ھل یستوی الذین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ھل یستوی

کیا ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ برابر ہیں ؟

نیکی ،اور برائی

وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ۔ ﴿فصلت /۳۴

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، آپ (بدی کو) بہترین نیکی سے دفع کریں تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ گویا نہایت قریبی دوست بن گیا ہے۔

کھارا ،اور میٹھا

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡبَحۡرٰنِ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ؕ وَ مِنۡ کُلٍّ تَاۡکُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡنَ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ فِیۡہِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿فاطر /۱۲

اور دو سمندر برابر نہیں ہوتے: ایک شیریں، پیاس بجھانے والا، پینے میں خوشگوار اور دوسرا کھارا کڑوا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیورات نکال کر پہنتے ہو اور تم ان کشتیوں کو دیکھتے ہو جو پانی کو چیرتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید تم شکرگزار بن جاؤ۔

تاریکی ،اور روشنی

قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَاتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ اَمۡ ہَلۡ تَسۡتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوۡرُ ۬ۚ اَمۡ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ خَلَقُوۡا کَخَلۡقِہٖ فَتَشَابَہَ الۡخَلۡقُ عَلَیۡہِمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿رعد/۱۶

ان سے پوچھیے:آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ کہدیجئے: اللہ ہے، کہدیں: تو پھر کیا تم نے اللہ کے سوا ایسوں کو اپنا اولیاء بنایا ہے جو اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں؟ کہدیجئے: کیا بینا اور نابینا برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تاریکی اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں؟ جنہیں ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنایا ہے کیا انہوں نے اللہ کی خلقت کی طرح کچھ خلق کیا ہے جس کی وجہ سے پیدائش کا مسئلہ ان پر مشتبہ ہو گیا ہو؟ کہدیجئے: ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا، بڑا غالب آنے والا ہے۔

عالم، اور جاہل

اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یَرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ۔ ﴿زمر/۹

(مشرک بہتر ہے) یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگائے رکھتا ہے، کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔

مواحد، اور مشرک

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ۔ ﴿زمر /۲۹

اللہ ایک شخص (غلام) کی مثال بیان فرماتا ہے جس (کی ملکیت) میں کئی بدخو (مالکان) شریک ہیں اور ایک(دوسرا) مرد (غلام) ہے جس کا صرف ایک ہی آقا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ الحمد للہ،بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔

ناپاک ، اور پاک

قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔ ﴿مائدہ /۱۰۰

(اے رسول) کہدیجئے: ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے خواہ ناپاکی کی فراوانی تمہیں بھلی لگے، پس اے صاحبان عقل اللہ کی نافرمانی سے بچو شاید تمہیں نجات مل جائے ۔

زندہ ، اور مردہ

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ۔ ﴿فاطر /۲۲

اور نہ ہی زندے اور نہ ہی مردے یکساں ہو سکتے ہیں، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے اور آپ قبروں میں مدفون لوگوں کو تو نہیں سنا سکتے۔

گونگا ، اور بولنے والا

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلَیۡنِ اَحَدُہُمَاۤ اَبۡکَمُ لَا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوۡلٰىہُ اَیۡنَمَا یُوَجِّہۡہُّ لَایَاۡتِ بِخَیۡرٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیۡ ہُوَ وَ مَنۡ یَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ ۙ وَ ہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۔ ﴿نحل/۷۶

اور اللہ دو (اور) مردوں کی مثال دیتا ہے، ان میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر بھی قادر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجے کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود صراط مستقیم پر قائم ہے؟

اندھا ، اور بینا

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ۔ ﴿فاطر/۱۹

اور نابینا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے۔

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ۔ ﴿غافر /۵۸

اور نابینا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے نیز نہ ہی ایماندار اور عمل صالح بجالانے والے اور بدکار، تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

مَثَلُ الۡفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعۡمٰی وَ الۡاَصَمِّ وَ الۡبَصِیۡرِ وَ السَّمِیۡعِ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ۔ ﴿ھود/۲۴

دونوں فریقوں (مومنوں اور کافروں) کی مثال ایسی ہے جیسے (ایک طرف) اندھا اور بہرا ہو اور (دوسری طرف) دیکھنے والا اور سننے والا ہو، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟

قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ۔ ﴿انعام /۵۰

کہدیجئے: میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس حکم کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی ہوتی ہے، کہدیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟کیا تم غور نہیں کرتے؟

فتح مکہ سے پہلے والے، اور بعد والے مسلمان

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ۔ ﴿حدید /۱۰

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ کے لیے ہے؟ تم میں سے جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ہو سکتے، ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور مقاتلہ کیا، البتہ اللہ تعالیٰ نے ان سب سے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے۔

راہ خدا میں جہاد کرنے والے، اور نہ کرنے والے

لَا یَسۡتَوِی الۡقٰعِدُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ غَیۡرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الۡمُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ دَرَجَۃً ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔ ﴿نساء/۹۵

بغیر کسی معذوری کے گھر میں بیٹھنے والے مؤمنین اور راہ خدا میں جان و مال سے جہاد کرنے والے یکساں نہیں ہو سکتے، اللہ نے بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ زیادہ رکھا ہے، گو اللہ نے سب کے لیے نیک وعدہ فرمایا ہے، مگر بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی فضیلت بخشی ہے۔

بد زبانی و دالی گ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بدزبانی اورگالی گلوچ

﴿ قرآن و حدیث کی روشنی میں ﴾

بد زبانی اور گالی گلوچ باعث بنتا ہے کہ مہذب لوگ آپ سے دور ہو جائیں اور آپ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند نہ کریں اور غیر مہذب افراد آپ کے گرد جمع ہو جائیں اور آپ کی تباہی کا باعث بنیں ، امام علی ؑ فرماتے ہیں:

بدزبانی اور فحش گوئی سے پرہیز کریں کیونکہ اس کی وجہ سے نامعقول اور بدتمیز افراد تمہارے گرد جمع ہو جائیں گے اور اچھے لوگ آپ سے دور بھاگیں گے۔

آج ہمارا معاشرہ جن اخلاقی مشکلات کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مشکل یہی بد زبانی ہے زبان کے زخم تلوار کے زخم سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے الفاظ اور فقرے استعمال کرنے سے گریز کرے جو گالی شمار ہوتے ہوں ۔

بہت سارے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ زبان کو قابو میں نہیں رکھ پاتے جبکہ اعضاء و جوارح میں زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو بہت زیادہ روکے رکھنے کا محتاج ہے ، جس طرح انسان کے اعضاء وجوارح سے سرزد ہونے والے اعمال و افعال قابل مواخذہ ہیں اسی طرح زبان سے نکلنے والے الفاظ و کلمات اور اقوال بھی قابل مواخذہ ہیں، عنداللہ انکے بارے میں بازپرس ہوگی، قرآن و سنت کے بیشمار نصوص اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنی زبان سے جو بات بھی نکالتا ہے اسکا معاملہ بڑا سنگین ہے، یہ الفاظ و اقوال خیر و بھلائی پر مشتمل ہوں تو انسان کبھی وہم و گمان سے بڑھ کر اجروثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پالیتا ہے اور اگر یہ باتیں شروفساد کے حوالے سے گناہ پر مشتمل ہوں تو انسان تصور سے بڑھ کر عذاب الہٰی کا مستحق بن جاتا ہے اس لئے زبان کو قابو میں رکھنا اورکچھ بولنے سے پہلے اسکے انجام کے بارے میں ہزار بار سوچنا بہت ضروری ہے۔

زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں ہوتی ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے، بروز محشر انسان اپنی باتوں پر جوابدہ ہوگا۔

بد زبانی کیا ہے ؟

بد زبانی اور گالی گلوچ سے مراد فقط گندی گالیاں ہی نہیں ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات میں ہر وہ بات اس میں داخل ہے جو دوسرے کی توہین اور تحقیر یا اس کی دل آزاری کا سبب بنے ۔

بد زبانی کے اسباب

الف)غصہ : جب انسان کو غصہ آتا ہے تو وہ غصے میں حواس کھو بیٹھتا ہے اور پھر جو منہ میں آتا ہے وہی کہتا ہے ، گالیاں دیتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ غصہ حرام ہے ۔

ب) عادت: جب کوئی شخص بدمعاش اور گھٹیا لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے اور ان سے دوستی کرتا ہے تو آہستہ آہستہ ان کی روح، مزاج اور اظہار اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چونکہ ان کی عام بول چال ایک دوسرے کے بارے میں فحاشی سے بھری ہوتی ہے، اس لیے وہ اس میں بھی سرایت کر جاتی ہے اور آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے ۔

اس آفت کا علاج یہ ہے کہ :

1 ۔ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جس کی وجہ سے کسی مومن پر غصہ کرنا پڑے

2 ۔ اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھیں اور غصہ کو پی جائیں

3 ۔ اہل فتنہ و فساد سے پرہیز کریں تاکہ اپنی زبان کو گالی گلوچ سے محفوظ رکھ سکیں

قرآن میں بد زبانی کا بیان

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔

گالی مت دو ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں، اس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے ان کے اپنے کردار کو دیدہ زیب بنایا ہے، پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پس وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔(انعام ، 108)

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الۡجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا۔

اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی (کسی کی) برملا برائی کرے، مگر یہ کہ مظلوم واقع ہوا ہو اور اللہ بڑا سننے والا، جاننے والا ہے۔ (نساء، 148)

احادیث میں بد زبانی کا بیان

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ الْفُحْشَ لَوْ کَانَ مِثَالًا لَکَانَ مِثَالَ سَوْء۔

اگر گالی گلوچ کی کوئی شکل ہوتی تو انتہائی بد صورت ہوتی ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ مِنْ شَرِّ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ تُکْرَهُ مُجَالَسَتُهُ لِفُحْشِه۔

خدا کے بدترین بندوں میں سے ہے وہ شخص جس کی بد زبانی کی وجہ سے لوگ اس سے دور بھاگیں ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِیَّاکُمْ وَ الْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَا یُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ۔

بد زبانی سے پرہیز کریں کیونکہ خداوند متعال بدزبانی اور گالی گلوچ کو پسند نہیں کرتا ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِیءَ وَ السَّائِلَ الْمُلْحِف۔

گالی گلوچ کرنے والا اور پیشہ ور بھکاری خدا کا دشمن ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ وَ قِتَالُهُ کُفْرٌ وَ أَکْلُ لَحْمِهِ مَعْصِیَةٌ وَ حُرْمَةُ مَالِهِ کَحُرْمَةِ دَمِه ۔

مومن کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور اس کی غیبت کرنا گناہ ہے اور مومن کا مال اس کی جان کی طرح محترم ہے

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

أَرْبَعَةٌ یَزِیدُ عَذَابُهُمْ عَلَی عَذَابِ أَهْلِ النَّارِ إِلَی أَنْ قَالَ وَرَجُلٌ یَسْتَلِذُّ الرَّفَثَ وَالْفُحْشَ فَیَسِیلُ مِنْ فِیهِ قَیْحٌ وَدَمٌ ۔

چار قسم کے لوگوں کی وجہ سے جہنمیوں کا عذاب شدید ہو جائے گا ، پہلا وہ جو بد زبان ہے

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِی تَمِیمٍ أَتَى النَّبِیَّ صلّی الله علیه وآله فَقَالَ أَوْصِنِی فَکَانَ فِیمَا أَوْصَاهُ أَنْ قَالَ لَا تَسُبُّوا النَّاسَ فَتَکْتَسِبُوا الْعَدَاوَةَ بَیْنَهُم۔

بنی تمیم کا ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے کوئی وصیت فرمائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کو گالی نہ دو تاکہ تمہارے درمیان عداوت و دشمنی نہ ہو جائے ۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا :

عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مُوسَى علیه السلام فِی رَجُلَیْنِ یَتَسَابَّانِ فَقَالَ: الْبَادِی مِنْهُمَا أَظْلَمُ وَ وِزْرُهُ وَ وِزْرُ صَاحِبِهِ عَلَیْهِ مَا لَمْ یَتَعَدَّ الْمَظْلُوم۔

گالیاں دینے میں پہل کرنے والا زیادہ ظالم ہے وہ اپنا اور اپنے ساتھی کے گناہ کا بوجھ اٹھانے والا ہے بشرطیکہ جس پر ظلم ہوا وہ زیادتی نہ کرے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ أَبْغَضَ خَلْقِ اللَّهِ عَبْدٌ اتَّقَى النَّاسُ لِسَانَہ۔

خدا کی قابل نفرت مخلوق وہ بندہ ہے جس کی زبان سے لوگ ڈریں ۔

امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ۔

بد زبان اور گالی دینے والا خدا کا دشمن ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَ الْجَفَاءُ فِی النَّار۔

بد زبانی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

إِنَّ الْفُحْشَ وَ الْبَذَاءَ وَ السَّلَاطَةَ مِنَ النِّفَاق۔

لعن طعن، بد زبانی اور گالی گلوچ منافقت کی نشانیاں ہیں۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :

و قال : ... لَیْسَ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِینَ الْخَنَا وَ لَا الْفُحْشُ وَ لَا الْأَمْرُ بِه۔

بد زبانی ، گالی گلوچ اور ان کا حکم دینا مومن کا اخلاق نہیں ہے

امام علی علیہ السلام نے فرمایا :

ما أفحَشَ کَرِیمٌ قَطُّ۔

کریم انسان کبھی بھی غلط کام اور بد زبانی نہیں کرتا ۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا :

أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ علیه السلام عِنْدَ وَفَاتِهِ:کُنْ لِلَّهِ یَا بُنَیَّ عَامِلًا وَ عَنِ الْخَنَاءِ زَجُوراً۔

اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی اے بیٹے : جو بھی کام کرو اللہ کیلئے کرو اور سخت کلامی سے بچو ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

ثَلَاثَةٌ لَا یَنْظُرُ اللَّهُ إِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَ لَا یُزَکِّیهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ: الدَّیُّوثُ مِنَ الرِّجَالِ، وَ الْفَاحِشُ الْمُتَفَحِّشُ، وَ الَّذِی یَسْأَلُ النَّاسَ وَ فِی یَدِهِ ظَهْرُ غِنًى۔

تین لوگوں پر اللہ قیامت کے دن نظر کرم نہیں کرے گا اور انہیں دوزخ میں ڈالے گا ، بے غیرت مرد ، بے شرم بد زبان اور پیشہ ور بھکاری ۔

امام موسی کاظم علیہ اسلام نے فرمایا :

الْحَیَاءُ مِنَ الْإِیمَانِ وَ الْإِیمَانُ فِی الْجَنَّةِ، وَ الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَا وَ الْجَفَا فِی النَّارِ ۔

حیا ء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بد زبانی بے ادبی ہے اور بے ادب جہنم میں ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

ثَلَاثٌ إِذَا کُنَّ فِی الرَّجُلِ فَلَا تَجْرَحُ أَنْ تَقُولَ إِنَّهُ فِی جَهَنَّمَ الْجَفَاءُ وَ الْجُبْنُ وَ الْبُخْلُ وَ ثَلَاثٌ إِذَا کُنَّ فِی الْمَرْأَةِ فَلَا تَجْرَحُ أَنْ تَقُولَ إِنَّهَا فِی جَهَنَّمَ الْبَذَاءُ وَ الْخُیَلَاءُ وَ الْفَخرُ

جس مرد میں تین خصلتیں ہوں تو اگر اسے جہنمی بھی کہو تو مسئلہ نہیں غصہ ، بزدلى و بخل، اور تین خصلتیں جس عورت میں ہوں تو مسئلہ نہیں کہ اسے جہنمی کہا جائے بد زبانی ، تکبر ، تعصب ۔

امام سجاد علیه السلام نے فرمایا:

وَ الذُّنُوبُ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعَاءَ ...اسْتِعْمَالُ الْبَذَاءِ وَ الْفُحْشُ فِی الْقَوْلِ۔

بد زبانی اور گالی گلوچ ان گناہوں میں سے ہیں جن کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

کَانَ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام صَدِیقٌ لَا یَکَادُ یُفَارِقُهُ إِذَا ذَهَبَ مَکَاناً فَبَیْنَمَا هُوَ یَمْشِی مَعَهُ فِی الْحَذَّاءِینَ وَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ سِنْدِیٌّ یَمْشِی خَلْفَهُمَا إِذَا الْتَفَتَ الرَّجُلُ یُرِیدُ غُلَامَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یَرَهُ فَلَمَّا نَظَرَ فِی الرَّابِعَةِ قَالَ یَا ابْنَ الْفَاعِلَةِ أَیْنَ کُنْتَ؟ قَالَ فَرَفَعَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام یَدَهُ فَصَکَّ بِهَا جَبْهَةَ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَقْذِفُ أُمَّهُ! قَدْ کُنْتُ أَرَى أَنَّ لَکَ وَرَعاً فَإِذَا لَیْسَ لَکَ وَرَعٌ فَقَالَ: جُعِلْتُ فِدَاکَ إِنَّ أُمَّهُ سِنْدِیَّةٌ مُشْرِکَةٌ فَقَالَ: أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ نِکَاحاً تَنَحَّ عَنِّی قَالَ فَمَا رَأَیْتُهُ یَمْشِی مَعَهُ حَتَّى فَرَّقَ الْمَوْتُ بَیْنَهُمَا . وَ فِی رِوَایَةٍ أُخْرَى: إِنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ نِکَاحاً یَحْتَجِزُونَ بِهِ مِنَ الزِّنَا ۔

عمرو بن نعمان جعفى کہتا ہے امام ؑ کا ایک ساتھی تھا امام ؑ جہاں بھی جاتے وہ ساتھ ہوتا ایک دن امام ؑ کے ساتھ بازار میں جا رہا تھا اور اس کا سندھی غلام بھی ساتھ تھا اچانک پیچھے دیکھتا ہے تو وہ غلام بہت پیچھے راہ گیا تھا کچھ دیر بعد جب غلام قریب آیا تو کہتا ہے اے حرام زادہ کہاں راہ گئے تھے ؟ امام ؑ نے جب یہ سنا تو اپنا ہاتھاپنی پیشانی پر مارا اور فرمایا :

سبحان اللہ اس کی ماں پر زنا کی تہمت لگا دی ؟ میرا خیال تھا کہ تو غیرت مند اور نیک ہے لیکن اب دیکھ رہا ہوں کہ تو ایسا نہیں ہے ؟

عرض کرتا ہے قربان جاؤں اس کی ماں اہل سندھ سے ہے اور مشرک ہے

امام نے فرمایا:

تم نہیں جانتے کہ ہر ملت میں شادی ہوتی ہے ، مجھ سے دور ہو جاؤ

عمرو بن نعمان (راوى حدیث) کہتا ہے، اس کے بعد ہم نے اسے امام ؑ کے ساتھ کبھی نہیں دیکھا ۔

نتیجه

یہ جاننا ضروری ہے کہ مومن کی حرمت کا ملاک انسانی وقار کا تحفظ ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ایسے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے جو انسانی عظمت اور اعلیٰ اقدار کے منافی ہوں تو اس کی عزت باقی نہیں رہتی اور اس کی توہین کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا جائز ہو جاتا ہے جیسے کھلم کھلا کفر کرنے والا ، بدکاری اور ظلم و زیادتی کرنے والا، دین میں بدعت داخل کرنے والا، اور ہر وہ شخص جس میں کوئی شرم و حیا نہ ہو، چنانچہ پیغمبر گرامی اسلام ﷺ فرماتے ہیں :

میرے بعد جب بھی بدعتی لوگوں سے ملو تو ان سے برائت کرو ۔

آخر میں حضرت لقمان حکیم کی ایک حکایت پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں ، ایک بادشاہ نے حضرت لقمان حکیم سے کہا کہ ایک بکری ذبح کرواور اس میں جو سب سے اچھی چیز ہو وہ پیش کرو۔ حضرت لقمان حکیم نے زبان اور دل لا کر پیش کر دیا، اس کے بعد بادشاہ نے کہا کہ جو سب سے بری چیز ہو وہ پیش کی جائے، تو حضرت لقمان حکیم نے پھر زبان اور دل پیش کر دیا، بادشاہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو لقمان حکیم نے جواب دیا اگریہی زبان اور دل صحیح استعمال کیے جائیں تو یہ انسانی جسم کے سب سے بہترین اعضا ہیں اوراگر ان کا استعمال غلط ہو تو یہی انسانی جسم کے سب سے بدترین اعضا ہیں ۔

دعا عرفہ / اردو ترجمہ

امام سجاد علیہ السلام کی احادیث

عَجَباً کُلّ الْعَجَبِ لِمَنْ عَمِلَ لِدارِ الْفَناءِ وَتَرَکَ دارَ الْبقاء

مجھے تعجب ہے اُس شخص پر جو دارِ فنا کے لئے تو (خوب) عمل کرتا ہے، مگر دارِ بقا کو چھوڑ دیتا ہے۔

(بحارالأنوار: ج 73، ص 127، ح 128)

نَظَرُ الْمُؤْمِنِ فِى وَجْهِ أخِیهِ الْمُؤْمِنِ لِلْمَوَدَّهِ وَالْمَحَبَّهِ لَهُ عِبادَه

