اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ایک نمونہ

بحر سقا نے امام صادق علیہ السّلام سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے مجھے فرمایا:

اے بحر! حسن خلق، امور میں آسانی کا باعث ہے۔ اور پھر فرمایا کیا میں تمہیں وہ واقعہ نہ سناؤں کہ جسے تمام ایل مدینہ جانتے ہیں؟ 
میں نے عرض کیا: کیوں نہیں!
تو انہوں نے فرمایا:
ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم مسجد میں بیٹھے، چند صحابہ کے ساتھ باتی کر رہے تھے۔ انصار میں سے کسی شخص کی ایک چھوٹی سی کنیز مسجد میں داخل ہوئی اور حضور ص کے قریب آئی۔ اس نے چپکے سے آپ کی عبا کے دامن کو پکڑ کر کھینچا، جیسے ہی آپ ص نے محسوس کیا، اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور سوچا کہ شاید اس بچی کو میرے ساتھ کوئی کام ہے، لیکن جب آپ ص اٹھے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اور آپ بھی اسے کچھ کہے بغیر بیٹھ گئے۔ پھر اس نے عبا کے دامن کو پکڑ کر کھینچا، حضرت ص پھر کھڑے ہوئے، حتی تین بار ایسا ہوا، جب چوتھی مرتبہ حضرت ص اٹھے تو اس نے آپ ص کی عبا سے چھوٹا سا ٹکڑا کاٹا اور چلی گئی۔ 
صحابہ کرام اس منظر کو دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا: 
اے کنیز لڑکی! تو نے یہ کیا کیا ہے؟  تو نے حضور ص کو تین بار اپنی جگہ سے اٹھایا ہے اور کچھ بھی نہیں بولی اور آخر میں ان کی عبا کو کاٹ لیا ہے۔ تو نے ایسا کیوں کیا ہے؟
کنیز لڑکی نے کہا: 
ہمارے گھر میں ایک شخص مریض ہے، اہل خانہ نے مجھے حضور ص کی عبا کا چھوٹا سا ٹکڑا کاٹنے کے لئے بھیجا ہے تاکہ اس مریض کے ہاتھ پر باندھیں اور وہ شفا یاب ہو جائے۔ میں ہر بار عبا کا ٹکڑا کاٹنا چاہتی تھی مگر مجھے شرم آتی تھی اور نہیں کاٹ سکتی تھی اور ان سے اس کے لئے اجازت لینا بھی مجھے اچھا نہیں لگا لہذا مجھے اس کے لئے یہی ترکیب سوجھی ۔ 
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بغیر کسی  غصّے اور ناراضگی کے اس چھوٹی کنیز کو الوداع کہہ دیا۔

​​📖 متن کلام

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزِ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ عَنْ بَحْرٍ اَلسَّقَّاءِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ:

يَا بَحْرُ حُسْنُ اَلْخُلُقِ يُسْرٌ ثُمَّ قَالَ أَ لاَ أُخْبِرُكَ بِحَدِيثٍ مَا هُوَ فِي يَدَيْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ اَلْمَدِينَةِ.

قُلْتُ: بَلَى!

قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسٌ فِي اَلْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَتْ جَارِيَةٌ لِبَعْضِ اَلْأَنْصَارِ وَ هُوَ قَائِمٌ فَأَخَذَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَقَامَ لَهَا اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَلَمْ تَقُلْ شَيْئاً وَ لَمْ يَقُلْ لَهَا اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ شَيْئاً حَتَّى فَعَلَتْ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَامَ لَهَا اَلنَّبِيُّ فِي اَلرَّابِعَةِ وَ هِيَ خَلْفَهُ فَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ ثُمَّ رَجَعَتْ.

فَقَالَ لَهَا اَلنَّاسُ: فَعَلَ اَللَّهُ بِكِ وَ فَعَلَ حَبَسْتِ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لاَ تَقُولِينَ لَهُ شَيْئاً وَ لاَ هُوَ يَقُولُ لَكِ شَيْئاً. مَا كَانَتْ حَاجَتُكِ إِلَيْهِ؟

قَالَتْ: إِنَّ لَنَا مَرِيضاً فَأَرْسَلَنِي أَهْلِي لآِخُذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ لِيَسْتَشْفِيَ بِهَا فَلَمَّا أَرَدْتُ أَخْذَهَا رَآنِي فَقَامَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ أَنْ آخُذَهَا وَ هُوَ يَرَانِي وَ أَكْرَهُ أَنْ أَسْتَأْمِرَهُ فِي أَخْذِهَا فَأَخَذْتُهَا.

📚 الکافی، ج2، ص102.

اگر ہم ان تین چیزوں کی اصلاح کر لیں

✍️ امام صادق علیہ السّلام سے مروی ہے کہ امام علی علیه السلام نے فرمایا:

جب فقہاء اور حکماء ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے تو اس میں ان تین چیزوں کو ذکر کرتے تھے ان کے ساتھ چوتھی چیز مذکور نہیں ہوتی تھی۔

1️⃣ جو شخص اپنی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا کے ہم و غم اس سے دور کر دیتا

2️⃣ جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کرتا ہے خدا اس کے ظاہر کی اصلاح کر دیتا ہے.

3️⃣ جو شخص خدا کے ساتھ اپنا رابطہ درست کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لوگوں کے ساتھ روابط کی اصلاح فرماتا ہے۔

📖 متن حدیث

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ اَلْمُتَوَكِّلِ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ اَلنَّوْفَلِيِّ عَنِ اَلسَّكُونِيِّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عَنْ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: كَانَتِ اَلْفُقَهَاءُ وَ اَلْحُكَمَاءُ إِذَا كَاتَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً كَتَبُوا ثَلاَثاً لَيْسَ مَعَهُنَّ رَابِعَةٌ مَنْ كَانَتِ اَلْآخِرَةُ هِمَّتَهُ كَفَاهُ اَللَّهُ هَمَّهُ مِنَ اَلدُّنْيَا وَ مَنْ أَصْلَحَ سَرِيرَتَهُ أَصْلَحَ اَللَّهُ عَلاَنِيَتَهُ وَ مَنْ أَصْلَحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَصْلَحَ اَللَّهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ اَلنَّاسِ .

📚 الخصال، شیخ صدوق، ج1، ص129.

الہی نظام ہدایت

اللہ تعالیٰ کے نظام هدایت میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں ہے ہر چیز روشن اور واضح ہے۔

ذاتِ مبین
اللہ تعالیٰ کی ذات بر حق اور واضح و آشکار ہے:
 «أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ ٱلۡمُبِینُ؛ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا» (سوره نور/25)

رسول مبین
انسان کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے رسول، رسولِ مبین ہیں:
«وَقَدۡ جَاۤءَهُمۡ رَسُولࣱ مُّبِینࣱ؛ اور کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبر ان کے پاس آ چکا ہے» (سورة الدخان/13)

کتاب مبین
قرآن مجید دستورات الهی کو بندگان خدا کے لئے واضح طور پر بیان کرتا ہے:
«قَدۡ جَاۤءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورࣱ وَكِتَـٰبࣱ مُّبِینࣱ؛
تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے» (سوره مائدة/15)

پیغام مبین
اللہ تعالیٰ کا پیغام واضح اور روشن ہے:
«أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلۡبَلَـٰغُ ٱلۡمُبِینُ؛ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے»
(سورہ مائدہ/92)
زبان مبین
پیغام الہی واضح اور روشن زبان میں  ہے:
«هذا لِسانٌ عَرَبِیٌّ مُبِینٌ؛ اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے» (سوره نحل/103)

تنبیہ مبین
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو واضح طور پر خبردار کرتا ہے:
«قُلۡ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَاۤ أَنَا۠ لَكُمۡ نَذِیرࣱ مُّبِینࣱ؛ اے محمدؐ، کہہ دو کہ اے لوگو! میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں» (سوره حج/49)

فتح مبین
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ص کو جنگ یا صلح کے ذریعے واضح فتح عطا کی:
«إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحࣰا مُّبِینࣰا؛ بے شک اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلم کھلا فتح عطا کر دی ہے» (سورہ فتح/1)

امتحان مبین
الله تعالیٰ بندوں کو واضح طور پر آزماتا ہے:
«وَءَاتَیۡنَـٰهُم مِّنَ ٱلۡـَٔایَـٰتِ مَا فِیهِ بَلَـٰۤؤࣱا۟ مُّبِینٌ؛ اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی» (سورہ دخان/33)

فوز مبین
الله نے اپنے مطیع بندوں کو جنت عطا کر کے واضح کامیابی سے ہم کنار کرے گا:
«فَأَمَّا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَیُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِی رَحۡمَتِهِ ذَ ٰ⁠لِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِینُ؛ پھر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے» (سوره جاثية/30)

ضلال مبین
اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرنے والے کھلی گمراہی میں ہیں:
«وَ مَنْ یَعْصِ اللّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً مُبِیناً؛ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا» (سورہ احزاب/36) 

عدو مبین
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کے واضح دشمن کے بارے بتایا ہے:
«وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَ ٰ⁠تِ ٱلشَّیۡطَـٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوࣱّ مُّبِینࣱ؛ اور شیطان کی پیرو ی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے»
(سورہ انعام/142)

لوح مبین
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں اعمال واضح طور پر ان کے سامنے لا کے رکھے گا:
«وَكُلَّ شَیۡءٍ أَحۡصَیۡنَـٰهُ فِیۤ إِمَامࣲ مُّبِینࣲ؛ اور ہم نے ہر چیز کو(ہر جو فعل تم نے انجام دیا ہے) واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے» (سورہ يس/12)

جوان چور اور خوبصورت عورت

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے صحابہ میں ایک جوان تھا جسے ظاہری طور پر لوگ بہت اچھا انسان سمجھتے تھے اور کسی کو بھی اس کے گناہگار ہونے کا شک نہیں تھا۔ دن کے وقت وہ مسجد اور بازار میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا، لیکن رات کے وقت لوگوں کے گھروں میں چوریاں کرتا تھا۔

ایک دن اس نے ایک گھر دیکھا اور ارادہ کیا کہ جب رات ہو گی تو اس گھر میں چوری کروں گا۔ وہ اندھیرا پڑتے ہی گھر کی دیوار پر چڑھ گیا۔ گھر کے اندر دیکھا تو گھر قیمتی سامان سے بھرا ہوا تھا اور اس گھر میں فقط ایک نوجوان خاتون رہتی تھی۔ اس کا شوہر فوت ہوگیا تھا اور اس کا کوئی رشتہ دار نہیں تھا۔ وہ اس گھر میں تنہا رہتی تھی۔ وہ عورت رات کا کچھ حصہ نماز شب اور عبادت میں گزارتی تھی۔
نوجوان چور اس عورت کی خوبصورتی کو دیکھ کر گناہ کا  سوچنے لگا۔ اور اپنے آپ سے کہنے لگا کہ آج کی رات دولت بھی ملے گی اور شباب کی لذّت بھی حاصل ہو گی! وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اچانک نور الہی کی ایک کرن اس کے جسم سے ٹکرائی اور اس کے تاریک دل کو ہدایت کے نور سے روشن کیا۔ تو اس نے اپنے آپ سے کہا:
"اگر میں نے اس عورت کی جائیداد لے لی اور اس کے عفت کو داغدار کردیا اور تھوڑے ہی وقت کے بعد جب  مروں گا اور خدائی عدالت میں بلایا جاؤں گا، تو وہاں روز قیامت کے مالک کو کیا جواب دوں گا؟
اسے اپنی اس حرکت پر پچھتاوا ہوا، دیوار سے نیچے اترا اور شرمندہ ہوکر گھر لوٹ آیا۔ 
اگلی صبح وہ مسجد میں آیا اور یارانِ پیغمبر ص کے ساتھ مل گیا۔ اسی دوران وہی خوبصورت عورت مسجد میں آئی اور رسول اللہ ص کی خدمت میں عرض کرنے لگی:
اے اللہ کے رسول! میں اکیلی عورت ہوں میرے پاس گھر اور دولت ہے۔
میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اور میں اکیلی ہو گئی ہوں۔ کل رات میں نے اپنے گھر کی دیوار پر سایہ دیکھا۔
مجھے لگتا ہے کہ شاید وہ کوئی چور تھا، میں بہت خوفزدہ ہو گئی اور صبح تک نیند بھی نہیں آئی۔
میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ میری شادی کر دیں، مجھے مال و دولت کچھ بھی نہیں چاہئے۔ "کیونکہ وہ سب کچھ میرے پاس ہے۔"
اس وقت رسول اللہ ص نے حاضرین مسجد پر سیک نگاہ ڈالی اور اس مجمعے میں موجود اس چور نوجوان کی طرف مہربانی سے دیکھا اور اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا:
"کیا تم شادی شدہ ہو؟"
اس نے عرض کیا: نہیں!
کیا تم اس جوان عورت سے شادی کے لئے تیار ہو؟
 عرض کیا: جو آپ کا حکم!
نبی اکرم ص نے ان دونوں کا نکاح پڑھایا اور کہا: 
"اٹھو اور اپنی بیوی کے ساتھ گھر جاؤ!
متقی نوجوان اٹھ کر اس عورت کے ساتھ گھر گیا اور خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے نماز پڑھنے اور عبادت خدا میں مشغول ہو گیا۔
وہ عورت،  اپنے جوان شوہر کے اس کام سے بہت حیران ہوئی اور پوچھا: 
"یہ اتنی عبادت کس لئے ہے!؟
نوجوان نے جواب دیا:
 اے میری با وفا زوجہ! میری عبادت کا ایک سبب ہے۔
میں وہی چور ہوں جو کل رات آپ کے گھر آیا تھا لیکن خدا کی رضا کی خاطر، میں نے تیری عفت کو پامال نہیں کیا۔ اور اس رحیم خدا نے، میرے تقویٰ اور توبہ کی وجہ سے، حلال طریقے سے، تجھے اس مکان اور سارے مال و اسباب کے مجھے عطا دیا۔
تو کیا خدا کی اس عظیم عنایت کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی زیادہ سے زیادہ عبادت نہ کروں؟
اس عورت نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، دعا اور عبادت، خدا کے شکر ادا کرنے کا اعلی نمونہ ہے۔
📚 منبع: عرفان اسلامی، حسین انصاریان، ج8، ص254.

حکایت: کچی پینسل

ایک عالم پینسل کے ساتھ لکھنے میں مشغول تھا.

 بچے نے پوچھا: 

کیا لکھ رہے ہیں؟

 عالم مسکرایا اور کہا: 

میری تحریر سے کہیں زیادہ مہم یہ پینسل ہے جس سے میں لکھ رہا ہوں!

 جب تم بڑے ہونا تو اس پینسل جیسا بننا، بچے نے بڑا تعجب کیا‼️

کیونکہ پینسل میں اسے کچھ خاص نظر نہیں آ رہا تھا. 

عالم نے کہا: پانچ خصلتیں اس پینسل سے سیکھو!

1️⃣ آپ بڑے بڑے کام کر سکتے ہو لیکن کبھی مت بھولنا کہ ایک ہاتھ ہے جو تمہاری حرکات کو کنٹرول کر رہا ہے اور وہ خدا ہے۔

2️⃣ کبھی پینسل تراش کا استعمال بھی کرنا چاہئے یہ تکلیف دہ تو ہے لیکن اس کی نوک کو تیز کر دیتی ہے. پس جان لو تکلیفیں اور مشکلیں آپ کو اچھا بنا دیتی ہیں۔

3️⃣ پینسل کی غلطی کبھی بھی آپ ریزر سے مٹا سکتے ہیں پس جان لو غلطی کی درستگی کوئی غلط کام نہیں۔

4️⃣ پینسل کی لکڑی لکھنے کےلئے مھم نہیں ہے مھم وہ سکہ ہے جو اندر ہوتا ہے پس جان لو ہمیشہ اپنے اندر میں دیکھتے رہو کہ کیا چیز اس میں ہے۔

5️⃣ پینسل ہمیشه اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے پس جان لو جو کام بھی تم اپنی زندگی میں کرتے ہو کچھ اثرات اس کے رہ جاتے ہیں اس لیے اپنے اعمال کے انتخاب میں دقت کریں۔

حکایت: دوسروں کے عیب چھپانا

ایک بادشاہ تھا جو ایک انکھ سے اندھا اور ایک ٹانگ  سے معذور تھا بادشاہ نے اپنی سلطنت کے تمام پینٹرز کو دربار میں بلایا اور کہا کہ میری ایک خوبصورت سی تصویر بناؤ لیکن کوئی نہیں بنا سکا کیونکہ بادشاہ سلامت میں تو دو بہت بڑے عیب تھے ایک تو آنکھ نہیں دوسرا ایک ٹانگ سے لنگڑا بھی، پینٹنگ کیسے خوبصورت بنتی؟

آخرکار ایک پینٹر نے کہا میں ایسی خوبصورت تصویر بنا سکتا ہوں اور اس نے بادشاہ کی تصویر بنا کر سب کو حیران کر دیا اس نے تصویر بنائی کہ جس میں بادشاہ ایک آنکھ بند کر کےاور ایک ٹانگ پہ گھٹنے کے بل بیٹھ کے شکار پر نشانہ لگا رہا ہے ۔

🔶 ہم بھی لوگوں کی ایسی تصویریں بنا سکتے ہیں کہ جن میں ان کے عیب چھپ جائیں اور خوبیاں واضح ہو جائیں.

 

حکایت: تو نے کیا سیکھا

ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا:

 آپ نے اپنی ساری عمر میں کیا کچھ سیکھا؟

بزرگ نےجواب دیا: 

میں نے سیکھا

🔹کہ دنیا قرض ہے جلدی یا دیر سے لوٹانا تو پڑے گا.

میں نے سیکھا

🔹کہ مظلوم کا حق جلدی یا دیر سے لیا ضرور جاتا ہے.

میں نے سیکھا  

🔹کہ ہماری دنیا ممکن ہے ایک لمحہ میں ختم ہو جائے لیکن ہم اس بات سے غافل ہیں.       

میں نے سیکھا  

 🔹کہ ہماری زندگی کا اصلی سرمایہ میٹھی گفتگو، فراخ دلی اور دوسروں کی خطاء سے درگذر کرنا  ہے.

میں نے سیکھا

🔹کہ دنیا میں دولت مند ترین لوگ وہ ہیں جن کے پاس سلامتی، امن اور سکون ہو۔

میں نے سیکھا

🔹 کہ جؤ بو کر گندم نہیں کاٹی جاتی .

میں نے سیکھا

🔹کہ زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر کام ختم نہیں ہوتے.

میں نے سیکھا 

🔹جو یہ چاہتا ہے کہ لوگ میری بات سنیں تو اسے دوسروں کی بھی سننی چاہیے.

میں نے سیکھا  

🔹کہ کسی کی شخصیت کو جاننا چاہتے ہو تو اس کے ساتھ سفر کرو.

میں نے سیکھا 

🔹 کہ جو ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں ہم وہ کر سکتے ہیں حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے.

میں نے سیکھا 

🔹وہ سب جو آج قبروں میں دفن ہیں وہ بہت کچھ کر گئے مگر پھر بھی ان کی ہزاروں خواہشیں ان کے ساتھ دفن ہو گئیں.

