آیات روزہ

آیات روزہ

1. ٰیٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (البقرة، 2: 183)

اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

2. فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ (البقرة، 2: 185)

پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

3. وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۔ (الفرقان، 25: 63)

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لئے سجدہ ریزی اور قیامِ (نِیاز) میں راتیں بسر کرتے ہیں۔

4. تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۔ (السجدة، 32: 16)

ان کے پہلو اُن کی خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں۔

5. وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ ﷲ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ ﷲ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الأحزاب، 33: 35)

اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لیے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے۔

6. یٰـٓاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُo قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاًo نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاo اَوْزِدْ عَلَیْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاًo اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًاo اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلًا۔ اِنَّ لَکَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۔ (المزمل، 73: 1-7)

اے کملی کی جھرمٹ والے(حبیب!)۔ آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لیے)۔ آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں۔ یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں۔ ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے۔ بے شک رات کا اُٹھنا (نفس کو) سخت پامال کرتا ہے اور (دِل و دِماغ کی یکسوئی کے ساتھ) زبان سے سیدھی بات نکالتا ہے۔ بے شک آپ کے لیے دن میں بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں۔

7. وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّاَصِیْلًاo وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَسَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا۔ (الإنسان، 76: 25-26)

اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں۔ اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں۔

قرآن کے بارے میں چالیس حدیثیں

قرآن کے بارے میں چالیس حدیثیں

1۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ الْعَزِيزَ الْجَبَّارَ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ كِتَابَهُ وَ هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ فِيهِ خَبَرُكُمْ وَ خَبَرُ مَنْ قَبْلَكُمْ وَ خَبَرُ مَنْ بَعْدَكُمْ وَ خَبَرُ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ وَ لَوْ أَتَاكُمْ مَنْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ لَتَعَجَّبْتُمْ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عزیز و جبار نے تم پر اپنی کتاب نازل فرمائی؛ جبکہ وہ (اللہ) صادق اور نیک خواہ اور نیکی کرنے والا ہے؛ اس کتاب میں تمہاری خبر بھی ہے اور تم سے پہلے گذرنے والوں کی خبر بھی ہے اور بعد میں آنے والوں کی خبر بھی ہے؛ اور اس میں آسمان و زمیں کی خبر بھی ہے تاہم اگر کوئی تمہارے پاس آکر ان چیزوں کی خبر دے تو تم تعجب کرتے ہو۔

2۔ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه و آله و سلم أَنَا أَوَّلُ وَافِدٍ عَلَى الْعَزِيزِ الْجَبَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ كِتَابُهُ وَ أَهْلُ بَيْتِي ثُمَّ أُمَّتِي ثُمَّ أَسْأَلُهُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَ بِأَهْلِ بَيْتِي۔

حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: میں سب سے پہلا فرد ہوں کہ روز قیامت خدائی عزیز و جبار کی بارگاہ میں حاضر ہونگا اور اس کی بعد خدا کی کتاب اور میری اہل بیت علیہم السلام ہونگی اور اس کی بعد میری امت حاضر ہوجائی گی اور میں ان سے پوچھ لونگا کہ "تم نے کتاب خدا اور میری اہل بیت علیہم السلام کی ساتھ کیسا سلوک روا رکھا"۔

3۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ فِيهِ مَنَارُ الْهُدَى وَ مَصَابِيحُ الدُّجَى فَلْيَجْلُ جَالٍ بَصَرَهُ وَ يَفْتَحُ لِلضِّيَاءِ نَظَرَهُ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ حَيَاةُ قَلْبِ الْبَصِيرِ كَمَا يَمْشِي الْمُسْتَنِيرُ فِي الظُّلُمَاتِ بِالنُّورِ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بی شک یہ قرآن (ایسی کتاب) ہی جس میں ہدایت کی میںار، شب دیجور کے (لئے درکار) چراغ، ہیں پس انسان کو تیزبین اور زیرک ہونا چاہئے کہ اس میں غور کرے اور اس کی روشنی کی کرنوں کے لئے اپنی آنکھیں کھول دے کیونکہ غور و تفکر بصیر دلوں کی حیات ہے گویا کہ وہ دلِ بینا نور کے ذریعے تاریکیوں میں راہ پیمائی کرتا ہے۔

4۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام كَانَ فِي وَصِيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَصْحَابَهُ اعْلَمُوا أَنَّ الْقُرْآنَ هُدَى النَّهَارِ وَ نُورُ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ عَلَى مَا كَانَ مِنْ جَهْدٍ وَ فَاقَةٍ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: جان لو کہ قرآن دن کے وقت ہدایت اور اندھیری راتوں کی روشنی ہے خواہ (اس کی روشنی ڈھونڈنے والا اور اس سے راہنمائی حاصل کرنے والا) شخص مشقت اور ناداری کا شکار ہو (کیونکہ غربت و مشقت اس شخص کو قرآن سے باز نہیں رکھتی بلکہ اس کی رغبت میں اضافہ کرتی ہے)۔

5۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ آبَائِهِ عليه السلام قَالَ شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی الله علیه و آله وَجَعاً فِي صَدْرِهِ فَقَالَ صلی الله علیه و آله ‍ اسْتَشْفِ بِالْقُرْآنِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ يَقُولُ وَ شِف اءٌ لِم ا فِي الصُّدُورِ۔

امام صادق علیہ السلام اپنے آباء طاہرین سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سینے کے درد کی شکایت کی تو آپ صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: قرآن سے شفاء حاصل کرو کیونکہ خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے: "یہ قرآن شفاء ہے ان دکھوں کے لئے جو سینوں میں ہیں"۔(سورہ يونس آيت 57)۔

6۔ عن ابي بصير قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ الْقُرْآنَ زَاجِرٌ وَ آمِرٌ يَأْمُرُ بِالْجَنَّةِ وَ يَزْجُرُ عَنِ النَّارِ۔

ابوبصير کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک قرآن باز رکھنے والا اور فرمان دینے والا ہے؛ جنت کا فرمان دیتا ہے اور دوزخ سے باز رکھتا ہے۔

7۔ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام لَوْ مَاتَ مَنْ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَمَا اسْتَوْحَشْتُ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ الْقُرْآنُ مَعِي وَ كَانَ عليه السلام إِذَا قَرَأَ م الِكِ يَوْمِ الدِّينِ يُكَرِّرُهَا حَتَّى كَادَ أَنْ يَمُوتَ۔

زھری کہتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: اگر مشرق اور مغرب کے مابین رہنے والے تمام لوگ مر جائیں میں تنہائی سے ہراساں نہیں ہونگا جب کہ قرآن مجید میرے پاس ہو؛ اور حضرت سجاد عليہ السلام کا شيوہ تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت جب سورہ فاتحہ کی آیت "مالك يوم الدين" پر پہنچتے تو اسے اس قدر زیادہ دہراتے کہ موت کے قریب پہنچ جاتے۔

8۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه و آله و سلم إِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ فِي أَعْلَى دَرَجَةٍ مِنَ الْآدَمِيِّينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَ الْمُرْسَلِينَ فَلَا تَسْتَضْعِفُوا أَهْلَ الْقُرْآنِ حُقُوقَهُمْ فَإِنَّ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْجَبَّارِ لَمَكَاناً عَلِيّاً۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: بے شک قرآن والے انسانوں کے بلندترین درجات پر فائز ہیں سوائے انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کے؛ پس قرآن والوں کے حقوق کو کم اور ناچیز مت سمجھو کیونکہ خدائے عزیز و جبار کی کی بارگاہ میں بہت اونچے مقام پر فائز ہیں۔

9۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ الْحَافِظُ لِلْقُرْآنِ الْعَامِلُ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن پر عمل پیرا حافظین قرآن ان فرشتوں کے ہم نشین ہیں جو خدا کے سفیر اور عزت دار اور نیک کردار ہیں۔

10۔ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَهُوَ غَنِيٌّ وَ لَا فَقْرَ بَعْدَهُ وَ إِلَّا مَا بِهِ غِنًى۔

معاويہ بن عمار کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھے وہ بےنیاز اور غنی ہوجاتا ہے اور جس کو قرآن بے نیاز اور غنی نہ کرے کوئی بھی چیز اسے بے نیاز نہیں کرسکے گی۔

11۔ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه و آله و سلم‍ يَا مَعَاشِرَ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ اتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فِيمَا حَمَّلَكُمْ مِنْ كِتَابِهِ فَإِنِّي مَسْئُولٌ وَ إِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ إِنِّي مَسْئُولٌ عَنْ تَبْلِيغِ الرِّسَالَةِ وَ أَمَّا أَنْتُمْ فَتُسْأَلُونَ عَمَّا حُمِّلْتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّتِي۔

حضرت باقر عليہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: اے قرآن کے قاریو! خدائے عز و جل سے ڈرو ان چیزوں کے حوالے سے جو اس نے اپنی کتاب میں سے تمہیں عطا کی ہیں کیونکہ مجھ سے بھی سوال ہوگا اور تم سے بھی سوال ہوگا؛ مجھ سے اپنی رسالت و تبلیغ کا سوال ہوگا اور تم سے سوال ہوگا ان چیزوں کے حوالے سے جو قرآن و سنت میں سے تمہارے پاس ہے۔

12۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه و آله و سلم حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ الْمُجْتَهِدُونَ قُوَّادُ أَهْلِ الْجَنَّةَ وَ الرُّسُلُ سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةَ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: قرآن کے حامل افراد جنت والوں کے نمائندے اور ان کے سرپرست ہیں اور مجتہدین جنت والوں کے راہنما ہیں اور اانبیاء اور رسل علیہم السلام جنت والوں کے سردار ہیں۔

13۔ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ الَّذِي يُعَالِجُ الْقُرْآنَ وَ يَحْفَظُهُ بِمَشَقَّةٍ مِنْهُ وَ قِلَّةِ حِفْظٍ لَهُ أَجْرَانِ۔

فضيل بن يسار کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جو شخص قرآن کے سلسلے میں رنج و مشقت برداشت کرے اور حافظے کی کمزوری کے باوجود اسے حفظ کرے اس کے لئے دو اجر ہیں۔

14۔ عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ سَيَابَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ مَنْ شُدِّدَ عَلَيْهِ فِي الْقُرْآنِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ وَ مَنْ يُسِّرَ عَلَيْهِ كَانَ مَعَ الْأَوَّلِينَ۔

صباح بن سيابہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جو شخص قرآن کو سختی کے ساتھ سیکھے اس کے لئے دو اجر ہیں اور جو شخص آسانی سے سیکھ لے وہ اولین کا ہم نشین ہے۔

توضيح : علامه مجلسى (رح) لکهتے ہیں: شايد اولین سے مراد وہ لوگ ہوں جو خدا اور رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم پر ایمان لانے میں سبقت لے گئے ہیں۔

15۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ لَا يَمُوتَ حَتَّى يَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ أَوْ يَكُونَ فِي تَعْلِيمِهِ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ قرآن سیکھنے یا سکھانے سے قبل دنیا سے رخصت نہ ہو۔ (یعنی انسان کو مرنے سے قبل قرآن سیکھنا چاہئے یا قرآن سکھاتا ہوا دنیا سے رخصت ہو)۔

16۔ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مَنْ نَسِيَ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ مُثِّلَتْ لَهُ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ وَ دَرَجَةٍ رَفِيعَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا رَآهَا قَالَ مَا أَنْتِ مَا أَحْسَنَكِ لَيْتَكِ لِي فَيَقُولُ أَ مَا تَعْرِفُنِي أَنَا سُورَةُ كَذَا وَ كَذَا وَ لَوْ لَمْ تَنْسَنِي رَفَعْتُكَ إِلَى هَذَا۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص (قرآن کی سورتیں حفظ کرکے) کوئی سورت بھول جائے وہ سورت قیامت کے روز اس کے سامنے نہایت حسین و جمیل صورت اور نہایت اونچے مرتبے میں نمودار ہوتی ہے؛ جب وہ شخص اس سورت کو اس حالت میں دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے تو کون ہے! تو کتنی حسین و جمیل ہے! کاش تو میرے لئے ہوتی! سورت جواب دے گی: کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ میں فلان سورت ہوں؛ تو اگر مجھے نہ بھولتا تو میں تجھے اسی مقام تک پہنچا دیتی۔

17۔ عَنْ يَعْقُوبَ الْأَحْمَرِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ عَلَيَّ دَيْناً كَثِيراً وَ قَدْ دَخَلَنِي مَا كَانَ الْقُرْآنُ يَتَفَلَّتُ مِنِّي فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام الْقُرْآنَ الْقُرْآنَ إِنَّ الْآيَةَ مِنَ الْقُرْآنِ وَ السُّورَةَ لَتَجِي ءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى تَصْعَدَ أَلْفَ دَرَجَةٍ يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقُولُ لَوْ حَفِظْتَنِي لَبَلَغْتُ بِكَ هَاهُنَا۔

يعقوب احمر کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق عليہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: میں بہت زیادہ مقروض ہوں اور اس قدر رنج و مشقت میں مبتلا ہوں یہاں تک کہ رنج و غم کی وجہ سے قرآن میرے ذہن سے نکل گیا ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن، قرآن، بے شک قرآن کی ایک آیت اور اس کی ایک سورت قیامت کے روز آئے گی ہزار درجے اونچائی پر صعود کرے گی یعنی جنت میں، اور کہے گی: اگر تم مجھے حفظ کرتے تو میں تمہیں اس مقام پر پہنچاتی۔

18۔ عَنْ أَبِي كَهْمَسٍ الْهَيْثَمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثاً أَ عَلَيْهِ فِيهِ حَرَجٌ قَالَ لَا۔

ابو كہمس کہتے ہیں: میں نے امام صادق عليہ السلام سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جس نے قرآن پڑہا ہے اور پھر اسے بھول گیا ہے؛ اور میں نے تین مرتبہ دریافت کیا کہ کیا اس شخص پر کوئی حرج اور کوئی عیب ہے؟ اور امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نہیں۔

19۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ الْقُرْآنُ عَهْدُ اللَّهِ إِلَى خَلْقِهِ فَقَدْ يَنْبَغِي لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ أَنْ يَنْظُرَ فِي عَهْدِهِ وَ أَنْ يَقْرَأَ مِنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ خَمْسِينَ آيَةً۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن مخلوقات کے ساتھ اللہ تعالی کا عہد و پیمان اور اس کا فرمان ہے پس مسلمان کے لئے ضروری ہے خدا کے ساتھ اپنے اس عہد و پیمان پرغور کرے اور ہر روز اس کی 50 آیتوں کی تلاوت کرے۔

20۔ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليه السلام يَقُولُ آيَاتُ الْقُرْآنِ خَزَائِنُ فَكُلَّمَا فُتِحَتْ خِزَانَةٌ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَنْظُرَ مَا فِيهَا۔

زہرى کہتے ہیں: میں نے حضرت على بن الحسين زین العابدین علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن کی آیتین خزانے ہیں پس ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تم ایک خزانے کا دروازہ کھولتے ہو تو اس پر نظر ڈالو اور اس میں غور کریں۔

21۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ إِنَّ الْبَيْتَ إِذَا كَانَ فِيهِ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ يَتْلُو الْقُرْآنَ يَتَرَاءَاهُ أَهْلُ السَّمَاءِ كَمَا يَتَرَاءَى أَهْلُ الدُّنْيَا الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي السَّمَاءِ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس گھر میں ایک مسلمان شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے آسمان والے اس گھر پر نظر رکھتے ہیں جس طرح کہ زمیں والے آسمان میں موجود چمکتے ستارے کی طرف دیکھتے ہیں۔

22۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ مَا يَمْنَعُ التَّاجِرَ مِنْكُمُ الْمَشْغُولَ فِي سُوقِهِ إِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَنْ لَا يَنَامَ حَتَّى يَقْرَأَ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَتُكْتَبَ لَهُ مَكَانَ كُلِّ آيَةٍ يَقْرَؤُهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَ يُمْحَى عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: وہ کونسی چیز ہی جو بازار میں مصروف تاجر کو گھر لوٹنے کے بعد سونے سے باز رکھ سکے حتی کہ وہ قرآن کی ایک سورت کی تلاوت کرے؟ پس ہر آیت کے بدلے اس کے لئے دس حسنات لکھے جائیں اور دس گناہ اس کے عمل نامے سے مٹا دیئے جائیں؟

23۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عليه السلام يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه و آله و سلم خَتْمُ الْقُرْآنِ إِلَى حَيْثُ تَعْلَمُ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میں نے اپنے والد ماجد (امام محمد باقر علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ختم قرآن اسی مقام تک ہے جو تم خود جانتے ہو۔

وضاحت:

يعنی ختم قرآن اسی مقام تک ہے جہاں تک تم تلاوت کرسکتے ہو اور جتنا تم نے قرآن سیکھ لیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد یہ ہو کہ قرآن صرف یہی نہیں ہے جو تم سیکھ لیتے ہو اور اس کے مفاہیم و معانی کثیر ہیں لیکن تمہیں ختم قرآن کا اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ تم نے سیکھ لیا ہے اور جتنی دانش تم نے قرآن سے حاصل کی ہے۔

24۔ عن أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي الْمُصْحَفِ مُتِّعَ بِبَصَرِهِ وَ خُفِّفَ عَنْ وَالِدَيْهِ وَ إِنْ كَانَا كَافِرَيْنِ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص قرآن مجید کو سامنے رکھ کر اس کی تلاوت کرے وہ اپنی آنکھوں سے بہرہ مند ہوگا اور اس کی قرأت اس کے والدین کے عذاب میں کمی کا باعث ہوگی خواہ وہ (والدین) کافر ہی کیوں نہ ہوں۔

25۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ مُصْحَفٌ يَطْرُدُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِهِ الشَّيَاطِينَ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مجھے بہت پسند ہے کہ ہر گھر میں ایک قرآن ہوتا کہ خداوند عز و جل اس کے وسیلے سے شیاطین کو اس گھر سے دور کردے۔

26۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ ثَلَاثَةٌ يَشْكُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ مَسْجِدٌ خَرَابٌ لَا يُصَلِّي فِيهِ أَهْلُهُ وَ عَالِمٌ بَيْنَ جُهَّالٍ وَ مُصْحَفٌ مُعَلَّقٌ قَدْ وَقَعَ عَلَيْهِ الْغُبَارُ لَا يُقْرَأُ فِيهِ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین چیزیں ہیں جو خداوند متعال کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہیں: وہ ویراں مسجد جس کے اہالیان اس میں نماز ادا نہیں کرتے؛ وہ عالم و دانشور جو نادانوں اور جاہلوں میں گھرا ہوا ہو اور قرآن جس پر گرد بیٹھی رہتی ہو اور کوئی اسے پڑھتا نہیں ہو۔

27۔ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ مَنْ لَمْ يُبْرِئْهُ الْحَمْدُ لَمْ يُبْرِئْهُ شَيْءٌ۔

سلمة بن محرز کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جس شخص کو سورہ فاتحہ بہتری (بیماریوں، پلیدیوں، قباحتوں اور برائیوں سے) پاک اور دور نہ کردے کوئی چیز بھی اس کو پاک نہیں کرسکے گی۔

28۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنِّي أَحْفَظُ الْقُرْآنَ عَلَى ظَهْرِ قَلْبِي فَأَقْرَؤُهُ عَلَى ظَهْرِ قَلْبِي أَفْضَلُ أَوْ أَنْظُرُ فِي الْمُصْحَفِ قَالَ فَقَالَ لِي بَلِ اقْرَأْهُ وَ انْظُرْ فِي الْمُصْحَفِ فَهُوَ أَفْضَلُ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّظَرَ فِي الْمُصْحَفِ عِبَادَةٌ۔

اسحاق بن عمار کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق عليہ السلام سے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں میں حافظ قرآن ہوں (آپ فرمائیں کہ) میں اسے ازبر پڑھوں بہتر ہے یا قرآن مجید کو سامنے رکھ کر تلاوت کروں تو بہتر ہے؟

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور قرآن کو سامنے رکھ کر اسے دیکھا کرو؛ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے؟

29۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه و آله ‍ صَلَّى عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لَقَدْ وَافَى مِنَ الْمَلَائِكَةِ سَبْعُونَ أَلْفاً وَ فِيهِمْ جَبْرَئِيلُ عليه السلام يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ يَا جَبْرَئِيلُ بِمَا يَسْتَحِقُّ صَلَاتَكُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بِقِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَائِماً وَ قَاعِداً وَ رَاكِباً وَ مَاشِياً وَ ذَاهِباً وَ جَائِياً۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (جنگ خندق میں زخمی ہونے اور بنو قریظہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے شہید) معاذ بن جبل کی میت پر نماز ادا کی؛ اور فرمایا: ستر ہزار فرشتے بھی آئے تھے جنہوں نے سعد کی نماز جنازہ میں شرکت کی؛ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا: اے جبرائیل سعد بن معاذ کس عمل کی وجہ سے تم (فرشتوں) کی نماز کے مستحق ٹہرے؟

جبرائیل علیہ السلام نے کہا: (وہ فرشتوں کی نماز کے لائق ٹہرے کیونکہ) وہ ہر حال میں سورہ اخلاص (قل ہو اللّہ احد ۔۔۔) کی تلاوت کرتے رہتے تھے اٹھک بیٹھک میں بھی سواری کے وقت بھی اور چلنے پھرنے کی حالت میں بھی۔

30۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام قَالَ كَانَ أَبِي علیه السلام ‍ يَقُولُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ رُبُعُ الْقُرْآنِ۔

حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے: "قل ہو اللّہ احد" قرآن کا ایک تہائی حصہ ہے اور "قل يا ايہا الكافرون" ایک چوتھائی قرآن ہے۔

31۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام قَالَ مَنْ مَضَى بِهِ يَوْمٌ وَاحِدٌ فَصَلَّى فِيهِ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ وَ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قِيلَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَسْتَ مِنَ الْمُصَلِّينَ.