اپنے برادرِ مومن کے چہرے پر محبت و الفت بھری نگاہ ڈالنا عبادت ہے۔

(تحف العقول، ص 204، /بحارالأنوار، ج 78، ص 140، ح 3)

إنَّ أفْضَلَ الْجِهادِ عِفَّهُ الْبَطْنِ وَالْفَرْج

با فضیلت ترین جہاد اپنے شکم اور شرمگاہ کی حفاظت ہے۔

(مشکاۃ الأنوار، ص 157، س 20)

لَوْ یَعْلَمُ النّاسُ ما فِى طَلَبِ الْعِلْمِ لَطَلَبُوهُ وَ لَوْبِسَفْکِ الْمُهَجِ وَ خَوْضِ اللُّجَجِ

اگر لوگ طلب علم کی فضیلت سے آگاہ ہو جاتے تو پھر وہ اسکی طلب میں خون بہانے اور گہرے سمندروں میں غوطہ لگانے پر بھی تیار ہو جاتے۔

(اصول کافى، ج 1، ص 35، /بحارالأنوار، ج 1، ص 185، ح 109)

مَنْ زَوَّجَ لِلّهِ، وَوَصَلَ الرَّحِمَ تَوَّجَهُ اللّهُ بتَاجِ الْمَلَکِ یَوْمَ الْقِیامَهِ

جو شخص خوشنودیٔ خدا کے لئے شادی کرے اور اپنے عزیز رشتہ داروں کے ساتھ ناتہ جوڑے رکھے تو خداوند عالم روز قیامت اُسے تاج ملک سے نوازے گا۔

(مشکاه الأنوار، ص 166)

اَلْخَیْرُ کُلُّهُ صِیانَهُ الاْنْسانِ نَفْسَهُ

تمام خیر و سعادت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے اوپر قابو رکھے۔

(تحف العقول، ص201، /بحارالأنوار، ج 75، ص 136، ح 3)

سادَةُ النّاسِ فی الدُّنْیا الاَسْخِیاء، وَ سادَةُ الناسِ فی الاخِرَةِ الاَتْقیاء

سخی افراد دنیا میں اور تقی (با تقوا) افراد آخرت میں لوگوں کے سید و سردار ہیں۔

(مشکاة الا نوار، ص 232، س 20، /بحارالا نوار، ج 78، ص 50، ح 77)

کانَ [رسولُ الله] إذا أوَى إلىَ مَنزِلِهِ، جَزَّءَ دُخُولَهُ ثَلاثَةَ أجزَاءٍ: جُزءاً لِلَّهِ، وَجُزءاً لِأهلِهِ، وَجُزءاً لِنَفسِهِ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشار فرماتے ہیں:

اپنے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرو؛ ایک حصہ اپنے پروردگار کے لئے، ایک حصہ اپنے بال بچوں کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے۔

(مکارم الأخلاق، ج 1، ص 44)

مَا مِن قَطرَةٍ أَحَبُّ إِلَی الله عَزَّوَجَل مِن قَطرَةِ دَمٍ فِی سَبِیلِ الله و قَطرَةِ دَمعَةٍ فِی سَوادِ اللَّیل

خداوند عالم دو قطروں کو خوب پسند کرتا ہے: ایک راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ اور ایک شب کی تاریکی میں آنکھوں سے بہنے والے آنسو کا قطرہ۔

(خصائل الصدوق، ص 50)

مَن عَمِلَ بما افتَرَضَ اللهُ عَلَیهِ فَهُوَ مِن خَیر النَّاس

جو شخص واجبات خدا پر عمل کرتا ہو، وہ سب سے بہتر و بالاتر شخص ہے۔

(جهاد النفس ح 237)

الدُّعاءُ یَدفَعُ البَلاءَ النّازِلَ وَما لَم یَنزِلْ

دعا سے نازل ہو چکی اور نازل ہونے والی، دونوں بلائیں دور ہوتی ہیں۔

(الکافی، ج 2 ، ص 469 ح 5،/میزان الحکمة، ج 2 ، ص 870)

الذُّنُوبُ الّتى تُنزِلُ النِّقَمَ عِصیانُ العارِفِ بِالبَغىِ وَ التَطاوُلُ عَلَى النّاسِ وَ الاِستِهزاءُ بهِم وَ السُّخریَّةُ مِنهُم

تین گناہ ہیں جو نزول عذاب کا باعث بنتے ہیں: شعور و آگاہی کے ساتھ کسی پر ستم کرنا، دوسروں کے حقوق پامال کرنا اور دوسروں کا مذاق اڑانا۔

(معانى الاخبار ، ص 270)

آیاتُ الْقُرْآنِ خَزائِنُ الْعِلْمِ، کُلَّما فُتِحَتْ خَزانَةٌ، فَیَنْبَغی لَکَ أنْ تَنْظُرَ ما فیها

قرآنی آیات علوم کا خزانہ ہیں، جب کبھی کوئی خزینہ کھولا جائے تو اسے خود اچھی طرح ٹٹولا کرو۔

(مستدرک الوسائل، ج 4، ص 238، ح 3)

إیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْفاسِقِ، فَإنّهُ بائِعُکَ بِأَکْلَةٍ أوْ أَقَلّ مِنْ ذلِکَ وَإیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْقاطِعِ لِرَحِمِهِ فَإنّى وَجَدْتُهُ مَلْعُونا فى کِتاب ِاللّهِ

فاسق و فاجر شخص کے ساتھ دوستی کرنے سے بچو، کیوں کہ وہ تمہیں چند لقموں حتیٰ ایک لقمے کے عوض فروخت کر دے گا۔اسی طرح عزیز رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والے کی دوستی سے بھی پرہیز کرو، کیوں کہ میں نے کتابِ خدا میں اُسے ملعون پایا ہے۔

(تحف العقول ص 202، /بحارالا نوارف ج 74، ص 196، ح 26)

سلام کرنے کی فضیلت و اہمیت  


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلام کرنے کی فضیلت و اہمیت

قرآن اور روایات محمد و آل محمد علیہم السلام کی روشنی میں

اسلام سراپا امن وسلامتی اور عافیت کا مذہب ہے، دنیا وآخرت کی مکمل فلاح وکا مرانی اسی بابرکت دین سے وابستہ ہے ،سراپا امن وسلامتی سے عبارت اس دین برحق کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں پر کبھی شدت وتنگی اور جبروتشدد کو روا نہیں رکھتا ہے، بلکہ ہر ممکن آسانی اور سہولت کا طریقہ اپناتا ہے، چنانچہ اس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکامات سے آگاہ کیا ہے، اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو اعتقادات وعبادات کی تعلیم دیتا ہے، وہیں معاملات، معاشیات اوراقتصادیات کے آداب اور طریقے بھی بتلاتا ہے، غرض کوئی گوشہ نہیں ہے جس کے متعلق اسلام کے زریں احکامات وارد نہ ہوئے ہوں، باہمی اتحاد، آپس کے میل ملاپ او رایک اچھے معاشرے کی تشکیل کیلئے باہمی رابط انتہائی ناگزیر ہے، اس لیے قرآن کریم اور روایات حضرات محمد و آل محمد ؑنے متعدد مقامات پر اس کی اہمیت پر زور دیا او رایک دوسرے سے ملتے وقت کا طریقہ ادب بھی بتلایا ہے کہ جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں تو سلام کریں، یہ باہمی محبت والفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

ایک دوسرے کو سلام کرنا ایک اسلامی شعار ہے، جو آپس میں محبت پیدا کرکے بہت سی معاشرتی بیماریوں کو ختم کر دیتا ہے، سلام اظہار محبت و مودت اور رقت قلبی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ سے غیظ وغضب سے بھرپور آنکھیں شرمگیں اور دشمن کا آہنی دل بہت جلد موم ہو جاتا ہے۔

مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ﷺ نے جو سب سے پہلا خطبہ ارشاد فرمایا ، اس میں تین باتوں کا خاص اہتمام فرمایا، جن میں سب سے پہلے سلام کو رواج دینا ہے کہ جس سے بھی ملاقات ہو اس کو سلام کیا جائے، چاہے جان پہچان کا ہو یانہ ہو، ہر ایک کو سلام کرے، اس سے آپس میں محبت اور تعلق پیدا ہوتا ہےیہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں اس کی فضیلت واہمیت پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے رواج پر جنت میں داخلہ کی بشارت بھی سنائی گئی ہے۔

سلام کے معا نی

سلام سے مراد دراصل سلامتی ، امن اور عا فیت ہے ۔ سلامتی میں انسان کی ساری زندگی اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں ۔راغب اصفہانی نے المفردات میں لکھا ہے :

السلام التعري من الآفات الظاهرة والباطنة یعنی ظاہری اور باطنی آفات و مصائب سے محفوظ رہنا

پس جب ہم کسی کو "اسلام علیکم " کہتے ہیں تو اس کا یہ معنی ہوتا ہے کہ "تم جسمانی ، ذہنی اور روحا نی طور پر عافیت میں رہو "تمہاری دنیا اور آخرت کی زندگی کے تمام معمولات اور انجام ،امن اور عافیت والے ہوں ۔

جیسا کہ کہا گیا ہے کہ "سلام" خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا مطلب ہے عیب اور نقصان سے حفاظت، پس جو شخص سلام بھیجتا ہے وہ درحقیقت دوسرے کے عیب اور نقصان سے محفوظ رہنے کی خواہش کرتا ہے۔

سلام کرنے کے آداب​

گفتگو شروع کرنے سے پہلے سلام کریں

اضافہ کے ساتھ سلام کا جواب دیں

چھوٹا بڑے کو سلام کرے ، گذرنے والا بیٹھے ہوئے کو ، سوار پیدل چلنے والے کو،پیدل چلنے والا کھڑے ہوئے کو سلام کرے

جب گھر ایسی حالت میں آئے کہ سب سو رہے ہوں تو آہستہ آواز میں اس قدر سلام کریں کہ سونے والوں کو کوئی دقت نا ہواور جاگنے والے سن بھی لیں

جب کسی کوسلام پہونچانے کی وصیت کی جائے تو وہ اس کو پورا کرو ، اور جن کو سلام کا پیغام بھیجا گیا ہو وہ اس طرح سے جواب دیں:[علیک وعلیہ السلام]اگر سلام بھجنے والی خاتون ہیں تو انہیں اس طرح جواب دیں [علیک وعلیھا السلام]

قضائے حاجت کے وقت سلام کا جواب نا دیا جائے

سلام میں پہل کرنے والا جواب دینے والے سے افضل ہے

گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اہل خانہ کو سلام کریں

سلام کرتے اور سلام کا جواب دیتے ہوئے مسکرانا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے

یاد رہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے جبکہ سلام کرنا سنت ہے

سلام کرنے کے فوائد​

آپس میں محبت پیدا ہوگی

جنت میں داخلہ کا سبب ہے

سلام کرنا حسن تعامل کی علامت ہے اس سے لوگوں کاآپسی حق ادا ہوتا ہے

اس سے تواضع پسندی عیاں ہوتی ہے

سلام گناہوں کے بخشش کا ذریعہ ہے

قرآن کریم میں سلام کرنے کا بیان

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ بُیُوۡتِکُمۡ حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ [1]
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو

اذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ [2]
جب وہ (فرشتے) اُن کے پاس آئے تو انہوں نے سلام پیش کیا، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواباً) سلام کہا، (ساتھ ہی دل میں سوچنے لگے کہ) یہ اجنبی لوگ ہیں۔

اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا [3]
انہی لوگوں کو (جنت میں) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔

فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً [4]
جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے ۔

وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ [5]
اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں تو آپ (ان سے شفقتًا) فرمائیں کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات (کے ذمّہ کرم) پر رحمت لازم کرلی ہے

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡھَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا [6]
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر سلام کرو، یا انہی الفاظ سے جواب دو، اللہ یقینا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡن [7]
پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیں ۔ ( اچھا بھائی ) سلام! انہیں عنقریب ( خود ہی ) معلوم ہو جائے گا ۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ [8]
اور اپنے رب سے ڈرنے والوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو،تم پاکیزہ رہے تو ہمیشہ رہنے کوجنت میں جاؤ۔

سَلٰمٌ ۟ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ [9]
(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا۔

سَلٰمٌ عَلٰی نُوۡحٍ فِی الۡعٰلَمِیۡنَ [10]
سلام ہو نوح پر سب جہانوں میں

قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ [11]
فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں، اور (آئندہ پھر) کچھ طبقے ایسے ہوں گے جنہیں ہم (دنیوی نعمتوں سے) بہرہ یاب فرمائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب آپہنچے گا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا [12]
اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا

سَلَامٌ عَلٰى مُوْسٰى وَهَارُوْنَ [13]
کہ موسٰی اور ہارون پر سلام ہو۔

سَلَامٌ عَلٰٓى اِلْ يَاسِيْنَ [14]
کہ ال یاسین پر سلام ہو

وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ [15]
اور رسولوں پر سلام ہو۔

اِنَّ اللّـٰهَ وَمَلَآئِكَـتَهٝ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا [16]
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔

اَلَّـذِيْنَ تَـتَوَفَّاهُـمُ الْمَلَآئِكَـةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّـةَ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ [17]
جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ پاک ہیں، فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو بہشت میں داخل ہوجاؤ بسبب ان کاموں کے جو تم کرتے تھے۔

قُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّـذِيْنَ اصْطَفٰى ۗ آللَّـهُ خَيْـرٌ اَمَّا يُشْرِكُـوْنَ [18]
کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے، بھلا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک بناتے ہیں۔

تَحِيَّتُهُـمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٝ سَلَامٌ ۚ وَّاَعَدَّ لَـهُـمْ اَجْرًا كَرِيْمًا [19]
جس دن وہ اس سے ملیں گے ان کے لیے سلام کا تحفہ ہوگا، اور ان کے لیے عزت کا اجر تیار کر رکھا ہے۔

روایات میں سلام کرنے کا بیان

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
فاذا دخلت بیتک فسلم علیہم یکثر خیرک [20]
جب تم اپنے گھر میں داخل ہو جاؤ تو گھر والوں پر سلام کرو تمہاری بھلائی میں اضافہ ہو گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
مَنْ لَقِىَ عَشَرَةً مِنَ الْمُسْلِمينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ كَتَبَ اللّهُ لَهُ عِتْقَ رَقَبَةٍ [21]
جو شخص دس مسلمانوں سے ملے اور ان کو سلام کرے اللہ تعالیٰ اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا سَلَّمَ الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ فَرَدَّ عَلَيْهِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ سَبْعِينَ مَرَّةً [22]
جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرتا ہے اور وہ جواب دیتا ہے تو فرشتے اس پر ستر مرتبہ سلام بھیجتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
وَالَّذى نَفْسى بِيَدِهِ لاتَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّى تُؤْمِنُوا، وَلاتُؤْمِنُونَ حَتّى تَحابُّوا، اَفَلا اَدُلُّكُمْ عَلى عَمَلٍ اِذا عَمِلْتُمُوهُ تَحابَبْتُمْ؟ قالُوا: بَلى يا رَسُولَ اللّهِ، قالَ: اَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ [23]
اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف رہنمائی کروں کہ جب تم اسے کرو گے تو تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ کہا: ہاں یا رسول اللہ ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سلام کرنے کو آپس میں پھیلاؤ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خَيْرُكُمْ مَنْ اَطْعَمَ الطَّعامَ، وَاَفْشَى السَّلامَ وَ صَلّى وَالنّاسُ نِيامٌ [24]
تم میں سے بہتر وہ ہے جو کھانا کھلائے، سب کو سلام کرے اور رات کو اس وقت نماز پڑھے جب لوگ آرام کر رہے ہوں (یعنی نماز شب پڑھے)۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلسَّلامُ مِنْ اَسْماءِ اللّهِ فَاَفْشُوهُ بَيْنَكُمْ، فَاِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ اِذا مَرَّبِالْقَوْمِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَاِنْ لَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ يَرُدُّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَاَطْيَبُ [25]
سلام خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے، لہٰذا اسے آپس میں پھیلاؤ، جب کوئی مسلمان کسی گروہ کے پاس پہنچتا ہے اور انہیں سلام کرتا ہے، اگر وہ جواب نہیں دیتے تو ان سے بہتر اور پاکیزہ (یعنی فرشتے) جواب دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَنَّ لِلْمُسْلِمِ عَلى اَخيهِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتّا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ اِذا لَقِيَهُ۔۔۔ [26]
ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے ملاقات کے وقت اسے سلام کرے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلا اُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ اَخْلاقِ اَهْلِ الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ ؟ قالُوا : بَلى يا رَسُولَ اللّهِ ، فَقالَ : اِفْشاءُ السَّلامِ فِى الْعالَمِ [27]
کیا آپ پسند کریں گے کہ میں آپ کو دنیا اور آخرت کے لوگوں کے بہترین اخلاق بتاؤں؟ کہا: ہاں یا رسول اللہﷺ ، فرمایا: ان کا بہترین اخلاق دونوں جہانوں میں سلام کو پھیلانا ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ فِى الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظاهِرُها مِنْ باطِنِها، وباطِنُها مِنْ ظاهِرِها، يَسْكُنُها مِنْ اُمَّتِى مَنْ اَطابَ الْكَلامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعامَ، وَاَفْشَى السَّلامَ، وَصَلّى بِاللَّيْلِ وَالنّاسُ نِيامٌ، ثُمَّ قالَ: اِفْشاءُ السَّلامِ اَنْ لايَبْخَلَ بِالسَّلامِ عَلى اَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمينَ [28]
جنت میں ایسے محلات اور کمرے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے ، میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو پاکیزہ بات کریں گے، سلام کریں گے اور رات کو اس وقت نماز شب پڑھیں گے جب لوگ سو رہے ہوں گے۔ پھر فرمایا: سلام کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو سلام کرنے میں بخل نہیں کریں گے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا تَلاقَيْتُمْ فَتَلاقُوا بِالتَّسْلِيمِ وَالتَّصافُحِ وَاِذا تَفَرَّقْتُمْ فَتَفَرَّقُوا بِالاْءسْتِغْفارِ [29]
جب تم ملو تو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور جب الگ ہو جاؤ تو ایک دوسرے کے لیے استغفار کرو۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
يا اَ نَسُ! سَلِّمْ عَلى مَنْ لَقيتَ، يَزيدُ اللّهُ فِى حَسَناتِكَ، وَ سَلِّمْ فِى بَيْتِكَ يَزيدُ اللّهُ فِى بَرَكَتِكَ [30]
اے انسان! گھر سے باہر ہر ملنے والے کو سلام کریں کیونکہ اس سے آپ کے نیک اعمال اور اجر میں اضافہ ہوگا اور جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوں تو سب کو سلام کریں، اللہ آپ کو بھلائی اور برکت عطا کرے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا دَخَلَ اَحَدُكُمْ بَيْتَهُ فَلْيُسَلِّمْ فَاِنَّهُ يُنْزِلُهُ الْبَرَكَةَ، وَتُؤْنِسُهُ الْمَلائِكَةَ [31]
تم میں سے ہر ایک دوسرے کو سلام کرے جب وہ اپنے گھر میں داخل ہو، کیونکہ سلام کرنے سے رحمت، مہربانی اور فرشتوں کی محبت نازل ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتَكُمْ فَسَلِّمُوا عَلى اَهْلِها فَاِنَّ الشَّيْطانَ اِذا سَلَّمَ اَحَدُكُمْ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُ فِى بَيْتِهِ [32]
جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو، کیونکہ ایسا کرنے سے شیطان گھر میں داخل نہیں ہوتا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِذا قـامَ الرَّجُـلُ مِـنْ مَجْـلِسِهِ فَـليُوَدِّعْ اِخْـوانَهُ بِالسَّـلامِ، فَـاِنْ اَفاضُوا فِى خَيْرٍ كانَ شَريكَهُمْ وَاِنْ اَفاضُوا فِى باطِلٍ كانَ عَلَيْـهِمْ دُونَهُ [33]
جب کوئی کسی محفل سے اٹھے تو اپنے بھائیوں کو سلام کے ساتھ الوداع کرے کیونکہ اس صورت میں اگر انہیں خیر پہنچے گا تو وہ ان کا شریک ہو گا اور اگر نقصان پہنچے تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
... تَحِيَّةُ اَهْلِ الْجَنَّةِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ [34]
اہل جنت کا سلام "السلام علیکم" ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَطْوَعُكُمْ لِلّهِ اَلَّذى يَبْدَأُ صاحِبَهُ بِالسَّلامِ [35]
تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ فرمانبردار وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلْبادى بِالسَّلامِ بَرِئٌ مِنَ الْكِبْرِ [36]
سلام کرنے میں پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
يُسَلِّمِ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبيرِ، وَيُسَلِّمِ الْواحِدُ عَلَى الاْثْنَيْنِ، وَيُسَلِّمِ الْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ، وَيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الْماشى، وَيُسَلِّمِ الْمارُّ عَلَى الْقائِمِ وَ يُسَلِّمِ الْقائِمُ عَلَى الْقاعِدِ [37]
چھوٹے کو بڑے پر سلام کرنا چاہیے۔ ایک شخص کو دو لوگوں پر سلام کرنا چاہیے۔ تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں پر سلام کرنا چاہیے۔ سوار پیدل چلنے والے پر سلام کرے ۔ راہ گیر کھڑے ہوئے شخص پر سلام کرے اور جو کھڑا ہو اسے بیٹھے ہوئے پر سلام کرنا چاہیے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لا غِرارَ فِى الصَّلاةِ وَلاالتَّسْليمِ [38]
نماز اور سلام کرنے میں کوئی تاخیر یا جلدبازی نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلسِّلامُ تَطَوُّعٌ وَالرَّدُّ فَرِيضَةٌ [39]
سلام کرنا مستحب ہے اور جواب دینا واجب ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اَعْـجَزَ النّـاسِ مَـنْ عَجَـزَ مِنَ الدُّعاءِ وَاِنَّ اَبْخَلَ النّاسِ مَنْ بَخِـلَ بِالسَّـلامِ [40]
لوگوں میں سب سے زیادہ بے بس وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجز ہو اور سب سے زیادہ کنجوس وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَلْمَلائِكَةُ تُعَجِّبُ مِنَ الْمُسْلِمِ يَمُرُّ عَلَى الْمُسْلِمِ فَلايُسَلِّمُ عَلَيْهِ [41]
جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے پاس سے گزرتا ہے اور اسے سلام نہیں کرتا تو فرشتے اس مسلمان پر تعجب کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خمْسٌ لا اَدَعُهُنَّ حَتَّى الْمَماتِ: ... وَالتَّسْلِيمَ عَلَى الصِّبْيانِ لِتَكُونَ سُنَّةً مِنْ بَعْدِى [42]
میں آخری دم تک پانچ چیزوں کو ترک نہیں کروں گا: ... ان میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا ہے تاکہ میرے بعد یہ سنت قائم ہو جائے ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
السَّلَامُ تَطَوُّعٌ وَ الرَّدُّ فَرِیضَۃٌ [43]
سلام کرنا مستحب ہے اور جواب واجب ہے۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
لِلسَّلامِ سَبْعُونَ حَسَنَةٌ، تِسْعَةٌ وَ سِتُّونَ لِلْمُبْتَدى وَواحِدَةٌ لِلرّادِّ [44]
سلام کی ستر نیکیاں ہیں، ان میں سے انہتر نیکیاں سلام کرنے والے کے لیے ہیں اور صرف ایک نیکی جواب دینے والے کے لیے ہے۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
اِذا دَخَلَ اَحَدُكُمْ مَنْزِلَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلى اَهْلِهِ، يَقُولُ: اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَاِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ اَهْلٌ فَلْيَقُل: اَلسَّلامُ عَلَيْنا مِنْ رَبِّنا [45]
جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرے اور کہے: السلام علیکم ، اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو وہ کہے: " اَلسَّلامُ عَلَيْنا مِنْ رَبِّنا " (ہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو)۔

