صلح امام حسن علیہ السلام کے اسباب ، شرائط اور نتائج

صلح امام حسن علیہ السلام کے اسباب ، شرائط اور نتائج

مقدمہ

دور حاضر میں نئی نسل کا ہر جوان امام حسن علیہ السلام سے متعلق ایک سوال ضرور کرتا ہے وہ یہ کہ آپ علیہ السلام نے صلح کیوں کی؟ لہذا سوال یہ اٹھتا ہے کہ آپ وارث قرآن و عترت تھے پھر آپ نے معاویہ کے ساتھ صلح کیوں کی؟ آپ چاہتے تو اس کے ساتھ جنگ کرتے یہاں تک کہ شہید ہوجاتے۔ آخر وہ کونسے اسباب تھے جن کی وجہ سے آپ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے؟ مذکورہ سوالوں کا جواب خود امام حسن علیہ السلام کے اقوال سے دیا گیا ہے ، امام حسن علیہ السلام ایک مقام پر صلح کے معترض کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: قسم ہے پالنے والے کی میں نے حکومت اس وجہ سے معاویہ کو سپرد کردی کہ میرا کوئی مددگار نہ تھا اور اگر میرے مددگار ہوتے تو اس کے خلاف شب و روز لڑتا حتی کہ خداوند متعال میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرتا ۔ ایک مقام پر وھب جھنی نے سوال کیا کہ لوگ معاویہ سے جنگ اور صلح کے درمیان مشوش ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم اگر معاویہ سے جنگ کروں گا تو یہی لوگ مجھے اسیر بنا کر اسکے سامنے پیش کردیں گے۔ ایک مقام پر حجر ابن عدی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ زیادہ تر لوگ صلح کی طرف راغب اور جنگ سے روگردان ہیں چنانچہ میں نے نہیں چاہا کہ انہیں ایسی چیز (جنگ) پر مجبور کروں جس کو وہ ناپسند کرتے ہیں، پس میں نے اسی کو مصلحت سمجھا کہ معاویہ کے ساتھ مسالمت آمیز رویہ اپناؤں اور اپنے اور اس کے درمیان جنگ کو بند کردوں؛ میں نے دیکھا کہ خون کا تحفظ خون بہانے سے بہتر ہے اور اس کام سے میرا ارادہ تمہاری خیر خواہی اور بقاء کے سوا کچھ نہ تھا۔ اے حجر جیسا تم چاہتے ہو لوگ ویسا نہیں چاہتے، میں نے یہ قدم تم جیسے شیعیوں کی حفاظت کے لئے اٹھایا ہے ۔ کسی نے گستاخانہ لہجہ اختیار کرکے امام حسن مجتبی علیہ السلام سے کہا: (اے مؤمنوں کو ذلیل کرنے والے)، تو آپ نے فرمایا: میں نہیں ہوں بلکہ (مؤمنوں کو عزت دینے والا) ہوں؛ کیونکہ جب میں نے دیکھا کہ تم (پیروان آل محمد(ص)) میں سپاہ شام کا مقابلہ کرنے کی قوت نہیں ہے تو میں نے اپنی حکومت دے دی تاکہ ہم اور تم باقی رہیں۔ ایک مقام پر آپ صلح کے معترض کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری صلح ویسی ہی ہے جیسے رسول کی صلح، حدیبیہ میں تھی بس فرق اتنا ہے کل جن سے صلح کی گئی تھی وہ تنزیل (قرآن)کے منکر تھے اور آج جن سے صلح ہورہی ہے وہ تاویل (تفسیر ) کے منکر ہیں ۔ اسکے بعد اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر میں یہ کام نہ کرتا تو روئے زمین پر ایک شیعہ بھی زندہ نہ رہتا اور یہ (معاویہ اور اس کے حامی) سب کو (چن چن کر) قتل کرتے۔ بعض نادان (صلح کی اہمیت سے بے خبر )لوگوں کی سرزنش کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں: تم لوگوں پر وائے ہو کہ، تمہیں کیا معلوم کہ میں نے کیا کیا ہے؟ خدا کی قسم میں نے جو کام انجام دیا ہے وہ ہمارے شیعیوں کے لئے ان پر سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے بھی زیادہ بہترہے ۔

صلح امام حسن علیہ السلام کے علل و اسباب

1- امام علیہ السلام کا علم

شیخ صدوق نے اپنے اسناد کے ساتھ ابی سعید عقیصا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب میں حضرت امام حسن (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچا اور آپ سے عرض کی: اے فرزند رسول خدا جب آپ کو معلوم ہے کہ حق آپ کے ساتھ ہے ، پهر کیوں آپ نے گمراه اور ظالم کے ساتھ صلح کی ہے ، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ابو سعید! معاویہ کے ساتھ میری صلح کے علل و اسباب وہی ہیں جو رسول خدا (ص) کے مکہ والوں اور بنی ضمره کے ساتھ صلح کے تھے ، اہل مکہ کافر ہیں، تنزیل (قرآن کریم کی ظاہری آیات) کی بنا پر، اور معاویہ اور اس کے اصحاب بهی کافر ہیں تاویل (قرآن کریم کے آیات کے باطن) کی بنا پر۔ اے ابوسعید! کیا تم نے جناب خضر (ع) کے واقعہ کو نہیں سنا کہ اس لڑکے کو کشتی میں سوراخ کرنے کی وجہ سے قتل کر ڈالا، اور اس گری ہوئی دیوار کی مرمت کردی، جناب موسی علیہ السلام نے ان کے کاموں پر اعتراض کیا، کیونکہ انہیں ان کاموں کا راز معلوم نہیں تها، لیکن جس وقت ان کاموں کی علت کو سمجھ لیا تو اس پر راضی ہوگئے، اسی طرح میری صلح ہے اور چونکہ تمہیں اس کا راز معلوم نہیں ہے اس وجہ سے اس پر اعتراض کرتے ہو ۔

2- دین کا تحفظ

حضرات آئمہ علیہم السلام کے نزدیک ، دین کی حفاظت، اور اہل بیت(ع) کی تعلیمات کا زنده کرنا سب سے بنیادی عنصر ہے ، چنانچہ حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: سلامة الدین احبّ الینا من غیره ، یعنی دین کا تحفظ، ہمارے نزدیک دوسری تمام چیزوں سے زیاده محبوب ہے ۔ اس بنا پر حضرت امام حسن (علیہ السلام) کی صلح کی ایک اہم علت ، دین کا تحفظ ،قرار دیا جاسکتا ہے ،کیونکہ اسلامی معاشره کے حالات اس طرح تھے کہ معاویہ کے ساتھ جنگ کرنے میں اصل دین ہی ختم ہوجاتا ، اس کے علاوه اسلامی معاشره کے بیرونی حالات اس بات کی عکاسی کرر ہے تھے کہ مشرقی روم، مسلمانوں پر فوجی حملہ کرنے کے لئے تیار تها۔ دوسری طرف سے اس وقت کے مسلمان بهی ثقافتی لحاظ سے ایسے حالات میں تھے جو جنگ و خونریزی کو دین اور مقدسات کے سلسلہ میں ایک قسم کی بدبینی سمجھ ر ہے تھے ، جیسا کہ حضرت امام حسن (علیه السلام) نے اپنے چاہے والوں کے اعتراض کے جواب میں فرمایا: انّی خشیت أن یجتثّ المسلمون عن وجه الارض فاردت ان یکون للدّین ناعی، میں اس بات سے خوف زده ہوں کہ کہیں زمین سے مسلمانوں کی جڑوں کا خاتمہ نہ کردیا جائے، اور کوئی بهی مسلمان باقی نہ ر ہے ، اسی وجہ سے میں صلح کرکے دین خدا کی حفاظت کی ہے۔