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر ایک شخص پر پورا دن گذر جائی اور وہ نمازہائی پنجگانہ ادا کری اور وہ کسی نماز میں بہی سورہ "قل ہو اللہ احد" نہ پرہی اس سے کہا جاتا ہی: ای بندہ خدا! تم نمازگزارون کی زمری سے خارج ہو۔

32۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدَعْ أَنْ يَقْرَأَ فِي دُبُرِ الْفَرِيضَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَهَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ غَفَرَ لَهُ وَ لِوَالِدَيْهِ وَ مَا وَلَدَا۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص خدا اور روز جزا پر ایمان رکھتا ہے وہ ہر نماز کے بعد سورہ قل ہو اللہ احد کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ کیونکہ جو شخص ہر نماز کے بعد قل ہواللہ احد پڑھے گا خداوند دنیا اور آخرت کی خیر و خوبیاں اس کے لئے فراہم کرتا ہے اور اس کے والدین اور اس کے بھائیوں اور بہنوں کی مغفرت فرمائے گا۔

33۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه و آله لِكُلِّ شَيْءٍ حِلْيَةٌ وَ حِلْيَةُ الْقُرْآنِ الصَّوْتُ الْحَسَنُ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہر چیز کے لئے زینت ہے اور قرآن کی زینت اچھی آواز ہے۔

34۔ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ علیه السلام قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي سَأَلَ جَدَّكَ عَنْ خَتْمِ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَقَالَ لَهُ جَدُّكَ كُلَّ لَيْلَةٍ فَقَالَ لَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ جَدُّكَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ أَبِي نَعَمْ مَا اسْتَطَعْتُ فَكَانَ أَبِي يَخْتِمُهُ أَرْبَعِينَ خَتْمَةً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثُمَّ خَتَمْتُهُ بَعْدَ أَبِي فَرُبَّمَا زِدْتُ وَ رُبَّمَا نَقَصْتُ عَلَى قَدْرِ فَرَاغِي وَ شُغُلِي وَ نَشَاطِي وَ كَسَلِي فَإِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه و آله و سلم خَتْمَةً وَ لِعَلِيٍّ علیه السلام أُخْرَى وَ لِفَاطِمَةَ علیها السلام أُخْرَى ثُمَّ لِلْأَئِمَّةِ علیهم السلام حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَيْكَ فَصَيَّرْتُ لَكَ وَاحِدَةً مُنْذُ صِرْتُ فِي هَذَا الْحَالِ فَأَيُّ شَيْءٍ لِي بِذَلِكَ قَالَ لَكَ بِذَلِكَ أَنْ تَكُونَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَلِي بِذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔

على بن مغيرہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوالحسن (امام موسی كاظم) عليہ السلام سے عرض كیا: میرے والد نے آپ کے جد بزرگوار سے ہر شب ختم قرآن کے بارے میں پوچھا تھا اور آپ کے جد بزرگوار نے سوال فرمایا تھا: کہ ماہ رمضان میں؟

میرے والد نے عرض کیا تھا: ہاں! ماہ مبارک رمضان میں؛ مجھ میں جتنی طاقت و توانائی ہو قرآن کی تلاوت کروں؛ اور میرے والد ماہ مبارک رمضان میں 40 بار ختم قرآن کیا کرتے تھے اور میں بھی والد کے بعد اتنی ہی مقدار میں ختم قرآن کرتا ہوں؛ کبھی زیادہ اور کام کاج سے فراغت اور نشاط و سستی کے مطابق کبھی کم؛ اور جب عید فطر کا دن آن پہنچتا ہے میں ایک ختم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کرتا ہوں، ایک کو علی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرتا ہوں؛ ایک کو سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور ہر امام معصوم علیہ السلام کی خدمت میں ایک ختم ہدیہ کے طور پر پیش کرتا ہوں حتی کہ یہ سلسلہ آپ تک آپہنچتا ہے اور میں اس حال تک پہنچتے پہنچتے اس روش پر عمل پیرا رہا ہوں؛ آپ فرمائیں کہ میرے لئے اس عمل کی کوئی پاداش و ثواب ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: تمہاری پاداش قیامت کے روز ان کے ساتھ ہم نشینی ہے۔

میں نے تین مرتبہ عرض کیا: اللہ اکبر! کیا میری پاداش یہ ہے؟ اور امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں۔

35۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ صلی الله علیه و آله أَحْسَنَ النَّاسِ صَوْتاً بِالْقُرْآنِ وَ كَانَ السَّقَّاءُونَ يَمُرُّونَ فَيَقِفُونَ بِبَابِهِ يَسْمَعُونَ قِرَاءَتَهُ وَ كَانَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام أَحْسَنَ النَّاسِ صَوْتاً۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: على بن الحسين زین العابدین علیہ السلام قرآن مجید کی تلاوت میں خوش صدا ترین تھے اور جب بہشتی (پانی دینے والے سقے) آپ علیہ السلام کے گھر کے دروازے کے سامنے سے گذرتے تو وہیں رک جاتے اور آپ کی تلاوت سنا کرتے تھے اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بھی خوش صدا ترین تھے۔

36۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يُكْرَهُ أَنْ يُقْرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ بِنَفَسٍ وَاحِدٍ۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مكروہ ہے كہ سورہ "قل ہو اللّہ احد" کو ایک ہی سانس میں پڑھنا مکروہ ہے۔

37۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَالَ لَا يُعْجِبُنِي أَنْ تَقْرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ شَهْرٍ۔

راوی محمد بن عبداللّہ میں کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیا میں قرآن مجید کی تلاوت (ختم قرآن) ایک ہی رات میں مکمل کیا کروں؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ تم ختم قرآن ایک مہینے سے کم مدت میں مکمل کرلو۔

38۔ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قُلْتُ لَهُ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ اقْرَأْهُ أَخْمَاساً اقْرَأْهُ أَسْبَاعاً أَمَا إِنَّ عِنْدِي مُصْحَفاً مُجَزًّى أَرْبَعَةَ عَشَرَ جُزْءاً۔

حسين بن خالد کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کتنے عرصے میں قرآن کی تلاوت مکمل کیا کروں؟

فرمایا: قرآن کی تلاوت پانچ حصوں میں کیا کرنا؛ (یعنی پانچ دنوں میں اور ہر روز چھ پاروں کی تلاوت کرنا) اور سات حصوں میں تلاوت کرنا (یعنی سات دنوں میں)؛ اور میرے پاس ایک مصجف (قرآن) ہے جس کے 14 حصے ہیں (یعنی اس کی تلاوت چودہ دنوں میں مکمل ہوتی ہے)۔

39۔ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه و آله إِنَّ الرَّجُلَ الْأَعْجَمِيَّ مِنْ أُمَّتِي لَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِعَجَمِيَّةٍ فَتَرْفَعُهُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى عَرَبِيَّةٍ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتی ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میری امت کے عجمی (غیر عرب) لوگ قرآن کی تلاوت عجمی لہجے میں کرتے ہیں (یعنی قواعد و تجوید اور قرأت کی خوبصوتیوں سے واقف نہیں ہیں یا شاید وہ اعراب تک کو درست نہ پڑھ سکتے ہوں لیکن) اللہ کے فرشتے ان کی تلاوت عربی لہجے میں اوپر کی جانب لے کر جاتے ہیں۔

40۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام يَقُولُ مَنْ قَرَأَ الْمُسَبِّحَاتِ كُلَّهَا قَبْلَ أَنْ يَنَامَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يُدْرِكَ الْقَائِمَ وَ إِنْ مَاتَ كَانَ فِي جِوَارِ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ ص۔

جابر کہتے ہیں: میں امام محمد باقر علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جو شخص سونے سے قبل مسبحات کی سورتوں (جن کی ابتدا میں سَبّحَ یا یُسَبِحُ ہے) کی تلاوت کرے وہ نہیں مرے گا حتی کہ ہمارے قائم (امام مہدی) علیہ السلام کا دور دیکھ لے اور اگر (ظہور سے قبل) مر جائے تو نبی اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہم نشین ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مأخذ:

اصول کافی جلد چهارم ـ كِتَابُ فَضْلِ الْقُرْآنِ۔

1۔ ص 399 حدیث 3۔

2۔ ص 400 حدیث 4۔

3۔ ص 400 حدیث 5۔

4۔ ص 400 حدیث 6۔

5۔ ص 400 حدیث 7۔

6۔ ص 401 حدیث9۔

7۔ ص 403 حدیث 13۔

8۔ ص 404 حدیث 1۔

9۔ ص 405 حدیث 2۔

10۔ ص 408 حدیث 8۔

11۔ ص 408 حدیث 9۔

12۔ ص 409 حدیث 11۔

13۔ ص 409 حدیث 1۔

14۔ ص 409 حدیث 2۔

15۔ ص 409 حدیث 3۔

16۔ ص 410 حدیث 2۔

17۔ ص 411 حدیث 3۔

18۔ ص 411 حدیث 5۔

19۔ ص 412 حدیث 1۔

20۔ ص 412 حدیث 2۔

21۔ ص 413 حدیث 2۔

22۔ ص 414 حدیث 2۔

23۔ ص 417 حدیث 7۔

24۔ ص 417 حدیث 1۔

25۔ ص 417 حدیث 2۔

26۔ ص 417 حدیث 3۔

27۔ ص 434 حدیث 22۔

28۔ ص 418 حدیث 5۔

29۔ ص 429 حدیث 13۔

30۔ ص 427 حدیث 7۔

31۔ ص 428 حدیث 10۔

32۔ ص 428 حدیث 11

33۔ ص 422 حدیث 4۔

34۔ ص 420 حدیث 10۔

35۔ ص 420 حدیث 11۔

36۔ ص 420 حدیث 12۔

37۔ ص 422 حدیث 1۔

38۔ ص 422 حدیث 3۔

39۔ ص 424 حدیث 1۔

40۔ ص 426 حدیث 3۔

چالیس حدیثیں   (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

چالیس حدیثیں

میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق



ترجمہ و ترتیب: اسد عباس اسدی



میاں بیوی کے درمیان عشق و محبت پیدا کرنے والے عوامل میں سے ایک مہم عامل اظہار محبت ہے ہو سکتا ہے وہ لوگ جن کے دل میں اپنی شریک حیات کے لیے بے پناہ محبت ہو لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کر پاتے۔ سورہ روم کی آیت نمبر 21 میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور باہمی الفت کے اصول کا تذکرہ کیا ہے

وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُـوٓا اِلَيْـهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْـمَةً ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی، جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔

میاں بیوی کا ایک دوسرے کیلئے پیار بھرے جملات کا اظہار بہت سارے شکوک و شبہات کو ختم کرتا ہے اور ان کے درمیان محبت کو بڑھاتا ہے آئمہ معصومین علیہم السلام نے بھی میاں بیوی کےایک دوسرے سے محبت کے اظہار پر تاکید کی ہےاور آپ علیہم السلام کی سیرت میں ایسی لاتعداد مثالیں موجود ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی بیوی اس کی طرف پیار کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آج اکثر فیملیوں کی سب سے بڑی مشکل ان کی زندگیوں میں صحیح مدیریت کا نہ ہونا ہے ، بہت سےتنازعات اور چیلنجز جو کہ خاندانوں کے ٹوٹنے کا سبب بنتے ہیں ، گھرداری میں آئیڈیل نمونہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں،اس لئے مناسب سمجھا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں گھرداری کے چند اصول قارئین کی خدمت میں پیش کریں ۔

واضح رہے کہ پہلی 20 احادیث "شوہر کا بیوی کے ساتھ اخلاق" سے متعلق ہیں اور آخری 20 احادیث "بیوی کا ساتھ شوہر کے ساتھ اخلاق" سے متعلق ہیں۔



شوہر کا بیوی کے ساتھ اخلاق

زیادہ اظهار محبت (زیادہ ایمان)

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

کُلَّ مَا ازدادَ العَبدُ إیمانَاً اِزدادَ حُبّاً لِلنِّسآءِ [1]

جس قدر بندے کا ایمان بڑھتا ہے اتنا ہی اس کی عورتوں سے محبت بڑھتی جاتی ہے۔



اہل بیت علیہم السلام سے محبت کرنے والا اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے

امام جعفر صادق علیه السلام نے فرمایا:

کُلُّ مَنِ اشتَدَّ لَنا حُبّاً اشتَدَّ لِلنِّساءِ حُبّاً [2]

جو ہم سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے (اہل بیت علیہم السلام)، وہ اپنی عورتوں (اپنی بیوی) سے بھی اتنی زیادہ محبت کرتا ہے۔



زندگی کی پاکیزگی یہاں ہے

امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام نے فرمایا:

فَدارِها عَلی کُلِّ حالٍ وَ أحسِنِ الصُّحبَةَ لَها فَیَصفُو عَیشُکَ [3]

اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ تسامح کرو، اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرو تاکہ تمہاری زندگی پاکیزہ ہو۔



تکبر اور غصہ سے پرہیز کریں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

خَیرُ الرِّجالِ مَن اُمَّتِی اَلَّذِینَ لایَتطاوَلُونَ عَلی أهلِیهِم وَ یحنُونَ عَلَیهِم وَ لا یَظلِمُونَهُم [4]

میری امت کے بہترین مرد وہ ہیں جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ سختی اور تکبر نہیں کرتے اور ان پر رحم کرتے ہیں اور ان کی پرواہ

کرتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں دیتے ہیں۔



تھپڑ، کبھی نہیں!

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

فَأیُّ رَجُلٍ لَطَمَ امرَأَتَهُ لَطمَةً، أمَرَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ مالِکَ خازِنَ النِّیرانِ فَیَلطِمُهُ عَلی حَرَّ وَجهِهِ سَبعِینَ لَطمَةً فِی نارِ جَهَنَّمَ [5]

جو اپنی بیوی کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے، اللہ تعالیٰ جہنم کے دربان کو حکم دیتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ میں اس کے منہ پر ستر مرتبہ تھپڑ مارے۔



میں تم سے پیار کرتا ہوں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

قَولُ الرَّجُلِ لِلمَرأَةِ إنِّی اُحِبُّکَ لا یَذهَبُ مِن قَلبِها أبَداً [6]

ایک مرد کا اپنی بیوی کو یہ کہنا "میں تم سے پیار کرتا ہوں" عورت کے دل سے کبھی نہیں نکلتا ۔



بیوی کی دینی اور دنیاوی خوشی فراہم کرنا

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

لِلمَرأَةِ عَلی زَوجِها أن یُشبِعَ بَطنَها، وَ یَکسُو ظَهرَها، وَ یُعَلِّمهَا الصَّلاةَ وَ الصَّومَ وَ الزَّکاةَ إن کانَ فِی مالِها حَقٌّ، وَ لاتُخالِفَهُ فِی ذلِکَ [7]

عورت کا اپنے شوہر پر حق یہ ہے کہ وہ اسے کھانا کھلائے، لباس پہنائے، اسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ سکھائے، اگر عورت کے مال میں زکوٰۃ کا حق ہے تو عورت بھی ان چیزوں میں مرد کی مخالفت نہ کرے۔



یہ خدا کی راہ میں جہاد ہے

امام رضا علیه السلام نے فرمایا :

اَلکآدُّ عَلی عِیالِهِ مِن حِلٍّ کَالمُجاهِدِ فِی سَبِیلِ اللهِ [8]

جو شخص حلال ذرائع سے اپنے گھر والوں کی بھلائی کے لیے کوشش کرتا ہے وہ اس مجاہد کی طرح ہے جو خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔



کیا آپ بھی تحائف خریدتے ہیں؟

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

مَن دَخَلَ السُّوقَ فَاشتَرَی تُحفَةً فَحَمَلَها إلَی عِیالِهِ کانَ کَحامِلِ صَدَقَةٍ إلَی قَومٍ مَحاوِیجَ وَ لیَبدَأ بِالإناثِ قَبلَ الذُّکُورِ فَإنَّ مَن فَرَّحَ اِبنَتَهُ فَکَأنَّما اعتَقَ رَقَبَةً مِن وُلدِ إسماعِیلَ وَ مِن اَقَرَّ بِعَینِ ابنٍ فَکَاَنَّما بَکَی مِن خَشیَةِ اللهِ وَ مَن بَکَی مِن خَشیَةِ اللهِ أدخَلَهُ اللهُ جَنّاتِ النَّعِیمِ [9]

جو بازار جا کر اپنے اہل و عیال کے لیے تحفہ خرید کر لے جاتا ہے تو اس کا ثواب اس شخص کی طرح ہے جو مسکین کو صدقہ کرتا ہے۔ اور جب وہ تحفہ گھر لے جائےتو لڑکوں سے پہلے لڑکیوں کو دے کیونکہ اپنی بیٹی کو خوش کرنے والا ایسا ہے جس نے بنی اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کیا۔ اور جو شخص بیٹے کو گفٹ دے کر اسے خوش کر دے تو گویا وہ خوف خدا سے رویا اور جو شخص خوف خدا سے روئے تو خدا اسے جنت کی نعمتوں میں داخل فرمائے گا ۔



بازار اور گوشت کی خریداری

امام سجاد علیه السلام نے فرمایا :

لِان اَدخُلُ السُّوقَ وَ مَعِی دِرهَمٌ اَبتاعُ بِهِ لَحماً لِعِیالِی وَ قَد قرمُوا إلَیهِ أحَبُّ إلَیَّ مِن أن اَعتِق نَسَمَةً [10]

میرےنزدیک بازار جا کر اپنے گھر والوں کے لیے ایک درہم کا گوشت خریدنا، جو گوشت کی خواہش رکھتے ہیں، غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔



سوغات مت بھولیں

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

اِذا سافَرَ اَحَدُکُم فَقَدِمَ مِن سَفَرِهِ فَلیَأتِ اَهلَهُ بِما تَیَسَّرَ [11]

جب بھی تم میں سے کوئی سفر پر جائے توواپسی پر اپنے گھر والوں کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق تحائف لے کر آئے۔



کیا آپ اس کے لیے میک اپ کرتے ہیں؟

امام باقر علیه السلام نے فرمایا :

