ڈاکٹر تصور عباس خان
اشاریہ
مشرکین مکہ جانتے تھے کہ رسول اکرم ﷺ کا الہی پیغام بہت جلد جزیرۃ العرب کے طول و عرض میں پھیل جائے گا اسی وجہ سے انہوں نے پہلے دن سے ہی مختلف ہتھکنڈے اپنانا شروع کر دئیے جیسے مسلمانوں کو روحانی اور جسمانی اذیتیں پہنچانا ؛ مختلف قسم کی تہمتیں لگانا ، بے احترامی کرنا ، جھوٹے پروپیگنڈے کرنا وغیرہ لیکن بالآخر جب اسلام کے آفاقی پیغام کو پھیلنے سے نا روک سکے تو اقتصادی اور معاشی نقصان پہنچانا ان کا آخری حربہ ٹھہرا ، مکہ میں تین سال کا اقتصادی اور اجتماعی بائیکاٹ ؛اسی طرح مدینہ میں ہجرت کے بعدبھی مسلمانوں کے خلاف مختلف اقتصادی حربے استعمال کرتے رہے اور مسلمانوں پر جنگوں کو بھی مسلط کیا لیکن ان سب کے باوجود مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے محض دس سالوں میں نا صرف جزیرۃ العرب بلکہ دور دراز کی ایمپائرز جیسے روم و فارس وغیرہ تک اسلام کا پیغام پہنچ چکا تھا ۔ تو اس مقالہ کے بنیادی سوالات یہی ہیں کہ مکہ میں اقتصادی اور معاشرتی پابندیوں اور مکہ سے ہجرت کے وقت مسلمانوں کے اموال کی غارت اور اسی طرح ، پورے جزیرۃ العرب میں مشرکین کی طرف سے ریاست مدینہ کی برآمدات اور درآمدات کو نشانہ بنانے کے باجود اسلامی حکومت کی معیشت نے کیسے استحکام حاصل کیا ؟ رسول اکرم ﷺ نے کونسی پالیسی اختیار کی جس کی وجہ سے ریاست مدینہ کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکی ؟ مہاجرین اور بے گھر افراد کےلیے کیا صرف صفہ نام کی پناہ گاہ ہی تھی یا اس کے علاوہ بھی اپنا گھر اسکیم جیسی کوئی اسکیم تھی ؟ اور نبی اکرم ﷺ نے اس ضمن میں کیا اقدامات کیے ؟ بے روزگار افراد کو روزگار فراہمی کےلیے نبی اکرم ص نے کونسے اقدامات کیے ؟ مکہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اور قریش مکہ نے جزیرۃ العرب کے قبایل سے معاہدے کر رکھے تھے جس کی بنا پر مسلمانوں کو دھمکی دے چکے تھے کہ اگر مدینہ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا سوچا تو پورے جزیرۃ العرب میں پابندیاں لگا دیں گے اور پھر یہ صرف دھمکی نہیں تھی بلکہ عملدرآمد بھی کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے مقابلہ کرنے کےلیے اور جزیرۃ العرب کی منڈیوں تک رسائی کےلیے کیا پالیسی اپنائی ؟کیا نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھتے ہوئے آج اس مہنگائی اور بیروزگاری کے زمانے میں کوئی قابل عمل پالیسی بنائی جا سکتی ہے ؟ سب سے پہلے ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ عالم اسباب ہے چاہے انبیا کا زمانہ یا امام کا ، معجزہ بہت کم رونما ہوتا ہے ۔ انبیا لوگوں کی ہدایت کےلیے آئے تھے اور قرآن مجید کے مطابق تو رسول اکرم ﷺ اسوہ حسنہ ہیں ان کی بنائی گئی پالیسیسوں سے آج بھی اسی طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے جس طرح پہلے کیا جا سکتا تھا ۔ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے خصوصا اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کے حل کےلیے کئی ایک بنیادی اقدامات اٹھائے جن میں مھاجرین کو گھروں اوربنیادی ضروریات کی فراہمی ، مختلف طریقوں سے روزگار کی فراہمی ، تجارت اور زراعت کی تشویق اوردشمن کے مفادات کو جوابی وار میں خطرے میں ڈالنے جیسی پالیسیوں کا انتخاب کیا ۔ جن کی تفصیل انشاء اللہ اسی مقالہ میں بیان کی جائے گی ۔
مکہ میں مسلمانوں کا اقتصادی اور معاشرتی بائیکاٹ
مکہ کے مشرکین نے بھانپ لیا تھا کہ رسول اکرم ﷺ کا الہی پیغام بہت جلد جزیرۃ العرب کے طول و عرض میں پھیل جائے گا اسی لیے اس الہی پیغام کو دبانے کےلیے سب سے پہلے کوشش کی کہ رسول اکرم ﷺ کو شہید کر دیا جائے ۔ انہوں نے کوشش بھی کی لیکن حضرت ابوطالبؑ ان کے مقاصد کے حصول میں ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے جن کی فداکاری کی بدولت مشرکین مکہ کو مایوس ہونا پڑا ۔مشرکین نے اعلان کر دیا کہ جب تک حضرت محمد ﷺ کو ہمارے حوالے نہیں کیا جاتا ،اس وقت تک مسلمانوں کےساتھ اقتصادی اور معاشرتی بائیکاٹ رہے گا ۔ کتبت الصحیفۃ القاطعۃ الظالمۃ الا یبایعوا احدا من بنی ھاشم و لا یناکحوھم و لا یعاملوھم حتی یدفعوا الیھم محمدا فیقتلوہ (یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ، ج2، ص31) یعنی مسلمانوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں ممنوع قرار پائیں ، رسول اکرم ص اور آپ کے عزیز و رشتہ داروں کے ساتھ ہر قسم کی خرید و فروخت؛شادی بیاہ اور کسی قسم کا رابطہ رکھنا جرم قرار پایا یہاں تک بنی ہاشم نبی اکرم ﷺ کو مشرکین کے حوالے نا کر دیں اور وہ انہیں شہید نا کر دیں ۔ یہ ایسا معاہدہ نہیں تھا کہ لکھ دیا اور بس ، بلکہ مشرکین مکہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کےلیے باقاعدہ نظارت کرتے تھے ، ان کا ھم و غم یہی تھا کہ مکہ کےتمام لوگ اس معاہدے کی پاسداری کریں اور مشرکین مکہ نے دن رات ایک کر دیا تا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی نا ہو ، ان سخت حالات کی وجہ سے پیغمبر اکرم ﷺ اور آپ کے قرابت دار اور رشتہ دار نے بعض مصلحتوں کی بنا پر شعب ابی طالب میں جانا مناسب سمجھا ۔ (زرگری نژاد ، تاریخ صدر اسلام، ص 279-028)
ان حالات کو دیکھتے ہوئے نبی اکرم ﷺ اور ابوطالب ؑ نے مسلمانوں کے ساتھ ایک وادی میں جا کر سکونت اختیار کی جسے شعب ابی طالب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ یہ تین سال کا بائیکاٹ تھا اور مکہ میں مسلمانوں کے گزارے گئے یہ تین سال پیغمبر اکرم ﷺ اور مسلمانوں کےلیے بہت زیادہ سخت تھے ۔ مشرکین سوچ رہے تھے مسلمان ہار مان لیں گے اور اپنے عقیدے سے ہاتھ اٹھا لیں گے لیکن ان پابندیوں نے مسلمانوں کے عزم و حوصلے اور بلند کر دئیے اور ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا گیا ۔
اس دوران جتنا عرصہ رسول اکرم ﷺ؛ حضرت ابوطالبؑ اور حضرت خدیجہ ؑکا مال و دولت چلا ، مسلمانوں نے گزارا کیا جیسا کہ یعقوبی کے الفاظ ہیں: فاقام و معہ جمیع بنی ھاشم و بنی المطلب فی الشعب ثلاث سنین حتی انفق رسول اللہ مالہ ، و انفق ابوطالب مالہ ، و انفقت خدیجہ بنت خویلد مالھا ، و صاروا الی حد الضر الفاقۃ ۔ (: یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ، ج2، ص31) لیکن جیسے ہی یہ سب ختم ہوا ، مسلمانوں کے حالات خراب ہو گئے ، بھوک نے پوری وادی میں ڈیرے جما لیے، یہاں تک کہ ناچار درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئے ۔بچے بھوک سے روتے تھے تو مشرکین مکہ ان کی آوازوں کو سنتے اور اپنی خام خیالی میں سوچتے تھے کہ بہت جلد مسلمان ہار مان لیں گے ۔ ابن اثیر کی روایت کو مان لیا جائے تو بعض بچے بھوک کی وجہ سے فوت بھی ہو گئے تھے ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مسلمانوں کی حالت کیا رہی ہو گی ؟۔ ( بلاذری ،انساب الاشراف ، 1/234-261؛ابن سعد ، طبقات ، 1/209؛ ابن اثیر،تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ص505؛ یعقوبی ، تاریخ یعقوبی1/389)
اس دوران چند ایک مسلمان ایسے بھی تھے جو خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن ان کے قریبی رشتہ دار مسلمان نہیں ہوئے تھے تو وہ رشتہ داری کی بنا پر رات کے اندھیرے میں غذائی مواد اور راشن شعب ابی طالب میں پہنچانے میں کامیاب ہوئے ۔ (: ابن واضح یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ،1/389 ؛ بلاذری ، انساب الاشراف ،1/261؛ابن اثیر ، اسد الغابہ ،5/439ُ )کئی مرتبہ تو حضرت علی علیہ السلام نے مشرکین کے تمام تر سخت پہروں کے باوجود راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔ (رسول جعفریان ، سیرت رسول ص 361/ شرح نہج البلاغہ ،13/256 ) ان تمام تر مشکلات کے باوجود مسلمانوں کے ایمان میں ذرا بھر تزلزل نا آیا ۔ ان میں اتحاد اور وحدت کو مزید تقویت ملی ، رسول اکرم ﷺ کو موقع ملا کہ لوگوں کے نزدیک اور ان کے درمیان رہ کر ان کی تربیت کریں اور ان کے ایمان کو مضبوط کریں ، مومنین کی بھی رسول اکرم ﷺ سے محبت میں اضافہ ہوا اور پہلے سے زیادہ ان کی حفاظت کا بندوبست کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ حضرت ابوطالب ؑ رات کو ان کے سونے کی جگہ تبدیل کرتے رہتے کبھی رسول اکرم ﷺ کےبستر کی جگہ تبدیل کر دیتے تو کبھی حضرت علی علیہ السلام کو ان کے بستر پر لٹا دیتے یعنی عزت ، غیرت اور مشرکین سے مقابلےکا ولولہ جیسے مفاھیم اجاگر ہو کر مسلمانوں کے کردار میں نمایاں نظر آ رہے تھے ۔
