُّ (صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ) إذا كانَ أَوَلَ يَوْمٍ مِنْ شَوَّالٍ نادَی مُنادٍ: أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ اغْدُوا إِلَی جَوَائِزِكُمْ ثُمَّ قَالَ يَا جَابِرُ جَوَائِزُ اللَّهِ لَيْسَتْ بِجَوَائِزِ هَؤُلَاءِ الْمُلُوكِ ثُمَّ قَالَ هُوَ يَوْمُ الْجَوَائِز؛
جابر امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہيں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: جب شوال کی پہلی تاریخ (عید فطر) آ پہنچتی ہے تو منادی اللہ کی طرف سے ندا دیتا ہے کہ "اے مؤمنو! صبح کو اپنے انعامات لینے نکلے، (جو اللہ کی طرف سے روزہ دار مؤمنین کے لئے فراہم کئے گئے ہیں)" اور پھر فرمایا: "اے جابر! اللہ کے انعامات ان دنیاوی بادشاہوں کے انعامات جیسے (مادی اور فانی) نہیں ہیں"! (بلکہ ہی عمدہ اور ناقابل بیان اور نہایت عظیم ہیں)! اور پھر فرمایا: اور پھر فرمایا: "آج انعامات وصول کرنے کا دن ہے"۔
📚 شیخ حر عاملی، وسائل‌الشیعۃ، ج5، ص140

7️⃣ ۔ زکوۃ فطرہ روزے کی تکمیل
✍️ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"إِنَّ مِنْ تَمَامِ اَلصَّوْمِ إِعْطَاءُ اَلزَّكَاةِ يَعْنِي اَلْفِطْرَةَ كَمَا أَنَّ اَلصَّلاَةَ عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ مِنْ تَمَامِ اَلصَّلاَةِ لِأَنَّهُ مَنْ صَامَ وَلَمْ يُؤَدِّ اَلزَّكَاةَ فَلاَ صَوْمَ لَهُ إِذَا تَرَكَهَا مُتَعَمِّداً وَلاَ صَلاَةَ لَهُ إِذَا تَرَكَ اَلصَّلاَةَ عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ؛
روزے کی تکمیل زکوۃ فطرہ ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ پر صلوات بھیجنا نماز کی تکمیل ہے؛ کیونکہ جو روزہ رکھے اور زکوۃ فطرہ کی ادائیگی کو جان کر ترک کرے تو گویا کہ اس کے روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہے؛ جیسا کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ پر درود و سلام ترک کردے، تو اس کی نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہے"۔
📚حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج6، ص221۔

8️⃣ ۔ سیاسی، سماجی اور انفرادی عبادات کا دن
✍️ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"انّما جُعِلَ یَوْمُ الفِطْر العیدُ، لِیكُونَ لِلمُسلِمینَ مُجْتمعاً یَجْتَمِعُونَ فیه و یَبْرُزُونَ لِلّهِ عزّوجلّ فَیُمجّدونَهُ عَلى‌ ما مَنَّ عَلیهم، فَیَكُونُ یَومَ عیدٍ ویَومَ اجتماعٍ وَ یَوْمَ زكاةٍ وَ یَوْمَ رَغْبةٍ و یَوْمَ تَضَرُّعٍ وَلأَنَّهُ اَوَّلُ یَوْمٍ مِنَ السَّنَةِ یَحِلُّ فِيهِ الاَكلُ وَالشُّرْبُ لاَنَّ اَوَّلَ شُهُورِ السَّنَةِ عِنْدَ اَهْلِ الْحَقِّ شَهْرُ رَمَضانَ فَأَحَبَّ اللّه ُ عَزَّوَجَلَّ اَنْ يَكُونَ لَهُمْ في ذلِكَ مَجْمَعٌ يَحْمِدُونَهُ فِيهِ وَيُقَدِّسُونَهُ؛
فطر کے دن کو عید قرار دیا گیا تا کہ مسلمانوں کے لئے اجتماع کا دن ہو جس میں وہ اجتماع کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے نمایاں ہوتے ہیں اور اس کی تمجید کریں ان احسانات پر جن سے اللہ نے انہیں نوازا ہے؛ تو یہ عید کا دن ہے، اور اجتماع کا دن ہے، اور زکوۃ کا دن ہے اور (اللہ اور اس کی بیان کردہ نیکیوں کی طرف) رغبت کا دن ہے، اور درگاہ رب کریم میں گڑگڑانے کا دن ہے؛ اور اس لئے کہ یہ دن پہلا دن ہے جب کھانا پینا جائز ہوجاتا ہے، کیونکہ اہل حق کے ہاں سال کا پہلا مہینہ رمضان ہے، پس اللہ دوست رکھتا ہے کہ مسلمان اس دن کو اجتماع منعقد کریں، اور اس دن اس کی حمد و ثناء کریں اور اس کی تقدیس کریں"۔
📚 (شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج1، ص122؛

9️⃣۔ تکبیر و تکریم کا دن
✍️امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"فَإِنْ قَالَ (قائلٌ) فَلِمَ جُعِلَ التَّكْبِيرُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْهُ فِي غَيْرِهَا مِنَ الصَّلَاةِ قِيلَ لِأَّنَّ التَّكْبِيرَ إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ لِلَّهِ وَ تَمْجِيدٌ عَلَى مَا هَدَى وَ عَافَى؛
اگر کسی کہنے والے نے کہا کہ عید کے دن تکبیریں دوسرے دنوں کی نسبت کیوں زیادہ قرار دی گئی ہیں تو کہا جائے گا کہ تکبیر، بےشک اللہ کی بڑائی بیان کرنا اور تعظیم وتکریم ہے اس کی ہدایتوں اور نعمتوں پر"۔
📚 (شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج1، ص122؛

🔟 ۔ شیعیان اہل بیت(ع) کی چار عیدیں
✍️امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا:
"إنَّمَا الأعیادُ أربَعَةٌ لِلشّیعَةِ: الفِطرُ والأضحی والغَدیرُ والجُمُعَةُ؛
بے شک شیعیان اہل بیت کی چار عیدیں ہیں: عید فطر، عید الضحی، عید غدیر اور جمعہ"۔
📚(بحارالأنوار، ج95، ص351)

حضرت علی علیہ السلامؑ کی وصیت

ضربت کے بعد حسنینؑ شریفین اور ان کے چاہنےوالوں کے نام حضرت علی علیہ السلامؑ کی وصیت

اُوْصِیْکُمَا بِتَقْوَی اللّٰہِ۔

میں تم دونوں کو خدا سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔

وَاِنْ لَا تَبْغِیَاالدُّنْیَا وَاِنْ بَغَتْکُمَا۔

اور دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل ہو۔

وَلَا تَأَسَفًا عَلیٰ شَیْ ءٍ مِنْھَا زُوِیَ عَنْکُمَا۔

اور دنیا کی جو چیز تم سے روک لی جائے اس پر افسوس نہ کرنا۔

وَقُوْلَا بِالْحَقِّ۔

اور جو بھی کہنا حق کے لئے کہنا۔

وَاعْمَلَا لِلْاَجْرِ۔

اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔

وَکُوْنَا لِلظَالِمِ خَصْمًا وَلِلمَظْلُوْمِ عَوْنًا۔

اور ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔

اُوْصِیْکُمَا وَجَمِیْعَ وَلَدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَنْ بَلَغَہُ کِتَابِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَنَظْمِ اَمْرِکُمْ۔

میں تم دونوں کو، اپنی دوسری اولادوں کو، اپنے کنبے کے افرادکواور جن لوگوں تک میرایہ نوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔

وَصَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِکُمْ۔ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّکُمَاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ یَقُوْلُ:صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَۃِ الصَّلٰوۃِ وَالصِّیَامِ۔

اورباہمی تعلقات کو سلجھائے رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ:آپس کی کشید گیوں کو مٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْاَیْتَامِ، فَلاَ تُغِبُّوْاأَفْوَاہَہُمْ وَلَا یَضِیْعُوْا بِحَضْرَتِکُمْ۔

دیکھو! یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہناان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہارے ہوتے ہوئے وہ برباد نہ ہوں۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ جِیْرَانِکُمْ، فَاِنَّھُمْ وَصِیَّۃُ نَبِیِّکُمْ، مَازَالَ یُوْصِیْ بِھِمْ، حَتَّی ظََنَنَّا أَنَّہُ سَیُوَرِّثُھُمْ۔

دیکھو! اپنے ہمسایوں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے نبیؐ نے برابر ہدایت کی ہےآپ ؐان کے بارے میں اس قدر تاکید فرماتے تھے کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ آپ ؐاُنھیں بھی ورثہ دلائیں گے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِہٖ غَیْرُکُمْ۔

اور قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الصَّلوٰۃِ، فَاِنَّھَاعَمُودُ دِیْنِکُمْ۔

نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ بیْتِ رَبِّکُمْ، لَا تُخْلُوْہُ مَابَقِیْتُمْ۔

اور اپنے رب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، جیتے جی اسے خالی نہ چھوڑنا۔

فَاِنَّہُ اِنْ تُرِکَ لَمْ تُناظَرُوْا۔

کیونکہ اگر یہ خالی چھوڑ دیا گیا تو پھر (عذاب سے) مہلت نہ پاؤ گے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِی الْجِہَادِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔

اپنے اموال، جان اور زبان سے راہِ خدا میں جہاد کے سلسلے میں خدا سے ڈرتے رہنا۔

وَعَلَیْکُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَاذُلِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّدَابُرَوَالتَّقَاطُعَ۔

تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرناخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔

لَا تَتْْرُکُواالْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَیُوَلَّیٰ عَلَیْکُمْ شِرَارُکُمْ، ثُمَّ تَدْعُوْنَ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ۔

دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تو وہ قبول نہ ہوگی۔

یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! لَا اُلْفِیَنَّکُمْ تَخُوْضُوْنَ دِمَآءَ الْمُسْلِمِیْنَ، خَوْضًا تَقُوْلُوْنَ: قُتِلَ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ۔

اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم، امیرالمو منین قتل ہوگئے، امیر المومنین قتل ہوگئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو۔

أَلاَ لاَ تَقْتُلُنَّ بِیْ اِلَّا قَاتِلِیْ۔

دیکھو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیاجائے۔

اُنْظُرُوْااِذَاأَ نَامُتُّ مِنْ ضَرْبَتِہِ ہٰذِہٖ، فَاضْرِبُوْہُ ضَرْبَۃً بِضَرْبَۃٍ، وَلَا تُمَثِّلُ بِالرَّجُلِ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ (صَلّی اللّٰہ عَلیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ) یَقُوْلُ: ”
اِیَّاکُمْ وَالْمُثْلَۃَ وَلَوْبِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ۔

دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔

حوالہ : نہج البلاغہ، مکتوب:47۔

امام حسن علیہ السلام ، پیغمبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں

امام حسن علیہ السلام ، پیغمبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ امام حسن علیہ السلام پیغمبر اسلام (ص) کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزند رسول کا درجہ دیا ہے اور اپنے دامن میں جا بجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرور کائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشاد فرمائی ہیں:
✍️ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا: کہ میں حسنین کو دوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
💫 ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ وہ ایک کندھے پر امام حسن کو اور دوسرے کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اور باری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں
💫 ایک صحابی کا بیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پر سوار ہو گئے کسی نے روکنا چاہا تو حضرت نے اشارہ سے منع کر دیا
📚 (اصابہ جلد ۲ ص ۱۲) ۔
💫 ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کو بہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں رسول کی ڈاڈھی سے کھیلتے دیکھا ہے
📚(نور الابصار ، ص ۱۱۹) ۔
💫 ایک دن سرور کائنات امام حسن کو کاندھے پر سوار کئے ہوئے کہیں لیے جارہے تھے ایک صحابی نے کہا کہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدر اچھی ہے یہ سن کر آنحضرت نے فرمایا یہ کہو کہ کس قدر اچھا سوار ہے
📚 (اسدالغابةجلد ۳ ص ۱۵ بحوالہ ترمذی)۔
💫 امام بخاری اور مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا امام حسن کو کندھے پر بٹھائے ہوئے فرما رہے تھے خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ۔
💫 نسائی عبداللہ ابن شداد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نماز عشاء پڑھانے کے لیے آنحضرت تشریف لائے آپ کی آغوش میں امام حسن تھے آنحضرت نمازمیں مشغول ہوگئے ، جب سجدہ میں گئے تو اتنا طول دیا کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے اختتام نماز پر آپ سے اس کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ میرا فرزند میری پشت پر آگیا تھا میں نے یہ نہ چاہا کہ اسے اس وقت تک پشت سے اتاروں، جب تک کہ وہ خود نہ اتر جائے ، اس لیے سجدہ کو طول دینا پڑا۔
💫 حکیم ترمذی ،نسائی اور ابو داؤد نے لکھا ہے کہ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آگئے اور حسن کے پاؤں دامن عبا میں اس طرح الجھے کہ زمین پر گر پڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت نے خطبہ ترک کر دیا اور منبر سے اتر کر انہیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پر تشریف لے جا کر خطبہ شروع فرمایا۔
📚(مطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔

امام حسن  علیہ السلام کی (10) دس اخلاقی خصوصیات

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی (10) دس اخلاقی خصوصیات


1️⃣ عبادت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ان کی معنوی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "امام مجتبیٰ علیہ السلام اپنے وقت کے سب سے زیادہ متقی انسان تھے۔ انہوں نے کئی حج پیدل کئے اور کبھی تو ننگے پاؤں حج کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ انہیں ہمیشہ ذکر کرتے دیکھا گیا اور جب بھی وہ آیہ قرآن «یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُو» کو سنتے تو جواب میں کہتے: «لَبَّیک اللَّهُمَّ لَبَّیک» (خدایا! تمہارے حکم کا مطیع ہوں و حاضر ہوں۔) [1]

امام علیہ السلام ہمیشہ اپنی نمازوں کے قنوت میں بہت زیادہ دعا کیا کرتے اور خدا کو اس طرح پکارا کرتے: "اے بے سہاروں کی پناہ ! عقلیں تمہیں درک کرنے سے عاجز ہیں اور علم و دانش تمہارے مقابلے میں ناتوان ہے ... بے شک تو سننے والا، جاننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خدایا! تو خود بہتر جانتا ہے کہ میں نے تب تک سعی کوشش کرنے سے ہار نہیں مانی جب تک میرے دم میں دم تھا۔ اس وقت ، میں نے اپنے بزرگوں کی اتباع کی (صبر کیا) تاکہ اس سرکش دشمن کا مقابلہ کر سکوں اور شیعوں کا خون بہنے سے روک سکوں۔ میرے لئے جہاں تک ممکن تھا میں نے اس چیز کا پاس رکھا کہ جسے میرے اولیاء اور بزرگان نے محفوظ رکھا تھا....تو حق کا واحد مددگار اور اس کا بہترین حامی ہے۔ اگرچہ اس مدد میں تاخیر بھی ہو جائے اور دشمن کی تباہی میں کچھ زیادہ وقت لگ جائے۔ »[2]

2️⃣ خوفِ خدا
جب بھی امام مجتبیٰ علیہ السلام وضو کیا کرتے تو خوفِ خدا سے ان کا پورا جسم کانپنے لگ جاتا اور ان کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا تو کہتے: "خدا کا بندہ جب بندگی کے لئے اس کی درگاہ میں جانا چاہے تو اسے اس کے لئے آمادہ ہو کر جانا چاہئے، اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جائے اور اس کے اعضاءِ بدن لرزنے چاہئیں۔" [3]
آپ علیہ السلام جب بھی نماز کے لئے مسجد جایا کرتے تو مسجد کے دروازے کے پاس کھڑے ہوکر درج ذیل دعا کو دہرایا کرتے:
«إِلَهِی ضَیفُک بِبَابِک یا مُحْسِنُ قَدْ أَتَاک الْمُسِی ءُ فَتَجَاوَزْ عَنْ قَبِیحِ مَا عِنْدِی بِجَمِیلِ مَا عِنْدَک یا کرِیم؛ [4] خدایا! تمہارا مہمان تمہارے پاس آیا ہے۔ اے محسن و نیکوکار! ایک بدکار تمہارے پاس آیا ہے۔ پس جو بدی اور گناہ میرے پاس ہیں انہیں اپنی خوبصورتی سے درگذر فرما دے، اے رحم کرنے والے! "
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
«کانَ إِذَا ذَکرَ الْمَوْتَ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْقَبْرَ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْبَعْثَ وَ النُّشُورَ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْمَمَرَّ عَلَی الصِّرَاطِ بَکی وَ إِذَا ذَکرَ الْعَرْضَ عَلَی اللَّهِ تَعَالَی ذِکرُهُ شَهَقَ شَهْقَةً یغْشَی عَلَیهِ مِنْهَا وَ کانَ إِذَا قَامَ فِی صَلَاتِهِ تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُ بَینَ یدَی رَبِّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ کانَ إِذَا ذَکرَ الْجَنَّةَ وَ النَّارَ اضْطَرَبَ اضْطِرَابَ السَّلِیمِ وَ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَ تَعَوَّذَ بِهِ مِنَ النَّار؛[5]
"جب بھی امام حسن علیہ السلام موت کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتے۔ جب بھی قبر کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتے۔ جب بھی قیامت کو یاد کرتے تو نالہ و فریاد کرتے۔ جب بھی پل صراط سے عبور کرنے کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتے۔ جب بھی اپنے اعمال خدا کے سامنے پیش ہونے کو یاد کرتے تو شدید گریہ کرتےاور بےہوش ہو جایا کرتے۔ جب وہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے رب کے سامنے ان کا جسم کانپنے لگتا۔ جب بھی انہیں جنت اور دوزخ کی یاد آتی تو سانپ کے ڈسے شخص کی طرح مضطرب ہو جایا کرتے اور خدا سے جنت کو طلب کرتے اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے"۔
جب ان کے چہرے پر موت کے آثار نمودار ہوئے اور اطرافیوں نے انہیں روتے دیکھاتو انہوں نے پوچھا: "آپ کیوں رو رہے ہیں؟ جب کہ آپ کا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اعلیٰ مقام ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی شان میں کیسے عظیم الفاظ کہے ہیں۔ "آپ کہ جس نے بیس بار پیدل حج کئے اور تین بار اپنا سارا مال خدا کی راہ میں تقسیم کر دیا؟" تو انہوں نے جواب میں کہا: «إِنَّمَا أَبْکی لِخَصْلَتَینِ: لِهَوْلِ الْمُطَّلَعِ وَ فِرَاقِ الْأَحِبَّة؛[6] میرے رونے کے دو سبب ہیں: قیامت کا خوف اور اپنے دوستوں سے دوری"۔

3️⃣ قرآن سے ہم نشینی
امام حسن علیہ السلام خوبصورت آواز میں قرائت قرآن کیا کرتے تھے اور بچپن سے ہی علوم قرآن سے واقف تھے۔ ہمیشہ سونے سے پہلے سورۂ کہف کی تلاوت کرتے اور پھر سوتے۔ کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص سے "شاہد و مشہود کی تفسیر" پوچھی [7]؛ اس شخص نے جواب دیا: "شاہد روز جمعہ ہے اور مشہود روز عرفہ ہے"۔ اس نے ایک دوسرے آدمی سے پوچھا تو اس نے کہا: شاہد روز جمعہ ہے اور مشہود روز قربان ہے"۔ پھر وہ مسجد کے کونے میں بیٹھے ایک بچے کے پاس گیا۔ اس نے جواب دیا:

«أَمَّا الشَّاهِدُ فَمحمد (ص) وَ أَمَّا الْمَشْهُودُ فَیوْمُ الْقِیامَةِ أَمَا سَمِعْتَهُ سُبْحَانَهُ یقُولُ یا أَیهَا النَّبِی إِنَّا أَرْسَلْناک شاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذِیراً؛ [8]

"شاہد محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشہود روز قیامت ہے۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ خدا (اپنے رسول کے بارے میں )کہتا ہے: اے پیغمبر! ہم نے آپ کو گواہ ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے" ۔ نیز وہ قیامت کے بارے میں فرماتا ہے: «ذلِک یوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَ ذلِک یوْمٌ مَشْهُود»؛ [9] " یہ وہ دن ہے کہ جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور یہ "یوم مشہود" ہے۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ جواب دینے والا پہلا شخص کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابن عباس۔ میں نے پوچھا کہ دوسرا کون تھا؟۔ انہوں نے کہا: ابن عمر۔ پھر میں نے کہا کہ وہ بچہ کون تھا جس نے بہترین اور درست جواب دیا؟ کہنے لگے کہ وہ حسن بن علی ابن ابی طالب علیہما السلام تھے۔ [10]

4️⃣ مہربانی
خدا کے بندوں پر مہربانی ان کی اہم خصوصیت تھی۔ انس کہتے ہیں کہ ایک دن میں امام علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا۔ ان کی ایک کنیز ہاتھ میں پھول لئے داخل ہوئی اور اسے امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ امام علیہ السلام نے اس سے پھول لئے اور مہربانی سے کہا: "جاؤ تم آزاد ہو" میں جو امام علیہ السلام کے اس رویے سے حیران تھا، ان سے کہا: "اے فرزندِ رسول خدا! "اس کنیز نے تو صرف آپ کو پھولوں کا ایک گلدستہ پیش کیا اور آپ نے اسے آزاد کر دیا؟" امام علیہ السلام نے جواب دیا: "خداوندعظیم و مہربان نے ہم سے کہا ہے: «وَ إِذا حُییتُمْ بِتَحِیةٍ فَحَیوا بِأَحْسَنَ مِنْه»؛ [11]
"جس نے بھی تم پر مہربان کی اسے اس کا دو برابر اچھائی سے جواب دو"۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: "اس کی مہربانی کے بدلہ اس کی آزادی تھی۔[12]

5️⃣ عفو و درگذشت
امام علیہ السلام بہت زیادہ معاف کرنے والے اور عظیم انسان تھے اور ہمیشہ دوسروں کے ظلم و ستم سے چشم پوشی کیا کرتے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ دوسروں کی بدتمیزی کے بدلے میں ان کا رد عمل اس شخص کے رویہ میں تبدیلی کا باعث بنتا۔
ان کے پڑوس میں ایک یہودی خاندان رہتا تھا۔ ایک بار یہودی کے گھر کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی اور اس کے گھر سے نجاست امام علیہ السلام کے گھر تک آنے لگی۔ یہودی کو اس بات کا علم نہیں تھا یہاں تک کہ ایک دن اس یہودی کی بیوی امام علیہ السلام کے گھر کسی کام کے لئے آئی اور دیکھا کہ دیوار میں دراڑ پڑنے سے امام علیہ السلام کے گھر کی دیوار نجس ہو گئی ہے۔ وہ فورا اپنے شوہر کے پاس گئی اور اسے اطلاع دی۔ یہودی شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا اور اپنی غفلت پر معافی مانگی اور امام علیہ السلام کے اس دوران خاموش رہنے اور کچھ نہ کہنے پر انتہائی شرمندہ ہوا ۔

6️⃣ عاجزی
امام علیہ السلام اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح بغیر کسی تکبر کے زمین پر بیٹھا کرتے اور فقیر لوگوں کے ساتھ ہم سفرہ ہو جاتے۔ ایک دن آپ علیہ السلام گھوڑے پر سوار ایک محلے سے گزرے۔ دیکھا کہ کچھ فقیر لوگ زمین پر بیٹھے ہیں اور انہوں نےاپنے سامنے کچھ مقدار میں روٹی رکھی ہوئی ہے اور اسے کھا رہے ہیں۔ جب انہوں نے امام حسن علیہ السلام کو دیکھا تو انہوں نے ان کو بھی تعارف کیا اور انہیں اپنی سفرہ پر مدعو کیا۔ امام علیہ السلام اپنی سواری سے اترے اوراس آیت کی تلاوت کی: «إِنَّهُ لا یحِبُّ الْمُسْتَکبِرین»؛ "بے شک وہ متکبروں کو پسند نہیں کرتا"۔ (نحل / 23) پھر وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ کھانے لگے۔ جب وہ سب سیر ہو گئے تو امام علیہ السلام نے انہیں اپنے گھر مدعو کیا اور ان کی خوب خاطر مدارت ​​کی اور انہیں لباس دیا۔ [13]

7️⃣ مہمان نوازی
وہ ہمیشہ مہمانوں کو خوش آمد کہا کرتے۔ بعض اوقات وہ ایسے افراد کی پزیرائی کیا کرتے تھے جنہیں وہ جانتے تک بھی نہیں تھے۔ خاص طور پر امام علیہ السلام غریبوں کی پزیرائی اور انہیں اپنے گھر لے جانے کو بہت پسند کرتے اور ان کا گرمجوشی سے استقبال کرتے اور انہیں لباس اور مال عطا کرتے۔ [14]

8️⃣ رواداری و بردباری
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ایک مشکل ترین دور معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد کا دور تھا۔ آپ علیہ السلام نے ان برسوں کی سختیوں کو اپنے صبر و بردباری سے گزارا۔ ان برسوں میں آپ علیہ السلام کے بہت سے دوستوں نے آپ سے منہ موڑ لیا تھا۔ یہ وقت ان کے لئے واقعی بہت مشکل تھا۔ اس دوران امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کی توہین کرنا ہر ایک کا وطیرہ بن گیا تھا۔ جب بھی وہ امام علیہ السلام کو دیکھتے تو کہتے: «السَّلَامُ عَلَیک یا مُذِلَّ الْمُؤْمِنِین؛ [15] " اے مومنوں کی تذلیل و رسوائی کرنے والے تم پر سلام ہو"۔ لیکن اس کے باوجود آپ علیہ السلام بڑے صبر اور بردباری کے ساتھ ان کی یہ سب توہین برداشت کیا کرتے۔
یہ صبر اتنا عظیم تھا کہ امام علیہ السلام کے سخت ترین دشمن مروان ابن حکیم نے بھی غمزدہ حالت میں آپ علیہ السلام کے جنازے میں شرکت کی اور ان لوگوں کے جواب میں جو اسے کہتے کہ تم کل تک تو امام کے دشمن تھے، اس نے کہا: "یہ وہ تھا جس کا صبر و بردباری پہاڑوں سے بھی پرکھی نہیں جا سکتی"۔ [16]

9️⃣ بخشش اور دوسروں کی ضروریات کو پورا کرنا
حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی سب سے نمایاں خصوصیت کہ جو ان کے چاہنے والوں کے لئے بہترین نمونہ بھی ہے، ان کا سخی و کریم ہونا اور دوسروں کی مدد کرنا ہے۔ وہ ہمیشہ مختلف بہانوں سے سب کو اپنی کرامت سے فائدہ پہنچایا کرتے اور اتنی بخشش کیا کرتے کہ ضرورت مند شخص بے نیاز ہو جاتا۔چونکہ تعلیمات اسلام کے مطابق بخشش اس طرح ہونی چاہئے تاکہ گداگری کو معاشرے سے ختم کیا جا سکے۔
ایک دن آپ علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہے اور خدا سے کہہ رہا ہے: "خدایا! مجھے ایک ہزار درہم عطا کر۔ امام علیہ السلام گھر آئے اور دس ہزار درہم اسے بھجوا دئے"۔ [17]

امام حسن علیہ السلام کسی سائل کو اپنے سے دور نہیں کیا کرتے اور کبھی کسی ضرورت مند کو "نہ" نہیں کہتے تھے۔
ایک شخص آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہے اور خدا سے کہہ رہا ہے: "خدایا! مجھے ایک ہزار درہم عطا کر۔ امام علیہ السلام گھر آئے اور دس ہزار درہم اسے بھجوا دیئے"۔ [17]

🔟 شجاعت
شجاعت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی پائیدار میراث تھی اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اسے وراثت میں پایا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے امام مجتبیٰ علیہ السلام کو ابتدائی عمر سے ہی تلوار بازی اور عسکری مہارتیں سکھائیں اور انہیں ہمیشہ سچ کی حمایت کرنا سکھائی۔

جب جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام نے محمد بن حنفیہ کو حضرت عائشہ کے شتر کو نحر کرنے بھیجا اور وہ شتر کے اطرافیون کی وجہ سے ناتوان لوٹے تو امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو بھیجا جو تھوڑی ہی دیر بعد کامیابی سے واپس لوٹے جب کہ ان کی تلوار سے ابھی خون ٹپک رہا تھا۔ یہ دیکھ کر محمد بن حنفیہ شرمندہ ہوئے تو امیرالمومنین علیہ السلام نے اسے فرمایا: "شرمندہ مت ہو چونکہ وہ فرزند پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور تم فرزند علی ہو"۔ [18]

امام مجتبیٰ علیہ السلام نے اس وقت کی دوسری جنگوں میں بھی حصہ لیا اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ معاویہ ان کی بہادری کے بارے میں کہتا ہے: وہ اس شخص کا فرزند ہے کہ جو جہاں بھی جاتا موت ہمیشہ اس کا پیچھا کرتی۔ (اس بات سے کنایہ تھا کہ وہ نڈر تھا اور موت سے نہیں ڈرتا تھا)۔ [19]