ذخیرہ اندوزوں اور گران فروشوں کے خلاف حضرت علی ع کا اقدام

حضرت علی نے مہنگی چیزیں بیچنے والوں کو بازار سے نکال دیا اور ان کے داخلے پر پابندی لگا دی اور ان کے خلاف کاروائی کا حکم دیا اور اپنے تمام گورنروں کو خط لکھا.  

مالک اشتر کو خط لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: 

« ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کرو کیونکہ رسول اللہ (ص) بھی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کا حکم فرماتے تھے. 

خرید و فروش سادگی سے اور عدالت کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے اور ایسی مناسب قیمت پر خرید و فروش ہونی چاہیے جس میں خریدار اور دکاندار دونوں کا نقصان نہ ہو» 

حضرت علی ع رُفَاعة بن شَدّاد بجلی (گورنر اھواز) کو خط لکھتے ہیں: 

«ذخیرہ اندوزوں کو روکو اور ان کے خلاف کاروائی کرو اور جس کا معلوم ہو جائے کہ ذخیرہ اندوزی کرتا ہے اسے سزا دو»

📚 قاضی نعمان، دعائم الاسلام، ج2، ص36.

📚شیخ صدوق، من لایحضره الفقیه، ج3، ص267.

📚نهج‏البلاغه، نامه: 53، ص438.

حکایت: قانون کی پاسداری

حضرت علی ع قانون شکنی کرنے والوں مثلا چور وغیرہ کو زندان میں ڈالتے یا حد جاری کرتے.  

بعنوان نمونه

ایک شخص پر چوری کی حد جاری ہوئی تو اسکے قبیلے والے امام حسن ع کے پاس آئے کہ حضرت علی ع حد جاری کرنے کے حکم سے صرف نظر کریں. 

امام حسن ع نے فرمایا: 

«حضرت علی ع بہتر جانتے ہیں جو انہیں مناسب لگتا ہے وہی کرتے ہیں»

 پھر انہوں نے حضرت علی ع سے بات کی اور اپنی خواہش کا اظہار کیا. 

تو حضرت علی ع نے فرمایا:

 «میرے اختیار میں جو کچھ ہے وہ میں کوشش کروں گا» 

قبیلے والے سمجھے کہ حضرت علی اب حد جاری نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے دیکھا کہ حضرت علی ع نے حکم دیا کہ مجرم کو لایا جائے اور حد جاری کی جائے۔  

حضرت علی ع نے انہیں فرمایا: 

«مجرم کو حد جاری کرنے سے بچانا میرے اختیار میں نہیں»  

📚کلینی، الکافی، ج7، ص223، ح4.

📚ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص147.

امانتداری

بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا..

بلکہ دنیا کے تمام مذاھب اور کلچر انہیں قبول کرتے ہیں . مثلا 👈امانتداری 👉

قرآن کریم میں خدا کا واضح حکم ہے:

🕋 إِنَّ اللهَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَیٰ أَهْلِهَا (نساء/۵۸)

خداوند تمہیں حکم دیتا ہے ، کہ امانتوں کو ان کے صاحبان کو لوٹا دو۔

اسلام میں امانتداری کی اتنی زیادہ سفارش ہوئی ہے که، امام صادق (ع) نے فرمایا:

لَا تَغْتَرُّوا بِصَلَاتِهِمْ وَ لَا بِصِیَامِهِمْ، وَلَکِنِ اخْتَبِرُوهُمْ عِنْدَ صِدْقِ الْحَدِیثِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ.

 لوگوں کے نماز و روزه کے چکر میں نہ آؤ؛ بلکہ انہیں انکی صداقت  اور مانت داری سے انہیں آزماؤ۔ (الکافی، ج۲، ص۳۸۸)

اور امام سجاد (ع) ہمیشہ فرماتے تھے:

عَلَیْکُمْ بِأَدَاءِ الْأَمَانَةِ..

فَوَ الَّذِی بَعَثَ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ نَبِیّاً، لَوْ أَنَّ قَاتِلَ أَبِیَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ علیه السلام ائْتَمَنَنِی عَلَی السَّیْفِ الَّذِی قَتَلَهُ بِهِ لَأَدَّیْتُهُ إِلَیْهِ.

 امانتداری کی کوشش کریں...

👈 قسم ہے اس ذات کی جس نے پیغمبر کوحق پر مبعوث فرمایا، اگر میرے بابا حسین بن علی، کا قاتل وہ تلوار جس سے اس نے میرے بابا کو شھید کیا تھا، میرے پاس امانت رکھے تو میں اسکی امانت میں خیانت نہیں کروں گا اور اسے لوٹا دوں گا . (امالی صدوق، ص۱۴۸)

🔶 ہمیں ہر قسم کی امانت میں، اچھا امانتدار ہونا چاہیے:

✔ سلامتی، زندگی اور جوانی، ہمارے پاس ایک امانت ہے۔

✔ اولاد ، امانت ہے ماں باپ کے پاس ..

✔ شاگرد، امانت ہے استاد کے پاس..

✔ بیت المال، امانت ہے حاکم کے پاس ..

روایات اهل بیت میں موسیقی کے نقصانات

روایات اهل بیت میں موسیقی کے نقصانات

1️⃣ ناگھانی اموات اور دعاؤں کا قبول نہ ہونا

✍️امام صادق (ع) فرماتے ہیں:

جس گھر میں موسیقی ہو وہ گھر مصیبتوں اور اموات سے بچ نہیں سکتا اور ایسے گھروں میں دعا قبول نہیں ہوتی اور رحمت کے فرشتے بھی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے. (الکافی، جلد6، ص433)

2️⃣ اختلاف کا سبب

✍️امام صادق (ع) فرماتے ہیں:

  موسیقی سے دل لگی دلوں میں اختلافات پیدا کرتی ہے جیسا کہ پانی سبزہ کو پیدا کرتاہے. (الکافی، جلد6، ص434)

3️⃣ موسیقی زندگی سے برکت کے چلے جانے کا سبب بنتی ہے.

✍️ پیغمبرِ اکرم ص نے فرمایا:

فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں قمار ، شراب اور آلات موسیقی ہوں۔اھل خانہ کی دعا قبول نہیں ہوتی اور خیر برکت ایسے گھر سے ختم ہو جاتی ہے. (وسائل الشیعه، ج12، ص235)

4️⃣  زنا کی رغبت دلانا

✍️رسول خدا ص نے فرمایا:

غنا اور موسیقی ایسے کام ہیں جو زنا کی طرف کھینچتے ہیں. (الدر المنثور، ج5، ص305)

5️⃣ عذاب اخروی 

✍️ رسول خدا ص نے فرمایا:

 جو موسیقی سنتا ہے قیامت کے دن اس کے کانوں میں ابلتا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا. (مستدرک الرسائل، ج13، ص222)

6️⃣ قساوت قلب

رسول خدا (ص) نے حضرت علی سے فرمایا:

يا على! تین کام دل کو سخت بناتے ہیں ۔

1۔ آواز و موسيقى سننا

2۔ شكارکرنا

 3۔ ظالم حکمران کے دربار جانا.

(نصایح، ترجمه آیت الله احمدجنّتی ،ص134)

بسم الله بھول جانے کا کفارہ

عبدالله بن یحیی کہتا ہے :

میں امیرالمومنین علی (علیه‌السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی جب میں تخت پر بیٹھنے لگا تو تخت کا پایہ ٹوٹا اور میں زمین پر گر گیا اور میرا سر زخمی ہو گیا.

حضرت علی (ع) نے فرمایا:

شکر خداوندی کو ہمارے شیعوں کے گناہوں کا اسی دنیا میں کفارہ قرار دیا گیا ہے تاکہ یہیں پاک ہو جائیں .

عبد الله کہتا ہے: 

میں نے عرض کیا: 

میں نے کونسا گناہ کیا کہ سر کا زخمی ہونا اسکا کفارہ ہوا ہے ؟

حضرت ع نے فرمایا: 

 تم نے بیٹھتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھی!

📕منبع: البرهان فی تفسیر القرآن،ج1، ص 45۔

‎‌‌‌‎‌‌‌‌‌

فضائل اميرالمؤمنین علی(ع) کے پرچار کا اجر

✍️ رسول خدا (ص) نے فرمایا:  

خدا نے میرے بھائی علی(ع) کو بے شمار فضائل سے نوازا ہے ؛

🔶 اگر کوئی علی کے فضائل میں سے ایک فضیلت بھی نقل کرے اور اس پر اعتقاد بھی رکھتا ہو تو خدا اس اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دے گا.

🔶 اگر کوئی علی کے فضائل میں سے ایک فضیلت بھی لکھے تو جب تک وہ لکھا ہوا باقی رہے گا ملائکہ اس کے لئے استغفار کرتے رہیں گے،

🔶 اگر کوئی علی کے فضائل میں سے ایک فضیلت بھی سنے تو خدا اس کے وہ تمام گناہ معاف کر دے گا جو اس نے کانوں سے کئے ہوں ، 

🔶 اگر کوئی علی کے فضائل میں سے ایک فضیلت بھی مطالعہ کرے، خدا اس کے وہ تمام گناہ معاف کر دے گا جو اس نے آنکھوں سے کئے ہوں گے 

🔶 علی کی طرف دیکھنا عبادت ، علی کی یاد عبادت ، خدا کسی بندے کا بھی ایمان قبول نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ علی کی ولایت رکھتا ہو اور علی کے دشمنوں سے بیزار ہو.

📚نیشابوری، المستدرک، ج۳، ص۱۴۱ 

📚خوارزمی، المناقب، ص۳۶۲ 

📚قندوزی، ینابیع المودّة، ج۱، ص۲۶۷

اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل

قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلّم:

أحَبُّ الأعمالِ إلَى اللّه‏ِ سُرورٌ تُدخِلُهُ عَلَى المُؤمِنِ، تَطرُدُ عَنهُ جَوعَتَهُ أو تَكشِفُ عَنهُ كُربَتَهُ؛

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کام مومن کو خوش کرنا، اس کی بھوک مٹانا اور اس کی پریشانی کو دور کرنا ہے۔

الكافی، ج2، ص191.

رسول اللہ ص کے مشابہ ترین افراد

علی ابن ابراہیم قمی نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (صحابہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا:  

کیا میں تمہیں، اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو مجھ محمد ص سے سب سے زیادہ مشباہت رکھتا ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ص! تو آپ نے فرمایا: 

🔸 جو تم میں سے سب سے اچھے اخلاق والا ہے

🔸 اپنے اطراف میں موجود لوگوں کے ساتھ سب زیادہ نرمی سے پیش آنے والا

🔸 اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کرنے والا

🔸 اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والا

🔸 حق پر سب سے زیادہ صبر کرنے والا

🔸 غصّے پر سب سے زیادہ قابو پانے والا

🔸 عفو و درگزر کرنے میں سب بہتر 

🔸 غصّے اور خوشی و رضا دونوں میں سب سے زیادہ انصاف کرنے والا

📖 متن حدیث

 عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَرَفَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : أَ لاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَشْبَهِكُمْ بِي قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اَللَّهِ قَالَ أَحْسَنُكُمْ خُلُقاً وَ أَلْيَنُكُمْ كَنَفاً وَ أَبَرُّكُمْ بِقَرَابَتِهِ وَ أَشَدُّكُمْ حُبّاً لِإِخْوَانِهِ فِي دِينِهِ وَ أَصْبَرُكُمْ عَلَى اَلْحَقِّ وَ أَكْظَمُكُمْ لِلْغَيْظِ وَ أَحْسَنُكُمْ عَفْواً وَ أَشَدُّكُمْ مِنْ نَفْسِهِ إِنْصَافاً فِي اَلرِّضَا وَ اَلْغَضَبِ۔

الکافي ج2، ص240.

ایک مومن کو کھانا کھلانے اور اس کی پیاس بجھانے کا ثواب

امام زین العابدین علیہ السّلام نے فرمایا:

جو شخص کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے گا، خدا اسے جنت کے پھلوں سے کھلائے گا، اور جو کسی پیاسے مومن کی پیاس بجھائے گا ، خدا اسے جنتی شراب سے سیراب کرے گا۔

📖 متن حدیث

عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ قَالَ: مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً مِنْ جُوعٍ أَطْعَمَهُ اَللَّهُ مِنْ ثِمَارِ اَلْجَنَّةِ وَ مَنْ سَقَى مُؤْمِناً مِنْ ظَمَإٍ سَقَاهُ اَللَّهُ مِنَ اَلرَّحِيقِ اَلْمَخْتُومِ.

الکافي ج2، ص201.

حکایت

ایک با اخلاق اور نیک سیرت لیکن غریب لڑکا رشتہ مانگنے کے لئے ایک لڑکی کے گھر گیا تو لڑکی کے والد نے کہا:
تم غریب ہو اور میری بیٹی میں مشکلات کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے لہذا میں آپ کو بیٹی کا رشتہ نہیں دوں گا۔
پھر ایک مالدار لیکن بد اخلاق لڑکا اسی لڑکی کا رشتہ لینے کے لئے آیا تو اس کا باپ رشتہ دینے پر راضی ہو گیا اور اس لڑکے کے اخلاق کے بارے میں کہنے لگا: 
انشاء اللہ خدا اسے ہدایت کرے گا۔
اس وقت اس کی بیٹی نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:
بابا جان! کیا ہدایت کرنے والا خدا، روزی دینے والے خدا سے مختلف ہے؟

تو اس وقت وہ شخص لاجواب ہو گیا۔

حکایت


 ایک دکاندار سے کسی نے پوچھا کہ اس دکان سے کس طرح روزی کماتے ہو کہ جو ایک سنسان سی گلی میں ہے کہ جس میں سےکوئی گزرتا بھی نہیں۔

تو اس نے جوب میں کہا:

جس خدا کا موت کا فرشتہ ہمیں ہر مقام پر تلاش کر کے ہماری روح قبض کر لیتا ہے اس کا روزی پہنچانے والا فرشتہ ہمیں کیسے بھول سکتا ہے۔

قرآن مجید پڑھنے کا اجر

عن مَعاذِ بنِ جَبل:
کُنّا مَعَ رسول اللّه صلّی اللّه علیه و آله و سلّم فى سَفَرٍ، فَقُلتُ یا رَسولَ اللّه:
حَدّثنا بما لَنا فیهِ نَفعٌ.
فَقالَ: «إنْ أردْتُم عَیشَ السُّعداء وَ مَوتَ الشُهداء وَ النّجاةَ یَوم الحَشر وَ الظّلَ یَوم الحَرور وَ الهُدی یَومَ الضَّلالة، فَادْرَسوا القُرآنَ فَإنّه کَلامُ الرَّحمن وَ حِرزٌ مِنَ الشَّیطان وَ رُجحانٌ فِى المیزان»

معاذ بن جبل سے روایت کہ ہم ایک سفر میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے تو میں نے عرض کیا اے رسولِ خدا ص ہمیں کوئی ایسی بات بتائیں جو ہمارے لئے مفید ہو:
انہوں نے فرمایا:
🔹 اگر سعادت مندانہ زندگی
🔹 شهداء جیسی موت
🔹 روز قیامت کی نجات
🔹 سخت گرمی(قیامت) کے دن میں سایہ
🔹 گمراہی کے دن میں ہدایت
چاہتے ہو تو قرآن مجید سیکھو کیونکہ یہ رحمان خدا کا کلام،  شیطان کے وار سے بچنے کے لئے ڈھال اور میزان عدل میں نیک اعمال کے وزنی ہونے کا سبب ہے

📚 جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ج1، ص243.

شأن پیغمبر  خدا  ﷺ؛ سورة الضحی کی روشنی میں

شأن پیغمبر  خدا  ﷺ؛ سورة الضحی کی روشنی میں

ریاض حیدر علوی

مقدمہ

اللہ کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا اور اپنے بندوں کو وحی کے توسط سے پیغام ہدایت  نبی اور اس کی امت تک پہنچایا اسی طرح ہر مشکل وقت میں اللہ نے اپنے ان خاص بندوں کی  حمایت اور مشکل کشائی فرمائی پیامبر اسلام ختمی مرتبت جس معاشرے میں مبعوث فرمائے گئے وہ عربوں کا تاریک ترین معاشرہ تھا جس میں ظلم و شرک بت پرستی و انا پرستی کے اندھیرے چھائے ھوئے تھے ایسے میں اللہ نے ہدایت کا سورج یتیم عبداللہ کی صورت میں نمودار  فرمایا  ۔عرب کی ایسی قوم جو انسانیت کے اعتبار سے پستی میں گری ہوی تھی اس میں پیامبر خداﷺ کا آنا اور اخلاق کا اعلی نمونہ پیش کرنا کوئی آسان بات نہ تھی ۔اسی لیے رسول عربی نے قدم قدم پر جہاں جسمانی اذیتوں کا سامنا  فرمایا وہاں پر ذہنی اذیتوں کا بھی سامنا کیا لیکن  اللہ رب العزت کا لطف شامل حال رہا کہ ہر ایسے موقعے پر نہ صرف اللہ نے پیغامبر اسلام ﷺ کی حمایت و نصرت فرمائی بلکہ عظمت اور شان پیامبرﷺ کو واضح اور روشن فرما دیا ۔جیسا کہ پیامبر خدا ﷺ کو شاعر کہا گیا تو اسکی نفی کے لیے وحی کو نازل فرما دیا پیامبر اسلام ﷺ کو مجنون کہا گیا تو قرآن نے آپ کی ذات کو عقل دانائی اور علم و حکمت شاہکار قراردے دیا۔ جب عرب کے معاشرے میں ابتر کا طعنہ ملا تو فورا سورہ کوثر نازل فرما کر دشمنوں کو بے نسل قرار دے دیا ۔اسی طرح وحی الہی جب کچھ دیر کے لیے موقوف ہو گئی تو اور دشمنان توحید و رسالت نے خدا کی ناراضگی کا طعنہ دیا تو اللہ تعالی نے اپنے حبیبﷺکی دلداری اور تسلی کے لیے پوری سورہ والضحی نازل فرما دی۔

فضیلت سورةالضحی

اُبی ابن کعب سے روایت ہے کہ جو بھی اس سورہ کی تلاوت کرتا ھے اللہ اس پر راضی ھوتا ھے۔ پیامبر خدا ﷺاس کی شفاعت فرمایں گے اور ھر یتیم اور سائل کے بدلے اللہ اس کو دس نیکیاں عطا فرمائے گا (ترجمہ تفسیر جوامع الجامع ج 6 ص 656)

اس سورہ کی ایک خاصیت یہ بھی ھے کہ اس کی ھر ایک آیت میں مخاطب کی ضمیر ھے جس سے یہ ظاھر ھوتا ھے اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺکو لطف و محبت کا محور قرار دیا ہے۔

فضیلت پیامبر اکرم ﷺ اور شان نزول سورة الضحی

اس سورہ کے شان نزول کے متعلق بہت ساری روایات تفسیری کتابوں میں وارد ہوئی ہیں جن میں کچھ کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ جب پیامبر اسلام پر وحی کا سلسلہ 15 دنوں کے لیےمنقطع رہا تو مشرکین مکہ کہنے لگے محمدﷺکے رب نے ان کو چھوڑ دیا  اور اللہ پیامبر ﷺسے ناراض ہےاور اگر وحی کا سلسلہ اللہ کی طرف سے ہوتا تو پے در پے وحی ہوتی رہتی؛ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ نے اپنے حبیب کی حمایت فرمائی اور سورہ ضحی نازل فرمائی (تفسیر نمونہ ج 2 ص 92)

