قیامت کے دن چودہویں کے چاند جیسا چمکتا چہرا

امام محمد باقر علیه السلام :

 جو (مال ) دنیا کو (ان تین حالات کے لیے ) طلب کرے

1️⃣ لوگوں سے بے نیاز ہونے کے لیے

2️⃣ اپنے اہل و عیال کی آسائش کے لیے 

3️⃣ اور ہمسائیوں کی مدد کے لیے 

 تو قیامت کے دن وہ خداوند متعال سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں چاند کی طرح چمک رہا ہو گا ۔

متن حدیث

مَنْ طَلَبَ الدُّنْيا اسْتِعْفافاً عَنِ النّاسِ، وَ سَعْياً عَلى أهْلِهِ، وَ تَعَطُّفاً عَلى جارِهِ، لَقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَ وَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ

📚وسائل الشیعہ جلد17ص21

ھل بیت علیھم السلام کا حکومت کرنے کا طریقہ

حکمران ضرور پڑھیں.

ایک دن امام صادق ع نے کعبہ کا طواف کرتے ہوئے مفضل سے پوچھا 

❓اتنے پریشان اور دل شکستہ کیوں ہو ؟

مفضل کہتا ہے : 

جب حکومت بنی‌ عباس کو اس مال و دولت کے ساتھ دیکھتا ہوں، تو خدا سے کہتا ہوں اگر یہ سب قدرت اور مال، آپ کے ہاتھ میں ہوتا، اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے" تو آپ کی ہلپ کرتے."

✍️امام صادق(ع) نے فرمایا: 

اے مفضل!

اگر حکومت ہمارے ہاتھ میں ہوتی، تو

راتوں کو برنامه_ریزی اور امور میں تدبیر کرتے ، اور

دن میں کام اور لوگوں کی زندگیاں سنوارتے  

اور ہم خود علی (ع) کی طرح خشک روٹی اور سادہ لباس پہنتے. 

اگر ہم علی کی سیرت پر عمل نہ کریں تو ہمارا ٹھکانا جہنم ہو.

📚نعمانی، الغیبه، ص287.

 علم نجوم اور صدقہ کی اہمیت

امام صادق علیہ السلام

 امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ میری زمین ایک ایسے شخص کے ساتھ مشترک تھی جو نجومی تھا ۔ستاروں کو دیکھ بھال کر کوئی قدم اٹھاتا اور معاملہ کرتا۔

مشترک زمین کی تقسیم میں بھی آج اور کل کرتا رہا ۔یہاں تک کہ ایک دن آیا اور کہا : آج میرے لیے اچھا ٹائم ہے آج ہی زمین کو تقسیم کریں گے ۔ زمین تقسیم ہو گئی لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ اچھی زمین امام صادق علیہ السلام کے حصہ میں آ گئی جبکہ ہلکی زمین اس کے حصہ میں آئی۔

افسوس کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ کو مار کر کہا : آج جیسا دن پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔(یعنی اتنے نقصان کا معاملہ پہلی مرتبہ ہوا ہے)

 امام علیہ السلام نے فرمایا : اپنے علم سے استفادہ نہیں کیا تھا کیا؟

کہا: 

میں اپنے علم کے مطابق اپنے لیے نیک اور آپ کے لیے نحس گھڑی کا انتخاب کر کے آیا تھا ۔پتہ نہیں الٹا کیسے ہو گیا ؟ 

 امام نے فرمایا : چاہتے ہو اپنے آباء و اجداد سے ایک حدیث آپ کوسناوں؟

اس نے کہا : جی بالکل ۔

امام نے فرمایا کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو چاہتا ہے کہ دن کی نحوست سے امان میں رہے تو اسے چاہیے صبح کا آغاز صدقہ سے کرے یہ صدقہ اس دن کی نحوست سے اسے بچائے گا اور جو رات کی نحوست سے بچنا چاہتا ہے وہ رات کے شروع میں صدقہ دے ۔

امام نے فرمایا : آج جب زمین تقسیم کرنے کے لیے گھر سے نکلا تو صدقہ دے کر آیا ۔ اس صدقہ کا فائدہ میرے لیے تیرے علم نجوم سے بہتر نکلا ۔

📚زندگانى حضرت امام جعفر صادق علیه السلام، ص ۴۱

اموات پر فقط سورہ حمد ہی کیوں پڑھی جاتی ہے؟

❓کیوں سات حرف سوره حــمــد میں نہیں ہیں ؟

« ث ، ج ، خ ، ز ، ش ، ظ ، ف »

قیصر روم نے بنی عباس کے ایک خلیفہ کو خط لکھا :

ہم نے انجیل میں دیکھا ہے کہ جو بھی میت پر ایسی سورہ پڑھے جس میں یہ سات حرف نہ ہوں ، خداوند اس میت پر دوزخ کی آگ حرام کر دیتا ہے ، اور وہ سات حرف یہ ہیں:

« ث ، ج ، خ ، ز ، ش ، ظ ، ف »

جہاں تک ہم نے بررسی کی ہے ، ایسی سوره کو تورات ، زبور اور انجیل میں نہیں پایا ، 

کیا آپ نے اپنی آسمانی کتاب (قرآن)میں ایسی کوئی سورہ دیکھی ہے ؟

خلیفه عباسی نے دانشوروں کو جمع کیا ، اور یہ مسئلہ ان کے درمیان رکھا ، لیکن وہ جواب نہیں دے سکے،

✨ آخر کار یہی سوال *امام هادی* (علیه السلام) سے پوچھا گیا❓

✨امام علیہ السلام نے فرمایا

وہ سوره « حــمد » ہے، کہ جس میں یہ سات حروف نہیں ہیں...

