حق کی پيروى اور كمال عقل
حق کی پيروى اور كمال عقل
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لا يَكْمُلُ الْعَقْلُ إِلا بِاتّبَاعِ الْحَقّ
عقل کی حق پیروی کے بغیركامل نہیں ہوتی ۔
(أعلام الدين، ص۲۹۸)
حق کی پيروى اور كمال عقل
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لا يَكْمُلُ الْعَقْلُ إِلا بِاتّبَاعِ الْحَقّ
عقل کی حق پیروی کے بغیركامل نہیں ہوتی ۔
(أعلام الدين، ص۲۹۸)
خیر کثیر ہے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
خَمْسٌ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ لَمْ يَكُنْ فِيهِ كَثِيرُ مُسْتَمْتِعٍ: اَلْعَقْلُ، وَ الدّينُ وَ الاَدَبُ، وَ الْحَيَاءُ وَ حُسْنُ الْخُلْقِ ۔
جس میں پانچ چيزیں نہ ہوں اس میں کوئی خیر نہیں پایا جائے گا عقل، دين، ادب، حيا اور خوش اخلاقی۔
(حياة الامام الحسين(ع)، ج ۱ ص۱۸۱)
خدا کی نا فرمانی کا اثر
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ حَاوَلَ اَمْراً بِمَعْصِيَةِ اللّهِ كَانَ اَفْوَتَ لِمَا يَرْجُوا وَ اَسْرَعَ لِمَا يَحْذَرُ.
جو خدا کی نافرمانی کی کوشش کرے اس سے وہ چیزیں دور ہوجائیں گی جنھیں وہ چاہتا ہے اور وہ چیزیں اس سے قریب ہو جاتی ہیں جن سے وہ نفرت کرتا ہے ۔
(بحار الانوار، ج ۷۵ ص ۱۲ ح۱۹)
نهى عن المنكر
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لا يَنْبَغِى لِنَفْسٍ مُؤْمِنَةٍ تَرَى مَنْ يَعْصِى اللّهَ فَلا تُنْكِرُ عَلَيْهِ .
مومن کے لیے یہ مناسب نہیں ہےکہ وہ کسی کو خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے دیکھے اور اسے ناپسند کرتے ہوئے منع نہ کرے ۔
(كنز العمّال، ج ۳ ص ۸۵ ح۵۶۱۴)
غيبت، دوزخ کے کتوں کی غذا ہے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
كُفّ عَنِ الْغَيْبَةِ فَإِنّهَا إِدَامُ كِلابِ النّارِ ۔
غيبت سے بپرهيزكرویہ دوزخ کے کتوں کا کھانا ہے ۔
(بحار الانوار، ج ۷۵ ص ۱۱۷ ح۲)
گناہ بہتر ازمعذرت
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
رُبّ ذَنْبٍ اَحْسَنُ مِنَ الاِعْتِذَارِ مِنْهُ۔
بہت سے گناہ ہیں جومعذرت کرنے سے بہترہیں۔
(بحار الانوار، ج ۵۷ ص ۱۲۸ ح۱۱)
عقلمندی اور موت کے یقین کا اثر
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لَوْ عَقَلَ النّاسُ وَ تَصَوّرُوا الْمَوْتَ لَخَرِبَتِ الدّنيَا
اگر لوگ عقلمند ہوتےاور موت کا یقین کرلیتے تو دنیا ویران دکھائی دیتی۔
(إحقاق الحق، ج ۱۱ ص۵۹۲)
خوف خدا میں گریہ
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
اَلْبُكَاءُ مِنْ خَشْيَةِ اللّهِ نَجَاةٌ مِنَ النّارِ ۔
خوف خدا میں گريه جهنّم سےنجات کا ذریعہ ہے۔
(مستدرك الوسائل، ج ۱۱ ص ۲۴۵ ح۳۵)
ہدیہ قبول کرنے کا اثر
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ قَبِلَ عَطَاءَكَ، فَقَدْ اَعَانَكَ عَلَى الْكَرَمِ
جوتمہاری عطا کی ہوئی چیز کو قبول کرلے وہ نیکیوں پر تمہاری مدد لرنے والا ہے ۔
(بحار الانوار، ج ۶۸ ص ۳۵۷ ح۲۱)
حضرت على(ع) سے نفاق کی نشانی ہے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَا كُنّا نَعْرِفُ الْمُنَافِقِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّهِ (ص) إِلا بِبُغْضِهِمْ عَلِيّاً وَ وُلْدَهُ
رسول اسلام (ص)کے دورحیات میں ہم منافقین کوحضرت علی (ع) اور ان کی اولاد کی دشمنی سے پہچانتے تھے ۔
(عيون أخبار الرّضا، ج ۲ ص ۷۲ ص۳۰۵)
قول و عمل میں ہماہنگی
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
إِنّ الْكَريِمَ إِذَا تَكَلّمَ بِكَلاَمٍ، يَنْبَغِى اَنْ يُصَدّقَهُ بِالْفِعْلِ ۔
باعزت انسان جب گفتگو کرتا ہے تو اس کاعمل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے۔
(مستدرك الوسائل، ج ۷ ص ۱۹۳ ح۶)
عزّت کی موت اورذلّت کی زندگی
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَوْتٌ فِى عِزّ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِى ذُلّ .