3- مصالح عمومی

عام مصلحتوں کی رعایت کرنا، سب سے زیاده عقلمندی اسٹراٹیجک ہوتی ہے ، جو دلسوز اور آزادی خواه رہبروں خصوصا الہی رہبروں کی طرف سے ہوتی ہے ، چونکہ وه حضرات عام مصلحتوں کو ذاتی یا کسی خاص گروه کی مصلحتون پر قربان نہیں کرتے، حضرت امام حسن(علیہ السلام) نے بهی خونریزی سے روک تهام اور مسلمانوں کی مصلحتوں کی پیش نظر صلح کی، جیسا کہ آپ نے فرمایا: میں نے صلح قبول کی ہے تاکہ خونریزی سے روک تهام کرسکوں اور اپنی اور اپنے اہل خانہ اور اپنے اصحاب کی جان کی حفاظت کی ہے۔

آپ کو معلوم تها کہ کچھ لوگ مجھے مذل المومنین کہیں گے اور بعض لوگ آپ کی بے احترامی اور توہین کریں گے، لیکن آپ نے ان تمام سختیوں کو برداشت کیا تاکہ عام مصلحتیں خطره میں نہ پڑجائیں، کیونکہ معاویہ سے جنگ کرنا، نہ کوفیوں کے فائده میں تها، نہ شام والوں کے مفاد میں، بلکہ اس سے رومیوں کے عالم اسلام پر حملہ کا راستہ فراہم ہوتا، چنانچہ ابن واضح یعقوبی تحریر کرتے ہیں: معاویہ سن 41ہجری میں شام واپس آیا اور جب اسے معلوم ہوا کہ رومیوں کا ایک بڑا لشکر حملہ کے لئے آگے بڑھ رہا ہے ۔۔۔ تو اس نے ایک لاکھ دینار بهیج کر صلح کرلی۔ شاید اسی دلیل (عام مصلحتوں کی رعایت) کی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت امام حسن علیہ السلام کے لئے فرمایا تها: بے شک یہ میرا بیٹا مسلمانوں کا امام ہے ، امید ہے کہ خداوندعالم اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروه کے درمیان صلح کرائے گا۔ حضرت امام حسن (ع) کی صلح، حضرت حضرت امام حسین (ع) کے قیام کا راستہ ہموار کرنے والی شئی ہے ، جیسا کہ علامہ سید عبد الحسین شرف الدین صاحب تحریر کرتے ہیں: حضرت امام حسن (علیہ السلام) کو اپنی جان کی قربانی دینے سے دریغ نہیں تها، اور حضرت امام حسین (علیہ السلام) راه خدا میں آپ سے زیاده قربانی دینے والے نہیں تھے ، آپ نے اپنی جان کو خاموش اور آرام آرام جہاد کے لئے روک رکھا تها، شہادت کربلا، قبل اس کے کہ حسینی هو، حسنی ہے ، صاحب نظر دانشوروں کی نظر میں امام حسن (علیہ السلام) کا دن فداکاری کے مفہوم میں بہت زیاده آمیختہ تها روزعاشوره امام حسین علیہ السلام کے نسبت، کیونکہ حضرت امام حسن (علیہ السلام) نے اس دن، فداکاری کے موقع پر، ایک خستگی ناپذیر اور پائیدار قهرمان کے کردار کو ایک مظلومانہ صورت میں مغلوب کے انداز میں ادا کیا، شهادت عاشورا، اس دلیل کی بنا پر پهلے حسنی ہے ، اس کے بعد حسینی ہے ، کہ امام حسن (علیہ السلام) نے اس کی راه هموار کی، اس کے وسائل کو تیار کیا، امام حسن (علیہ السلام) کی مکمل کامیابی اس بات پر متوقف تهی کہ آپ اپنے حکیمانه صبر و پائیداری کی بنا پر حقیقت کو واضح کریں اور اس روشنی کی نور میں حضرت امام حسین (علیہ السلام) نصرت اور پرشکوه و ابدی کامیابی کو حاصل کریں، گویا یه دونوں گوہر پاک راستہ پر چلنے کے لئے ایک زبان ہوگئے تھے ، کہ حکیمانہ پائیداری کا کردار حضرت امام حسن علیہ السلام کا ہو اور انقلابی اور شجاعانہ قیام حضرت امام حسین علیہ السلام کا ہو».

4- شیعیوں کی حفاظت

شیعوں کی حفاظت اگرچہ عام مصلحتوں میں سے ہے ، لیکن چونکہ شیعہ حضرات، دین کے محافظ و پاسدار اور اہل بیت علیہم السلام کی موالی تھے ان کی جان کی حفاظت ایک خاص اہمیت رکھتی تهی، حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے خاص شیعہ، جنگ جمل، جنگ صفین، اور جنگ نہروان میں شہید ہوگئے تھے اور ان میں سے بہت کم تعداد باقی بچی تھے اور اگر جنگ ہوجاتی، تو عراق (کوفہ) کے لوگوں کی کمزوری کی وجہ سے حضرت امام حسن (علیہ السلام) اور شیعوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا، کیونکہ اس صورت میں معاویہ ان کو نیست و نابود کردیتا۔ اسی وجہ سے حضرت امام حسن (علیہ السلام) نے صلح کی ایک وجہ اپنے شیعوں کی حفاظت قرار دیتے ہوئے فرمایا: شیعوں کی حفاظت نے مجھے صلح پر مجبور کردیا، اور اس موقع پر میں نے مناسب سمجها کہ جنگ کو کسی دوسری دن کے لئے چهوڑ دیا جائے۔

5- لوگوں کی طرف سے حمایت نہ ہونا اور سرداروں کا خیانت کرنا

حکومت کا تشکیل دینا اوراس کا دفاع کرنا، عوام کی حمایت کا محتاج ہوتا ہے ، اگر کوفه کے لوگ آپ کی حمایت کرتے اور آپ کی لشکر کے سرداران آپ کے ساتھ خیانت نہ کرتے، تو آپ کبهی صلح نہ کرتے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں: «خدا کی قسم! میں نے اس وجہ سے صلح کی ہے کہ میرا کوئی مددگار نہ تها، اگر میرے مددگار ہوتے تو معاویہ سے رات و دن جنگ کرتا یہاں تک کہ خداوندعالم اس کے اور ہمارے درمیان حکم کرتا»۔

معاویہ، حضرت امام حسن (علیہ السلام) کے لشکر میں ہمیشہ مخفی طریقہ سے منافقوں سے خط و کتابت برقرار کئے ہوئے تها کہ اگر حسن بن علی (ع) کو قتل کر ڈالو تو ہر ایک کو 2 لاکھ دینار دوں گا ، اور ان کو لشکر شام کا سردار بنا دوں گا، چنانچہ اس طریقہ کار سے معاویہ نے اکثر منافقوں کو اپنی طرف متوجہ کررکھا تها یہاں تک کہ وه حضرت امام حسن علیہ السلام کو قتل کردینے کے درپہ ہوگئے تھے ۔

جنگ کے واقعہ میں بهی امام علیہ سلام نے «حکم» کو 4000 افراد کے ساتھ معاویہ کے لشکر کی طرف بهیجا اور حکم دیا کہ منزل انبار میں قیام کرنا یہاں تک کہ میرا حکم پہنچے، ادهر سے معاویہ نے بهی «حکم» کے پاس ایک ایلچی بهیجا کہ اگر تو حسن بن علی(ع) کو چهوڑ کر ادهر چلا آئے تو میں تمہیں شام کی کوئی ولایت دید ونگا اور 5 لاکھ درہم اس کو فوری دیدئے، چنانچہ وه شخص امام علیہ السلام کو چهوڑ کر اپنے قبیلہ والوں اور دوستوں میں سے 200 لوگوں کو ساتھ معاویہ سے جا ملا. اس کے بعد امام علیہ السلام نے قبیلہ بنی مراد سے ایک شخص کو 4000 افراد کے ساتھ انبار کی طرف روانہ کیا لیکن وه بهی معاویہ کا دهوکہ کھا کر اس سے ملحق ہوگیا۔