لیکن سب سے بڑا ہتھیار جو مسلمانوں کے پاس تھا وہ تھی استقامت ، وہ تھا صبر ، خود پیغمبر اکرم ﷺ کا صبر ، جب آپ رہبر اور راہنما ہوں اور دیکھ رہے ہوں کہ آپ کے سامنے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں ، لوگوں کے چہرے بھوک کی وجہ سے زرد پڑ گئے ہیں ، تھکاوٹ مرجھائے چہروں سے عیاں ہے تو بتائیں اس رہبر کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ؟ رہبر اور راہنما بھی ایسا جو رحمت للعالمین ہو شفقت اور مہربانی کا مجسمہ ہو ۔ صرف خداوندمتعال ہی اس دل کی کیفیت جان سکتا ہے لیکن ان سب مشکلات کے باوجود رسول اکرم ﷺ نے صبر کیا اور استقامت کی اور لوگوں کو بھی صبر اور استقامت کا درس دیتے (ابن ھشام ،سیرت محمد رسول اللہ ، ص466،ابن اثیر ،کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ص99 )(حضرت ابوطالبؑ نے بھی نا صرف خود صبر و استقامت سے کام لیا بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کرتے تھے ۔ (بلاذری ، انساب الاشراف ، 1/95-96، طبرسی ، اعلام الوری ،1/126، ابن ھشام زندگانی محمد پیامبر اسلام ، 1/352) مسلمانوں کی اس استقامت اور صبر کو دیکھتے ہوئے وہ نوید ملی جس نے مشرکین مکہ کو مایوس کر دیا ۔
پابندیوں بارے مسودہ دیمک چاٹ چکی تھی ، الفاظ پڑھے نہیں جا رہے تھے اور مسلمان شعب ابی طالب سے باہر آ گئے ْ۔ لیکن ایک ہی سال میں تین دن کے وقفے کے ساتھ حضرت ابوطالبؑ اور حضرت خدیجہؑ کی وفات نے نبی اکرم ﷺ کو غمزدہ کر دیا ۔ فرمایا : یہ دونوں مصیبتیں اتنی سخت ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہی کس کو زیادہ بڑی مصیبت کہوں ؟۔ حضرت خدیجہؑ کی وفات پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا گریہ کر رہی تھیں اور بار بار پوچھ رہیں تھیں کہ بابا میری ماں کہاں ہے ؟ جبرائیل امین نازل ہوئے اور فرمایا : سیدہ فاطمہ سے کہہ دیجہئے کہ خداوندمتعال نے جنت میں یاقوت سے بنا گھر حضرت خدیجہؑ کےلیے تیار کروایا ہے آپ کی والدہ گرامی وہاں ہیں جہاں نا غم ہے اور نا حزن و ملال ۔ قل لفاطمۃ ان اللہ تعالی بنی لامک بیتا فی الجنۃ من قصب لا نصب فیہ و لا صخب۔ ( یعقوبی ، تاریخ یعقوبی ، 2/35 ) رسول اکرم ﷺ کےلیے یہ سال بہت مصیبتوں کا سال تھا اور آپ نے اس سال کو عام الحزن قرار دیا یا آج کی اصطلاح میں بیان کریں تو ایک دن نہیں ، تین دن نہیں بلکہ پورا سال سوگ کا اعلان فرمایا ۔
دوسری بیعت عقبہ کے بعد مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کا گرین سگنل مل گیا لیکن مشرکین مکہ جانتے تھے کہ مدینہ میں جا کر اپنی حکومت بنا لیں گے لہذا ان کی کوشش تھی کہ یہ ہجرت نا ہونے پائے ورنہ مسقتبل قریب میں بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں ، لہذا جو بھی ہجرت کا ارادہ کرتا اس کا مال و دولت لوٹ لیتے ، جب مسلمان ہجرت کر گئے تو ان کے پیچھے ان کی زمینوں اور دکانوں پر قبضہ کر لیا گیا باغات اپنے قبضے میں لے لیےگئے یعنی وہ چاہتے تھے اقتصادی طور پر جتنا نقصان کر سکتے ہو ان کا کر لو ۔ یہ سب مسلمانوں کی ہمت ، استقامت اور صبر کا نتیجہ نکلا کہ تیرہ سال مشکلات میں گزارنے کے بعد مدینہ میں کم از کم مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے نجات مل گئی ۔
مدینہ میں اقتصادی چیلنجز
اگرچہ مدینہ میں پہنچنے کے بعد وہاں کے چیلنجز اور مسائل کی کیفیت تبدیل ہو گئی ۔ یہاں بھی مشکلات تھیں لیکن ان کی نوعیت اور تھی ، سب سے بڑا مسئلہ مھاجرین کے گھر اور روزگار کا تھا ۔ مدینہ میں کوئی منظم حکومت تو تھی نہیں الٹا سب مھاجرین خالی ہاتھ مدینہ پہنچے تھے جس کی وجہ سے بنیادی ضرورتیں پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے ضروری تھا کہ رسول اکرم ﷺ ایسی پالیسی اپناتے جس سے نا صرف مسلمانوں کی معیشت مضبوط ہوتی ساتھ آئندہ کےلیے مشرکین کی طرف سے ممکنہ پابندیوں کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ۔
اسی لیے پیغمبر اکرم ﷺ نے مختلف جہتوں پر کام شروع کروایا ۔ اگر ہم صرف ان کاموں کی لسٹ بھی تیار کرنا چاہیں تو اس کےلیے بھی کئی صفحات درکار ہیں لیکن اس مختصر مقالہ میں تین چیزوں کے بارے میں ذکر کریں گے ۔ پہلی چیز کہ مھاجرین کی رہائش اور ان کے گھروں کےلیے پیغمبر اکرم ﷺ نے کونسی پالیسی اپنائی ؛ دوسرا لوگوں کو روزگار کی فراہمی کےلیے کیا اقدامات اٹھائے اور تیسرا تازہ حکومت نے تجارت کو فروغ کیسے دیا ؟
مہاجرین کی رہائش بارے پالیسیاں
سب سے بنیادی اور اہم کام جو نبی اکرم ﷺ نے انجام دیا جس نے معاشرے کی کئی مشکلات کو حل کر دیا وہ مھاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ تھا ۔ اس بھائی چارے کی فضا اور ایثار و فداکاری کے جذبے نے معاشرے کے رہن سہن کو تبدیل کر دیا ۔ جس کے ثمرات زندگی کے کئی شعبوں میں نظر آنے لگے ۔