پوچھا گیا: ان سات حروف کے نہ ہونے کا فلسفه کیا ہے؟❓

✨حضرت نے فرمایا:

1️⃣حرف « ث » اشاره ہے 

« ثبور » ( ہلاکت )

2️⃣حرف « ج » اشاره ہے

 « جحیم » ( دوزخ کے ایک دروازے کا نام )

3️⃣حرف « خ » اشاره ہے

 « خبیث » (ناپاک)

4️⃣حرف « ز » اشاره ہے 

« زقوم » (دوزخ کا کھانا )

5️⃣حرف « ش » اشاره ہے 

« شقاوت » ( بدبختی )

6️⃣حرف « ظ » اشاره ہے

 « ظلمت » ( تاریکی )

7️⃣حرف « ف » اشاره ہے

 « آفت » (مشکلیں ، مصیبتیں).

️خلیفه ، نے یہ جواب قیصر روم کو بھیجا،

قیصر روم یہ جواب سن کر بہت خوش ہوا ،اور اسلام کو پسند کرنے لگا ، یہاں تک کہ جب فوت ہوا تو مسلمان تھا. 

📔شرح شافیه ابی فراس ، مطابق نقل منتخب التواریخ ، ص 795 .

اسلام میں خواتین کا احترام

اسلام میں خواتین کا بہت زیادہ احترام ہے ، اسلام نے ہمیشہ خواتین کے احترام کا حکم دیا ہے اس مطلب کی وضاحت کیلئے ملاحظہ فرمائیں👇

✍️ رسول الله ص : 

«وَ مَنِ اتَّخَذَ زَوْجَهً فَلْیُکْرِمْهَا‌» 

 جو بھی شادی کرے تو اپنی بیوی کا احترام کرے.

📙مستدرک الوسائل ،ج14،ص250 ،ح16617/بحار الانوار ،ج100 ،ص224

✍️ رسول الله ص : 

«خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِنِسَائِکُمْ وَ بَنَاتِکُمْ‌»

 بہترین مرد وہ ہیں جو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ نیکی کرتے ہیں(اور انہیں کوئی تکلیف نہیں دیتے)

📙 مستدرک الوسائل ،ج14 ،ص255 ،ح16636

2️⃣امام صادق ع: 

«اَکَثَرُ الخَیرِ فی‌النِّساءِ.»

  زیادہ خیر و برکت خواتین کے ساتھ ہے.

📙وسائل الشیعہ ،ج14 ،ص11

اور فقہ اسلامی مزید اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ہمیشہ اپنی خواتین کا احترام کریں بلکہ ان کے ساتھ بے احترامی کرنا حرام ہے۔

ہمیشہ یاد رکھنے کی باتیں

♥️چار قسم کے لوگوں کے ساتھ مہربان رہیں 

1️⃣باپ  

2️⃣ماں  

3️⃣بھائی 

4️⃣بہن

♥️چار چیزیں اپنے اندر پیدا کریں 

1️⃣صبر  

2️⃣کَرَم  

3️⃣بردباری  

4️⃣علم

♥️چار قسم کے لوگوں سے نیکی کرنی چاہیے 

1️⃣مخلص  

2️⃣باوفا 

3️⃣کریم  

4️⃣صادق

♥️چار چیزوں کو اپنی زندگیوں سے مت نکالنا 

1️⃣نماز ، 

2️⃣قرآن ، 

3️⃣ذکر خدا ، 

4️⃣صله رحمی

اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرشتوں جیسا تقرب پانے والا جوان

خداوند متعال نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا: ایسا جوان

جو میری تقدیر پر ایمان رکھتا ہو

میری کتاب پر راضی ہو 

اور میرے دئیے گئے رزق پر قانع ہو

 اور میری خاطر اپنی خواہشات سے منہ موڑ لے

تو (جان لو) ایسا جوان میرے نزدیک میرے بعض (مقرب)فرشتوں جیسا ہے ۔

متن حدیث قدسی

يَقُولُ اللّه ُ عَزَّوَجَلَّ: اَلشّابُّ الْمُؤمِنُ بِقَدَرى، اَلرّاضى بِكتابى، اَلقانِعُ بِرِزْقى، اَلتّارِكُ شَهْوَتَهُ مِنْ اَجْلى، هُوَ عِنْدى كَبَعْضِ مَلائِكتى.

📚 كنز العمّال، ج 15، ص 786

روز جمعہ کی عظمت اور بعض اعمال

رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

 جو جمعہ کے دن ناخن کاٹے گا اس کی زندگی اور رزق میں اضافہ ہو گا

رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

 جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ صلوات بھیجو کیونکہ اس دن انسان کے اعمال چند برابر ہو جاتے ہیں

📚دعائم الاسلام ج 1 ص 179

امام محمد باقر علیہ السلام

 جب بھی چاہو جمعہ کے دن سے پہلے صدقہ دو تو اسے جمعہ کے دن تک اسے موخر کر دو (یعنی جمعہ کے دن صدقہ دینے کا بے پناہ فائدہ ہے )