امام حسن (علیہ السلام) کے لشکر میں بعض منافقین جو خوارج میں سے تھے ، انہوں نے بعض لوگوں کو امام حسن علیہ السلام کے خلاف بھڑکا رکھا تها ، جو آپ کے خیمہ پر حملہ بول کر وہاں سب کچھ غارت کرچکے تھے ، یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے نیچے سے جانماز بهی کھینچ لی تهی، جب امام علیہ السلام کے سامنے ایسے حالات پیش آئے، تو آپ اپنے چند باوفا اصحاب کے ساتھ مدائن کی طرف روانہ ہوگئے، رات کی تاریکی میں «جرّاح بن سنان» نامی شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ کے گهوڑے کی لگام کو پکڑتے ہوئے بولا: اے حسن! تم کافر ہوگئے ہو، جس طرح تمہارے باپ بهی کافر ہوگئے تھے ! اور اس نے خنجر سے آپ کی ران مبارک پر حملہ کردیا اور آپ زخمی ہوگئے۔

حضرت امام حسن (علیہ السلام) نے لوگوں کا امتحان لینے کے لئے معاویہ سے جنگ کے بارے میں فرمایا:«اگرتم لوگ جنگ کے لئے تیار ہو تو میں صلح کو قبول نہیں کرتا اور اپنی تلواروں پر بهروسہ کرتے ہوئے نتیجہ کو خدا پر چهوڑتے ہیں، لیکن اگر تم زنده رہنے کو پسند کرتے ہو تو صلح قبول کرلوں اور تمہارے لئے امان لے لوں»، اس موقع پر مسجد کے ہر گوشہ سے آواز بلند ہورہی تهی: (البقیه، البقیه) ہم باقی رہنا چاہتے ہیں، ہم باقی رہنا چاہتے ہیں،اور صلح پر دستخط کرتے ہیں،(الکامل فی التاریخ، جلد 3، صفحه 406؛ تذکرة الخواص، صفحه 199) اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: «خدا کی قسم! اگر میں معاویہ سے جنگ کروں تو یہ لوگ میری گردن پکڑ کر اسیر بنا کر معاویہ کے حوالہ کردیں گے۔»

لہذا گزشتہ مطالب کے پیش نظر یہ کہا جائے : حضرت امام حسن (علیہ السلام) کی صلح، ایک شجاعانہ ورزش تاریخ تهی جو موقع و محل اور حالات کے پیش نظر وجود میں آئی۔

حضرت امام حسن (علیہ السلام) نے صلح کو اس وجہ سے قبول نہیں کی کہ آپ موت سے ڈرتے تھے یا معاویہ کے ساتھ سازباز کرنا چاہتے تھے ، چونکہ آپ اسی علی(ع) کے بیٹے تھے کہ جن کی شجاعت کی توصیف کرتے ہوئے جناب جبرئیل نے اعلان کیا: لافتی الا علی لاسیف الا ذوالفقار۔

اور اس طرح عبید الله بن زبیر کو صلح پر اعتراض کا جواب دیا: «وائے ہو تجھ پر! تو کیا کہتا ہے ؟ مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ میں جو عرب میں سب سے بہادر شخص کا بیٹا ہوں، اور فاطمہ زہرا، سیدة نساء العالمین کا لخت جگر ہوں، میں کسی سے ڈروں، وائے ہو تجھ پر! میرے اندر خوف اور ناتوانی نہیں پائی جاتی، میری صلح کی وجہ تم جیسے مددگار تھے جو مجھ سے محبت اور دوستی کا دم بهرتے تھے لیکن دل میں میری نابودی کی تمنا لئے ہوئے تھے ۔۔۔»

صلح امام حسن علیہ السلام کی شرائط

امام حسن(ع) کے صلح نامہ کی چندشرائط تھیں کہ ہر شرط کا ایک خاص پیغام تھا۔

شرط اول:

هذا ما صالح عليه الحسن بن علی بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان صالحه علي أن يسلّم إليه ولاية أمر المسلمين، علي أن يعمل فيهم بكتاب اللّه و سنّة رسوله صلي الله عليه و آله و سلم ۔

امام حسن(ع) کی ایک شرط یہ تھی کہ معاویہ قرآن اور سنت رسول کے مطابق عمل کرے گا۔ (بحار الأنوار ج 44 ص 65، الغدير ج 11 ص 6 )

اس بند کا واضح یہ معنی و پیغام ہے کہ امام حسن(ع) جانتے تھے کہ معاویہ قرآن اور سنت رسول پر عمل نہیں کرتا بلکہ اپنی مرضی کے مطابق جو دل میں آتا ہے کرتا ہے۔ اس لیے کہ معاویہ جب کوفہ میں آیا تو سب سے پہلے اس نے یہی کہا تھا کہ: إنی واللّه ما قاتلتكم لتصلّوا و لا لتصوموا و لا لتحجّوا و لا لتزكوا إنّكم لتفعلون ذلک. و إنّما قاتلتكم لأتأمّر عليكم، و قد أعطاني اللّه ذلک و أنتم كارهون ۔

میں نے اس لیے صلح نہیں کی کہ تم لوگوں سے کہوں کہ نماز پڑھو، زکات دو اور حج کرو بلکہ میں یہ چاہتا تھا کہ تم لوگوں پر سوار ہو کر تم پر حکومت کروں۔ (مقاتل الطالبين ص 45 ؛ شرح ابن ابي الحديد ج 16 ص 15)

شرط دوم:

اس صلح نامے کے مطابق معاویہ کو کوئی حق نہیں ہے کہ اپنے بعد کوئی خلیفہ اور جانشین معیّن کرے، بلکہ معاویہ کے بعد خلافت امام حن(ع) کو ملے گی لیکن تھوڑے ہی وقت کی بات تھی کہ معاویہ نے بعض کو لالچ، ڈرا دھمکا اور بعض کو قتل کر کے یزید کو لوگوں کے سروں پر سوار کر دیا۔ معاویہ نے اس کام سے عملی طور پر صلح نامے کی ایک شقّ کی خلاف ورزی کی تھی۔

شرط سوم:

معاویہ کو کوئی حق نہیں کہ علی بن ابي طالب امير المؤمنين(ع) کو سبّ و لعن کرے۔ أن يترک سبّ أمير المؤمنين و القنوت عليه بالصلاة و أن لا يذكر عليّاً إلاّ بخير۔ (مقاتل الطالبيين اصفهانی: ص 26 ؛ شرح نهج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 4 ص 15)

و قال آخرون أنه أجابه علي أنه لا يشتم علياً و هو يسمع و قال ابن الاثير: ثم لم يف به أيضا. (الامامة و السياسة - ابن قتيبة الدينوري،ج 1 ص 185) ۔

لیکن معاویہ نے اپنے پہلے ہی مدینہ کے سفر میں حضرت علی(ع) پر سبّ و لعن کرنے کا حکم صادر کیا۔

یہ روایت صحیح مسلم میں كتاب الفضائل باب فضائل علی بن ابي طالب نقل ہوئی ہے کہ معاویہ نے سعد بن أبی وقاص سے کہا کہ: مالک لا تسبّ أبا تراب۔ تم کیوں ابو تراب کو گالی نہیں دیتے؟ تو سعد بن وقاص نے کہا کہ: مجھے جب بھی علی(ع) کے بارے میں رسول خدا(ص) کا فرمان یاد آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: أنت منّي بمنزلة هارون من موسی۔ یا جب میں نے سنا کہ آیت تطہير علی(ع) کے حق میں نازل ہوئی تو رسول خدا نے علی، زہرا، حسنين(عليہم السلام) کو یمنی چادر کے نیچے جمع کیا اورکہا: هؤلاء أهل بيتی۔ بس میں اسی لیے علی(ع) کو گالی نہیں دے سکتا۔