حوالہ جات
[۱] بحارالانوار، محمد باقر مجلسی، مؤسسة الرساله، بیروت، ۱۴۰۳ ق، ج ۴۳، ص ۳۳۱.
[۲] مهج الدعوات، سید بن طاووس، دار الذخائر، قم، ۱۴۱۱ ق، ص ۱۴۵.
[۳] مناقب آل ابیطالب، ابن شهرآشوب، دارالأضواء، بیروت، ۱۴۰۸ ق، ج ۴، ص ۱۴ و بحار الانوار، ج ۴۳، ص ۳۳۹.
[۴] مناقب ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۷ و بحارالانوار، ایضا.
[۵] بحارالانوار، ایضا.
[۶] ایضا، ص ۳۳۲.
[۷] بروج/ ۳.
[۸] احزاب/ ۴۵.
[۹] هود/ ۱۰۳.
[۱۰] بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۳۴۵.
[۱۱] نساء/ ۸۶.
[۱۲] مناقب، ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۸.
[۱۳]« وَ جَعَلَ یأْکُلُ حَتَّی اکْتَفَوْا دَعَاهُمْ إِلَی ضِیافَتِهِ وَ أَطْعَمَهُمْ وَ کَسَاهُمْ» بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۳۵۲.
[۱۴]مناقب، ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۶ و ۱۷.
[۱۵]بحارالانوار ، ج ۷۵، ص ۲۸۷.
[۱۶] زندگی دوازده امام، هاشم معروف الحسینی، امیر کبیر، تهران، ۱۳۷۳ ش، ج ۱، ص ۵۰۶.
[۱۷]مناقب، ابن شهر آشوب، ج ۴، ص ۱۷.
[۱۸]شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، دار الفکر، بیروت، بی تا، ج ۴، ۷۳.
[19] مقالات، ۲۸جلد، مجمع.

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

1. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): يَا ابْنَ آدْم! عَفِّ عَنِ مَحارِمِ اللّهِ تَكُنْ عابِداً، وَ ارْضِ بِما قَسَّمَ اللّهُ سُبْحانَهُ لَكَ تَكُنْ غَنِيّاً، وَ أحْسِنْ جَوارَ مَنْ جاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِماً، وَ صاحِبِ النّاسَ بِمِثْلِ ما تُحبُّ أنْ يُصاحِبُوكَ بِهِ تَكُنْ عَدْلاً.
اے بنی آدم! محرمات الٰہی سے باز رہو تو عابد بن جاؤ گے ۔ اللہ کی تقسیم سے راضی رھو تو بے نیاز ہو جاؤ گے ۔ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو تو مسلمان بن جاؤ گے اور لوگوں کے ساتھ ایسے رہو جیسے کہ تم پسند کرتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ رہیں تو عادل بن جاؤ گے ۔

2. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): نَحْنُ رَيْحانَتا رَسُولِ اللّهِ، وَ سَيِّدا شَبابِ أهْلِ الْجَنّةِ، فَلَعَنَ اللّهُ مَنْ يَتَقَدَّمُ، اَوْ يُقَدِّمُ عَلَيْنا اَحَداً.
ہم دونوں (امام حسن(ع) و امام حسین (ع)) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو پھول ہیں اور جوانان جنت کے دو سردار ہیں خدا کی لعنت ہو اس پر جو ہم پر سبقت کرے یا کسی کو ہم پر فوقیت دے ۔

3. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنّ حُبَّنا لَيُساقِطُ الذُّنُوبَ مِنْ بَنى آدَم، كَما يُساقِطُ الرّيحُ الْوَرَقَ مِنَ الشَّجَرِ.
بے شک ہماری محبت بنی آدم سے گناہوں کو اسی طرح گرادیتی ہے جس طرح ہوا کا جھونکا درخت سے (سوکھے )پتوں کو گرادیتا ہے ۔

4. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): لَقَدْ فارَقَكُمْ رَجُلٌ بِالاْمْسِ لَمْ يَسبِقْهُ الاْوَّلُونَ، وَ لا يُدْرِكُهُ أَلاْخِرُونَ.
کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہوا ہے جس کے مانند نہ اولین میں کوئی تھا اور نہ آخرین میں سے کوئی اس کے مقام کو پا سکتا ہے ۔

5. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَن قَرَءَ الْقُرْآنَ کانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجابَةٌ، إمّا مُعَجَّلةٌ وَإمّا مُؤجَلَّةٌ.
جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی ایک دعا مستجاب ہے چاہے جلدی چاہے تاخیر سے ۔

6. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنّ هذَا الْقُرْآنَ فيهِ مَصابيحُ النُّورِ وَشِفاءُ الصُّدُورِ.
اس قرآن میں ہدایت کی روشنی کے چراغ اور دلوں کی شفا ہے ۔

7. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَنَ صَلّى، فَجَلَسَ فى مُصَلاّه إلى طُلُوعِ الشّمسِ کانَ لَهُ سَتْراً مِنَ النّارِ.
جو نماز پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب تک اپنے مصلے پر بیٹھا رہے اس کو جہنم کی آگ سے بچنے کی سپر حاصل ہو جاتی ہے ۔

8. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنَّ اللّهَ جَعَلَ شَهْرَ رَمَضانَ مِضْماراً لِخَلْقِهِ، فَيَسْتَبِقُونَ فيهِ بِطاعَتِهِ إِلى مَرْضاتِهِ، فَسَبَقَ قَوْمٌ فَفَازُوا، وَقَصَّرَ آخَرُونَ فَخابُوا.
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ماہ رمضان کو اپنی مخلوقات کے لئے مسابقہ کا میدان قرار دیا ہے کہ جس میں مخلوقات خدا کی اطاعت کے ذریعہ اس کی مرضی حاصل کرنے پر سبقت لیتے ہیں جہاں ایک گروہ سبقت لے کر کامیاب ہو جاتا ہے اور دوسرا کوتاہی کر کے گھاٹے میں رہ جاتا ہے ۔

9. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَنْ أدامَ الاْخْتِلافَ إلَى الْمَسْجِدِ أصابَ إحْدى ثَمان: آيَةً مُحْكَمَةً، أَخاً مُسْتَفاداً، وَعِلْماً مُسْتَطْرَفاً، وَرَحْمَةً مُنْتَظِرَةً، وَكَلِمَةً تَدُلُّهُ عَلَى الْهُدى، اَوْ تَرُدُّهُ عَنْ الرَّدى، وَتَرْكَ الذُّنُوبِ حَياءً اَوْ خَشْيَةً.
جو مسلسل مسجدوں میں آمد و رفت رکھے گا اسے آٹھ میں سے کوئی ایک چیز ضرور حاصل ہو جائے گی آیت محکم، مفید بھائی، جامع معلومات، رحمت عام، ایسی بات جو نیکی کی ہدایت کر دے یا برائی سے باز رکھے، شرم وحیا یا خوف خدا سے گناہوں کو ترک کرنا ۔

10. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَنْ أكْثَرَ مُجالِسَة الْعُلَماءِ أطْلَقَ عِقالَ لِسانِهِ، وَ فَتَقَ مَراتِقَ ذِهْنِهِ، وَ سَرَّ ما وَجَدَ مِنَ الزِّيادَةِ فى نَفْسِهِ، وَکانَتْ لَهُ وَلايَةٌ لِما يَعْلَمُ، وَ إفادَةٌ لِما تَعَلَّمَ.
جو علماء کی ہمنشینی میں زیادہ رہے گا اس کی زبان کا بندھن کھل جائے گا اور اس کے ذہن کی گرھیں وا ہو جائیں گی۔اور اپنے نفس میں رشد وارتقاء کا سرور پائے گا، اپنی معلومات کا ولی ہوگا اور اپنی معلومات سے لوگوں کو مستفاد کرے گا۔

11. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، فَإنْ لَمْ تَسْتَطيعُوا حِفْظَهُ فَاكْتُبُوهُ وَوَ ضَعُوهُ فى بُيُوتِكُمْ.
علم حاصل کرو اور اگر اسے حفظ نہ کرپاؤ تو لکھ لو اور اپنے گھروں میں محفوظ رکھو ۔

12. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَنْ عَرَفَ اللّهَ أحَبَّهُ، وَ مَنْ عَرَفَ الدُّنْيا زَهِدَ فيها.
جو اللہ کی معرفت رکھے گا وہ اس سے محبت کرے گا، اور جو دنیا کی معرفت رکھے گا وہ اس میں پار سائی اختیار کرے گا ۔

13. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): هَلاكُ الْمَرْءِ فى ثَلاث: اَلْكِبْرُ، وَالْحِرْصُ، وَالْحَسَدُ; فَالْكِبْرُ هَلاكُ الدّينِ،، وَبِهِ لُعِنَ إبْليسُ. وَالْحِرْصُ عَدُوّ النَّفْسِ، وَبِهِ خَرَجَ آدَمُ مِنَ الْجَنَّةِ. وَالْحَسَدُ رائِدُ السُّوءِ، وَمِنْهُ قَتَلَ قابيلُ هابيلَ.
انسان کی ہلاکت تین چیزوں میں ہے ۔ تکبر، لالچ، اور حسد، تکبر سے دین تباہ ہو جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ ابلیس ملعون ہوگیا ۔ اور لالچ، نفس کی دشمن ہے اور اس کے ذریعہ آدم کو جنت سے نکلنا پڑا، اور حسد برائی کی راہنمائی کرتا ہے اور اسی کے ذریعہ ہابیل کو قابیل نے قتل کردیا ۔

14. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): بَيْنَ الْحَقِّ وَالْباطِلِ أرْبَعُ أصابِع، ما رَأَيْتَ بَعَيْنِكَ فَهُوَ الْحَقُّ وَقَدْ تَسْمَعُ بِأُذُنَيْكَ باطِلاً كَثيراً.
حق و باطل کے درمیان چار انگشت کا فاصلہ ہے ۔ جسے تم نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے وہ حق ہے اور اکثر و بیشتر تمہاری سنی ہوئی چیز باطل ہوا کرتی ہیں ۔

15. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): ألْعارُ أهْوَنُ مِنَ النّارِ.
ننگ و عار، آتش جہنم سے بہتر ہے ۔

16. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إذا لَقى أحَدُكُمْ أخاهُ فَلْيُقَبِّلْ مَوْضِعَ النُّورِ مِنْ جَبْهَتِهِ.
جب تم میں سے کوئی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کرے تو پیشانی پر نور کی جگہ (سجدہ گاہ)کا بوسہ لے ۔

17. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنَّ اللّهَ لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً، وَلَيْسَ بِتارِكِكُمْ سُدًى، كَتَبَ آجالَكُمْ، وَقَسَّمَ بَيْنَكُمْ مَعائِشَكُمْ، لِيَعْرِفَ كُلُّ ذى لُبٍّ مَنْزِلَتَهُ، وأنَّ ماقَدَرَ لَهُ أصابَهُ، وَما صُرِفَ عَنْهُ فَلَنْ يُصيبَهُ.
اللہ نے تمہیں عبث پیدا نہیں کیا ہے اور تمہیں بے غرض بھی نہیں چھوڑے گا ۔ (اس نے)تمہاری موت کا وقت مقرر کر دیا ہے ۔ اور تمہارے معاش کو تمہارے درمیان تقسیم کر دیا ہے تاکہ ہر صاحب عقل اپنی منزلت کو پالے اور جو کچھ اللہ نے اس کے لئے مقدر کیا ہے وہ اسے مل کر رہے گا۔اور جسے اللہ نے اس سے دور کردیا ہے اسے وہ ہرگز نہیں پا سکتا۔

18. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): لا تُواخِ أحَداً حَتّى تَعْرِفَ مَوارِدَهُ وَ مَصادِرَهُ، فَإذَا اسْتَنْبَطْتَ الْخِبْرَةَ، وَ رَضيتَ الْعِشْرَةَ، فَآخِهِ عَلى إقالَةِ الْعَثْرَةِ، وَ الْمُواساةِ فىِ الْعُسْرَةِ .
کسی کو اپنا اس وقت تک دوست نہ بناؤ جب تک کہ اس کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہ نہ سمجھ لو ۔ اور جب تمہیں معلومات فراہم ہو گئیں اور اس کی ہمنشینی سے تم راضی ھوگئے تو پھر اسے اپنا دوست اور بھائی بنالو اور اس کی کوتاہیوں سے در گذر کرو اور مشکل وقت میں اس کے کام آؤ ۔

19. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): الْبُخْلِ أنْ يَرىَ الرَّجُلُ ما أنْفَقَهُ تَلَفاً، وَما أمْسَكَهُ شَرَفاً.
بخل یہ ہے کہ انسان جو انفاق کرے اسے تلف سمجھے اور جسے بچالے اسے شرف سمجھے ۔

20. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): تَرْكُ الزِّنا، وَكَنْسُ الْفِناء، وَغَسْلُ الاْناء مَجْلَبَةٌ لِلْغِناء.
زنا نہ کرنا، چوکھٹ کو صاف رکھنا، برتن کو دھلا ہوا رکھنا بے نیازی و ثروت کا باعث ہے ۔

21. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): السِّياسَةُ أنْ تَرْعى حُقُوقَ اللّهِ، وَحُقُوقَ الاْحْياءِ، وَحُقُوقَ الاْمْواتِ.
سیاست یہ ہے کہ حقوق اللہ، زندوں اور مردوں ( تمام انسانوں )کے حقوق کی رعایت کرو ۔

22. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): ما تَشاوَرَ قَوْمٌ إلاّ هُدُوا إلى رُشْدِهِمْ.
کوئی قوم صلاح و مشورہ نہیں کرتی مگر یہ کہ راہ ہدایت کو پالیتی ہے ۔

23. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): اَلْخَيْرُ الَذّى لا شَرَّ فيهِ، ألشُّكْرُ مَعَ النِّعْمَةِ، وَالصّبْرُ عَلَى النّازِلَةِ.
جس نیکی میں (ذرہ برا بر بھی )برائی نہیں پائی جاتی وہ، نعمت پر شکر ادا کرنا، اور مصبیت پر صبر کرنا ہے ۔

42. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): يَابْنَ آدَم! لَمْ تَزَلْ فى هَدْمِ عُمْرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ اُمِّكَ، فَخُذْ مِمّا فى يَدَيْكَ لِما بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإنَّ الْمُؤْمِن یَتَزَوَّدُ وَ الْکافِرُ يَتَمَتَّعُ .
اے بنی آدم ! تم جب سے اپنی ماں کے شکم سے باہر آئے ہو مسلسل اپنی زندگی کی عمارت ڈھار ہے ہو لہٰذا جو سامنے آنے والا ہے (قیامت) اس کے لئے موجودہ زندگی سے توشہ فراہم کر لو کہ مومن زاد راہ فراہم کرتا ہے اور کافر لذتوں میں مست رہتا ہے ۔

25. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنَّ مَنْ خَوَفَّكَ حَتّى تَبْلُغَ الاْمْنَ، خَيْرٌ مِمَّنْ يُؤْمِنْكَ حَتّى تَلْتَقِى الْخَوْفَ.
جو تمہیں ڈراتا رہے یہاں تک کہ تم اپنی آرزو کو پالو اس شخص سے بہتر ہے جو تمہیں اطمینان دلاتا رہے یہاں تک کہ تمہیں خوف لاحق ہو جائے ۔

26. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): القَريبُ مَنْ قَرَّبَتْهُ الْمَوَدَّةُ وَإنْ بَعُدَ نَسَبُهُ، وَالْبَعيدُ مَنْ باعَدَتْهُ الْمَوَدَّةُ وَإنْ قَرُبُ نَسَبُهُ.
تم سے نزدیک وہ ہے جو مودت و محبت کے ذریعہ تم سے قریب ہو ا ہے چاہے حسب ونسب کے اعتبار سے دور ہی کیوں نہ ہو۔ اور دور وہ ہے جو محبت کے اعتبار سے دور ہے چاہے تمہارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

27. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): الْمُرُوَّةِ؛ شُحُّ الرَّجُلِ عَلى دينِهِ، وَإصْلاحُهُ مالَهُ، وَقِيامُهُ بِالْحُقُوقِ .
مردانگی یہ ہے انسان اپنے دین کی خفاظت کرے اپنے مال کی اصلاح کرے اور اپنے اوپر عائد حقوق کو ادا کرے ۔

28. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): عَجِبْتُ لِمَنْ يُفَكِّرُ فى مَأكُولِهِ كَيْفَ لايُفَكِّرُ فى مَعْقُولِهِ، فَيَجْنِبُ بَطْنَهُ ما يُؤْذيهِ، وَيُوَدِّعُ صَدْرَهُ ما يُرْديهِ.
مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو اپنی غذ ا کے سلسلہ میں غور وفکر سے کام لیتا ہے لیکن اپنی عقل کے سلسلہ میں فکر مند نہیں ہے کہ اپنے شکم کو اذیت دینے والی چیزوں سے بچاتا ہے اور اپنے دل ودماغ کو فاسد کر دینے والی چیزوں کو جمع کئے جا رہا ہے ۔

29. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): غَسْلُ الْيَدَيْنِ قَبْلَ الطَّعامِ يُنْفِى الْفَقْرَ، وَبَعْدَهُ يُنْفِى الْهَمَّ .
کھانے سے پہلے ہاتھ دھلنا فقر و تنگدستی کو ختم کرتا ہے اور کھانے کے بعد ھم وغم کو دور کرتا ہے ۔

30. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): حُسْنُ السُّؤالِ نِصْفُ الْعِلْمِ.
اچھا سوال، آدھا علم ہے ۔

31. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنّ الْحِلْمَ زينَةٌ، وَالْوَفاءَ مُرُوَّةٌ، وَالْعَجَلةَ سَفَهٌ.
حلم وبردباری زینت ہے، وفاداری مردانگی ہے اور جلد بازی بے وقوفی ہے۔

32. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَنِ اسْتَخَفَّ بِإخوانِهِ فَسَدَتْ مُرُوَّتُهُ.
جو اپنے بھائیوں کی آبرو ریزی کرتا ہے اس کی مردانگی تباہ ہوجاتی ہے ۔

33. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنّما يُجْزى الْعِبادُ يَوْمَ الْقِيامَةِ عَلى قَدْرِ عُقُولِهِمْ.
بندوں کو بروز قیامت ان کی عقلوں کے حساب سے جز ا دی جائے گی ۔

34. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنَّ الْقُرْآنَ فيهِ مَصابيحُ النُّورِ، وَ شِفاءُ الصُّدُورِ، فَيَجِلْ جالَ بَصَرُهُ، وَ لْيَلْجَمُ الصِّفّةَ قَلْبِهِ، فَإنَّ التَّفْکيرَ حَياةُ الْقَلْبِ الْبَصيرِ، كَما يَمْشي الْمُسْتَنيرُ فىِ الظُّلُماتِ بِالنُّورِ.
بے شک قرآن میں ہدایت کے روشن چراغ اور دلوں کی شفا ہے لہٰذا اپنی آنکھوں کو اس کے ذریعہ جلا بخشو اور اپنے دل کو اس کے ذریعہ صیقل دو۔ اس لئے کہ غور وفکر کرنا بصیر آدمی کے دل کی زندگی ہے جس طرح تاریکی میں راستہ چلنے والا اپنے ساتھ روشنی لے کر چلتا ہے ۔

35. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): ألْمِزاحُ يَأْكُلُ الْهَيْبَةَ، وَ قَدْ أكْثَرَ مِنَ الْهَيْبَةِ الصّامِت.
مزاح، ہیبت کو کھا جاتی ھے، اور خاموش انسان، زیادہ ہیبت کا مالک ہوتا ہے ۔

36. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): أللُؤْمُ أنْ لا تَشْكُرَ النِّعْمَةَ.
تمہارا شکر نعمت نہ کرنا، تمہاری پستی کی نشانی ہے ۔

37. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): لَقَضاءُ حاجَةِ أخ لى فِى اللّهِ أحَبُّ مِنْ إعْتِکافِ شَهْر.
دینی بھائی کی ضرورت کو پورا کرنا میرے نزدیک ایک ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے ۔

38. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): إنَّ الدُّنْيا فى حَلالِها حِسابٌ، وَ فى حَرامِها عِقابٌ، وَفِى الشُّبَهاتِ عِتابٌ، فَأنْزِلِ الدُّنْيا بِمَنْزَلَةِ الميتَةِ، خُذْمِنْها مايَكْفيكَ.
دنیا کی حلال چیزوں میں حساب اور حرام میں عذاب ہے اور شبہ ناک چیزوں میں سرزنش ہے لٰہذا دنیا کو مردار سمجھو اور اس سے بقدر ضرورت استفادہ کرو۔

39. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): اعْمَلْ لِدُنْياكَ كَأنَّكَ تَعيشُ أبَداً، وَ اعْمَلْ لآخِرَتِكَ كَأنّكَ تَمُوتُ غدَاً.
اپنی دنیا کے لئے اس طرح عمل کرو کہ گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، اور اپنی آخرت کے لئے ایسے عمل کرو کہ گویا تمہیں کل ہی مر جانا ہے ۔

40. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): أكْيَسُ الْكَيِّسِ التُّقى، وَ أحْمَقُ الْحُمْقِ الْفُجُورَ، الْكَريمُ هُوَ المتَّبَرُّعُ قَبْلَ السُّؤالِ.