رسول اکرم ﷺ نے سب سے پہلے بے گھر افراد کی رہائش کے بارے میں سوچا اور اس کےلیے کئی جہتوں پر کام کیا تا کہ لوگوں کو رہنے کےلیے گھر مل سکے جہاں عارضی پناہ گاہ قائم کی وہیں مستقل گھروں کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلیے بھی اقدامات اٹھائے ۔ سب سے پہلے مسجد النبی میں ایک عمومی پناہ گاہ قائم کی جسے صفہ کہا جاتا ہے اور اس میں رہنے والے اصحاب کو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ( کتانی ،نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ، 1/477) اس کے علاوہ بہت سے انصار نے اپنے مھاجرین بھائیوں کےلیے گھروں کے دروازے کھول دئیے ۔ اگر گھر کے دو کمرے تھے تو ایک کمرہ انہوں نے مھاجر بھائی کو دے دیا ۔ اسی طرح اگر کسی کی ملکیت میں دو گھر تھے تو اس نے اپنا ایک پورا گھر اپنے بھائی کو دے دیا ۔اس ایثار و فداکاری نے رہائش کے بہت سے مسائل حل کر دئیے تھے ساتھ رسول اکرم ﷺ نے حکومت کے نام پر ملنے والی زمینوں کو بعض مھاجرین کو لیز پر دے دیا تا کہ وہ اس زمین کو کاشت بھی کریں اس پر گھر بھی بنائیں ۔ بعض انصار نے بھی اپنی زمینوں کو ھبہ کر دیا تا کہ لوگ حکومت یا مخیرین کی مدد سے اس پر گھر بنا سکیں ۔ ( ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ، 1/339؛ ابن اثیر ، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ،2/141؛ واقدی ، مغازی ،3/54) اب سوچنے والی بات ہے کہ کیا آج ہمارے حکمرانوں کےلیے یہ اسوہ ہے یا نہیں ؟ کیا ان اصولوں پر عمل کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
روزگار کی فراہمی
دوسرا بڑا مسئلہ جو مدینہ میں قائم نئی اسلامی حکومت کو در پیش تھا وہ لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اور افراد کےلیے روزگار فراہم کرنا تھا ۔ اس ضمن میں سب سے پہلا اور اہم کام جو رسول اکرم ﷺ نے انجام دیا وہ اقتصاد میں لوگوں کی مشارکت تھی ۔ مھاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کی وجہ سے انصار میں سے ہر کسی نے اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ مھاجر کو دے کر ایثار و فداکاری کی اعلی مثال قائم کردی ۔
دوسرا انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ جیسی ثقافت کو پورے معاشرے میں پھیلا دیا اور اس کے فضایل لوگوں کو بتلائے جس نے معاشرے میں بہت زیادہ اثر دکھایا ۔ مھاجرین کی مالی حمایت کو قانون کی شکل دیتے ہوئے زکات کا وجوب ایک اور اقدام تھا ۔ اس کے ساتھ حکومت کے بیت المال سے غربا کی مالی حمایت جس میں خمس ، زکات ، فی اور جنگی غنائم شامل تھے۔ ( واقدی،مغازی ، 1/103؛ ابن اثیر ، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ،2/141؛ صدر ، اقتصاد اسلام ،ص141)
تجارت اور زراعت کی تشویق
بیت المال سے مدد کے علاوہ رسول اکرم ﷺ کی کوشش تھی کہ لوگ خود آگے آئیں ، کوئی ہنر سیکھیں ، بے کار نا رہیں ، اس زمانے میں بھی تجارت اور زراعت بہت بڑا ذریعہ تھا آمدن کا ۔ نبی اکرم ﷺ نے روزگار فراہم کرنے کےلیے تجارت کی تشویق کرتے تھے اور بے کار رہنے کی مذمت فرماتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کوشش کرتے تھے کہ کوئی بے کار نا رہے ۔ کچھ نا کچھ بنائیں ، کوئی ہنر سیکھ لیں ۔ اس کام نے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ بے کار افراد کی مذمت ہوتی تھی ۔ (مجلسی ، بحار الانوار ،100/10؛ شیخ حرعاملی ،وسایل الشیعہ ،17/66؛کلینی ، الکافی ،5/84؛مرتضی عاملی ، السوق فی ظل الدولۃ الاسلامیۃ ، ص96/صدر ،اقتصاد اسلام صفحہ 141-142) ساتھ مھاجرین کو تشویق کرتے تا کہ داخلی اور خارجی تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیں ۔ (کاتب واقدی ، طبقات ،3/54؛حرعاملی ، وسایل الشیعہ ،12/45،صدر ، اقتصاد اسلام ، ص 141-142)