امام علی ؑ نے فرمایا :
لِكُلِّ داخِلٍ دِهْشَةٌ فَابْدَئُوا بِالسَّلامِ [46]
ہر نیا آنے والا ایک قسم کا خوف محسوس کرتا ہے، اس لیے سلام کے ساتھ ابتدا کریں۔

امام حسین ؑ نے فرمایا :
كَيْفَ اَنْتَ عافاكَ اللّهُ؟ فَقالَ عليه السلام لَهُ: اَلسَّلامُ قَبْلَ الكَلامِ عافاكَ اللّهُ، ثُمَّ قالَ عليه السلام : لاتَأذَنُوا لاِحَدٍ حتّى يُسَلِّمَ [47]
ایک شخص نے امام حسین ؑ سے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے ، آپ کیسے ہیں؟ ۔ امام نے فرمایا: اللہ آپ کو عافیت دے پہلے سلام، پھر کلام ۔ اور فرمایا: کسی کو اس وقت تک کلام کی یا داخلہ کی اجازت نہ دیں جب تک کہ وہ سلام نہ کرے۔

امام باقر ؑ نے فرمایا :
اِنَّ اللّهَ يُحِبُّ اِطْعامَ الطَّعامِ وَاِفْشاءَ السَّلامِ [48]
خدا تعالی دوسروں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنے کو رواج دینے کو پسند کرتا ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِنَّ مِنْ مُوجِباتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلامِ وَحُسْنُ الْكَلامِ [49]
انسان کی بخشش کا باعث بننے والے عوامل میں سے ایک سلام کرنا اور اچھی گفتگو کرنا ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
جَمَعَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله بَنِى عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقالَ: يا بَنى عَبْدِالْمُطَّلِبِ اَفْشُوا السَّلامَ وَصِلُوا الاْرْحامَ، وَتَهَجَّدُوا وَالنّاسُ نيامٌ، وَاَطْعِموُا الطَّعامَ، وَاَطِيبُوا الْكَلامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلامٍ [50]
رسول اللہ ﷺ نے عبدالمطلب کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا: اے عبدالمطلب کے بیٹو! سلام کو عام کرو ، رشتہ داریاں قائم رکھو، اور لوگ جب سو رہے ہوں تو عبادت کرو ، انہیں کھانا کھلاؤ، پاکیزہ گفتگو کرو تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اَلْبادِى بِالسَّلامِ اَوْلى بِاللّهِ وَبِرَسُولِهِ [51]
سلام کی ابتدا کرنے والا خدا اور اس کے رسول سے زیادہ قریب ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اَذا سَلَّمَ اَحَدُكُمْ فَلْيَجْهَرْ بِسلامِهِ وَلايَقُولُ: سَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ وَلَعَلَّهُ يَكُونُ قَدْ سَلَّمَ وَلَمْ يُسْمِعْهُمْ، فَاِذا رَدَّ اَحَدُكُمْ فَلْيَجْهَرْ بِرَدِّهِ وَلايَقُولُ الْمُسْلِمُ: سَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ [52]
جب تم میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو اسے بلند آواز سے سلام کرو اور یہ نہ کہو کہ میں نے تمہیں سلام کیا اور تم نے جواب نہیں دیا۔ شاید اس نے سلام کہا لیکن سنا نہیں گیا۔ اور جب کوئی سلام کا جواب دے تو بلند آواز سے جواب دو تاکہ سلام کرنے والا یہ نہ کہے کہ میں نے تمہیں سلام کیا اور آپ نے جواب نہیں دیا۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِنَّ مِنَ التَّواضُعِ اَنْ يَرْضَى الرَّجُلُ بِالْمجْلِسِ دُونَ الْمَجْلِسِ،وَاَنْ يُسَلِّمَ عَلى مَنْ يَلْقى ... [53]
عاجزی کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان مجلس کے آخر میں بیٹھے اور ہر آنے والے کو سلام کرے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
ثَلاثَةٌ لايُسَلِّمُونَ: اَلْماشى مَعَ الْجَنازَةِ وَالْماشى اِلى الْجُمُعَةِ وَ فِى بَيْتِ حَمّامٍ [54]
تین آدمیوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا ضروری نہیں:
1جنازہ کے ساتھ جانے والا شخص۔
2 نماز جمعہ کے لیے جانے والا۔
3 وہ شخص جو غسل خانے میں ہے۔

امام صادق ؑ نے فرمایا :
اِذا سَلَّمَ مِنَ الْقَوْمِ واحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ وَاِذارَدَّ واحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ [55]
جب آپ کسی گروپ میں ہوتے ہیں تو ایک شخص کا آپ کو سلام کرنا کافی ہوتا ہے اور گروپ میں ایک شخص کا جواب دینا کافی ہوتا ہے۔

نتیجہ
یہ مذکورہ تمام وہ آداب ہیں جوروایات سے ثابت ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے آداب ہیں، سلام کرتے وقت جن کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی کام میں مشغول ہو اور یہ اندازہ ہو کہ سلام کرنے سے اس کے کام میں خلل واقع ہو گا تو ایسی صورت میں اس کو سلام کرنا درست نہیں، بلکہ اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے، مثلاً کوئی آدمی نماز میں مشغول ہے یا ذکر کر رہا ہے یا وعظ ونصحیت میں مشغول ہے یا خطبہ وتقریر سن رہا ہے یا قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے یا اذان دے رہا ہے یا قاضی ومفتی کسی فیصلے یا مسئلہ بتانے میں مشغول ہے یا کھانے پینے میں مصروف ہے یا قضائے حاجت یا پیشاب کرنے میں مشغول ہے یا غسل خانہ میں ہے، یا وضو کر رہا ہے یا دعا مانگ رہا ہے یا اسی طرح کسی اور کام میں مصروف ہے تو ایسے آدمی کو سلام کرنا مکروہ ہے، اگر کوئی اس حالت میں ان لوگوں کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں۔
مذکورہ روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا طرز عمل تمام امت کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، جو سلام کرنے والے کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سلام کرتے وقت اپنے مخاطب کے حالات کی رعایت رکھنا انتہائی ضروری ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس شعار دین کو زیادہ سے زیادہ رواج دے کربار گاہ ایزدی میں تقرب حاصل کرے۔
ایک دوسرے سے ملتے وقت سلام کرنا انتہائی خوبصوت انداز ہے جس کی تعلیم دین مقدس اسلام نے دی ہے۔ معاشرے میں سلام کر پرچار کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے خصوصا آج کے معاشروں میں جہاں سلام کرنے کا رواج کم ہوتا جارہا ہے۔ سب سے بہترین طریقہ اس مورد میں خود کا سلام میں پہل کرنا اور بلند آواز سے سلام کرنا ہے، تاکہ دوسرے صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے سیکھے۔

[1] ۔ نور/27
[2] ۔ الذاریات/ 25
[3] ۔ فرقان/ 75
[4] ۔ نور/61
[5] ۔ انعام/ 54
[6] ۔ نساء/ 86
[7] ۔ زخرف/ 89
[8] ۔ زمر/ 73
[9] ۔ یٰس/ 58
[10] ۔ صافات / 79
[11] ۔ هود / 48
[12] ۔ مريم / 33
[13] ۔ صافات / 120
[14] ۔ صافات/ 130
[15] ۔ صافات / 181
[16] ۔ احزاب / 56
[17] ۔ النحل/ 32
[18] ۔ ٰنمل / 59
[19] ۔ احزاب / 44
[20] ۔ عوالی للالی ۲:۱۳۵
[21] ۔ بحار ، ج 76، ص 4
[22] ۔ محجه البيضاء، ج 3، ص 382
[23] ۔ محجة البيضاء، ج 4، ص 382
[24]۔ همان، ص 3
[25] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[26] ۔ همان، ص 5
[27] ۔ همان، ص 12
[28] ۔ همان، ص 2
[29] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 5
[30] ۔ همان، ص 3
[31] ۔ همان، ص 7
[32] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 382
[33] ۔ بحارالأنوار،ج76، ص9
[34] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 6
[35] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 536، شماره 8846
[36] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 536، شماره 8848
[37] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 538، شماره 8857
[38] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 6
[39] ۔ ميزان الحكمة، ج4، ص 537، شماره 8854
[40] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص4
[41] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 382
[42] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[43] ۔ اصول الکافی ۲:۶۴۴
[44] ۔ همان، ص 11
[45] ۔ همان، ص 4
[46] ۔ ميزان الحكمة، ج 4، ص 526، شماره 7750
[47] ۔تحف العقول 246، موسوعة كلمات الامام الحسين عليه السلام 750/913
[48]۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[49] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 11
[50] ۔ بحارالأنوار، ج 76، ص 10
[51] ۔ همان، ص 1 .
[52] ۔محجّة البيضاء، ج 3، ص 384
[53] ۔ همان، ص 6 .
[54] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 385 .
[55] ۔ محجّة البيضاء، ج 3، ص 385 .

 زکات فطرہ کے انفرادی اور معاشرتی اثرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زکات فطرہ کے انفرادی اور معاشرتی اثرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسد عباس اسدی

مقدمه

دینِ اسلام کا کمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق کائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کے ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’ زکو ٰۃ ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکو ٰۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکو ٰۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔

ادائیگی زکو ٰۃ دین اسلام کا اہم ترین حکم ہے ۔ زکو ٰۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد، اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ہیں ۔

جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر ہے ۔ اور جو شخص زکات کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا،جس کی وضاحت سورہ توبہ کی آیت 34۔35 میں موجود ہے ۔

زکوٰۃ ایک اہم ترین فریضہ ہے جسے نماز اور جہاد کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور یہ دین کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔

زکات کا مفہوم

زکوٰۃ لفظ "زکو" سے ماخوذ ہے اور اس کے لغوی معنی نشوونما کے ہیں[1]، تزکیہ، نیکی اور تقویٰ [2] اور حمد و ثناء ہے [3]۔

اور اس کا اصل معنی خدائی نعمتوں سے حاصل ہونے والا اضافہ ہے جو دنیاوی معاملات میں استعمال ہوتا ہے اور آخرت کا اجر رکھتا ہے [4]۔

فقہی اصطلاح میں اس سے مراد صدقہ اور ایک خدائی حق ہے جو مخصوص شرائط کے ساتھ مال کی ایک خاص مقدار تک پہنچنے پر ادا کیا جاتا ہے[5]، اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ‏ وَ تُزَکِّیهِمْ بِها [6]

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں ۔

اهمیت زکات

زکوٰۃ کی اہمیت اس قدر ہے کہ قرآن مجید میں نماز کے ساتھ اس کا ذکر ہے اور دعا کی قبولیت زکوٰۃ کی ادائیگی سے مشروط ہے۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور فرمایا ہے:

‌أَقِیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ‌‌ [7]۔

پس وہ شخص جو نماز قائم کرتا ہے لیکن زکوٰۃ نہیں دیتا،گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں ہے [8]۔

قرآن نے زکوٰۃ کی ادائیگی کو سعادت کا سبب اور کامیاب مومنین کی خصوصیت قرار دیا ہے:

وَ الَّذینَ هُمْ لِلزَّکاةِ فاعِلُون [9]

زکوٰۃ اللہ کی رحمت کے حصول کی بنیاد ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

وَ رَحْمَتی‏ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ‏ءٍ فَسَأَکْتُبُها لِلَّذینَ یَتَّقُونَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ الَّذینَ هُمْ بِآیاتِنا یُؤْمِنُونَ [10]

اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے، اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں

زکوٰۃ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے، اسی لیے قرآن مشرکین کے بارے میں کہتا ہے:

فَإِنْ تابُوا وَ أَقامُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّکاةَ فَإِخْوانُکُمْ فِی الدِّینِ،[11]

لیکن اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں ۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

بنی الاسلام علی خمسة اشیاء : علی الصلاة و الزکاة والحج والصوم والولایة[12]

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے ۔ نماز ، زکات ، حج ، روزہ اور ولایت

امیر المومنین علی علیہ السلام نے بھی زکوٰۃ کو خدا کا قرب، گناہوں کا کفارہ اور آگ سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا اور فرمایا:

یقیناً زکوٰۃ ادا کرنا اور نماز پڑھنا ایسے عوامل ہیں جو مسلمانوں کو خدا کے قریب کرتے ہیں، لہٰذا جو شخص اطمینان قلب کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا ہے، یہ اس کے گناہوں کا کفارہ اور جہنم کی آگ سے انسان کی حفاظت کرتی ہے، جو شخص خوشی سے زکوٰۃ ادا نہیں دیتا وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آل کی سنت سے غافل ہے، اس کا ثواب کم ہوگا، اس کے اعمال برباد ہوں گے اور وہ ہمیشہ پشیمان رہے گا۔[13]

زکات فطرہ کے ادا کرنے کا فلسفه

درحقیقت جن لوگوں کو روزے کی توفیق نصیب ہوئی ہے اور وہ ایک مہینے کے لیے خدا کے مہمان ہیں، وہ اس بابرکت مہینے کی کامیابی کے شکرانے کے طور پر عید الفطر کے موقع پر بندگی پروردگار کا جشن منانا چاہتے ہیں تو اس جشن میں اپنے غریب بھائیوں کو بھی شریک کریں ۔

اس لیے زکات فطرہ کی ادائیگی کی ایک اہم ترین حکمت یہ ہے کہ غریبوں، محروموں اور مظلوموں کی انتہائی احترام کے ساتھ اس طرح مدد کی جائے کہ ان کے انسانی وقار کو محفوظ رکھا جائے، تاکہ اس کے ذریعے وہ لوگ جن کی کمر مشکل معاشی حالات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، یا معذور اور بوڑھے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

زکات فطرہ کے اثرات

الٰہی فرائض مصالح انسانی کے مطابق ہیں ، زکوٰۃ کا حکم بھی اسی طرح ہے اور زکوٰۃ کے انفرادی، سماجی اور اقتصادی اثرات اور برکات دینے والے اور لینے والے دونوں پر مرتب ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

الف) انفرادی اثرات

1۔ روح کی طهارت

قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَکِّیهِمْ بِها [14]

ان کے اموال میں سے صدقہ لے لو، تاکہ تم اس سے ان کو پاک و پاکیزہ کرو ۔

رذایل نفسانی میں سے ایک، خرچ کرنے میں بخل ،اور مال جمع کرنے میں حرص ہے،قرآن نے ان برائیوں کا تذکرہ صفت «بخل» و «شُحّ» سے کیا ہے،بعض روایات کے مطابق «شحّ» بخل سے زیادہ سخت ہے۔

بخیل یہ ہے جو کچھ اپنے پاس ہے اسے روک لے،لیکن «شحّ» شخص دوسروں کے مال میں بھی بخل کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دیکھتا ہے حاصل کرنا چاہتا ہے،چاہے وہ حلال ہو یا ناجائز، وہ کبھی بھی اس سے مطمئن نہیں ہوتا جو خدا نے اس کے لیے دیا ہے[15]۔

زکوٰۃ کی ادائیگی انسان کو مادی لگن سے آزاد کرتی ہے اور اس کی روح کو ان برائیوں سے پاک کرتی ہے، لہٰذا، قرآن پاک ان لوگوں کو ممتاز کرتا ہے جو اپنی جائیداد میں فقیر اور محروم کے لیے ایک مخصوص حق کو پہچانتے ہیں اور ادا کرتے ہیں [16]۔

گناہوں کی بخشش

زکوٰۃ کے آثار میں سے ایک اثر یہ ہے کہ اس کے ادا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش دی جاتی ہے اور وہ گناہوں اور پلیدگیوں سے پاک ہو جاتے ہیں،جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

الزَّکَاةُ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ [17]۔

زکات گناہوں کو ختم کر دیتی ہے

امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ أَعْطَاهَا طَیِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ کَفَّارَةً [18]

جو شخص رضائے خدا کیلئے زکوٰۃ ادا کرے گا، اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔

3۔تقرب الهی

زکوٰۃ کی ادائیگی حکومتوں کے عائد کردہ ٹیکسوں کی طرح نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک حقیقت عبادی ہے جو ایمان اور یقین کی روح سے پیدا ہوتی ہے اور زکوٰۃ دینے والا خدا کی خوشنودی اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین علی ؑ نے زکوٰۃ کو مسلمانوں کیلئے تقرب خدا کا ذریعہ قرار دیا ہے:

إِنَّ الزَّكَاةَ جُعِلَتْ مَعَ الصَّلَاةِ قُرْبَاناً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَمَنْ أَعْطَاهَا طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ كَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارِ حِجَازاً وَ وِقَايَةً؛ فَلَا يُتْبِعَنَّهَا أَحَدٌ نَفْسَهُ وَ لَا يُكْثِرَنَّ عَلَيْهَا لَهَفَهُ، فَإِنَّ مَنْ أَعْطَاهَا غَيْرَ طَيِّبِ النَّفْسِ بِهَا يَرْجُو بِهَا مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهَا، فَهُوَ جَاهِلٌ بِالسُّنَّةِ، مَغْبُونُ الْأَجْرِ، ضَالُّ الْعَمَلِ، طَوِيلُ النَّدَمِ. [19]

اس نے نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو بھی مسلمانوں کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بنایا۔ جو شخص خوشی سے اور قناعت کے ساتھ زکوٰۃ دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے اور اسے جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رکھے گا۔ لہٰذا زکوٰۃ دینے والے کو ہمیشہ اس کا خیال نہیں رکھنا چاہیے اور ادا کرنے پر پشیمان نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ جو شخص زکوٰۃ دیتا ہے لیکن نیک دل اور اطمینان قلب کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے اس امید کے ساتھ کہ اس کو اس سے بہتر کچھ ملے گا جو اس نے دیا ہے، ایسا شخص سنت نبوی سے ناواقف ہے اور اس نے ثواب میں کمی کی ہے۔ وہ اپنا غصہ کھو دے گا اور اپنے کیے پر پشیمان ہو گا۔

4 ۔ عذاب سے استثنیٰ

امیر المومنین علی ؑ نے فرمایا:

فَمَنْ أَعْطَاهَا طَیِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ کَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارحِجَازاً وَ وِقَایَةً

جو شخص اسے خوش دلی سے رضائے پروردگار کیلئے دے گا، یہ اس کے لیے کفارہ اور آگ سے حفاظت ہے [20]