📚عدة الداعی، ص92

امام محمد باقر علیہ السلام

 غسل جمعہ کو ترک مت کرنا کیونکہ یہ سنت ہےالبتہ زوال سے پہلے

📚دعائم الاسلام ج 1 ص 181

رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

 جمعہ کے دن کی پانچ خصوصیات ہیں

1️⃣ خدا نے حضرت آدم کو اسی دن خلق فرمایا 

2️⃣ جمعہ کے دن ہی آدم علیہ السلام زمین پر آئے

3️⃣ جمعہ کے دن ہی ان کی وفات ہوئی

4️⃣ جمعہ کے دن ایک ایسا وقت ہے کہ اس ٹائم جو بھی مانگو ملتا ہے پس حرام چیز نا

5️⃣ فرشتے اور زمین و آسمان اور خشکی و دریا ، ہوا اور پہاڑ سب ڈرتے ہیں کہ اس جمعہ کو قیامت برپا نا ہو جائے ( یعنی قیامت بھی جمعہ کے دن ہی برپا ہو گی۔

📚 الکافی، جلد3، ص414

رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

جمعہ کے دن گوشت اور میوہ جات خرید کر اپنے اہل و عیال کو ہدیہ کرو تا کہ وہ (جمعہ کا دن آنے سے) خوش ہو جائیں۔

📚روضۃالمتقین، ج2، ص589

رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

1️⃣روز جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے

2️⃣نیکیوں کا ثواب چند برابر

3️⃣گناہ مٹائے جاتے ہیں 

4️⃣درجات بلند ہوتے ہیں 

5️⃣دعائیں قبول ہوتی ہیں 

6️⃣غمزدوں کے غم دور ہوتے ہیں 

7️⃣بڑی بڑی حاجات اسی دن پوری ہوتی ہیں 

📚 الکافی، ج1، ص40

ہر کام قابل تلافی نہیں ہوتا

ایک عورت نے اپنے پڑوسی کے بارے میں بہت سی بے بنیاد باتیں گھڑیں اور انہیں پھیلانا شروع کردیا۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد، آس پاس کے سبھی لوگ ان افواہوں سے آگاہ ہوگئے۔ جس شخص کے خلاف یہ افواہیں پھیلائی گئی تھیں اسے شدید صدمہ ہوا اور اسے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 بعد میں اس عورت کو اپنے پڑوسی کا حال دیکھ کر احساس ہوا کہ ان جھوٹی افواہوں کی وجہ اس کے پڑوسی کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اسے اپنے اس عمل پر افسوس ہوا۔ وہ ایک حکیم کے پاس گئی تاکہ اپنے اس عمل کا ازالہ کرنے میں اس سے مدد حاصل کرے۔

حکیم نے اسے کہا: بازار سے ایک مرغی خریدو اور اسے ذبح کر کے اس کے پروں کو اپنی رہائش گاہ کے قریب سڑک پر ایک ایک کر کے بکھیر دو۔ وہ عورت اس راہ حل سے حیرت زدہ تو ہوئی، لیکن اس نے اسے انجام دیا۔

اگلے دن حکیم نے اس سے کہا کہ اب جاؤ اور ان پروں کو اکٹھا کر کے میرے پاس لاؤ۔ وہ عورت گئی لیکن چار سے زیادہ پر اسے نہیں مل پائے۔ وہ متحیر حالت میں حکیم کے پاس آئی تو اس کی حیرت کو دیکھ کر حکیم نے کہا، پروں کو بکھیرنا تو آسان تھا لیکن انہیں اکٹھا کرنا اتنی آسان بات نہیں۔ بالکل اسی طرح افواہیں گھڑنا اور ان کو پھیلانا تو ایک آسان کام تھا لیکن اس کی پوری تلافی کرنا ناممکن ہے۔

پس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ بات اچھی ہو یا بری ایک دفعہ منہ سے نکلی تو پھر واپس نہیں آئے گی۔ ہمیشہ کوشش کریں کہ ایسی بات کریں جو دوسروں کی خوشی کا باعث بنے نہ توہین اور پریشانی کا۔

ہر اہل فن کی تین ضرورتیں

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا

ہر (فن اور) پیشے کا آدمی تین صفات کا محتاج ہے (جو اس میں حتما پائی جانی چاہییں ۔)تا کہ اس کا کاروبار پھلے پھولے۔

1️⃣ کام میں مہارت رکھتا ہو

2️⃣ اپنا کام سچائی اور ایمانداری سے کرے

3️⃣ اور جس کا کام ذمے لیا ہے اس کی رضایت کو حاصل کرے ۔(اپنے اخلاق ۔اپنے کام سے لگن اور اس کے کام کو اچھی طرح انجام دینے کے ذریعے )

متن حدیث:

كُلُّ ذِي صَناعَةٍ مُضطَرٌّ إلى ثَلاثِ خِصالٍ يَجتَلِبُ بِهَا المَكسَبَ و هُوَ أن يَكونَ حاذِقا بِعَمَلِهِ مُؤَدِّيا لِلأمانَةِ فِيهِ مُستَميلاً لِمَن استَعمَلَهُ

📚تحف العقول، صفحہ 336

سب سے اہم کام پر توجہ مرکوز رکھنا

امیرالمومنین علی علیہ السلام

✏ جو مختلف کاموں میں ہاتھ ڈالے گا تو اس کی تمام پیشگوئیاں اور حیلے بے سود و بے فائدہ ہوں گے۔

✏ جو غیر مھم کام میں لگ جائے تو اہم اور مھمترین کام سے ہاتھ دھو بیٹھے گا ۔

✏ آپ کی فکر تمام چیزوں کا احاطہ نہیں کر سکتی لہذا مہم ترین کام پر ہی اسے مرکوز رکھیں ۔