ہر معاشرے کےلیے ضروری ہوتا ہے کہ بعضی غیر ملکی تاجر بھی معاشرے میں آ کر سرمایہ کاری کریں اور جو بنیادی چیزیں وہ لے کر آتے ہیں اور معاشرے کو اس کی ضرورت ہے یا معاشرے کی معیشت کےلیے مفید ہیں ،ان سے استفادہ کیا جا سکے اور اس ضمن میں سب سے بڑی چیز بیرونی تاجروں کا اعتماد اور امنیت کا ہوتا ہے تا کہ بے فکر ہو کر آئیں اور انہیں یقین ہو کہ ان کا سرمایہ ڈوبے گا نہیں اس لیے ایک کام یہ کیا کہ بیرونی تاجروں کو امنیت فراہم کی تا کہ وہ تجارتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں ۔ (بیہقی ، دلایل النبوۃ ،9/9) ان کی مشکلات کو حل کیا اور بنیادی سہولیات فراہم کیں ۔ ( ابن حجر ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ ،2/104؛بیھقی ، دلایل النبوۃ ،9/9) ساتھ اپنے افراد کو بھی تشویق دلاتے تا کہ وہ چیزیں باہر سے لائیں جن کی مدینہ میں مارکیٹ ہو جو مدینہ کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کر سکے ۔اگر کوئی ایسا کام کرتا اور ان چیزوں کو امپورٹ کرتا جو مدینہ کی بنیادی ضروریات میں سے شمار ہوتیں تو ایسے افراد کےلیے خصوصی پیکجز کا اعلان کیا ۔ (ابن حجر ، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ،1/347)
ہر معاشرے میں تاجروں کے اپنے خدشات ہوتے ہیں جنہیں دور کیے بغیر آپ داخلی سطح پر تجارت کو فروغ نہیں دے سکتے ۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی تاجروں کے خدشات کو دور کرنے کےلیے ایسے اقدامات اٹھائے جو ان کی بھلائی میں تھے ۔ مثلا داخلی منڈی کی جگہ کا انتخاب ایک ایسی جگہ پر کیا جہاں سے قافلے شہر میں داخل ہوتے ہوئے وہاں سے گزرتے تھے ۔ جگہ بھی وسیع ہوتی تھی پھر ان منڈیوں کے قوانین بنائے اور مقابلے کی ایسی فضا قائم کی جس سے اچھی اور معیاری چیز بھی سستے داموں خریدار کو مل جاتی ۔اسی طرح داخلی منڈیوں کو ٹیکس فری کر دیا جس سے تاجر بھی خوش تھے اور وہ بھی معیاری چیزیں سستے داموں فروخت کرتے ۔ (بلاذری ، فتوح البلدان ص 24) نا صرف ٹیکس فری کیا بلکہ اگر کوئی بھی شخص منڈی میں آ کر تجارت کرنا چاہتا تو اسے کسی تاجر کمیٹی یا انجمن کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔ اس چیز نے مقامی سطح پر لوگوں میں تجارت کے شوق اور رجحان کو کافی حد تک فروغ دیا ۔ (ابن ماجہ ،2/75؛ کتانی ، نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ،2/24و29؛ابن حجر ،الاصابۃ فی تمییز زالصحابہ 1/347) اسی طرح ایک اور اقدام جس نے تجارت کے فروغ میں اضافہ کیا وہ مضاربہ کے قانون کا اجرا تھا۔ ( واقدی،مغازی ، ص677؛صدر،اقتصاد اسلام ، ص67)
تجارت کے علاوہ اصحاب کو زراعت کی تشویق بھی کی جاتی کہ اگر کوئی تجارت کے شعبہ میں نہیں جاتا تو زراعت کرے ۔ اس کےلیے جو قدم اٹھایا گیا تھا حکومت کی طرف سے وہ تھا لوگوں کو زمین لیز پر دینا ۔ تا کہ اصحاب اس پر زراعت کریں جیسا کہ بلاذری نے لکھا ہے رسول اکرم ﷺ نے بلال بن حارث کو زمین دی جس میں معدنیات بھی پائی جاتی تھیں ،اسی طرح اور بھی اصحاب تھے جن کے نام تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہیں اور پیامبر اکرم ﷺ نے انہیں زمینیں دیں ۔ (بلاذری ، فتوح البلدان ، ص 21و27و 31) یا اصحاب کو بنجر زمینیں دینا جسے قانون احیا موات کہا جاتا ہے رسول اکرم ﷺ نے یہ قانون پاس کیا تا کہ زراعت کی تشویق پیدا کی جا سکے اور لوگ اپنا روزگار بھی بنا سکیں ۔ (ابن حجر ، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ، 2/224و458) احیاموات یہ ہے کہ حکومت بنجر زمینیں عوام کے حوالے کر دیتی ہے کہ اسے آباد کریں اور زراعت کریں ۔ (قانون زمین و زمینداری ، تالیف سید افتخارحسین نقوی) اب زراعت کرنے کےلیے بھی پیسے چاہیے ہوتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے اس مشکل کو بھی حل کر دیا ، زراعت کےلیے یا حکومت مدد کرتی یا مخیرین اور صاحب استطاعت لوگ ان کی مدد کرتے تا کہ زراعت کے وسائل کو فراہم کیا جا سکے ۔ ( العاملی ، السوق فی ظل الدولۃ الاسلامیۃ ،4/92؛الکتانی ، نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ، 1/476؛ واقدی ،مغازی 1/327)
اسی طرح مھاجرین اور انصار کے درمیان مزارعہ اور مساقات کے معاہدے بھی انجام پائے ۔ ( صدر ، اقتصاد اسلام ، ص65/ابن الحجر، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ، 1/221) ان اقدامات نے کافی حد تک مسلمانوں کی اقتصادی مشکلات کو حل کر دیا تھا ۔بلاذری کی روایت کے مطابق پانی کے مسائل کو حل کرنے کےلیے کنویں کھودے جاتے جیسے وادی بطحان کی زمینوں کو سیراب کےلیے کنواں کھودا گیا یا باقی جتنے کھودے جاتے اگر اصحاب کی ملکیت ہوتے تو ان کے نام سے مشہور ہو جاتے اور فتوح البلدان میں بہت سارے کنویں اصحاب کے نام سے مشہور تھے جو ان کی ملکیت تھے ۔ ( فتوح البلدان،ص19اور23) درختوں کی کٹائی کو ممنوع قرار دیا اگر کوئی درخت کاٹتا تو دوبارہ اسی جگہ درخت لگانا بطور دیت ضروری تھا ۔