ابن جریح کہتا ہے 12 دن وحی قطع رہی مقاتل کے مطابق 40 دن تک وحی کا سلسلہ رکا رہا  تو بعض مسلمانوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ پر وحی نازل کیوں نہیں ہو رہی  تو آپ نے فرمایا کس طرح وحی نازل ہو جبکہ آپ ناخن نہیں تراشتے اور پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔

تب سورہ والضحی نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺنے جبریل سے فرمایا آپ کیوں نہیں آتے تھے میں آپ کی زیارت کا مشتاق تھا جبریل امین بولے  میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں در حالانکہ میں آپ سے زیادہ آپ کی زیارت کا مشتاق تھا (مجمع البیان فی تفسیرالقرآن ج10 ص765)

ایک اور روایت کے مطابق کچھ یہودی پیامبر اسلام ﷺکی خدمت میں آئے اور حضرت ذوالقرنین ، اصحاب کہف اور روح کے متعلق سوال کیا پیامبر اسلام ﷺ نے فرمایا کل اس کا جواب دیں گے لیکن وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ سخت غمگین اور پریشان ہوے کیونکہ پیامبر اسلام ﷺکو دشمنان اسلام سے طعن تشنیع کا خطرہ تھا یہاں تک کہ سورہ والضحی نازل ہوئی جو کہ پیامبر اسلام ﷺکی تسلی کا موجب بنی۔ (لباب التاویل فی معانی التنزیل  ج4  ص438)

ایک اور روایت کے مطابق ابولھب کی بیٹی جمیل نے پیامبراسلام ﷺکو طعنہ دیتے ہوے کہا (معاذاللہ) آپ کے شیطان نے آپ کو ترک کر دیا ہے ) اس طعنہ پر پیامبر خدا ﷺغمگین ہوے اور ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ سورہ والضحی کی صورت میں وحی نازل ھوئی اور پیامبر اسلام ﷺکی راحت اور خوشی کا باعث بنی (ابن عاشور التحریر والتنویر ج30  ص348)۔ اب ان تمام روایات کی روشنی میں یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہونا ایک مصلحت کے تحت تھا۔

الله کا اپنے حبیب ﷺکے ساتھ محبت کا اظہار

اللہ کریم نے قسم سے بات کو شروع کیا شاید یہ بیان کرنا مقصود ہو کہ اے میرے حبیب ﷺدن کی روشنی کی قسم! اور رات کے سکون کی قسم! وحی کے آنے میں جو تاخیر ہوئی ہے اس میں نہ تو وحی کی روشنی سلب کرنا مقصود ہے اور نہ ہی وحی کا سکون ختم کرنا  مراد تھا۔ اے میرے حبیب ﷺتیرے خدا نے تمییں کسی مقام پر بھی تنہا نہیں چھوڑا ۔

یہ انداز گفتگو اور قرآن کا انداز بیان پیامبر خدا ﷺکے دل کو بہترین انداز سے تسلی دینے کے ساتھ ساتھ دشمنان قرآن و رسول کے لیے بھی پیغام ہے کہ خدا اپنے رسول ﷺ کو کسی مقام پر تنہا نہیں چھوڑتا۔اور آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا اے رسول ﷺآپ دنیا میں پیش آنے والی مشکلات کو خاطر میں نہ لائیں یہ تمام مشکلات اور مصائب وقتی ہیں اللہ کریم نے آپ کے لیے جو آخرت میں اجر و مقام رکھا ہے وہ دنیاوی مقام سے کہیں بلند و بالا اور زیادہ ھے۔بعض مفسرین نے اس کی تفسیر  یوں بھی بیان فرمائی ہے  کہ اے رسول اللہ؛ اللہ نے آپ کی زندگی کا آخری حصہ زندگی کے پہلے حصے کی نسبت آسان عظمت و شان والا رکھا ھے۔ یعنی زندگی کے پہلے حصے میں فقیری ، یتیمی، بے وطنی، ھجرت، قریبی رشتے داروں کی دشمنیاں وغیرہ یہ سخت ترین مصائب تھے ۔اور آخری زندگی میں اللہ نے اسلام کو قوت بخشی فتح مکہ ہوا ، مدینہ میں حکومت اسلامی کی تشکیل ہوئی دعوت اسلام کو پورے جہان میں پھیلایا یہ وہ نعمتیں تھیں ممکن ہیں کہ جن کو آیت نمبر 4 میں اشارتاً بیان فرمایا گیا ہو۔

مقام شفاعت پیامبر خداﷺ

جیسا کہ سورة والضحی کی آیت نمبر 5 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ  (ولسوف یعطیک ربک فترضی)  اے رسول عنقریب خدا آپ کو ایسا مقام عطا فرماے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے ۔اب سوال یہ ہہے کہ اللہ نے وہ کیا مقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ جو پیامبر اسلام ﷺکی رضایت اور خشنودی کا باعث ہو سکتا ہے ۔

اس کے متعلق مفسرین کی مختلف آراء ھیں: بعض کے نزدیک اسلام کی پیروزی ،اور پیامبر خدا ﷺکی کامیابی مراد  ہے اور یہ اللہ کا ایک بہترین کرم اور خاص انعام ہے اپنے پیارے حبیب کے لیے کہ جس کے لیے فرمایا جا رہا ہے اے میرے عبد خاص آپ کو ہم وہ عطا فرمائیں گے کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ آپ دنیا میں اپنے دشمنوں پر غلبہ پا لیں گے اور اسلام کے قوانین تمام جہان پر حاکم قرار پائیں گے اس کے ساتھ ساتھ جو آجر و مقام آخرت میں تمھیں عطا ہو گا وہ بھی خدا تعالی کے پاس محفوظ ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیامبر اسلام ﷺ، خاتم الانبیاءکی خوشنودی کافی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ پیامبر اسلام ﷺ تب راضی اور خوش ھوں گے جب انکی امّت کے لیے آنحضرتﷺکی شفاعت قبول فرمائی جائے گی اسی وجہ سے اس آیت کے ذیل میں یہ روایات بھی نقل ھوئی ہیں جن میں اشارہ ملتا ہے کہ یہ امید بخش ترین آیت ہے کیونکہ اس آیت کی رو سے پیامبر خدا ﷺ کو حق شفاعت جیسی عظیم منزلت عطا ہوئی ہے۔ (ناصر مکارم شیرازی تفسیر نمونہ ج 27 ص )

حارث بن شریح محمد ابن علی (ابن الحنفیہ) سے روایت کرتے ہیں ۔انہوں نے فرمایا اے اہل عراق کیا تم گمان کرتے ہو کہ قرآن میں امید بخش ترین آیت یاعبادی الذین اسرافو علی انفسھم۔۔۔ یہ ہے مگر ہم خاندان رسالت اور اہلبیت کے نزدیک آمید بخش ترین آیت؛ آیت قرآنی ولسوف یعتیک ربک فترضی ہے اور خدا کی قسم اس سے مراد شفاعت اور قیامت اور روز قیامت ہے۔ (فضل بن حسن طبرسی ترجمہ و تفسیر مجمع البیان ج27 ص 141)

فخرالدین رازی اہلسنت کے مفسر کہتے ہیں جب یہ آیت رسول خدا ﷺ پر نازل ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تک میری امّت کا ایک فرد بھی آتش جھنم میں ہو گا میں راضی نہیں ہونگا ۔یہ آیت شریفہ شفاعت رسول خدا کو بیان فرما  رهی ہو  فخر رازی پھر اس روایت کو امام علی ؑ سے نقل کرتے ییں کہ ان هذا هو الشفاعةفي الامّة ؛مقام رضایت رسول خدا ﷺسے مراد امّت کے لیے حق شفاعت کا عطا ہونا ہے(محمد بن عمر فخر رازی التفسیر الکبیر ج 31 ص194)

پیامبر خدا ﷺ کو دو بڑی نعمتوں کی یاد آوری

جیسا کہ تاریخ کے اوراق میں واضح ہے کہ پیامبر خدا ﷺ کے والدین بچپن سے ہی اس دنیا میں نہ رہے اور آپ یتیمی کی سختی کو برداشت کرتے رہے جس کی یادآوری اللہ نے اپنے نبی کو اس آیت میں کروائی اور ساتھ میں اس نعمت کی طرف بھی اشارا فرما دیا جو اللہ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کواس یتیمی کے بدلے میں عطا فرمایا ۔

اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ھے کہ ماں باپ اور دادا کے سایہ کے اٹھنے کے بعد اللہ نے جس پناہ کو اور گود کو رسول اللہ کے لیے پسند فرمایا وہ گود حضرت ابو طالب کی گود ھے ۔جس نے ھر لحاظ سے ایک سائبان کی طرح پیامبر خدا ﷺکی حفاظت فرمائی  اور قرآن میں اللہ نےاس پناہ گاہ کو اپنی طرف نسبت دیتے ھوے فرمایا اَلَم یَجِدکَ یَتِی مًا فَاٰوٰی (۶ الضحی) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر پناہ دی؟

تفسیر آیات

آپ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکم مادر میں چھ ماہ کے تھے۔ جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو آپؐ کی والدہ اور آپ کے جد عبدالمطلب نے پرورش کی۔  جب آپؐ کا سن مبارک چھ سال ہو گیا تو آپؐ کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور آپؐ کے جد بزرگوار عبد المطلب کا انتقال ہوا تو آپ آٹھ سال کے تھے۔ اس کے بعد آپ کے مہربان چچا حضرت ابو طالب نے حضرت عبد المطلب کی وصیت کے مطابق آپ کی تربیت کی۔

روح المعانی میں آیا ہے کہ حضرت ابو طالب نے اپنے بھائی عباس سے کہا:

کیا میں محمد (ﷺ) کے بارے میں آپ کو کچھ بتاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا: میں اسے اپنے پاس رکھتا ہوں۔ دن رات میں ایک گھڑی کے لیے اسے اپنے سے جدا نہیں رکھتا اور اس کے بارے میں، میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا یہاں تک کہ میں اپنے بستر پر اسے سلاتا ہوں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کا عمل، اپنا عمل قرار دے کر فرمایا: فَاٰوٰی۔ اللہ نے انہیں پناہ دی۔ یعنی ابو طالب جیسی پناہ عنایت کی۔ والدۂ حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد کا اس پرورش میں اہم کردار رہا ہے۔ لفظ فَاٰوٰى، پناہ دینے کے عمل میں عبد المطلب، فاطمہ بنت اسد اور حضرت ابوطالب کی خدمات کی طرف اشارہ ہے۔(شیخ محسن نجفی تفسیر الکوثر  تفسیر  سوره والضحی  آیت 6)

اور دوسری نعمت اللہ تعالی نے حضرت خدیجہ (س) کی صورت میں عطا فرمائی جن کی ذاتی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کا مال فقر و تنگدستی کی صورت میں کام ایا اور اللہ نے ان کی خدمت کو ان الفاظ سے پیامبر خدا ﷺکو یادآوری کروائی  وَوَجَدَكَ عَايلاً فاغنى (۸ الضحی) وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی (۷ الضحی)۔  اور اس نے آپ کو ضال  و گمنام پایا تو راستہ دکھایا۔یهاں پر مهم سوال یه هے که.رسول خدا کی نسبت ( ضال )  سے کیا مراد ھے  ؟

ضال کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

الف: غافل کے معنوں میں۔ جیسے:لَا یَضِلُّ رَبِّی وَ لَا یَنسَی  (۲۰ طہ:۵۲) میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔

ب: ذہن سے بات نکل جانے کے معنوں میں۔ جیسے:اَن تَضِلَّ اِحدٰى ہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحدٰى ہُمَا ال اُخرٰی۔۔۔۔ (۲ بقرہ: ۲۸۲) تاکہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔

ج: گم اور ناپید ہونے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا: اَینَ مَا کُنتُم  تَدعُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ ؕ قَالُوا ضَلُّوا۔۔۔ (اعراف:۳۷)

کہاں ہیں تمہار ے وہ (معبود) جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے: وہ ہم سے غائب ہو گئے۔

لہٰذا آیت میں ضال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپؐ کی قدر و منزلت لوگوں سے پوشیدہ تھی۔ ہم نے آپ کو پہچانوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود مبارک اس تاریک معاشرے میں غیر معروف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و شوکت اس غیر مہذب قوم کے درمیان پوشیدہ تھی، دنیا کو تہذیب و تمدن سے روشن کرنے والا یہ نور، بصیرت و بصارت نہ رکھنے والوں سے غائب تھا، اللہ نے اس نور کو ظاہر کیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بتانا مقصود ہو کہ اس عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے راستوں کی آپ کی راہنمائی ہم نے کی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایاوَ نُیَسِّرُکَ لِلیُسرٰی (۸۷ اعلیٰ: ۸) اور ہم آپ کے لیے آسان طریقہ فراہم کریں گے۔(تفسیر الکوثر ضمن تفسیر سورہ الضحی ایت 7)

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت سارے اقوال نقل کیے ھیں اور اس کا مفہوم معین کرنے کی غرض سے بڑی ٹھوکریں کھایں  جیسا کہ فخر رازی نے مفاتیح الغیب میں بیس قول نقل کیے صاحب مجمع البیان نے اس کے متعلق چھ قول درج کیے ھیں ۔تمام محققین اھل اسلام اور اہل ایمان کا مسلمہ عقیدہ ھے کہ پیامبر اسلام ﷺکا دامنِ عصمت مہد سے لہد نہ فقط کفر و شرک کی آلودگی سے، بلکہ ھر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کی کثافت سے پاک اور صاف رھا ھے لذا اس آیت کا مفہوم واضح اور روشن کرنے کے لیے ضرورت ھے کہ ھم اس مقام پر امام رضا علیہ السلام کے فرمان پر اکتفاء کرتے ھیں جو امام علیہ السلام نے مامون عباسی کے دربار میں اس کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا؛ وجدك ضالاً فى قوم لايعرفون حَقّكَ فَهدى الناس اليك؛یعنی اللہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو امّت میں گم نام اور غیر معروف پایا کہ وہ آپ کی قدر و منزلت کو نہیں جانتے تھے تو اللہ نے لوگوں کی ھدایت فرمایئ کہ وہ آپ کو جان لیں۔( تفسیر فیضان الرحمان ؛ آیة الله محمد حسین نجفی ج 10 ص491)

سورہ والضحی کے آخر میں اللہ نے اپنے عبد خاص کو بعض احکام کی طرف متوجہ فرمایا جس میں یتیم کی تکریم؛ سائل کی حاجت روایی؛ اور نعمتوں کے اظہار کا دستور دیا گیا ۔ان تین آیات میں اگرچہ خطاب پیامبر خدا ﷺکی ذات سے ھے لیکن یہ احکام تمام امّت کے لیے ھیں۔

خلاصہ کلام

اس سورہ کے شروع سے ھی اللہ نے نعمتوں کو اور اپنی عنایتوں کا ذکر شروع کیا جو یتیم عبداللہ پربھیجیں مثلاً وحی کے منقطع ھونے بعد دوبارہ وحی کا آنا پیامبر خدا ﷺکے دل کو تسلی اور تسکین ؛ اسلام کی سر بلندی ؛ عہدہ رسالت ؛مقام شفاعت عطا کرنا ؛ یتیمی کی صورت میں حضرت ابو طالب کا سایہ عطا کرنا ؛ فقر و تنگدستی میں حضرت خدیجہ(س) کا مال عطا کرنا؛ گمنامی کی صورت میں پوری دنیا  میں آپ ﷺکے ذکر کو عام کرنا  یہ وہ تمام عنایات ھیں جن کے متعلق آخرِ سورہ میں فرمایا گیا اما بنعمت رَبّك فَحدث(۱۱ الضحی) .اے رسول ﷺآپ ان نعمتوں کا اظہار فرمائیں  تاکہ جہاں پر شکر خدا بجا لایا جا سکے وہاں پر ان نعمتوں کے اظہار سے دشمنان اسلام پر اپنی برتری کا اعلان بھی ھو سکے ۔ والحمدلله رب العالمین

منابع

  1. ابن عاشور محمد طاھر بن محمد ، تفسیر التحریر و التنویر ، مؤسسةالتاریخ العربی ، بیروت ، 1420 ہ ۔ق
  2. ابن کثیر ، تفسیر القرآن دار الکتب العلمیة ، منشورات محمد علی بیضون، بیروت ، 1419 ہ۔ق
  3. النجفی،محمد حسین،فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن،مصباح القرآن ،لاهور،۲۰۱۵ م
  4. النجفی،محسن علی،الکوثر فی تفسیر القرآن،مصباح القرآن،لاهور
  5. خازن ، علی بن محمد ، لباب التأویل فی معانی التنزیل ، دارالکتب العلمیة ، منشورات محمد علی بیضون ، بیروت ، 1415 ہ۔ق
  6. طبرسی ، فضل بن حسن ، ترجمہ تفسیر مجمع البیان ، فراھانی ، تھران ، بی تا
  7. فخر رازی ، محمد بن عمر ، التفسیر الکبیر ( مفاتیح الغیب ) ، دار إحیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ : سوم ، 1420 ہ ق
  8. مترجمان ، ترجمہ تفسیر جوامع الجامع ، آستان قدس رضوی ، بنیاد پژوھشھای اسلامی ، مشھد مقدس ، 1375 ہ۔ش
  9. مکارم شیرازی ، ناصر ، تفسیر نمونہ ، دار الکتب الإسلامیة ، تھران 1371 ہ۔ش

 

ریاض حیدر علوی

کارشناسی ارشد تفسیر و علوم قران

جامعه المصطفی العالمیه قم؛ایران

 

وحدت اسلامی کی اہمیت، سیرت امام   صادق  ‍‌‍‌ (ع)کی روشنی میں

وحدت اسلامی کی اہمیت، سیرت امام   صادق  ‍‌‍‌ (ع)کی روشنی میں

محمد عمار رضا اعوان

مقدمہ:

موجودہ زمانے میں جہان اسلامی،  عالمی سازشوں اور استعمار کے اوچھے ہتھکنڈوں کا شکار بن چکا ہے۔اور روز بروز اسلام دشمنی اور اسلام ہراسی کی کوششوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔اسلام دشمنی کے آزمودہ اور سب سے خطرناک ترین حربوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ اور فرقہ واریت کو ہوا دی جائے۔اور  مسلمانوں کے چند اختلافی مسائل کو آتشین اسلحہ کے طور پر استعمال کر کے اصل اسلام کو اس صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکے۔آج  اکثر مسلمان ممالک عموماً اور مملکت خداداد پاکستان خصوصاً فرقہ واریت اور عدم برداشت جیسی لعنت کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ان سازشوں اور دشمن کے بچھائے جالوں سے نبٹنےکا ایک ہی حل ہے کہ اسلامی وحدت،رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ ماہ مبارک ربیع الاول بمناسبت میلاد مبارک حضرت رسول اکرم محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم اور رئیس مذهب جعفریه حضرت امام جعفر ابن محمد الصادق علیه السلام ،جہاں تمام مسلمانوں کے لیے عموماً اور شیعیان حیدر قرار علیہ السلام  کے لیے خصوصاً ،خوشیوں اور مسرتوں کا پیام لے کر آتا ہے  وہاں یہی ماہ ہمارے لیے اتحاد اور اسلامی رواداری کا  بھترین نمونہ بھی بن سکتا ہے۔الحمدللہ انقلاب اسلامی ایران کی بےشمار فیوض و برکات  میں  سے ایک عظیم برکت یہی اتحاد بین المسلمین کی عملى کوشش ہے کہ جس کو منظم کرنے کے لیے ہر سال ١٢ربیع الاول سے لے کر ١٧ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت اسلامی منایا جاتا ہے،اور پوری دنیا سے تمام اسلامی فرقوں کے نمایندگان اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔لیکن اس عظیم مقصد اور ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یہ کوششیں اس وقت تک ثمر آور نہیں ہوں گی جب تک ایک ایک مسلمان اپنے دل و جان سے اس نیک مقصد کے حصول کی کوشش نہ کرے۔وحدت اسلامی کے خواب کی تعبیر کے لیے سب سے بھترین حل یہ ہے کہ امت اسلامی کے مشترکات سے تمسک کیا جائے کہ جن میں سے سب سے عظیم القدر قرآن مجید ہے اور پھر سنت پیامبر اسلام اور سیرہ اہلبیت علیہم السلام۔انھی مشترکہ مقدسات میں سے ایک عظیم شخصیت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہے،کہ جو تمام اسلامی فرقوں میں انتہائی اہمیت اور شان و مرتبت کے حامل ہیں،کہ جو نا صرف مکتب تشیع کے موسس ہیں بلکہ ہمارے برادران اسلامی کے موسسین اور  ائمہ کے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔اس موضوع پر بحمد اللہ تمام اسلامی فرقوں کے علماء نے سیر حاصل ابحاث فرمائی ہیں۔اور مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں ۔جیسے کتاب الامام الصادق و مذاہب اربعہ(جو اس موضوع پر واقعی بھترین کتاب ہے) تقبل اللہ سعیھم الجمیلہ۔یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ جس میں پہلے تو وحدت اسلامی کی ضرورت اور اہمیت کو  قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سلسلے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ سلام  کی کوششوں اور روشوں کی بحث کی گئی  ہے۔و من اللہ التوفیق۔

وحدت کی اہمیت اور ضرورت

اسلامی رواداری اور وحدت ،مسلمانوں کی تاریخی ،اجتماعی اور سیاسی ضروریات میں سے سب سے اہم ضرورت ہے۔مسلمانوں کی عزت اور کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔اور اس کے مقابلے میں اختلاف اور تفرقہ کا نتیجہ سوائے ذلت و خواری اور جہالت کے کچھ نہیں۔اسلامی رواداری اور وحدت کی طرف دعوت اور تفرقہ سے پرہیز کا حکم قرآن اور محمد و آل محمد علیہم السلام کے مہم ترین احکامات میں سے ہے۔قرآن نے مسلمانوں کو امت واحدہ کے نام سے پکارا ہے۔ إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَ أَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ(انبیاء٩٢) یہ تمہاری امت یقینا امت واحدہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا تم صرف میری عبادت کرو۔اسی طرح مومنین کو  آپس میں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے اور آپس کے تعلقات کی اصلاح کا حکم دیا ہے۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (حجرات ١٠) مومنین تو بس آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا تم لوگ اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اور تمام مسلمانوں کو تفرقہ سے پرہیز اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا امر دیا ہے۔ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْواناً وَ كُنْتُمْ عَلى شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْها كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۔(آل عمران ١٠٣) اور تم سب  باهم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالی اور اس کی نعمت سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کر تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔اور ساتھ ہی ساتھ تفرقہ کے ممکنہ خطرات اور نتائج سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ وَ لا تَنازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ ريحُكُمْ وَ اصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرينَ (انفال ٤٦)  اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ ناکام رہو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ هے‌‎‎‎‎۔

اسی طرح اگر ہم سیرہ مطہرہ معصومین علیہم السلام کی طرف دقت کریں، تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک وحدت امت اسلامی سے بڑھ کر اور کوئی چیز محبوب اور تفرقہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز مبغوض نہ تھی۔اور یہی وحدت اسلامی تھی کہ جس کی خاطر انہوں نے اپنے حقوق کو بھی پس پشت ڈال دیا اور اپنے مناصب چھن جانے پر بھی صبر کیا۔امام علی علیہ سلام کا 25 سالہ سکوت،صلح امام حسن علیه سلام،امام رضا علیہ السلام کی طرف سے ولایت عہدی کی قبولیت،ان کےعلاوہ سینکڑوں مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان بزرگواران کے نزدیک وحدت امت اسلامی کا کیا مقام تھا۔

وحدت اسلامی کا مفہوم اور دائرہ کار

بعض افراد سمجھتے ہیں کہ وحدت مسلمین اور تقریب مذاہب صرف خاص حالات یا خاص اماکن تک محدود ہیں اور  وه بھی بہ امر مجبوری یا بصورت تقیہ ،وگرنہ مختلف فرقوں میں دوستانہ تعلقات اور اخلاص پر مبنی رواداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،حالانکہ ہمیں یہ امر مدنظر رکھنا چاھیے کہ کچھ مسائل میں فرقوں کا اختلاف ،اخوت اسلامی اور باھمی رواداری میں مانع و مخل نہیں ہوتا ،جب دین مبین اسلام تمام مسلمانوں کو یہ امر دیتا ہے کہ باقی ادیان آسمانی (یہودیت، مسیحیت وغیرہ) کے ساتھ عادلانہ میل جول اور مسالمت آمیز تعلقات رکھیں اور ان کے ساتھ مشترکات کی بنیاد پر معاشرے میں زندگی گزاریں، تو برادران دینی کہ ساتھ تعلقات رکھنے میں قرآن کا موقف بدرجہ اولی واضح اور روشن ہے۔قرآن میں ارشاد ہے کہ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَ لا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَ لا يَتَّخِذَ بَعْضُنا بَعْضاً أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران ٦٤) کہدیجیے:اے اہل کتاب! اس کلمے کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے ، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں، پس اگر نہ مانیں تو ان سے کہدیجیے: گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی ہماری توجہ ہونی چاہئے کہ جب ہم وحدت اسلامی اور رواداری کی بات کرتے ہیں تو  ہمیں وحدت امت اسلامی اور وحدت مذاھب کے درمیان خلط اور اشتباہ                  نہیں کرنا چاھیے۔کیونکہ بعض اوقات نظریہ وحدت کی ناقص یا غلط تعبیرات کی وجہ سے افراد میں مختلف شبھات اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔وحدت اسلامی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے نزدیک جو قطعیات اور مسلمات مذہب ہیں، ان کو چھوڑ دیں یا ان سے دستبردار ہو جائیں،بلکہ اس کا معنا یہ ہے کہ اپنے اعتقادات اور مسلمہ نظریات پر قائم رہتے ہوے، مشترکات دینی کی بنیاد پر باہمی رواداری اور بھائی چارے کی فضا میں زندگی گزاری جائے اور ایسے اختلافی مسائل کہ جن کو زیربحث لانے سے سوائے فرقہ واریت اور نفرت کے اور کوئی نتیجہ برامد ہونے کا امکان نہ ہو ،کو زیر بحث لانے سے اجتناب کیا جائے۔البتہ جہاں علمی اور خالصتا تحقیقی فضا میسر آجائے تو دوستانہ ماحول میں بحث و تمحیص میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہی علمی ابحاث سے استفادہ کرتے ہوئے مسائل تاریخی ،فقھی اور اعتقای کو جدال احسن کے زریعے سلجھایا جا سکے تو اس سے بڑھ کر وحدت اسلامی کی خدمت نہیں ہو سکتی،لیکن یہ مناظرانہ بلکہ جاہلانہ انداز ،گالم گلوچ،توہین ،نعرے بازی اور وال چاکنگ وغیرہ کے طریقوں سے آج تک نہ کوئی راہ راست پر آیا ہے(اور اگر آیا بھی ہے تو اس کا جو نقصان داخلی طور پر خود مذھب شیعہ کو اٹھانا پڑا ہے وہ اظہرمن الشمس ہے) اور نہ ہی یہ ہمارے مذہب کے اصولوں کے مطابق ہے۔جدال احسن اور ہمارے مروجہ مناظرے میں جو فرق ہے ارباب عقل و دانش اور اہل انصاف کے لیے واضح و روشن ہے۔

بنابر ایں وحدت اسلامی سے ہمارا مقصود یہ ہونا چاھیے کہ تمام مذاھب و مسالک اور مکاتب فکر اختلافی مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے دینی مشترکات کو اخذ کریں اور باھمی رواداری سے زندگی گزاریں ،اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ تمام مسالک میں سے کسی ایک کو چن لیا جائے اور مخالفین پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جائے یا تمام مسالک کو جڑ سے ختم کر کے نئے اصول یا قوانین دینی وضع کیے جائیں کہ جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کو قبول ہوں کیونکہ یہ امر نہ ہی ممکن ہے اور نہ ہی منطقی و عاقلانہ۔

انہی مشترکات بلکہ بین المذاھب مقدسات میں سے ایک بہت بڑا مصداق اہلبیت علیہم السلام کی شخصیات ہیں۔یہ وہ شخصیات ہیں کہ جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے نزدیک انتہائی قابل احترام اور مقدسات کا درجہ رکھتی ہیں۔(سوائے ناصبیوں اور تکفیریوں کے،کہ جن کو مسلمان کہنا،لفظ اسلام کے لغوی اور اصطلاحی دونوں معانی کے مخالف ہے)۔ہمیں چاہیے کہ ان حضرات کی سیرت عالیہ اور فرامین مقدسہ کو موضوع بحث بنایا جائے ۔ان کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کا مطالعہ کر کے اپنی راہوں کو متعین کیا جائے۔جو صحیح احادیث کی صورت میں ہمارے پاس ائمہ اطھار کی علمی میراث موجود ہے اس کو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے سامنے پیش کیا جائے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ لوگ معارف حدیثی سے آشنا ہوں اور اہلبیت علیہم السلام کے عاشق نہ ہو جائیں۔روایت هے که                  سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُوسَى الرِّضَا ع يَقُولُ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً أَحْيَا أَمْرَنَا فَقُلْتُ لَهُ وَ كَيْفَ يُحْيِي أَمْرَكُمْ قَالَ يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا وَ يُعَلِّمُهَا النَّاسَ فَإِنَّ النَّاسَ لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا (عيون أخبار الرضا،ج١،ص٣٠٨) راوی کہتا ہے کہ میں نے سنا کہ امام فرما رہے تھے کہ خدا رحمت کرے  اس شخص پر کہ جو ہمارے امر کو زندہ کرے تو میں نے پوچھا کہ وہ کیسے آپ کے امر کو زندہ کر سکتا ہے تو امام نے فرمایا کہ ہمارے علوم اور معارف کو حاصل کرے اور لوگوں تک پہنچائے اگر لوگوں کو ہمارے کلام کی خوبصورتی اور محاسن کا علم ہو جائے تو وہ ہماری اتباع کریں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ہماری کوتاھی ہے کہ ہم اہلبیت علیہم السلام کی اس علمی میراث کی تبلیغ کا حق ادا کرنا تو دور کی بات ،خود بھی اس سے کما حقہ مطلع نہیں ہیں ۔خدا ہمیں معارف محمد و آل محمد علیہم السلام کے سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

شخصیات اہلبیت علیہم السلام میں سے جس شخصیت مقدسہ کو سب سے زیادہ اور مختلف مسالک و مکاتب سے ارتباط اور برخورد کا موقع ملا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں کہ جن کی ولادت با سعادت کی عظیم مناسبت کے حوالے سے وحدت اسلامی اور باھمی رواداری میں ان کے عظیم کردار کے چند پہلو  قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا؛

امام صادق علیہ السلام کا  عموم اہلسنت سے ارتباط :

امام صادق علیہ سلام کا اہل سنت سے ارتباط اور تعلق باھمی رواداری اور خیرخواہانہ رویے پر مشتمل تھا۔آپ کے نزدیک تمام مسلمان، فرزندان اسلام اور  آپس میں بھائی  کا درجہ رکھتے تھے۔اگر آپ کی معاشرتی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اپنے دروس اور فرامین میں ،اپنے آپ کو مرجع علمی اسلام کے طور پر متعارف کروایا ، نہ کہ ایک خاص مکتب کے رئیس و امام کے حوالے سے۔امام علیہ سلام کا  مقام و منصب صرف رئیس مکتب تشیع و جعفری کا نہ تھا بلکہ آپ منبع ہدایت اور مرجع معارف اسلامی کے طور پر مانے جاتے تھے۔آپ کے مکتب کے چار ہزار شاگردان میں سے ایک بہت بڑی تعداد اہل سنت حتی ادیان دیگر کے ماننے والوں کی بھی تھی۔آپ علیہ سلام کا مدرسہ اور بیت مبارک ،تمام مسالک کے ماننے والوں کے لیے مرجع علمی اور بزرگان اہل سنت کے لیے حلال مشکلات کا مرتبہ رکھتا تھا۔

نہ صرف امام صادق علیہ السلام کا اہل سنت سے اپنا  تعامل و تعلق نیک نیتی اور اسلامی رواداری پر مشتمل تھا بلکہ آپ علیہ سلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو بھی یہی سفارش کی،چنانچہ جب آپ کے ایک صحابی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ مولا آپ کے ماننے والوں کا اپنے غیر شیعہ رشتے داروں ،برادری والوں اور پڑوسیوں سے تعلق کیسا ہونا چاھیے تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اپنے ائمہ اور رہبروں کی سیرت کو دیکھو کہ ان کی رفتار اور کردار کیسا تھا۔جیسے وہ رہتے ہیں ،ویسے ہی تم لوگ بھی رہو،اللہ کی قسم  تمہارے ائمہ ان کے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں ،ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں ،ان کے بارے گواہیاں دیتے ہیں،اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں  کہ تمہارا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہونا چاھیے کہ جب وہ لوگ تمہاری نیک سیرت اور اچھے کردار اور تعلقات کو دیکھیں تو کہیں کہ ایسے ہوتے ہیں صادق کے شیعہ۔اچھے کام اور تعلقات تم انجام دو گے ،اور تعریف تمہارے رھبران کی ہو گی کہ خدا رحمت کرے جعفر ابن محمد علیہم السلام پر کہ کیسے نیک شیعہ کی تربیت کی ہے۔جیسا کہ فرمان امام صادق علیہ السلام  ہے کہ  يَا زَيْدُ خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ صَلُّوا فِي مَسَاجِدِهِمْ وَ عُودُوا مَرْضَاهُمْ وَ اشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ وَ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا الْأَئِمَّةَ وَ الْمُؤَذِّنِينَ فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَعْفَرِيَّةُ رَحِمَ اللَّهُ جَعْفَراً مَا كَانَ أَحْسَنَ مَا يُؤَدِّبُ أَصْحَابَهُ وَ إِذَا تَرَكْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَعْفَرِيَّةُ فَعَلَ اللَّهُ بِجَعْفَرٍ مَا كَانَ أَسْوَأَ مَا يُؤَدِّبُ أَصْحَابَهُ (من لا يحضره الفقيه،جلد ١،ص٣٨٣،حدیث١١٢٨) امام فرماتے ہیں کہ افراد اہل سنت کے ساتھ انہی کے مطابق پیش آو،ان کی مساجد میں نمازیں ادا کرو،ان کے مریضوں کی عیادت کرو،اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو ان کے جنازوں اور مراسم میں شرکت کرو،اگر تمھارے لیے ممکن ہو تو ان کے پیشنمازی کرو اور ان کے موذن بنو ،ان کاموں کو انجام دو،کیونکہ اگر تم اس اخلاق سے پیش آو گے تو وہ کہیں گے کہ یہ ہوتے ہیں شیعہ اور جعفری،خدا رحمت کرے جعفر ابن محمد پر کہ کیسا عمدہ ادب سکھایا ہے اپنے شیعوں کو،اور اگر خدانخواستہ تم نے ان کاموں کو ترک کر دیا، تو لوگ کہیں گے کہ جعفر ابن محمد نے کیسی بری تربیت کی ہے اپنے ماننے والوں کی۔یعنی اگر ہمارا اخلاق اچھا ہو گا تو لوگ امام صادق علیہ السلام کی تعریف کریں گے اور اگر ہمارا اخلاق مناسب نہیں ہو گا تو ہماری وجہ سے امام صادق علیہ السلام کی توہین ہو گی۔

 اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ایک اور مہم نکتہ ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ہمیشہ اس بات کی طرف توجہ رکھی ہے کہ مد مقابل کی علمی اور فکری حیثیت کیا ہے،اور ہمیشہ اس فکری حیثیت کے مطابق اس شخص سے برخورد کی ہے،ہم شیعیان اور محبان کو بھی  امام صادق علیہ السلام کی اس روش کو ہمیشہ مدنظر رکھتے ہوئے دیگر مسالک کے ماننے والوں سے ارتباط رکھنا ہو گا۔ہمیں اس چیز کی طرف انتہائی توجہ دینی ہو گی کہ ہمارا مد مقابل کس فکر کا حامل ہے ؟آیا وہ جان بوجھ کر اور معاندانہ طور پر مخالف ہے یا کسی پروپیگنڈے کا شکار ہے؟آیا وہ تمام اعتقادی و     تاریخی نکات اور اختلافی مسائل کا ادراک رکھتا بھی ہے یا نہیں؟آیا آج تک کسی نے اس کو امام صادق علیہ السلام کا کما حقہ تعارف کروایا بھی ہے یا نہیں؟آیا اس شخص کو تشخیص حق کا موقع ملا بھی ہے یا نھیں؟ یا نا آگاھانہ طور پر وہ مکتب اہل بیت علیہم السلام سے دور ہو چکا ہے،ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا وظیفہ خصوصا تولا و تبرا کے حوالے سے مشخص کرنا چاھیے۔

امام صادق علیہ السلام کا اہل سنت کے علماءاور پیشواؤں کے ساتھ رویہ:

امام صادق علیہ السلام کا علمائے اہل سنت کے ساتھ رابطہ اس نوعیت کا تھا کہ ان کو یہ محسوس نہ ہوتا تھا کہ  ہم اپنے مخالف مذھب کےرئیس کے سامنے بیٹھے ہیں۔بہت سے علمائے اہلسنت امام صادق علیہ السلام کے رفقاء اور ہمنشینان میں شمار ہونے لگے۔علمائے اہل سنت کی عالی ترین شخصیات نے اپنے عموم و فنون کا ایک معتد بہ حصہ مکتب امام باقر و صادق علیہ السلام کے مکتب سے اخذ کیا۔اور اس بات پر انہوں نے باقاعدہ طور پر فخر و مباہات کیا۔ابو زہرہ عالم مکتب اھل سنت لکھتے ہیں کہ علمائے اسلام میں سے کسی نے بھی ،کسی امر پر اس طرح اجماع نہیں کیا جس طرح امام صادق علیہ السلام کے علم و فضل پر اجماع کیا (جعفریان،حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ،ص٣٩٩)۔ ابو حنیفہ امام اہل سنت کا مشہور قول ہے کہ لولا سنتان لھلک النعمان ؛    اگر میرے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سال نہ ہوتے تو میں ھلاک ہو جاتا۔ (الجندى،الامام جعفرالصادق،ص٢٥٢)