(صحیح مسلم ج 4 ص 1871؛ سنن الترمذي ج 5 ص 301 ؛ فتح الباري ج 7 ص 60 ؛ السنن الكبري ج 5 ص 107 )

زمخشری نے ذکر کیا ہے کہ: قال الزمخشری والحافظ السيوطی: إنّه كان في أيّام بني اميّة أكثر من سبعين ألف منبر يلعن عليها عليّ بن أبي طالب بما سنّه لهم معاوية من ذلک ۔

زمخشری نے اپنی کتاب ربيع الابرار میں لکھا ہے کہ: معاویہ کے دور حکومت میں 80 ہزار منبروں سے علی(ع) پر سبّ و لعن کی جاتی تھی ۔ (ربيع الأبرار زمخشيري: 2/186؛ النصائح الكافية لمحمّد بن عقيل: 79، عن السيوطي ؛ الغدير: 2/102، 10/266 ؛ النص والاجتهاد: 496)

ابن ابی الحدید نے ذکر کیا ہے کہ: إنّ معاوية أمر الناس بالعراق و الشام و غيرهما بسب علي(ع) و البراءة منه۔ و خطب بذلک علي منابر الإسلام ، و صار ذلک سنة في أيام بني أمية إلي أن قام عمر بن عبد العزيز رضي اللّه تعالي عنه فأزاله. و ذكر شيخنا أبو عثمان الجاحظ أن معاوية كان يقول في آخر خطبة الجمعة : اللّهم إن أبا تراب الحد في دينك ، و صد عن سبيلك فالعنه لعناً و بيلا ، و عذبه عذاباً أليماً و كتب بذلك إلي الافاق ، فكانت هذه الكلمات يشاربها علي المنابر ، إلي خلافة عمر بن عبد العزيز ۔

معاویہ کے دور حکومت میں نماز جمعہ کے خطبوں میں علی(ع) پر سبّ و لعن کرنا واجبات میں سے ایک واجب شمار ہوتا تھا بلکہ اس سے بالا تر کہ یہ کام اس وقت امت اسلامی میں ایک سنت کے طور پر رائج ہو چکا تھا۔ اس سبّ و لعن کو عمر ابن عبد العزیز نے ترک کروایا تھا۔

پس صلح نامے کی اس شقّ پر بھی معاویہ نے عمل نہیں کیا اور خلاف سنت رسول اہل بیت(ع) سے اپنی دشمنی کو جاری رکھا۔

شرط چہارم:

صلح نامے میں امام حسن(ع) نے معاویہ سے کہا کہ تم تمام شیعیان کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرو گے اور ان کے سارے حقوق کی رعایت کرو گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ معاویہ نے علی(ع) کے شیعوں کے ساتھ کیا کیا ؟ ابن ابی الحديد نے کہا ہے کہ: معاویہ نے سرکاری طور پر حکم دیا کہ جہاں پر شیعہ کو دیکھو اس کو قتل کر دو۔ اگر دو بندے گواہی دیں کہ فلاں بندے کا علی سے تعلق و رابطہ ہے تو اس بندے کی جان اور مال کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ابن ابي الحديد نے ایک بہت ہی درد ناک بات لکھی ہے کہ: حتّي إنّ الرجل ليقال له زنديق أو كافر أحبّ إليه من أن يقال شيعة علی۔

اگر کسی کو کہا جاتا کہ تم زندیق یا کافر ہو تو یہ اس کے لیے بہتر تھا کہ اس کو علی(ع) کا شیعہ کہا جائے۔( اللہ اکبر) (شرح نہج البلاغة ابن أبي الحديد ج 11 ص 44 ) ۔ علی بن جہم اپنے باپ کو لعنت کرتا تھا کہ اس نے کیوں میرا نام علی رکھا ہے،كان يلعن أباه، لم سمّاه عليّاً۔ (لسان الميزان ،ج4 ، ص 210 )

ابن حجر کہتا ہے کہ: كان بنو أمية إذا سمعوا بمولود اسمه علي قتلوه، فبلغ ذلك رباحاً فقال هو علي، و كان يغضب من علي، و يحرج علي من سماه به۔ بنی امیہ جب بھی سنتے تھے کہ فلاں نو مولود بچے کا نام علی ہے تو وہ اسکو قتل کر دیتے۔ (تہذيب التہذيب ،ج 7 ، ص 281)

صلح امام حسن علیہ السلام کے نتائج

اگرچہ امام مجتبٰی علیہ السلام کی صلح سخت حالات میں حقیقی مسلمانوں کے لئے بڑی صبر آزما اور تلخ تھی لیکن اس صلح کے اپنے بہت سے فوائد اور برکات بھی عالم اسلام کو نصیب ہوئے جنہیں ہم اختصار کے ساتھ ذیل میں بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
1 ۔ اسلام کی حفاظت:

امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد اچانک حالات اتنے بگڑے کہ اسلام پر ایک طرف تو خارجی دشمن حملہ کردینا چاہتا تھا تو دوسری طرف خود مسلمانوں کی صفوں میں موجود منافقین کا ایک بڑا اور قوی ٹولہ تھا اور چونکہ امام معصوم کا سب سے بنیادی فریضہ اسلام کی حفاظت اور شریعیت کی پاسداری ہوتا ہے لہذا امام حسن(ع) نے پسر ہندہ سے صلح کرکے اسلام کے سر سے تمام خطرات ٹال دئیے اور اسلام کی بقا اور اس کی تحفظ کی تقدیر کو بصورت دستاویز صلح تحریرکردیا۔ اسی بنا پر خود امام حسن علیہ السلام نے صلح کرنے کے دلائل میں سے ایک اسلام کی بقا کو قرار دیا ہے: مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں روئے زمین سے سچے مسلمانوں کا خاتمہ نہ ہوجائے اور کوئی ان میں سے باقی نہ بچے ۔لہذا میں نے صلح کرکے دین خدا کو بچانے کی کوشش کی ہے۔
2 ۔ قتل و غارتگری سے سے گریز:

جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں جب کسی علاقہ میں جنگ ہوتی ہے تو وہاں کے باشندوں کو بہت سی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پس اگر جنگ ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے ہو اور جنگ سے وہ مطلوبہ مقصد حاصل بھی ہورہا ہو تو ان تمام سختیوں اور مصائب کو برداشت کرنا اہمیت رکھتا ہے۔لیکن ایسی جنگ کہ جس سے مقصد حاصل نہ ہو اور صرف جس سے معاشرے میں مسائل و مشکلات میں اضافہ ہی ہو تو اس سے ہر سجھدار اور ہمدرد حکمراں کے لئے کنارہ کش ہونا ہی بہتر ہے اور اس زمانے میں معاویہ سے جنگ کی بھی یہی کیفیت تھی یعنی اگر معاویہ سے جنگ جاری رہتی تو اس سے مقصد کو کسی صورت حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خود امام حسن علیہ السلام معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کی غرض کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’میں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ معاویہ کے ساتھ صلح کرلوں اور جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ٹھنڈا کردوں اور اس کا مقصد تمہاری بھلائی اور خیر خواہی کے کچھ اور نہ تھا۔
3 ۔ سرکش معاویہ کو مہار کرنا:

صلح کے تمام شرائط اس امر کے غماز تھے کہ معاویہ حکومت کرنے کے سلسلہ میں امام حسن علیہ السلام کی تأئید کا محتاج ہے اور یہ صلح معاویہ کو اس چیز کا پایبند بناتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرے اور حدود الہی سے تجاوز نہ کرنے دے۔
اسی چیز کی جانب امام محمد باقر علیہ السلام اشارہ فرماتے ہیں جب آپ سے کسی صحابی نے سوال کیا: کہ کیسے امام حسن(ع) کے پاس مقام پیغمبر و علی(ع) ہے جبکہ انہوں نے خلافت کو معاویہ کے سپرد کردیا تھا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:خاموش ہوجاؤ! چونکہ امام مجتبٰی علیہ السلام خود بہتر طور پر جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے۔اگر امام حسن علیہ السلام صلح نہ کرتے تو اسلام میں بہت عظیم و خطرناک امر ظاہر ہوجاتا۔
4 ۔ لوگوں کے سامنے معاویہ کی حقیقت سے پردہ اٹھانا:

معاویہ مکر و فریب اور لوگوں کو دھوکہ دینے میں بہت ماہر تھا اور وہ اپنے مقام و مرتبہ کو لوگوں کی نگاہوں میں بلند دکھانے کے لئے کبھی اپنے کو رسول اللہ کا سالہ، کبھی شام کی حکومت کا ۲۰ برس کا تجربہ حاکم،کبھی امت کی بھلائی کا ڈھنڈورہ پیٹنے والا بنتا تھا اور ان سب چیزوں سے وہ لوگوں پر یہ عیاں کرنا چاہتا تھا کہ ہم تو پابند عہد ہیں اور صلح چاہتے ہیں اور حسن صلح سے بھاگ رہے ہیں۔لیکن جیسے ہی صلح ہوئی اور معاویہ نے اپنی اصلیت دکھانا شروع کردی اور لوگوں پر اس کی حقیقت آشکار ہوگئی۔
5 ۔ صلح ،قیام عاشورا کی تمہید:

معاویہ نے اپنے علنی اعتراف اور کردار کے ذریعہ صلح کے بہت سی شرطوں کو پیروں تلے روند دیا تھاچنانچہ معاویہ کی یہ مخالفتیں،اور لوگوں پر ظلم و تعدی سبب بنیں جن کے سبب لوگوں میں ایک بیداری کی لہر دوڑی اور انقلاب کربلا وجود میں آگیا جس کے اثرات اور برکتیں آج بھی عالم اسلام میں مشاہدہ کی جاسکتی ہیں۔
6 ۔ بنی امیہ کا تدریجی زوال:

امام حسن علیہ السلام نے صلح کے لئے وہ شرائط رکھے جن کی پابندی کرنا نسل بنی امیہ کی وبال جان بن گیا آخر کار وہ اپنی اصلی چولے سے باہر آنے لگے جس کے سبب عوام بیدار ہونے لگی اور بنی امیہ کی مکاریوں کو سمجھنے لگیں جس کے بعد بنی امیہ کی بساط لپیٹ دی گئی۔
7۔اہل بیت(ع) کی محبوبیت میں اضافہ:

امام حسن علیہ السلام نے معاویہ جسیے بد عہد کے ساتھ صلح کر کے اور اس کی پابندی کرکے اہل بیت(ع) کے درمیان مصلح اکبر اور لوگوں اور معاشرہ میں ایک خیرخواہ رہبر اور ہمدرد امام کے طور پر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لی یہی وجہ ہے کہ آج بھی اہل بیت (ع) کے مکتب کو دنیا میں ہدایت و سعادت کا مکتب تصور کیا جاتا ہے جس سے دل آپ حضرات کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔چنانچہ عباسیوں نے لوگوں کے دلوں میں موجود اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی اسی محبت اور اہل بیت کے حق ان تک پہونچانے کا نعرہ لگاکر اپنے قیام کا آغاز کیا اور خاندان رسول اللہ(ص) کی محبوبیت کے سبب کامیاب ہوگئے۔

شیطان سے نجات کا بہترین نسخہ

شیطان سے نجات کا بہترین نسخہ

مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

اَلا اُخْبِرُکُمْ بِشَیْ‏ءٍ اِنْ اَنـْتُمْ فَعَلْتُموهُ تَباعَدَ الشَّیْطانُ مِنْـکُمْ کَما تَباعَدَ الْمَشْرِقُ مِنَ الْمَغْرِبِ؟ قالوا:بَلی، یا رسول اللّه قالَ:اَلصَّوْمُ یُسَوِّدُ وَجْهَهُ وَ الصَّدَقَةُ تَـکْسِرُ ظَهْرَهُ وَ الْحُبُّ فِی اللّه‏ وَ الْمُوازَرَةُ عَلَی الْعَمَلِ الصّالِحِ یَقْطَع دابِرَهُ وَ الاْسْتِغْفارُ یَقْطَعُ وَ تینَهُ و لکلّ شی‏ء زکاة و زکاة لأبدان الصّیام ۔ (۱)

کیا تمہیں ایسی چیز کی خبر دوں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو تم سے شیطان دور ہوجائے گا جیسے کہ مشرق اور مغرب ایک دوسرے سے دور ہیں ، روای نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں نہیں ؟ انحضرت نے فرمایا : روزہ شیطان کے چہرہ کو سیاہ کردیتا ہے ، صدقہ شیطان کی پشت توڑ دیتا ہے ، خدا سے محبت اور نیک عمل انجام دینے سے شیطان کی جڑیں کٹ جاتی ہیں ، اور استغفار سے شیطان کی شہ رگ حیات کٹ جاتی ہے ، [جان لو] ہرچیز کی ذکات ہے اور بدن کی ذکات روزہ ہے ۔

مختصر تشریح

«روزه، بدن کی زکات»

خدا کے بندوں کا ایک وظیفہ اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ہے ، خدا کی نعمت کے شکر کے معنی اس کا صحیح استعمال ہے ، روایات میں بیان ہوا ہے کہ علم کی زکات اس کا نشر کرنا اور دوسروں کو تعلیم دینا ہے ، اسی طرح صحت اور عافیت کی زکات روزہ رکھنا ہے ، روزے کے انسان کے جسم اور روح پر بہت سارے فائدے ہیں ، اس طرح کی مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا «صوموا تصحوا ، روزہ رکھو تاکہ صحت مند رہ سکو»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ:

۱: قطب راوندی، سعید بن هبۃ ‌الله ، منهاج البراعۃ ،ج 7، ص

لوگوں سے نرمی سے بات کرو

لوگوں سے نرمی سے بات کرو

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : وَ قُولُوا لِلنَّاسِ‏ كُلِّهِمْ‏ حُسْناً مُؤْمِنِهِمْ وَ مُخَالِفِهِمْ: أَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَيَبْسُطُ لَهُمْ وَجْهَهُ وَ بِشْرَهُ. وَ أَمَّا الْمُخَالِفُونَ فَيُكَلِّمُهُمْ بِالْمُدَارَاةِ- لِاجْتِذَابِهِمْ‏ إِلَى الْإِيمَانِ، فَإِنْ يَيْأَسْ‏ مِنْ ذَلِكَ يَكُفَّ شُرُورَهُمْ عَنْ نَفْسِهِ، وَ عَنْ إِخْوَانِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ (۱)

لوگوں کے ساتھ چاہے مومن ہو چاہے مخالف ، نرمی سے بات کرو ، البتہ مومن کے ساتھ خوش اخلاقی اور خوش روی کے ساتھ پیش آؤ اور مخالفین کے ساتھ گفتگو میں نرم لب و لہجہ اپناؤ تاکہ انہیں اپنی طرف کھینچ سکو ، اگر انہیں اپنی جانب لانے میں ناکام رہے اور مایوس ہوگئے تو اِس نرم لب و لہجہ کی وجہ سے اپنے اور اپنے دینی بھائیوں سے شر کو دور رکھ سکو گے ۔