النِّسآءُ یُحبِبنَ اَن یَرَینَ الرَّجُلَ فِی مِثلِ ما یُحِبُّ الرَّجُلُ اَن یَرَی فِیهِ النِّسآءَ مِنَ الزِّینَةِ [12]

جس طرح مرد اپنی عورتوں میں زینت اور میک اپ دیکھنا پسند کرتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی اپنے مردوں میں زیب و زینت دیکھنا پسند کرتی ہیں۔



گھر کو گرم رکھیں

امام رضا علیه السلام نے فرمایا :

بَنبَغِی لِلمُؤمِنِ اَن یَنقُصَ مِن قُوتِ عِیالِهِ فِی الشِّتآءِ وَ یَزِیدَ فِی وقُودِهِم [13]

مومن کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ سردیوں میں اپنے اہل و عیال کے اخراجات کو کم کرے اور ان کے سردی سے بچنے کا سازوسامان خریدے ۔



عید بیاہ پر فیملی کو خوش رکھنا

راوی کہتا ہے میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: عورت کا خاوند پر کیا حق ہے؟

تو حضرت نے فرمایا:

وَ لاتَکُونُ فاکِهَةٌ عامَّةٌ اِلّا اَطعَمَ عِیالَهُ مِنها وَ لایَدَعُ اَن یَکُونَ لِلعِیدِ عِندَهُم فَضلٌ فِی الطَّعامِ وَ اَن یسنی لَهُم فِی ذلِکَ شَیءٌ ما لَم یسن لَهُم فِی سآئِرِ الاَیّامِ ۔ [14]

ہر وہ پھل جسے تمام لوگ کھائیں، مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کو کھلائے اور عید کے دنوں میں عام روٹین سے اضافی اہتمام کرے، اور وہ چیزیں مہیا کرے جو عام دنوں میں نہیں دیتا تھا۔



تہمت اور بدگمانی کبھی نہیں

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

لا تَقذِفُوا نِسآءَکُم فَاِنَّ فِی قَذفِهِنَّ ندامَةً طَوِیلَةً وَ عُقُوبَةً شَدِیدَةً [15]

اپنی بیویوں پر تہمت مت لگائیں ، کیونکہ ایسا کرنے سے (تمہارے لیے) طویل پشیمانی اور سخت عذاب ہو گا۔



خدا کرے آپ آئیں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

هَلَکَ بِذِی المُرُوَّةِ اَن یَبِیتَ الرَّجُلُ عَن مَنزِلِهِ بِالمِصرِ الَّذِی فِیهِ اَهلُهُ [16]

یہ مرد کی جوان مردی سے بعید ہے کہ وہ اسی شہر میں ہو جہاں اس کی فیملی ہے اور وہ فیملی کو چھوڑ کر کہیں اور جا سوئے۔



گھر میں داخل ہونے کے آداب

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

یُسَلِّمُ الرَّجُلُ اِذا دَخَلَ عَلی اَهلِهِ وَ اِذا دَخَلَ یَضرِبُ بِنَعلَیهِ وَ یَتَنَحنَحُ یَصنَعُ ذلِکَ حَتَّی یُؤذِنهُم اَنَّهُ قَد جآءَ حَتَّی لا یَرَی شَیئاً یَکرَهُهُ [17]

جب آدمی اپنے گھر والوں سے ملے تو اسے سلام کرنا چاہیے اور جب گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو اپنے جوتوں کی آواز سے اور کھانستے ہوئے اطلاع دے، تاکہ اسے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئے جو اسے ناگوار گزرے۔



بیوی کے پاس بیٹھنا

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

جُلُوسُ المَرءِ عِندَ عِیالِهِ اَحَبُّ اِلَی اللهِ تَعالی مِن اعتِکافٍ فِی مَسجِدِی هذا [18]

ایک آدمی کا اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا اللہ کو میری اس مسجد میں اعتکاف بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔



کبھی اس کے منہ میں نوالہ دیا ہے؟

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اِنَّ الرَّجُلَ لَیُؤجَرُ فِی رَفعِ اللُّقمَةِ اِلی فِیِّ اِمرَاَتِهِ [19]

مرد کو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے کا ثواب ملتا ہے۔



نہ تھپڑ ماریں اور نہ چیخیں چلائیں!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر پر عورت کے حق کے بارے میں فرمایا:

حَقُّکِ عَلَیهِ اَن یُطعِمُکِ مِمّا یَأکُلُ وَ یَکسُوکِ مِمّا یَلبَسُ وَ لایَلطِمُ وَ لایَصِیحُ فِی وَجهِکِ [20]

تیرےشوہر پر تیرا حق یہ ہے کہ وہ جو کھائے اس میں سے تجھے بھی کھلائے، اور جو پہنتا ہے اس سے تجھے بھی پہنائے ، اور نہ تھپڑ مارے اور نہ چیخے چلائے۔



عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ اخلاق

اطاعت کا زیور گردن میں ڈالے

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اِنَّ لِلرَّجُلِ حَقّاً عَلَی امرَأَتِهِ اِذا دَعاها تُرضِیهِ وَ اِذا أمَرَها [21] لاتَعصِیهِ وَ لاتُجاوِبهُ بِالخلافِ و لاتُخالِفهُ [22]

مرد کا اپنی بیوی پر حق ہے کہ اگر وہ اسے پکارے تو جواب دے اور جب وہ اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے اور اس کی مخالفت نہ کرے۔



باران عشق و محبت

امام رضا علیه السلام نے فرمایا :

اِعلَم اَنَّ النِّسآءَ شَتّی فَمِنهُنَّ الغَنِیمَة وَالغَرامَة وَ هِیَ المُتَحَبِّبَةُ لِزَوجِها وَالعاشِقَةُ لَهُ ...[23]

جان لو کہ عورتوں کی مختلف قسمیں ہیں، ان میں سے بعض بہت قیمتی سرمایہ اور انعام ہیں اور یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے شوہروں سے محبت کرتی ہیں اور ان سے عشق کرتی ہیں ۔



رضایت و شفاعت

امام باقر علیه السلام نے فرمایا:

لا شَفِیعَ لِلمَرأةِ أنجَحُ عِندَ رَبِّها مِن رِضا زَوجِها [24]

عورت کے لیے اس کے رب کے ہاں کوئی سفارشی اس کے شوہر کی رضا سے زیادہ فائدہ مند نہیں۔



پیار کی خوشبو

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

لِلرَّجُلِ عَلَی المَرأةِ أن تَلزِمَ بَیتَهُ وَتُوَدِّدَهُ وَتُحِبَّهُ وَتُشفِقَهُ وَتَجتَنِبَ سَخَطَهُ وَتَتَبَّعَ مَرضاتَهُ وَتُوفِیَ بِعَهدِهِ وَوَعدِهِ [25]

عورت پر مرد کا حق یہ ہے کہ عورت مرد کا گھر سنبھالے ، اپنے شوہر سے دوستی، محبت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرے، اس کے غصے سے بچے، اور وہ کرے جو اسے پسند ہو، اور اس کے عہد اور وعدے کی وفادار ہو۔



امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

أیُّمَا امرَأَةٍ قالَت لِزَوجِها: ما رَأَیتُ قَطُّ مِن وَجهِکَ خَیراً فَقَد حَبِطَ عَمَلُها [26]

اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے کہے: میں نے تم سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی تو اس کے کام کا سارا اجر ضائع ہو جائے گا۔



بہترین بیویاں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

خَیرُ نِسائِکُم اَلوَدُودُ الوَلُودُ المُؤاتِیَةُ وَ شَرُّها اللَّجُوجُ [27]

تمہاری عورتوں میں سب سے اچھی عورت وہ ہے جو محبت کرنے والی، بچہ پیدا کرنے والی اور موافقت کرنے والی ہو اور سب سے بری عورت وہ ہے جوضد کرنے والی ہو۔



شوہر کو کبھی ناراض نہ کریں۔

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

طُوبَی لِاِمرَأةٍ رَضِیَ عَنها زَوجُها [28]

خوش نصیب ہے وہ عورت جس کا شوہر اس سے خوش ہو۔



تکلیف نہ دیں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

مَن کانَ لَهُ اِمرأَةٌ تُؤذِیهِ لَم یَقبَلِ اللهُ صَلاتَها وَلا حَسَنَةً مِن عَمَلِها حَتّی تُعِینَهُ وَتُرضِیَهُ وَاِن صامَتِ الدَّهرَ وَقامَت وَاَعتَقَتِ الرِّقابَ وَاَنفَقَتِ الاَموالَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَکانَت اَوَّل مَن تَرِدُ النّارَ ثُمَّ قالَ: وَعَلَی الرَّجُلِ مِثلَ ذلِکَ الوِزرُ وَالعَذابُ اِذا کانَ لَها مُؤذِیاً ظالِماً [29]

جس شخص کی بیوی ایسی ہو جو اسے تکلیف پہنچاتی ہو، اللہ تعالیٰ اس عورت کی دعائیں اور نیکیاں اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ مرد کی مدد نہ کرے اور اسے راضی نہ کرے، خواہ یہ عورت ساری عمر روزے رکھے اور نماز پڑھے اورغلام آزاد کرے ۔یہ عورت جہنم کی آگ میں داخل ہونے والی پہلی ہوگی ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مرد پر بھی اتنا ہی گناہ اور سزا ہے اگر وہ اپنی بیوی کو تکلیف دے اور اس پر ظلم کرے۔



تم اسے اداس کیسے دیکھ سکتے ہو؟

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

سَعِیدةٌ سَعِیدَةٌ اِمرَأَةٌ تُکرِمُ زَوجَها وَلا تُؤذِیهِ وَتُطِیعُهُ فِی جَمِیعِ اَحوالِهِ [30]

مبارک ہے وہ عورت جو اپنے شوہر کی عزت کرتی ہے اور اسے نقصان نہیں پہنچاتی اور ہمیشہ اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے۔



معقول ممکن توقعات

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

لا یَحِلُّ لِلمَرأَةِ اَن تُکَلِّفَ زَوجَها فَوقَ طاقَتِهِ [31]

عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کو اس کی استطاعت سے زیادہ کرنے پر مجبور کرے۔



مہمان، شوہر کی اجازت سے

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اَیُّهَا النّاسُ اِنَّ لِنِسآئِکُم عَلَیکُم حَقّاً وَلَکُم عَلَیهِنَّ حَقّاً حَقُّکُم عَلَیهِنَّ [اَن] لا یُدخِلنَ اَحَداً تَکرَهُونَهُ بُیُوتَکُم اِلاّ بِاِذنِکُم [32]

لوگو! تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے اور تمہارا بھی ان پر حق ہے۔ ان پر آپ کا حق یہ ہے کہ آپ جس کے آنے سے راضی نہیں انہیں اپنے گھر میں داخل نہ ہونے دے۔



خوش آمدیدبھی کہیں اور رخصت بھی کریں

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

جاءَ رَجُلٌ اِلی رَسُولِ اللهِ (ص) فَقالَ: اِنَّ زَوجَةً لِی اِذا دَخَلتُ تَلَقَّتنِی وَ اِذا خَرَجتُ شَیَّعَتنِی وَ اِذا رَأَتنِی مَهمُوماَ قالَت لِی: وَ مایُهِمُّکَ؟ اِن کُنتَ تَهتَمُّ لِرِزقِکَ فَقَد تَکَفَّلَ لَکَ بِهِ غَیرُکَ، وَ اِن کُنتَ تَهتَمّ لِاَمرِ آخِرَتِکَ فَزادَکَ اللهُ هَمَّاً. فَقالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله علیه و آله: اِنَّ لِلّهِ عُمّالاً وَ هذِهِ مِن عُمّالِهِ لَها نِصفُ أَجرِ الشَّهِیدِ [33]

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری ایک بیوی ہے جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو وہ مجھے سلام کرتی ہے اور جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو وہ مجھے خدا حافظ کہتی ہے اور جب مجھے پریشان دیکھتی ہےتو کہتی ہے: اگر آپ رزق کے لیے پریشان ہیں تو جان لیں کہ اللہ نے اس کا وعدہ لیا ہے اور اگر آپ اپنی آخرت کے لیے پریشان ہیں تو اللہ آپ کو مزید توفیق دے [اور آخرت کے بارے میں مزید سوچیں] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:ان لله عمالا و هذه من عماله لها نصف اجر الشهید۔ (زمین پر)خدا کے نمائندے ہیں اور یہ عورت خدا کے نمائندوں میں سے ہے جس کا اجر شہید کے نصف اجر کے برابر ہے ۔



ایسے کاموں میں مدد

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اَیُّمَا امرَأَةٍ اَعانَت زَوجَها عَلَی الحَجِّ وَالجهادِ اَو طَلَبِ العِلمِ اَعطاهَا اللهُ مِنَ الثَّوابِ ما یُعطَی امرَاَةُ اَیُّوبَ علیه السلام [34]

جو عورت حج، جہاد اور حصول علم میں اپنے شوہر کی مدد کرے گی، اللہ تعالیٰ اسے بھی وہی اجر دے گا جو حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی کو دیا تھا۔



بهشت خدا میں ایک شہر

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

ما مِن اِمرَأَةٍ تَسقِی زَوجَها شَربَةً مِن مآءٍ اِلّا کانَ خَیراً لَها مِن عِبادَةِ سَنَةٍ صِیامٌ نَهارُها وَقِیامٌ لَیلُها وَ یَبنِی اللهُ لَها بِکُلِّ شَربَةٍ تَسقِی زَوجَها مَدِینَةً فِی الجَنَّةِ وغَفَرَ لَها سِتِّینَ خَطِیئَةً [35]

جو عورت اپنے شوہر کو پانی پلائے وہ اس کے لیے سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے ایسی عبادت کہ دنوں میں روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کرے۔ اور اس کا شوہر جتنا پانی پیتا ہے اس کے بدلے خدا اسے جنت میں ایک شہر بنائے گا اور اس کے ساٹھ گناہ معاف کر دے گا۔



شریک حیات کی نفسیاتی حفاظت کو یقینی بنانا

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

حَقُّ الرَّجُلِ عَلَی المَراة اِنارَةُ السِّراجِ وَاِصلاحُ الطَّعامِ وَاَن تَستَقبِلَهُ عِندَ بابِ بَیتِها فَتُرَحِّبَ وَاَن تُقَدِّمَ اِلَیهِ الطَّستَ وَالمِندِیلَ وَاَن تُوَضِّئَهُ وَاَن لاتَمنَعَهُ نَفسَهآ اِلّا مِن عِلَّةٍ [36]

عورت پر مرد کا حق یہ ہے کہ وہ اس کے گھر کو روشن کرے، اچھا کھانا بنائے اورمرد جب باہر سے آئے تو اسے دروازے پر جا کر سلام کرے۔ اور اس کے لیے پانی کا ایک برتن اور ایک تولیہ لا کر اس کے ہاتھ دھلائے ۔ اور شوہر کو بلاوجہ اپنے سے نہ روکے۔



خدا کی رحمت ان خواتین پر

امام صادق علیه السلام ،پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم سے روایت کرتے ہیں :

اَیُّمَا امرَأَةٍ دَفَعَت مِن بَیتِ زَوجِها شَیئاً مِن مَوضِعٍ اِلی مَوضِعٍ تُرِیدُ بِهِ صَلاحاً نَظَرَ اللهُ اِلَیها وَمَن نَظَرَ اللهُ اِلَیهِ لَم یُعَذِّبهُ

جو عورت اپنے شوہر کے گھر کو منظم کرنے کے لیے اور بہتر کرنے کیلئے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتی ہے، خداوند متعال اس پر رحمت کی نظر کرے گا اور جس پر خدا نظر کرم کرتا ہے اسے سزا نہیں دیتا۔



اچھی خوشبو ، خوبصورت لباس، بہترین زیور

پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا:

عَلَیها اَن تُطَیِّبَ بِاَطیَبَ طِیبِها وَتَلبِسَ احسَنَ ثِیابِها وَتَزَیَّنَ بِاحسَنِ زِینَتِها [37]

عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے بہترین خوشبو لگائے ، خوبصورت کپڑے پہنے، اور خوبصورت زیورات کا استعمال کرے۔



مثالی بیوی

امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

خَیرُ نِسآئِکُم الطَیِّبَةُ الرِّیحُ الطَیِّبَةُ الطَبِیخُ الَّتِی اِذا اَنفَقَت اَنفَقَتْ بِمَعرُوفٍ وَاِن اَمسَکَتْ اَمسَکَت بِمَعرُوفٍ فَتِلکَ عامِلٌ مِن عُمّالِ اللهِ وَ عامِلُ اللهِ لایَخِیبُ وَلایَندُمُ [38]

آپ کی بہترین خواتین وہ ہیں جو اچھی خوشبو لگائیں، بہترین کھانا پکانے کی مہارت رکھتی ہوں اور جب خرچ کریں تو صحیح خرچ کریں اور جب خرچ نہ کریں توبھی صحیح خرچ نہ کریں ۔ ایسی عورت خدا کے نمائندوں میں سے ہے اور خدا کے نمائندے نہ مایوس ہوتے ہیں اور نہ ہی پشیمان ہوتے ہیں



پیغمبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا :

اِنَّ مِن خَیرِ نِسآئِکُم . . . المُتَبَرِّجَةُ مِن زَوجِها الحِصانُ عَن غَیرِهِ [39]

تمہاری عورتوں میں سب سے بہتر وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے لیکن دوسروں سے اپنے آپ کو چھپاتی ہے۔



امام صادق علیه السلام نے فرمایا :

خَیرُ نِسائِکُمُ الَّتِی اِن اُعطِیَتْ شَکَرَتْ وَاِن مُنِعَتْ رَضِیَتْ [40]

تمہاری عورتوں میں سے بہترین عورت وہ ہے جو کچھ ملنےپر شکر گزار ہو اور نہ ملنے پر راضی ہو۔



وما علینا الا البلاغ المبین













[1] ۔ بحار الانوار، ج 103، ص 228

[2] ۔ همان، ج 103، ص 227

[3] ۔ مکارم الاخلاق، ص 218

[4] ۔ همان، ص 216

[5] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 250

[6] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 10

[7] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 243

[8] ۔ بحارالانوار، ج 104، ص 72

[9] ۔ وسائل الشیعة، ج 15، ص 227

[10] ۔ همان، ج 15، ص 251

[11] ۔ همان، ج 8، ص 337

[12] ۔ مکارم الاخلاق، ص 80

[13] ۔ وسائل الشیعة، ج 15، ص 249

[14] ۔ همان، ج 15، ص 227

[15] ۔ بحارالانوار، ج 103، ص 249

[16] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 122

[17] ۔ بحارالانوار، ج 76، ص 11

[18] ۔ میزان الحکمة، ج 4، ص 287

[19] ۔ المحجة البیضاء، ج 3، ص 70

[20] ۔ مکارم الاخلاق، ص 218

[21] ۔ البتہ شوہر کا حکم اسلام کے منافی نہ ہو

[22] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 243

[23] ۔ همان، ج 14، ص 161

[24] ۔ سفینة البحار، ج 1، ص 561

[25] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 244

[26] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 115

[27] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 162

[28] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 155

[29] ۔ همان، ج 14، ص 116

[30] ۔ بحارالانوار، ج 103، ص 252

[31] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 242

[32] ۔ بحارالانوار، ج 76، ص 348

[33] ۔ وسائل الشیعه، ج 14، ص 17

[34] ۔ همان، ص 201

[35] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 123

[36] ۔ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 254

[37] ۔ وسائل الشیعة، ج 15، ص 175

[38] ۔ الکافی، ج 5، ص 508 .

[39] ۔ وسائل الشیعة، ج 14، ص 15

[40] ۔ بحارالانوار، ج 103، ص 235

خطبہ شعبانیہ 

خطبہ شعبانیہ

عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِیٍّ علیه السلام قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله علیه وآله خَطَبَنَا ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ

امام علیؑ سے منقول ہے کہ شعبان المعظم کے مہینے کے آخری دنوں میں پیغمبر خدا ۖ نے صحابہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور فرمایا۔

أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَیْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ وَ أَیَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَیَّامِ وَ لَیَالِیهِ أَفْضَلُ اللَّیَالِی وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ.