سب سے زیادہ ہوشیار متقی آدمی ہے اور سب سے بڑا بے وقوف فسق وفجور کرنے والا ہے ۔ کریم شخص وہ ھے جو ضرورت مند کے سوال سے پہلے اس کی ضرورت پوری کردے۔

41. قالَ الإمامُ الْمُجتبى (عَلَيْهِ السَّلام): مَنْ عَبَدَ اللّهَ، عبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَىْء.
جو اللہ کی عبادت و اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ ہر شئے کو اس کا مطیع بنا دے گا۔

*حوالہ جات*

1. نزھۃ الناظر وتنبیہ الخواطر؛ص۷۹، ح۳۳، بحار الانوار؛ج۷۸، ص۱۱۲، س۸۔
2. کلمۃ الامام الحسن (علیہ السلام)؛۷، ص۲۱۱۔
3. کلمۃ الامام الحسن (علیہ السلام)؛۷، ص ۲۵، بحار الانوار؛ج۴۴، ص۲۳، ح۷۔
4. احقاق الحق؛ج۱۱، ص۱۸۳، س۲و ص۱۸۵۔
5. دعوات الراوندی؛ص۲۴، ح۱۳، بحار الانوار؛ج۹۸، س۲۰۴، ح۲۱۔
6. بحار الانوار؛ ج۷۵، ص۱۱۱، ضمن ح۶۔
7. وافی؛ ج۴، ص۱۵۵۳، ح۲، تہذیب الاحکام؛ ج۲، ص۳۲۱، ح۲، ۱۶۶۔
8. تحف العقول؛ص۲۳۴، س۱۴، من لایحضرہ الفقیہ؛ ج۱، ص۵۱۱، ح۱۴۷۹۔
9. تحف العقول؛ ص۲۳۵، س ۷، مستدرک الوسائل؛ ج۳، ص۳۵۹، ح۳۷۷۸۔
10. احقاق الحق؛ج۱۱، ص۲۳۸، س۲۔
11. احقاق الحق؛ ج۱۱، ص۲۳۵، س۷۔
12. کلمۃ الامام الحسن (علیہ السلام)؛۷، ص۱۴۰۔
13. اعیان الشیعہ؛ج۱، ص۵۷۷، بحار الانوار؛ ج۷۵، ص۱۱۱، ح۶ ۔
14. تحف العقول؛ ص۲۲۹، س۵، بحار الانوار؛ ج ۷۵، ص۱۱۰، ص۵ ۔
15. کلمۃ الامام الحسن (علیہ السلام)؛۷، ص۱۳۸، تحف العقول؛ ص۲۳۴، س۶، بحار الانوار؛ج۷۵، ص۱۰۵، ح۴۔
16. تحف العقول؛ص۲۳۶، س۳، بحارالانوار؛ ج۷۵، ص۱۰۵، ح۴۔
17. تحف العقول؛ص۲۳۲، س۲، بحار الانوار؛ ج۷۵، ص۱۱۰، ح۵۔
18. تحف العقول؛ ص۱۶۴، س۲۱، بحار الانوار؛ ج۷۵، ص۱۰۵، ح۳۔
19. اعیان الشیعہ؛ ج۱، ص۵۷۷، بحارالانوار؛ج۷۵، ص۱۱۳، ح۷۔
20. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۲۱۲، بحار الانوار؛ ج۷۳، ص۳۱۸، ح۶۔
21. گذشتہ حوالہ؛ ص۵۷۔
22. تحف العقول؛ ص۲۳۳، اعیان الشیعہ؛ ج۱، ص۵۷۷، بحارالانوار؛ج۷۵، ص۱۱۱، ح۶۔
23. تحف العقول؛ ص۲۳۴، س۷،بحارالانوار؛ج۷۵، ص۱۰۵، ح۴۔
24. نزھۃ الناظر وتنبیہ الخاطر؛ ص۷۹، س۱۳، بحارالانوار؛ج۷۵، ص۱۱۱، ح۶۔
25. احقاق الحق؛ج۱۱، ص۲۴۲،س۲۔
26. تحف العقول؛ص۲۳۴، س۳، بحار الانوار؛ج۷۵، ص۱۰۶، ح۴۔
27. تحف العقول؛ ص۲۳۵، س۱۴، بحار الانوار؛ج۷۳، ص۳۱۲، ح۳۔
28. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۳۹، بحار الانوار؛ج۱، ص۲۱۸، ح۴۳۔
29. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۴۶۔
30. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۱۲۹۔
31. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۱۹۸۔
32. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۲۰۹۔
33. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۲۰۹۔
34. نزھۃ الناظر وتنبیہ الخاطر؛ ص۷۳، ص۱۸، بحار الانوار؛ج۷۸، ص۱۱۲، س۱۵۔
35. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۱۳۹، بحار الانوار؛ ج۷۵، ص۱۱۳، ح۷۔
36. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۱۳۹، بحار الانوار؛ ج۷۵، ص۱۰۵، ح۴۔
37. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۱۳۹۔
38. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۳۶، بحار الانوار؛ ج۴۴، ص۱۳۸، ح۶۔
39. کلمۃ الامام الحسن(علیہ السلام؛ ص۳۷، بحار الانوار؛ ج۴۴، ص۱۳۸، ح۶۔
40. احقاق الحق؛ ج۱۱، ص۲۰،س۱، بحار الانوار؛ ج۴۴، ص۳۰۔
41. تنبیہ الخواطر، معروف بہ مجموعہ ورام؛ص۴۲۷، بحار؛ ج۶۸، ص۱۸۴، ح۴۴۔

 روزہ کا فلسفہ اہلبیت (ع) کی نگاہ میں

روزہ کا فلسفہ اہلبیت (ع) کی نگاہ میں

روزہ مادی اور معنوی، جسمانی اور روحانی لحاظ سے بہت سارے فوائد کا حامل ہے۔ روزہ معدہ کو مختلف بیماریوں سے سالم اورمحفوظ رکھنے میں فوق العادہ تاثیر رکھتا ہے۔ روزہ جسم اور روح دونوں کو پاکیزہ کرتا ہے ۔

پیغمبر اکرم (ص) اور روزہ

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
المعدۃ بیت کل داء۔ والحمئۃ راس کل دواء (۱)۔

معدہ ہر مرض کا مرکز ہے اور پرہیز اور (ہر نامناسب غذا کھانے سے ) اجتناب ہر شفا کی اساس اور اصل ہے۔

اور نیز آپ نے فرمایا:
صوموا تصحوا، و سافروا تستغنوا۔

روزہ رکھو تا کہ صحت یاب رہو اور سفر کرو تاکہ مالدار ہو جاؤ۔

اس لیے سفر اور تجارتی مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانا اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں لیجانا، انسان کی اقتصادی حالت کو بہتر بناتا ہے اور اس کی مالی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔

حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا:
لکل شی ء زکاۃ و زکاۃ الابدان الصیام (۲)
ہر چیز کے لیے ایک زکات ہے اور جسم کی زکات روزہ ہے۔

حضرت علی (ع) اور روزہ

امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
و مجاهدة الصيام في الايام المفروضات ، تسكينا لاطرافهم و تخشيعا لابصارهم ، و تذليلا لنفوسهم و تخفيفا لقلوبهم ، و اذهابا للخيلاء عنهم و لما في ذلك من تعفير عتاق الوجوه بالتراب تواضعا و التصاق كرائم الجوارح بالارض تصاغرا و لحوق البطون بالمتون من الصيام تذللا.(3)

جن ایام میں روزہ واجب ہے ان میں سختی کو تحمل کر کے روزہ رکھنے سے بدن کے اعضاء کو آرام و سکون ملتا ہے۔ اور اس کی آنکھیں خاشع ہو جاتی ہیں اور نفس رام ہو جاتا ہے اور دل ہلکاہو جاتا ہے اور ان عبادتوں کے ذریعے خود پسندی ختم ہو جاتی ہے اور تواضع کے ساتھ اپنا چہرہ خاک پر رکھنے اور سجدے کی جگہوں کو زمین پر رکھنے سے غرور ٹوٹتا ہے۔ اور روزہ رکھنے سے شکم کمر سے لگ جاتے ہیں۔
1- : روزہ اخلاص کے لیے امتحان ہے۔
حضرت علی (ع) دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
و الصیام ابتلاء الاخلاص الخلق(۴)

روزہ لوگوں کے اخلاص کو پرکھنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
روزہ کے واجب ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ لوگوں کے اخلاص کا امتحان لیا جائے۔ چونکہ واقعی معنی میں عمل کے اندر اخلاص روزہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔
2 - روزہ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔

امام علی (ع) نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
صوم شھر رمضان فانہ جنۃ من العقاب(۵)
روزہ کے واجب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ روزہ عذاب الٰہی کے مقابلے میں ڈھال ہے اور گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے۔

امام رضا (ع) اور روزہ

جب امام رضا (ع) سے روزہ کے فلسفہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: بتحقیق لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ بھوک اور پیاس کی سختی کا مزہ چکھیں۔ اور اس کے بعد روز قیامت کی بھوک اور پیاس کا احساس کریں۔

جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے خطبہ شعبانیہ میں فرمایا:
واذکروا بجوعکم و عطشکم جوع یوم القیامۃ و عطشہ۔

اپنے روزہ کی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک و پیاس کو یاد کرو۔

یہ یاد دہانی انسان کو قیامت کے لیے آمادہ اور رضائے خدا کو حاصل کرنے کے لیے مزید جد و جہد کرنے پر تیار کرتی ہے۔(۷)

امام رضا (ع) دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
روزہ رکھنے کا سبب بھوک اور پیاس کی سختی کو درک کرنا ہے تاکہ انسان متواضع، متضرع اور صابر ہو جائے۔
اور اسی طرح سے روزہ کے ذریعے انسان میں انکساری اور شہوات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
"ہاں، روزہ سب سے افضل عبادت ہے۔ شریعت اسلامی اور احکام خداوندی نے شہوات کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے روزہ کو وسیلہ قرار دیا ہے اور نفس کو پاکیزہ بنانے اور بری صفات اور رذیلہ خصلتوں کو دور کرنے کے لیے روزہ کو واجب کیا ہے۔ البتہ روزہ رکھنے سے مراد صرف کھانے پینے کو ترک کرنا نہیں ہے۔ بلکہ روزہ یعنی کف النفس"نفس کو بچانا۔

جیسا کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

روزہ ہر انسان کے لیے سپر اور ڈھال ہے اس لیے روزہ دار کو چاہیے کہ بری بات منہ سے نہ نکالے اور بیہودہ کام انجام نہ دے۔
پس روزہ انسان کو انحرافات، لغزشوں اور شیطان کے فریبوں سے نجات دلاتاہے۔ اور اگر روزہ دار ان مراتب تک نہ پہنچ سکے تو گویا اس نے صرف بھوک اور پیاس کو برداشت کیا ہے اور یہ روزہ کا سب سے نچلا درجہ ہے۔
حوالہ جات
1- اركان اسلام ، ص 108 .
2- كافي ، ج 4 ، ص 62.
3- نهج البلاغه ، خطبه 192.
4- نهج البلاغه ، حكمت 252.
5- نهج البلاغه ، خطبه 110.
6- وسائل الشيعه ، ج 7 ، ص 3.
7- وہی ، ص 4.
8- علل الشرايع ، شيخ صدوق ، باب الصوم

روزہ کے بارے میں  چہل حدیث

1 ارکان اسلام

امام باقر عليہ السلام نے فرمایا:

بني الاسلام علي خمسة اشياء، علي الصلوة و الزكاة و الحج و الصوم و الولايه.

اسلام کے پانچ ارکان ہیں، نماز، زکات، حج، روزہ اور ولایت۔

حوالہ : (فروع كافي، ج 4 ص 62، ح 1)

2 روزہ رکھنے کا فلسفہ

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا ہے :

انما فرض الله الصيام ليستوي به الغني و الفقير.

خداوند نے روزہ اس لیے واجب قرار دیا ہے کہ تا کہ اس کے ذریعے سے غنی اور فقیر کے فرق کو آپس میں مٹا سکے۔

حوالہ : (من لا يحضره الفقيه، ج 2 ص 43، ح 1)

3 روزہ انسان کے اخلاص کا امتحان

امام علی عليہ السلام نے فرمایا ہے:

فرض الله ... الصيام ابتلاء لاخلاص الخلق،

خداوند نے روزہ اس لیے واجب قرار دیا ہے کہ تا کہ اس کے ذریعے سے انسانوں کے اخلاص کا امتحان لے سکے۔

حوالہ : (نهج البلاغه، حكمت 252)

4 روزه قیامت کی یاد دلاتا ہے

امام رضا عليہ السلام نے فرمایا ہے :

انما امروا بالصوم لكي يعرفوا الم الجوع و العطش فيستدلوا علي فقر الاخر.

انسانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ بھوک اور پیاس کے درد کو سمجھ سکیں اور اسی کے ذریعے سے قیامت کے دن کی ضرورت اور نیاز کو بھی سمجھ سکیں۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 4 ص 4 ح 5 علل الشرايع، ص 10)

5-روزه رکھنا بدن کی زکات ہے

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا :

لكل شيئي زكاة و زكاة الابدان الصيام.

ہر چیز کی ایک زکات ہے اور بدن کی زکات روزہ رکھنا ہے۔

حوالہ (الكافي، ج 4، ص 62، ح 3)

6 روزه جہنم کی آگ سے ڈھال ہے

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا ہے :

الصوم جنة من النار.

روزہ جہنم کی آگ کے سامنے ڈھال ہے، یعنی روزہ رکھنے سے انسان جہنم کی آگ سے محفوظ رہتا ہے۔

حوالہ : (الكافي، ج 4 ص 162)

7 روزے کی اہمیت

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا :

الصوم في الحر جهاد.

گرمیوں میں روزہ رکھنا، راہ خدا میں جہاد کرنے کی طرح ہے۔

حوالہ : (بحار الانوار، ج 96، ص 257)

8 نفس کا روزہ

اميرالمؤمنین علی عليہ السلام نے فرمایا :

صوم النفس عن لذات الدنيا انفع الصيام.

انسان کے نفس کا دنیاؤی لذات سے رکے رہنا، یہ فائدے مند ترین روزہ ہے۔

حوالہ : (غرر الحكم، ج 1 ص 416 ح 64)

9 واقعی و حقیقی روزہ

امام علی عليہ السلام نے فرمایا :

الصيام اجتناب المحارم كما يمتنع الرجل من الطعام و الشراب.

روزہ حرام سے بچنے کا نام ہے، جس طرح کہ انسان ظاہری طور پر کھانے اور پینے سے پرہیز کرتا ہے۔

حوالہ : (بحار ج 93 ص 249)

10 بہترین روزه

امام علی عليہ السلام نے فرمایا :

صوم القلب خير من صيام اللسان و صوم اللسان خير من صيام البطن.

دل کا روزہ رکھنا، زبان کے روزے رکھنے سے بہتر ہے اور زبان کا روزہ رکھنا، شکم (پیٹ) کے روزہ رکھنے سے بہتر ہے۔

حوالہ : (غرر الحكم، ج 1، ص 417، ح 80)

11 آنکھ اور کان کا روزہ

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

اذا صمت فليصم سمعك و بصرك و شعرك و جلدك.

جب تم روزہ رکھتے ہو تو، تمہاری آنکھ، کان، بالوں اور جلد کا بھی روزہ ہونا چاہیے، یعنی روزے کی حالت میں پیٹ کے ساتھ ساتھ تمام بدن کے اعضاء کو بھی گناہ سے بچنا چاہیے۔

حوالہ: (الکافى ج 4 ص 87، ح 1)

12 اعضاء و جوارح کا روزہ

حضرت زہرا عليہا السلام نے فرمایا :

ما يصنع الصائم بصيامه اذا لم يصن لسانه و سمعه و بصره و جوارحه.

روزے دار کے اس روزے کا کیا فائدہ ہے کہ کہ جس میں وہ اپنی زبان، کان، آنکھ اور دوسرے اعضاء کو گناہوں سے نہ بچائے۔

حوالہ: (بحار، ج 93 ص 295)

13 ناقص روزہ

امام باقر عليہ السلام نے فرمایا ہے کہ:

لا صيام لمن عصي الامام و لا صيام لعبد ابق حتي يرجع و لا صيام لامراة ناشزة حتي تتوب و لاصيام لولد عاق حتي يبر.

ان افراد کا روزہ مکمل نہیں ہے:

1- جو اپنے زمانے کے امام کی نافرمانی کرے،

2- اپنے آقا سے فرار کرنے والا غلام، جب تک وہ واپس نہ آ جائے،

3- ایسی بیوی جو اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے، مگر یہ کہ وہ توبہ کرے،

4- ایسی اولاد جو والدین کی نافرمان ہے، مگر یہ اپنے والدین کی اطاعت کرے،

حوالہ: (بحار الانوار ج 93، ص 295)

14 بے فائدہ روزه

امام علی عليہ السلام نے فرمایا :

كم من صائم ليس له من صيامه الا الجوع و الظما و كم من قائم ليس له من قيامه الا السهر و العناء.

بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ جنکو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے عبادت کرنے والے ایسے ہیں کہ جنکو اپنی عبادت سے رات کو جاگنے اور تھکاوٹ کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

حوالہ : (نهج البلاغه، حكمت 145)

15 روزه اور صبر

في قول الله عزوجل «واستعينوا بالصبر و الصلوة »

قال: الصبر الصوم.

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا ہے کہ: خداوند نے یہ جو فرمایا ہے کہ: (مشکل وقت میں) صبر اور نماز سے مدد طلب کرو، اس آیت میں صبر سے مراد، روزہ ہے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 298، ح 3)

16 روزه اور صدقہ
امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

صدقه درهم افضل من صيام يوم.

خدا کی راہ میں ایک درہم صدقہ دینا، ایک مستحبی روزہ رکھنے سے بہتر و افضل ہے۔

حولہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 218، ح 6)

17- روزه رکھنے کی جزاء

رسول خدا (ص) نے فرمایا :

قال رسول الله صلي الله عليه و آله: قال الله تعالي ; الصوم لي و انا اجزي به،

خداوند نے خود فرمایا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اسکی جزاء دوں گا۔

حولہ : (وسائل الشيعه ج 7 ص 294، ح 15 و 16; 27 و 30)

18 بہشتی غذائیں

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا :

من منعه الصوم من طعام يشتهيه كان حقا علي الله ان يطعمه من طعام الجنة و يسقيه من شرابها.