اگاہ رہو ! میرے ماں اور باپ ان لوگوں پر قربان جو ان لوگوں میں سے ہیں جن کے نام آسمانوں میں معروف اور زمین میں گمنام ہیں ۔

حوالہ:

۱: مجلسی ، محمد باقر ، بحار الأنوار ، ج ‏68 ، ص ، 309 ۔

بد اخلاق کی توبہ قبول نہیں


بد اخلاق کی توبہ قبول نہیں

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
اَبَى اللّه لِصاحِبِ الْخُلْقِ السَّيِّى ءِ بِالتَّوبَةِ. فَقيلَ: يا رَسول اللّه ، وَ كَيْفَ ذلِكَ ؟ قالَ: لاِنـَّهُ اِذا تابَ مِنْ ذَنـْبٍ وَقَعَ فى اَعْظَمَ مِنَ الذَّنـْبِ الّذى تابَ مِنْهُ ۔ (1)

خداوند متعال بد اخلاق انسان کی توبہ قبول نہیں کرتا ، آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا ، کیوں ؟ آنحضرت (ص) نے فرمایا : کیوں کہ جب بھی کسی گناہ سے توبہ کرے گا توبہ کی ہوئی گناہ سے بدتر گناہ کا شکار ہو جائے گا ۔

نیز امام علی علیہ السلام نے فرمایا :
_عَوِّدْ اُذُنـَكَ حُسْنَ الاِسْتِماعِ وَ لا تُصغِ اِلى ما لا يَزيدُ فى صَلاحِكَاستِماعُهُ فَاِنَّ ذلِكَ يُصدِئُ الْقُلوبَ وَ يوجِبُ الْمَذامَّ ۔ (2)_

اپنے کانوں کو اچھی باتیں سننے کا عادی بناؤ اور جو کچھ بھی تمہارے حق میں بہتر اور صحیح نہیں ہے اسے ہرگز نہ سنو کیوں کہ اس عمل سے دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے اور سرزنش و مذمت کا سبب بنتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ
1۔ مجلسی ، محمد باقر، بحارالأنوار، ج ۷۳، ص ۲۹۹، ح ۱۲۔
2 ۔ ابوالفَتح آمِدی ، غُرَرُ الحِکَم و دُرَرُ الکَلِم ، ح ۶۲۳۴ ۔

دوسروں کو تکلیف دینے سے پرھیز کرو


دوسروں کو تکلیف دینے سے پرھیز کرو

کتاب خصال میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے جبرئیل امین سے فرمایا :
«يَا جَبْرَئِيلُ عِظْنِی‏ فَقَالَ لَهُ يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ میتٌ وَ أَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ وَ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيهِ شَرَفُ‏ الْمُؤْمِنِ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ وَ عِزُّهُ كَفُّ الْأَذَى عَنِ النَّاسِ » ۔

اے جبرئیل ! مجھے نصیحت کرو ، جبرئیل امین نے کہا : اے محمد [ص] جس قدر دل کرے زندگی کرو کہ ایک دن موت آ کر رہے گی ، جس چیز سے چاہو دل لگاؤ کہ ایک دن اس سے جدا ہو جاؤ گے ، جو چاہو انجام دو کہ ایک دن اس کا نتیجہ دیکھو گے ، آگاہ رہو کہ مومن کی فضلیت یہ ہے کہ وہ راتوں میں [نماز شب کیلئے] بیدار ہوتا ہے اور مومن کی عزت یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے پرہیز کرتا ہے » ۔

حوالہ
شیخ حرعاملی ، وسائل الشیعه، ج۸، ص۱۴۶ ۔

رسول خدا (ص) بہترین آئیڈیل


رسول خدا (ص) بہترین آئیڈیل


قران کریم نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سلسلہ میں فرمایا :
_لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّهَ وَالْیَوْمَ الآخِرَ وَذَکَرَ اللَّهَ کَثِیرًا ۔ (1)_

کلمۂ ‘‘ اسوۃ‘‘ اچھے کاموں میں دوسرے کی پیروی اور تاسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، قرآن مجید میں یہ کلمہ دو بار دو عظیم الشان انبیاء کے لئے استعمال ہوا ہے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اور دوسرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بارے میں ۔

جنگ احزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا کردار تمام سپہ سالاروں کے لئے نمونہ عمل ہے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم لوگ جنگ کے ہنگامہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو اپنی پناہ گاہ قرار دے لیتے تھے اور آپ ہم سب کے مقابلے میں دشمن سے سب سے زیادہ نزدیک ہوتے تھے ،

(اتقینا برسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فلم یکن منا اقرب الی العدو منہ) ۔ (2)

یہ آیت جنگ احزاب کی آیتوں کے درمیان ہے لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا نمونہ عمل ہونا صرف جنگ احزاب سے مخصوص نہیں ہے بلکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم زندگی کے تمام میدانوں میں تمام مسلمانوں کے لئے ہمیشہ سب سے بہترین نمونہ ہیں ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ارشادات ، آپ کا عمل اور آپ کی تقریر(کسی عمل کے سامنے خاموشی) حجت ہے ،

(لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) ۔ (3)

منافقین اور دلوں کے بیمار افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے وعدوں کو فریب قرار دیتے تھے ، جب کہ اس کے بر خلاف اس آیت میں تذکرہ ہے کہ صاحبان ایمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ان وعدوں کو سچا اور حقیقی قرار دیتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ
1 : قران کریم ، سورہ احزاب ، ایت ٢١ ۔
2 : شيخی، حميد رضا ، پيامبر اعظم از نگاه قرآن و اهل بيت(ع) ، ص ۱۶۵ ۔
3 : قران کریم ، سورہ احزاب ، ایت ٢١ ۔

یکم مئی ، مزدور ڈے

یکم مئی
مزدور ڈے

بوجھ کندھوں سے کم کرو صاحب
فقط دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا

یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے، یہ دن منانے کا مقصد مزدوروں، محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل کرنے کیلئے آواز اٹھانا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا دن منایا جا رہا ہے، مزدور جو سب کی سنتا ہے لیکن اس کی سننے والا کوئی نہیں، یکم مئی کو ہر سال کی طرح یوم مزدور تو منایا جا رہا ہے لیکن محنت کش آج بھی روزی کمانے کا وسیلہ ڈھونڈے گا، دیہاڑی لگی تو کھائے گا ورنہ فاقہ اس کی صحت پر گراں نہیں گزرتا۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات


♦️ مزدور اور مزدوری کے بارے چند روایات

✍️ پيغمبر اکرم صلى‏ الله ‏عليه‏ و‏ آله وسلم
طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَة
زرق حلال کمانے کیلئے محنت مزدوری کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر واجب ہے
📚 جامع الاخبار (شعیری) ص ۱۳۹

✍️ حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم
الْعِبَادَةُ عَشَرَةُ أَجْزَاءٍ تِسْعَةُ أَجْزَاءٍ فِي طَلَبِ الْحَلَال
عبادت کے 10 حصے ہیں ان میں سے 9 حصے رزق و روزی کی تلاش میں محنت مزدوری کرنے میں ہیں
📚 مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل ج‏۱۳، ص

✍️ امام جعفر صادق علیہ السلام
ترك التجاره ينقص العقل
محنت مزدوری کا ترک کرنا ، عقل کو کم کر دیتا ہے
📚 کافی (ط-الاسلامیه) ج ۵ ، ص ۱۴۸ ، ح ۱