📚نہج البلاغہ حکمت403

📚غررالحکم 10944

📚غررالحکم 555

حضرت علی علیہ السلام کی نگاہ میں آپ کی زندگی کی کامیابی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ کا ایک مقصد اور ہدف ہونا چاہیے ۔اگر آپ مختلف کاموں پر تجربات کرتے رہے تو آپ کی زندگی کا قیمتی وقت تو ضایع ہو گا ہی ساتھ وہ اہم کام جو آپ کر سکتے تھے اور اس کو اختیار نہیں کیا ' یا یوں کہیں جس کام کے لیے آپ بنے تھے جس کام کی صلاحیتیں آپ میں موجود تھیں اس کو بھی ضایع کر دیں گے ۔

لہذا مختلف کاموں کا تجربہ کرنے سے بہتر ہے آپ سوچیں 'غور وفکر کریں کہ آپ کا جنون کیا ہے ؟ کس کام میں آپ کا لگاو جنون کی حد تک ہے ؟ اسی کے مطابق کام اور فیلڈ کا انتخاب کریں ؟ اور پھر اپنی فکر کو صرف اسی پر مرکوز رکھیں تو کامیابی کی سیڑھی آپ کے پاوں کے نیچے ہوگی جو وقت کے ساتھ آپ کی بلندی کا سبب بنے گی۔

خدا کی رضا کو لوگوں کی رضا پر فوقیت دینا

1️⃣ پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

 جو بھی لوگوں کی خشنودی کی خاطر خدا کی ناراضگی مول لے گا

 تو (ایک وقت)وہی لوگ اس کی مذمت کریں گے

 اور جو خدا کی خشنودی کو لوگوں کی ناراضگی پر ترجیح دے گا تو خداوندمتعال

 اسے ہر دشمن کی دشمنی

 حاسد کی حسادت

 اور ہر باغی کی بغاوت سے محفوظ رکھے گا

  اور(خود) اس کا یاور و مددگار ہو گا۔

2️⃣ پیغمبر اکرم (ص)

 جو خداوند متعال کی رضا کے مطابق عمل کرے تو خداوندمتعال اسے تین صفات عطا فرمائے گا

🌹 شکر کی اسے ایسی توفیق دوں گا کہ جہالت کے ساتھ آمیختہ نا ہو (یعنی گناہوں سے بچ کر خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ،آگاہانہ شکر ہے جاھلانہ شکر ،بعض لوگ گناہ پر شکر کرتے ہیں ۔۔۔وغیرہ )

🌹 ذکر کی توفیق دوں گا جو بھولنے اور نسیان سے پاک ہو گا۔

🌹 اور اپنی ایسی محبت اس کے دل میں ڈالوں گا کہ لوگوں کی محبت اس پر غالب نا آ سکے گی

رسولُ اللّهِ صلى الله عليه و آله :مَن طَلَبَ مَرضاةَ الناسِ بما يُسخِطُ اللّهَ كانَ حامِدُهُ مِنَ الناسِ ذامّا ، و مَن آثَرَ طاعَةَ اللّهِ بِغَضَبِ الناسِ كَفاهُ اللّهُ عَداوَةَ كُلِّ عَدُوٍّ ، و حَسَدَ كُلِّ حاسِدٍ ، و بَغيَ كُلِّ باغٍ ، و كانَ اللّهُ عزّ و جلّ لَهُ ناصِرا و ظَهيرا (الكافي ج2، ص372)

في حديثِ المعراجِ : فَمَن عَمِلَ بِرِضايَ اُلزِمُهُ ثلاثَ خِصالٍ : اُعَرِّفُهُ شُكرا لا يُخالِطُهُ الجَهلُ ، و ذِكرا لا يُخالِطُهُ النِّسيانُ ، و مَحَبَّةً لا يُؤثِرُ على مَحَبَّتِي مَحَبَّةَ المَخلوقينَ . (بحار الأنوار، 28، ص77)

خداوند متعال کی ناراضگی کے دنیوی اثرات

 رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : 

 جب خداوند متعال کسی قوم پر غضب ناک ہوتا ہے اور عذاب نازل نہیں کرتا تو (ان چیزوں کے ذریعے امتحان میں ڈال کر اپنی طرف متوجہ کرتا ہے)

🔥 (روزمرہ اشیاء کی ) قیمتیں زیادہ ہو جاتی ہیں

🔥 تعمیر وترقی رک جاتی ہے 

🔥 تاجروں کو منافع نہیں ہوتا

🔥 (پھلدار درختوں پر) پھل زیادہ نہیں لگتا

🔥 نہریں پانی سے بھرتی نہیں ہیں

🔥 بارشیں برسنا رک جاتی ہیں

🔥 اور شریر (اور ظالم ) لوگ ان پر حاکم بن جاتے ہیں

📚 الکافی ، جلد 5صفحہ 317

غیرت مسلمانی

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السّلام عورتوں کے کھلے ماحول میں آنے اور نا محرموں کے ساتھ تعلقات میں حجاب شرعی کی رعایت نہ کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: 

«اے مردم عراق! 

مجھے پتا چلا ہے کہ آپ کی عورتیں راستے میں مردوں سے ٹکرا کر انہیں ایک طرف ہٹا دیتی ہیں، کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟

خدا لعنت کرے ان لوگوں پر جن میں غيرت نہ ہو.  