اے لوگو خدا کا برکت ، رحمت اور مغفرت سے بھرپور مہینہ آرہا ہے ، یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو تمام مہینوں سے بہتر ہے اس کے دن تمام دنوں سے بہتر اور اس کی راتیں تمام راتوں سے بہتر ہیں اس کے ساعات ولحظات تمام ساعات ولحظات سے افضل ہیں ۔

هُوَ شَهْرٌ دُعِیتُمْ فِیهِ إِلَى ضِیَافَةِ اللَّهِ وَ جُعِلْتُمْ فِیهِ مِنْ أَهْلِ كَرَامَةِ اللَّهِ أَنْفَاسُكُمْ فِیهِ تَسْبِیحٌ وَ نَوْمُكُمْ فِیهِ عِبَادَةٌ وَ عَمَلُكُمْ فِیهِ مَقْبُولٌ وَ دُعَاؤُكُمْ فِیهِ مُسْتَجَابٌ فَاسْأَلُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ بِنِیَّاتٍ صَادِقَةٍ وَ قُلُوبٍ طَاهِرَةٍ أَنْ یُوَفِّقَكُمْ لِصِیَامِهِ وَ تِلَاوَةِ كِتَابِهِ فَإِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِمَ غُفْرَانَ اللَّهِ فِی هَذَا الشَّهْرِ الْعَظِیمِ

یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ کے یہاں دعوت دی گئی ہے اور تم لوگ کرامت خدا کے مہمان قرار پائے ہو، اس مہینے میں تمہارا سانس لیناتسبیح اور سونا عبادت ہے اعمال مقبول اور دعائیں مستجاب ہیں ۔ لہذا تم سب کو اس مہینے میں نیک اور سچی نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ اللہ سے سوال کرنا چاہئے کہ تمہیں اس مہینے کے روزہ رکھنے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت کرے ، کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس بابرکت مہینے میں غفران الہیٰ سے محروم رہا ۔

وَ اذْكُرُوا بِجُوعِكُمْ وَ عَطَشِكُمْ فِیهِ جُوعَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَ عَطَشَهُ وَ تَصَدَّقُوا عَلَى فُقَرَائِكُمْ وَ مَسَاكِینِكُمْ وَ وَقِّرُوا كِبَارَكُمْ وَارْحَمُواصِغَارَكُمْ وَ صِلُوا أَرْحَامَكُمْ واحْفَظُوا أَلْسِنَتَكُمْ وَ غُضُّوا عَمَّا لَا یَحِلُّ النَّظَرُ إِلَیْهِ أَبْصَارَكُمْ وَ عَمَّا لَا یَحِلُّ الِاسْتِمَاعُ إِلَیْهِ أَسْمَاعَكُمْ وَ تَحَنَّنُوا عَلَى أَیْتَامِ النَّاسِ یُتَحَنَّنْ عَلَى أَیْتَامِكُمْ

اس مہینے میں روزے کی وجہ سے جو تمہیں پیاس اور بھوک لگتی ہے ، اس سے قیامت کے دن کی پیاس اور بھوک کو یاد کرو ، غریب اور تنگ دست لوگوں کو صدقہ دو بزرگوں کا احترام کرو، چھوٹوں پر رحم کرو اور رشتہ داروں سے صلہ رحم کرو، اپنی زبانوں کو ہر قسم کی برائی سے بچاؤ اور اپنی نگاہوں کو ان چیزوںکی طرف دیکھنے سے بچاؤ جنہیں دیکھنا جائز نہیں ( حرام ہے ) اور اپنے کانوں کو ایسی آوازوں سے بچاؤکہ جنہیں سننا حرام ہے، اور لوگوں کے یتیم بچوں سے ہمدردی اور مہربانی کا برتاؤ کرو، جس طرح تم اپنے یتیموں کے لئے مہربانی چاہتے ہو۔

وَ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَ ارْفَعُوا إِلَیْهِ أَیْدِیَكُمْ بِالدُّعَاءِ فِی أَوْقَاتِ صَلَاتِكُمْ‏فَإِنَّهَا أَفْضَلُ السَّاعَاتِ یَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِیهَا بِالرَّحْمَةِ إِلَى عِبَادِهِ یُجِیبُهُمْ إِذَا نَاجَوْهُ وَ یُلَبِّیهِمْ إِذَا نَادَوْهُ وَ یُعْطِیهِمْ إِذَا سَأَلُوهُ وَ یَسْتَجِیبُ لَهُمْ إِذَا دَعَوْهُ أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَنْفُسَكُمْ مَرْهُونَةٌ بِأَعْمَالِكُمْ فَفُكُّوهَا بِاسْتِغْفَارِكُمْ وَ ظُهُورَكُمْ ثَقِیلَةٌ مِنْ أَوْزَارِكُمْ فَخَفِّفُوا عَنْهَا بِطُولِ سُجُودِكُمْ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَقْسَمَ بِعِزَّتِهِ أَنْ لَا یُعَذِّبَ الْمُصَلِّینَ وَ السَّاجِدِینَ وَ أَنْ لَا یُرَوِّعَهُمْ بِالنَّارِ یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ.

اپنے گناہوں سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اوقات نماز میں اپنے ہاتھوں کو اللہ کی طرف بلند کرو کیونکہ اوقات نماز بہترین اوقات ہیں کہ جس میں خدا وندعالم اپنے بندوں کی طر ف خاص رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اُس سے مناجات کریں تو جواب دیتا ہے اور اسے پکارے تو لبیک کہتا ہے اورجب اس سے کوئی چیز مانگیں اور دعا کریں تو اجابت کرتا ہے۔ اے لوگو، بے شک تمہارے نفس تمہارے اعمال کے گرو میں ہے ، تو اس کو استغفار اور طلب بخشش کے ذریعے رہائی دلاو ، اور تمہارے پشتیں گناہوں کے بار کی وجہ سے سنگین ہیں ، پس لمبے سجدوں کے ذریعے اس بار کو ہلکا کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت وجلالت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نمازی اور سجدہ کرنے والے کو عذاب نہ کرے اور آتش جہنم سے نہ ڈرائے جس دن سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ( قیامت کے دن)۔

أَیُّهَا النَّاسُ مَنْ فَطَّرَ مِنْكُمْ صَائِماً مُؤْمِناً فِی هَذَا الشَّهْرِ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ عِتْقُ نَسَمَةٍ وَ مَغْفِرَةٌ لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ، قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَیْسَ كُلُّنَا یَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ ص اتَّقُوا النَّارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ اتَّقُوا النَّارَ وَ لَوْ بِشَرْبَةٍ مِنْ مَاء

اے لوگو! اگر تم میں سے کوئی اس مہینے میں کسی مؤمن روزہ دار کو افطار دے تو خدا وند اس کو اپنی راہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دیتا ہے اور اس کے تمام گذشتہ گناہوں کو بخش دیتا ہے ( اس وقت آپ سے کہا گیا: یارسول اللہ ۖ ہم سب تو اس عمل کو انجام دینے پر قدرت نہیں رکھتے ہیں تو رسول خدا ۖ نے فرمایا : اپنے کو آتش جہنم سے بچاؤ گرچہ نصف خرماسے ہی کیوں نہ ہو، اپنے کو جہنم کی آگ سے نجات دو گرچہ ایک گھونٹ پانی سے ہی کیوں نہ ہو۔

أَیُّهَا النَّاسُ مَنْ حَسَّنَ مِنْكُمْ فِی هَذَا الشَّهْرِ خُلُقَهُ كَانَ لَهُ جَوَازاً عَلَى الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ فِیهِ الْأَقْدَامُ وَ مَنْ خَفَّفَ فِی هَذَا الشَّهْرِ عَمَّا مَلَكَتْ یَمِینُهُ خَفَّفَ اللَّهُ عَلَیْهِ حِسَابَهُ وَ مَنْ كَفَّ فِیهِ شَرَّهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ یَوْمَ یَلْقَاهُ وَ مَنْ أَكْرَمَ فِیهِ یَتِیماً أَكْرَمَهُ اللَّهُ یَوْمَ یَلْقَاهُ وَ مَنْ وَصَلَ فِیهِ رَحِمَهُ وَصَلَهُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ یَوْمَ یَلْقَاهُ وَ مَنْ قَطَعَ فِیهِ رَحِمَهُ قَطَعَ اللَّهُ عَنْهُ رَحْمَتَهُ یَوْمَ یَلْقَاهُ

اے لوگو! تم میں سے جو کوئی اس مہینے میں اپنے اخلاق کو اچھا اور نیک کرے گا تو وہ آسانی سے پل صراط عبور کرے گا کہ جس دن لوگوں کے قدم میں لغزش ہوگی اور جو کوئی اس مہینے میں اپنے ماتحت سے مدارا اور نرمی کرے گا تو خدا وند قیامت کے دن اس کے حساب میں نرمی کرے گا اوراگر کوئی اس مہینے میں دوسروں کو اپنی اذیت سے بچاتا رہے گا تو قیامت کے دن خدا اس کو اپنے غیض وغضب سے محفوظ رکھے گا۔ اور اگر کوئی اس مہینے میں کسی یتیم پر احسان کرے گا تو خدا وند قیامت کے دن اس پر احسان کرے گا اور کوئی اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحم کرے گا تو خداوند قیامت کے دن اس کو اپنی رحمت سے متصل کرے گا اور جو کوئی اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں سے قطع رابطہ کرے گا خداوند قیامت کے دن اس سے اپنی رحمت کو قطع کرے گا۔

وَ مَنْ تَطَوَّعَ فِیهِ بِصَلَاةٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ وَ مَنْ أَدَّى فِیهِ فَرْضاً كَانَ لَهُ ثَوَابُ مَنْ أَدَّى سَبْعِینَ فَرِیضَةً فِیمَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَ مَنْ أَكْثَرَ فِیهِ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَیَّ ثَقَّلَ اللَّهُ مِیزَانَهُ یَوْمَ تَخِفُّ الْمَوَازِینُ وَ مَنْ تَلَا فِیهِ آیَةً مِنَ الْقُرْآنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فِی غَیْرِهِ مِنَ الشُّهُورِ.

جو کوئی اس مہینے میں مستحب نماز بجالائے گا تو خداوند اس کو جہنم سے نجات دے گا اور جو کوئی اس مہینے میں ایک واجب نماز پڑھے گا تو اس کے لئے دوسرے مہینوں میں سترنمازیں پڑھنے کا ثواب دے گا اور جوکوئی اس مہینے میں مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجے گا خدا وند قیامت کے دن کہ جس دن لوگوں کے اعمال کا پلڑا بلکا ہوگا اس کے نیک اعمال کے پلڑے کو سنگین کرے گا اور جو کوئی اس مہینے میں قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا، اس کو دوسرے مہینوں میں ختم قرآن کرنے کا ثواب ملے گا ۔

أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ فِی هَذَا الشَّهْرِ مُفَتَّحَةٌ فَاسْأَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا یُغَلِّقَهَا عَنْكُمْ وَ أَبْوَابَ النِّیرَانِ مُغَلَّقَةٌ فَاسْأَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا یُفَتِّحَهَا عَلَیْكُمْ وَالشَّیَاطِینَ مَغْلُولَةٌ فَاسْأَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا یُسَلِّطَهَا عَلَیْكُمْ.

اے لوگو یقینا اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئے گئے ہیں اپنے پرودگار سے درخواست کرو کہ اس کو تمہارے اوپر بند نہ کرے اور جہنم کے دروازے اس مہینے میں بند کردئے گئے ہیں اپنے پرودگار سے درخواست کرو کہ تمہارے لئے ان کو نہ کھولے اور شیاطین اس مہینے میں باندھے گئے ہیں اپنے رب سے درخواست کرو کہ ان کو تمہارے اوپر مسلط نہ کرے ۔

قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ علیه السلام فَقُمْتُ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِی هَذَا الشَّهْرِ؟ فَقَالَ یَا أَبَا الْحَسَنِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِی هَذَا الشَّهْرِ الْوَرَعُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ.

امیر المؤمنین علی ـ فرماتے ہیں : پس میں کھڑا ہوا اور عرض کیا یارسول للہ ۖ اس مہینے میں سب سے بہترین عمل کیا ہے ؟ فرمایا: اے ابوالحسن اس مہینے میں بہترین عمل محرمات الہی سے پرہیز کرنا ہے ۔

ثمّ بَکَی، فَقلتُ: یا رسولَ¬اللهِ ما یَبکِیکَ؟فقالَ یا علیّ، أبکی لِما یَستحلّ مِنک فی هذا الشّهر.کأنّی بِکَ وَ أنتَ تُصلّی لِرَبّکَ وَ قد انبَعَثَ أشقَی الأولینَ شَقیقَ عاقِرِ ناقَهِ ثمود، فَضَرَبَکَ ضربَةً علَی قَرَنِکَ فَخَضّبَ منها لِحیتَکَ، قالَ امیرُالمؤمنینَ علیه السّلام: فَقلتُ: یا رسولَ اللهِ، و ذلکَ فی سَلامَةٍ مِن دِینی؟فقال صلی الله علیه و آله: فی سلامة من دینک.

اس کے بعد پیامبر(ص) گریہ کرنے لگے میںنے عرض کیا یارسول اللہ ۖ کس چیز نے آپ کو رلایا؟ فرمایا: اے علی میں اس لئے رو رہا ہوں کیوں کہ اس مہینے میں تمہارا خون بہایا جائے گا ( اس مہینے آپ کو شہید کردیا جائے گا) گویا میں تمہاری شہادت کے منظر کو دیکھ رہا ہوں ، درحالیکہ تم اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھنے میں مشغول ہوں گے ، اس وقت شقی اولین وآخرین قاتل ناقہ صالح ، تمہارے فرق پر ایک وار کریگا جس سے تمہاری ریش اور چہرہ خون سے ترہوں جائے گا ۔ امیر المؤمنین فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا یارسول اللہ ۖ کیا اس وقت میرا دین ثابت وسالم ہوگا؟ فرمایا : ہاں اس وقت تمہار دین سالم ہوگا۔

ثمّ قالَ صلّی الله علیه و آله: یا علیّ، مَن قَتلکَ فَقد قَتلَنِی،و مَن أبغَضَکَ فَقَد أبغَضَنی،و مَن سَبّکَ فَقَد سَبّنِی، لأنّکَ مِنّی کَنَفسِی، روحُکَ مِن روحی، و طِینتُکَ مِن طینتِی، إنّ الله تبارک و تعالی خَلقنِی و ایّاکَ،و أصطَفانِی وَ ایّاکَ،و أختارَنی للنبوّة، وَ أختارَکَ لِلإمامَةِ،و مَن أنکَرَ امامَتَکَ فَقَد أنکَرَ نُبُوّتِی».

اس کے بعد پیامبر(ص)نے فرمایا: اے علی جس نے تمہیں قتل کیا گویا اس نے مجھے قتل کیا اور جس نے تمہارے ساتھ بغض ودشمنی کی درحقیقت اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے اور جو کوئی تمہیں ناسزا کہے گویا اس نے مجھے ناسزا کہا ہے کیونکہ تم مجھ سے ہو اور میرے نفس کی مانند ہو تمہاری روح میری روح سے ہے اور تمہاری طینت وفطرت میری فطرت سے ہے یقینا خدا نے ہم دونوں کو خلق کیا اور ہم دونوں کو انتخاب کیا، مجھے نبوت کے لئے انتخاب کیا اور تمہیں امامت کے لئے انتخاب کیا اگر کوئی تمہاری امامت سے انکار کرے تو اس نے میری نبوت سے انکار کیاہے ۔

یا عَلِی أَنْتَ وَصِیی وَ أَبُو وُلْدِی وَ زَوْجُ ابْنَتِی وَ خَلِیفَتِی عَلَی أُمَّتِی فِی حَیاتِی وَ بَعْدَ مَوْتِی أَمْرُک أَمْرِی وَ نَهْیک نَهْیی

اے علی تم میرے جانشین وخلیفہ ہو اور تم میرے بچوں کے باپ اور میری بیٹی کے شوہر ہو اور تم میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی میری امت پر میرے جانشین اور خلیفہ ہو تمہارا حکم میرا حکم ہے اور تمہاری نہی میری نہیں ہے ۔

أُقْسِمُ بِالَّذِی بَعَثَنِی بِالنُّبُوَّةِ وَ جَعَلَنِی خَیرَ الْبَرِیةِ إِنَّک لَحُجَّةُ اللَّهِ عَلَی خَلْقِهِ وَ أَمِینُهُ عَلَی سِرِّهِ وَ خَلِیفَتُهُ عَلَی عِبَادِه

ذات خدا کی قسم کہ جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا اور مجھے انسانوں میں سے سب سے بہترقرار دیا یقینا تم مخلوقات پر خدا کی حجت ہو اور خدا کے اسرار کا امین ہو اور اس کے بندوں پر خلیفہ ہو۔

     انسان اور اس کی وابستگیاں


انسان اور اس کی وابستگیاں

ایک ایرانی فلاسفر آقائے دینانی کا جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ «انسان ہونا سب سے بڑی ذمہ داری ہے»۔ ہم قبل اس کے کہ کوئی دوسرا عنوان اپنے ساتھ لگائیں، ایک انسان ہیں۔
ہم انسان پیدا ہوتے ہیں۔ فکر، ثقافت اور سیاست اس سے اگلا مرحلہ ہے۔
یوں انسان ہونے کے ناطے فردی اور سماجی سطح پر زندگی جینے کے بنیادی اصول، اور طریقے سیکھنا ہمارا فرض ہے۔
ان بنیادی طریقوں میں ایک یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برابر کا انسان سمجھیں، انہیں جینے کا پورا حق دیں، انہیں مکمل احترام دیں۔

ہم جس نبی (ع) کے «امتی» ہیں وہ «انسان کامل» تھے۔ یعنی ان کی انسانیت اعلی درجے کی تھی، پھر اس اخلاقی و انسانی کمال کی بنیاد پر انہیں نبوت و امامت کا منصب بھی ملا۔

ہمارے سماج کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم کسی بھی طرز فکر سے وابستہ ہوجاتے ہیں تو اس میں اتنی حد تک شدت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان کے بنیادی حقوق پر بھی کمپرومائز (سودا)کر لیتے ہیں۔

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ ہمارے لبرلز، ملحد، مذہبی، انقلابی، اصلاحی، محافظہ کار، دائیں طرف والے، بائیں طرف والے سب اس روئیے میں برابرنظر آتے ہیں۔

عام طور پر اہل مذہب کو انسان ہونے کا سبق دیا جاتا ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ اہل مذہب سب سے زیادہ اس لائق ہیں کہ وہ اجتماعی اخلاقیات کا پاس رکھیں۔

لیکن سماجی اخلاقیات کا پاس نہ رکھنے میں صرف مذہبی پرچارک طبقہ ہی نہیں بلکہ سماج کے تمام چھوٹے بڑے افراد اور طبقات برابر کے شریک ہیں۔

سب ہی ایک دوسرے کے بنیادی حقوق کی پامالی میں کوئی کسر نہیں اٹھاتے۔ گویا اخلاقیات کی پاسداری تو انسان کی بنیادی ذمہ داریوں سے نکل چکی ہے۔

آج ہمارے ادارہ جات، تعلیمی و تربیتی نظآم، ریاستی و غیر ریاستی اداروں کے عہدہ داران، سب کو ایک دوسرے کو برابر احترام دینے کا اصول سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہمیں گھریلو ماحول میں بچپن ہی سے برابر احترام کی فضا درکار ہے۔
ہمارے خاندانی اقدار میں بچوں کو بڑوں کے جیسا برابر احترام درکار ہے۔
شاگرد کو استاد کی طرف سے احترام درکار ہے۔ سب سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کے ملازمین کی طرف سے عام آدمی کو احترام درکار ہے۔
ہمارے مذہبی مکاتب فکر کو ایک دوسرے سے احترام درکار ہے۔
ہمارے اقلیتی گروہوں کو اکثریت سے احترام درکار ہے۔
احترام کا مطلب حرمت کی پاسداری ہے۔ جس میں جان، مال اور عزت کی پاسداری شامل ہے۔ صرف زبانی مٹھاس تو منافقت بھی ہو سکتی ہے۔