مالک ابن انس کہ  جنہوں نے نیز امام صادق علیہ السلام کے محضر مبارک سے استفادہ کیا،کہتے ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ کسی شخص کے وہم و گمان میں آیا  وہ شخص کہ جو علم و فضل و عبادت و زہد میں امام صادق علیہ السلام سے بڑھ کر ہو۔ (ابن حجر عسقلانی،تھذیب التہذیب،ج٢،ص١٠٤)اسی طرح امام مالک ابن انس کہتے ہیں کہ بھت عرصے میں امام صادق علیہ السلام کے پاس جاتا رہا،آپ کی شخصیت خوش مزاج تھی ،ہمیشہ آپ کے لبوں پر ایک ملایم سا تبسم موجود رہتا تھا۔میں جتنے عرصے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ان کے گھر پے حاضر ہوتا رہا ،میں نے آپ کو صرف ان تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں دیکھا ،یا آپ نماز کی حالت میں ہوتے،یا روزہ کی حالت میں ،یا تلاوت قرآن کی حالت میں۔میں نے نہیں دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام نے بغیر وضو اور طہارت کے اپنے جد امجد حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی ہو۔میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی آپ کی زبان اقدس سے کوئی فضول یا بے محل بات نکلی ہو،آپ علماء اور زہاد میں سے تھے کہ جن کے اندر خوف خدا رچا ہوا ہوتا تھا،ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور آپ علیہ السلام  نے اپنے نیچے بچھے ہوئے بچھونے کو نکال کر میرے نیچے نہ بچھا دیا ہو۔ (یحصبی،ترتيب المدارك و تقريبالمسالك،ج١،ص٥٥)

امام صادق علیہ السلام کا مقدسات اہل سنت کے بارے رویہ:

امام صادق علیہ السلام کی اپنے فکری مخالفین سے برخورد کی روش ہمیشہ منطقی ،علمی اور استدلالی رہی اور آپ کی کسی گفتگو اور جدل میں توہین مخالف کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا،آپ علیہ السلام کی گفتار اور کردار اس بات کا شاہد ہے کہ آپ مقدسات اہل سنت کے بارے نہایت حساس اور محتاط تھے اور اپنے ماننے والوں کو بھی اسی بات کی ترغیب دیتے تھے۔روایات میں بارھا تذکرہ ہوا ہے کہ  ایاکم و الخصومة فى الدین (وسائل الشیعہ،ج١٦،ص١٩٨) کہ دین کے معاملات میں دشمنی اور خصومت سے پرہیز کرو۔مشہور واقعہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کو کسی نے بتایا کہ فلاں شخص مسجد میں آپ کے مخالفین کو برملا برا بھلا کہتا ہے تو امام نے فرمایا کہ مالہ؟ لعنہ اللہ ،یعرض بنا(اعتقادات الامامیہ،ص١٠٧)، اس کو کیا ہوا ہے ،خدا اس پر لعنت کرے ،وہ اپنے اس کام سے ہمیں متعرض ہو رہا ہے۔وہ اپنے اس کام سے باعث بن رہا ہے کہ لوگ امام اور مکتب اہل بیت کے بارے منفی نظریات رکھیں۔علماء  اور ائمہ اہل سنت کا امام صادق علیہ السلام سے ارتباط اور آنا جانا تاریخی مسلمات میں سے ہے،اگر امام صادق علیہ السلام بھی بعض عوام کی طرح صرف توہین مقدسات اور لعن طعن کرنے میں مشغول رہتے تو کیسے ممکن تھا کہ اہلسنت کے علماء بلکہ ان کی فقہ کے ائمہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بارہا شرفیاب ہوتے یا امام صادق علیہ السلام کی تعریفوں میں رطب اللسان رھتے۔عمرو ابن عبید، واصل ابن عطا، حفص ابن سالم،مالک ابن انس ابو حنیفہ،یحیی ابن سعید انصاری، ابن جریح، محمد ابن اسحاق، شعبہ ابن حجاج، ایوب سجستانی و غیرہم کے امام صادق علیہ السلام کے بارے خیالات و اظہارات تاریخ کا حصہ ہیں (حسينى،سيد على،مداراى بين مذاهب،ص٥٠٦)۔

علامہ اسد حیدر صاحب کتاب الامام الصادق و مذاہب اربعہ لکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ سلام کی اسی  رواداری اور اخلاق عالیہ کا اثر تھا کہ جب بنو عباس کے خلاف شیعوں نے بعض علاقوں میں قیام کیا جیسے قیام محمد بن عبدللہ بن حسن اور ابراہیم کا قیام تو ابو حنیفہ امام اہل سنت نے کھل کر ان کی حمایت کی (الامام الصادق والمذاهب الاربعه،ترجمہ فارسی،محمد حسین سرانجام،ج١،ص٤٦٦)۔

امام صادق علیہ السلام  اور روش احتجاج و جدال احسن:

کسی بھی مکتب فکر  کے علماءو رہبران کا اہم ترین فریضہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے مبانی اور نظریات پر دلیل اور براہین کا اقامہ کریں۔اگرچہ امام صادق علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ا کثر حصہ محاصرہ بنی عباس میں گزرا ،لیکن اس کے باوجود گمراہان اور حقیقت طلبان کی ہدایت  و رہنمائی اور معاندین مکتب توحید و اہلبیت علیہم السلام کے شبھات کا جواب دینے کے لیے امام علیہ السلام نے جدال احسن اور احتجاج مستدل کی روش کو کبھی بھی پس پشت نہیں ڈالا۔امام صادق علیہ السلام نے اپنے علمی نظریات کو یوں بیان کیا کہ نظریاتی اور فکری مخالفین کو بھی یارائے انکار نہ ہوا۔امام علیہ سلام کی روش اور طریقہ کار یہ تھا کہ مخالفین کے اعتراضات و شبھات کے جواب خود انہیں کی معتبر ادلہ سے دیتے تھے ۔جیسے کہ محمد بن عبدالرحمن ابن ابی لیلی کہ جو معروف فقیہ،محدث ،مفتی اور قاضی کوفہ تھے،جب انھوں نےامام صادق علیہ السلام کے سامنے اپنے سوالات و شبھات پیش کیے اور ان کے کافی و شافی جوابات حاصل کیے تو کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہیں۔ (من لا یحضرہ الفقیہ، ج١، ص١٨٨، حديث٥٦٩)

امام صادق علیہ سلام کے مناظرات بھی چند خاص اصول و قواعد پر مشتمل ہوتے تھے ،ان میں سے ایک ضابطہ یہ تھا کہ امام صادق علیہ السلام مناظرے سے پہلے موضوع کو روشن کرنے کے لیے اور مدمخالف  کی علمی حیثیت کو جانچنے کے لیے مختلف طرح کے سوالات اور مثالوں سے اپنی بات کا آغاز کرتے تھے۔ان مناظروں اور علمی ابحاث کی تفصیل احتجاج طبرسی،بحارالانوار،الاختصاص وغیرہ کتابوں میں مزکورہے۔نمونہ کہ طور پر امام صادق علیہ السلام اور ابوحنیفہ امام اہلسنت کا قیاس کہ موضوع پر ایک مناظرہ پیش خدمت ہے

مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى  أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اِبْنَكَ مُوسَى يُصَلِّي وَ اَلنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَنْهَاهُمْ وَ فِيهِ مَا فِيهِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اُدْعُ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ يَذْكُرُ أَنَّكَ تُصَلِّي وَ اَلنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَلاَ تَنْهَاهُمْ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَتِ إِنَّ اَلَّذِي كُنْتُ أُصَلِّي لَهُ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيَّ مِنْهُمْ يَقُولُ اَللَّهُ تَعَالَى: وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ اَلْوَرِيدِ  قَالَ فَضَمَّهُ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى نَفْسِهِ وَ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا مُودَعَ اَلْأَسْرَارِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلْقَتْلُ عِنْدَكُمْ أَشَدُّ أَمِ اَلزِّنَا فَقَالَ بَلِ اَلْقَتْلُ قَالَ فَكَيْفَ أَمَرَ اَللَّهُ تَعَالَى فِي اَلْقَتْلِ بِالشَّاهِدَيْنِ وَ فِي اَلزِّنَا بِأَرْبَعَةٍ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ يَا أَبَا حَنِيفَةَ تَرْكُ اَلصَّلاَةِ أَشَدُّ أَمْ تَرْكُ اَلصِّيَامِ فَقَالَ بَلْ تَرْكُ اَلصَّلاَةِ قَالَ فَكَيْفَ تَقْضِي اَلْمَرْأَةُ صِيَامَهَا وَ لاَ تَقْضِي صَلاَتَهَا كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ وَيْحَكَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلنِّسَاءُ أَضْعَفُ عَنِ اَلْمَكَاسِبِ أَمِ اَلرِّجَالُ فَقَالَ بَلِ اَلنِّسَاءُ قَالَ فَكَيْفَ جَعَلَ اَللَّهُ تَعَالَى لِلْمَرْأَةِ سَهْماً وَ لِلرَّجُلِ سَهْمَيْنِ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلْغَائِطُ أَقْذَرُ أَمِ اَلْمَنِيُّ قَالَ بَلِ اَلْغَائِطُ قَالَ فَكَيْفَ يُسْتَنْجَى مِنَ اَلْغَائِطِ وَ يُغْتَسَلُ مِنَ اَلْمَنِيِّ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ تَقُولُ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اَللَّهُ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَقُولَهُ قَالَ بَلَى تَقُولُهُ أَنْتَ وَ أَصْحَابُكَ مِنْ حَيْثُ لاَ تَعْلَمُونَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ جُعِلْتُ فِدَاكَ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ أَرْوِيهِ عَنْكَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ عَنْ جَدِّهِ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اَللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّ اَللَّهَ أَخَذَ مِيثَاقَ أَهْلِ اَلْبَيْتِ مِنْ أَعْلَى عِلِّيِّينَ وَ أَخَذَ طِينَةَ شِيعَتِنَا مِنْهُ وَ لَوْ جَهَدَ أَهْلُ اَلسَّمَاءِ وَ أَهْلُ اَلْأَرْضِ أَنْ يُغَيِّرُوا مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً مَا اِسْتَطَاعُوهُ قَالَ فَبَكَى أَبُو حَنِيفَةَ بُكَاءً شَدِيداً وَ بَكَى أَصْحَابُهُ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجُوا (شيخ، مفيد، الاختصاص، ص١٨٩؛ مجلسى،  محمدباقر، بحارالانوار، ج١٠، ص٢٠٤)

ترجمہ:ایک دن ابو حنیفہ اپنے چند رفقاء کے ساتھ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا ابن رسول اللہ،میں نے ابھی آپ کے بیٹے موسی کاظم کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ان کے آگے سے گزر رہے تھے،اور انہوں نے ان کو منع بھی نہ کیا،حالانکہ اس آمد و رفت سے معنویت اور حضور قلب میں خلل واقع ہوتا ہے،امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا کہ ابوحنیفہ نے آپ کے بارے یہ کہا ہے،امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ جی ایسا ہی ہوا ہے،چونکہ میں جس ذات کے مقابل کھڑا تھا ،وہ تمام لوگوں کی نسبت میرے زیادہ قریب تھی،اس لیے لوگوں کی آمد و رفت کو میں نے اپنے لیے خلل نہیں سمجھا کیونکہ خود خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ میں تمھاری شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔پھر امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اپنی آغوش میں لے لیا اور فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہو جائیں کہ تم واقعی اسرار و علوم الہی اور امامت کے محافظ ہو۔پھر امام صادق علیہ السلام ابو حنیفہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے سوالات کا آغاز کیا اور پوچھا کہ حکم قتل شدید تر ہے یا حکم زنا؟ابو حنیفہ نے کہا کہ قتل،تو امام ع نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو خدا نے کیوں قتل کے ثبوت کے لیے دو گواہ اور زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر کیے،پھر امام ع نے فرمایا کہ اے ابو حنیفہ احکام دین خدا کا استنباط قیاس سے نہیں ہو سکتا،پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ ترک نماز زیادہ مہم امر ہے یا ترک روزہ؟ابو حنیفہ نے کہا کہ ترک نماز،امام نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ترک روزہ۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عورتوں کے ایام مخصوصہ میں قضا شدہ نمازوں کی معافی ہے لیکن روزوں کی نہیں۔پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ حقوق اور معاملات کے حوالے سے عورت ضعیف ہے یا مرد،ابو حنیفہ نے کہا کہ عورت،تو امام علیہ السلام نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو مرد کا حصہ عورت کے دوبرابر کیوں ہے حالانکہ قیاس کے مطابق ضعیف کا حصہ زیادہ ہونا چاھیے۔پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ پاخانہ زیادہ پلید ہے یا  منی ؟ابو حنیفہ نے کہا کہ پاخانہ پلید تر ہے،امام ع نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو کیوں پاخانہ فقط استنجاء سے صاف ہو جاتا ہے جبکہ خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے؟ تو پس کیسے دین خدا کا استنباط قیاس سے ہوگا؟ابو حنیفہ نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہو جاوں  ،مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں جس سے فائدہ حاصل کروں اور آپ کی طرف سے لوگوں تک پہنچاوں،امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے ہم اہل بیت کا میثاق اور ہماری طینت کو اعلی علیین سے لیا ہے اور ہمارے شیعوں کی طینت ہم اہلبیت میں سے ہے،اور اگر تمام خلائق جمع ہو کر بھی اس میں کوئی تبدیلی لانا چاھیں تو نہیں لا سکیں گے۔راوی کہتا ہے کہ ابوحنیفہ اور ان کے رفقاء نے یہ سن کر شدید گریہ کیا اور امام سے اجازت چاہی۔

یہ گفتگو اور اس جیسے کئی دیگر مناظرے امام صادق علیہ السلام کی علمی قابلیت ،روش گفتگو،مد مقابل کے ساتھ رویہ اور خود ابو حنیفہ کی طرف سے امام صادق علیہ السلام کا احترام اور دیگر اخلاقیات کا بھترین ثبوت ہیں۔(حیدر،اسد،الامام الصادق و المذاہب الاربعہ،ترجمہ فارسی،ج١،ص٤٦٤)

 

نتیجہ

ان تمام نکات اور امام صادق علیہ السلام کی سیرت عالیہ کا مطالعہ کرنے سے بلاخوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام  اسلامی رواداری اور وحدت امت کا مصداق اتم تھے۔مجموعی طور پر آپ کا مختلف مکاتب فکر کے ساتھ رویہ احترام،نصیحت،خیرخواہی اور جدال احسن پر مشتمل ہوتا تھا۔آپ علیہ سلام کے اسی خلق عظیم اور رواداری کا نتیجہ تھا کہ بزرگان اور ائمہ اہلسنت آپ علیہ سلام کی شاگردی پر فخر و مباھات کرتے تھے۔ آج امام صادق علیہ السلام کے ماننے والوں کو بالعموم اور مبلغین مذھب حقہ کو بالخصوص وحدت امت کے حوالے سے امام علیہ السلام کی سیرت کا بغور مطالعہ کرنے کی اور عملی طور پر امام علیہ سلام کے متعین کردہ راستوں پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ زمانے میں تفرقہ اور مذھبی عدم برداشت جیسے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔اور تمام اسلامی ممالک میں عموما اور وطن عزیز ،مملکت خداداد پاکستان میں باھمی رواداری ،اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جا سکے۔ الہی آمین۔

حوالہ جات:

القرآن الکریم

الکلینی۔محمد بن یعقوب۔الکافی،۱۳۸۰،تهران،اسوه

ابن ابي الحديد،١٩٦٧ م،شرح نهج البلاغه،بيروت،دار الاحياء التراث العربي

ابن بابويه۔محمد بن علی (شیخ صدوق)۔من لا یحضرہ الفقیہ،١٤١٣ ق،تحقيق على اكبر غفاری،قم، جامعہ مدرسین

ابن بابویہ۔محمد بن علی(شیخ صدوق)۔الاعتقادات فی دین الامامیہ،١٩٩٣ م ،تحقیق اعصام عبد السید،بیروت،دارالمفید

ابن بابویہ۔محمد بن علی(شیخ صدوق)۔عیون اخبار الرضا عليه السلام،١٣٧٨،تحقيق لاجوردى،تهران،نشر جهان

ابن حجر عسقلانى،احمد بن على،١٩٦٨،تهذيب التهذيب،بيروت،دار صادر

ابن نعمان،محمد بن محمد،شیخ مفید،١٤١٣ ق،الاختصاص،قم،موسسه النشر الاسلامى

النجفی،محمد حسین،فیضان الرحمان فی تفسیر القرآن،٢٠١٥ م، لاهور، مصباح القرآن ٹرسٹ

النجفی۔ محمد حسین ۔احسن الفوائد فی شرح العقائد، ۱۹۷۱ م،سرگودها (پاکستان) مکتبه السبطین

 جعفريان،رسول،١٣٩١،حيات فكرى.سياسى امامان شيعه،تهران،علم

الجندى،عبد الحليم،١٩٧٧،الامام جعفر الصادق،قاهره.

حر عاملی،محمد بن حسن۔وسائل الشیعہ، ١٤١٤ق،قم،آل البیت لاحیاء التراث

حسینی،سید علی،مدارای بین مذاہب،١٣٨٣ ش،قم،بوستان کتاب

حیدر۔اسد۔الامام الصادق و المذاہب الاربعہ،ترجمہ فارسی محمد حسین سرانجام،١٣٩٢،قم،دانشگاہ ادیان و مذاہب

ذھبی،محمد بن احمد،سیر اعلام نبلاء،١٩٩٨،بیروت،موسسہ الرسالہ

طبرسی،ابو منصور احمد بن علی،احتجاج علی اھل اللجاج،١٤٠٣ ق،مشهد،نشر مرتضى

مجلسى،محمد باقر،١٤٠٣،بحار الانوار،بيروت،موسسه الوفاء.