اطمینان

غربت کا شکار شخص روزی کمانے کے بارے میں بے چینی اور خوف کا شکار ہوتا ہے، بنیادی ضروریات سے محرومی عام طور پر عبادت، خدمت اورالہی فرائض کے حصول کو مشکل بنا دیتی ہے ،ایسی صورت میں زکوٰۃ ان کی مادی ضروریات کو پورا کر کے ان سے پریشانیاں اور ان کی روحانی تکالیف کو دور کر کے انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اظہار تشکر کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:

فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ هذَا الْبَیْتِ الَّذی أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَ آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ [21]

وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا، اور خوف اور عدم تحفظ سے محفوظ رکھا۔

6 ۔ صحت کی ضمانت

ہمارے ہاں احادیث موجود ہیں کہ زکات فطرہ دینے سے اس سال موت سے بچا جا سکتا ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق ؑ کی ایک روایت میں ہے:

عَنْ مُعَتِّبٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ: اذْهَبْ فَأَعْطِ عَنْ عِیَالِنَا الْفِطْرَةَ- وَ عَنِ الرَّقِیقِ وَ اجْمَعْهُمْ وَ لَا تَدَعْ مِنْهُمْ أَحَداً- فَإِنَّکَ إِنْ تَرَکْتَ مِنْهُمْ إِنْسَاناً تَخَوَّفْتُ عَلَیْهِ الْفَوْتَ- قُلْتُ وَ مَا الْفَوْتُ قَالَ الْمَوْتُ[22]

امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کروں اور ان سب کا خیال رکھوں اور ان میں سے کسی کو بھی نہ بھولنا کیونکہ اگر تم ان میں سے کسی کو چھوڑ دو گے تو مجھے ان کی موت کا اندیشہ ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ فوت سےآپ کی کیا مراد ہے ؟ آپؑ نے فرمایا: موت۔

لہٰذا زکوٰت فطرہ کی ادائیگی کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ صحت وسلامتی کی ضمانت ہے۔

ب. آثار اقتصادی

1. دولت میں اضافہ

اگرچہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ظاہری طور پر مال میں کمی نظر آتی ہے، لیکن مادی تصورات کے برعکس یہ دولت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:

وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ [23]

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اللہ اس کا بدلہ دے گا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ایک خطبہ میں فرمایا:

‌فَفَرَضَ اللَّهُ الْإِیمَانَ تَطْهِیراً مِنَ الشِّرک وَ الصَّلَاةَ تَنْزِیهاً عَنِ الْکِبْرِ وَ الزَّکَاةَ زِیَادَةً فِی الرِّزْقِ [24]

اللہ تعالیٰ نے ایمان کو واجب کیا تاکہ دلوں کو شرک سے پاک کرے اور زکوٰۃ کو بیماری سے پاک کرنے کے لیے فرض کیا ہے۔

کسی نے امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا ، خدا اس چیز کو لوٹاتا ہے جو ہم خرچ کرتے ہیں؟ تو میں جو کچھ بھی خرچ کرتا ہوں اسے کیوں نہیں لوٹایا جاتا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا: نہیں، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: پھر ایسا کیوں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں نہیں جانتا۔ امام ؑ نے فرمایا: "اگر تم میں سے کوئی حلال مال کمائے اور اسے حلال طریقے سے خرچ کرے تو وہ ایک درہم بھی خرچ نہیں کرتاجب تک کہ خدا اسے اس کا اجر نہ دے دے[25]۔

دولت کی ایڈجسٹمنٹ

اسلامی معاشیات کے مقاصد میں سے ایک معاشرے میں دولت کا بہاؤ اور دولت مندوں کے ہاتھوں میں اس کا ارتکاز ہے۔ زکوٰۃ کے آٹھ استعمال بتا کر قرآن کریم نے مال کی تقسیم کے لیے اپنے عملی منصوبے کی ایک خوبصورت مثال ظاہر کی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت واضح ہو جاتا ہے جب ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ کی اشیاء میں سے ایک سونے اور چاندی کے سکّے ہیں، جو معیشت اور دولت میں اثرانداز ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ تجارتی سرمائے پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا مستحب ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

وَ الَّذینَ یَکْنِزُونَ‏ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَها فی‏ سَبیلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلیمٍ [26]

اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی نوید سنا دو ۔

غربت کا خاتمہ

بعض روایات میں زکوٰۃ کے وجوب کا مقصد غربت کا خاتمہ بتایا گیا ہے، یحیی بن سعید کہتے ہیں:

عمر بن عبدالعزیز نے مجھے زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے افریقہ بھیجا ، زکوٰۃ جمع کرنے کے بعد مجھے کوئی فقیر نہ ملا جسے میں زکات دے سکتا، اس لیے میں نے غلام خریدے اور انہیں آزاد کر دیا۔

غریبوں کی یہ کمی غربت کے خاتمے میں زکوٰۃ کے کردار کی نشاندہی کرتی ہے، امیر المومنین علی ؑ مالک اشتر کو اپنے ایک حکم نامہ میں بیت المال میں ضرورت مندوں کا حصہ یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:

خدارا خدارا، معاشرے کے ان نچلے اور محروم طبقوں کا خیال کریں جن کے پاس کچھ نہیں ، بے زمینوں، محتاجوں، مصیبت زدوں اور مصائب میں گھرے افراد کا خدا کیلئے خیال رکھیں ، اس محروم طبقے میں کچھ لوگ تنگ دست ہیں اورکچھ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، اس لیے خدا را ان کے حق کے محافظ بنیں جو اللہ نے اس طبقے کے لیے مقرر کیا ہے، بیت المال کا ایک حصہ اور اسلامی فتوحات کی زمینوں سے اناج کا ایک حصہ ہر شہر میں نچلے طبقے کے لیے مختص کرنا، اس لیے کہ اس میں دور کے مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا قریب کے مسلمانوں کا، اور اس کی نگہبانی کی ذمہ داری تم پر ہے [27]۔

یہ اقدام مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں ہے، کیونکہ اسلامی معیشت کے مقاصد میں سے ایک مستقل طور پر محتاجوں حتیٰ کہ کفار کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام کا گزر ایک لاچار بوڑھے کے پاس سے ہوا جو بھیک مانگ رہا تھا،مولا نے اس کا حال پوچھا توبتایا گیا وہ عیسائی ہے، امیر المومنین علی (علیہ السلام) نے فرمایا:

جب جوان تھا تو کام کیا ، اب جب کہ وہ بوڑھا اور بے بس ہے تو اس کے اخراجات بیت المال سے ادا کرو۔ [28]

زکوٰۃ بھی اسی طرح ہے، کیونکہ غریب، مساکین، مسافر اور قرض دار جو قرض ادا کرنے سے عاجز ہیں وہ زکوٰۃ کے استعمال کا حصہ ہیں اور قرآن نے اسے ایک ابدی اور دائمی پروگرام قرار دیا ہے۔

سرمایہ کے جمود کو روکنا

جن اشیاء پر زکوٰۃ واجب ہے ان میں سونے اور چاندی کے سکے بھی شامل ہیں جو کہ معصومین علیہم السلام کے زمانے میں رائج کرنسی تھے۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی ایک وجہ خدا کا کلام ہے جس میں کہا گیا ہے:

وَ الَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لا یُنْفِقُونَها فِی سَبِیلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِیمٍ [29]

اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت سنا دو ۔

اس آیت میں خدا نے سونا چاندی سے ترک انفاق پر سزا کا وعدہ کیا ہے اور اس کا اطلاق صرف زکوٰۃ جیسے واجبات کو ترک کرنے پر ہوتا ہے [30]۔

ج۔ آثار نظامی

دفاعی قوت کو مضبوط کرنا

زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک کا عنوان«فی سَبِیل الّله» ذکر ہوا ہے، اس میں شک نہیں کہ جہاد «سبیل الله» کا واضح مصداق ہے، اگرچہ شیعہ علماء کے مطابق، زکات کا اطلاق تمام مسلمانوں کے مفادات پر ہوتا ہے، جیسے کہ مساجد اور پلوں کی تعمیر کے اخراجات [31] وغیرہ ۔

اہل سنت علماء نے «سبیل الله» کو صرف جہاد کے لیے سمجھا ہے اور زکوٰۃ کو عوامی مفادات پر خرچ کرنے کو جائز نہیں سمجھا ہے[32]۔ بہر صورت زکوٰۃ اسلامی معاشرے کی دفاعی قوت میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

د۔ آثار اجتماعی

مخالفین کو اپنی طرف متوجہ کرنا

زکوٰۃ کے مستحقین میں سے ایک وہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے «وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» کے طور پر کیا ہے۔ اور «وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کا حصہ لے کر رفتہ رفتہ اسلام قبول کرتے ہیں یا اگر مسلمان نہیں ہوتے تو دشمن کو پسپا کرنے میں یا دینی مقاصد کی تکمیل میں مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں [33]۔

امیروں سے حسد و ناراضگی دور کرنا

معاشرے میں ایک طبقہ جو اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں، بعض اوقات ان لوگوں میں ناراضگی اور حسد ،خونی تصادم کا باعث بن جاتا ہے جس کی بہت سی تاریخی مثالیں موجود ہیں۔

زکوٰۃ کا حکم اس لئے ہے تاکہ ضرورت مندوں کو یہ احساس رہے کہ امیر ان کی مشکلات سے بے خبرنہیں ہیں، اور ان کی سرگرمیوں کا ایک حصہ ضرورت مندوں سے متعلق ہے ۔

اسی مناسبت سے جب قرآن مومنین کے لیے ولایت کے تعلق کو بیان کرتا ہے اور یہ کہہ کر انتہائی یکجہتی کا اعلان کرتا ہے کہ «بَعْضُهُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ» ، ان کی صفات میں یہ بیان کرتا ہے «وَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ» [34] وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔شہید مطہری لکھتے ہیں:

نماز مخلوق اور خالق کے درمیان تعلق کی ایک مثال ہے، اور زکوٰۃ مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات کی ایک مثال ہے، جو اسلامی ہمدردی کے نتیجے میں ایک دوسرے کی حمایت، تعاون اور مدد کرتے ہیں۔ یہ آیت اور کچھ دوسری آیات جن میں عمومی مثبت محبت کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ نہ صرف دلی محبت بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان اچھے تعلقات کے تناظر میں مسلمانوں کے لیے ایک قسم کی وابستگی اور ذمہ داری کو ثابت کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے ایک مشہور حدیث میں فرمایا:

مومنین کی آپس میں محبت زندہ جسم کی طرح ہے، جب ایک حصہ میں درد ہوتا ہے تو دوسرے اعضاء بھی بے تاب ہوجاتے ہیں[35]۔

زکوٰۃ الفطر کا ایک اہم استعمال یہ ہے کہ اسے غریبوں پر خرچ کیا جائے، غریب وہ ہیں جو اپنے سالانہ اخراجات پورے نہیں کر سکتے۔


[1] ۔ احمد فیّومی؛ المصباح المنیر؛ ج 1-2، ص 254‌۔

[2] ۔ خلیل ابن احمد فراهیدی؛ العین؛ ج ‏5، ص 394‌۔

[3] ۔ مبارک بن‌اثیر؛ النهایه فی غریب الحدیث و الاثر؛ ج 2، ص 307‌۔

[4] ۔ حسین بن محمد راغب اصفهانی؛ مفردات الفاظ القرآن؛ ص380‌ ۔

[5] ۔ محمد‌حسن نجفی؛ جواهر الکلام فی شرح شرائع الإسلام؛ ج ‌15، ص 3‌۔

[6] ۔ توبه/ 103۔

[7] ۔ بقره/ 43۔

[8] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه‌؛ ج 9، ص 22۔

[9] ۔ مؤمنون‌/ 4‌۔

[10] ۔ ا عراف/ 156۔

[11] ۔ توبه/ 11۔

[12] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه‌؛ ج 1، ص 13؛ کافی ، ج ۲، کتاب الایمان والکفر، باب دعائم الاسلام، ح ۵۔

[13] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه؛ خطبه 199۔

[14] ۔ توبه/ 103۔

[15] ۔ محمد بن حسن حر عاملی؛ وسایل الشیعه؛ ج 9، ص 38۔

[16] ۔ معارج/ 19- 25۔

[17] ۔ محمد بن یعقوب کلینی؛ الکافی؛ ج 2، ص 19۔

[18] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه؛ خطبه 199۔

[19] ۔ ایضا ۔

[20]۔ ایضا۔

[21] ۔ قریش/ 3 و 4۔

[22] ۔ اصول کافی، ج4، ص174؛ (بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، درس تفسیر، 9/7/1387)۔

[23] ۔ سبأ/ 39۔

[24] ۔ محمد بن علی صدوق؛ کتابُ من لایحضره الفقیه؛ ج ‌3، ص 568۔

[25] ۔ محمد بن یعقوب کلینی؛ الکافی؛ ج 2، ص 486۔

[26] ۔ توبه/34 ۔

[27] ۔ محمد بن حسین شریف الرضی؛ نهج‌البلاغه‌؛ ص583۔

[28] ۔ محمد بن حسن طوسی؛ تهذیب الاحکام؛ ج 6، ص 293۔

[29] ۔ توبه/24۔

[30] ۔ حسن بن یوسف حلّی؛ تذکره الفقهاء؛ ج 5، ص 118؛ محمد‌حسن نجفی؛ جواهر الکلام فی شرح شرائع الإسلام؛ ج 13، ص 312؛ سید ابوالقاسم خویی؛ موسوعة الامام الخویی؛ ج 23، ص 260 و 261۔

[31] ۔ محمد بن حسن طوسی؛ التّبیان فی تفسیر القرآن؛ ج 5، ص 245۔

[32] ۔ یوسف القرضاوی؛ فقه الزّکاه؛ ج 2، ص 656۔

[33] ۔ سید محمدحسین طباطبایی؛ المیزان فی تفسیر القرآن؛ ج 9، ص 311۔

[34] ۔ توبه/ 71۔

[35] ۔ مرتضی مطهری؛ مجموعه آثار؛ ج 3، ص 265۔

بعثت کا مقصد 


بعثت کا مقصد

رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق

میں تو اعلٰی اخلاقی اقدار کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں

قرآن کریم میں بعثت کے مندرجہ ذیل مقاصد مزکور ہیں

1 تلاوت قرآن کرنا۔
2 تزکیہ نفس کرنا۔
3 تعلیم (کتاب و حکمت)دینا۔
4 شہادت و گواہی دینا۔
5 نیک لوگوں کو جزا کی بشارت دینا۔
6 برے افراد کو عذاب الٰہی سے ڈرانا۔
7 خدا کے اذن سے اس کی طرف دعوت دینا۔
8 گمراہی سے نکالنا ۔
9 سیدھے راستہ کی ہدایت کرنا۔
10 تمام ادیان عالم سے دین اسلام کو جدا کرنا۔
11 دشمنی کو دوستی سے بدلنا۔
12 ایک کو دوسرے کا بھائی بنانا۔
13 آگ (جہنم) سے بچانا۔


احادیث کی روشنی میں بعثت کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں

1 اخلاق کو مکمل کرنا۔
2 وعدہ الٰہی کو مکمل کرنا۔
3 نبوت کو اختتام تک پہونچانا۔
4 جہالت سے نکالنا۔
5 ضلالت وگمراہی سے نکالنا۔
6 باطل کی پیروی سے روکنا۔
7 متعدد خداؤں کے ماننے والوں کوایک خدا کی عبادت پر مامور کرنا۔
8 بھٹکے ہوؤں کو راہ نجات پر گامزان کرانا(نجات تک پہونچانا)۔
9 صراط مستقم کی طرف ہدایت کرنا۔

مختصر یہ کہ پیغمبر اسلام کو اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے دنیا و آخرت میں کامیاب بنانے کا وسیلہ و ذریعہ بنا کر بھیجا ہے، اگر انسان ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرلے تو زندگی بھی خوشگوار اور آخرت میں یقیناً اجر عظیم کا مستحق قرار پائے گا۔

علی مع القرآن و القرآن مع علی

(عنوان )

عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ

اسد عباس اسدی

قَال رَسُول اللَّه: عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ [1]

علی ؑ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی ؑکے ساتھ ہے دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے حتیٰ کہ دونوں حوض کوثر پر پہنچیں گے ۔

مع علیؑ ۔ اُوْصِیْکُمَا بِتَقْوَی اللّٰہِ۔

میں تم دونوں کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں۔

مع القرآن ۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ [2]

خدا پرہیزگاروں ہی کی قبول فرمایا کرتا ہے

مع علیؑ ؑ ۔ وَاِنْ لَا تَبْغِیَاالدُّنْیَا وَاِنْ بَغَتْکُمَا۔

اور دیکھو دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل کیوں نہ ہو۔

مع القرآن ۔ وَمَا الْحَيَاةُ الـدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ[3]

اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کی پونجی کے اور کچھ نہیں۔

مع علی ؑ ۔ وَلَا تَأَسَفًا عَلیٰ شَیْ ءٍ مِنْھَا زُوِیَ عَنْکُمَا۔

اور دنیا کی جس چیز سے تم کو روک لیاجائے اس پر افسوس نہ کرنا۔

مع القرآن ۔ لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ [4]

تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے ۔

مع علی ؑ ۔ وَقُوْلَا بِالْحَقِّ۔

اور جو بھی کہنا حق کہنا۔

مع القرآن ۔ وَلَا تَلْبِسُوْا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوْا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [5]

اور حق کو باطل کیساتھ خلط ملط نہ کرو اورنہ جان بوجھ کر حق کوچھپاؤ( حالانکہ تم سب جانتے ہو کہ تمہارے اندر کیا چھپاہے) اور ہم بھی اس سے بے خبر نہیں۔

مع علی ؑ ۔ وَاعْمَلَا لِلْاَجْرِ۔

اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔

مع القرآن ۔ فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ [6]

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔

مع علی ؑ ۔ وَکُوْنَا لِلظَالِمِ خَصْمًا وَلِلمَظْلُوْمِ عَوْنًا۔

ظالم کے مخالف اور مظلوم کے مددگار رہنا۔

مع القرآن ۔ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ [7]

ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔

مع علی ؑ ۔ اُوْصِیْکُمَا وَجَمِیْعَ وَلَدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَنْ بَلَغَہُ کِتَابِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَنَظْمِ اَمْرِکُمْ۔

میں تم دونوں کو اوربقیہ اپنی تمام اولادوں اور، اپنے تمام اهل وعیال کواور ان تمام افراد کو کہ جن تک یہ میرانوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔

مع القرآن ۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ[8]-وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا [9]

اے ایما ن والو! اللہ سے ڈرو -اور اُسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ، پھر اس کو ایک مقررہ پروگرام کے مطابق (كامل) توازُن کے ساتھ تشکیل دیا ہے

مع علیؑ ۔ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِکُمْ۔ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّکُمَاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ یَقُوْلُ:صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَۃِ الصَّلٰوۃِ وَالصِّیَامِ۔

اورباہمی تعلقات کو استوار رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ ﷺ کو فرماتے هوےسنا ہے کہ آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔

مع القرآن ۔ وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا [10]

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْاَیْتَامِ، فَلاَ تُغِبُّوْاأَفْوَاہَہُمْ وَلَا یَضِیْعُوْا بِحَضْرَتِکُمْ۔

خدارا خدارا یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا که کہیں ان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہاری موجود گی میں وه ضائع نہ هو جائیں

مع القرآن ۔ واٰتُوا الْيَتَامٰٓى اَمْوَالَـهُـمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَاْكُلُـوٓا اَمْوَالَـهُـمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ اِنَّهٝ كَانَ حُوْبًا كَبِيْـرًا[11]

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو، اور نہ کھاؤ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔

مع علیؑ ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ جِیْرَانِکُمْ، فَاِنَّھُمْ وَصِیَّۃُ نَبِیِّکُمْ، مَازَالَ یُوْصِیْ بِھِمْ، حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُوَرِّثُھُمْ۔

خدارا خدا را . اپنے ہمسایوں کا خیال رکہنا کہ ان کے بارے میں تمہارے نبی نے وصیت کی اور اتنی شدیدتاکید فرمائی ہےکہ یہ گمان ہونے لگا تها کہ کہیں آپ ؐاُنھیں بھی میراث پانے والوں میں سے قرار نہ دے دیں

مع القرآن ۔ بِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا۔۔۔ وَالْجَارِ ذِى الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ ۔۔۔ [12]

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پاس بیٹھنے والے سے۔

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِہٖ غَیْرُکُمْ۔

خدارا خدارا قرآن کا خیال رکھنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔

مع القرآن ۔ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ [13]

جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الصَّلوٰةِ، فَاِنَّھَاعَمُودُ دِیْنِکُمْ۔

خدارا خدارا نماز کی ادائیگی میں پابند رهنا اس لئے کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔

مع القرآن ۔ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا [14]۔

بے شک نماز مومنوں پر اپنے مقررہ وقت میں ادا کرنا فرض ہے۔

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ بیْتِ رَبِّکُمْ، لَا تُخْلُوْہُ مَابَقِیْتُمْ فَاِنَّہُ اِنْ تُرِکَ لَمْ تُناظَرُوْا۔

خدارا خدارا اپنے رب کے گھر کا خیال رکھنا، جب تک کہ تم زندہ ہو اسے خالی نہ چھوڑنا،کیونکہ اگر اسے خالی چھوڑ دیا توپھر عذاب سےمہلت نہ ملے گی