اور اسی طرح حضرت ، عورتوں کو بے مقصد بازار جانے سے منع کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

«عورت کو چاہیے کہ وہ نامحرم پر اپنی آواز ظاہر نہ کرے، ایسے زیور نہ پہنے جن کی آواز نامحرم سن سکیں، اور ایسی خوشبو نہ لگائے جسے نامحرم مرد سونگھ سکیں» 

📚برقی، المحاسن، ج1، ص115؛ 

📚کلینی، الکافی، ج5، ص537، ح6.

📚مغربى، دعائم الاسلام، ج2، ص215.

نماز کا قضا ہونا ناقابل تلافی نقصان

✍ایک شخص سفر تجارت کا ارادہ رکھتا تھا امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور استخاره کی درخوست کی ، استخاره بد آیا لیکن وہ پھر بھی سفر پر چلا گیا اتفاقاً سفر بہت اچھا گزرا اور منافع بھی بہت کمایا ۔ سفر سے واپسی پر امام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا 

اور عرض کی : 

یابن رسول الله ! آپ کو یاد ہوگا سفر پہ جانے سے پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا آپ نے استخارہ کیا تھا اور استخارہ بد آیا تھا لیکن میرا سفر اچھا رہا ہے اور منافع بھی بہت کمایا ہے . 

امام مسکرائے اور فرمایا : (تمہیں یاد ہے سفر میں تم فلاں شخص کے گھر گئے تھے تھکے ہوئے تھے نماز مغربین پڑھ کے کھانا کھا کے سوگئے تھے اور صبح جب اٹھے تو سورج طلوع ہوگیا تھا اور آپ کی نماز صبح قضا ہو گئی تھی؟ 

عرض کی جی یاد ہے. 

امام نے فرمایا : اگر خداوند دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے تجھے عطا کر دے تو بھی اس خسارت (نماز صبح کے قضا ہونے) کا جبران نہیں ہو سکتا  

قال علی علیه السلام: 

لَا یَخْرُجِ الرَّجُلُ فِی سَفَرٍ یَخَافُ مِنْهُ عَلَى دِینِهِ وَ صَلَاتِهِ 

انسان کو ایسے سفر پر نہیں جانا چائیے جس میں اسے دین یا نماز کے کھونے کا خوف ہو

📙وسائل الشیعہ، ج11، ص344

شرم و حیاء

امیرالمومنین علی (ع)

 جس میں سخاوت اور حیا نہیں اس کے لیے موت اس کی زندگی سے بہتر ہے

جو زیادہ باتیں کرتا ہے غلطیاں بھی زیادہ کرتا ہے جو زیادی غلطیاں کرتا ہے اس کا شرم وحیا کم ہو جاتا ہے جس کا شرم و حیا کم ہو جائے وہ پرہیزگار نہیں رہتا اور جو پرہیزگار نہیں ہو گا  اس کا دل مردہ ہو جائے گا

تین چیزوں میں شرم و حیا مت کرو 
 
1️⃣ مہمان کی خدمت کرنے میں 

2️⃣ والد اور استاد کی تعظیم کے لیےکھڑے ہونے میں 
 
3️⃣ اور اپنا حق مانگنے میں اگرچہ کم ہی کیوں نا ہو۔

امام موسی کاظم ع

 اپنے اور مومن بھائی کےدرمیان شرم کے سارے پردے چاک مت کر(بلکہ) تھوڑا سا باقی رہنے دے ۔کیونکہ شرم کا  تمام پردہ چاک ہو گیا تو حیاء ختم ہو جائے گا ۔

📚غررالحکم ، ص257
نہج البلاغہ، حکمت 349
غررالحکم، ص69
اصول کافی، ج2، ص672

کسی سے درخواست کرنے میں صبر

امام حسن عسکری علیہ السلام

 اگر کسی سے کچھ مانگنا ہو یا درخواست کرنی ہو تو تھوڑا صبر کر لو کیونکہ ہر روز ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے (ہو سکتا ہے کہیں اور سے خودبخود مشکل حل ہو جائے اور مانگنے کی نوبت نا آئے) درخواست اور مانگنے پر ضد مت کرو (کہ نہیں کچھ نا کچھ دو خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا وغیرہ) انسان کو بے قیمت بنا دیتا ہے مگر یہ کہ حاجت روائی کا دروازہ تیرے لیے کھول دیا جائے (یعنی اگر حاجت روائی کا دروازہ نہیں کھلا تو ضد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا الٹا انسان بے قیمت ہو گا )

کبھی نعمت کا چلا جانا اللہ کی طرف سے (بندےکی) سرزنش ہے (تا کہ وہ خدا کی طرف متوجہ ہو) اور (انسان کے الہی نعمتوں میں ) حصے کے درجات ہیں جس (نعمت کے) حصے کا وقت تیرے لیے نہیں آیا اس (کو حاصل کرنے ) میں جلدی مت کر اور (کائنات کا ) مدبر جانتا ہے (کہ وہ نعمت تجھے دینے میں ) کونسا وقت مناسب ہے

پس اپنے کاموں میں خدا پر بھروسہ رکھ اور اپنی حاجات کی طلب میں جلدبازی مت کر ورنہ پریشانی اور ناامیدی تجھے گھیر لے گی ۔۔۔۔

📚عدّة الداعي، صفحہ 124.