ہوشنگی،حسین و یاسین شکرانی،اصول و روش ھای حاکم بر مناظرات امام صادق،١٣٩١،تهران،دانشگاہ امام صادق ع

 

 

یحصبی،قاضی ابو الفضل عیاض، ترتیب المدارک و تقریب المسالک،تصحیح احمد بکیر محمود، بیروت، منشورات دار المکتبہ الحیات

محمد عمار رضا اعوان

ایم اے  عربی، ایم فِل علوم حدیث

جامعة المصطفی العالمیہ  قم ایران

 

 

 

 

 

 

ریاست مدینہ کو درپیش اقتصادی چیلنجزسے نمٹنے کےلیے  رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ

 

ڈاکٹر تصور عباس خان

اشاریہ

مشرکین مکہ جانتے تھے کہ رسول اکرم ﷺ کا الہی پیغام بہت جلد جزیرۃ العرب کے طول و عرض میں پھیل جائے گا اسی وجہ سے انہوں نے پہلے دن سے ہی مختلف ہتھکنڈے اپنانا شروع کر دئیے جیسے مسلمانوں کو روحانی اور جسمانی اذیتیں پہنچانا ؛ مختلف قسم کی تہمتیں لگانا ، بے احترامی کرنا ، جھوٹے پروپیگنڈے کرنا وغیرہ  لیکن بالآخر  جب اسلام کے آفاقی پیغام کو پھیلنے سے نا  روک سکے تو اقتصادی اور معاشی نقصان پہنچانا ان کا آخری حربہ ٹھہرا ، مکہ میں تین سال کا اقتصادی اور اجتماعی بائیکاٹ ؛اسی طرح مدینہ میں ہجرت کے بعدبھی مسلمانوں کے خلاف مختلف اقتصادی  حربے استعمال کرتے رہے اور مسلمانوں پر  جنگوں کو بھی مسلط کیا لیکن ان سب  کے باوجود  مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے محض دس سالوں میں  نا صرف جزیرۃ العرب بلکہ دور دراز کی ایمپائرز جیسے روم و فارس وغیرہ  تک اسلام کا پیغام پہنچ چکا تھا ۔ تو اس مقالہ کے بنیادی سوالات یہی ہیں کہ مکہ میں اقتصادی اور معاشرتی پابندیوں اور  مکہ سے ہجرت کے وقت مسلمانوں کے اموال کی غارت اور اسی طرح ، پورے جزیرۃ العرب میں مشرکین کی طرف سے ریاست مدینہ  کی برآمدات اور درآمدات کو نشانہ بنانے کے باجود اسلامی حکومت  کی معیشت نے کیسے استحکام حاصل کیا ؟ رسول اکرم ﷺ نے کونسی پالیسی اختیار کی جس کی وجہ سے ریاست مدینہ کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو  سکی ؟ مہاجرین اور بے گھر افراد کےلیے کیا صرف صفہ نام کی پناہ گاہ  ہی تھی یا اس کے علاوہ بھی  اپنا گھر اسکیم جیسی کوئی اسکیم تھی ؟ اور نبی اکرم ﷺ نے اس ضمن میں کیا اقدامات کیے ؟ بے روزگار افراد کو روزگار فراہمی کےلیے نبی اکرم ص نے کونسے اقدامات کیے ؟ مکہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اور قریش مکہ نے جزیرۃ العرب کے قبایل سے معاہدے کر رکھے تھے جس کی بنا پر مسلمانوں کو دھمکی دے چکے تھے کہ اگر مدینہ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا سوچا تو پورے جزیرۃ العرب میں پابندیاں لگا دیں گے اور پھر یہ صرف دھمکی نہیں تھی بلکہ عملدرآمد بھی کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے مقابلہ کرنے کےلیے اور جزیرۃ العرب کی منڈیوں تک رسائی کےلیے کیا پالیسی اپنائی ؟کیا نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھتے ہوئے آج اس مہنگائی اور بیروزگاری کے زمانے میں  کوئی  قابل عمل پالیسی بنائی جا سکتی ہے ؟ سب سے پہلے ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ عالم اسباب ہے چاہے انبیا کا زمانہ یا امام کا ، معجزہ بہت کم رونما ہوتا ہے ۔ انبیا لوگوں کی ہدایت کےلیے آئے تھے اور قرآن مجید کے مطابق تو رسول اکرم ﷺ اسوہ حسنہ ہیں ان کی بنائی گئی پالیسیسوں سے آج بھی اسی طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے جس طرح پہلے کیا جا سکتا تھا ۔ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے خصوصا اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کے حل کےلیے کئی ایک بنیادی اقدامات اٹھائے جن میں مھاجرین کو گھروں  اوربنیادی ضروریات کی فراہمی ، مختلف طریقوں سے روزگار کی فراہمی ، تجارت اور زراعت کی تشویق اوردشمن کے مفادات کو جوابی وار میں خطرے میں ڈالنے جیسی پالیسیوں کا انتخاب کیا ۔  جن کی تفصیل انشاء اللہ  اسی مقالہ میں بیان کی جائے گی ۔

مکہ میں مسلمانوں کا اقتصادی اور معاشرتی  بائیکاٹ

مکہ کے مشرکین نے بھانپ لیا تھا کہ رسول اکرم ﷺ کا الہی پیغام بہت جلد جزیرۃ العرب کے طول و عرض میں پھیل جائے گا اسی لیے اس الہی پیغام کو  دبانے کےلیے سب سے پہلے  کوشش کی کہ رسول اکرم ﷺ کو شہید کر دیا جائے ۔ انہوں نے کوشش بھی کی لیکن حضرت ابوطالبؑ ان کے مقاصد کے حصول میں ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے جن کی فداکاری کی بدولت مشرکین مکہ کو مایوس ہونا پڑا ۔مشرکین نے اعلان کر دیا کہ جب تک حضرت محمد ﷺ کو ہمارے حوالے نہیں کیا جاتا ،اس وقت تک مسلمانوں کےساتھ اقتصادی اور معاشرتی بائیکاٹ  رہے گا ۔ کتبت الصحیفۃ القاطعۃ الظالمۃ الا یبایعوا احدا من بنی ھاشم و لا یناکحوھم و لا یعاملوھم حتی یدفعوا الیھم محمدا فیقتلوہ (یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ،  ج2، ص31) یعنی  مسلمانوں کے ساتھ  تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں ممنوع قرار پائیں ، رسول اکرم ص اور آپ کے عزیز و رشتہ داروں کے ساتھ ہر قسم کی خرید و فروخت؛شادی بیاہ  اور  کسی قسم کا رابطہ رکھنا جرم قرار پایا یہاں تک بنی ہاشم نبی اکرم ﷺ کو مشرکین کے حوالے نا کر دیں اور وہ انہیں شہید نا کر دیں ۔ یہ ایسا معاہدہ نہیں تھا کہ لکھ دیا اور بس ، بلکہ مشرکین مکہ اس  پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کےلیے باقاعدہ نظارت کرتے تھے ، ان کا ھم و غم یہی تھا کہ مکہ کےتمام لوگ اس معاہدے کی پاسداری کریں اور مشرکین مکہ نے دن رات ایک کر دیا تا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی نا ہو ، ان سخت حالات  کی وجہ سے پیغمبر اکرم ﷺ اور آپ کے قرابت دار اور رشتہ دار نے بعض مصلحتوں کی بنا پر شعب ابی طالب میں جانا مناسب سمجھا ۔   (زرگری نژاد ، تاریخ صدر اسلام، ص 279-028)

ان حالات کو دیکھتے ہوئے  نبی اکرم ﷺ اور ابوطالب ؑ  نے مسلمانوں کے ساتھ ایک وادی میں جا کر سکونت اختیار کی جسے شعب ابی طالب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ یہ تین سال کا بائیکاٹ تھا اور مکہ میں مسلمانوں کے گزارے گئے یہ  تین سال پیغمبر اکرم ﷺ اور مسلمانوں کےلیے بہت زیادہ سخت تھے ۔ مشرکین سوچ رہے تھے مسلمان ہار مان لیں گے اور اپنے عقیدے سے ہاتھ اٹھا لیں گے لیکن ان پابندیوں نے مسلمانوں کے عزم و حوصلے اور بلند کر دئیے اور ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا گیا ۔

اس دوران جتنا عرصہ رسول اکرم ﷺ؛ حضرت ابوطالبؑ اور حضرت خدیجہ ؑکا مال و دولت چلا ، مسلمانوں نے گزارا کیا جیسا کہ یعقوبی کے الفاظ ہیں: فاقام و معہ جمیع بنی ھاشم و بنی المطلب فی الشعب ثلاث سنین حتی انفق رسول اللہ مالہ ، و انفق ابوطالب مالہ ، و انفقت خدیجہ بنت خویلد مالھا ، و صاروا الی حد الضر الفاقۃ ۔ (: یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ، ج2، ص31) لیکن جیسے ہی یہ سب  ختم ہوا ، مسلمانوں کے حالات خراب ہو گئے ، بھوک نے پوری وادی میں ڈیرے جما لیے، یہاں تک کہ  ناچار درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئے  ۔بچے بھوک سے روتے تھے تو مشرکین مکہ ان کی آوازوں کو سنتے اور اپنی خام خیالی میں سوچتے تھے کہ بہت جلد مسلمان ہار مان لیں گے ۔ ابن اثیر کی روایت کو مان لیا جائے تو بعض بچے بھوک کی وجہ سے فوت بھی ہو گئے تھے ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مسلمانوں کی حالت کیا رہی ہو گی ؟۔ ( بلاذری ،انساب الاشراف ، 1/234-261؛ابن سعد ، طبقات ، 1/209؛ ابن اثیر،تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ص505؛ یعقوبی ، تاریخ یعقوبی1/389)

اس دوران چند ایک مسلمان ایسے بھی تھے جو خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن ان کے قریبی رشتہ دار مسلمان نہیں ہوئے تھے تو وہ رشتہ داری کی بنا پر رات کے اندھیرے میں غذائی مواد اور راشن شعب ابی طالب میں پہنچانے میں کامیاب ہوئے ۔ (: ابن واضح یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ،1/389 ؛ بلاذری ، انساب الاشراف ،1/261؛ابن اثیر ،  اسد الغابہ ،؂5/439ُ )کئی مرتبہ تو حضرت علی علیہ السلام نے مشرکین کے تمام تر سخت پہروں کے باوجود راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔  (رسول جعفریان ، سیرت رسول ص 361/ شرح نہج البلاغہ ،13/256 ) ان تمام تر مشکلات کے باوجود مسلمانوں کے ایمان میں ذرا بھر تزلزل نا  آیا ۔ ان میں اتحاد اور وحدت کو مزید تقویت ملی ، رسول اکرم ﷺ کو موقع ملا کہ لوگوں کے نزدیک اور ان کے درمیان رہ کر ان کی تربیت کریں اور ان کے ایمان کو مضبوط کریں ، مومنین کی بھی رسول اکرم ﷺ سے محبت میں اضافہ ہوا اور پہلے سے زیادہ ان کی حفاظت کا بندوبست کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ  حضرت ابوطالب ؑ رات کو ان کے سونے کی جگہ تبدیل کرتے رہتے کبھی رسول اکرم ﷺ کےبستر کی جگہ تبدیل کر دیتے تو کبھی حضرت علی علیہ السلام کو ان کے بستر پر لٹا دیتے  یعنی عزت ، غیرت اور مشرکین سے مقابلےکا ولولہ جیسے مفاھیم اجاگر ہو کر مسلمانوں کے کردار میں نمایاں نظر آ رہے تھے  ۔

لیکن سب سے بڑا ہتھیار جو مسلمانوں کے پاس تھا وہ تھی استقامت ، وہ تھا صبر ، خود پیغمبر اکرم ﷺ کا صبر ، جب آپ رہبر اور راہنما ہوں اور دیکھ رہے ہوں کہ آپ کے سامنے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں ، لوگوں کے چہرے بھوک کی وجہ سے زرد پڑ گئے ہیں ، تھکاوٹ مرجھائے چہروں سے عیاں ہے تو بتائیں اس رہبر کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ؟ رہبر اور راہنما بھی ایسا جو رحمت للعالمین ہو شفقت اور مہربانی کا مجسمہ ہو ۔ صرف خداوندمتعال ہی اس دل کی کیفیت جان سکتا ہے لیکن ان سب مشکلات کے باوجود رسول اکرم ﷺ نے صبر کیا اور استقامت کی اور لوگوں کو بھی صبر اور استقامت کا درس دیتے (ابن ھشام ،سیرت محمد رسول اللہ ، ص466،ابن اثیر ،کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ص99 )(حضرت ابوطالبؑ نے بھی نا صرف خود صبر و استقامت سے کام لیا بلکہ دوسروں کو  بھی تلقین کرتے تھے ۔ (بلاذری ، انساب الاشراف ، 1/95-96، طبرسی ، اعلام الوری ،1/126، ابن ھشام زندگانی محمد پیامبر اسلام ، 1/352) مسلمانوں کی اس استقامت اور صبر کو دیکھتے ہوئے وہ نوید ملی جس نے مشرکین مکہ کو مایوس کر دیا ۔

پابندیوں بارے مسودہ دیمک چاٹ چکی تھی ، الفاظ پڑھے نہیں جا رہے تھے اور مسلمان شعب ابی طالب سے باہر آ گئے ْ۔ لیکن ایک ہی سال میں تین دن کے وقفے کے ساتھ  حضرت ابوطالبؑ اور حضرت خدیجہؑ کی وفات نے نبی اکرم ﷺ کو غمزدہ کر دیا ۔ فرمایا : یہ دونوں مصیبتیں اتنی سخت  ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہی کس کو زیادہ بڑی مصیبت کہوں ؟۔ حضرت خدیجہؑ کی وفات پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا گریہ کر رہی تھیں اور بار بار پوچھ رہیں تھیں کہ بابا میری ماں کہاں ہے ؟ جبرائیل امین نازل ہوئے اور فرمایا  : سیدہ فاطمہ سے کہہ دیجہئے کہ خداوندمتعال نے جنت میں یاقوت سے بنا گھر حضرت خدیجہؑ کےلیے تیار کروایا ہے آپ کی والدہ گرامی وہاں ہیں جہاں نا غم ہے اور نا حزن و ملال ۔ قل لفاطمۃ ان اللہ تعالی بنی لامک بیتا فی الجنۃ من قصب لا نصب فیہ و لا صخب۔ ( یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ، 2/35 ) رسول اکرم ﷺ کےلیے یہ سال بہت مصیبتوں کا سال تھا اور آپ نے اس سال کو عام الحزن قرار دیا  یا آج کی اصطلاح میں بیان کریں تو ایک دن نہیں ، تین دن نہیں بلکہ  پورا سال سوگ کا اعلان فرمایا ۔

دوسری بیعت عقبہ کے بعد مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کا گرین سگنل مل گیا لیکن مشرکین مکہ جانتے تھے کہ مدینہ میں جا کر اپنی حکومت بنا لیں گے لہذا ان کی کوشش تھی کہ یہ ہجرت نا ہونے پائے ورنہ مسقتبل قریب میں بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں ، لہذا جو بھی ہجرت کا ارادہ کرتا اس کا مال و دولت لوٹ لیتے ، جب مسلمان ہجرت کر گئے تو  ان کے پیچھے ان کی زمینوں اور دکانوں پر قبضہ کر لیا گیا باغات اپنے قبضے میں لے لیےگئے  یعنی وہ چاہتے تھے اقتصادی طور پر جتنا نقصان کر سکتے ہو ان کا کر لو ۔  یہ سب مسلمانوں کی ہمت ، استقامت اور صبر کا نتیجہ نکلا کہ تیرہ  سال مشکلات میں گزارنے کے بعد مدینہ میں  کم از کم مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے نجات مل گئی  ۔

مدینہ میں اقتصادی چیلنجز

اگرچہ  مدینہ میں پہنچنے کے بعد وہاں کے چیلنجز  اور مسائل کی کیفیت تبدیل ہو گئی  ۔ یہاں بھی مشکلات تھیں لیکن ان کی نوعیت اور تھی ، سب سے بڑا مسئلہ مھاجرین کے گھر اور روزگار کا تھا ۔ مدینہ میں کوئی منظم حکومت تو تھی نہیں الٹا سب مھاجرین خالی ہاتھ مدینہ پہنچے تھے جس کی وجہ سے بنیادی ضرورتیں پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا  ۔ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے ضروری تھا کہ رسول اکرم ﷺ ایسی پالیسی  اپناتے جس سے نا صرف مسلمانوں کی معیشت مضبوط ہوتی ساتھ آئندہ کےلیے مشرکین کی طرف سے ممکنہ پابندیوں کا مقابلہ  بھی کیا جاسکتا ۔

اسی لیے پیغمبر اکرم ﷺ نے مختلف جہتوں پر کام شروع کروایا ۔ اگر ہم صرف ان کاموں کی لسٹ بھی تیار کرنا چاہیں تو اس کےلیے بھی کئی صفحات درکار ہیں لیکن اس مختصر مقالہ میں تین چیزوں کے بارے میں ذکر کریں گے ۔ پہلی چیز کہ مھاجرین کی رہائش اور ان کے گھروں کےلیے پیغمبر اکرم ﷺ نے کونسی پالیسی اپنائی ؛ دوسرا لوگوں کو روزگار کی فراہمی کےلیے کیا اقدامات اٹھائے اور تیسرا تازہ حکومت نے تجارت کو فروغ کیسے دیا ؟

مہاجرین کی رہائش بارے پالیسیاں

سب سے بنیادی اور اہم کام جو نبی اکرم ﷺ نے انجام دیا جس نے معاشرے کی کئی مشکلات کو حل کر دیا وہ مھاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ تھا ۔ اس بھائی چارے کی فضا اور ایثار و فداکاری کے جذبے نے معاشرے کے رہن سہن کو تبدیل کر دیا ۔ جس کے ثمرات زندگی کے کئی شعبوں میں نظر آنے لگے ۔

رسول اکرم ﷺ نے سب سے پہلے بے گھر افراد کی رہائش کے بارے میں سوچا اور اس کےلیے کئی جہتوں پر کام کیا تا کہ لوگوں کو رہنے کےلیے گھر مل سکے جہاں عارضی پناہ گاہ قائم کی وہیں مستقل گھروں کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلیے بھی اقدامات اٹھائے ۔ سب سے پہلے مسجد النبی میں ایک عمومی پناہ گاہ قائم کی جسے صفہ کہا جاتا ہے اور اس میں رہنے والے اصحاب کو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ( کتانی ،نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ،  1/477) اس کے علاوہ بہت سے انصار نے اپنے مھاجرین بھائیوں کےلیے گھروں کے دروازے کھول دئیے ۔  اگر گھر کے دو کمرے تھے تو ایک کمرہ انہوں نے مھاجر بھائی  کو دے دیا ۔ اسی طرح اگر کسی کی ملکیت میں دو گھر تھے تو اس نے اپنا ایک پورا گھر اپنے بھائی کو دے دیا ۔اس ایثار و فداکاری نے رہائش کے بہت سے مسائل حل کر دئیے تھے ساتھ رسول اکرم ﷺ نے حکومت کے نام پر ملنے والی زمینوں کو بعض مھاجرین کو لیز پر دے دیا تا کہ وہ اس زمین کو کاشت بھی کریں اس پر گھر بھی بنائیں ۔ بعض انصار نے بھی اپنی زمینوں کو ھبہ کر دیا تا کہ لوگ حکومت یا مخیرین  کی مدد سے  اس پر گھر بنا سکیں ۔ ( ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ، 1/339؛ ابن اثیر ، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ،2/141؛ واقدی ، مغازی ،3/54) اب سوچنے والی بات ہے کہ کیا آج ہمارے حکمرانوں کےلیے یہ اسوہ ہے یا نہیں ؟ کیا ان اصولوں پر عمل کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

روزگار کی فراہمی

دوسرا بڑا مسئلہ جو مدینہ میں قائم نئی اسلامی حکومت کو در پیش تھا وہ لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اور افراد کےلیے روزگار فراہم کرنا تھا ۔  اس ضمن میں سب سے پہلا اور اہم کام جو رسول اکرم ﷺ نے انجام دیا وہ اقتصاد میں لوگوں کی مشارکت تھی ۔ مھاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کی وجہ سے انصار میں سے ہر کسی نے اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ مھاجر کو دے کر ایثار و فداکاری کی اعلی مثال قائم کردی ۔

