عید الفطر احادیث کی روشنی میں
💐 عید فطر احادیث کی روشنی میں
1️⃣ ۔ عید کی شب بیداری
✍️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
"مَن أحیا لَیلةَ العِیدِ ولَیلةَ النِّصفِ مِنشَعبانَ، لَم یمُتْ قَلبُهُ یومَ تَموتُ القُلوبُ؛
جو بھی عید اور نصف شعبان کی راتوں کو شب بیداری کرے اس کا دل اس دن مُردگی کا شکار نہیں ہوگا جب لوگوں کے دل مر جائیں گے۔
📚شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ج1، ص102، ح2
2️⃣ ۔ عبادات مقبولہ کی عید
✍️ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"إنَّما هُوَ عِیدٌ لِمَن قَبِلَ اللَّهُ صِیامَهُ وشَكَرَ قِیامَهُ وكُلُّ یومٍ لا یُعصَى اللَّهُ فیهِ فهُوَ عیدٌ؛
آج صرف ان لوگوں کی عید ہے جن کے روزوں کو اللہ نے قبول فرمایا ہو، اور اس کی شب زندہ داریوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے؛ اور ہر وہ دن عید ہے جب اللہ کی نافرمانی انجام نہ پائے"۔
📚 (نہج البلاغہ دشتی، حکمت 428).
3️⃣ ۔ یہ تمہارے لئے عید ہے اور تو اس کے اہل ہو
✍️ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"ألا وإنَّ هذا الیومَ یومٌ جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُم عِیداً وجَعَلَكُم لَهُ أهلاً، فَاذكُرُوا اللَّهَ یذكُركُم وَادْعُوهُ یستَجِب لَكُم؛
جان لو کہ اللہ نے آج کے دن کو تمہارے لئے عید قرار دیا اور تمہیں اس کا اہل قرار دیا، تو اللہ کو یاد کرو، تاکہ وہ بھی تمہیں یاد کرے اور اس کی بارگاہ میں دعا کرو تا کہ وہ استجابت فرمائے"۔
📚(شیخ صدوق، من لایحضره الفقیه، ج1، ص517)
4️⃣ ۔ زکوۃ فطرہ کا دن
✍️ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"مَن أدّى زكاةَ الفِطرَةِ تَمَّمَ اللَّهُ لَهُ بها ما نَقَصَ مِن زكاةِ مالِهِ؛
جو بھی زکوۃ فطرہ دیدے، خداوند متعال اس کی برکت سے اس کمی کو پورا کرتا ہے جو زکوۃ دینے کے بموجب اس کے مال میں واقع ہوئی ہے"۔
📚 شیخ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج6، ص220، ح4
5️⃣۔ عید فطر کی دعا
✍️ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
"اللَّهُمَّ إِنَّا نَتُوبُ إِلَيْكَ فِي يَوْمِ فِطْرِنَا الَّذِي جَعَلْتَهُ لِلْمُؤْمِنِينَ عِيداً وَ سُرُوراً وَلِأَهْلِ مِلَّتِكَ مَجْمَعاً وَ مُحْتَشَداً؛ بار پروردگارا!
ہم تیری طرف پلٹ آتے اپنے فطر کے دن، جسے تو نے عید اور شادمانی قرار دیا ہے، اور اپنی ملت (امت مسلمہ) کے لئے اجتماع اور باہمی تعاون کا دن"۔
📚 صحیفہ سجادیہ، دعاء نمبر 45
6️⃣ ۔ عید فطر انعامات وصول کرنے کا دن
✍️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"عن جابر عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: قَالَ النَّبيُّ (صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ) إذا كانَ أَوَلَ يَوْمٍ مِنْ شَوَّالٍ نادَی مُنادٍ: أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ اغْدُوا إِلَی جَوَائِزِكُمْ ثُمَّ قَالَ يَا جَابِرُ جَوَائِزُ اللَّهِ لَيْسَتْ بِجَوَائِزِ هَؤُلَاءِ الْمُلُوكِ ثُمَّ قَالَ هُوَ يَوْمُ الْجَوَائِز؛
جابر امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہيں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: جب شوال کی پہلی تاریخ (عید فطر) آ پہنچتی ہے تو منادی اللہ کی طرف سے ندا دیتا ہے کہ "اے مؤمنو! صبح کو اپنے انعامات لینے نکلے، (جو اللہ کی طرف سے روزہ دار مؤمنین کے لئے فراہم کئے گئے ہیں)" اور پھر فرمایا: "اے جابر! اللہ کے انعامات ان دنیاوی بادشاہوں کے انعامات جیسے (مادی اور فانی) نہیں ہیں"! (بلکہ ہی عمدہ اور ناقابل بیان اور نہایت عظیم ہیں)! اور پھر فرمایا: اور پھر فرمایا: "آج انعامات وصول کرنے کا دن ہے"۔