کام کے انجام سے پہلے اس کا اظہار

امام جواد علیہ السلام

1️⃣ کسی چیز (پروگرام ۔کام ۔آئیڈیا) کو محکم و استوار کرنے سے پہلے برملا (اور ظاہر ) کرنا اس کی تباہی کا سبب ہے ۔

2️⃣ جو بھی کسی کو آزمائے بغیر اس پر (اندھا) اعتماد کرے گویا اس نے خود کو ھلاکت اور دردناک انجام سے دوچار کیا ہے ۔

🌹إظهارُ الشَّيءِ قَبلَ أن يُستَحكَمُ مَفسَدَةٌ لَهُ

🌹 مَنِ انقَادَ إلَى الطُّمأ نينَةِ قَبلَ الخُبَرةِ فَقَد عَرَضَ نَفسَهُ لِلهَلَكَةِ و العاقِبَةِ المُتعِبَةِ

📚تحف العقول، ص457

  بحار الانوار، ج 78، ص364

پانچ بہترین دوست

✍️ حضرت علی علیہ السلام

1. بردبار

صابر لوگوں کو دوست بنائیں تاکہ آپ کے صبر میں بھی اضافہ ہو.

2. دانشمند

پڑھے لکھے لوگوں کو اپنا دوست بناؤ، خوش بخت ہوجاؤ گے . 

3. غریب و نیازمند

غریب لوگوں کو دوست بناؤ تاکہ، آپ میں شکرگزاری‌ زیادہ ہو . 

4. دوراندیش

 دوراندیش لوگوں کو دوست بناؤ تاکہ آپکی سوچ کامل ، نفس شریف اور جہالت ختم ہو جائے .

  5. عقلمند

عقلمند کے ساتھ دوستی ، روح کی زندگی کا موجب ہے .

📚 (غررالحکم، ج۳)

بلند مرتبہ ہونے کی خواہش

امام باقر علیہ السلام

 بغیر چرواہے کے بکریوں کے ریوڑ کو اتنا جلدی نقصان وہ دو درندے بھیڑئیے نہیں پہنچا سکتے جو ایک (ریوڑ کے)آگے سے حملہ کرے دوسرا (ریوڑ کے) پیچھے سے ،جتنا جلدی حب دنیا اور بلند مرتبه(ہونے) کی خواہش مومن کے دین کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔

 نکتہ

شرف اور بلند مرتبہ ہونے کی خواہش سے مراد یہ ہے کہ انسان ایسی عزت اور مقام کا طلب گار ہو کہ جہاں جائے لوگ کھڑے ہو کر اس کا استقبال کریں ۔اس کے ہاتھ چومیں ،جھک کر اس کے گھٹنوں پر ہاتھ لگائیں ۔ سب سے اونچی کرسی اس کی لگے وغیرہ وغیرہ ایسی چیزوں کی خواہش اور چاہت مومن کے دین کی دشمن ہے

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ فِي غَنَمٍ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ هَذَا فِي أَوَّلِهَا وَ هَذَا فِي آخِرِهَا بِأَسْرَعَ فِيهَا مِنْ حُبِّ اَلْمَالِ وَ اَلشَّرَفِ فِي دِينِ اَلْمُؤْمِنِ

📚الکافی ج 2ص 315

ترک گناہ کا نسخہ

ایک دن ایک عالم دین کا شاگرد اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں جوان ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ نامحرم عورتوں کو نہ دیکھوں اس کے باوجود اپنی آنکھوں پر قابو نہیں پا سکتا۔ مجھے کچھ بتائیں میں کیا کروں؟

عالم دین نے دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ اسے دیا اور کہا کہ اسے فلاں جگہ تک پہنچانا ہے اور اس بات کا خیال رہے کہ اس میں سے ایک قطرہ بھی گرنے نہ پائے۔

اپنے ایک اور شاگرد کو کہا کہ وہ اس کے ساتھ رہے اور اگر دودھ کا ایک قطرہ بھی گرائے تو تمام لوگوں کے سامنے اسے تھپڑ مارنا۔ اس جوان نے دودھ کا پیالہ صحیح و سالم حالت میں حتی ایک قطرہ بھی گرانے کے بغیر مخصوص جگہ تک پہنچایا۔ 

جب واپس عالم دین کے پاس پلٹا تو اس نے پوچھا: راستے میں کتنی لڑکیوں کو دیکھا ہے؟ کہا: ایک بھی نہیں۔ مجھے تو فقط یہی فکر تھی کہ کہیں دودھ نہ گر جائے اور لوگوں کے سامنے تھپڑ کھانے سے ذلت و رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

عالم دین نے کہا: مومن شخص بھی اسی طرح ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام کو دیکھ رہا ہے۔ اور ہمیشہ روز قیامت کے حساب و کتاب، میدان حشر میں لوگوں کے سامنے رسوائی اور عذاب جہنم سے ڈرتا رہتا ہے۔

کم ارزش چیزوں کے لئے قیمتی چیزوں کو ضائع نہ کریں

رات کے وقت راستے میں جاتے ہوئے ایک شخص کا پاؤں ایک سکے سے ٹکرایا۔ اس نے سوچا کہ یہ سونے کا سکہ ہے۔ اس نے اسے دیکھنے کے لئے ایک کاغذ کا ٹکڑا جلایا۔ جب دیکھا تو وہ پانچ روپے والا سکہ تھا اور اسے دیکھنے کے لئے جسے کاغذ سمجھ کر جلایا تھا وہ ہزار روپے والا نوٹ تھا۔ اس وقت اسے احساس ہوا کہ میں نے کس چیز کے لئے کسے جلا دیا ہے۔