حرمت اور شرافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بڑپن اور بزرگواری کی شروعات اعلی سے ادنی ، بڑے سے چھوٹے اور طاقتور سے کمزور کی جانب ہوتی ہیں۔

ہمیں واحد نصاب (single curriculum)سے بھی زیادہ ایک مربوط تربیتی نظام کی ضرورت ہے جو پورے ملک میں سب علمی و تربیتی مراکز میں رائج کیا جائے۔

جب یہ احترام کی فضا بنے گی تو پھر ہم مذہبی یا سیکولر اقدار پرکھلے ذہن سے بات کر سکتے ہیں۔
اس وقت یہ بات بھی کی جا سکتی ہے کہ کونسا نظریہ انقلاب کے لیے زیادہ کارآمد ہے؟
کس نظریئے میں اصلاح کی طاقت زیادہ ہے؟ کس مکتبہ فکر کے پاس کتنے کچھ مثبت نکات ہیں؟ کونسا مکتبہ فکر اسلام کی ترجمانی میں کہاں پر کھڑا ہے؟
یہ تب ہوگا جب ہم انسان ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ (منقول)

حکومت امام علی ، جغرافیہ اور نمائندے (گورنر)


حکومت امام علی ، جغرافیہ اور نمائندے (گورنر)

اسد عباس اسدی

گلستان زہراء کپور والی سیالکوٹ

مقدمہ

رسول اللہ کی رحلت کے 25 سال بعد حضرت علی علیہ السلام نے اہل حجاز ، مصر، بصرہ، کوفہ اور دیگر مناطق اسلامی کے عوامی نمائندوں کے اصرارکی وجہ سے خلافت اور مسلمانوں پر حکمرانی قبول فرمائی ۔مدینہ منورہ نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ 35 قمری کو انتہائی خوبصورت منظر دیکھا، اس دن تمام مصری و عراقی مہاجرین، انصار، جنگجوؤں اور انقلابیوں نے بیعت کی علامت کے طور پر پیغمبر اسلام کے چچازاد بھائی اور داماد حضرت علی بن ابی طالب کی بیعت کیلئے ہاتھ بڑھایا [1]۔امام علی (ع) نے اسلامی معاشرے کی ذمہ داری اس وقت سنبھالی جب معاشرہ مناطق اسلامی کے حکمرانوں کے مظالم اور مالی بدعنوانیوں سے شدید متاثر تھا۔ اس وقت اسلامی معاشرہ خاص طور پر دو بڑے مسائل سے دوچار تھا: نمبر ایک کرپشن یعنی حکام کی مالی بدعنوانیاں ، نمبر دونالائق اور نااہل حکمرانوں کی موجودگی۔ اس لیے امام علی علیہ السلام کی حکومت کے سب سے اہم پروگرام ان دو معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف جنگ کرنا تھا۔ حضرت علی (ع) نے بیعت کے دوسرے ہی دن اپنے پہلےخطبہ میں، بیت المال کی تقسیم پر اعتراض کیا، جسے حکمرانوں اور ان کے حواریوں میں بغیر حساب کتاب کے تقسیم کیا جارہاتھا اور اس سے طبقاتی فرق پروان چڑھ رہا تھا۔

فرمایا اے لوگو! میں تمہیں پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے روشن راستے پر چلاؤں گا اور اپنے احکام کو برابری کی بنیادوں پر جاری کروں گا ، میں جو کہتا ہوں اسے انجام دو اور جس سے منع کرتا ہوں اس سے بچو۔ میں جب ایسے لوگوں کو جو کہ دنیا کی رنگینیوں میں کھو چکے ہیں انہیں ان کے شرعی حقوق سے آگاہ کروں تو وہ مجھ پر تنقید نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ ابو طالب کے بیٹے نےہمیں ہمارے حقوق سے محروم کر دیا ہے ۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی وجہ سے دوسروں سے افضل ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ فضیلت کا معیار کچھ اور ہے۔ افضل وہ ہے جو خدا اور رسول کی دعوت پر لبیک کہے اور اسلام قبول کرے۔ اس صورت میں تمام لوگ حقوق کے معاملے میں دوسروں کے برابر ہوں گے۔ تم خدا کے بندے ہو اور مال خدا کا مال ہے اور تم میں برابر تقسیم ہوگا ۔ کوئی بھی دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ کل بیت المال تمہارے درمیان تقسیم ہو گا اور اس میں عرب اور عجمی برابر ہوں گے[2]۔ دوسری طرف امام علی علیہ السلام نے ایک دلیرانہ سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے حضرت عثمان کے لگائے گئے گورنروں کو برطرف کرنے کا حکم دیا اور ان کی جگہ بلاد اسلامی کی حکمرانی کے لیے صحابہ اور تابعین میں سے قابل اور ممتاز لوگوں کو مقرر کیا۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلافت کے آغاز سے لے کر اب تک امام کی اہم ترین حکومتی پالیسیوں میں سے ایک اسلامی حکومتی ڈھانچے میں کرپشن اور نااہل لوگوں کے خلاف جنگ تھی۔ ہم اس تحریر میں امام علیہ السلام کے کارندوں کا تعارف ، ان کی حکومت کے علاقوں کی شناخت پر بحث کریں گے اور امام علیہ السلام کی نا اہل اور ظالمین کے ساتھ مبارزہ آرای کے چند نمونے ذکر کریں گے۔
گورنر امام على(ع) کی نگاہ میں

قرآن کریم نے مختلف آیات میں امانت داری ، ہمدردی، اور اہلیت و لیاقت کو ایک حاکم (گورنر) کی خصوصیات میں سے ذکر کیا ہے[3] ، امیر المومنین نے قرآن کی تعلیمات کے عین مطابق ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جو درج بالا خصوصیات کے حامل تھے۔ امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کے عہد نامہ میں ایک اچھے حاکم ( گورنر) کی چند خصوصیات کی طرف اشارہ کیاہے مثلا بہترین سابقہ ، ناانصافی کا سبب نہ بننا،بہترین تجربہ ، اسلام اور اس کے مسائل میں زیادہ متقی ہونا، لالچی نہ ہونا۔ خوشامد پسند نہ ہونا وغیرہ [4]۔

امام علیؑ منصب خلافت کو فرض اور امانت سمجھتے تھے، نہ کہ اقتصادی اور سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ، نہج البلاغہ کے پانچویں خط میں آذربائیجان کےنمائندہ ( گورنر) اشعث بن قیس کو فرماتےہیں: حکومت آپ کے لیے روٹی اور پانی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ آپ کی گردن پر امانت ہے، اور آپ کو اپنے اعلیٰ افسران کا فرمانبردار ہونا چاہیے[5]۔ سرکاری اہلکاروں کے لیے امیر المومنین کا ایک اہم ترین پروگرام، ان کے رویے اور اعمال کی مکمل اور درست نگرانی تھا۔ آپ علیہ السلام عہد نامہ مالک اشتر میں فرماتے ہیں: دیانتدار جاسوسوں کو بھیج کر کارکنوں کے کام کی نگرانی کریں، کیونکہ مسلسل اور خفیہ معائنہ انہیں قابل اعتماد ہونے اور اپنے ماتحتوں کو برداشت کرنے کی ترغیب دے گا، اپنے اعوان اور انصار پر کڑی نظر رکھیں۔ اگر ان میں سے کوئی غداری کا ارتکاب کرتا ہے اور آپ کے خفیہ ایجنٹ متفقہ طور پر رپورٹ کرتے ہیں تو اس گواہی سے مطمئن ہو جائیں اور انہیں جرم کےمطابق سزا دیں تاکہ دوسروں کے لیے مثال بن جائے[6]۔ابن ابی الحدید نہج البلاغہ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امیر المومنین انتقادات و پیشنهادات اور شکایات کا گھر تھے اور لوگ اپنی شکایات اس گھر میں جمع کرواتے تھے [7]اس طرح تمام شعبوں میں مختلف لوگوں کی مختلف آ راء امام علیہ السلام تک پہنچتی تھیں اور آپ علیہ السلام ان کےحل کیلئے ہدایات جاری فرماتے تھے۔

حکومت امام على(ع) کی جغرافیاى حدود

اگر حکومت امام علی علیہ السلام کی جغرافیائی حدود کی بات کی جائے تو ہم اس پورے علاقہ کو پانچ اہم حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں البتہ یاد رہے کہ امام کے زمانے میں داخلی جنگوں کی وجہ سے فتوحات کا سلسلہ رک گیا تھا اور یہ جغرافیائی حدود حضرت عثمان کے دور کی ہیں :

1 ۔جزیرہ نما عرب کی ریاست۔

2 ۔ مصر۔

3 ۔عراق۔

4 ۔ ایران۔

5 ۔ شام ۔

لازم بذکر ہے کہ شام کا علاقہ معاویہ کی بغاوت و سرکشی کی وجہ سے حضرت علی کی حکومت کے علاقے میں شامل نہیں ہوا اگرچہ امام علیہ السلام نے کوشش کی اور معاویہ کے ساتھ جنگ صفین بھی لڑی لیکن شام کا علاقہ معایہ کے زیر اثر رہا اور اب ہم ان پانچ خطوں کی جغرافیائی حدود کو اختصار سے بیان کریں گے۔
شبه جزیره عربستان کا علاقہ

جزیرہ نما عرب جو کہ اسلام کی اصل ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں فتح ہوا ، عہد نبوی اور اس کے بعد کے ادوار میں اسے اسلامی حکومت کی سرزمین کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ علاقہ پانچ حصوں پر مشتمل تھا۔

ا) حجاز: حجاز کی سرزمین جزیرہ نما کے مغربی حصے میں بحیرہ احمر کے ساتھ اور یمن کے شمالی حصے اور تہامہ کے مشرق میں ہے۔ مکہ، مدینہ اور طائف اس خطے کے اہم اور قدیمی ترین شہروں میں سے ہیں۔ اس وقت بھی یہ خطہ سعودی عرب کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے۔

ب) تہامہ: یہ ایک نشیبی سرزمین ہے جو بحیرہ احمر کے ساحل سے شروع ہو کر نجران کی سرزمین تک پھیلی ہوئی ہے۔

ج) نجد: یہ جزیرہ نما میں ایک پہاڑی سطح مرتفع ہے جو جنوب سے یمن، شمال سے عراق، مغرب سے حجاز اور مشرق سے الاحساء تک پھیلا ہوا ہے، ریاض اسی سطح مرتفع پر واقع ہے۔

د) یمن: یہ جزیرہ نما کے جنوب مغرب میں بحیرہ احمر کے قریب ایک علاقہ ہے۔ یہ سرزمین عرب کی بہترین آب و ہوا اور سب سے زیادہ آبادی والا خطہ ہے، جس کا سب سے اہم شہر "صنعا" ہے جسے آج بھی یمن کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔

ہ) یمامہ: یہ جزیرہ نما عرب کے قلب میں ایک سرزمین ہے جسے بعض لوگ نجد کا حصہ سمجھتے ہیں۔ آج یہ سرزمین سعودی عرب میں ہے اور اسے ’’عارض‘‘ کہا جاتا ہے۔

یمامہ کے لوگوں نے 9 ہجری میں اورعام الفود میں اسلام قبول کیا لیکن پھر مسیلمیٰ کذاب کی نبوت کے دعوے کے ساتھ دین سے پھر گئے اور 12 ہجری میں خالد بن ولید نے ان سے جنگ کی اور یمامہ کو فتح کیا[8]۔
شبه جزیره عربستان میں گورنرز

ان پانچ خطوں میں سے ہر ایک ،ایک صوبہ سمجھا جاتا تھا جس کے بہت سے شہر ہوتے تھے اور ہر شہر کا ایک حاکم ہوتا تھا ، تاریخ میں تمام شہروں کے حکمرانوں کا ذکر نہیں ملتا۔ اس لیے جزیرہ نما علاقے میں امام علی کی حکومت کے تمام نمائندوں (گورنروں ) کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور صرف مکہ، مدینہ اور یمن کے شہروں کے حکمرانوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن پر ہم بحث کریں گے۔
مکه و طائف کے گورنر (نمائندے)

مکہ حجاز کا ایک مشہور اور اہم شہر ہے جو بحیرہ احمر کے قریب ہے جو جدہ کی بندرگاہ کے ذریعے اس سمندر سے جڑا ہوا ہے۔ یہ شہر اسلامی دنیا کا سب سے اہم اور مقدس ترین شہر ہے۔ اس شہر کی فتح آٹھویں ہجری میں ہوئی[9]۔ امیر المومنین کے دور خلافت میں یہ شہر ان کی حکومت کا حصہ سمجھا جاتا تھا اور اس کے گورنر ابو قتادہ انصاری اور قثم بن عباس تھے[10] ۔ ہم یہاں دونوں کا مختصر تذکر ہ کرتے ہیں۔
ابوقتاده انصارى

ان کا نام حارث بن ربیع ہے لیکن تاریخ میں اپنی کنیت "ابو قتادہ" سے زیادہ مشہور ہیں۔ مورخین اور رجالیون کی نگاہ میں تاریخ کی معروف اور شاندار شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ابو قتادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاص اصحاب میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ کے ساتھ تمام جنگوں میں حصہ لیا آپ رسول اللہ کی فوج کا جنگجو اور بہادر آدمی کہلائے جاتے تھے ۔ رحلت کے بعد امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی تھے ،امام کی خلافت کے آغاز میں ابو قتادہ کو شہر مکہ کے گورنر کے عہدے پر مقرر کیا گیا تھا اور کچھ ہی عرصے کے بعد جنگ جمل کے موقع پر حضرت علی (ع) نے انہیں ان کی بے مثال بہادری کی وجہ سے جنگ میں شرکت کے لیے مکہ سے واپس بلایا اور ان کی جگہ قثم بن عباس کو بھیج دیا ۔ آپ نے تینوں جنگوں میں اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے اور امام کی مدد و نصرت میں ہمیشہ پیش پیش رہے [11]۔
قثم بن عباس

مکہ کے دوسرے اور آخری گورنر قثم بن عباس تھے، جوامام علی علیہ السلام کی شہادت تک اس منصب پر فائز رہے۔

رسول اللہ کے چچا عباس بن عبدالمطلب کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار امام علی کے گورنر تھے۔ عبداللہ بن عباس بصرہ کا گورنر، عبیداللہ بن عباس یمن کے گورنر اور مدینہ کے گورنر تما م بن عباس اور مکہ کے گورنر قثم بن عباس۔

قثم ایک فیاض انسان تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جنازے اور تدفین میں شریک ہوئے ،کہتے ہیں کہ وہ آخری شخص تھا جو رسول اللہ کی قبر مبارک سے نکلا ، علماء رجال نے اسے ثقہ اور قابل اعتماد شخص کے طور پر ذکر کیا ہے، قثم بن عباس نے بخارا اور سمرقند کی فتح جو معاویہ کے دور میں ہوئی تھی میں حصہ لیا اور جنگ میں مارا گیا ، ان کی قبر سمرقند میں ہے[12]۔
مدینه میں گورنر

یثرب یا مدینہ منورہ ، مکہ کے شمال مشرق میں اور حجاز کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ شہر عالم اسلام کے بڑے شہروں میں سے ایک اور عظمت و حرمت کے لحاظ سے دوسرا اسلامی شہر ہے۔ یہ شہر رسول اللہ کی ہجرت کے بعد 35 ہجری تک اسلامی حکومت اور خلافت کا مرکز رہا[13] ۔

اس شہر میں امام علی علیہ السلام کے گورنر یہ تھے:
1سهل بن حنیف
2 ابوحبیش تمیم بن عمرو
3 تمّام بن عباس
4 ابو ایّوب انصارى
5حارث بن ربی

مورخین اور سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ جب امام سپاہ جمل سے لڑنے عراق گئے تو آپ نے "سہل بن حنیف" کو مدینہ شہر کا گورنر مقرر کیا اور وہ جنگ صفین تک اس عہدے پر رہے[14]۔ سہل کے بعد ابو جیش تمیم بن عمرو کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا[15] ۔ بعض مورخین نے کہا ہے کہ سہل کے بعد تمام بن عباس کو مدینہ کا مقرر کیا گیا۔ "تمام" جنگ نہروان کے اختتام تک مدینہ کا گورنر تھا[16] ۔تمام کے بعد ابو ایوب مدینہ کا گورنر بنا، وہ "بُسر بن ارطات" کی لوٹ مار اور جرائم تک مدینہ کا گورنر رہا اور اس کے بعد مجبورا کوفہ جا کر مولا علی کے ساتھ جا ملا [17]۔ ابو ایوب کے بعد حارث بن ربیع کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا اور وہ امیر المومنین کی شہادت تک اس عہدے پر فائز رہے [18]۔

اب ہم مختصراً ان بزرگوں کے احوال زندگی بیان کریں گے۔
سهل بن حنیف انصارى خزرجى

سہل جس کی کنیت ابو محمد تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اصحاب اور انصار میں سے تھے اور ایک عظیم الشان آدمی تھے۔ مورخین کے مطابق اس نے رسول خدا کے شانہ بشانہ تمام جنگوں میں حصہ لیا۔ آپ نے 12 ہجری میں عقبہ منیٰ میں پیغمبر اسلام کے دست مبارک پر بیعت کی اور اسلام قبول کیا اور "نقبہ" میں سے تھے۔ غزوہ احد میں وہ ان بزرگوں میں سے تھے جو علی (ع) کے ساتھ رہے اور رسول اللہ (ص) کو نہیں چھوڑا۔

ہجرت کے پہلے سال سہل رات کو اپنے قبیلے کے لکڑی کے بتوں کو توڑ کر ایک بیوہ انصاری عورت کے گھر لے جاتے اور کہتے: ان کو جلا دو اور استعمال کرو۔ سہل کی موت کے بعد بھی حضرت علی (ع) ان کی شجاعت و جوان مردی کو یاد کرتے رہتے تھے ۔

رحلت رسول خدا کے بعد، سہل ان لوگوں میں سے ایک تھا جو علی (ع) کے ساتھ رہے اور ان بارہ لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نےحضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی اور ان کی خلافت کی مخالفت کی۔

وہ 36 ہجری میں جب امام عراق اور جنگ جمال کی طرف بڑھے تو مدینہ کا گورنر مقرر ہوا۔ وہ جنگ صفین تک اسی مقام پر رہے اور جنگ صفین کے دوران علی (ع) کی دعوت پر جنگ میں گئے۔ جنگ کے بعد اسے فارس کی گورنری پر مقرر کیا گیا۔لازم الذکر ہے کہ سہل اپنے بھائی عثمان بن حنیف کے ساتھ "شرطۃ الخمیس" کا حصہ تھے[19]۔

آخر کار سنہ 38 ہجری میں سہل نےشہر کوفہ میں اپنی فانی زندگی کو الوداع کیا اور اپنی موت سے علی (ع) کو بہت غمگین کر دیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے آپ کو سرخ کپڑے میں کفن دیا اور اس پر نماز پڑھی اور پچیس تکبیریں کہیں۔ تکبیروں کی کثرت سہل کی شخصیت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں ۔
تمیم بن عمرو

تمیم بن عمرو، جس کی کنیت ابو حبیش یا ابوالحسن مازنی تھی ، امیر المومنین کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کچھ عرصہ مدینہ کی گورنر رہے۔ شیخ طوسی کہتے ہیں کہ ابو حبیش کا مدینہ کے گورنر کا زمانہ سہل بن حنیف سے پہلے کا تھا، لیکن "ابن اثیر جزری" نے ان کی حکومت کا زمانہ سہل کے بعد کا لکھا ہے[20]۔
تمّام بن عبّاس

تمام بن عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ کے چچازاد بھائی اور جناب عباس کے دسویں اور آخری بیٹے ہیں۔ ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ ابن اثیر جزری اور ابن عبد البر نے بیان کیا ہے کہ جب سہل بن حنیف کو علی (ع) نے جنگ صفین میں شرکت کے لیے بلایا تو تمام کو مدینہ کی گورنری پر مقرر کیا گیا۔ یہ روایت جزری کے الفاظ کے خلاف ہے جو سہل بن حنیف، تمیم بن عمرو کے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ لہٰذا شیخ طوسی کی روایت کو صحیح مانتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ابو حبیش مدینہ کے پہلے گورنر تھے، اس کے بعد سہل اور پھر تمام بن عباس بالترتیب مدینہ کے دوسرے اور تیسرے گورنر تھے۔
ابوایّوب انصارى