مشرکین پر مسلمانوں کا جوابی اقتصادی وار
دشمن اس وقت تک جری ہوتا ہے جب تک اس کے مفادات کو نقصان نا پہنچے ۔ جب تک مسلمان مکہ میں تھے مشرکین کے مفادات کو خطرہ نہیں تھا اس لیے وہ کھل کھیل رہے تھے دوسری طرف نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے بہت پہلے کیونکہ مکہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا اس لیے قریش نے مختلف قبایل سے راستوں کو پر امن بنانے کے لیے معاہدے کر رکھے تھے ۔ جزیرۃ العرب کی مختلف منڈیوں تک قریش کی رسائی تھی اور ان کے افراد تعینات تھے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کو دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر مدینہ میں حکومت قائم کرنے کا سوچا تو پورے جزیرۃ العرب میں پابندیاں لگا دیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ یہ سب دیکھ رہے تھے اور جانتے تھے کہ جب تک دشمن کے اپنے مفادات خطرے میں نہیں پڑیں گے تب تک وہ ظلم و ستم سے ہاتھ نہیں اٹھائے گا اور مشرکین مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے اذیتیں دیتے رہیں گے اسی وجہ سے رسول اکرم ﷺ نے دشمن کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کےلیے کئی ایک اقدامات اٹھائے ۔ مثلا قریش کی تجارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ان کے راستوں کی نشاندہی اور ان نکات پر متمرکز ہوئے جہاں سے قریش کے تجارتی قافلوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا تھا ۔ ساتھ مزید کسی اقتصادی نقصان سے بچنے کےلیے اپنے افراد کو مدینہ کے اطراف میں گشت کےلیے مقرر کر دیا جومشرکین کے تجارتی قافلوں کی اطلاعات جمع کرتے اور بعض اوقات ان پر حملہ کرتے تا کہ دوبارہ اقدام کرنے سے پہلے دشمن سو بار سوچے کہ اب ان کے مفادات بھی خطرے میں پڑ سکتےہیں ۔بلکہ بعض تاریخی روایات کی بنا پر بعض عسکری اور سویلین کو دشمن کے تجارتی راستوں کےلیے خطرہ ایجاد کرنے کےلیے بھیجا بھی گیا ۔ ( واقدی ، مغازی ، ص15-16و197ابن ھشام ،زندگانی محمد پیامبر اسلام ، ص3 ،392)
پیغمبر اکرم ﷺ نے جو عہد نامہ مدینہ کے مشرکین اور یہودیوں کے ساتھ کیا اس کی روشنی میں مدینہ کے مشرکین اور یہودیوں نے مکہ کے مشرکین کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں متوقف کر دیں ۔ ( ابن ھشام ،سیرت محمد رسول اللہ ، 2/147-150) یہ مکہ کے مشرکین کےلیے بہت بڑا دھچکا تھا ۔ ساتھ اس کے علاوہ جن قبایل سے خطرہ تھا کہ مدینہ کے تجارتی قافلوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کے ساتھ اسٹیرٹیجک معاہدے کر لیے تا کہ تجارتی قافلوں کے راستوں کو پر امن بنایا جا سکے ۔ (ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام،ص3و4؛ واقدی ،مغازی ،1/197) اور ان پالیسیوں کی وجہ سے دشمن کے تمام حربے ناکام ہوئے اور اس چیز نے انہیں پاگل بنا دیا تھا ۔ اس سے پہلے مزید شکست سے دوچار ہوتے بہت غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ سب مل کر مسلمانوں پر حملہ کریں ۔
مختلف احزاب کی طرف سے مسلمانوں کا عسکری اور اقتصادی محاصرہ
مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور ابھرتی ہوئی معیشت نے مشرکین مکہ اور جزیرۃ العرب کے دوسرے مشرک اور یہودی قبائل کی نیندیں حرام کر دی تھیں ۔ مشرکین نے مختلف قبائل سے مکاتبات اور روابط کے ذریعے انہیں مسلمانوں کے ساتھ جنگ پر آمادہ کر لیا ۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو صرف عسکری نہیں تھی بلکہ بیک وقت عسکری ، اقتصادی اور نفسیاتی جنگ تھی ۔ جس کے خطرات بہت زیادہ تھے ۔ اگرچہ اقتصادی حالت بہتر ہو رہی تھی لیکن چند ایک وجوہات کی بنا پر اقتصادی حوالے سے بھی بہت خطرناک تھی ۔ اولا مسلمانوں نے اگرچہ تجارت اور زراعت کی طرف توجہ دینا شروع کر دی تھی لیکن زیادہ تر وقت جنگوں اور غزوات میں گزر رہا تھا ۔ ساتھ مدینہ میں بارشوں کی کمی کی وجہ سے زراعت بھی خطرے سے دوچار تھی اور اب پورے مدینہ کو محاصرے میں لے لیا گیا تھا جس وجہ سے باہر سے تجارت کے راستے بھی بند تھے اس لیے ایک وقت میں تو مدینہ میں غذائی مواد کی قلت کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔
دوسرا یہ نفسیاتی جنگ بھی تھی کیونکہ بہت سے یہودی مدینہ کے اندر رہتے تھے اور خفیہ مذاکرات کے ذریعے پہلے سے ہی مشرکین اور یہودیوں کوزبان دے چکے تھے کہ اگر مدینہ پر حملہ کرو گے تو اندر سے ہم بھی کھڑے ہو جائیں گے ۔ ساتھ منافقین نے بھی پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا جسے قرآن نے واضح طور پر بیان کیا ہے اور یہ پروپیگنڈا اتنا شدید تھا کہ بہت سے ضعیف الاعتقاد مومنین بھی خوف اور دہشت میں وقت گزار رہے تھے۔سورہ احزاب کی آیات 9سے13 اور سورہ بقرہ کی آیت 214 کا ترجمہ ہے : اے ایمان والو! اللہ کے احسان کو یاد کرو جو تم ر ہوا ۔ جب تم پر کئی لشکر چڑھ آئے پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہیں دیکھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ دیکھ رہا تھا۔جب وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف سے چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔اس موقع پر ایماندار آزمائے گئے اور سخت ہلا دیے گئے۔اور جب کہ منافق اور جن کے دلوں میں شک تھا کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو ہم سے وعدہ کیا تھا صرف دھوکا ہی تھا۔
کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تمہیں وہ (حالات) پیش نہیں آئے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور ہلا دیے گئے یہاں تک کہ رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب ہوگی! سنو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔
یعنی یہ ایک ایسا وقت تھا کہ مدینہ میں موجود یہودیوں کی پیمان شکنی اور منافقوں کی سازش ایک ساتھ ظاہر ہو گئی پھردوسری طرف پورا مدینہ دشمن کے محاصرے میں ہے لہذا ضعیف الایمان مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ غذائی قلت نے پریشانیوں میں اضافہ کر دیا تھا (ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ، ص171-172؛ مجلسی ، بحار الانوار ،4/50؛16/ 225؛ واقدی ، مغازی ، ص357-359 و369-370)
لہذا قرآن کہتا ہے : جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔ حتی منافقین نے تو علی الاعلان کہنا شروع کر دیا تھا کہ خدا کی طرف سے کوئی مدد نام کی چیز نہیں آنے والی ۔کلمہ پڑھنے والے تم دھوکے میں مارے گئے ہو نعوذباللہ وغیرہ وغیرہ
اب جہاں عسکری مقابلہ کرنا تھا وہاں نفسیاتی طور پر مسلمانوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری تھا ۔ عسکری مقابلہ کےلیے تو نبی اکرم ﷺ نے جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے سب سے پہلے 24گھنٹے دشمن پر نظر رکھنا تھا ان کی کوئی حرکت مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں تھی کہ اگر کہیں سے خندق پار کرتے ہیں یا پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جوابی وار کےلیے مسلمان آمادہ باش تھے ۔ ساتھ اگر کہیں سے کامیاب ہو جاتے ہیں خندق پار کرنے میں تو بھی ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے یہ سب مشخص تھا ۔پھر یہ سب کام اصحاب کے مشورہ سے ہو رہے تھے ۔ جو مشکلات پیش آ رہی تھیں ان کا حل مدینہ کے اندر رہ کر نکالا جا رہا تھا ۔
دوسرا نفسیاتی دباو کو کم کرنا تھا جو سب سے مشکل کام تھا ۔ منافقین مسلمانوں کے ساتھ تھے وہ عقیدے کو مسلسل کمزور کر رہے تھے نبی اکرم ﷺ افراد کی تشویق کرتے اور ان میں انقلابی روح پھونکنے کےلیے خود کام بھی کرتے جیسے خندق کھودنا ۔
مسلمان انقلابی اشعار پڑھتے اور یا آج کی زبان میں قومی ترانے پڑھتے تا کہ مسلمانوں کے اندر جھاد کا جذبہ ابھارا جائے ۔ سب سے بڑھ کر نبی اکرم ﷺ ان کو غیب سے مدد الھی کا وعدہ دیتے اور دعا کرتے ۔لیکن یہ سب کافی نہیں تھا دوسری طرف ضروری تھا جہاں سے یہ اختلاف پیدا ہو رہے تھے ان راستوں کو بھی بند کیا جاتا ۔ اس لیے منافقین کی مذمت ، اگر کوئی تفرقہ کی بات کرتا یا ایسے اشعار پڑھتا جس سے تفرقہ کی بو آتی ہو ، سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ۔ اسی طرح باہر کے دشمن کو کمزور کرنا بھی ضروری تھا اس کےلیے اہم تھا کہ دشمن کی فوج کی وحدت اور ایکتا کو نقصان پہنچایا جائے ۔ اس ضمن میں بھی اقدامات اٹھائے گئے ۔ ( ابن ہشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ، ص 169-1709) ساتھ دشمن کی صفوں میں شک و تردید ڈالنے کےلیے مختلف تبلیغی راستوں کا انتخاب کیا گیا جس نے دشمن کی صفوں میں مایوسی پھیلا دی حتی بعض کو دینار و درھم کا لالچ دے کر خریدا گیا تا کہ یا تو واپس چلے جائیں یا کم از کم ان کی مسلمانوں سے دشمنی میں کمی آ سکے ۔ ( واقدی ، مغازی ، جنگ ھای پیامبر گرامی ، ص 359؛حر عاملی ، وسایل الشیعہ ، 11/102)