دوسرا انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ جیسی ثقافت کو پورے معاشرے میں پھیلا دیا اور اس کے فضایل لوگوں کو بتلائے جس نے معاشرے میں بہت زیادہ اثر دکھایا ۔ مھاجرین کی مالی حمایت کو قانون کی شکل دیتے ہوئے زکات کا وجوب ایک اور اقدام تھا ۔ اس کے ساتھ حکومت کے بیت المال سے غربا کی مالی حمایت جس میں خمس ، زکات ، فی اور جنگی غنائم شامل تھے۔ ( واقدی،مغازی ،  1/103؛ ابن اثیر ، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ،2/141؛  صدر  ، اقتصاد اسلام ،ص141)

تجارت  اور زراعت کی تشویق

بیت المال سے مدد کے علاوہ رسول اکرم ﷺ کی کوشش تھی کہ لوگ خود آگے آئیں ، کوئی ہنر سیکھیں ، بے کار نا رہیں ، اس زمانے میں بھی تجارت  اور زراعت بہت بڑا ذریعہ تھا آمدن کا ۔ نبی اکرم ﷺ نے روزگار فراہم کرنے کےلیے تجارت کی تشویق کرتے تھے اور بے کار رہنے کی مذمت فرماتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کوشش کرتے تھے کہ کوئی بے کار نا رہے ۔  کچھ نا کچھ بنائیں ، کوئی ہنر سیکھ لیں ۔ اس کام نے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ بے کار افراد کی مذمت ہوتی تھی ۔ (مجلسی ، بحار الانوار ،100/10؛ شیخ حرعاملی ،وسایل الشیعہ ،17/66؛کلینی ، الکافی ،5/84؛مرتضی عاملی ، السوق فی ظل الدولۃ الاسلامیۃ ، ص96/صدر ،اقتصاد اسلام صفحہ 141-142) ساتھ  مھاجرین کو تشویق  کرتے تا کہ داخلی اور خارجی تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیں ۔ (کاتب واقدی ، طبقات ،3/54؛حرعاملی ، وسایل الشیعہ ،12/45،صدر ، اقتصاد اسلام ، ص 141-142)

ہر معاشرے کےلیے ضروری ہوتا ہے کہ بعضی غیر ملکی تاجر بھی معاشرے میں آ کر سرمایہ کاری کریں اور جو بنیادی چیزیں وہ لے کر آتے ہیں اور معاشرے کو اس کی ضرورت ہے یا معاشرے کی معیشت کےلیے مفید ہیں ،ان سے استفادہ کیا جا سکے اور اس ضمن میں سب سے بڑی چیز بیرونی تاجروں کا اعتماد اور  امنیت کا ہوتا ہے تا کہ بے فکر ہو کر آئیں اور انہیں یقین ہو کہ ان کا سرمایہ ڈوبے گا نہیں اس لیے ایک کام  یہ کیا کہ بیرونی  تاجروں کو امنیت فراہم کی تا کہ وہ تجارتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں ۔ (بیہقی ، دلایل النبوۃ ،9/9) ان کی مشکلات کو حل کیا  اور بنیادی سہولیات فراہم کیں ۔  ( ابن حجر ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ ،2/104؛بیھقی ، دلایل النبوۃ ،9/9) ساتھ اپنے افراد کو بھی تشویق دلاتے تا کہ وہ چیزیں باہر سے لائیں جن کی مدینہ میں مارکیٹ ہو جو مدینہ کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کر سکے ۔اگر کوئی ایسا کام کرتا اور ان چیزوں کو امپورٹ کرتا جو مدینہ کی بنیادی ضروریات میں سے شمار ہوتیں تو ایسے افراد کےلیے خصوصی پیکجز کا اعلان کیا ۔ (ابن حجر ،  الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ،1/347)

ہر معاشرے میں تاجروں کے اپنے خدشات ہوتے ہیں جنہیں دور کیے بغیر آپ داخلی سطح پر تجارت کو فروغ نہیں دے سکتے ۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی تاجروں کے خدشات کو دور کرنے کےلیے ایسے اقدامات اٹھائے جو ان کی بھلائی میں تھے ۔ مثلا  داخلی منڈی کی جگہ کا انتخاب ایک ایسی جگہ پر کیا جہاں سے قافلے شہر میں داخل ہوتے ہوئے وہاں سے گزرتے تھے ۔ جگہ بھی وسیع ہوتی تھی پھر ان منڈیوں کے قوانین بنائے اور مقابلے کی ایسی فضا قائم کی جس سے اچھی اور معیاری چیز بھی سستے داموں خریدار کو مل جاتی ۔اسی طرح داخلی منڈیوں کو ٹیکس فری کر دیا جس سے تاجر بھی خوش تھے اور وہ بھی معیاری چیزیں سستے داموں فروخت کرتے ۔ (بلاذری ، فتوح البلدان ص 24) نا صرف ٹیکس فری کیا بلکہ اگر کوئی بھی شخص منڈی میں آ کر تجارت کرنا چاہتا  تو اسے کسی تاجر کمیٹی یا انجمن کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔ اس چیز نے مقامی سطح پر لوگوں میں تجارت کے شوق اور رجحان کو کافی حد تک فروغ دیا ۔ (ابن ماجہ ،2/75؛ کتانی ، نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ،2/24و29؛ابن حجر ،الاصابۃ فی تمییز زالصحابہ 1/347) اسی طرح ایک اور اقدام جس نے تجارت کے فروغ میں اضافہ کیا وہ مضاربہ کے قانون کا اجرا تھا۔ ( واقدی،مغازی ،  ص677؛صدر،اقتصاد اسلام ، ص67)

تجارت کے علاوہ اصحاب کو زراعت کی تشویق بھی کی جاتی کہ اگر کوئی تجارت کے شعبہ میں نہیں جاتا تو زراعت کرے  ۔ اس کےلیے جو قدم اٹھایا گیا تھا حکومت کی طرف سے  وہ تھا لوگوں کو  زمین لیز پر دینا ۔ تا کہ اصحاب اس پر زراعت کریں جیسا کہ بلاذری نے لکھا ہے رسول اکرم ﷺ نے بلال بن حارث کو زمین دی  جس میں معدنیات بھی پائی جاتی تھیں ،اسی طرح اور بھی اصحاب تھے جن کے نام تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہیں اور پیامبر اکرم ﷺ نے انہیں زمینیں دیں ۔ (بلاذری ، فتوح البلدان ، ص 21و27و 31) یا اصحاب کو بنجر زمینیں دینا جسے قانون احیا موات کہا جاتا ہے رسول اکرم ﷺ نے یہ قانون پاس کیا تا کہ زراعت کی تشویق پیدا کی جا سکے  اور لوگ اپنا روزگار بھی بنا سکیں ۔   (ابن حجر ، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ، 2/224و458) احیاموات یہ ہے کہ حکومت بنجر زمینیں عوام کے حوالے کر دیتی ہے کہ اسے آباد کریں اور زراعت کریں ۔ (قانون زمین و زمینداری ، تالیف سید افتخارحسین نقوی)  اب زراعت کرنے کےلیے بھی پیسے چاہیے ہوتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے اس مشکل کو بھی حل کر دیا ، زراعت کےلیے یا حکومت مدد کرتی یا مخیرین اور صاحب استطاعت لوگ ان کی مدد کرتے تا کہ زراعت کے وسائل  کو فراہم کیا جا سکے  ۔  ( العاملی ، السوق فی ظل الدولۃ الاسلامیۃ ،4/92؛الکتانی ، نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ، 1/476؛ واقدی ،مغازی 1/327)

اسی طرح مھاجرین اور انصار کے درمیان مزارعہ اور مساقات کے معاہدے بھی انجام پائے  ۔ ( صدر ، اقتصاد اسلام ، ص65/ابن الحجر، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ، 1/221)  ان اقدامات نے کافی حد تک مسلمانوں کی اقتصادی مشکلات کو حل کر دیا تھا ۔بلاذری کی روایت کے مطابق پانی کے مسائل کو حل کرنے کےلیے کنویں کھودے جاتے جیسے وادی بطحان کی زمینوں کو سیراب کےلیے کنواں کھودا گیا یا باقی جتنے کھودے جاتے اگر اصحاب کی ملکیت ہوتے تو ان کے نام سے مشہور ہو جاتے اور فتوح البلدان میں بہت سارے کنویں اصحاب کے نام سے مشہور تھے جو ان کی ملکیت تھے ۔ ( فتوح البلدان،ص19اور23) درختوں کی کٹائی کو ممنوع قرار دیا اگر کوئی درخت کاٹتا تو دوبارہ اسی جگہ درخت لگانا بطور دیت ضروری تھا ۔

مشرکین پر مسلمانوں کا جوابی اقتصادی وار 

دشمن اس وقت تک جری ہوتا ہے جب تک اس کے مفادات کو نقصان نا پہنچے ۔ جب تک مسلمان مکہ میں تھے مشرکین کے مفادات کو خطرہ نہیں تھا اس   لیے وہ کھل کھیل رہے تھے دوسری طرف نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے بہت پہلے کیونکہ مکہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا اس لیے قریش نے مختلف قبایل سے راستوں کو پر امن بنانے کے لیے معاہدے کر رکھے تھے ۔ جزیرۃ العرب کی مختلف منڈیوں تک قریش کی رسائی تھی اور ان کے افراد تعینات تھے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کو دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر مدینہ میں حکومت قائم کرنے کا سوچا تو پورے جزیرۃ العرب میں پابندیاں لگا دیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ یہ سب دیکھ رہے تھے اور جانتے تھے کہ جب تک دشمن کے اپنے مفادات خطرے میں نہیں پڑیں گے تب تک وہ ظلم و ستم سے ہاتھ نہیں اٹھائے گا اور مشرکین مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے اذیتیں دیتے رہیں گے اسی وجہ سے رسول اکرم ﷺ نے دشمن کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کےلیے کئی ایک اقدامات اٹھائے ۔ مثلا قریش کی تجارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ان کے راستوں کی نشاندہی اور ان نکات پر متمرکز ہوئے جہاں سے قریش کے تجارتی قافلوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا تھا ۔ ساتھ مزید کسی اقتصادی نقصان سے بچنے کےلیے اپنے افراد کو مدینہ کے اطراف میں گشت کےلیے مقرر کر دیا جومشرکین کے تجارتی قافلوں کی اطلاعات  جمع کرتے اور بعض اوقات ان پر حملہ کرتے تا کہ دوبارہ اقدام کرنے سے پہلے دشمن سو بار سوچے کہ اب ان کے مفادات بھی خطرے میں پڑ سکتےہیں ۔بلکہ بعض تاریخی روایات کی بنا پر بعض  عسکری اور سویلین کو دشمن کے تجارتی راستوں کےلیے خطرہ ایجاد کرنے کےلیے بھیجا بھی گیا ۔ ( واقدی ، مغازی ، ص15-16و197ابن ھشام ،زندگانی محمد پیامبر اسلام ، ص3 ،392)

پیغمبر اکرم ﷺ نے جو عہد نامہ مدینہ کے مشرکین اور یہودیوں کے ساتھ کیا اس کی روشنی میں مدینہ کے مشرکین اور یہودیوں نے مکہ کے مشرکین کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں متوقف کر دیں ۔ ( ابن ھشام ،سیرت محمد رسول اللہ ، 2/147-150) یہ مکہ کے مشرکین کےلیے بہت بڑا دھچکا تھا ۔ ساتھ اس کے علاوہ  جن قبایل سے خطرہ تھا کہ مدینہ کے تجارتی قافلوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کے ساتھ اسٹیرٹیجک معاہدے کر لیے تا کہ تجارتی قافلوں کے راستوں کو پر امن بنایا جا سکے  ۔ (ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام،ص3و4؛ واقدی ،مغازی ،1/197) اور ان پالیسیوں کی وجہ سے دشمن کے تمام حربے ناکام ہوئے اور اس چیز نے انہیں پاگل بنا دیا تھا ۔ اس سے پہلے مزید شکست سے دوچار ہوتے بہت غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ سب مل کر مسلمانوں پر حملہ کریں ۔

مختلف احزاب کی طرف سے مسلمانوں کا عسکری اور اقتصادی محاصرہ

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ابھرتی ہوئی معیشت نے مشرکین مکہ اور جزیرۃ العرب کے دوسرے مشرک اور یہودی قبائل کی نیندیں حرام کر دی تھیں ۔ مشرکین نے مختلف قبائل سے مکاتبات اور روابط کے ذریعے انہیں مسلمانوں کے ساتھ جنگ پر آمادہ کر لیا ۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو صرف عسکری نہیں تھی بلکہ بیک وقت عسکری ، اقتصادی اور نفسیاتی جنگ تھی ۔ جس کے خطرات بہت زیادہ تھے ۔ اگرچہ اقتصادی حالت بہتر ہو رہی تھی لیکن چند ایک وجوہات کی بنا پر اقتصادی حوالے سے بھی بہت خطرناک تھی ۔ اولا مسلمانوں نے اگرچہ تجارت اور زراعت کی طرف توجہ دینا شروع کر دی تھی لیکن زیادہ تر وقت جنگوں اور غزوات میں گزر رہا تھا ۔ ساتھ مدینہ میں بارشوں کی کمی کی وجہ سے زراعت بھی خطرے سے دوچار تھی اور اب پورے مدینہ کو محاصرے میں لے لیا گیا تھا جس وجہ سے باہر سے تجارت کے راستے بھی بند تھے اس لیے ایک وقت میں تو مدینہ میں غذائی مواد کی قلت کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔

دوسرا یہ نفسیاتی جنگ بھی تھی کیونکہ بہت سے یہودی مدینہ کے اندر رہتے تھے اور خفیہ مذاکرات کے ذریعے پہلے سے ہی مشرکین اور یہودیوں کوزبان  دے چکے تھے کہ اگر مدینہ   پر حملہ کرو  گے تو اندر سے ہم بھی کھڑے ہو جائیں گے ۔ ساتھ منافقین نے بھی پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا جسے قرآن نے واضح طور پر بیان کیا ہے  اور یہ پروپیگنڈا اتنا شدید تھا کہ بہت سے ضعیف الاعتقاد مومنین بھی خوف اور دہشت میں وقت گزار رہے تھے۔سورہ احزاب کی آیات 9سے13 اور سورہ بقرہ کی آیت 214 کا ترجمہ ہے :  اے ایمان والو! اللہ کے احسان کو یاد کرو جو تم ر ہوا ۔  جب تم پر کئی لشکر چڑھ آئے پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہیں دیکھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ دیکھ رہا تھا۔جب وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف سے چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔اس موقع پر ایماندار آزمائے گئے اور سخت ہلا دیے گئے۔اور جب کہ منافق اور جن کے دلوں میں شک تھا کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو ہم سے وعدہ کیا تھا صرف دھوکا ہی تھا۔

کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تمہیں وہ (حالات) پیش نہیں آئے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور ہلا دیے گئے یہاں تک کہ رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب ہوگی! سنو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔

یعنی یہ  ایک ایسا  وقت تھا کہ مدینہ میں موجود یہودیوں کی پیمان شکنی اور منافقوں کی سازش ایک ساتھ ظاہر ہو گئی پھردوسری طرف  پورا مدینہ دشمن کے محاصرے میں ہے لہذا  ضعیف الایمان مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ غذائی قلت نے پریشانیوں میں اضافہ کر دیا تھا (ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ، ص171-172؛ مجلسی ، بحار الانوار ،4/50؛16/ 225؛ واقدی ، مغازی ، ص357-359 و369-370)

لہذا قرآن کہتا ہے :  جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔ حتی منافقین نے تو علی الاعلان کہنا شروع کر دیا تھا کہ خدا کی طرف سے کوئی مدد نام کی چیز نہیں آنے والی ۔کلمہ پڑھنے والے تم دھوکے میں مارے گئے ہو نعوذباللہ وغیرہ وغیرہ

اب جہاں عسکری مقابلہ کرنا  تھا وہاں نفسیاتی طور پر مسلمانوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری تھا ۔ عسکری مقابلہ کےلیے تو نبی اکرم ﷺ نے جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے سب سے پہلے 24گھنٹے دشمن پر نظر رکھنا تھا ان کی کوئی حرکت مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں تھی کہ اگر کہیں سے خندق پار کرتے ہیں یا پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جوابی وار کےلیے مسلمان آمادہ باش تھے ۔ ساتھ اگر کہیں سے کامیاب ہو جاتے ہیں خندق پار کرنے میں تو بھی ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے یہ سب مشخص تھا ۔پھر یہ سب کام اصحاب کے مشورہ سے ہو رہے تھے ۔ جو مشکلات پیش آ رہی تھیں ان کا حل مدینہ کے اندر رہ کر نکالا جا رہا تھا ۔

دوسرا نفسیاتی دباو کو کم کرنا تھا جو سب سے مشکل کام تھا ۔ منافقین مسلمانوں کے ساتھ تھے وہ عقیدے کو مسلسل کمزور کر رہے تھے نبی اکرم ﷺ افراد کی تشویق کرتے اور ان میں انقلابی روح پھونکنے کےلیے خود کام بھی کرتے جیسے خندق کھودنا ۔

مسلمان انقلابی اشعار پڑھتے اور یا آج کی زبان میں قومی ترانے پڑھتے تا کہ مسلمانوں کے اندر جھاد کا جذبہ ابھارا جائے ۔ سب سے بڑھ کر نبی اکرم ﷺ ان کو غیب سے مدد الھی کا وعدہ دیتے اور دعا کرتے ۔لیکن یہ سب کافی نہیں تھا دوسری طرف ضروری تھا جہاں سے یہ اختلاف پیدا ہو رہے تھے ان راستوں کو بھی بند کیا جاتا ۔ اس لیے منافقین کی مذمت ، اگر کوئی تفرقہ کی بات کرتا یا ایسے اشعار پڑھتا جس سے تفرقہ کی بو آتی ہو ، سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ۔ اسی طرح  باہر کے دشمن کو کمزور کرنا بھی ضروری تھا  اس کےلیے اہم تھا کہ دشمن کی فوج کی وحدت اور ایکتا کو نقصان پہنچایا جائے  ۔ اس ضمن میں بھی اقدامات اٹھائے گئے  ۔ ( ابن ہشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ، ص 169-1709) ساتھ دشمن کی صفوں میں شک و تردید ڈالنے کےلیے مختلف تبلیغی راستوں کا انتخاب کیا گیا جس نے دشمن کی صفوں میں مایوسی پھیلا دی حتی بعض کو دینار و درھم کا لالچ دے کر خریدا گیا تا کہ یا تو واپس چلے جائیں یا کم از کم ان کی مسلمانوں سے دشمنی میں کمی آ سکے ۔ ( واقدی ، مغازی ، جنگ ھای پیامبر گرامی ، ص 359؛حر عاملی ، وسایل الشیعہ ، 11/102)

یقینا خداوندمتعال کی مدد و نصرت سے دشمن مایوس ہوئے اور بڑے بڑے خطرات ٹلے لیکن اس کےلیے نبی اکرم ﷺ کی رہبری و راہنمائی اور دن رات کی انتھک محنت بھی تھی اور خداوندمتعال بھی مدد وہاں کرتا ہے جہاں خود انسان بھی عقل و بصیرت سے فیصلے کریں اور استقامت اور صبر کو اپناتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کریں ۔