خالد بن زید، ابو ایوب انصاری خزرجی، رسول اللہ کے عظیم اصحاب میں سے تھے۔ مدینہ میں داخل ہوتے ہی پیغمبر اسلام انہی کے گھر میں اترے ۔ ابو ایوب اہل مدینہ کے رسول اللہ کے ساتھ پیمان عقبہ میں موجود تھے، - اور نبی کریم سے بیعت کی۔ اس کے علاوہ آپ نے رسول اللہ کی تمام جنگوں میں شرکت کی۔ ابو ایوب حجۃ الوداع کے قافلے کے مسافروں میں سے تھے، جو غدیر خم میں موجود تھے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے: اس دن میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مَن کُنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلِىٌ مَوْلاهُ رسول اللہ کی وفات کے بعد ابو ایوب حضرت علی کے خاص ساتھیوں میں سے ہو گئے۔ وہ ان بارہ لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی اور ان کے مخالفین میں سے تھے۔ ابو ایوب جمل، صفین اور نہروان کی لڑائیوں میں امام کے ساتھ تھے اور دشمنوں سے لڑتے رہے۔ جنگ نہروان کے بعد اسے مدینہ شہر کا گورنر مقرر کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ابو ایوب امیر المومنین کی شہادت کے بعد مسلمان مجاہدین کے ساتھ روم گئے اور کفار سے جنگ کی۔ ان کی وفات 51 ہجری میں قسطنطنیہ شہر کے قریب ہوئی اور ان کی لاش شہر کی فصیل کے پاس دفن ہوئی۔ ان کی قبر اب استنبول شہر میں مسلمانوں کے لیے زیارت گاہ ہے[21]۔
حارث بن ربیع انصارى

مدینہ شہر کے آخری گورنر تھے جو امام علی علیہ السلام کی شہادت تک اس عہدے پر فائز رہے۔ علامہ سید محسن امین اور علامہ مامقانی نے حارث بن ربیع کو حارث بن ربیع بن زیاد غطفانی عباسی مانتے ہیں اور اپنی سوانح عمری میں ذکر کیا ہے کہ وہ ان اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھے [22]۔
یمن میں نمائندے

یمن جزیرہ نما عرب کے جنوب مغرب میں اور بحیرہ احمر کے قریب ایک سرزمین ہے۔ یہ خطہ ساسانی دور سے اسلام کے عروج تک ایرانی حکومت کے تابع رہا[23]۔ یمن 10ہجری میں حضرت علی علیہ السلام نے فتح کیاتو لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ کے بھیجے ہوئے نمائندہ یعنی حضرت علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کی[24]۔
عبیدالله بن عباس

سنہ 36 ہجری میں آپ کو علی (ع) نے یمن کے علاقے کے گورنر کے عہدے کے لیے منتخب کیا اور اس سرزمین پر بھیجا۔ آپ نے 40 ہجری میں "بصر بن ارطہ" کی لوٹ مار اور جنایت تک یہاں حکومت کی[25]۔
مصر میں نمائندے

مصر دنیا کے قدیم ترین اور مشہور خطوں میں سے ایک ہے اور اس کی تہذیب قدیم اور تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ یہ سرزمین افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے، جو شمال سے بحیرہ روم، مشرق سے شام اور بحیرہ احمر، جنوب سے نوبی ، سوڈان اور مغرب سے طرابلس سے جڑی ہوئی ہے۔ اس سرزمین کو عمرو بن عاص نے 21 ہجری بمطابق 17 ستمبر 642 عیسوی کو حضرت عمر کے دور خلافت میں فتح کیا اوریہ اسلامی حکومت کا علاقہ بن گیا[26]۔ سن 36 ہجری میں جب علوی حکومت کے گورنر اسلامی علاقوں اور شہروں میں بھیجے گئے تو قیس بن سعد کو مصر کی گورنری پر مقرر کیا گیا ۔ وہ جنگ صفین تک اس عہدے پر فائز رہے، یہاں تک کہ امام علیہ السلام نے نا چاہتے ہوئے بعض حواریوں کے اسرار پر اسے حکومت سے ہٹا دیا ۔ ان کے بعد محمد بن ابی بکر مصر کی گورنری پر فائز ہوئے۔ وہ بھی زیادہ عرصہ حکومت نہ کرسکے اور انتہائی دردناک طریقے سے شہید کر دیئے گئے ۔

ان کے بعد مالک اشتر نخعی کو گورنر مقرر کیا گیا تاکہ وہ بے چین اور سوگوار مصر کو پرسکون کر سکیں، لیکن مصر پہنچنے سے پہلے انہیں قلزم کے علاقے میں معاویہ نے زہر دے کر شہید کر وا دیا اور اس کے بعد مصر امام کے ہاتھ سے نکل گیا اور عمرو عاص نے معاویہ کی طرف سے اس علاقے پر قبضہ کرلیا ۔

اب ہم ان تینوں بزرگوں کامختصرزندگینامہ بیان کرتے ہیں ۔

قیس بن سعد بن عبادہ انصاری

قیس بن سعد بن عبادہ قبیلہ خزرج کا سربراہ ، رسول خدا کا صحابی اورمدنی مسلمانوں میں سے پہلے مسلمان ہیں۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد وہ دس سال رسول اللہ کے خادم رہے اور اس عرصے میں جب وہ جوان تھے تو ان کے پاس تعلیم پائی اور سنت نبوی سے آشنا ہوئے۔ اس نے رسول خدا کی تمام جنگوں میں شرکت کی۔

رسول اللہ کی وفات کے بعد وہ خلافت کے مخالفین میں سے تھے۔ 25 سال کی خاموشی اور صبر کے بعد، قیس نے امیر المومنین علی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ چونکہ قیس مصر کی فتح میں موجود تھا اور کچھ عرصے سے یمن کا رہنے والا تھا اور مصر کے حالات سے واقف تھا، اس لیے اس کے انتظام اور تعاون کی وجہ سے امام نے ماہ صفر 36 ہجری میں اسے مصر کی گورنری پر مقرر کیا۔

امیر المومنین کی خلافت میں مصر کو ایک خاص فضیلت حاصل تھی کیونکہ حضرت علی (ع) مصر پر غلبہ حاصل کرکے معاویہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھول سکتے تھے اور اسے دو اطراف سے محاصرہ کر سکتے تھے۔ اس بنا پر معاویہ نے بھی مصر کو امام کی حکومت کی سرزمین سے آزاد کرانے کی بھرپور کوشش کی۔

معاویہ قیس کی منصوبہ بندی اور انتظام و انصرام سے بخوبی واقف تھا کیونکہ اس نے دیکھا تھا کہ وہ اپنے دور اقتدار کے اسی مختصر عرصے میں ایک پرامن اور مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ شروع میں معاویہ نے قیس کو پیار اور محبت سے بھرا خط لکھا اور اس کے بعد اس سے عہدہ اور دولت کا وعدہ کیا۔ قیس اور اس کے درمیان خط و کتابت جاری رہی یہاں تک کہ آخری خط میں قیس کا واضح جواب معاویہ تک پہنچ گیا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا:

اے بت پرست کی اولاد ! آپ چاہتے ہیں کہ میں علی سے الگ ہو جاؤں اور آپ کی اطاعت کروں! تم مجھے دھمکی دے رہے ہو کہ علی کے ساتھی اس سے منہ موڑ کر تمہاری طرف ہو گئے ہیں! قسم ہے خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اگر علی کا میرے سوا کوئی مددگار باقی نہ رہے اور میرا ان کے سوا کوئی نہ ہو تو میں تم سے صلح نہیں کروں گا اور تمہاری اطاعت نہیں کروں گا اور خدا کے دشمن کو اس کے دوست پر کبھی ترجیح نہیں دوں گا[27]۔

یہ خط ملنے کے بعد معاویہ قیس سے مایوس ہوا لیکن مصر اور قیس کو یونہی چھوڑ دینا آسان نہیں تھا اس لیے کوئی اور حیلہ ڈھونڈنے لگ گیا ۔ اور وو دوسرا حیلہ امام کی نگاہ میں قیس کا مقام کم کرنا اور آئے روز جھوٹی افواہیں تھیں جیسا کہ عراق اور شام کے لوگوں میں یہ بات پھیلائی کہ قیس نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے۔

صفین میں موجود عراقی فوج میں معاویہ اور قیس کی بیعت کی افواہ بہت تیزی سے پھیل گئی۔ ایک طرف اشعث بن قیس اور اس کے اتحادی جیسے منافق لوگ اور دوسری طرف جاہل دوستوں نے علی (ع) پر قیس کو معزول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ امام فرماتے تھے: تجھ پر افسوس! میں قیس کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔ خدا کی قسم! اس نے خیانت نہیں کی اور یہ معاویہ کی چال ہے[28]، امام کی باتوں کا ان کے دلوں اور سطحی سوچ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور امام اپنی باطنی خواہش کے خلاف رائے عامہ کے دباؤ کی وجہ سے قیس کو مصر کی حکومت سے برطرف کرنے پر مجبور ہوئے۔

مصر کی حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد قیس مدینہ روانہ ہوا اور سہل بن حنیف کے ساتھ صفین میں امام کے ساتھ شریک ہوا اور جنگ صفین اور اس کے بعد جنگ نہروان میں شریک رہا ۔ جنگ صفین اور نہروان میں ان کی دانائی اور شجاعت تاریخ کے سنہری صفحات پر روشن ہے۔

قیس ،شرطة الخمیس میں سے تھا اور امام حسن مجتبیٰ کی فوج کے کمانڈروں میں سے تھا۔ اسلام کی ترقی کے لیے زندگی بھر جدوجہد کی اور بالآخر 59 یا 60 قمری میں انتقال کر گئے۔

جرات و شجاعت، ایمان و یقین، عبادت و روحانیت، عدل و امانت، تقویٰ و پرہیزگاری، عفو و درگزر، تعاون و حکمت، محبت اور ولایت قیس بن سعد کی اہم خصوصیات میں سے تھیں[29]۔
محمد بن ابى بکر

محمد بن ابی بکر حضرت علی علیہ السلام کے دور میں مصر کے دوسرے گورنر تھے۔ ان کے والد ابوبکر اور والدہ اسماء بنت عمیس ہیں۔ جنگ موتہ میں جعفر بن ابی طالب کی شہادت کے بعد "اسماء" ابوبکر کی بیوی بنیں اور ہجرت کے دسویں سال محمد کی ولادت ہوئی۔ ابوبکر کی وفات کے بعد امام علی نے اسماء سے شادی کی۔ لہٰذا محمد جو کہ ایک بچہ تھے، اپنی والدہ کے ساتھ ، حضرت علی کے گھر میں داخل ہوئے اور علی (ع) کے گھر تربیت و پرورش پائی ان کا شمار خاص اصحاب اور شاگردوں میں ہوتا ہے ، بیٹے کی حیثیت سے علی کے ساتھ رہے اور جنگ جمل اور صفین میں حصہ لیا[30]۔

امیر المومنین علی علیہ السلام کو محمد بن ابی بکر سے بہت محبت تھی فرمایا : "محمد ابو بکر کے خون سے میرا بیٹا ہے"۔ چنانچہ جب محمد کی شہادت کی خبر امام تک پہنچی تو آپ بہت غمگین اور رنجیدہ ہوئے اور بصرہ کے گورنر ابن عباس کو محمد کی شہادت کے بارے میں ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اس کی تفصیل یوں بیان کی: محمد ایک مہربان بیٹا ، محنتی اور مرد میدان ہے [31]۔

محمد بھی علی (ع) سے محبت کرتے تھے۔ جنگ جمل میں امام کا ساتھ دینا اور اپنی بہن کی فوج کے ساتھ تصادم اس محبت کو ظاہر کرتا ہے[32]۔ آخر کار محمد 38ھ میں مصر میں شہید ہوئے۔
مالک اشتر

مالک بن حارث نخعی، ملقب بہ "اشتر" ، ایک بہادر عراقی عرب اور تابعین کے بزرگوں میں سے ایک ہے۔ ملک اشتر ،امیر مومنین کے خاص مددگاروں میں سے تھا جنہوں نے جمل و صفین کی لڑائیوں میں حصہ لیا اور ناکثین و قاسطین پر اپنی تلوار چلائی۔ مکتب امام کے پروردہ اور اپنے استاد کی طرح مختلف صفات کے حامل تھے۔ ہمت اور طاقت، نرمی اور رواداری،فصاحت و بلاغت،جیسی صفات ان میں عیاں تھیں۔ آپ کو عثمان نے شام جلاوطن کر دیا اور پھر 33 ہجری میں کوفہ واپس آکر قیام جرعہ شروع کیا ۔

اس کے بعد مالک اس وقت کے خلیفہ کے خلاف عوامی تحریک میں مصری انقلابیوں اور کوفی جنگجوؤں کے ساتھ مدینہ گئے اور اس تحریک میں حصہ لیا۔ حضرت علی (ع) کو خلافت ملی تومالک نے حضرت علی کی بیعت کی اور ہمیشہ علی (ع) کے ساتھ رہے اور جنگ صفین کے اختتام پر مصر کے گورنر مقرر ہوئے۔ مالک کے کردار کے بارے میں ہم صرف نہج البلاغہ کے 38ویں خط کا حوالہ دیں گے جو علی علیہ السلام نے مصر کے لوگوں کو اس وقت لکھا تھا جب وہ مصر پر حکومت کرنے گئے تھے اور یہ ان کا بہترین تعارف ہے:

"امابعد، میں نے آپ کے پاس خدا کا ایک بندہ بھیجا جو خوف کے دنوں میں نہیں سوتا اور خوف کی گھڑیوں میں دشمن سے منہ نہیں ہٹاتا۔ وہ بدکرداروں پر جلتی ہوئی آگ سے زیادہ سخت ہے۔ وہ مالک پسرحارث مذحجى ہے۔ جہاں سچ ہے وہاں اس کی سچائی سنو اور اس کی اطاعت کرو، وہ خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ اس کی رفتار کم نہ ہو اور تلوار کند نہ ہو ، اگر وہ آپ کو حرکت کرنے کا حکم دے تو حرکت کریں اور اگر کھڑے ہونے کا کہے تو کھڑے ہو جائیں کیونکہ وہ میرے حکم کے سوا کچھ نہیں کرتا[33] ۔ ۔۔

آخر کار جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے مالک اشتر نخعی کو 39 ہجری میں مصر کے علاقے قلزم میں معاویہ کے کارندوں نے زہر دے کر شہید کر دیا۔

ان کی موت نے علی (ع) کو بہت غمگین کردیا حضرت نے فرمایا:

اے مالک! خدا کی قسم تمہاری موت نےایک عالم کو بوڑھا اور ایک عالم کو خوشحال کر دیا ہےیعنی مالک کی موت شیعوں کے لیے مشکل اورشامیوں کیلئے خوشی کا باعث تھی[34]۔
عراق

یہ سرزمین جنوب سے عرب اور خلیج فارس، شمال سے ترکی، مشرق سے ایران اور مغرب سے شام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ خلافت اسلامیہ کے دور میں عراق میں خوزستان کے کچھ حصے شامل تھے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے یہ سرزمین ایرانی حکومت کا حصہ سمجھی جاتی تھی، یہاں تک کہ سنہ 12 قمری ہجری میں مسلمانوں نے اسے فتح کرنے کے لیے کارروائی کی اور سات سال بعد 19 قمری ہجری سنہ 642 عیسوی میں اسے فتح کیا۔
سرزمین عراق تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے

الف) دریائے فرات کا مغربی علاقہ، اس علاقے کا زیادہ تر حصہ صحرائی ہے اور اس کا سب سے اہم شہر حیرہ ہے۔

ب) عراق کا مرکزی علاقہ جس میں بین النهرین کے جنوبی علاقے کی سرزمین شامل ہے اور شمال سے مدائن (تسفون) سے منسلک ہے اور موصل کے آس پاس تک پھیلا ہوا ہے۔

ج) موصل کا علاقہ اور جزیرہ۔ اس علاقے میں بین النهرین کا شمالی حصہ شامل ہے[35]۔ امام علی (ع) کے زمانے میں ان تینوں خطوں میں بہت سے اہم شہر تھے جیسے کوفہ، بصرہ، مدائن وغیرہ، ان علاقوں میں امام کے نمائندے اپنے فرائض انجام دیتے تھے۔

عراق میں نمائندے

عراق کی سرزمین اسلامی حکومت کی حدود میں شمار ہوتی تھی۔ اس ریاست میں بہت سے شہر، قصبے اور اضلاع تھے، جن میں سے مشہور کوفہ - امام کی حکومت کا مرکز - بصرہ اور مدائن تھے۔ ان شہروں کے علاوہ دوسرے شہر جیسے انبار، ہیت، فرات، جزیرہ وغیرہ اس سرزمین میں واقع تھے۔
کوفه میں نمائندے

کوفہ بین النہرین کا ایک شہر ہے اور اس کے جنوب میں ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ شہر 17 ہجری میں بصرہ شہر کے قیام کے بعد سعد بن ابی وقاص کے حکم سے تعمیر کیا گیا۔ یہ شہر 36 ہجری میں امیر المومنین کی حکومت کا مرکز بنا[36]۔ امام علیہ السلام نے عمارہ بن شہاب کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ عمارہ جب کوفہ کے قریب پہنچا تو عثمانی حکمران ابو موسیٰ اشعری نے اسے شہر میں داخل نہ ہونے دیا اور وہ وہاں سے مدینہ چلا گیا[37]۔اس واقعہ کے بعد بعض بزرگوں جیسے مالک اشتر کے اصرار پر امام (ع) نے ابو موسیٰ اشعری کو کوفہ کے گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا۔ کوفہ پر ابو موسیٰ کی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہی۔ آپ کو جنگ جمل سے پہلے کوفہ کے گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا [38]۔ ابو موسیٰ اشعری کی برطرفی کے بعد قرظة بن کعب انصارى جو رسول اللہ ص کے اصحاب میں سے تھا، کوفہ کا گورنر مقرر کیا گیا[39]۔ واضح رہے کہ امام علی علیہ السلام کے 12 رجب 36 ہجری کو کوفہ پہنچنے اور اسے اسلامی حکومت کے مرکز کے طور پر منتخب کرنے کے بعد، امام نے شہر کے انتظامی امور کو سنبھال لیا اور صرف جنگ صفین اور نہروان پر جاتے وقت عقبہ بن عمرو[40] اور هانى بن هوذه [41]کو کوفہ میں اپنا جانشین مقرر کیا۔

ہم مختصراً ابو موسیٰ اشعری اور قرظة بن کعب انصارى کی زندگیوں کا تذکرہ کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک تھوڑی دیر کے لیے کوفہ کے گورنر کے عہدے پر فائز رہا۔
ابوموسى اشعرى

عبداللہ بن قیس جسے ابو موسیٰ اشعری کے نام سے جانا جاتا ہے، مکہ میں اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس نے جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت نبوت کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں پر مشرکین کے ظلم و ستم کی وجہ سے ہوئی۔

ابو موسیٰ اشعری ہجرت کے ساتویں سال اور جنگ خیبر کے دوران حبشہ سے مسافروں اور مہاجرین کے قافلے کے ساتھ مدینہ واپس آئے۔حضرت عمر کےدور میں کچھ عرصے کے لیے بصرہ کا گورنر رہا اور حضرت عثمان کے دور میں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔پھر حضرت عثمان کی خلافت کے آخر ی ایام میں سعید بن عاص کی برطرفی کے بعد ابو موسیٰ کوفہ کا گورنر مقرر کیا گیا اور حضرت علی علیہ السلام کی خلافت میں بعض صحابہ کے اصرار کی وجہ سے وہ مختصر عرصے کے لیے اس عہدے پر فائز رہے[42] ۔