📚 شیخ حر عاملی، وسائلالشیعۃ، ج5، ص140
7️⃣ ۔ زکوۃ فطرہ روزے کی تکمیل
✍️ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"إِنَّ مِنْ تَمَامِ اَلصَّوْمِ إِعْطَاءُ اَلزَّكَاةِ يَعْنِي اَلْفِطْرَةَ كَمَا أَنَّ اَلصَّلاَةَ عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ مِنْ تَمَامِ اَلصَّلاَةِ لِأَنَّهُ مَنْ صَامَ وَلَمْ يُؤَدِّ اَلزَّكَاةَ فَلاَ صَوْمَ لَهُ إِذَا تَرَكَهَا مُتَعَمِّداً وَلاَ صَلاَةَ لَهُ إِذَا تَرَكَ اَلصَّلاَةَ عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ؛
روزے کی تکمیل زکوۃ فطرہ ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ پر صلوات بھیجنا نماز کی تکمیل ہے؛ کیونکہ جو روزہ رکھے اور زکوۃ فطرہ کی ادائیگی کو جان کر ترک کرے تو گویا کہ اس کے روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہے؛ جیسا کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ پر درود و سلام ترک کردے، تو اس کی نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہے"۔
📚حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج6، ص221۔
8️⃣ ۔ سیاسی، سماجی اور انفرادی عبادات کا دن
✍️ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"انّما جُعِلَ یَوْمُ الفِطْر العیدُ، لِیكُونَ لِلمُسلِمینَ مُجْتمعاً یَجْتَمِعُونَ فیه و یَبْرُزُونَ لِلّهِ عزّوجلّ فَیُمجّدونَهُ عَلى ما مَنَّ عَلیهم، فَیَكُونُ یَومَ عیدٍ ویَومَ اجتماعٍ وَ یَوْمَ زكاةٍ وَ یَوْمَ رَغْبةٍ و یَوْمَ تَضَرُّعٍ وَلأَنَّهُ اَوَّلُ یَوْمٍ مِنَ السَّنَةِ یَحِلُّ فِيهِ الاَكلُ وَالشُّرْبُ لاَنَّ اَوَّلَ شُهُورِ السَّنَةِ عِنْدَ اَهْلِ الْحَقِّ شَهْرُ رَمَضانَ فَأَحَبَّ اللّه ُ عَزَّوَجَلَّ اَنْ يَكُونَ لَهُمْ في ذلِكَ مَجْمَعٌ يَحْمِدُونَهُ فِيهِ وَيُقَدِّسُونَهُ؛
فطر کے دن کو عید قرار دیا گیا تا کہ مسلمانوں کے لئے اجتماع کا دن ہو جس میں وہ اجتماع کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے نمایاں ہوتے ہیں اور اس کی تمجید کریں ان احسانات پر جن سے اللہ نے انہیں نوازا ہے؛ تو یہ عید کا دن ہے، اور اجتماع کا دن ہے، اور زکوۃ کا دن ہے اور (اللہ اور اس کی بیان کردہ نیکیوں کی طرف) رغبت کا دن ہے، اور درگاہ رب کریم میں گڑگڑانے کا دن ہے؛ اور اس لئے کہ یہ دن پہلا دن ہے جب کھانا پینا جائز ہوجاتا ہے، کیونکہ اہل حق کے ہاں سال کا پہلا مہینہ رمضان ہے، پس اللہ دوست رکھتا ہے کہ مسلمان اس دن کو اجتماع منعقد کریں، اور اس دن اس کی حمد و ثناء کریں اور اس کی تقدیس کریں"۔
📚 (شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج1، ص122؛
9️⃣۔ تکبیر و تکریم کا دن
✍️امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"فَإِنْ قَالَ (قائلٌ) فَلِمَ جُعِلَ التَّكْبِيرُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْهُ فِي غَيْرِهَا مِنَ الصَّلَاةِ قِيلَ لِأَّنَّ التَّكْبِيرَ إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ لِلَّهِ وَ تَمْجِيدٌ عَلَى مَا هَدَى وَ عَافَى؛
اگر کسی کہنے والے نے کہا کہ عید کے دن تکبیریں دوسرے دنوں کی نسبت کیوں زیادہ قرار دی گئی ہیں تو کہا جائے گا کہ تکبیر، بےشک اللہ کی بڑائی بیان کرنا اور تعظیم وتکریم ہے اس کی ہدایتوں اور نعمتوں پر"۔
📚 (شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج1، ص122؛
🔟 ۔ شیعیان اہل بیت(ع) کی چار عیدیں
✍️امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا:
"إنَّمَا الأعیادُ أربَعَةٌ لِلشّیعَةِ: الفِطرُ والأضحی والغَدیرُ والجُمُعَةُ؛
بے شک شیعیان اہل بیت کی چار عیدیں ہیں: عید فطر، عید الضحی، عید غدیر اور جمعہ"۔
📚(بحارالأنوار، ج95، ص351)
علمی ، فکری ، تحقیقی ، تبلیغی