اس کے ساتھ جہاں اندر سےمسلمانوں میں وحدت اور اتحاد کی فضا بہت ضروری تھی وہاں ان عناصر کو بے نقاب کرنا اور ان کی سازشوں سے پردہ اٹھانا ضروری تھے جو منافق تھے اور چاہتے تھے مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کر سکیں اور مسلمانوں کے ان کے اعتقاد میں تزلزل کا شکار کر سکیں ۔ اس لیے رسول اکرم ص  ایسے اشعار پڑھنے کی ممانعت کرتے جس سے کسی قسم کے تفرقہ کی بو آتی ۔ تا کہ مذہبی اور قبایلی تفرقہ ڈالنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اسی طرح منافقین کے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا بھی ایک قسم کا چیلنج تھا ۔جہاں اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے حکمت عملی ضروری تھی ساتھ خداوندمتعال سے نصرت کی دعا بھی ضروری تھی اس لیے رسول اکرم ص خداوندمتعال سے مدد کی دعا اور درخواست کرتے۔ ساتھ دشمنوں کی صفوں میں اختلاف ایجاد کرنے کےلیے اقدامات بھی اٹھاے  تا کہ دشمن کی ایکتا کو نقصان پہنچایں اور اس کو توڑ سکیں ۔ ( واقدی ، مغازی ، ص447؛ بیھقی ، دلایل النبوۃ ، 399؛ ابن سعد ، طبقات ، ص72؛ طبرسی ، اعلام الوری ، ص134-135)

 

منابع اور مصادر

1: القرآن الکریم

2:ابن اثیر ، عزالدین بن اثیر ، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ترجمہ ابوالقاسم حالت و عباس خلیلی ،تہران ، موسسہ مطبوعاتی علمی ، 1371

3:ابن حجر ، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ،قاھرہ ، سعادہ ، 1328ق

4:ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ،ترجمہ سید ھاشم رسولی ،تہران ، کتابچی ، 1375

5:ابن ہشام ، عبدالملک ،سیرت محمد رسول اللہ ، ترجمہ مسعود انصاری ، تہران ، انتشارات مولی ،1392

6:ابن واضح یعقوبی ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی ، ترجمہ محمد ابراھیم آیتی ، تہران ، انتشارات علمی و فرھنگی ، 1371

7:بلاذری ، احمد بن یحیی ، فتوح البلدان ، ترجمہ محمد توکل ، تہران ، ناشر نقرہ ، 1337

8: ---------- انساب الاشراف ، تحقیق و ترجمہ ، ریاض زرکفی و سھیل زکار ، بیروت ، دارالفکر 1417ق

9:بیھقی ، ابوبکر احمد بن حسین ، دلا ئل النبوۃ ، ترجمہ محمود مھدوی  دامغانی ، تہران ، انتشارات علمی و فرھنگی ، 1391

10: جعفر مرتضی العاملی ، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم ، قم ، دارالحدیث ، 1429ق

11: جعفریان ، رسول ، سیرۃ رسول خدا ، قم ، دلیل ما ، 1383

12:زرگری نژاد ، غلام حسین ، تاریخ صدر اسلام ، تہران ، سمت ، 1384

13:صدر ، سید کاظم ، اقتصاد اسلام ، تہران ، انتشارات دانشگاہ شہید بہشتی ، 1374

14؛ طباطبایی ، سید محمد حسین ، المیزان فی تفسیر القرآن ، ترجمہ سید محمد باقر موسوی ، ھمدانی ، قم ، دفتر انتشارات اسلامی ، 1374

15: طبرسی  ، فضل بن حسن ، اعلام الوری ، زندگانی چہاردہ معصوم ، ترجمہ عزیزاللہ عطاردی ، تہران ، اسلامیہ ، 1390

16: علامہ مجلسی ، بحارالانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطھار ، تہران ، اسلامیہ ، 1363

17؛کاتب واقدی ، محمد بن سعد ، طبقات ، ترجمہ محمود مھدوی دامغانی ، تہران ، انتشارات فرھنگ و اندیشہ ، 1374

18: کتانی ، عبدالحی ،نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ، ترجمہ علی رضا ذکاوتی، قراگز نو ،قم ، سمت ، 1384

19: کتانی ، عبدالحی ، نظام الحکومت االنبویۃ ، بیروت ، دارالارقم ابی الارقم

2:مرتضی عاملی ، سید جعفر ، سیرت جاودانہ ، ترجمہ محمد سپھری ، تہران ، فرھنگ و اندیشہ اسلامی ، 1384

21:واقدی ، محمد بن عمر ، مغازی ، تاریخ جنگ ھای پیامبر ، ترجمہ محمود مھدوی دامغانی ، تہران ، مرکز نشر دانشگاھی ، 1369

22: یوسفی غروی ، محمد ھادی ، تاریخ تحقیقی اسلام، ترجمہ حسین علی غربی ، قم،  موسسہ

ڈاکٹر تصور عباس خان

المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی، ایران

 

مشہورات بے اعتبار

ان تاریخی واقعات ، مشہور روایات اور انحرافی اعتقادات کا بیان   کہ جن کا حقیقت سےکوئی تعلق نہیں ہے

حصہ اول

محمد عمار رضا

مقدمہ

سنت معصومین علیہم السلام ،قرآن مجید کے بعد مہم ترین منبع شناخت دین ہے،اور وسعت کے اعتبار سے استنباط دین کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ یہ عظیم ورثہ ہمیں کتب حدیثی و روائی اور واقعات تاریخی کی صورت میں ملا ہے۔ یہ مکتب تشیع کے علماء و بزرگان کی بھرپور محنتوں اور انتھک کوششوں اور قربانیوں کا ثمرہ ہے کہ سنت معصومین علیہم السلام کا یہ عظیم ورثہ محفوظ ہوا اور نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔مکتب تشیع کے ان عظیم ستارگان میں شیخ کلینی،شیخ صدوق،شیخ طوسی،علامہ مجلسی ،ملا محسن کاشانی،شیخ حر عاملی و امثالہم سب سے زیادہ درخشان نظر آتے ہیں ۔

 اس بنا پر کہ دورہ حضور معصومین علیہم السلام کہ بعد سنت تک دسترسی فقط متون خطی (حدیث )کے زریعے ممکن ہے جو کہ تاریخ کا راستہ طے کرتے ہوئے ہم تک پہنچی ہے،تو باقی متون خطی اور واقعات تاریخی کی مانند حدیث بھی مختلف عمدی و سہوی تحریفات اور تصحیفات سے دوچار ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے سنت معصومین علیہم السلام سے استفادہ اور استناد کے لیے علما اور ماہرین حدیث نے مختلف معیار اور علمی و تحقیقی روشیں بیان کی ہیں کہ جن کے زریعے ہم ان متون تاریخی اور روائی میں معتبر اور غیر معتبر کے درمیان فرق کر سکتے ہیں،اور اطمینان کے ساتھ اس عظیم الشان علمی ذخیرے سے معارف دینی کو اخذ کر سکتے ہیں۔

جو  افراد  بھی کسی حد تک مکتب تشیع کے اصول و منابع سے آگاہ ہیں،وہ جانتے ہیں کہ  علما و  محدثین  میں سے کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ جو کچھ بھی معصومین علیہم السلام سے ہم تک  نقل ہوا ہے ،وہ صد در صد قطعی الصدور ہے اور اس میں راویان کی عمدی یا سہوی   غلطی کا کوئی امکان نہیں ہے، اسی احتمال کو مد نظر رکھتے ہوے  علماء اور متخصصین علوم حدیث نے چند اصول و ضوابط  اور قوانین کو مقرر کیا  اورفقط     ان روایات کو قبول کیا کہ جو ان اصول و ضوابط پر پوری اتریں ۔اور اس دقت کے باوجود  بھی یہ ادعا نہیں کیا کہ ہم نے جو کچھ اپنی کتب میں نقل کیا  وہ قطعاً اور  حتمی  طور پرصحیح ہے بلکہ ان روایات کی چھان بین اور اعتبار سنجی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا  تاکہ آیندہ آنے والے محققین اور دانشمندان ان معیارات اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے معتبر اور غیر معتبر کا فیصلہ کر سکیں۔علم رجال،علم درایہ،علم جرح و تعدیل ،علم فقہ الحدیث،علم تعادل و تراجیح وغیرہ وہ علوم ہیں کہ جن کو وضع کرنے کا اصل ہدف و مقصد ہی یہی تھا کہ تا حتی الامکان اس عظیم علمی ذخیرے سے صحیح اور کما حقہ استفادہ کیا جا سکے۔

علماءدین اور خصوصا ماہرین علوم حدیث کی ایک بہت اہم ذمہ داری ،منابع اور متون حدیثی  میں منقول  ان روایات اور تاریخی واقعات کو تشخیص دینا اور ان کو بیان کرنا ہے کہ جو کسی نہ کسی وجہ سے غیر معتبر ہیں اور جن کو کسی بھی صورت میں اعتقادی یا عملی طور پر دلیل نہیں بنایا جا سکتا مثلا ایسی روایات و      واقعات  کہ اصلا جن کا قدیم اور معتبر کتابوں میں وجود ہی نہیں ہے اور چند صدیوں کے گزرنے کے بعد جدید کتب میں ان کو بیان کیا گیا،یا ایسی روایات کہ جن کے سلسلہ راویان میں غیر عادل اور کاذب افراد موجود ہوں،یا ایسی روایات جو صریحا قرآن اور عقل سلیم کی مخالف ہوں،یا ایسی روایات کہ جن کا متن غلو،تفویض،انحرفات فکری و اعتقادی اور مخالف قطعیات دین و مذہب پر مشتمل ہوں۔تاکہ اس طرح کی جعلی روایات کی وجہ سے مذہب حقہ کے ماننے والوں میں جو فکری ،اعتقادی اور فقہی انحرافات پھیلائے جا رہے ہیں ،ان کا سدباب کیا جا سکے۔اس کے علاوہ انھی مجعول یا ضعیف روایات کو بنیاد بنا کر عمدا یا سہوا ،تمام مجموعہ احادیث کو بے اعتبار بنانے کی جو سازش آج ہمارے معاشرے اور مذہبی حلقوں میں کی جارہی ہے ،اس تناظر میں نقد  و اعتبار سنجی حدیث کی ضرورت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔اور اگر آج معتبر روایات کو غیر معتبر سے جدا نہ کیا گیا تو جامعہ اسلامی ،علم و معارف کے اس عظیم گنجینے سے محروم ہو سکتا ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج بظاھر دین دار  حلقے بھی اسی مغالطے کا شکار ہو چکے ہیں۔اور  چند ضعیف اور مجعول روایات کی موجودگی کےبہانے سے اور کچھ پروپیگنڈوں کا شکار ہو کر  حسبنا کتاب اللہ کے منسوخ شدہ نعرے کو دوبارہ اپنا شعار بنا رہے ہیں،اورامت مسلمہ  کو معارف اسلامی کے اس عظیم  سرچشمہ سے دانستہ طور پر دور کیا جا رہا ہے۔

تو ان دلائل کی بنا پر تحلیل وتحقیق اور نقد حدیث کی اہمیت واضح و روشن ہو جاتی ہے تاکہ مذھب حقہ جعفریہ کے خالص چہرے کو ،خرافانہ اعتقادات،بے سند مطالب اور بدعات کی گرد و خاک سے پاک و پاکیزہ کیا جا سکے۔علمائے شیعہ نے ابتدا ہی سے اپنی کتب میں موجود احادیث جعلی کی طرف اشارہ کیا ہے اور ان روایات اور واقعات پر تنقید کی ہے اگرچہ اس موضوع پر متقدمین سے کوئی مستقل کتاب کہ جس میں الگ سے روایات موضوعہ و مجعولہ کا تذکرہ ہو ،نقل نہیں ہوئی۔لیکن بحمداللہ دور معاصر میں اس موضوع پر کافی تالیفات اور تحقیقات منظر عام پر آئیں ہیں ،مثلا الاخبارالدخیلہ،الموضوعات فی الآثار و الاخبار،حدیث ہای خیالی، الحدیث النبوی بین الروایہ و الدرایہ،مشرعہ بحارالانوار،وضع ونقدحدیث،احادیث ساختگی،روایات ساختگی وغیرہ ،لیکن یہ کتابیں اور تحقیقات یا تو عربی میں ہیں یا فارسی میں،اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں اور خصوصا نسل جدید میں یہ دونوں زبانیں تقریبا متروک ہیں تو اس بات کی شدت سے ضرورت تھی کہ اردو میں بھی اس موضوع پر کام ہونا چاھیے ،اگرچہ ابتدائی طور پر مختصر ہی کیوں نہ ہو تاکہ ملت تشیع پاکستان اور دیگر اردو بولنے اور سمجھنے والوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ   ان جعلی مگر مشہور روایات و واقعات اور افسانوں   کی بنیادوں     پر دین و مذہب اور اعتقادات کا کھوکھلا مکان کھڑا کرنے   کا کیا نقصان ہواہے؟ جن روایات کی بنا پر غلو اور تفویض اور شیخیت کے زہر کو مومنین کی رگوں میں اتارا گیا ،ان کی کیا حقیقت ہے؟ ثانیاً جن مشہور واقعات اور افسانوں کو ہمارے منبروں سے بے دھڑک بیان کیا جاتا ہے ،اور جن کو کوئی بھی عاقل انسان قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور جن کی وجہ سے اغیار ہمارا  مذاق اڑاتے ہیں اور طنز کرتے ہیں،ان کی کیا حقیقت ہے؟ تو ان  تمام نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے مجلہ علمی البلاغ المبین میں قسط وار ایک سلسلہ کا آغاز کیا جا رہا ھے کہ جس میں پہلے تو قبول روایات و واقعات  کے معیارات کو آسان فہم انداز میں بیان کیا جائے گا اور پھر سلسلہ وار ، مشہور مگر جعلی روایات اور واقعات کو بیان کیا جائے گا اور  مذکورہ معیارات اور قواعدو ضوابط کی روشنی میں ان پر ہونے والے اعتراضات اور نقد کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔و من اللہ التوفیق۔

ضروری  نکتہ

ایک ضروری نکتہ کہ جس کا یہاں ذکر کرنا  فائدہ سے خالی نہیں ہے وہ یہ ہے کہ جب کہا جائے کہ فلاں روایت یا حدیث جعلی یا ضعیف ہے  یا فلاں روایت میں خلاف قرآن و عقل بات کی گئی ہے تو یہاں ہرگز سنت معصوم ؑ  مراد نہیں ہوتی،اور نہ ہی سنت کی اہمیت اور حجیت پر کسی قسم کا کوئی فرق آتا ہے۔سنت کی حجیت عقلا و شرعا ثابت شدہ ہے۔اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاھیے کہ سنت سے مراد اصل قول و فعل و تقریر معصوم ؑہے جبکہ حدیث اور روایت سے مراد راوی کہ وہ الفاظ ہیں کہ جن کہ ساتھ اس نے معصوم کے کسی فرمان یا فعل کو نقل کیا ہے۔اگر راوی کے الفاظ بعینہ سنت معصوم ؑ کو بیان کر دیں اور قرائن سے یہ بات ثابت ہو جائے تو اس حدیث کو حجیت حاصل ہو جائے گی۔اوروہ  حدیث مساوی با سنت ہو جائے گی،اور اگر کہا جائے کہ فلاں روایت یا حدیث ضعیف ہے   تو اس سے مراد یہ ہے کہ راوی نے جن الفاظ کے زریعے سنت کو نقل کیا ہے  اس میں یا تو کوئی تحریف کی گئی ھے یا خود روایت نقل کرنے والا  معیار پر پورا نہیں اترتا    یا پھر معصوم ؑنے ایسی کوئی  بات یا کام کیا ہی نہیں اور نقل کرنے والے نے ان کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے۔

مراحل و معیار قبول روایات

روایات کی مختلف اقسام میں سے روایات متواترہ   ہی ایسی روایات ہیں کہ جن کو بلا چون وچرا قبول کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی حجیت ذاتی ہے مانند قرآن اور ان میں کسی قسم کی رجالی اور سندی تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔مثلا حدیث ثقلین، حدیث غدیر، یا یومیہ نمازوں یا رکعتوں کی تعداد کے بارے روایات وغیرہ لیکن ان روایات کی تعداد انتہائی قلیل بلکہ انگشت شمار  ہیں۔ ان کے مقابلے میں اکثریت روایات ،اخبار واحدہ ہیں یعنی جو درجہ تواتر تک نہیں   پہنچتیں۔اور تمام علمائے علم حدیث کے مطابق ان کی حجیت ذاتی نہیں ہے بلکہ ان کو معتبر ثابت کرنے کے لیے ہمیں چند قرائن کی ضرورت ہو گی بالفاظ دیگر  جب بھی ہمارے سامنے کوئی روایت (متواترات کے علاوہ) آئے تو اس کو قبول کرنے کے لیے ہمیں اس روایت کی تین طرح سےا ٓزمایش یا  examination  کرنا ہوں گی،اولا تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ جو کلام ہمارے سامنے موجود ہے آیا وہ معصوم ؑکی زبان اطہر سے صادر ہوا ہے یا نہیں؟اس کے جواب کے لیے ہمیں علم رجال،علم درایہِ،علم جرح و تعدیل ،نسخہ شناسی ،تاریخ حدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔اگر وہ کلام اس آزمائش سے پاس ہو جائے تو اس کلام کو حدیث معصومؑ کہا جائے گا۔پھر اگلے امتحان کی نوبت آئے گی اور وہ یہ ہے کہ  اس حدیث کے سبب صدور کو دیکھا جائے گا کہ معصوم ؑ نے یہ فرمان کس پس منظر میں کہا ہے؟آیا یہ فرمان سب کو شامل تھا یا فقط خاص افراد کو؟کیا معصوم نے وہ کلام برضا ء و رغبت کیا تھا یا  بمقام تقیہ؟آیا وہ کلام فقط کسی خاص زمانے تک محدود تھا یا تمام زمانوں کے لیے اور اس طرح کے دیگر سوالات۔ان تمام سوالات کے جواب دینے کے بعدا ٓخری مرحلہ آئے گا اور وہ  معنا اور مفہوم اصلی کلام معصومؑ کو  سمجھنے کا مرحلہ ہو گا کہ جس میں ہم دیکھیں گے کہ ہم نے جو ظاھری طور پر کلام معصوم کا جو معنا سمجھا ہے ،کیا معصومؑ کی مراد بھی وہی ہے یا نہیں؟۔اس آزمایش کے لیے علم فقہ الحدیث کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ کلام معصومؑ سے صادر ہوا ہے اور اس کا حقیقی معنا اور مراد یہ ہے۔لیکن جو روایت یا حدیث ان آزمایشوں میں ناکام ہو جائے ،وہ چاھے کتنی ہی مشہور کیوں نہ ہو ،ان کو مشہورات بے اعتبار ہی کہا جائے گا کہ جن کا مفصل تذکرہ انشاءاللہ اگلی قسط سے شروع کریں گے۔ (جاری ہے)

 

محمد عمار رضا

ایم فل علوم حدیث،ایم اے عربی

جامعہ المصطفی العالمیہ قم ،ایران