✍️ امام جعفر صادق علیه السلام
مَنْ طَلَبَ التِّجَارَةَ اسْتَغْنَى عَنِ النَّاس
جو کوئی کاروبار کرتا ہے وہ لوگوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
📚 کافی (ط-الاسلامیه) ج ۵ ، ص ۱۴۸ ، ح ۳

✍️ امام جعفر صادق علیه السلام
الْكَادُّ عَلَى عِيَالِهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّه
جو شخص اپنے گھر والوں کے رزق کیلئے محنت مزدوری کرتا ہے وہ اس جنگجو کی طرح ہے جو راہ خدا میں لڑتا ہے۔

📚 کافی (ط-الاسلامیه) ج ۵ ، ص ۸۸ ، ح ۱

انصاف کو کیسے عام کریں

انصاف کو کیسے عام کریں

اللہ تعالی نے انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد عدل و قسط کا قیام قرار دیا ہے۔
قرآن کریم کے مطابق رسولوں کے بھیجے جانے کا ایک ہدف یہ تھا لِيَقُومَ النّٰاسُ بِالْقِسْطِ‌
تاکہ لوگ خود انصاف کے تقاضے پورے کریں (سورہ حدید ، آیہ۲۵)۔

صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ص نے فرمایا:
إِنَّ الْمُقْسِطِينَ، عِنْدَ اللَّهِ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ. عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَ جَلَّ. وَ كِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ؛ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَ أَهْلِيهِمْ وَ مَا وَلُوا ۔ (صحيح مسلم ؛حدیث١٨٢٧)
بیشک انصاف کرنے والے لوگ الله کے ہاں نور کے منبروں پر جلوہ فگن ہونگے اللہ کے دائیں جانب اور اللہ کے ہاں دائیں بائیں کا فرق نہیں ہے(کیونکہ وہ جسم و جسمانیت سے پاک ہے)، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جس چیز پر انہیں سرپرستی دی گئی عدل و انصاف سے کام لیا۔ (مفہوم)

اب سوال یہ ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کیسے عام ہوگا؟

عدل ہر چیز کو اس کا اصل مقام دینے کا نام ہے۔ یعنی عدل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو چیز جہاں پر موجود ہے کیا وہیں رہنے لائق ہے یا اس کا مقام اس سے کم یا شاید اس سے بھی زیادہ ہے؟ کسی کو اس کے مقام سے نیچے لانا بھی عدل کے خلاف ہے، چنانچہ کسی کو اپنی شائستگی اور لیاقت سے اوپر لے جانا بھی عدل کے خلاف ہے۔
امام علی ع نے فرمایا:
العدل یضع الامور مواضعها
عدل ، امور کو اپنی واقعی جگہ پر رکھتا ہے۔ (نہج البلاغہ، حکمت429)

عدل و انصاف کے قیام کے لیے سب سے پہلی شرط اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ انصاف اپنی ذات سے شروع کریں۔ اپنی گفتار، رفتار ، سلوک اور رویوں میں انصاف رکھیں۔ تعصب، جانبداری اور ناحق موقف اپنانے سے یکسر پرہیز کو اپنا وتیرہ بنا لیں۔
دوسرا : شہداء للہ بنیں ۔
اپنی گواہی کو خالص کریں۔ گواہی صرف محکمے میں نہیں ہوتی۔ گواہی انسان کے مشاہدات کی لفظی شکل کا نام ہے۔ انسان جب اپنے مشاہدے کو حق کے اثبات میں لگا دیتا ہے تو شہداء للہ کا مصداق بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سنی سنائی کے بجائے مشاہدات پر تمرکز رکھنا اور مشاہدات میں دقیق ہونا ضروری ہے۔
مشاہدات سے حق کی تلاش اور پھر اسی حقیقت کا برملا اظہار چاہے وہ اپنے ہی مفادات کے خلاف ہو، عدل کا تقاضا ہے۔

تیسرا: ظلم کے خلاف حساس ہو جائیں۔ ہر ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ (و إنصاف كلّ مظلوم من ظالمه، و منع كلّ ظالم من ظلمه التفسير الكبير(الطبرانى) ج‏2 312)،
ظالم کا ساتھ کبھی نہ دیں۔ ہمیشہ مظلوم کے حق میں آواز اٹھائیں۔ (مجتهدين في إقامة العدل)، کشاف زمخشری، ج1، ص575‏
ظلم کی نوعیت کو سمجھیں اور ہمیشہ اس پر آواز اٹھائیں۔
یہ سب انفرادی درجات ہیں۔

اجتماعی سطح پر انصاف کو عام کرنے کے لیے کچھ تجاویز

بنیادی اصلاحات
سماجی عدل و انصاف کے لیے سماج کے اہم ترین نظامات کی اصلاح ضروری ہے۔
سماج میں انصاف کا پرچار تبھی ممکن ہے جب ملک کے اہم ترین ادارے عدل و انصاف کی بنیاد پر کھڑے ہونگے ۔ اداروں کاانسانی مساوات، برادری اور برابری پر قائم ہونا ضروری ہے۔
سرمایہ، قومیت، لسانیت، علاقائی تعصبات اس کی راہ میں اہم ترین رکاوٹیں ہیں۔

الف: سرمایہ
انسان مال و دولت اور ثروت کی بنیاد پر حق اور ناحق میں فرق بھلا دیتا ہے۔ اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔یہ رویہ سماج میں ناسور کی طرح پھیل چکا ہے۔ حکومتی ادارے سرمایہ کے نفوذ کو کم کرکے سرمایہ کے اثر و رسوخ کو کم کر سکتے ہیں۔حکومت کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ وہ کمزور انسان کو طاقتور کے چنگل سے نکال کر ان کا حق دلوائیں۔

ب: تعصبات
قومیت و لسانیت و مسلکیت جیسے عناصر انسانی تعصبات کو شہہ دیتے ہیں۔ اور انسانی مساوات کے سامنے رکاوٹ بنتے ہیں۔ سفارش کلچر کی ایک وجہ یہی تعصبات ہیں۔ اپنی پارٹی، اپنے مسلک اور اپنی ذات پات رشتہ داروں کو اداروں میں آگے لانے کی خواہش کتنے ہی با استعداد اور لائق انسانوں سے محروم کر دیتی ہے۔یہ ابتدائی اور غیرترقی یافتہ معاشروں کا کلچر تھا جو ہمارے سماج میں ابھی بھی رائج ہے۔
سفارش کلچر اور رشوت خوری دونوں انصاف کی راہ میں بہت بڑی دیوار ہیں۔ ان دیواروں کو مضبوط ارادوں اور شعوری بلندی کے بغیر نہیں گرایا جا سکتا۔ شفافیت سازی اس کا اہم ترین رکن ہے۔ معیار پر لوگ منتخب ہونگے تبھی معیار قائم ہوگا۔ ورنہ یہ باطل چرخہ تو چلتا رہے گا۔

2 ۔ درست قوانین :
قوانین کی اصلاح عدل و انصاف تک پہنچنے کی اہم سیڑھی ہے۔ ایسے قوانین جن سے معاشرے کے کمزور طبقات کا استحصال ہو رہا ہو، جہاں مظلوم کی فریاد نہ سنائی دے رہی ہو، جہاں انصاف ملتے ملتے عمریں گل سڑ جائیں، ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر بہتر قانون سازی انتہائی اہم قدم ہے۔
قوانین صاف شفاف، قابل عمل اور عدل و انصاف کی بنیاد پر وضع کیے جانے چاہییں۔

دوسرے ان قوانین کے نفاذ کا مصمم ارادہ موجود ہو۔ قوانین جتنے ہی اچھے ہوں، اگر انہیں نافذ العمل کرنے کی کوئی ترکیب نہ سوجھی جائے تو بیہودہ اور بے ثمر ہیں۔