قرظة بن کعب انصارى

قرظہ مدینہ کا رہنے والا اور رسول اللہ ص کے اصحاب میں سے تھے۔ آپ نے احد اور دیگر جنگوں میں حصہ لیا۔ رسول اللہ کے بعد، یاران علی میں شمار ہوتا تھا ۔ جمل ، صفین ،نہروان میں حصہ لیا۔ قرظ انصاری کی وفات 40 ہجری میں کوفہ میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا بیٹا " عمرو بن قرظه " شہدائے کربلا میں سے ہے[43]۔
بصره میں نمائندے

بصرہ شط العرب کے مغربی ساحل پر واقع ایک شہر ہے اور یہ عراق کا پہلا شہر ہے جو اسلامی دور میں حیرہ کی فتح کے بعد قمری کیلنڈر کے 15ویں سال میں عاصم بن دلف کی رہنمائی میں تعمیر کیا گیا تھا[44]۔ عثمان بن حنیف بصرہ شہر کے پہلے علوی گورنر تھے جو 36 ہجری میں امیر المومنین (ع) کے حکم سے اس شہر میں گئے لیکن کچھ عرصہ بعد انہیں طلحہ اور زیبر نے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور شہر سے نکال دیا[45]۔ عبداللہ بن عباس دوسرے گورنر تھے جنہیں جمل کی تاریخی جنگ کے بعد یہاں بھیجا گیا تھا[46]۔

اب ہم ان دو عظیم شخصیات کی زندگیوں پر مختصرگفتگو کریں گے۔
عثمان بن حنیف انصارى

عثمان بن حنیف قبیلہ اوس سے ہیں، سہل بن حنیف کے بھائی - مدینہ شہر کے علوی گورنر تھے۔ بعثت کے قریب مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ سقیفہ میں بیعت کے دوران ابوبکر کی مخالفت کرتے ہوئے امیر المؤمنین کی خلافت کا دفاع کرتے رہے، عثمان بن حنیف ان بارہ لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت پر اعتراض کیا[47]۔

عثمان بن حنیف ایک ماہر اور بصیرت والا شخص تھا [48]جسے امام نے خلافت کے آغاز میں بصرہ شہر کی گورنری کے لیے مقرر کیا تھا۔ وہ حُکیم بن جبله کے ساتھ بصرہ میں داخل ہوا اور شہر کے امور کا انتظام سنبھال لیا[49]۔

ابن حنیف نے بصرہ پر تقریباً پانچ ماہ حکومت کی۔ اس کے بعد حضرت عائشہ، طلحہ اور زبیر مسلح لشکر کے ساتھ بصرہ شہر میں داخل ہوئے۔ ابن حنیف کو گرفتار کر کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے سر اور چہرے کے تمام بال نکال کر شہر سے باہر نکال دیا گیا۔ امام علی علیہ السلام کا مشہور خط عثمان بن حنیف کو بصرہ کے گورنر کے دور میں جاری کیا گیا تھا۔ عثمان نے 60 ہجری میں کوفہ میں وفات پائی[50]۔
عبدالله بن عباس

عبداللہ عباس کے دس بیٹوں میں سے ایک اور رسول خدا کے اصحاب اور امام علی کے شاگردوں میں سے تھے۔ آپ کو علم فقہ اور تفسیر قرآن، اور شاعری میں مہارت حاصل تھی ، ابن عباس ایک فصیح انسان تھے اور امیر المومنین کے عقیدت مندوں میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام کے ساتھ جمل، صفین اور نہروان کی جنگوں میں شریک ہوئے اور جنگ جمل کے بعد آپ کو بصرہ کا گورنر منتخب کیا گیا ۔ عبداللہ بن عباس حضرت علی کے باوفا ساتھی تھے اور جنگ صفین میں حضرت کے ترجمان تھے، امیر المومنین نے ان کا تعارف قاضی اور ثالث کے طور پر کرایا، لیکن اہل عراق نے انہیں قبول نہیں کیا![51] ان کی علی (ع) سے علیحدگی اور بصرہ کے بیت المال میں خیانت کے بارے میں مورخین اور علماء کے درمیان بحث ہے۔ آیت اللہ خوئی لکھتے ہیں: عبداللہ بن عباس ایک عظیم انسان اور امیر المومنین اور حسنین علیہم السلام کے محافظ تھے۔ مؤرخین نے لکھا ہے: جنگ جمل میں امیر المومنین کی فتح کے بعد آپ نے عبداللہ بن عباس کو حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کہ وہ مدینہ چلی جائیں اور بصرہ میں قیام نہ کریں۔ ابن عباس حضرت عائشہ کے پاس آئے جو اس وقت بصرہ میں بنی خلف کے محل میں تھیں۔ اس نے محل میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، لیکن حضرت عائشہ نے اجازت نہ دی۔ عبداللہ بغیر اجازت محل میں داخل ہوا توکمرہ کو خالی پایا اور حضرت عائشہ نے خود کو پردوں کے پیچھے چھپا لیا تھا۔ابن عباس کمرے کے وسط میں بیٹھ گیا توحضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے ابن عباس سے کہا:

آپ نے بغیر اجازت داخل ہو کر اور بغیر اجازت قالین پر بیٹھ کر خلاف ورزی کی ہے۔ ابن عباس نے کہا: ہم آپ سے زیادہ آداب و سنت کو جانتے ہیں، اور آپ نے ہم سے رسم و رواج سیکھے! جان لو کہ یہ تمہارا گھر نہیں ہے۔ تمہارا گھر وہ ہے جس میں پیغمبر نے تمہیں رہائش دی اور تم خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی اور جان پر ظلم کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ جب بھی آپ اس گھر میں جائیں گے تو ہم آپ کی اجازت کے بغیر وہاں داخل نہیں ہوں گے اور آپ کے گھر کے قالین پر نہیں بیٹھیں گے۔ پھر ابن عباس نے امام علی کا پیغام ان تک پہنچایا۔
مدائن میں نمائندے

مدائن، مدینہ کی جمع ہے اس سے مراد سات شہر ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں، تیسفون مدائن کا سب سے بڑا شہر اور ایران کی ساسانی حکومت کے بادشاہوں کا دارالحکومت تھا[52]۔

یہ خطہ دجلہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر واقع ہے اور امیر المومنین کے دور خلافت میں آپ کی حکومت میں تھا اور درج ذیل شخصیات نے گورنر کی حیثیت سے اس علاقے میں اپنے فرائض سرانجام دیے:

1 حذیفہ بن یمان[53]

2 یزید بن قیس ارحبى[54]

ان دونوں کے علاوہ تین اور افراد سعد بن مسعود ثقفی[55]، لام بن زیاد [56]، عدی بن حاتم کے ماموں اور ثابت بن قیس بن خطیم ظُفرى [57]بھی تاریخ میں مدائن کے گورنر بتائے گئے ہیں۔

اب ہم حذیفہ اور یزید کی زندگیوں کا مختصرذکر کریں گے۔

حُذیفة بن یمان

حذیفہ پیغمبر اسلام کے عظیم اور ممتاز اصحاب میں سے تھے حذیفہ نے اپنے والد کے ساتھ جنگ احد میں شرکت کی۔ اس جنگ میں ان کے والد شہید ہوئے۔ احد کے بعد، آپ نے رسول اللہ کے دور میں تمام اسلامی جنگوں میں حصہ لیا۔ حذیفہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ منافین کو جانتے تھے ، جب منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو قتل کرنا چاہا تو وحی الٰہی نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے حذیفہ سے پوچھا: کیا تم انہیں جانتے ہو؟ عرض کی نہیں جانتا تو حضور نے حذیفہ کو ان کے نام بتائے۔ اس کے بعد حذیفہ ان منافقین کو اچھی طرح جانتا تھا جنہوں نے اپنے چہروں پر اسلام کا نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ رسول خدا(ص) کی وفات کے بعد حذیفہ ان لوگوں میں سے تھے جو علی(ع) کے ساتھ کھڑے تھے۔ مسعودی لکھتے ہیں: سنہ 36 ہجری میں حذیفہ کوفہ یا مدائن میں بیمار ہوئے ۔ حضرت عثمان کے قتل اور لوگوں کی علی (ع) کی بیعت کی خبر ان تک پہنچی۔ حذیفہ نے کہا مجھے مسجد لے چلو اور باجماعت نماز کا اعلان کرو۔ لوگوں کے جمع ہونے کے بعد حذیفہ کو منبر پر بٹھایا گیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

لوگو! مسلمانوں نے علی کی بیعت کی۔ اب تقویٰ اختیار کرو اور اس کی حمایت کرو۔ اس لیے کہ وہ روز اول سے حق پر تھا اور وہ نبی کے بعد قیامت تک کے لوگوں میں سب سے افضل ہے۔پھر حذیفہ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا: خدایا! تم گواہ ہو کہ میں نے علی کی بیعت کی ہے ۔حضرت نے ان کو خط بھی لکھا: ۔۔۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ پوشیدہ اور ظاہر میں تقویٰ اختیار کرو اور ہر وقت خدا کے عذاب سے آگاہ رہو۔ اچھے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو اور دشمنوں کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ نرمی سے کام کرو اور لوگوں کے ساتھ دین اور انصاف کے معیار کے مطابق برتاؤ کرو کیونکہ تم خدا کے سامنے ذمہ دار ہو۔مظلوم کی مدد کریں۔ لوگوں کے دھوکہ سے بچیں۔ جب تک ہو سکے اچھا راستہ چنو کیونکہ خدا نیک لوگوں کو جزا دیتا ہے۔۔۔

حذیفہ مدائن پرکچھ عرصہ حکومت کرنے کے بعد اسی شہر میں انتقال کر گئے [58]۔
یزید بن قیس ارحبى

یزید بن قیس ہمدانی قبیلہ بنی ارہب سے تھا اور کوفہ میں رہنے والا تھا۔ یزید ہجری کی تیسری اور چوتھی دہائی میں کوفہ کے مشہور اور عظیم لوگوں میں سے اور جنگجوؤں اور اسلامی انقلابیوں میں سے تھا۔ ۔ شہر کوفہ کے ظالم حکمران ولید بن عقبہ اور سعید بن عاص کے سامنے کھڑے ہو گئے۔کچھ عرصہ جلاوطن بھی رہے ،حضرت عثمان کے قتل کے بعد یزید نے امام علی علیہ السلام کی بیعت کی اور جنگ جمل میں شرکت کی۔ جنگ جمل کے بعد اس نے مدائن کے علاقے کے گورنر کے طور پر کام شروع کیا ، اور اس کے بعد یزید نےشہر کوفہ کے پولیس کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں ، جنگ نہروان کے بعد اسے اصفہان، حمدان اور رے کی گورنری پر بھی مقرر کیا گیا[59]۔
جزیره میں نمائندے

جزیرہ دجلہ اور فرات کے درمیان ایک سرزمین ہے جس میں بین النہرین کا شمالی حصہ بھی شامل ہے۔ اس علاقے میں نصیبین، موصل، سنجار، آمد، ھیت اور عانات شہر واقع تھے،اس کے علاوہ قرقیسیا ، حران، رقہ اور قنسرین کے شہر بھی اسی علاقے میں واقع ہیں جو معاویہ کے زیرِ اقتدار تھے ، اس دور میں یہ علاقہ عراق اور شام کی افواج کی حملہ گاہ تھا[60]۔ ان خطوں کا پہلا علوی حکمران ملک اشتر تھا، وہ اس منصب کے لیے جنگ جمیل کے بعد منتخب ہوئے تھے، انہوں نے امیر المومنین کے گورنر کے طور پر اس علاقے میں مختصر وقت کے لیے خدمات انجام دیں[61]، ان کے بعد امام علی (ع) نے کمیل بن زیاد نخعى کو اس علاقے کا گورنر مقرر کیا [62]۔
کمیل بن زیاد نخعى

کمیل یمانى امیر المومنین کے خاص، قریبی اور وفادار پیروکاروں میں سے تھے۔ کمیل کچھ عرصے تک علی (ع) کی طرف سے "هیت" علاقے کا حکمران تھا۔ حجاج جب عراق کا گورنر بنا تو اس نے کمیل کو طلب کیا۔ کمیل کو اس کے منصوبے کا پتہ چل گیا اور وہ بھاگ گیا۔ حجاج نے بیت المال سے کمیل کےخاندان کا حصہ منقطع کر دیا۔ کمیل 83 ہجری میں نوے سال کی عمر میں حجاج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
عراق میں دیگر نمائندے

عالى

صوبہ عالی بغداد کے مغرب میں ایک علاقہ ہے جس میں چار اضلاع شامل ہیں: انبار، بادرویا ، قصر بُلّ اور مسکن۔ اس علاقے کا مرکز انبار شہر تھا[63]۔ ابو حسن بکری صوبہ عالی میں امیر المومنین کا گورنر تھا[64] ۔



زوابی

زاوبی، زاب کی جمع، جس کا مطلب ہے پانی کی ندی، بغداد کے بالائی اور زیریں علاقوں میں پانی کی چار ندیوں کا نام تھا جہاں لوگ رہتے تھے[65]۔ اس علاقے کا گورنر سعد بن مسعود ثقفى تھا[66] ۔

کسکر

یہ عراق کا قدیم ترین عیسائی نشین شہر تھا جو کوفہ اور بصرہ کے درمیان اور دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھا۔ عیسائی کتابوں میں اس کا ذکر" کَشکَر " کے نام سے ملتا ہے،جنگ جمل کے بعد قدامة بن عجلان کو اس شہر کا حاکم مقرر کیا گیا[67] اور اس کے بعد قعقاع بن شورکو اس جگہ بھیجا گیا[68]۔

جَبُّل

یہ کوفہ سے بغداد جاتے ہوئے نعمانیہ اور وسط کے درمیان ایک شہر تھا۔ سلیمان بن صُرد خزاعى کچھ عرصہ جَبُّل شہر کا حکمران تھا[69]۔

بهقباذات

یہ بغداد کے تین علاقوں کا نام ہے جو انوشیروان کے والد قباذ بن فیروز سے منسوب ہے۔ کوفہ میں جنگ جمل اور امیر المومنین کے قیام کے بعد " قرظة بن کعب " کو علاقہ بهقباذات کا گورنر مقرر کیا گیا[70]۔

بُهَرسِیر

بہرسیر بغداد اور مدائن کے قریب ایک علاقے کا نام ہے جو دجلہ کے مغربی علاقے میں واقع ہے اور بعض نے اسے مدائن کے سات شہروں میں سے ایک سمجھا ہے۔

جنگ جمل کے خاتمے اور امام علی (ع) کی کوفہ میں آمد کے بعد وسیع اسلامی ملک کے بعض ایسے علاقوں میں گورنر بھیجے گئے جہاں ابھی تک کوئی گورنر نہیں تھا۔ ان علاقوں میں بُهَرسِیر بھی تھا جہاں عدی بن حارث (عدی بن حاتم) کو گورنر مقرر کیا گیا تھا[71]۔

عین التمر

کوفہ کے مغربی علاقے میں انبار شہر کے قریب ایک قصبہ ہے جو 12 ہجری میں فتح ہوا تھا۔

مالک بن کعب ارحبى اس علاقے میں امام علی علیہ السلام کا نمائندہ تھا[72]۔

فرات کا علاقہ

بلاذری کہتے ہیں: عبیدہ سلمانی فرات کے علاقے میں حضرت علی کا گورنر تھا[73]۔

ایران کا علاقہ (مملکت فُرس یا فارسیان)

ایران ایک قدیم سرزمین ہے جس میں تہذیب و ثقافت اور ایک بہت ہی تاریخی پس منظر ہے۔ یہ سرزمین شمال سے دریاى خزر اور صحرائے خوارزم ، جنوب سے خلیج فارس اور بحیرہ عمان، مغرب سے زاگرس پہاڑ، مشرق سے جیہون اور مغربی علاقے میں دریائے سندھ اور پامیر سے جڑی ہوئی ہے۔ اسلامی دور میں موجودہ مقام کے علاوہ ایران میں خلیج فارس کے جنوبی جزائر اور بحیرہ عمان شامل تھے۔ عراق کی فتح کے بعد، عرب مسلم فوجوں کی طرف سے ایرانی سرزمینوں کی فتح شروع ہوئی۔ ایران میں مسلمانوں کی فتوحات کی تاریخ سنہ 19 ہجری سے شروع ہوتی ہے جس کا تعلق جنگ نهاوند سے ہے۔ یہ فتوحات 34 ہجری میں یزدگرد کی موت تک جاری رہیں۔ اسلامی دور میں ایران میں عراق کے علاقوں اور جنوبی جزائر اور خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساحلوں کے علاوہ وسیع زمینیں شامل تھیں جہاں اس وقت کے اہم اور خوشحال شہر تھے: اہواز، سوس ( شش)، توسٹر (شوشتر)، ہمدان، نہاوند، فارس، اسبہان (اصفہان)، آذربائیجان، رے، خراسان، سیستان (سیستان)، طبرستان اور...[74]

امیر المومنین علیہ السلام کے دور خلافت میں یہ علاقے آپ علیہ السلام کی حکومت کا حصہ سمجھے جاتے تھے اور ان علاقوں میں آپ کے نمائندے تھے۔
ایران میں نمائندے

ایران بہت وسیع تھااس میں بہت سے شہر شامل تھے۔ اور امام کی طرف سے گورنروں کو مقرر کیا گیا اور اس کا انتظام سنبھالنے کے لیے بھیجا گیا۔ ان میں سے بہت سے عہدیداروں کے نام تاریخ میں مذکور ہیں، ذیل میں ہم صرف ان کے نام اور ان کے دور حکومت کا ذکر کریں گے اور اختصار کے پیش نظر ان کی سوانح حیات کو چھوڑ دیں گے۔

اهواز

جنگ صفین سے پہلے امیر المومنین (ع) نے " خرّیت بن راشد " کو اہواز کی امارت پر مقرر کیا۔ وہ ان علاقوں میں گیا اورمعاملات کو منظم کیا۔ جب صفین کی جنگ حکیمیت سے ختم ہوئی تو خریت کو اس کے نتیجے کا علم ہوا۔ اسے یہ بات پسند نہ آئی اور اہواز کے خزانے سے لیس لشکر کے ساتھ امام (ع) کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کیا[75]۔ امام نے اپنے ایک بہادر ساتھی کو جس کا نام معقل بن قیس تھا اس کو دبانے کے لیے بھیجا اور آخر کار خریت کو قتل کر دیا گیا۔

کرمانشاہ

جب امام علی علیہ السلام 36 ہجری میں مدینہ سے عراق کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے "عبدالرحمن بودل بن ورقع خزاعی" کو سرزمین ماهان کی گورنری کے لیے بھیجا تھا[76]۔

اصفهان و همدان اور رى

جنگ جمل اور کوفہ میں امیر المومنین کے قیام کے بعد " مخنف بن سلیم " کو آپ علیہ السلام نے اصفہان اور ہمدان کا گورنر مقرر کیا۔ وہ تقریباً چھ ماہ تک اصفہان اور ہمدان کے حکمران رہے، جب صفین کی جنگ شروع ہوئی تو امام کی اجازت سے جنگ میں گئے۔ جب وہ عراق روانہ ہوئے تو اصفہان میں "حرث بن ربیع" اور حمدان میں "سعید بن وهب" نے جگہ لے لی[77]۔ یزید بن قیس ارحبى ، ہجری کی تیسری اور چوتھی دہائی کی ایک اور سیاسی شخصیت ہے، جو جنگ صفین کے بعد اور جنگ نہروان سے پہلے اصفہان، رے اور حمدان کی گورنری پر مقرر ہوئے۔

ابن اثیر نے الکامل میں ذکر کیا ہے: جنگ نہروان کے بعد امام علی علیہ السلام نے " حُجَیّه تیمى " کو، رے کی گورنری پر مقرر کیا تھا[78] اوریہ تقرری غالباً اس وجہ سے ہوئی تھی کہ "یزید بن قیس" کی حکومت کا علاقہ بہت وسیع تھا اور اس کی درخواست پر اس علاقے کے لیے ایک اور حاکم مقرر کیا گیا تھا۔
قزوین