مع القرآن ۔ اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ [15]۔

اللہ تعالٰی کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مُقّرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ ( شریف ) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت اور ہدایت والا ہے

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِی الْجِہَادِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔

خدارا خدارا راہِ خدا میں اپنی جان، مال،اور زبان کے ذریعے جہاد سے دریغ نہ کرنا۔

مع القرآن ۔ اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا بِاَمْوَالِـهِـمْ وَاَنْفُسِهِـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَالَّـذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوٓا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ [16]

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑا اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں لڑے اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔

مع علی ؑ ۔ وَعَلَیْکُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَاذُلِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّدَابُرَوَالتَّقَاطُعَ۔

تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرنا اورخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔

مع القرآن ۔ فَاٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ‌السَّبِیۡلِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ [17]

پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں

مع علی ؑ ۔ لَا تَتْرُکُواالْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَیُوَلَّیٰ عَلَیْکُمْ شِرَارُکُمْ، ثُمَّ تَدْعُوْنَ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ۔

دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تب بھی وہ قبول نہ ہوگی۔

مع القرآن ۔ وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [18]

اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

مع علیؑ ۔ یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! لَا اُلْفِیَنَّکُمْ تَخُوْضُوْنَ دِمَآءَ الْمُسْلِمِیْنَ، خَوْضًا تَقُوْلُوْنَ: قُتِلَ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ أَلاَ لاَ تَقْتُلُنَّ بِیْ اِلَّا قَاتِلِیْ۔

اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم، امیرالمو منین قتل ہوگئے، امیر المومنین قتل ہوگئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو،دیکھو میرےقتل کے بدلے صرف میرے قاتل ہی قتل کیاجائے۔

مع القرآن ۔ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلٰى ۖ اَ لْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَـهٝ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ ۗ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْـمَةٌ [19]

اے ایمان والو! مقتولوں میں برابری کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے، آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے، پس جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کیا جائے تو دستور کے موافق مطالبہ کرنا چاہیے اور اسے نیکی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے، یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے

مع علی ؑ ۔ اُنْظُرُوْااِذَاأَ نَامُتُّ مِنْ ضَرْبَتِہِ ہٰذِہٖ، فَاضْرِبُوْہُ ضَرْبَۃً بِضَرْبَۃٍ، وَلَا تُمَثِّلُ بِالرَّجُلِ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ (صَلّی اللّٰہ عَلیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ) یَقُوْلُ: اِیَّاکُمْ وَالْمُثْلَۃَ وَلَوْبِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ۔

دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس کےسر پر ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔

مع القرآن ۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ [20]

اور اگر تم ان کے ساتھ سختی بھی کرو تو اسی قدر جس قدر انہوں نے تمہارے ساتھ سختی کی ہے اور اگر صبر کرو تو صبر بہرحال صبر کرنے والوں کے لئے بہترین ہے۔


[1] (المستدرک، ج: 3، ص: 123، رقم: 4685)

[2] (مائدہ 27)

[3] (العمران 185)

[4] (حدید23)

[5] (سورۃ البقرۃ 42)

[6] (زلزال 7)

[7] (ہود، 113)

[8] (بقرۃ،278)

[9] (فرقان ، 2)

[10] (آلعمران ، 103)

[11] (نساء،2)

[12] (نساء ، 36 )

[13] (طلاق ، 1 )

[14] ( النساء ، 103)

[15]( آلعمران ، 96 )

[16] (انفال ، 72 )

[17] (روم ، 38 )

[18] (آلعمران ، 104 )

[19] ( بقرہ ، 178 )

[20] ( نحل ، 126 )

خوشحال معاشرے کے بنیادی اصول

خوشحال معاشرے کے بنیادی اصول

وَيَٰقَوۡمِ أَوۡفُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ۔ (هود: 85)

اے میری قوم! ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو۔"

یہ آیت حضرت شعیب علیہ السلام سے متعلق ہے، جس میں وہ اپنی قوم کو انصاف کرنے، ظلم سے بچنے اور فساد سے باز رہنے کی دعوت دیتے ہیں،اس آیت کے تین اہم نکات ہیں جو اخلاقی، سماجی اور اقتصادی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں:

1۔ اوفوا المکیال والمیزان بالقسط

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو تلقین کرتے ہیں کہ ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کریں۔

معاشی اور سماجی تجزیہ:

ماپ اور تول، سالم اقتصادی نظام کی علامت ہیں۔ "بالقسط" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر لین دین میں انصاف نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایک سماجی فریضہ بھی ہے۔ اگر معاملات میں انصاف نہ ہو تو معاشرتی اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

ناپ اور تول میں انصاف کرنا، انسانی معاملات میں انصاف کی علامت ہے۔ اس نصیحت سے یہ سبق ملتا ہے کہ مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے تعلقات اور فیصلوں میں انصاف کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔

2۔ ولا تبخسوا الناس أشیاءهم

یہ حصہ لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے یا ان کے مال کی قدر گھٹانے سے منع کرتا ہے۔

"تبخسوا" کا مطلب صرف کم تولنے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل شامل ہے جس میں دوسرے کے حق کو کم یا ضائع کیا جائے، چاہے وہ مالی ہو یا غیر مالی۔

اس آیت میں دوسروں کے حقوق کا تحفظ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور کسی بھی طرح کے نقصان یا دھوکہ دہی سے گریز کریں۔

3۔ ولا تعثوا فی الأرض مفسدین

یہ جملہ قوم کو زمین میں فساد اور فتنے سے منع کرتا ہے۔

"عثوا" کا مطلب ایسا غیر ذمہ دارانہ اور سرکش رویہ ہے جو سماجی اور اخلاقی تباہی کا سبب بنتا ہے، اور "مفسدین" ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے اعمال سے دوسرے افراد یا معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

فساد صرف مادی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی قدروں کو ختم کرنا بھی فساد کی شکل ہے۔

یہ نصیحت معاشرے میں امن، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی تاکید کرتی ہے۔

خلاصہ

آیت 85 سورہ ہود ایک جامع اصول بیان کرتی ہے۔ یہ انصاف، حقوق کی پاسداری اور معاشرتی استحکام کو فروغ دینے کی دعوت دیتی ہے۔

اس آیت سے درج ذیل نکات اخذ کیے جا سکتے ہیں:

معاشی انصاف:

لین دین اور تجارت میں انصاف کو یقینی بنانا۔

دوسروں کے حقوق کا تحفظ:

کسی بھی قسم کے ظلم یا دھوکہ دہی سے پرہیز کرنا۔

فساد سے اجتناب:

ایسے اعمال سے بچنا جو معاشرتی امن کو خطرے میں ڈالیں۔

یہ پیغام صرف حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ہے۔

ایسا معاشرہ جو ان اصولوں کی پاسداری کرے، امن، خوشحالی اور انصاف پر مبنی ہوگا۔

حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

أُوصِيكُمْ بِخَمْسٍ لَوْ ضَرَبْتُمْ إِلَيْهَا آبَاطَ الْإِبِلِ لَكَانَتْ لِذَلِكَ أَهْلًا: لَا يَرْجُوَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا رَبَّهُ، وَ لَا يَخَافَنَّ إِلَّا ذَنْبَهُ، وَ لَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ لَا أَعْلَمُ، وَ لَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ إِذَا لَمْ يَعْلَمِ الشَّيْءَ أَنْ يَتَعَلَّمَهُ، وَ عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ، فَإِنَّ الصَّبْرَ مِنَ الْإِيمَانِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، وَ لَا خَيْرَ فِي جَسَدٍ لَا رَأْسَ مَعَهُ، وَ لَا [خَيْرَ] فِي إِيمَانٍ لَا صَبْرَ مَعَهُ۔ (بحوالہ نہج البلاغہ: حکمت 82)

میں تمہیں پانچ باتوں کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اگر انہیں سیکھنے کے لیے تمہیں طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، تو یہ باتیں اس کے لائق ہیں:

1۔ تمہاری امیدیں صرف اپنے پروردگار پر ہوں۔

2۔ اپنے گناہوں کے سوا کسی اور سے نہ ڈرو،(یعنی خوف صرف اپنے گناہوں کا ہو)۔

3۔ اگر کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتے تو یہ کہتے ہوئے مت شرمانا کہ" مجھے علم نہیں"۔

4۔ جو بات نہیں جانتے، اس کے سیکھنے میں جھجک محسوس نہ کرو۔

5۔ صبر کو لازم پکڑو، کیونکہ صبر ایمان کے لیے ایسے ہی ہے جیسے جسم کے لیے سر، اور بغیر صبر کے ایمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔

مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ، اس کے کیا معنی ہیں؟

مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ، اس کے کیا معنی ہیں؟

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ۔ (سورہ ہود: 6)

زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق اللہ پر ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ کس جاندار کا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور عارضی جگہ کہاں ہے۔ ہر چیز واضح کتاب میں ثبت ہے۔

تفسیر

اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ وہ ہر جاندار کی روزی کا ضامن ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے رزق کا بندوبست کرتا ہے، خواہ وہ خشکی پر ہوں یا پانی میں، اور یہ رزق ان کے لیے مختلف ذرائع سے فراہم ہوتا ہے۔

"مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا" سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جاندار کی رہائش گاہ اور اس کے عارضی ٹھکانے کو جانتا ہے۔

مستقر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے رہتی ہے، جبکہ مستودع اس عارضی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز وقتاً فوقتاً رہتی ہے۔ اس کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی زندگی، ان کی موت اور ان کی حرکت و سکون کے سب مقامات سے باخبر ہے۔

"كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ" یعنی سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تفصیل کو محفوظ کر رکھا ہے۔

اس میں کائنات کے ہر جاندار کی زندگی، موت، رزق، اور اس کی تقدیر لکھی ہوئی ہے، اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔

یہ آیت انسان کو توکل اور اعتماد کی دعوت دیتی ہے کہ اگرچہ انسان اپنی کوشش سے رزق کماتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا اصل ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے، جو ہر ذی روح کی ضروریات سے باخبر ہے اور اس کے وسائل زندگی فراہم کرتا ہے۔

رزق اللہ کے ذمہ ہے تو پھر محنت کیوں؟

ایک اہم سوال ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو الرزاق (رزق دینے والا) کہا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اصل میں ہر مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، اسلام انسان کو سعی (کوشش) اور محنت کی تلقین بھی کرتا ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟

انسانی کوشش بطور ذریعہ رزق

اسلام کے مطابق، اگرچہ رزق دینے والا اللہ ہے، لیکن رزق حاصل کرنے کا عمل کوشش اور جدوجہد کے ذریعے ہوتا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ انسان کو کوشش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، مثلاً سورہ النجم میں ارشاد ہوتا ہے:

"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی" (سورہ النجم، 53:39)۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں کامیابی کے لیے کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رزق اور کامیابی کو اس کے عمل کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔

امتحان اور تربیت

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آزمائش اور تربیت کا مقام بنایا ہے۔ انسان کو محنت کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تدبیر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح، انسان صبر، توکل، اور مضبوط ارادے جیسے اوصاف کو حاصل کرتا ہے۔

تقدیر اور تدبیر میں توازن

اسلامی تعلیمات میں تقدیر اور تدبیر کا تصور موجود ہے۔ تقدیر کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے، لیکن تدبیر کے تحت انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رزق کے لیے کوشش کرے۔ گویا انسان کی کوشش اور اللہ کا رزق، دونوں آپس میں مربوط ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ پر بھروسہ بھی کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کے تحت محنت بھی کرنی چاہیے۔

4۔محنت ایک عبادت ہے

رسول اکرمﷺ نے محنت اور روزی کمانے کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے:

محنت سے حلال روزی کمانا فرض عبادت کے بعد سب سے بڑی عبادت ہے۔ (المعجم الأوسط للطبراني، حدیث نمبر 3936)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں محنت کو خود ایک نیکی اور عبادت سمجھا گیا ہے، اور یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

توکل اور محنت کا تعلق

اللہ پر توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے۔ توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوشش کے بعد اللہ پر بھروسہ کرے اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اسلام میں توکل اور محنت کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

"اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو" (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2517)۔

خلاصہ

اسلام میں اللہ تعالیٰ کو رزاق سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی اصل ذریعہ ہے، لیکن کوشش اور محنت انسان کے عمل کا حصہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی روزی حاصل کرنے کے لیے محنت کرے۔ لہذا، اللہ پر بھروسہ اور اس کی رضا کے لیے کوشش کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔

یہ قابلِ غور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام جانداروں کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے، مگر اس کے باوجود چیونٹی مسلسل محنت کرتی ہے، اسے یہ خیال نہیں آتا کہ وہ فارغ بیٹھ کر بھی رزق پا لے گی۔ لیکن اشرف المخلوقات، یعنی انسان، اپنے وہم و خیالات میں الجھ کر بعض اوقات چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کے عزم اور شعور کو بھی نہیں اپنا پاتا۔

دیانت داری اساسِ ایمان

دیانت داری اساسِ ایمان

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔)سورۃ التوبہ، آیت 119(

تفسیری نکات

تقویٰ اور صداقت کی اہمیت

اس آیت میں سب سے پہلے تقویٰ (اللہ کا خوف) کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارے اور ہر کام میں اس کی رضا کو مدنظر رکھے۔ پھر صداقت پر زور دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صداقت پسند لوگوں کے ساتھ رہیں۔

صداقت کا مفہوم

صداقت سے مراد صرف سچ بولنا نہیں ہے، بلکہ دل، زبان، اور عمل میں ایک سچائی اور خلوص کا ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں انسان کا اپنے وعدوں کا سچا ہونا، دینی ذمہ داریوں کا حق ادا کرنا، اور منافقت سے دور رہنا بھی شامل ہے۔

صادقین کون ہیں؟

صادقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان و عمل میں سچے ہیں۔

تفسیری کتب میں اس کے بارے میں کئی آراء ملتی ہیں: ائمۂ معصومین علیہم السلام: شیعہ مفسرین نے صادقین سے اہل بیت علیہم السلام مراد لیے ہے، کیوں کہ وہ دین میں کامل ترین ہستیاں ہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) اور صالح افراد: بعض دیگر تفسیروں کے مطابق، صادقین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام و صالحین شامل ہیں ۔

معاشرہ پر اثرات

اس آیت میں مسلمانوں کو ایسی جماعت یا افراد کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو صادق ہیں، کیونکہ نیک اور سچے افراد کی صحبت سے انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ گناہوں سے بچنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر اللہ کی قربت اور روحانی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔

تفسیر تسنیم (آیت اللہ جوادی آملی)

آیت اللہ جوادی آملی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ صادقین کے ساتھ رہنا انسان کو اخلاص اور حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ سچائی اور اللہ کا خوف انسان کی شخصیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور جب تک انسان صادقین کے ساتھ نہ ہو، اس میں حقیقی تقویٰ پیدا نہیں ہو سکتا۔

تفسیر 'التحریر و التنویر'

تفسیر التحریر و التنویر میں اس آیت کا مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ صداقت اور تقویٰ دو الگ الگ خوبیوں کے بجائے ایک ہی راہ کی طرف اشارہ ہیں، یعنی اللہ کی بندگی اور اطاعت میں اخلاص اور سچائی پیدا کرنا۔

'الکوثر' شیخ محسن نجفی

جبکہ 'الکوثر' میں شیخ محسن نجفی بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ایمان والوں کو ایک روحانی معاشرت کی طرف بلا رہی ہے جہاں سچائی اور خلوص بنیادی عناصر ہیں۔

خلاصہ

آیت "کونوا مع الصادقین" ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہمیں سچائی کے راستے پر چلنا چاہیے اور ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو اس راہ پر گامزن ہیں۔ یہ آیت ہماری زندگی کو روحانیت، صداقت اور تقویٰ سے مزین کرنے کی ہدایت کرتی ہے، اور ہمیں منافقت، کذب اور فریب سے بچنے کا پیغام دیتی ہے۔

قرآنی نقطہ نظر سے برا انجام کن لوگوں کا مقدر ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآنی نقطہ نظر سے برا انجام کن لوگوں کا مقدر ہے؟

وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (سورۃ الرعد، آیت 25)

ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے مستحکم عہد کو توڑتے ہیں، اور ان رشتوں کو کاٹ دیتے ہیں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں جوڑا جائے، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لیے برا انجام ہے۔

تفسیر

اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑتے ہیں۔ اس عہد میں بنیادی طور پر اللہ کی اطاعت، دین اسلام پر عمل پیرا ہونا، اور دیگر حقوق اللہ و حقوق العباد شامل ہیں۔

عہد شکنی: اللہ نے ہر انسان کے ساتھ ایک فطری عہد لیا ہے کہ وہ اسے رب مانے اور اس کے احکام پر عمل کرے۔ اس عہد کی خلاف ورزی کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو رد کرتے ہیں یا ان سے غفلت برتتے ہیں۔

صلہ رحمی: اس آیت میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ دینا ناپسندیدہ ہے۔ صلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں سے تعلق کو جوڑ کر رکھنا، اسلام میں انتہائی اہم ہے، اور ان رشتوں کو کاٹنے کو فسادی عمل کہا گیا ہے۔

فساد فی الارض: ان لوگوں کی صفات میں زمین میں فساد پھیلانا بھی شامل ہے۔ فساد پھیلانا یعنی زمین میں ایسا بگاڑ پیدا کرنا جس سے دوسروں کو نقصان ہو، معاشرتی توازن خراب ہو، یا اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہو۔

4۔انجام اور سزا: اس آیت میں ان لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے لعنت کا ذکر ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں، رشتہ داریوں کو منقطع کرتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں۔ انہیں آخرت میں "سوء الدار" یعنی برا انجام دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے لیے آخرت کا گھر عذاب و تکلیف کا گھر ہوگا، اور انہیں اللہ کی رحمت سے دوری ملے گی۔

مفسرین نے مختلف پہلوؤں سے اس آیت کی تشریح کی ہے،یہاں چند معروف مفسرین کی آراء کا خلاصہ دیا گیا ہے:

علامہ طبری

طبری کے مطابق، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اور معاشرتی تعلقات کو کاٹ دیتے ہیں۔

طبری کے نزدیک یہ عہد فطرتاً وہ عہد ہے جو اللہ نے انسان سے لیا ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے احکام کو مانیں گے۔ اس کے علاوہ، اللہ کے جوڑنے کے حکم کا تعلق خاص طور پر رشتہ داروں سے ہے، جسے دین اسلام میں صلہ رحمی کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد جو ان احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں لعنت اور برا انجام مقرر ہے۔

ابن کثیر

ابن کثیر اس آیت کے تحت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنا، جیسے کہ ایمان کی روگردانی کرنا، اور اسلامی احکام کو ترک کرنا اللہ کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہے۔ ابن کثیر مزید فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صلہ رحمی پر زور دیا گیا ہے اور اسے اللہ کے اہم احکام میں سے شمار کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک، اللہ کے عہد کو توڑنے اور تعلقات کو منقطع کرنے والے افراد زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، اور ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔

علامہ فخر الدین رازی

علامہ رازی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس میں بنیادی طور پر انسان کی روحانی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اللہ نے انسان سے اس کی فطرت میں عہد لیا کہ وہ توحید اور عدل کو اپنائے گا، لیکن عہد شکنی کرنے والے اپنے نفس کی پیروی میں اللہ کے احکام کو رد کر دیتے ہیں۔ صلہ رحمی کے حکم کو منقطع کرنے کو زمین میں فساد سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ معاشرتی بگاڑ اکثر رشتوں کے بگاڑ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

علامہ قرطبی

قرطبی اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنا دراصل اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے کو توڑنا ہے، جو ہر انسان سے اس کی فطرت میں لیا گیا ہے۔ قرطبی کے مطابق، صلہ رحمی یعنی رشتہ داریوں کو جوڑنا دین اسلام کا ایک اہم ستون ہے اور اس کا کاٹنا زمین میں فساد کا باعث بنتا ہے۔ ان کے مطابق، جو لوگ ان عہد و پیمان کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اللہ کی لعنت اور آخرت میں عذاب ان کے مقدر میں ہے۔

علامہ طبرسی

شیعہ مفسر علامہ طبرسی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ کا عہد، ایمان اور شرعی احکام پر عمل ہے۔ طبرسی کے مطابق، ان رشتوں کو توڑنا جنہیں جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف خونی رشتے ہی نہیں بلکہ دینی بھائی چارے کو بھی شامل ہے۔ فساد فی الارض کے بارے میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایسے لوگ معاشرتی بگاڑ اور دینی ضعف کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے افراد پر اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا انجام ہے۔

6 علامہ طباطبائی (المیزان)

علامہ طباطبائی، تفسیر المیزان میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنے سے مراد اللہ کی نافرمانی اور اسلامی اصولوں سے انحراف ہے۔

علامہ طباطبائی کے نزدیک، قرآن نے رشتے ناطے کاٹنے کو بہت بڑی برائی قرار دیا ہے اور اسے اللہ کے حکم کی صریح نافرمانی کہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں "سوء الدار" کا ذکر ہے جو ایسے لوگوں کا انجام ہوگا۔