3 ۔ اس کے لیے مضبوط سیاسی نظام ضروری ہے۔ جس میں اشرافیہ کلچر کا کوئی نام نشان نہ ہو، قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔ ایک روایت کے مطابق، رسول خدا( ص ) کے زمانے میں فاطمہ مخزومیہ نے چوری کر ڈالی، اسامہ بن زید نے سفارش کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا کہ گذشتہ اقوام اسی لیے برباد ہوئی ہیں کہ وہاں قانون صرف کمزور طبقات کے لیے تھا۔ خدا کی قسم اگر محمد(ص) کی بیٹی بھی جرم کرے گی تو سزا پائے گی۔ ( صحيح البخاري ؛ ج‏7 ؛ ص19)

امام علی ع نے اپنے دوران حکومت ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا :
_الذّلیل عندی عزیز حتی آخذ الحق له، والقوی عندی ضعیف حتی آخذ الحق منه_ (نہج البلاغہ،خطبہ37)
کمزور شخص میرے ہاں طاقتور ہے یہاں تک کے کہ اس کا حق لیکر اسے دوں اور طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں
یعنی معاشرے کا کمزور ترین فرد بھی ایک عادل حکمران پر بھاری ہے۔ کیونکہ وہ حقدار ہے اور حکمران کی ذمہ داری ہے کہ حق لیکر اسے دے۔ اور طاقتور کی طاقت ، اسلامی فلاحی ریاست کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
اگر اس نے کسی کا حق کھایا ہے تو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یہی وہ تعادل ہے جو اگر سماج میں برقرار ہو جائے تو عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

کبوتر بازی

گھر میں کبوتر رکھنا ؟

کبوتر ایک حلال گوشت پرندہ ہے. [1] کبوتر ، پالنا ان سرگرمیوں میں سے ایک ہے جو مختلف اقوام میں بہت مقبول ہے اور انسانی فطرت اس سے ہم آہنگ ہے. لیکن دینی ابحاث میں ، کبوتر پالنے اور کبوتر بازی میں بہت فرق ہے ، اور ان کا حکم بھی متفاوت ہے ۔ کبوتر‌ بازی میں کوئی حرج نہیں اگر دوسروں کیلئے پریشانی کا باعث نہ ہو البتہ اچھا کام بھی نہیں ہے .[2] روایات میں ذکر ہوا ہے کہ کبوتر پالنا مستحب ہے اور اس کے اثرات بھی ہیں. یہاں ہم ایسی روایات کو ذکر کریں گے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کے گھروں میں بھی کبوتر تھے۔

آئمه اطهار(علیہم السلام)کا کبوتر پالنا

1️⃣ ابو حمزه ثمالى کہتے ہیں : میرے پوتے کے چند کبوتر تھے میں نے غصے میں انہیں ذبح کر دیا. [کچھ عرصہ بعد] مکہ گیا قبل از طلوع آفتاب امام باقر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا . جب سورج طلوع ہوا ، تو بہت سارے کبوتر وہاں دیکھے، سوچا کہ امام سے کبوتر پالنے کے مسائل پوچھوں گا اور لکھوں گا ابھی سوچ رہا تھا کہ میں نے تو کبوتروں کو ذبح کر دیا تھا اگر کبوتر پالنے میں خیر نہ ہوتا تو امام علیہ السلام کیوں پالتے، امام(ع) نے فرمایا: « تم نے سارے کبوتر ذبح کر کے اچھا کام نہیں کیا۔۔۔»۔ [3]

2️⃣ عبد الکریم بن صالح کہتا ہے : میں امام صادق(ع) کے پاس گیا ، دیکھا کہ تین سرخ کبوتر امام کے بستر پر بیٹھے ہیں اور اپنے فضلہ سے بستر کو خراب کر رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی قربان جاؤں انہوں نے آپ کا بستر گندا کر دیا ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : «کعوئی مسئلہ نہیں ، بہتر ہے کہ گھر میں رہیں».[4]

3️⃣ محمّد بن کرامه کہتے ہیں: میں نے امام موسى بن جعفر(ع) کے گھر ایک جوڑا کبوتروں کا دیکھا جن کے پر سبز اور تھوڑے سرخ تھے ، امام ان کیلئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر رہے تھے. [5] اس کے علاؤہ بھی کبوتر پالنے کی تاکید موجود ہے ۔

4️⃣ زید شحام نقل کرتے ہیں: امام صادق(ع) کے سامنے کبوتروں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: « گھروں میں کبوتر رکھا کرو، اچھا ہوتا ہے».[6]

گھروں میں کبوتر پالنے کے اثرات روایات میں ذکر ہوئے ہیں بطور نمونہ چند یہ ہیں

شیاطین گھر سے دور رہتے ہیں

امام صادق(ع) نے فرمایا:

«کبوتر انبیاء کرام کے پرندوں میں سے ہیں جو وہ گھروں میں رکھتے تھے ، جس گھر میں کبوتر ہوں وہاں جن اہل خانہ کو نقصان نہیں پہنچاتے ؛ کیونکہ سفهاء جن گھر میں کبوتروں سے کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں اور اہل خانہ کو تنگ نہیں کرتے».[7] امام صادق(ع) سے ایک اور جگہ نقل ہوا ہے کبوتروں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے، شیاطین بھاگ جاتے ہیں .[8]

گھر کی حفاظت

امام صادق(ع) نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ یَدْفَعُ بِالْحَمَامِ عَنْ هَدَّةِ الدَّار»؛[9] خدا وند کبوتروں کے وسیلہ سے گھروں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے . منظور از «هَدَّةِ الدَّارِ» گھر کی تباہی کا معنی بھی اور گھر کے ضعیف افراد کو ضرر سے بچانا بھی ہے .[10]

رفع تنہائی

ایک شخص نے پیغمبر خدا (ص) سے تنہائی کے خوف کی شکایت کی. پیغمبر(ص) نے اسے فرمایا: «ایک جوڑا کبوتر لے لو ».[11]

امام صادق(ع) نے فرمایا:

«میرے ساتھ گھر میں کبوتر رکھو تاکہ میرے ہمدم بنیں» ۔[12]

حوالہ جات

[1]. امام خمینی، توضیح المسائل (محشّی)، گردآورنده، بنی‌هاشمی خمینی، سید محمدحسین، ج 2، ص 594، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ هشتم، 1424ق.

[2]. برای اطلاعات بیشتر ر.ک: 12685؛ حکم کبوتر بازی

[3]. عبد الله بن بسطام، حسین بن بسطام، طبّ الأئمة(ع)‏، محقق: خرسان، محمد مهدى‏، ص 111، قم‏، دار الشریف الرضی‏، چاپ دوم‏، 1411ق‏.

[4]. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق، غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج 6، ص 548، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ چهارم، 1407ق.

[5]. طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، ص 130، قم، شریف رضی، چاپ چهارم، 1412ق.

[6]. الکافی، ج ‏6، ص 547؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعة، ج 11، ص 517، قم، مؤسسه آل البیت(ع)، چاپ اول، 1409ق.

[7]. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 60، ص 93، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ق؛ شیخ حر عاملی، هدایة الأمة إلی أحکام الأئمة(ع)، ج 5، ص 127، مشهد، مجمع البحوث الإسلامیة، چاپ اول، 1414ق.

[8]. شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیه، محقق، غفاری، علی اکبر، ج 3، ص 350، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1413ق.

[9]. الکافی، ج ‏6، ص 547.

[10].بحار الأنوار، ج ‏62، ص 19.

[11]. مکارم الأخلاق، ص 129.

[12]. الکافی، ج ‏6، ص 548؛ فیض کاشانی، محمد محسن، الوافی، ج 20، ص 857، اصفهان، کتابخانه امام أمیر المؤمنین علی(ع)، چاپ اول، 1406ق.