ربیع بن خیثم کوفی جو بظاہر مشہد میں مدفون ہے، کچھ عرصے کے لیے قزوین کا گورنر رہا[79]۔
فارس

فارس کے گورنروں میں سے جن کا نام تاریخ میں مذکور ہے " زیاد بن ابیه " ہے۔ سنہ 39 میں اسے امام نے فارس کی گورنری پر مقرر کیا اور " بُسر " کی غارت گری تک اس سرزمین پر حکومت کی[80]۔

اس کے علاوہ بھی فارس کے شہروں میں گورنر تھے جن کے نام تاریخ میں مذکور ہیں۔ پہلا، منذر بن جارود، اصطخر فارس کا گورنر[81]، اور دوسرا اردشیر خُرّ کا گورنر "مَصقلة بن هبیره شیبانى"[82]۔
کرمان

بلاذری لکھتے ہیں: امیر المومنین نے عبدالله بن اھتم کو کرمان کی گورنری پر مقرر کیا[83]۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ تقرری جنگ جمل اور کوفہ میں امیر المومنین کے مستقر ہونے کےبعد ہوئی تھی۔

کرمان کے دوسرے گورنر زیاد بن ابیہ تھے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ 39 ہجری میں فارس اور کرمان کی گورنری پر تعینات ہوئے[84]۔
آذربائیجان

آذربائیجان میں پہلا گورنر " اشعث بن قیس " تھا۔ وہ اس علاقے میں حضرت عثمان کا گورنر تھا جسے امام نے مختصر وقت کے لیے اپنے نمائندہ کے طور پر باقی رکھا[85]۔ ان کے بعد سعید بن حارث خزاعى جو کچھ عرصے کے لیے سرکاری پولیس کے انچارج رہے، آذربائیجان کی گورنری پر تعینات ہوئے[86]۔ آذربائیجان کے ایک اور گورنر قیس بن سعد انصاری ہیں۔ مصر کی گورنری سے برطرف اور جنگ صفین میں شرکت کے بعد آذربائیجان کے گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے[87]۔

سجستان (سیستان)

عون بن جعدہ سیستان کے علاقے میں علی (ع) کا پہلا گورنر تھا۔ ان کے بعد ربعى بن کَأْس اس سرزمین کا گورنر بنا[88]۔

خراسان

امیرالمومنین علی علیہ السلام ، 36 ہجری میں جب عراق کے لیے روانہ ہوئے تو اپنے بھانجے" جعدة بن هبُیره " کو خراسان کی گورنری پر مقرر کیا[89] ۔خراسان کا ایک اور گورنر خُلید بن قرّه تھا[90] ۔
بحرین اور عمّان میں گورنر

بحرین خلیج فارس کا ایک جزیرہ تھا اور ایران کے ان علاقوں میں سے ایک تھا جسے ایران کی فتوحات کے دوران بغیر خون بہائے فتح کیا گیا تھا[91]۔ امام علی علیہ السلام نے 36 ہجری میں " عمر بن ابى سلمه " کو بحرین کا گورنر مقرر کیا۔

عمر بن ابى سلمه مخزومى سال دو ہجری کو حبشہ کی سرزمین پر پیدا ہوئے۔ ان کے والد ابو سلمہ اولین مسلمانوں میں سے تھے اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے تھے اور جنگ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ابو سلمہ کی شہادت کے بعد عمر کی والدہ ام سلمہ نے رسول اللہ سے شادی کی[92]۔

عمر کے بعد نعمان بن عجلان زرقى کو بحرین کا گورنر مقرر کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ نعمان بحرین کے ساتھ ساتھ عمان کے بھی گورنر تھے[93]۔ عمان میں علی (ع) کا ایک اور گورنرحلو بن عوف ازدى تھا۔
شام

بلاد شام یا سوریه مغربی ایشیا کا ایک خطہ ہے جو بحیرہ روم کے مشرق میں ہے جو شمال سے تروس پہاڑوں، مشرق سے فرات اور جنوب سے عربستان سے جڑا ہوا ہے۔ شام میں، لبنان، فلسطین اور اردن کے علاقے شامل ہیں۔ تاریخی منابع میں "شام" کی اصطلاح سے مراد ایک وسیع خطہ ہے، جس میں سات اہم شہر تھے: فلسطین، اردن، حمص، دمشق، قنسرین، عواصم اور ثغود[94] ۔ شامات کے علاقے کی فتح کا آغاز 24 رجب 12 ہجری بمطابق 14 اکتوبر 633 عیسوی کو ہوا اور آخر کار مئی 637 عیسوی کی مناسبت سے ربیع الآخر 16 ہجری میں بیت المقدس کی فتح پر اختتام پذیر ہوا[95] ۔ امیر المومنین کے دور خلافت میں شام کا علاقہ معاویہ کے زیر تسلط تھا اور اسی وجہ سے شام کو اسلامی حکومت کی سرزمین میں واپس کرنے کے لیے جنگ صفین ہوئی۔ اپنی خلافت کے آغاز میں ماہ صفر 36 ہجری میں امیر المومنین نے " سهل بن حنیف " کو سرزمین شام کا گورنر بنا کر بھیجا، لیکن وہ شام میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے [96]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] ۔ تاریخ طبرى، ج3، ص457؛ الکامل، ج3، ص194۔

[2] ۔ شرح نهج البلاغه ابن ابى الحدید، ج7، ص35؛ فروغ ولایت، ص349.

[3] ۔ یوسف، 55؛ اعراف، 18؛ قصص، 26؛ بقره، 247.

[4] ۔ نهج البلاغه، ترجمه امامى و آشتیانى، ج3، ص137.

[5] ۔ همان، ص8.

[6] ۔ همان، ص147.

[7] ۔ شرح نهج البلاغه ابن ابى الحدید، ج17، ص87.

[8] ۔ اطلس تاریخ اسلام، ص246؛ تاریخ تحلیلى اسلام، شهیدى، ص4؛ معجم البلدان، ج2، ص159 و 252.

[9] ۔ معجم البلدان، ج5، ص210.

[10] ۔ الکامل، ج3، ص398.

[11] ۔ الاستیعاب، ج4، ص161؛ اعیان الشیعه، ج2، ص418 و ج14، ص305؛ اسد الغابه، ج6، ص250؛ الاصابه، ج4، ص158؛ قاموس الرجال، ج3، ص28.

[12] ۔ اسد الغابه، ج4، ص393؛ الاصابه، ج3، ص226؛ الاستیعاب، ج3، ص275؛ معجم رجال الحدیث، ج14، ص76؛ قاموس الرجال، ج8، ص514؛ ترجمه الغارات، ص533. مادر قُثم زنى است به نام امّ الفضل لبابه. او دومین زن مسلمان بود که در مکه اسلام آورد.

[13] ۔ معجم البلدان، ج5، ص97.

[14] ۔ الاستیعاب، ج2، ص92؛ اسد الغابه، ج2، ص470؛ الاصابه، ج2، ص87؛ انساب الاشراف، ج2، ص157؛ قاموس الرجال، ج5، ص356.

[15] ۔ اسدالغابه، ج1، ص260؛ اعیان الشیعه، ج3، ص640؛ قاموس الرجال، ج2، ص428؛ معجم رجال الحدیث، ج3، ص380.

[16] ۔ الاستیعاب، ج1، ص187؛ اسد الغابه، ج1، ص253؛ الاصابه، ج1، ص186؛ قاموس الرجال، ج2، ص418؛ اعیان الشیعه، ج3، ص637.

[17] ۔ الاستیعاب، ج1، ص187؛ اسد الغابه، ج1، ص253؛ الغارات، ج2، ص602؛ قاموس الرجال، ج2، ص429.

[18] ۔ اعیان الشیعه، ج4، ص304؛ قاموس الرجال، ج3، ص29 و ج2، ص421.

[19] ۔ الاستیعاب، ج2، ص92؛ اسد الغابه، ج2، ص470؛ الاصابه، ج2، ص87؛ طبقات، ج3، ص471؛ معجم رجال الحدیث، ج8، ص335؛ قاموس الرجال، ج5، ص353؛ اعیان الشیعه، ج7، ص320؛ منتهى الآمال، ج1، ص376.

[20] ۔ اسد الغابه، ج1، ص253؛ الاستیعاب، ج1، ص186؛ الاصابه، ج1، ص186؛ قاموس الرجال، ج2، ص418؛ اعیان الشیعه، ج3، ص637.



[21] ۔ الاستیعاب، ج1، ص403؛ اسدالغابه، ج2، ص94؛ الاصابه، ج1، ص405؛ قاموس الرجال، ج4، ص115؛ معجم رجال الحدیث، ج7، ص23.

[22] ۔ اعیان الشیعه، ج4، ص306؛ تنقیح المقال، ج1، ص244.

[23] ۔ معجم البلدان، ج5، ص511؛ فرهنگ معین، ج6، ص2339.

[24] ۔ المغازى، ج2، ص1079.

[25] ۔ الکامل، ج3، ص201؛ اعیان الشیعه، ج1، ص446.

[26] ۔ اطلس تاریخ اسلام، ص405؛ معجم البلدان، ج5، ص160؛ فرهنگ معین، ج6، ص1989.

[27] ۔ الغدیر، ج2، ص100.

[28] ۔ تاریخ طبرى، ج3، ص554؛ مختصر تاریخ دمشق، ج21، ص110؛ انساب الاشراف، ج2، ص391؛ بحارالانوار، ج33، ص538.

[29] ۔ اسد الغابه، ج4، ص424؛ طبقات ابن سعد، ج6، ص52؛ الکامل، ج3، ص266؛ قاموس الرجال، ج8، ص535؛ معجم الرجال الحدیث، ج14، ص93؛ الجمل، ص105؛ تاریخ بغداد، ج1، ص178؛ انساب الاشراف، ج2، ص408.

[30] ۔ قاموس الرجال، ج9، ص18؛ معجم رجال الحدیث، ج14، ص230؛ منتهى الآمال، ج1، ص397 ـ 398.

[31] ۔ نهج البلاغه، نامه 35، ترجمه سید جعفر شهیدى.

[32] ۔ قاموس الرجال، ج9، ص20.

[33] ۔ نهج البلاغه، نامه 38، ترجمه سید جعفر شهیدى، ص312.

[34] ۔ اعیان الشیعه، ج9، ص38؛ معجم رجال الحدیث، ج14، ص161؛ قاموس الرجال، ج8، ص643.

[35] ۔ اطلس تاریخ اسلام، ص141؛ معجم البلدان، ج4، ص105.

[36] ۔ معجم البلدان، ج4، ص557.

[37] ۔ تاریخ طبرى، ج3، ص463؛ الکامل، ج3، ص201؛ اعیان الشیعه، ج1، ص446.

[38] ۔ اسد الغابه، ج6، ص307؛ اعیان الشیعه، ج1، ص446.

[39] ۔ الکامل، ج37، ص260.

[40] ۔ وقعه صفین، ص121.

[41] ۔ الغارات، ج1، ص18.

[42] ۔ اسد الغابه، ج6، ص206.

[43] ۔ اعیان الشیعه، ج8، ص449.

[44] ۔ دائرة المعارف تشیّع، ج3، ص262؛ معجم البلدان، ج1، ص510.

[45] ۔ تاریخ طبرى، ج3، ص462؛ الکامل، ج3، ص201؛ اعیان الشیعه، ج1، ص446.

[46] ۔ اعیان الشیعه، ج8، ص56؛ قاموس الرجال، ج6، ص426؛ معجم رجال الحدیث، ج10، ص236؛ انساب الاشراف، ج2، ص169.

[47] ۔ بحارالانوار، ج28، ص189 ـ 203؛ معجم رجال الحدیث، ج11، ص107؛ تنقیح المقال، ج2، ص245؛ قاموس الرجال، ج7، ص116.

[48] ۔ الاستیعاب، ج3، ص90.

[49] ۔ الطبقات، ج5، ص48.

[50] ۔ اعیان الشیعه، ج8، ص139 ـ 141.

[51] ۔ اعیان الشیعه، ج8، ص55 ـ 57؛ منتهى الآمال، ج1، ص385؛ اسد الغابه، ج3، ص290.

[52] ۔ معجم البلدان، ج5، ص88.

[53] ۔ اعیان الشیعه، ج4، ص604.

[54] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص464؛ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[55] ۔ انساب الاشراف، ج2، ص158.

[56] ۔ همان، ص296؛ الاصابه، ج3، ص501.

[57] ۔ الاصابه، ج1، ص195؛ قاموس الرجال، ج2، ص465.

[58] ۔ اعیان الشیعه، ج4، ص591 ـ 606؛ قاموس الرجال، ج3، ص141 ـ 148؛ شخصیتهاى اسلامى شیعه، ج2، ص235 ـ 284.

[59] ۔ تاریخ طبرى، ج3، ص370 ـ 375 و 494؛ الفتوح، ج2، ص170 ـ 181؛ الغدیر، ج9، ص30؛ طبقات، ج5، ص32؛ اعیان الشیعه، ج10، ص305.

[60] ۔ معجم البلدان، ج2، ص156؛ اطلس تاریخ اسلام، ص144؛ وقعه صفین، ص12.

[61] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص465؛ وقعه صفین، ص12؛ بحارالانوار، ج32، ص358.

[62] ۔ قاموس الرجال، ج8، ص600؛ معجم رجال الحدیث، ج14، ص128؛ منتهى الآمال، ج1، ص393.

[63] ۔ معجم البلدان، ج1، ص174.

[64] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص464؛ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[65] ۔ معجم البلدان، ج3، ص174.

[66] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص464؛ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[67] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص465؛ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[68] ۔ انساب الاشراف، ج2، ص160.

[69] ۔ معجم البلدان، ج1، ص103.

[70] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص646؛ انساب الاشراف، ج2، ص165؛ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[71] ۔ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[72] ۔ تاریخ یعقوبى، ج2، ص195.

[73] ۔ انساب الاشراف، ج2، ص176.

[74] ۔ اطلس تاریخ اسلام، ص277؛ معجم البلدان، ج1، ص343.

[75] ۔ ترجمه الفتوح، ص735.

[76] ۔ الفتوح، ج2، ص268.

[77] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص446 و 464؛ وقعه صفین، ص11؛ بحارالانوار، ج32، ص357؛ تنقیح المقال، ج3، ص207.

[78] ۔ الکامل، ج3، ص288.

[79] ۔ قاموس الرجال، ج4، ص336.

[80] ۔ الاستیعاب، ج2، ص663؛ انساب الاشراف، ج2، ص162؛ الغارات، ج2، ص464.

[81] ۔ شرح نهج البلاغه ابن ابى الحدید، ج18، ص57؛ انساب الاشراف، ج2، ص163.

[82] ۔ انساب الاشراف، ج2، ص160.

[83] ۔ همان، ص176.

[84] ۔ الاستیعاب، ج2، ص663.

[85] ۔ انساب الاشراف، ج2، ص159.

[86] ۔ قاموس الرجال، ج5، ص27.

[87] ۔ انساب الاشراف، ج2، ص161 و 301.

[88] ۔ اعیان الشیعه، ج6، ص452؛ انساب الاشراف، ج2، ص176؛ وقعه صفین، ص12؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[89] ۔ الفتوح، ج2، ص268؛ بحارالانوار، ج32، ص357.

[90] ۔ اعیان الشیعه، ج1، ص464؛ وقعه صفین، ص12.

[91] ۔ معجم البلدان، ج1، ص411؛ فرهنگ معین، ج5، ص245.

[92] ۔ اسد الغابه، ج4، ص183؛ قاموس الرجال، ج8، ص156؛ انساب الاشراف، ج2، ص158.

[93] ۔ اسد الغابه، ج5، ص334؛ انساب الاشراف، ج2، ص158.

[94] ۔ تاریخ یعقوبى، ج2، ص195.

[95] ۔ اطلس تاریخ اسلام، ص139؛ معجم البلدان، ج3، ص353.

[96] ۔ تاریخ طبرى، ج3، ص462؛ الکامل، ج3، ص201؛ اعیان الشیعه، ج1، ص446.

مختصر تعارف گلستان زہراء

(تعارف، اہداف ،کارکردگی اور آینده پروگراموں کا ایک مختصر جائزہ)

گلستان زہراء،ایک خالص دینی،علمی اورتبلیغی پلیٹ فارم ہے کہ جس کی تشکیل کا مقصد مومنین و مومنات خصوصاً نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت انجام دینا ہے۔ایسی تربیت کہ جس کی بنیاد علم اور تقویٰ پر ہو۔اور جس کی عمارت محکم دلیلوں پر قائم ہو۔اور آج کی نسل جدید ،اسلامی تعلیمات کو اس کے اصلی اور حقیقی منابع سے ،بغیر کسی ملاوٹ اور تحریف کے،حاصل کر سکے۔اور دین مبین اسلام کے خلاف ہونے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر سکیں، تاکہ آج کی نئی نسل اس آیت کا مصداق بن سکے

كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ۔ (العمران ،۱۱۰)

تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

اہداف اور مقاصد

1. اسلامی معارف و مبانی کی تعلیم و ترویج کےلیے تعلیم اور تبلیغ کے میدان میں ایک منظم تحریک شروع کرنا ۔

2. احیاء عزاداری سید الشہدا اور مقصد قیام امام حسین علیہ السلام ۔

3. خرافات، بدعات اور انحرافات سے پاک معتبر اسلامی معارف کی ترویج ۔

4. مومنین کو صحیح اعتقادات کے مبانی اور معارف سے آگاہ کرنا ۔

5. فکری اور ثقافتی انحرافات کا مقابلہ کرنے کےلیے صحیح اسلامی تعلیمات کی ترویج اور اصلاح معاشرہ کےلیے اقدامات۔

7. ایسے نوجوانوں کی تحقیق کے میدان میں رہنمائی و حوصلہ افزائی جو صحیح اسلامی نقطہ نظر کو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں ۔

8. جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنا ۔

9. طلباء و طالبات کے درمیان مختلف موضوعات کے علمی مقابلوں کا انعقاد ۔

10. ، اسلامی دروس اور لیکچرز کی ریکارڈنگ اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی نشر و اشاعت۔

فعالیت

1۔جامعہ مسجد امام علی علیہ السلام ، جس میں نماز پنجگاہ کے علاوہ ، دعا و مناجات اور ہر روز کا درس اخلاق اور نماز جمعہ کا مرکزی اجتماع شامل ہیں ۔

2۔قدیمی امام بارگاہ جس میں عشرہ محرم کے علاوہ مختلف مناسبات کی سالانہ مجالس عزاء برپا ہوتی ہیں ۔

3۔ فلٹر پلانٹ ، جس سے ہر روز اہل علاقہ مستفید ہوتے ہیں ۔

4 ۔ قرآن و دینیات سینٹر

5 ۔ عید الاضحی کے موقع پر اجتماعی قربانی کا اہتمام

6 ۔ ماہ مبارک رمضان میں تقسیم راشن و عیدی

7 ۔ مختلف دینی موضوعات پر علمی و تربیتی مقابلوں کا انعقاد

8۔ گلستان زہراء یوٹیوب چینل کا قیام

9۔فیس بک پر ایک علمی اورتبلیغی پیج کا قیام کہ جس پر ہر روز آیات قرآنیہ،احادیث معصومین، ؑ معتبر تاریخی واقعات،اور اخلاق پر مبنی پوسٹس ۔

10۔واٹس ایپ پر مومنین کرام کی علمی اور فکری تربیت اور اخلاقی ارتقاء کے پیش نظر گروپ کا قیام،کہ جس میں ہر روز بلا ناغہ روایات معتبرہ، اخلاقی واقعات،مختلف مناسبتوں کے حوالے سے پوسٹس شئیر کی جاتی ہیں۔

11۔ مختلف مقامات پر ،تعطیلات کے ایام میں ورکشاپس کا انعقاد اور کالج اور یونیورسٹی کے طلاب کے لیے مختصر ایام میں معارف دینی سے آشنائی کا بہترین موقع۔کہ جس میں نوجوانان ملت کی علمی،فکری اور اخلاقی تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔

12 ۔ ضرورت مندوں کی حاجت روائی۔

گلستان زہراء ، کپورو والی ، سیالکوٹ

رابطہ: 03006151465 - 03192437646