یقینا خداوندمتعال کی مدد و نصرت سے دشمن مایوس ہوئے اور بڑے بڑے خطرات ٹلے لیکن اس کےلیے نبی اکرم ﷺ کی رہبری و راہنمائی اور دن رات کی انتھک محنت بھی تھی اور خداوندمتعال بھی مدد وہاں کرتا ہے جہاں خود انسان بھی عقل و بصیرت سے فیصلے کریں اور استقامت اور صبر کو اپناتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کریں ۔
اس کے ساتھ جہاں اندر سےمسلمانوں میں وحدت اور اتحاد کی فضا بہت ضروری تھی وہاں ان عناصر کو بے نقاب کرنا اور ان کی سازشوں سے پردہ اٹھانا ضروری تھے جو منافق تھے اور چاہتے تھے مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کر سکیں اور مسلمانوں کے ان کے اعتقاد میں تزلزل کا شکار کر سکیں ۔ اس لیے رسول اکرم ص ایسے اشعار پڑھنے کی ممانعت کرتے جس سے کسی قسم کے تفرقہ کی بو آتی ۔ تا کہ مذہبی اور قبایلی تفرقہ ڈالنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اسی طرح منافقین کے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا بھی ایک قسم کا چیلنج تھا ۔جہاں اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے حکمت عملی ضروری تھی ساتھ خداوندمتعال سے نصرت کی دعا بھی ضروری تھی اس لیے رسول اکرم ص خداوندمتعال سے مدد کی دعا اور درخواست کرتے۔ ساتھ دشمنوں کی صفوں میں اختلاف ایجاد کرنے کےلیے اقدامات بھی اٹھاے تا کہ دشمن کی ایکتا کو نقصان پہنچایں اور اس کو توڑ سکیں ۔ ( واقدی ، مغازی ، ص447؛ بیھقی ، دلایل النبوۃ ، 399؛ ابن سعد ، طبقات ، ص72؛ طبرسی ، اعلام الوری ، ص134-135)
منابع اور مصادر
1: القرآن الکریم
2:ابن اثیر ، عزالدین بن اثیر ، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ترجمہ ابوالقاسم حالت و عباس خلیلی ،تہران ، موسسہ مطبوعاتی علمی ، 1371
3:ابن حجر ، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ ،قاھرہ ، سعادہ ، 1328ق
4:ابن ھشام ، زندگانی محمد پیامبر اسلام ،ترجمہ سید ھاشم رسولی ،تہران ، کتابچی ، 1375
5:ابن ہشام ، عبدالملک ،سیرت محمد رسول اللہ ، ترجمہ مسعود انصاری ، تہران ، انتشارات مولی ،1392
6:ابن واضح یعقوبی ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی ، ترجمہ محمد ابراھیم آیتی ، تہران ، انتشارات علمی و فرھنگی ، 1371
7:بلاذری ، احمد بن یحیی ، فتوح البلدان ، ترجمہ محمد توکل ، تہران ، ناشر نقرہ ، 1337
8: ---------- انساب الاشراف ، تحقیق و ترجمہ ، ریاض زرکفی و سھیل زکار ، بیروت ، دارالفکر 1417ق
9:بیھقی ، ابوبکر احمد بن حسین ، دلا ئل النبوۃ ، ترجمہ محمود مھدوی دامغانی ، تہران ، انتشارات علمی و فرھنگی ، 1391
10: جعفر مرتضی العاملی ، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم ، قم ، دارالحدیث ، 1429ق
11: جعفریان ، رسول ، سیرۃ رسول خدا ، قم ، دلیل ما ، 1383
12:زرگری نژاد ، غلام حسین ، تاریخ صدر اسلام ، تہران ، سمت ، 1384
13:صدر ، سید کاظم ، اقتصاد اسلام ، تہران ، انتشارات دانشگاہ شہید بہشتی ، 1374
14؛ طباطبایی ، سید محمد حسین ، المیزان فی تفسیر القرآن ، ترجمہ سید محمد باقر موسوی ، ھمدانی ، قم ، دفتر انتشارات اسلامی ، 1374
15: طبرسی ، فضل بن حسن ، اعلام الوری ، زندگانی چہاردہ معصوم ، ترجمہ عزیزاللہ عطاردی ، تہران ، اسلامیہ ، 1390
16: علامہ مجلسی ، بحارالانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطھار ، تہران ، اسلامیہ ، 1363
17؛کاتب واقدی ، محمد بن سعد ، طبقات ، ترجمہ محمود مھدوی دامغانی ، تہران ، انتشارات فرھنگ و اندیشہ ، 1374
18: کتانی ، عبدالحی ،نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام ، ترجمہ علی رضا ذکاوتی، قراگز نو ،قم ، سمت ، 1384
19: کتانی ، عبدالحی ، نظام الحکومت االنبویۃ ، بیروت ، دارالارقم ابی الارقم
2:مرتضی عاملی ، سید جعفر ، سیرت جاودانہ ، ترجمہ محمد سپھری ، تہران ، فرھنگ و اندیشہ اسلامی ، 1384
21:واقدی ، محمد بن عمر ، مغازی ، تاریخ جنگ ھای پیامبر ، ترجمہ محمود مھدوی دامغانی ، تہران ، مرکز نشر دانشگاھی ، 1369
22: یوسفی غروی ، محمد ھادی ، تاریخ تحقیقی اسلام، ترجمہ حسین علی غربی ، قم، موسسہ
ڈاکٹر تصور عباس خان
المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی، ایران