یہی ہماری زندگی کا حال ہے۔ قیمتی چیزوں کو بے قیمت چیزوں کے لئے نذر آتش کر دیتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔

اپنے سکون کو دیکھا دیکھی اور دوسروں کے ساتھ اپنا مقایسہ کرنے میں برباد کر دیتے ہیں۔

اپنی جان کو عارضی و بے وقعت دباؤ اور پریشانی کی وجہ سے خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

قضا و قدر الہی پہ خوش رہیں، اس کے فضل و کرم کے امیدوار رہیں۔ اور ذکر الٰہی سے اپنے اطمینان قلب کو بڑھاتے رہیں۔

گڈریا اور مسافر

ایک شخص اپنی ذاتی گاڑی پر کہیں سفر پہ گیا ہوا تھا، اذان ظہر کے وقت شہر کے باہر ایک روڈ پر اس نے ایک چرواہے کو دیکھا کہ جو ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا۔ اور ساتھ میں اس کی بھیڑیں بھی چر رہی تھیں۔ 

اسے یہ منظر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، اور اس نے چرواہے کے پاس جا کر اس سے پوچھا: 
تمہیں کون سی چیز اول وقت میں نماز پڑھنے پر وادار کرتی ہے؟!
چرواہے نے جواب دیا: جب میں اپنی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے سیٹی بجاتا ہوں تو یہ فوراً میرے پاس جمع ہو جاتی ہیں۔ اور اگر خدا مجھے اپنے قریب بلائے اور میں نہ جاؤں تو پھر تو میں ان بھیڑوں سے بھی بدتر ہوں۔
ذرا سوچیے اگر ہمارے حلقے کا MPA ہمیں ملنے کے  لئے بلائے تو ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور دعوت نامے اور ملاقات کے بارے میں پورے محلے کو بتاتے لیکن جب تمام جہانوں کا پروردگار ہمیں اپنے دربار میں بلاتا ہے تو ہم اذان کی آواز سنتے ہوئے بھی رب کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہوتے۔

برے رویے پر ناراضگی کی بجائے ہمدردی

ایک دن حکیم سقراط نے ایک مرد کو دیکھا جو بہت غصّے میں تھا۔ سقراط نے اس سے ناراضگی کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا:

میں نے راستے میں ایک واقف شخص کو دیکھا ہے، میں نے اسے سلام کیا لیکن اس نے جواب ہی نہیں دیا! اور لاپرواہی سے میرے پاس سے گزر گیا۔ مجھے اس کے اس رویے سے بہت دکھ ہوا ہے۔ 

سقراط نے کہا: تو اس بات کا غصّہ کیسا؟

اس مرد نے تعجب کرتے ہوئے کہا: ظاہر ہے اس قسم کا رویہ ناراضگی کا سبب تو بنتا ہے۔

سقراط نے اس سے پوچھا:

اگر تو راستے میں کسی ایسے شخص کو دیکھتا کہ جو زمین پر گرا ہوا ہوتا اور درد کی وجہ سے کروٹیں بدل رہا ہوتا! آیا تو اس کی اس حالت پر برا مناتا اور اس سے ناراض ہوتا؟

تو اس نے حکیم سے کہا ہرگز نہیں! کیونکہ ظاہر ہے کوئی بھی کسی کی بیماری پر ناراض نہیں ہوتا۔ 

سقراط نے سوال کیا۔ تو پھر ناراضگی کی بجائے اس مریض کے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟

اس نے جواب دیا: اس کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا اظہار کرتا اور کوشش کرتا کہ اس کے لئے کسی ڈاکٹر کو بلا کے لاؤں یا کوئی دوا لاؤں۔

سقراط نے کہا: تو اس کے ساتھ اچھا سلوک اس لئے کرنا چاہتا تھا کہ وہ مریض ہے۔ آیا جس شخص کا کردار اچھا نہیں کیا وہ فکری طور پر مریض نہیں ہے؟  

 فکری و ذہنی بیماری کا نام غفلت ہے۔ جو شخص غافل ہے اور بدی انجام دیتا ہے تو اس کے ساتھ ناراض ہونے کی بجائے اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور اس کی مدد کی جائے۔  

پس کسی سے ناراض نہ ہوں اور کینے کو دل میں جگہ نہ دیں۔ جان لیں کہ جو بھی برائی کا مرتکب ہوتا ہے روحانی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔

مـــاں کی دعاؤں کا اثر

ابو سعید ابوالخیر سے کسی نے سوال کیا:آپ نے اتنی شہرت کیسے حاصل کی ہے؟

اس نے کہا کہ ایک رات کو میری ماں نے مجھ سے پانی مانگا، پانی لانے میں مجھ سے تھوڑی سی دیر ہو گئی اور جب میں ماں کے پاس پہنچا تو وہ سو چکی تھی!

اسے جگانے کے لئے میرا جی نہیں کر رہا تھا، اس لئے میں پانی کا پیالہ ہاتھ میں لئے وہیں بیٹھا رہا، 

جیسے ہی ایک دفعہ ماں نے آنکھیں کھولیں اور پانی کا پیالہ میرے ہاتھ میں دیکھا تو مجھ سے سارا واقعہ دریافت کیا جب میں نے بتایا تو، ماں نے کہا:

 «مجھے امید ہے کہ تو پورے عالم میں شہرت حاصل کرے گا»

یہ الله تعالیٰ کے نزدیک ماں کی قدر و منزلت اور اس کی دعا کی تاثیر کی ایک چھوٹی سی داستان تھی!!!