تونس کے مشہور مفسر علامہ محمد الطاہر ابن عاشور اپنی تفسیر "التحریر والتنویر" میں اس آیت کی تشریح میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں۔ ابن عاشور کے مطابق، اللہ کے عہد کو توڑنا دراصل فطرت میں شامل اس عہد کو توڑنا ہے جس کا تقاضا اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے کہ وہ اس کی توحید اور اطاعت کا اقرار کریں۔

علامہ ابن عاشور اس آیت میں "ما أمر الله به أن يوصل" یعنی "جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے" کا مطلب نہ صرف خاندانی تعلقات بلکہ تمام سماجی اور دینی تعلقات سے بھی لیتے ہیں، جو اللہ کے احکامات کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے نزدیک، *اس میں اسلامی اخوت، سماجی انصاف، اور نیکی و احسان کے وہ تمام اصول شامل ہیں جو اسلامی معاشرت کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

ابن عاشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے افراد جو عہد شکنی، قطع تعلقی، اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں، دراصل ایک اجتماعی نقصان کا باعث بنتے ہیں اور اسلامی معاشرے کی جڑیں کمزور کرتے ہیں۔ اس کا انجام قرآن کی زبان میں "سوء الدار" یعنی آخرت میں برا ٹھکانا اور اللہ کی لعنت ہے، جو ان لوگوں کی نافرمانی کی پاداش میں ہے۔

خلاصہ

مفسرین کی آراء سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اللہ کے عہد کو توڑنے، صلہ رحمی کو نظر انداز کرنے، اور زمین میں فساد برپا کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے، رشتہ داروں سے حسن سلوک رکھے، اور زمین پر امن و امان برقرار رکھے۔ اللہ کی لعنت اور برا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ان احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

علی علیہ السلام کے شیعہ کی سات نشانیاں

امام باقر علیہ السلام کی حدیث۔

إِنَّمَا شِیعَةُ عَلِیٍّ علیه السلام
امیر المومنین ع کے شیعوں کی علامات۔ [ساتھ نشانیاں ]
پہلی نشانی : الْمُتَبَاذِلُونَ فِی وَلَایَتِنَا ۔
ہمارے ولایت میں خرچ کرتے ہیں۔
ولایت کی راہ میں مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ جان بھی خرچ کرتے ہیں۔

دوسری نشانی : الْمُتَحَابُّونَ فِی مَوَدَّتِنَا

ہماری مودت اور محبت میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہی کرنی چائیے ہمارے دشمن اور بہت ہیں۔

تیسری نشانی : الْمُتَزَاوِرُونَ لِإِحْیَاءِ أَمْرِنَا
ہمارے امر کو زندہ کرنے کےلیے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں۔
✓ ہمارے معاشرے میں مومنین کی آپس میں زیارت متروک ہو چکی ہے۔

چوتھی نشانی : الَّذِینَ إِذَا غَضِبُوا لَمْ یَظْلِمُوا
جب انہیں غصہ آتا ہے تو اس وقت کسی پر بھی ظلم نہیں۔ کرتے۔
ان کی زندگی ظلم سے خالی ہوتی ہے۔

پانچویں نشانی : وَ إِذَا رَضُوا لَمْ یُسْرِفُوا
جب بھی خوش ہوتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے۔ اعتدال کا راستہ اپناتے ہیں۔


چھٹی نشانی : برَکَةٌ عَلَی مَنْ جَاوَرُوا
ہمسایوں کے لیے برکت کا باعث بنتا ہے۔ ہمسایوں کے ھر وقت دروازہ کھلا رکھتا ہے۔

ساتویں نشانی : سِلْمٌ لِمَنْ خَالَطُوا
جن کے ساتھ رفت و آمد رکھتا ہے ان کےکیے سکون اور آرامش کا باعث بنتا ہے۔

آگے بڑھو اب تم اللہ کی امان میں ہو

آگے بڑھو اب تم اللہ کی امان میں ہو


امام جعفر صادق علیہ السلام ایک قافلے میں شامل ہو کر سفر پر جا رہے تھے کہ راستے میں قافلے والوں کو اطلاع ملی کہ اس علاقے میں ڈاکووں کا راج ہے اور عین ممکن ہے کہ اس قافلے کو بھی غارت کریں ۔ سب لوگ ڈر گئے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : کیا ہوا ہے اور لوگ ڈرے ہوئے کیوں ہیں ؟ جواب دیا : علاقہ خطرناک ہے اور ہمارے پاس مال و متاع بھی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں ہمارا مال بھی آپ اپنے پاس رکھ لیں ہو سکتا ہے آپ کے احترام کی وجہ سے آپ سے نا لیں ۔

امام نے فرمایا : کیا پتہ ہو سکتا ہے وہ صرف میرا مال ہی لے جائیں ۔
لوگوں نے کہا : اب کیا کریں ؟

امام نے فرمایا : اس کے پاس امانت رکھ دیں جو اس مال کی حفاظت کرے اور اس کا خیال رکھے بلکہ اس میں اضافہ کرے اور ایک درھم کو (اجر وثواب کے لحاظ سے) دنیا سے بھی بڑا بنا دے ۔ جب تمہیں ضرورت پڑیں تو لوٹا دے

عرض کیا: وہ کون ہے ؟

جواب دیا : رب العالمین

عرض کیا : کیسے اللہ کے حوالے کریں ؟

فرمایا : صدقہ دے دو

عرض کیا : اس بیابان میں مستحق کیسے ملے گا ؟

فرمایا: ایک تہائی مال کے صدقہ کی نیت کر لیں (جب شہر پہنچنا ادا کر دینا ) تا کہ تمہارا سب مال و متاع محفوظ رہے

لوگوں نے نیت کر لی ۔امام نے فرمایا : فَاَنْتُم فِى امانِ اللهِ فَامْضَوْا ۔۔۔ پس اب اللہ کی امان میں ہو آگے بڑھو

قافلہ تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ ڈاکووں نے قافلے کو گھیر لیا ۔سب گھبرا گئے ۔امام نے فرمایا : کیوں ڈرتے ہو ؟ اب تم اللہ کی امان میں ہو ۔

ڈاکووں نے امام علیہ السلام کو دیکھا اور امام کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اور ڈاکوں کے سردار نے کہا : رات میں نے خواب میں رسول خدا کو دیکھا ہے حکم دیا کہ آپ کی خدمت میں پہنچیں اور اس خطرناک علاقے سے آپ کو صحیح سالم گزاریں تا کہ ڈاکووں کا دوسرا کوئی گروہ حملہ نا کر دے۔

امام نے فرمایا : آپ کی ضرورت نہیں ہے (کہ ہماری حفاظت کریں)جس نے آپ سے بچایا ہے وہ دوسروں سے بھی بچائے گا ۔ قافلہ شہر پہنچا ۔ قافلے والوں نے نیت کے مطابق ایک تہائی مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا ۔ باقی سے تجارت کی اور دس گنا زیادہ برکت پیدا ہوئی ۔سب نے تعجب کیا اور کہا: اتنی برکت ؟

فرمایا: اب خدا سے معاملہ کرنے کی برکت سے آگاہ ہو گئے ؟ پس اس کام کو جاری رکھو

(عیون اخبارالرضا650/1)

تربیت اولاد ، تعلیمات اہل بیت کی روشنی میں




تربیت اولاد ، تعلیمات اہل بیت کی روشنی میں



اسد عباس اسدی

ہرانسان کی زندگی کا ایک اہم مسئلہ بچوں کی تربیت اور ان کو ادب سکھانا ہوتا ہے اور یہ بچوں کا حق ہوتا ہے کہ جو والدین کو ادا کرنا ہوتا ہے ۔ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث میں اس موضوع کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے ۔ امام کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں : جاء رجل الی النبی فقال : یا رسول اللہ ما حق ابنی ھذا قال : تحسن اسمہ و ادبہ ، وضعہ موضعا حسنا ۔ایک شخص اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ میرے بچے کا مجھ پر کیا حق ہے ؟تو پیغمبراکرم نے فرمایا:بچے کا اچھا نام رکھو ، اچھی تربیت کرو اور بچوں کو نیک ماحول مہیا کرو ۔

بچوں کی تربیت کا اہتمام

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : وتجب للولد علی والدہ ثلاث خصال : اختیارہ لوالدتہ و تحسن اسمہ و المباغۃ جی تادیبہ ۔

تین چیزیں والدین پر بچوں کا حق ہیں، 1 اچھا مربی, 2 اچھا نام رکھیں, 3 اوران کی تربیت کے لئے بہت زیادہ کوشش کرنا۔

پیغمبراکرم فرماتے ہیں : لان یودب احدکم ولدہ خیر لہ من ان یتصدق بنصف صاع کل یوم ۔

اکر آپ میں سے ہر ایک اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے تو یہ خدا کی راہ میں گندم اور جو کا صدقہ دینے سے بہتر ہے ۔

ایوب بن موسی پیغمبر خدا سے روایت کرتے ہیں : ما نحل والد ولدا نحلا افضل من ادب حسن

والدین کی طرف سے بچوں کے لئے نیک ادب اور اچھی تربیت سے بڑھ کرکوئی ہدیہ نہیں ہے

امام علی علیہ السلام اپنے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: والادب خیر میراث

ادب بہترین میراث ہے ( والدین کی طرف سے بچوں کے لئے )

انسان کے کمال میں تربیت کا اثر

حضرت علی علیہ السلام ، پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں: یعرف المؤ من منزلتہ عنـد ربـہ بأن یربى ولدا لہ كافیا قبل الموت

خدا کی نگاہ میں مومن کی قدر و منزلت بچوں کی اچھی تربیت کرنے میں ہے تاکہ مرنے سے پہلے وہ بے فکر ہو جائے

تربیت کرنے کا مناسب ترین وقت

بچپن اورنوجوانی تربیت کے لئے مناسب ترین وقت ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو اچھا اخلاق اور آداب اسلامی سکھائیں کیونکہ اس ٹائیم میں بچہ صرف اپنے ماں باپ اور گھر کے ماحول سے واقف ہوتا ہے یعنی اس کے کان اور آنکھیں بندھی ہوئی ہیں آپ جیسے چاہیں اس کی روحی و فکری تربیت کر سکتے ہیں اس وقت میں بچے کی روح انتہائی حساس ہوتی ہے یعنی ایک کیمرے کی مانند جو اسے دکھاتے جائیں گے وہ فلم بناتا جائے گا پھر بتدریج اس کو بڑھاتا جائے گا اگر اس دوران والدین بچے کی تربیت میں سستی کریں اور خود بچوں کے لیے نمونہ عمل نہ بنیں تو صرف روک ٹوک پر اکتفاء کریں تو بچے بجائے اچھا اثر لینے کے برا اثر لیں گے گھر سرے باہر برے اخلاق کا مظاہرہ کریں گے ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کووصیت فرماتے ہیں: وانما قلب الحدث کالارض الخالیہ ما القی فیھا من شی قبلتہ فبادرتک بالادب قبل ان یقسمو قلبک ویشتغل لبک

بےشک نوجوان کا دل خالی زمین کی طرح ہے جو آمادہ ہے کہ اس میں بیج بویا جائے پس اس میں اپنی تربیت کا بیج بوئیں قبل اس کے کہ زمین سخت ہو جائے اور اس کا ذہن دوسری چیزوں میں مشغول ہو جائے

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : یا بنی ان تادیت صغیرا انتفعت بہ کبیرا و من عنی بالادب اھتم بہ ، و من اھتم بہ تکلف علمہ و من تکلف علمہ اشتد لہ طلبہ ومن اشتد لہ طلبہ ، ادرک بہ منفعتہ فاتخذہ ، عادتہ ، و ایاک و الکسل منہ ، و الطلب بغیرہ

اے میرے بیٹے : اگر بچپن میں ادب سیکھا تو جوانی میں اس سے فائدہ اٹھاو گے ۔ اے بیٹے : جو بھی ادب و معرفت چاہتا ہے اس کی تلاش بھی کرتا ہے

بچے کے کان میں آذان و اقامت کہنے کی اہمیت و فضیلت

ایک ایسا مستحب عمل کہ جس کی پیغمبر اسلام اور آئمہ اہل بیت نے سب سے زیادہ تاکید کی ہے وہ یہ ہے کہ ماں باپ کو چاہیے بچے کی ولادت کے بعد سب سے پہلے بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں کیونکہ اسکے بچے پر روحانی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بچے کو کئی قسم کی آفات و بلییات سے محفوظ رکھتے ہیں ۔

1 شیطان بچے سے دور رہتا ہے

سکونی امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے فرمایا : من ولد لہ مولود فلیوذن فی اذنہ الیمنی باذان الصلوۃ ، ولیقم فی اذنہ الیسری فانھا عصمۃ من الشیطان الرجیم[1] ۔

جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اسکو چاہیے کہ بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہے کیونکہ یہ عمل بچے کو شیطاں کے شر سے محفوط رکھتا ہے ۔

ایک اور مقام پر امام علی پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : فان ذلک عصمۃ من الشیطان الرجیم و الافزاع لہ [2] ۔

بچے کے کان میں آذان و اقامت کہنا بچے کو شیطان سے محفوظ رکھتا ہے اور بچہ خواب میں بھی نہیں ڈرتا ۔

پیغمبر اسلام حضرت علی سے فرماتے ہیں : یا علی اذا ولد لک غلام او جاریۃ فاذن فی اذنہ الیمنی و اقم فی الیسری ، فانہ لا یضرہ الشیظان ابدا[3] ۔

اے علی ۔ اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں کیونکہ اس سے شیطان کبھی بھی بچے کو نقصان نہیں پہنچا پائے گا ۔

امام حسین پیغمبر اسلام سے نقل فرماتے ہیں: من ولد لہ مولود فاذن فی اذنہ الیمنی ، واقام فی اذنہ الیسری لم تضرہ ام الصبیان[4] ۔

جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کو چاہیے کہ بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہے کیونکہ یہ عمل بچے کو ام الصبیان [5] سے محفوط رکھتا ہے ۔

2 پیغمبراسلام کا امام حسن و امام حسین کے کان میں آذان دینا

ابو رافع کہتا ہے ان النبی اذن فی اذن الحسن و الحسین حین ولدا و امر بہ[6] ۔

پیغمبر اسلام نے امام حسن اور امام حسین کے کان میں آذان کہی اور ایسا کرنے کا حکم فرمایا ۔

3 امام کاظم کا اپنے بیٹے امام رضا کے کان میں آذان کہنا

علی بن میثم اپنے باپ سے نقل کرتا ہے

قال سمعت امی تقول : سمعت نجمہ ام الرضا تقول فی حدیث : لما وضعت ابنی علیا دخل الی ابوہ موسی بن جعفر فناولتہ ایاہ فی خرفۃ بیضاء فاذن فی اذنہ الیمنی ، و اقام فی الیسری ، و دعا بماء الفرات فحنکہ بہ ، ثم ردہ الی فقال : خذیہ ؛ فانہ بقیۃ اللہ فی ارضہ[7] ۔

میں نے اپنی ماں سے سنا ہے وہ کہتی ہیں : امام رضا کی والدہ نجمہ کہتی ہیں کہ جب امام رضا پیدا ہوئے ابھی سفید کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے کہ امام کاظم کمرے میں داخل ہوئے اور اپنے بیٹے کو ہاتھوں پہ اٹھایا دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہی پحر آب فرات طلب کیا اور آب فرات کی گھٹی دی اور مجھے واپس دیتے ہوئے فرمایا بقیۃ اللہ زمین پر ہیں۔

بچے کا نام رکھنے کا حکم

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا نام رکھا جاتا ہے اور یہ سنت ہے والدین کو چاہیے بچے کا اچھا نام انتخاب کریں کیونکہ ساری زندگی بچے کو اسی نام سے پکارا جانا ہے

سنت نام گذاری

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : لا یُولَد لَنا وَلَدٌ اِلّا سَمَّیناهُ مُحَمَّداً،فَاِذا مَضی سَبعَةُ اَیامٍ فَاِن شِئنا غَیِّرنا وَاِلّا تَرَکنَا [8]

ہم اپنے ہر بچے کا نام محمد رکھتے ہیں پھر ساتویں دن اگر نام تبدیل کرنا ہو تو تبدیل کرتے ہیں وگرنہ محمد ہی رہنے دیتے ہیں

اچھا نام اور حق اولاد

حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمہ و یحسن ادبہ [9]

والد پر بچے کا حق ہے کہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : قال رسول اللہ ان اول ما ینحل احدکم ولدہ الاسم الحسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ[10]

پیغمبر فرماتے ہیں بہترین ہدیہ جو آپ اپنے بچے کو دیتے ہیں وہ اچھا نام ہے پس اپنے بچوں کیلئے اچھے نام انتخاب کریں

موسی بن بکر حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : اول ما یبر الرجل ولدہ ان یسمیہ باسم حسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ [11]

مرد کی پہلی نیکی اور احسان بچے پر یہ ہے اسکا اچھا سا نام منتخب کریں پس اپنے بچوں کے لئے بہتریں ناموں میں سے انتخاب کریں۔

قیامت کے دن اچھے نام کی تاثیر

وفی الخبر ان رجلا یؤتی فی قیامہ و اسمہ محمد ، فعقول اللہ لہ : ما استحییت ان عصیتنی و انت حبیبی ، و انا استحیی ان اعذبک و انت سمیی حبیبی [12]

روایت میں آیا ہے قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس کا نام محمد ہو گا اللہ تعالی کی طرف سے اسے خطاب کیا جائے گا کہ تجھے شرم نہ آئی میری معصیت کرتے ہوئے حالانکہ تو میرے حبیب کا ھم نام ہے ، مجھے شرم آتی ہے تجھے عذاب دیتے ہوئے کیونکہ تو میرے حبیب ۔ محمد مصطفی کا ہم نام ہے

امام صادق علیہ السلام اپنے اجداد سے نقل فرماتے ہیں : اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد : الا لیقم کل من اسمہ محمد ، فلیدخل الجنۃ لکرامۃ سمیہ محمد [13]

قیامت کے دن ایک ندا دی جائے گی کہ جس کا نام محمد ہے وہ محمد مصطفی کے ھم نام ہونے کے صدقے سیدھا جنت میں چلا جائے

روز قیامت انسانوں کو ان کے ناموں سے پکارا جائے گا

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: استحسنوا اسماءکم فانکم تدعون بھا یوم القیامۃ : قم یا فلاں بن فلاں الی نورک ، قم یا فلاں بن فلاں لا نور لک [14]

اپنے اچھے نام رکھو کیونکہ قیامت کے دن آپ کو اپنے ناموں سے پکارا جائے گا، کہ اے فلان بن فلاں اٹھو اور اپنے نور کی جانب چلو ۔۔۔

بیٹوں کیلئے بہترین نام

ابن عمر پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : احب الاسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن [15]

اللہ تعالی کے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں

ایک شخص نے اپنے بچے کے نام کے بارے میں امام صادق علیہ السلام سے مشورت کی تو امام نے اسے فرمایا : سمہ اسما من العبودیہ فقال : ای الاسماء ھو قال : عبد الرحمن [16]

خدا کی بندگی والے ناموں میں سے ایک رکھ لو تو اس نے پوچھا کون سا رکھوں تو امام نے فرمایا عبد الرحمن رکھ لو۔

پیغمبر اکرم سے روایت نقل ہے آپ نے فرمایا: من ولد لہ اربعۃ اولاد و لم یسمہ احدھم باسمی فقد جفانی [17]

جس کے چار بیٹے ہوں اور ایک کا نام بھی محمد نا ہو تو اس نے میرے حق میں جفا کی ہے ۔

ابو ہارون کہتا ہے میں مدینہ میں امام صادق علیہ السلام کا ہمنشین تھا کچھ دن امام علیہ السلام نے مجھے نہ دیکھا کچھ دن بعد جب میں امام کے پاس گیا تو امام نے فرمایا : لم ارک منذ ایام یا ابا ھارن فقلت : ولد لی غلام ۔ فقال : بارک اللہ لک ، فما سمیتہ ؟ قلت: سمیتہ محمدا۔ فأقبل بخدہ نحو الارض و ھو یقول: محمد ، محمد ، محمد حتی کان علصق خدہ بالارض ، ثم قال : بنفسی و بولدی و باھلی و بأبوی و باھل الارض کلھم جمیعا الفداء لرسول للہ ، لا تسبہ ولا تضربہ ولا تسیء الیہ ، و اعلم أنہ لیس فی الرض فیھا اسم مھمد الا و ھی تقدس کل یوم [18]

اے ابو ہارون کچھ دن سے آپ کو نہیں دیکھا میں نے عرض کی مولا خدا نے مجھے بیٹا دیا ہے ، فرمایا مبارک ہو بچے کا نام کیا رکھو گے ؟ میں نے عرض کی محمد مولا نے جیسے ہی محمد کا نام سنا تھوڑا سا جھکے اور فرمایا محمد ، محمد ، محمد پھر فرمایا میں میرے ماں باپ بیوی بچے بلکہ روئے زمین پر رہنے والے سب لوگ رسول اللہ پر قربان جائیں ، کبھی اپنے بچے کو گالی نہ دینا اور اس سے بد سلوکی بھی نہ کرنا