جس انسان کو اسکا روزہ اسکی پسندیدہ غذاؤں سے روکے تو، خداوند پر بھی ایسے انسان کو جنت کی کھانے پینے کی اشیاء عطا کرنا، واجب و ضروری ہو جاتا ہے۔

حوالہ : (بحار الانوار ج 93 ص 331)

19 روزہ رکھنے والے خوش قسمت ہیں

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا :

طوبي لمن ظما او جاع لله اولئك الذين يشبعون يوم القيامة

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو خداوند کے لیے بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ جو قیامت والے دن بھوک اور پیاس محسوس نہیں کریں گے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 299، ح‏2)

20 روزے داروں کے لیے خوشخبری

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

من صام لله عزوجل يوما في شدة الحر فاصابه ظما و كل الله به الف ملك يمسحون وجهه و يبشرونه حتي اذا افطر.

جو بھی بہت زیادہ گرمی میں خداوند کے لیے روزہ رکھے اور پیاسا رہے، تو خداوند ہزار فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے اسکے چہرے کو مس کریں اور اسکو بشارت دیں کہ یہاں تک کہ وہ روزہ افطار کر لے۔

حوالہ : (الكافي، ج 4 ص 64 ح 8 و بحار الانوار ج 93 ص 247)

21 روزه دار کے لیے خوشی

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا:

للصائم فرحتان فرحة عند افطاره و فرحة عند لقاء ربه،

روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں،

1- افطار کے وقت،

2- خداوند سے ملاقات کے وقت ( مرتے وقت اور قیامت والے دن،)

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 290 و 294 ح‏6 و 26.)

22 روزے دار اور باب بہشت

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا:

ان للجنة بابا يدعي الريان لا يدخل منه الا الصائمون.

جنت کا ایک دروازہ ہے، جسکا نام ریان ہے کہ اس دروازے سے فقط روزے دار داخل ہو کر جنت میں جائیں گے۔

حولہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 295، ح 31.)

23 روزه داروں کی دعا

امام كاظم عليہ السلام نے فرمایا :

دعوة الصائم تستجاب عند افطاره،

روزے دار انسان کی دعا افطار کے وقت قبول ہوتی ہے۔

حوالہ : (بحار الانوار ج 92 ص 255 ح 33.)

24 مؤمنوں کی بہار

قال رسول الله صلي الله عليه و آله نے فرمایا :

الشتاء ربيع المومن يطول فيه ليله فيستعين به علي قيامه و يقصر فيه نهاره فيستعين به علي صيامه.

سردیوں کا موسم مؤمنوں کے لیے بہار کا موسم ہے کہ وہ اس موسم کی لمبی راتوں میں جاگ کر عبادت کرتے ہیں اور اسکے چھوٹے دنوں میں روزے رکھتے ہیں۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 302، ح 3.)

25 مستحب روزہ

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

من جاء بالحسنة فله عشر امثالها من ذلك صيام ثلاثة ايام من كل شهر.

جو بھی نیک کام انجام دے تو، اسکو دس گنا ثواب ملتا ہے، کہ ان کاموں میں سے ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ہے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7، ص 313، ح 33)

26 ماه رجب کا روزہ

امام كاظم عليہ السلام نے فرمایا:

رجب نهر في الجنه اشد بياضا من اللبن و احلي من العسل فمن صام يوما من رجب سقاه الله من ذلك النهر.

رجب جنت کی ایک نہر کا نام ہے کہ وہ دودھ سے سفید اور شہد سے میٹھی ہے، جو بھی رجب کے مہینے میں ایک روزہ رکھے تو خداوند اس شخص کو اس نہر سے سیراب کرے گا۔

حوالہ: (من لا يحضره الفقيه ج 2 ص 56 ح 2)

27 ماه شعبان کا روزہ

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

من صام ثلاثة ايام من اخر شعبان و وصلها بشهر رمضان كتب الله له صوم شهرين متتابعين.

جو بھی شعبان کے مہینے کے آخری تین دن روزہ رکھے اور اسکو ماہ رمضان کے ساتھ ملا دے تو خداوند اسکے لیے مسلسل دو مہینے روزہ رکھنے کا ثواب لکھے گا۔

حوالہ : (وسائل الشيعه ج 7 ص 375،ح 22)

28 افطاری دینا

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

من فطر صائما فله مثل اجره،

جو بھی ایک روزے دار کا روزہ افطار کروائے، تو اسکو روزے دار کی طرح کا اجر ملے گا۔

حوالہ : (الكافي، ج 4 ص 68، ح 1)

29 افطاری دینا

امام كاظم عليہ السلام نے فرمایا :

فطرك اخاك الصائم خير من صيامك،

تمہارا اپنے روزے دار مؤمن بھائی کا روزہ افطار کرانا، یہ تمہارے اپنے مستحبی روزہ رکھنے سے بہتر ہے۔

حوالہ : (الكافي، ج 4 ص 68، ح 2)

30 روزه نہ رکھنا

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا:

من افطر يوما من شهر رمضان خرج روح الايمان منه

جو بھی جان بوجھ کر ماہ رمضان میں ایک دن روزہ نہ رکھے تو، اس شخص کے بدن سے ایمان کی روح خارج ہو جاتی ہے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 181، ح 4 و 5)

31 رمضان خداوند کا مہینہ

امام علی عليہ السلام نے فرمایا :

شهر رمضان شهر الله و شعبان شهر رسول الله و رجب شهري،

رمضان خداوند کا مہینہ ہے اور شعبان رسول خدا کا مہینہ ہے اور رجب میرا مہینہ ہے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 266، ح 23.)

32 رمضان رحمت کا مہینہ

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا :

قال رسول الله (صلي الله عليه و آله): ... و هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخره عتق من النار.

رمضان ایسا مہینہ ہے کہ جسکا پہلا حصہ رحمت، درمیان والا حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزاد ہونا ہے۔

حوالہ : ( بحار الانوار، ج 93، ص 342)

33 فضيلت ماه مبارک رمضان

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا:

ان ابواب السماء تفتح في اول ليلة من شهر رمضان و لا تغلق الي اخر ليلة منه،

آسمان کے دروازے رمضان کے مہینے کی پہلی رات کھولے جاتے ہیں اور یہ کھلے دروازے آخری رات تک بند نہیں ہوتے۔

حوالہ : (بحار الانوار، ج 93، ص 344)

34 اہميت ماه مبارک رمضان

رسول خدا صلي الله عليہ و آلہ نے فرمایا:

لو يعلم العبد ما في رمضان لود ان يكون رمضان السنة،

اگر انسان رمضان کے مہینے کی قدر و منزلت کو جان لیتا تو پھر تمنا کرتا کہ اے کاش سارا سال ہی رمضان کا مہینہ ہوتا۔

حوالہ : (بحار الانوار، ج 93، ص 346)

35 قرآن اور ماه مبارک رمضان

امام رضا عليہ السلام نے فرمایا :

من قرا في شهر رمضان اية من كتاب الله كان كمن ختم القران في غيره من الشهور.

جو بھی رمضان کے مہینے میں قرآن کریم کی ایک آیت کی تلاوت کرے تو یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اس نے دوسرے مہینوں میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہے، یعنی اس مبارک مہینے تلاوت قرآن کا ثواب اس قدر زیادہ ہو جاتا ہے۔

حوالہ : (بحار الانوار ج 93، ص 346)

36 مقدر کو بدلنے والی رات

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

راس السنة ليلة القدر يكتب فيها ما يكون من السنة الي السنة.

انسان کے اعمال کے حساب کی رات، شب قدر ہو گی، اس رات میں آنے والے سال تک کے تمام مقدرات لکھے جاتے ہیں۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 258 ح 8)

37 شب قدر کی فضیلت

امام صادق عليہ السلام سے سوال ہوا کہ کس طرح شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ؟

امام نے فرمایا:

قيل لابي عبد الله عليه السلام كيف تكون ليلة القدر خيرا من الف شهر؟ قال: العمل الصالح فيها خير من العمل في الف شهر ليس فيها ليلة القدر.

اس رات میں نیک کام کرنا، اس نیک کام کرنے سے بہتر ہے کہ جو ایسے ہزار مہینوں میں انجام دیا جائے کہ جن میں شب قدر موجود نہیں ہے۔ پس اسی وجہ سے شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 256، ح 2)

38 تقدير کے فیصلے

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا:

التقدير في ليلة تسعة عشر و الابرام في ليلة احدي و عشرين و الامضاء في ليلة ثلاث و عشرين.

ماہ رمضان کی 19 ویں شب میں تقدیر لکھی جاتی ہے، اور 21 ویں شب کو وہ تقدیر حتمی ہو جاتی ہے، اور 23 ویں شب کو اس تقدیر کے حتمی ہونے کی تصدیق اور اس پر دستخط کر دئیے جاتے ہیں۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7 ص 259)

39 شب قدر میں شب بیداری کرنا

عن فضيل بن يسار قال: كان ابو جعفر (عليه السلام) اذا كان ليلة احدي و عشرين و ليلة ثلاث و عشرين اخذ في الدعا حتي يزول الليل فاذا زال الليل صلي.

فضيل بن يسار کہتا ہے کہ امام باقر عليہ السلام ماہ رمضان کی 21 ویں اور 23 ویں شب کو صبح صادق تک دعا و عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے، اور جب رات ختم ہو جاتی تھی تو صبح کی نماز ادا کرتے تھے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 7، ص 260، ح 4)

40 زكات فطره

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

ان من تمام الصوم اعطاء الزكاة يعني الفطرة كما ان الصلوة علي النبي (صلي الله عليه و آله) من تمام الصلوة.

زکات فطرہ ادا کرنا روزے کو مکمل کرتا ہے، جس طرح کہ رسول خدا اور انکی آل پر صلوات پڑھنا نماز کو مکمل کرتا ہے۔

حوالہ : (وسائل الشيعه، ج 6 ص 221، ح 5)