عزت کی موت ذلت کی زندگى سے بہتر ہے ۔
(بحار الانوار، ج ۴۴ ص ۱۹۲ ح۴)
مؤمن کی پریشانی کو دور کرنا
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ نَفّسَ كُرْبَةَ مُؤْمِنٍ فَرّجَ اللّهُ عَنْهُ كُرَبَ الدّنيَا وَ الاخِرَةِ ۔
جو کسی مومن کی پریشانی دور کرے خداوند عالم اس کی دنیا وآخرت کی پریشانوں کو دور کردےگا۔
(بحار الانوار، ج ۷۵ ص ۱۲۲ ح۵)
اپنے گناه سےغفلت
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
إِيّاك اَنْ تَكُونَ مِمّنْ يَخَافُ عَلَى الْعِبَادِ مِنْ ذُنُوبِهِمْ وَيَاْمَنُ الْعُقُوبَةَ مِنْ ذَنْبِهِ .
ہرگز ان لوگوں میں سےنہ ہوناجودوسروں کے گناہوں پر خوفزدہ اور اپنے گناہوں سے غافل ہوتے ہیں۔
(تحف العقول، ص۲۷۳ )
تنگدستى، بيمارى اور موت
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لَوْلاَ ثَلاَثَةٌ مَا وَضَعَ ابْنُ آدَمَ رَأسَهُ لِشَىْءٍ اَلْفَقْرُ وَ الْمَرَضُ وَ الْمَوتُ ۔
اگرتین چيزیں نہ ہوتیں تو انسان کسی کے سامنے سر نہ جھکاتا غریبی، بیماری اورموت ۔
(نزهة الناظر و تنبيه الخاطر، ص ۸۵ ح۴)
اہمیت کم کرنے والی گفتگو
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لاَ تَقُولُوا بِاَلْسِنَتِكُمْ مَا يَنْقُصُ عَنْ قَدْرِكُمْ ۔
زبان سے ایسی بات نہ نکالو جوتمھاری اہمیت کم کردے۔
(جلاء العيون، ج ۲ ص۲۰۵)
طاقت رکھتے ہوئےمعاف کرنا
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
إِنّ اَعْفَى النّاسِ مَنْ عَفَا عَنْ قُدْرَةٍ ۔
سب سے بڑا معاف کرنے والا وہ ہے جو طاقت کے باوجود معاف کردیتا ہے ۔
( بحار الانوار، ج ۷۵ ص ۱۲۱ ح۴)
لوگوں کی خوشی کے لیے خدا کو ناراض کرنا
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ طَلَبَ رِضَى النّاسِ بِسَخَطِ اللّهِ وَكَلَهُ اللّهُ إِلىَ النّاسِ .
جو لوگوں کو راضی کرنے كے لئے خدا کو ناراض کرے خدا اسے لوگوں کے ہی حوالہ کردیتا ہے ۔
( بحار الانوار، ج ۷۵ ص ۱۲۶ ح۸)
خداکی بارگاہ میں اعمال کا پیش ہونا
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
إِنّ اَعْمَالَ هَذِهِ الاُمّةِ مَا مِنْ صَبَاحٍ إِلا وَ تُعْرَضُ عَلَى اللّهِ عَزّوَجَلّ ۔
امت کے اعمال روزانہ صبح کے وقّت خدا کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔
( بحار الانوار، ج ۷۰ ص ۳۵۳ ح۵۴ )
صلہ رحم سے موت میں تاخیراور روزی میں اضافہ
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ سَرّهُ اَنْ يُنْسَاَ فِى اَجَلِهِ وَ يُزَادَ فِى رِزْقِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ۔
جوچاہتا ہے كہ کی موت کو فراموش کردیا جائے اور اس کی روزی میں اضافہ ہو اسے چاہئے کہ صلہ رحم کرے۔
(بحار الانوار، ج ۷۱ ص ۹۱ ح۵)
خوش اخلاقى اورخاموشی
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
اَلْخُلْقُ الْحَسَنُ عِبَادَةٌ وَ الصّمْتُ زَيْنٌ۔
خوش اخلاقی عبادت ہےاور خاموش انسان کی زینت ہے۔
(تاريخ اليعقوبى، ج ۲ ص۲۶۴)
پاداش زائر امام حسين(ع)
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ زَارَنِى بَعْدَ مَوْتِى زُرْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ إِلا فِى النّارِ لاَخْرَجْتُهُ۔
امام حسين (ع) نےفرمایا: جو میری شہادت کےبعد میری زیارت کرے گا وہ اگر جہنمی ہو تو میں اسے جہنم سے نکال لوں گا۔