آئیں اپنی پیاری ماں کی اطاعت اور عدم نافرمانی کے اسے راضی کریں۔ کیونکہ والدین کی خوشی اور ان کی دعا کا شامل حال ہونا ہماری سعادتمندی اور خوشحالی کا باعث ہے۔

میانہ روی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

☆ عاقل ترین وہ ہیں جو لوگوں کے ساتھ میانہ روی اختیار کرتے ہیں

(الاَمالی للصدوق 14/73)

☆ میانہ روی ، حکمت کی اساس ہے

(کَنزُ العُمّال ج 3 ص 51)

☆ میانہ روی کسی بھی چیز کی خوبصورتی ہے اور میانہ روی کے بغیر کوئی بھی چیز اچھی نہیں

(مِشکاةُ الانوار ص 167)

☆ خداوند ہر کام میں میانہ روی کرنے والا ہے اور میانہ روی کو پسند کرتا ہے

(جمع الجوامع ج 2 ص 413)

☆ اگر میانہ روی مخلوق ہوتی جسے دیکھا جا سکتا تو خدا اس سے بہتر کوئی چیز خلق نہ کرتا اور اگر ناسازگاری مخلوق ہوتی جسے دیکھا جا سکتا تو اس سے بد صورت کوئی مخلوق نہ ہوتی

(مِشکاةُ الانوار ص 471)

☆ میانہ روی اور خوش روی، آدھی زندگی ہے

(مِشکاةُ الانوار ص 369)

مومن کی صفات

📝 امام صادق علیه السلام

 ایک مومن میں(یہ)چھ صفات نہیں پائی جاتیں ؛

 1️⃣ (ماتحت لوگوں پر )سختی کرنا

 2️⃣ بداخلاقی

 3️⃣ حسد

4️⃣ لج بازی

5️⃣ جھوٹ

6️⃣ بغاوت اور ظلم کرنا

 نتیجہ یہ نکلے گا کہ گویا امام ع فرما رہے ہیں کہ مومن

1️⃣ (اپنےماتحت)افراد پر سختی نہیں کرتا

2️⃣  خوش اخلاق ہوتا ہے

3️⃣ (دوسروں کا)خیرخواہ ہوتا ہے

 4️⃣ حق کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ث

5️⃣ سچا ہوتا ہے

 6️⃣ عادل و منصف مزاج ہوتا ہے.

نکتہ: دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ تمام صفات لوگوں کے ساتھ میل جول اور سماجی اور اجتماعی روابط سے مربوط ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام انہیں (حقوق العباد کو) کتنی اہمیت دیتا ہے ۔ 

متن حدیث

سِتَّةٌ لا تَکونُ فِی مُؤْمِنٍ: الْعُسْرُ وَالنَّکدُ والْحَسَدُ وَالْلَّجاجَةُ وَالْکذْبُ وَالْبَغْی

📚بحارالانوار جلد 75 صفحه 262

برے رویے پر ناراضگی کی بجائے ہمدردی

ایک دن حکیم سقراط نے ایک مرد کو دیکھا جو بہت غصّے میں تھا۔ سقراط نے اس سے ناراضگی کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا:

میں نے راستے میں ایک واقف شخص کو دیکھا ہے، میں نے اسے سلام کیا لیکن اس نے جواب ہی نہیں دیا! اور لاپرواہی سے میرے پاس سے گزر گیا۔ مجھے اس کے اس رویے سے بہت دکھ ہوا ہے۔ 
سقراط نے کہا: تو اس بات کا غصّہ کیسا؟
اس مرد نے تعجب کرتے ہوئے کہا: ظاہر ہے اس قسم کا رویہ ناراضگی کا سبب تو بنتا ہے۔
سقراط نے اس سے پوچھا:
اگر تو راستے میں کسی ایسے شخص کو دیکھتا کہ جو زمین پر گرا ہوا ہوتا اور درد کی وجہ سے کروٹیں بدل رہا ہوتا! آیا تو اس کی اس حالت  پر برا مناتا اور اس سے ناراض ہوتا؟
تو اس نے حکیم سے کہا ہرگز نہیں!  کیونکہ ظاہر ہے کوئی بھی کسی کی بیماری پر ناراض نہیں ہوتا۔ 
سقراط نے سوال کیا۔ تو پھر ناراضگی کی بجائے اس مریض کے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟
اس نے جواب دیا: اس کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا اظہار کرتا اور کوشش کرتا کہ اس کے لئے کسی ڈاکٹر کو بلا کے لاؤں یا کوئی دوا لاؤں۔
سقراط نے کہا: تو اس کے ساتھ اچھا سلوک اس لئے کرنا چاہتا تھا کہ وہ مریض ہے۔ آیا جس شخص کا کردار اچھا نہیں کیا وہ فکری طور پر مریض نہیں ہے؟  
 فکری و ذہنی بیماری کا نام غفلت ہے۔ جو شخص غافل ہے اور بدی انجام دیتا ہے تو اس کے ساتھ ناراض ہونے کی بجائے اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور اس کی مدد کی جائے۔  
پس کسی سے ناراض نہ ہوں اور کینے کو دل میں جگہ نہ دیں۔ جان لیں کہ جو بھی برائی کا مرتکب ہوتا ہے روحانی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•