ابو امامہ روایت کرتے ہیں آپ (ص) نے فرمایا: من ولد لہ مولود ذکر فسمی محمدا حبا و تبرکا باسمی ، کان ھو و مولودہ فی الجنہ [19]

جس کسی کا بیٹا پیدا ہو اور وہ مجھ سے محبت اور تبرک کیلئے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بچہ دونوں جنت میں جائیں گے

جابر ،پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا: فما من بیت فیہ اسم محمد الا اوسع اللہ علیھم الرزق ، فاذا سمیتموہ فل تضربوہ و لا تشتموہ [20]

جس گھر میں نام محمد ہو خداوند متعال اس گھر میں رزق کو بڑھا دیتا ہے پس اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھا ہے تو اسے مارنا بھی نہیں اور اسےگالی بھی مت دینا ۔

نام محمد، خیروبرکت ہے

امام رضا فرماتے ہیں : البیت الذی فیہ محمد یصبح اھلہ بخیر و یمسون بخیر [21]

جس گھر میں محمد کا نام ہو اس گھر میں رہنے والوں پر خیر و برکت رہتی ہے

پیغمبراکرم نے فرمایا: اذاسمیتم الولد محمد فاکرموہ ، و أوسعوا لہ فی المجلس ، ولا تقبھوا لہ وجھا [22]

اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اس کا احترام کرو اور اپنی محفلوں میں اسے جگہ دو اور اس کے کاموں کو نا پسند مت کرو

انس بن مالک نقل کرتے ہیں پیغمبر اکرم نے فرمایا : کیسے اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے ہواور پھر انہیں نفریں کرتے ہو؟

اسحاق بن عمار کہتے ہیں میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی خداوند متعال نے مجھے بیٹا عطا کیا ہےتو امام علیہ السلام نے فرمایا : ألا سمیتہ محمد قلت : قد فعلت ۔ قال: فلا تضرب محمدا ولا تشتمہ جعلہ اللہ قرۃ عین لک فی حیاتک و خلف صدق بعدک [23]

کیا تم نے اپنے بچے کا نام محمد نہیں رکھا ؟ میں نے عرض کی مولا محمد ہی رکھا ہے تو مولا نے فرمایا محمد کو نہ مارنا اور نہ گالی دینا کیونکہ جب تک تم زندہ ہو خدا تیرے لیئے آنکھوں کا نور قرار دے گا اور تیرے مرنے کے بعد تیرا نیک و صادق جانشین قرار دے گا ۔

نام علی وآئمہ اہل بیت علیہم السلام

سلیمان جعفری کہتا ہے سمعت اباالحسن یقول: لا تدخل فقر بیتا فیہ اس محمد او أحمد أو علی أو الحسن أو الحسین أو جعفر أو طالب أو عبداللہ أو فاطمہ من النساء [24]

میں نے ابوالحسن سے سنا آپ نے فرمایا : جس گھر میں محمد،احمد،علی، حسن،حسین ،جعفر،طالب،عبداللہ،یا فاطمہ نام ہو اس گھر میں کبھی فقر و تنگدستی داخل نہیں ہو سکتی۔

پیغمبروں کے نام

پیغمبراکرم نے فرمایا : اذا کان اسم بعض أھل البیت اسم نبی لم تزل البرکۃ فیھم [25]

اگراہل خانہ میں سے کسی کا نام کسی نبی کے نام پر ہو تو ان میں خیر و برکت رہتی ہے ۔

اصبغ بن نباتہ امام علی سے اور امام علی رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ما من اھل بیت فیھم اسم نبی الا بعث اللہ عزوجل الیھم ملکا عقدسھم بالغداۃ والعشی [26]

جس گھر میں اہل خانہ میں سے کسی کا نام کسی نبی کے نام پر ہو گا تو خدا اس گھر پر ایک فرشتہ مقرر کر دے گا جو صبح و شام ان پر تقدیس کرے گا۔

ابو وہب جسمی پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : تسموا بأسماء الأبیاء وأحب الأسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن ۔۔۔ و أقبحھا حرب و مرۃ[27]

اپنے لئے پیغمبروں کے نام انتخاب کرو۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں اور برے نام حرب و مرہ ہیں۔

فرعونوں اور بادشاہوں کے نام

عمر نقل کرتے ہیں کہ ہمسر پیغمبر اکرم جناب ام سلمی کے بھائی کا بیٹا پیدا ہوا تو اسکا نام ولید رکھا گیا جب پیغمبر اکرم کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا : سمیتموہ باسم فراعنتکم غیروا اسمہ ، فسموہ عبداللہ[28] ۔

بچے کا نام اپنے فرعونوں کے ناموں پہ رکھ دیا ہے اسکا نام چینج کرو اور عبداللہ رکھو

ابوھریرہ سے نقل ہے کہ اسی ماجرہ کے بارے میں رسول اللہ سے روایت نقل ہے آپ نے فرمایا : سمیتموہ بأسامی فراعنتکم لیکونن فی ھذہ الامۃ رجل یقال لہ الولید وھو شر علی ھذہ الأمۃ من فرعون علی قومہ[29] ۔

بچے کا نام اپنے فرعونوں کے ناموں پہ رکھ دیا ہے ، اگاہ ہو جاو اس امت میں ایک ایسا شخص آنے والا ہے جس کا نام ولید ہو گا اور اس کی برائیاں اور بدکرداریاں آپ کے فرعونوں سے کہیں زیادہ ہوں گی ۔

بچوں کے نام دشمنان اہل بیت پر رکھنے سے شیطان خوش ہوتا ہے

جابر روایت کرتا ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے ایک نوجوان سے فرمایا : مااسمک قال: محمد ۔ قال : بم تکنی قال : ابو جعفر : لقد احتظرت من الشیطان احتظارا شدیدا ۔ ان الشیطان اذا سمع منادیا ینادی : یامحمد او یا علی ذاب کما یذوب الرصاص حتی اذا سمع منادیا ینادی باسم عدو من اعدائنا ۔ اھتز و اختال [30] ۔

آپ کا نام کیا ہے ؟ کہا محمد ۔ فرمایا : آپ کی کنیت کیا ہے؟ کہا علی ۔ تو حضرت نے فرمایا : آپ نے اس کنیت سے اپنے کو شیاطین کے شر سے محفوظ کر لیا ہے ۔ جب شیطان سنتا ہے کہ محمد یا علی کا نام پکارا گیا ہے پریشان ہو جاتا ہے اور جب ہمارے دشمنوں کا نام پکارا جائے تو خوشحال ہو جاتا ہے ۔

پیغمبراکرم ناپسندیدہ ناموں کو تبدیل کرنے کا حکم فرماتے تھے

مفصلی نقل کرتا ہے بادشاہ روم کی طرف سے ایک مسیحی رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو پیغمبر اکرم (ص) نے اس سے پوچھا ما اسمک فقلت: اسمی عبدالشمس ، فقال لی: بدل اسمک فأنی سمیتک عبدالوھاب[31]،

آپ کا کیا نام ہے ؟ عرض کی عبدالشمس تو آپ ص نے فرمایا : اپنا نام تبدیل کرو میں نے آپ کا نام عبدالوھاب رکھ دیا ہے۔

سھل بن سعد کہتا ہے کان رجل من اصحاب النبی اسمہ أسود ، فسماہ رسول اللہ أبیض [32]

پیغمبر کے ایک صحابی کا نام اسود (سیاہ) تھا تو آپ(ص) نے اسکا نام تبدیل کر کے ابیض (سفید) رکھ دیا ۔

عتبہ بن سلمی کہتے ہیں : کان النبی اذا أتاہ الرجل و لہ اسم لا یحبہ حولہ[33] ۔

اگر کوئی شخص پیغمبر کے پاس آتا اور آپ ص کو اس کا نام اچھا نہ لگتا تو آپ ص اس کا نام چینج کر دیتے ۔

حسین بن علوان امام صادق اور امام اپنے اجداد سے نقل فرماتے ہیں۔

ان رسول اللہ کان یغیر الاسماء القبیحہ فی الرجال و البلدان [34]

جن بچوں اور شہروں کے نام اچھے نہیں ہوتے تھے آپ (ص) انہیں چینج کر دیتےتھے ۔

شہداء کے نام اور یادیں زندہ رکھنا

ابن قداح امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے : قال جاء الرجل الی نبی فقال : ولد لی غلام فماذا أسمہ قال : أحب الاسماء الی حمزہ[35]

ایک شخص پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ میرا بیٹا ہوا ہے اس کا نام کیا رکھوں ؟ تو آپ ص نے فرمایا میرا پسندیدہ نام حمزہ ہے ۔

ختنہ کرنے کا بیان

ختنہ کرنا ایک ایسی سنت ہے جس کی تاکید پیغمبر اسلام اور تمام آئمہ نے فرمائی ہے ولادت کے ساتویں روز بچے کا ختنہ کرنا چاہیے ساتویں روز ختنہ کرنے میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ امام علی پیغمبر اسلام سے نقل کرتے ہیں : اختتنوا اولادکم یوم السابع فانہ اطھر و اسرع نباتا للحم و اروح للقلب [36]۔

اپنے بچوں کا ولادت کے ساتویں روز ختنہ کریں کیونکہ یہ عمل بچے کیلیے پاکیزہ تراور بچے کی جسمانی نشونما میں جلدی اور بچے کی روح کی تراوت کا سبب بنتا ہے ۔

علی علیہ السلام فرماتے ہیں : اختتنو اولادکم یوم السابع ، ولا یمنعکم حر و لا برد فانہ طھر للجسد[37] ۔

اپنے بچوں کا ولادت کے ساتویں روز ختنہ کریں اور کبھی بھی گرمی یا سردی آپ کو روکنے نہ پائے کیونکہ ختنہ جسم کی طھارت اور پاکیزگی ہے ۔

نومولود کا سر مونڈوانے کا حکم

ولادت کے ساتویں روز بچے کا سر منڈوانا سنت ہے مان باپ کو چاہیے ساتویں دن بچے کا سر منڈوائیں مرحوم شیخ حر عاملی صاحب وسائل الشیعہ نے 15 ویں جلد میں تقریبا تیس روایتیں ذکر کرتے ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ساتویں روز بچے کا سر منڈوانا سنت موکد ہے ۔ امام صادق اپنے اجداد سے نقل کرتے ہیں : ان رسول اللہ امر بحلق شعر الصبی الذی یولد بہ المولود عن راسہ یوم سابعہ [38]۔

رسول اکرم نے دستور فرمایا کہ ولادت کے ساتویں روز بچے کا سر منڈوا دو ۔

علی بن جعفر کہتے ہیں میں نے اپنے بھائی امام موسی کاظم سے ساتویں دن سر منڈوانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اذا مضی سبعہ ایام فلیس علیہ حلق[39] ۔

اکر سات روز گزر جائیں تو پھر سر منڈوانے کا فائدہ نہیں ۔

بالوں کے برابر صدقہ دینا

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : وحلقت فاطمہ رووسھما – الحسن و الحسین – وتصدقت بوزن شعرھما فضۃ [40]۔

سیدہ فاطمہ نے اپنے دونوں بچوں – امام حسن و امام حسین – کے سر منڈوائے تو بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دی۔

عقیقہ کرنے کا حکم

بچے کی ولادت کے ساتویں روز بچے کا سر منڈوانے کے بعد باپ خدا کی راہ میں جانور قربان کرے اور فقیروں میں اپنے دوستوں میں اور ھمسایوں میں تقسیم کرے ، اس سنت اسلامی کو عقیقہ کہتے ہیں ۔ اسلام میں عقیقہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے اور یہ ایسا مستحب ہے کہ جو بچے کے بالغ ہونے تک باپ کے ذمہ ہے اور بالغ ہونے کے بعد خود بچے کے ذمہ باقی رہتا ہے اور یہ اتنی زیادہ تاکید ان حکمتوں کی وجہ سے ہے جو عقیقہ میں چھپی ہوئی ہیں ۔

1 بیمہ سلامتی

سمرہ ،پیغمبر اکرم سے نقل کرتا ہے ،آپ نے فرمایا : کل غلام رھینۃ بعقیقۃ[41] ۔

ہر بچہ عقیقہ سے بیمہ ہوتا ہے ۔

امام صادق رسول خدا سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا : کل مولود مرتھن بعقیقہ فکہ والداہ او ترکاہ [42] ۔

ہر مولود کی سلامتی اس کے عقیقہ کرنے میں ہے اب والدیں کے ذمہ ہے کہ وہ بچے کا عقیقہ کرتے ہیں یا نہیں ۔

2 عقیقہ روز ہفتم

امام صادق فرماتے ہیں : الغلام رھن بسابعۃ بکبش یسمی فیہ یعق عنہ [43] ۔

ھر بچے کی سلامتی جانور قربان کرنے کے ساتھہ جڑی ہے جو اس کی طرف سے عقیقہ کیا جاتا ہے ۔

پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : اذا کان یوم سابعہ فاذبح فیہ کبشا [44] ۔

بچہ جب سات دن کا ہو جائے تو ایک کبش ذبح کریں

3 پیغمبر نے حسنین کا عقیقہ کیا

امام صادق فرماتے ہیں : سمی رسول اللہ حسنا و حسینا یوم سابعھما و شق من اسم الحسن و الحسین و عق عنھما شاۃ شاۃ [45] ۔

پیغمبر اسلام نے ساتویں روز حسن و حسین کا نام رکھا نام حسین حسن سے لیا گیا ہے اور ہر ایک کیلئے گوسفند عقیقہ کیا ۔

4 سیدہ فاطمہ نے حسنین کا عقیقہ کیا ۔

امام صادق فرماتے ہیں : عقت فاطمہ عن ابیھا صلوات اللہ علیھما و حلقت رووسھما فی الیوم السابع [46] ۔

فاطمہ الزہراء نے ساتویں روز اپنے دونوں بچوں کا عقیقہ کیا اور ان کے سر منڈوائے ۔

5 امام باقر کا اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا

ولد لابی جعفر غلامان ، فامر زید بن علی ان یشتری لہ جزورین للعقیقہ [47]۔۔۔

امام باقر کے دو بچے ہوئے تو امام نے زید بن علی کو حکم دیا کہ دو اونٹ عقیقہ کے لیے لے آو ۔

6 امام حسن عسکری کا امام زمانہ کے لیے عقیقہ کرنا ۔

ابراھیم بن ادریس کہتا ہے وجہ الی مولای ابو محمد ۔۔۔ بکبشین و کتب : بسم اللہ الرحمن الرحیم عق ھین الکبشین عن مولاک و کل ھناک اللہ و اطعم اخوانک ففعلت[48] ۔۔۔۔۔ ،

میرے مولا امام حسن عسکری نے دو گوسفند میرے پاس بھیجے اور ساتھہ لکھہ بھیجا ، بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ دو گوسفند اپنے مولا امام زمان کے لیئے عقیقہ کرو ان کا گوشت کھاو اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلاو تو میں نے ایسا ہی کیا ۔

7 بیٹے اور بیٹی کا عقیقہ ایک ہی ہے

پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : العقیقۃ شاۃ من الغلام و الجاریۃ سواء [49] ۔

عقیقہ ایک گوسفند ہے اور اس میں بیٹی بیٹے کا کوئی فرق نہیں

8 عقیقہ یا اس کے برابر صدقہ دینا ۔

عبداللہ بن بکر کہتے ہیں کنت عند ابی عبداللہ فجاءہ رسول اللہ عمہ عبداللہ بن علی ، فقال: یقول لک عمک انا طلبنا العقیقہ فلم نجدھا ، فما تری نتصدق بثمنھا ؟ قال: لا ۔ ان اللہ یحب اطعام الطعام و اراقۃ الدماء [50] ۔

امام صادق کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ آپ علیہ السلام کے چچا کا قاصد آیا اور عرض کرنے لگا آپ کے چچا کہتے ہیں : میں عقیقہ کے لیے گوسفند ڈھونڈتا رہا ہوں لیکن نہیں ملا ، آپ کی کیا رائے ہے نقدی پیسے صدقہ کر دوں ؟ تو امام نے فرمایا ایسا نہ کرنا کیونکہ خدا اطعام اور خوں بھانے کو پسند کرتا ہے ۔

محمد بن مسلم کہتا ہے ولد لابی جعفر غلامان ، فامر زید بن علی ان یشتری لہ جزورین للعقیقۃ وکان رمن غلاء ۔ فاشتری لہ واحدۃ و عسرت علیہ الاخری ، فقال لابی جعفر و قد عسرت علی الاخری ، فاتصدق بثمنھا ؟ قال: لا ، اطلبھا فان عزوجل یحب اھراق الدماء و اطعام الطعام [51] ۔

امام باقر کے دو بیٹے ہوئے تو امام نے زید بن علی کو حکم فرمایا کہ عقیقہ کیلئے دو اونٹ لے آو ان دنوں روزحار زرا اطھا نہیں تھا زید بن علی صرف ایک ہی اونٹ خرید سکے ، امام سے عرض کرتا ہے دوسرا اونٹ خریدنا میرے لیے مشکل ہے کیا اونٹ کی قیمت صدقہ کرسکتا ہوں ؟ تو امام نے فرمایا کوشش کرو اونٹ خریدوکیونکہ خدا خون بھانے اور اطعام کرنے کو پسند کرتا ہے

بچے کا نام رکھنے کا حکم

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا نام رکھا جاتا ہے اور یہ سنت ہے والدین کو چاہیے بچے کا اچھا نام انتخاب کریں کیونکہ ساری زندگی بچے کو اسی نام سے پکارا جانا ہے

سنت نام گذاری

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : لا یُولَد لَنا وَلَدٌ اِلّا سَمَّیناهُ مُحَمَّداً،فَاِذا مَضی سَبعَةُ اَیامٍ فَاِن شِئنا غَیِّرنا وَاِلّا تَرَکنَا [52]

ہم اپنے ہر بچے کا نام محمد رکھتے ہیں پھر ساتویں دن اگر نام تبدیل کرنا ہو تو تبدیل کرتے ہیں وگرنہ محمد ہی رہنے دیتے ہیں

اچھا نام اور حق اولاد

حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمہ و یحسن ادبہ [53]

والد پر بچے کا حق ہے کہ اس کا اچھا سا نام رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : قال رسول اللہ ان اول ما ینحل احدکم ولدہ الاسم الحسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ[54]

پیغمبر فرماتے ہیں بہترین ہدیہ جو آپ اپنے بچے کو دیتے ہیں وہ اچھا نام ہے پس اپنے بچوں کیلئے اچھے نام انتخاب کریں

موسی بن بکر حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : اول ما یبر الرجل ولدہ ان یسمیہ باسم حسن ، فلیحسن احدکم اسم ولدہ [55]

مرد کی پہلی نیکی اور احسان بچے پر یہ ہے اسکا اچھا سا نام منتخب کریں پس اپنے بچوں کے لئے بہتریں ناموں میں سے انتخاب کریں

قیامت کے دن اچھے نام کی تاثیر

وفی الخبر ان رجلا یؤتی فی قیامہ و اسمہ محمد ، فعقول اللہ لہ : ما استحییت ان عصیتنی و انت حبیبی ، و انا استحیی ان اعذبک و انت سمیی حبیبی [56]

روایت میں آیا ہے قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس کا نام محمد ہو گا اللہ تعالی کی طرف سے اسے خطاب کیا جائے گا کہ تجھے شرم نہ آئی میری معصیت کرتے ہوئے حالانکہ تو میرے حبیب کا ھم نام ہے ، مجھے شرم آتی ہے تجھے عذاب دیتے ہوئے کیونکہ تو میرے حبیب ۔ محمد مصطفی کا ہم نام ہے

امام صادق اپنے اجداد سے نقل فرماتے ہیں : اذا کان یوم القیامۃ نادی مناد : الا لیقم کل من اسمہ محمد ، فلیدخل الجنۃ لکرامۃ سمیہ محمد [57]

قیامت کے دن ایک ندا دی جائے گی کہ جس کا نام محمد ہے وہ محمد مصطفی کے ہم نام ہونے کے صدقے سیدھا جنت میں چلا جائے

روز قیامت انسانوں کو ان کے ناموں سے پکارا جائے گا

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: استحسنوا اسماءکم فانکم تدعون بھا یوم القیامۃ : قم یا فلاں بن فلاں الی نورک ، قم یا فلاں بن فلاں لا نور لک [58]

اپنے اچھے نام رکھو کیونکہ قیامت کے دن آپ کو اپنے ناموں سے پکارا جائے گا، کہ اے فلان بن فلاں اٹھو اور اپنے نور کی جانب چلو

بیٹوں کیلئے بہترین نام

ابن عمر پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : احب الاسماء الی اللہ عبداللہ و عبدالرحمن [59]

اللہ تعالی کے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں

ایک شخص نے اپنے بچے کے نام کے بارے میں امام صادق علیہ السلام سے مشورت کی تو امام نے اسے فرمایا : سمہ اسما من العبودیہ فقال : ای الاسماء ھو قال : عبد الرحمن [60]

خدا کی بندگی والے ناموں میں سے ایک رکھ لو تو اس نے پوچھا کون سا رکھوں تو امام نے فرمایا عبد الرحمن رکھ لو۔