(المنتخب للطريحى، ص۶۹)
امام حسين(ع) مقتول اشک
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
اَنَا قَتِيلُ الْعَبْرَةِ،لا يَذْكُرُنِى مُؤْمِنٌ إِلا بَكَى۔
امام حسين (ع) نے فرمایا: میں وہ مقتول ہوں جسے رلا رلاکرقتل کیا گیا جو مومن بھی مجھے یاد کرتا ہے وہ مجھ پر گریہ ضرورکرتا ہے۔
(كامل الزيارات، ص ۱۱۷ ح۶)
امام حسين(ع) اورامام زمانہ (عج)
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
لَوْ اَدْرَكْتُهُ لَخَدَمْتُهُ اَيّامَ حَيَاتِى ۔
اگرمیں حضرت امام مهدى (عج )کےزمانے میں ہوتا تو پوری زندگی ان کی خدمت کرتا ۔
(عقد الدّرر، ص۱۶۰)
خيانت اورمكروفریب سے پرہیز
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
إِنّ شِيعَتَنَا مَنْ سَلِمَتْ قُلُوبُهمْ مِنْ كُلّ غِشّ وَغَلّ وَدَغَلٍ ۔
ہمارے شیعہ وہ ہیں جن کے دل ہر طرح کے مکروفریب سے پاک ہوں ۔
(بحار الانوار، ج ۶۵ ص ۱۵۶ ح۱۰)
غربت اور شیعوں کا مارا جانا
وَ اللّهِ الْبَلاَءُ وَ الْفَقْرُ وَ الْقَتْلُ اَسْرَعُ إِلَى مَنْ اَحَبّنَا مِنْ رَكْضِ الْبَرَاذِينِ، وَ مِنَ السّيْلِ إِلىَ صِمْرِهِ ۔
خداکی قسم بلا فقر وتنگدستی اورقتل ہمارے چاہنے والوں کی طرف تیزدوڑنے والے گھوڑوں اورسیلاب کے پانی سے بھی زیادہ تیز رفتار کے ساتھ آتے ہیں ۔
(بحار الانوار، ج ۶۴ ص ۲۴۹ ح۸۵)
اهل بيت (عليهم السلام) سے محبت
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ اَحَبّنَا كَانَ مِنّا اَهْلَ الْبَيتِ ۔
جو شخص ہم اہل بیت (ع) سےمحبت كرےگاوه ہم میں سے ہوگا ۔
(نزهة النّاظر و تنبيه الخاطر، ص ۸۵ ح۱۹)
تمام مخلوق ہم اهل بيت(ع)کی اطاعت پر مامور ہے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
وَاللّهِ مَا خَلَقَ اللّهُ شَيْئاً إِلا وَ قَدْ اَمَرَهُ بِالطّاعَةِ لَنَا ۔
خدا کی قسم خدا نے کسی بھی مخلوق کو پیدا نہیں کیا مگریہ کہ اسے ہم اہل بیت (ع) کی اطاعت کا حکم دیا ۔
(بحار الانوار، ج ۴۴ص ۱۸۱ ح۱)
اهل بيت(ع) خداکے رازدار
نَحْنُ الّذِينَ عِنْدَنَا عِلْمُ الْكِتَابِ وَ بَيَانُ مَا فِيهِ وَ لَيْسَ عِنْدَ اَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ مَا عِنْدَنَا لاَِنّا اَهْلُ سِرّ اللّهِ.
ہم وہ لوگ ہیں جن کے پاس قرآن مجید کا علم اور ان سب چیزوں کی وضاحت ہے جو اس میں ہے اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ ہمارے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہے اس لیے کہ ہم خدا وند عالم کے رازدار ہیں ۔
(بحار الانوار، ج ۴۴ ص ۱۸۴ ح۱۱)
اهل بيت(ع)، ملائكه کے استاد
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
اَىّ شَىْءٍ كُنْتُمْ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ اللّهُ عَزّوَجَلّ آدَمَ (ع)؟ قَالَ كُنّا اَشْبَاحَ نُورٍ نَدُورُ حَوْلَ عَرْشِ الرّحْمنِ فَنُعَلّمُ لِلْمَلاَئِكَةِ التّسْبِيحَ وَ التّهْلِيلَ وَ التّحْمِيدَ ۔
امام حسين (ع) سےدریافت کیا گیا کہ خداوندعالم کی ذریعہ جناب آدم کی تخلییق سے پہلےآپ کیا تھے؟ آپ نےفرمایا: ہم نور کی صورت میں عرش الہی کا طواف کرتے تھےاور ملائکہ کو تسبیح و تہلیل اور حمدوثنا کا طریقہ سکھاتے تھے ۔
( بحار الانوار، ج ۵۷ ص ۳۱۱ ح۱)