پیغمبر اکرم سے روایت نقل ہے آپ نے فرمایا: من ولد لہ اربعۃ اولاد و لم یسمہ احدھم باسمی فقد جفانی [61]

جس کے چار بیٹے ہوں اور ایک کا نام بھی محمد نا ہو تو اس نے میرے حق میں جفا کی ہے ۔

ابو ھارون کہتا ہے میں مدینہ میں امام صادق علیہ السلام کا ہمنشین تھا کچھ دن امام علیہ السلام نے مجھے نہ دیکھا کچھ دن بعد جب میں امام کے پاس گیا تو امام نے فرمایا : لم ارک منذ ایام یا ابا ھارن فقلت : ولد لی غلام ۔ فقال : بارک اللہ لک ، فما سمیتہ ؟ قلت: سمیتہ محمدا۔ فأقبل بخدہ نحو الارض و ھو یقول: محمد ، محمد ، محمد حتی کان علصق خدہ بالارض ، ثم قال : بنفسی و بولدی و باھلی و بأبوی و باھل الارض کلھم جمیعا الفداء لرسول للہ ، لا تسبہ ولا تضربہ ولا تسیء الیہ ، و اعلم أنہ لیس فی الرض فیھا اسم مھمد الا و ھی تقدس کل یوم [62]

اے ابو ھارون کچھ دن سے آپ کو نہیں دیکھا میں نے عرض کی مولا خدا نے مجھے بیٹا دیا ہے ، فرمایا مبارک ہو بچے کا نام کیا رکھو گے ؟ میں نے عرض کی محمد مولا نے جیسے ہی محمد کا نام سنا تھوڑا سا جھکے اور فرمایا محمد ، محمد ، محمد پھر فرمایا میں میرے ماں باپ بیوی بچے بلکہ روئے زمین پر رہنے والے سب لوگ رسول اللہ پر قربان جائیں ، کبھی اپنے بچے کو گالی نہ دینا اور اس سے بد سلوکی بھی نہ کرنا

ابو امامہ روایت کرتے ہیں آپ (ص) نے فرمایا: من ولد لہ مولود ذکر فسمی محمدا حبا و تبرکا باسمی ، کان ھو و مولودہ فی الجنہ [63]

جس کسی کا بیٹا پیدا ہو اور وہ مجھ سے محبت اور تبرک کیلئے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بچہ دونوں جنت میں جائیں گے

جابر پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا: فما من بیت فیہ اسم محمد الا اوسع اللہ علیھم الرزق ، فاذا سمیتموہ فل تضربوہ و لا تشتموہ [64]

جس گھر میں نام محمد ہو خداوند متعال اس گھر میں رزق کو بڑھا دیتا ہے پس اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھا ہے تو اسے مارنا بھی نہیں اور اسےگالی بھی مت دینا ۔

نام محمد، خیروبرکت ہے ۔

امام رضا فرماتے ہیں: البیت الذی فیہ محمد یصبح اھلہ بخیر و یمسون بخیر [65]

جس گھر میں محمد کا نام ہو اس گھر میں رہنے والوں پر خیر و برکت رہتی ہے

پیغمبراکرم نے فرمایا: اذاسمیتم الولد محمد فاکرموہ ، و أوسعوا لہ فی المجلس ، ولا تقبھوا لہ وجھا [66]

اگر اپنے بچے کا نام محمد رکھو تو اس کا احترام کرو اور اپنی محفلوں میں اسے جگہ دو اور اس کے کاموں کو نا پسند مت کرو

انس بن مالک نقل کرتے ہیں پیغمبر اکرم نے فرمایا : کیسے اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے ہواور پھر انہیں نفریں کرتے ہو؟

اسحاق بن عمار کہتے ہیں میں امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی خداوند متعال نے مجھے بیٹا عطا کیا ہےتو امام علیہ السلام نے فرمایا : ألا سمیتہ محمد؟ قلت : قد فعلت ۔ قال: فلا تضرب محمدا ولا تشتمہ جعلہ اللہ قرۃ عین لک فی حیاتک و خلف صدق بعدک [67]

کیا تم نے اپنے بچے کا نام محمد نہیں رکھا ؟ میں نے عرض کی مولا محمد ہی رکھا ہے تو مولا نے فرمایا محمد کو نہ مارنا اور نہ گالی دینا کیونکہ جب تک تم زندہ ہو خدا تیرے لیئے آنکھوں کا نور قرار دے گا اور تیرے مرنے کے بعد تیرا نیک و صادق جانشین قرار دے گا ۔

اولاد کی شخصیت میں ماں کے دودھ کی تاثیر

ایک اہم نکتہ جس کا ماں کو خصوصی خیال رکھنا چاہیے وہ بچے کو دودھ پلانا ہے اگرچہ بعض لوگ اتنے اہم مسئلہ کی طرف توجہ نہیں دیتے مگر اسلام نے اس مسئلہ کی طرف خصوصی توجہ دی ہے

بعض اوقات ماں باپ بہت ہی اچھے اور متدین ہوتے ہیں مگر اولاد منحرف ہو جاتی ہے اور جب ہم ان کے منحرف ہونے کی وجہ ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ ماں کا بچے کو دودھ پلانے میں بے توجہی کرنا ہے اگر ماں دودھ پلانے میں بچے پر تھوڑا زیادہ توجہ اور عنایت کرتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا کیونکہ شیر خوارگی کے دوران بچے کی نہ صرف جسمانی گروتھ ہوتی ہے بلکہ روحانی گروتھ بھی ہوتی ہے ماں کے دودھ کے ساتھ ماں کی گفتار اور رفتار بھی بچے پر اثر انداز ہوتی ہے ۔

پیغمبر گرامی اسلام اور آئمہ اہل بیت کی روایات میں ، بچے کو دودھ پلانے کی اہمیت کے بارے میں خصوصی ہدایات ذکر ہوئی ہیں

ماں کا بچے کو دودھ پلانے کا اجر و ثواب

امام صادق ، پیغمبر گرامی اسلام سے روایت کرتے ہیں : أنما امرأۃ دفعت من بیت روجھا شیأمن موضع ترید بہ صلاحا نظراللہ الیھا و من نظراللہ الیہ لم یعذبہ ، فقالت أم سلمہ : یا رسول اللہ ذھب الرجل بکل خیر فأی شیء للنساء المساکین فقال : بلی اذا حملت المرأۃ کانت بمنزلۃ الصائم القائم المجاھد بنفسہ و مالہ و فی سبیل اللہ ، فاذا وضعت کان لھا من الاجر ما لا یدری أحد ما ھو لعظمہ فاذا ارضعت کان لھا بکل مصۃ کعدل عتق محرر من ولد اسماعیل فاذا فرغت من رضاعہ ضرب ملك کریم علی جنبھا و قال : استأنفی العمل فقد غفر لك[68] ۔

جو خاتون شوہر کا گھر مرتب کرنے کیلئے سامان اٹھاتی ہے اور گھر کو مرتب کرتی ہے تو خدا اس پر نظر کرم کرتا ہے اور جس پر خدا کی نظر کرم ہو اس کو کبھی عذاب نہیں ہو سکتا

أم سلمی نے کہا : یا رسول اللہ تمام نیکیاں تو مرد لے گئے عورتوں کے حصے میں بھی کچھ ہے ؟ تو پیغمبر نے فرمایا : ہاں عورت جب حاملہ ہوتی ہے تو وہ اس مجاھد کی مانند ہے جو دن میں روزہ رکھے راتوں کو عبادت کرے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کر دے ، اور جب بچہ پیدا کرتی ہے تو اسکا اتنا ثواب ہے کہ کوئی درک بھی نہیں کر سکتا اور جب بچے کو دودھ دیتی ہے تو ہر دفعہ دودھ پلانے کا ثواب اولاد اسماعیل سے غلام آزاد کرانے کے برابر ہے اور جب دودھ پلا لے تو ایک فرشتہ اس کے پہلو میں آ کے کہتا ہے خدا نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیئے ۔

ایک اور روایت میں آپ (ص) حولاء عطارہ کو فرماتے ہیں

فاذا وضعت حملھا و أخذت فی رضاعہ فما یمص الولد مصۃ من لبن أمہ الا کان بین یدیھا نورا ساطعا یوم القیامۃ یعجب من رآھا من الاولین و الآخرین ، و کتبت صائمۃ قائمۃ ۔۔ فاذا فطمت ولدھا ، قال الحق جل ذکرہ : یا أیتھا المرأۃ : قدغفرت لك ما تقدم من الذنوب ، فاستأنفی العمل[69] ۔

پس جب ماں بچے کو جنم دیتی ہے اور اسے اپنا دودھ پلاتی ہے تو جتنی دفعہ بچہ دودھ پیتا ہے تو ہر دفعہ کے بدلے میں قیامت کے دن ایک نور پیدا ہوگا ہر آنے والوں اور گذرے ہوؤں میں سے اس نور کو دیکھے گا تو حیران رہ جائے گا اور ماں کے نامہ اعمال میں روزہ دار اور شب زندہ دار کا ثواب لکھا جائے گا ۔۔۔ اگر ماں بچے کو دوھ نہ پلائے تو خدا کی آواز آتی ہے اے خاتون اپنے بچے کو دودھ پلا میں تیرے سارے گناہ معاف کر دوں گا ۔

بہترین دودھ

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : لیس للصبی لبن خیر من لبن أمہ[70]

بچے کیلئے ماں سے بہتر اور کوئی دودھ نہیں ۔

امام صادق (ع) امیر المؤمنین سے نقل کرتے ہیں : ما من لبن رضع بہ الصبی أعظم برکۃ علیہ من لبن أمہ[71]

بچے کیلئے ماں کے دودھ سے بڑھ کر کوئی دودھ بھی با برکت نہیں ہوسکتا ۔

(جاری ہے )



[1] وسائل الشیعہ ، ج15 ، ص 136 ؛ مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 137 ۔

[2] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 138 ۔

[3] تحف العقول ، ص 14 ۔

[4] کنز العمال ، ج 16 ، ص 457 ۔

[5] یہ ایک بیماری ہے جس میں بچے کو غش پڑتے ہیں ۔ فرھنگ جامع ، ج 1 ، ص 45 ۔

[6] کنز العمال ، ج 16 ، ص 599 ۔

[7] وسائل الشیعہ ، ج15 ، ص 138 ۔

[8] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 127 ۔

[9] کنز العمال ۔ ج 16 ، ص 477 ۔

[10] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 122 ۔

[11] ھمان ، ص 126

[12] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 130 ۔

[13] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 128 ۔

[14] عدۃ الداعی ۔ ص 78 ۔

[15] کنزالعمال ، ج 16 ، ص 417 ۔

[16] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[17] عدۃ الداعی ۔ ص 77 ۔

[18] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص126 ۔

[19] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[20] مجموعہ ورام ، ص 26 ۔

[21] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص127 ۔

[22] ھمان ، ج 15 ص 127 ؛ کنزالعمال ، ج 16 ص 418

[23] مکارم الاخلاق ، ص 25 ۔

[24] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص129 ۔

[25] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص129

[26] وسائل الشیعہ ، ج 157 ، ص 125 ۔

[27] کنز العمال ، ج 16 ، ص 200 ۔

[28] کنز العمال ، ج 16 ، ص 592

[29] ھمان ، ج 16 ، ص 430 ۔

[30] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 126 ۔

[31] مستدر الوسائل ، ج 15 ، ص 128 ۔

[32] کنز العمال ، ج 16 ، ص 596 ۔

[33] ھمان ، ص 596 ۔

[34] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 123 ۔

[35] ھمان ، ص 129 ؛ کنز العمال ، ج 16 ، ص 423 ۔

[36] کنز العمال ، ج 167 ، ص 436 ؛ وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 165 ، تھورے فرق کے ساتھہ مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 149 ۔

[37] تحف العقول ، ص 119 ۔

[38] مستدک الوسائل ، ج 15 ، ص 142 ۔

[39] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 169 ۔

[40] ھمان ، ج 15 ، ص 159 ۔

[41] کنزالعمال ، ج 16 ، ص 431 ؛ کتاب العیال ، 1 ، ص 216 و 433 ۔

[42] مستدرک الوسائل ج 15 ، ص 140 ۔

[43] بحار الانوار ، ج 43 ، ص 256 ۔

[44] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 143 ۔

[45] بحار الانوار ، ج 43 ، ص 257 ۔

[46] ھمان ، ص 256 – 257 ۔

[47] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 146 ۔

[48] محمد جواد طبسی ، حیاۃ الامام العسکری ، ص 80 ۔

[49] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 142 ۔

[50] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 146 ۔

[51] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 146 ۔

[52] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 127 ۔

[53] کنز العمال ۔ ج 16 ، ص 477 ۔

[54] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 122 ۔

[55] ھمان ، ص 126

[56] مستدرک الوسائل ، ج 15 ، ص 130 ۔

[57] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 128 ۔

[58] عدۃ الداعی ۔ ص 78 ۔

[59] کنزالعمال ، ج 16 ، ص 417 ۔

[60] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[61] عدۃ الداعی ۔ ص 77 ۔

[62] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص126 ۔

[63] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص125 ۔

[64] مجموعہ ورام ، ص 26 ۔

[65] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص127 ۔

[66] ھمان ، ج 15 ص 127 ؛ کنزالعمال ، ج 16 ص 418

[67] مکارم الاخلاق ، ص 25 ۔

[68] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 175 ۔

[69] مستدرک الوسائل م ج 15 ، ص 156 ۔

[70] ھمان ، ج 15 ، ص 1567 نقل از صحیفہ الرضا ، ص 42

[71] وسائل الشیعہ ، ج 15 ، ص 175 ۔




آیات روزہ

آیات روزہ

1. ٰیٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (البقرة، 2: 183)

اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

2. فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ (البقرة، 2: 185)

پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

3. وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۔ (الفرقان، 25: 63)

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لئے سجدہ ریزی اور قیامِ (نِیاز) میں راتیں بسر کرتے ہیں۔

4. تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۔ (السجدة، 32: 16)

ان کے پہلو اُن کی خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں۔

5. وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ ﷲ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ ﷲ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الأحزاب، 33: 35)

اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لیے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے۔

6. یٰـٓاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُo قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاًo نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاo اَوْزِدْ عَلَیْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاًo اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًاo اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلًا۔ اِنَّ لَکَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۔ (المزمل، 73: 1-7)

اے کملی کی جھرمٹ والے(حبیب!)۔ آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لیے)۔ آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں۔ یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں۔ ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے۔ بے شک رات کا اُٹھنا (نفس کو) سخت پامال کرتا ہے اور (دِل و دِماغ کی یکسوئی کے ساتھ) زبان سے سیدھی بات نکالتا ہے۔ بے شک آپ کے لیے دن میں بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں۔

7. وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّاَصِیْلًاo وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَسَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا۔ (الإنسان، 76: 25-26)

اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں۔ اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں۔

مختصر تعارف گلستان زہراء

(تعارف، اہداف ،کارکردگی اور آینده پروگراموں کا ایک مختصر جائزہ)

گلستان زہراء،ایک خالص دینی،علمی اورتبلیغی پلیٹ فارم ہے کہ جس کی تشکیل کا مقصد مومنین و مومنات خصوصاً نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت انجام دینا ہے۔ایسی تربیت کہ جس کی بنیاد علم اور تقویٰ پر ہو۔اور جس کی عمارت محکم دلیلوں پر قائم ہو۔اور آج کی نسل جدید ،اسلامی تعلیمات کو اس کے اصلی اور حقیقی منابع سے ،بغیر کسی ملاوٹ اور تحریف کے،حاصل کر سکے۔اور دین مبین اسلام کے خلاف ہونے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر سکیں، تاکہ آج کی نئی نسل اس آیت کا مصداق بن سکے

كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ۔ (العمران ،۱۱۰)

تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

اہداف اور مقاصد

1. اسلامی معارف و مبانی کی تعلیم و ترویج کےلیے تعلیم اور تبلیغ کے میدان میں ایک منظم تحریک شروع کرنا ۔

2. احیاء عزاداری سید الشہدا اور مقصد قیام امام حسین علیہ السلام ۔

3. خرافات، بدعات اور انحرافات سے پاک معتبر اسلامی معارف کی ترویج ۔

4. مومنین کو صحیح اعتقادات کے مبانی اور معارف سے آگاہ کرنا ۔

5. فکری اور ثقافتی انحرافات کا مقابلہ کرنے کےلیے صحیح اسلامی تعلیمات کی ترویج اور اصلاح معاشرہ کےلیے اقدامات۔

7. ایسے نوجوانوں کی تحقیق کے میدان میں رہنمائی و حوصلہ افزائی جو صحیح اسلامی نقطہ نظر کو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں ۔

8. جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنا ۔

9. طلباء و طالبات کے درمیان مختلف موضوعات کے علمی مقابلوں کا انعقاد ۔

10. ، اسلامی دروس اور لیکچرز کی ریکارڈنگ اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی نشر و اشاعت۔

فعالیت

1۔جامعہ مسجد امام علی علیہ السلام ، جس میں نماز پنجگاہ کے علاوہ ، دعا و مناجات اور ہر روز کا درس اخلاق اور نماز جمعہ کا مرکزی اجتماع شامل ہیں ۔

2۔قدیمی امام بارگاہ جس میں عشرہ محرم کے علاوہ مختلف مناسبات کی سالانہ مجالس عزاء برپا ہوتی ہیں ۔

3۔ فلٹر پلانٹ ، جس سے ہر روز اہل علاقہ مستفید ہوتے ہیں ۔

4 ۔ قرآن و دینیات سینٹر

5 ۔ عید الاضحی کے موقع پر اجتماعی قربانی کا اہتمام

6 ۔ ماہ مبارک رمضان میں تقسیم راشن و عیدی

7 ۔ مختلف دینی موضوعات پر علمی و تربیتی مقابلوں کا انعقاد

8۔ گلستان زہراء یوٹیوب چینل کا قیام

9۔فیس بک پر ایک علمی اورتبلیغی پیج کا قیام کہ جس پر ہر روز آیات قرآنیہ،احادیث معصومین، ؑ معتبر تاریخی واقعات،اور اخلاق پر مبنی پوسٹس ۔

10۔واٹس ایپ پر مومنین کرام کی علمی اور فکری تربیت اور اخلاقی ارتقاء کے پیش نظر گروپ کا قیام،کہ جس میں ہر روز بلا ناغہ روایات معتبرہ، اخلاقی واقعات،مختلف مناسبتوں کے حوالے سے پوسٹس شئیر کی جاتی ہیں۔

11۔ مختلف مقامات پر ،تعطیلات کے ایام میں ورکشاپس کا انعقاد اور کالج اور یونیورسٹی کے طلاب کے لیے مختصر ایام میں معارف دینی سے آشنائی کا بہترین موقع۔کہ جس میں نوجوانان ملت کی علمی،فکری اور اخلاقی تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔

12 ۔ ضرورت مندوں کی حاجت روائی۔

گلستان زہراء ، کپورو والی ، سیالکوٹ

رابطہ: 03006151465 - 03192437646

اسلام میں شجر کاری کی اہمیت






اسلام میں شجر کاری کی اہمیت

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو - سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر



تحریر:اسد عباس اسدی

مقدمہ

اسلام مکمل ضابطۂ حیات اور دینِ فطرت ہے۔ قرآن مجید کا بنیادی موضوع انسان ہے۔ اللہ نے انسان کو غور و فکر اور تدبّر سے کام لینے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام رُوحانیت کا سرچشمہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہماری مادّی فلاح اور بدنی صحت کے لئے بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہم اخلاقی و رُوحانی اور سیاسی و معاشی زندگی میں عروج حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی سطح پر صحت و توانائی کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ دینی تعلیمات اور جدید علمی تحقیقات کی روشنی میں فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی جو اہمیت اور افادیت بیان ہوئی ہے اس کی رُو سے جب ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور بحیثیت قوم بھی فطرت کے زریں اُصولوں سے متصادم ہیں ،حالانکہ فطرت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ گرد و پیش کے ماحول کے بارے میں فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے صاف رکھا جائے اور اس میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو روکا جائے۔ ماحول سے مراد انسان کا اِردگرد کا ماحول ہے۔ ہم جہاں رہتے ہیں، یہ کچھ چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ ہمارے گھر کے ساتھ دُوسرے گھر ہیں۔ راستے، کھیت، پہاڑ، میدان، فضا، دریا، ڈیم اور سمندر۔ یہ سب چیزیں مل کر ماحول تشکیل دیتی ہیں۔ اس ماحول میں جب کوئی خرابی آ جائے تو ہم اسے آلودگی کا نام دیتے ہیں۔ ماحول کو محفوظ رکھنا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے، ایک صحت مند ماحول ہی میں صحت مند معاشرہ فروغ پا سکتا ہے۔ ماحولیاتی صفائی کا اسلامی تصور اس لحاظ سے دیگر تصورات سے مختلف ہے کہ اس تصور میں ہماری زندگی کے تمام اجزاء شامل ہیں۔

اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو صفائی اور پاکیزگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہمیں اس وقت آلودگی اور فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماحول میں بگاڑ آلودگی کا سبب ہے۔ اس کے لئے آج کے دور میں حفظانِ صحت و ماحولیاتی تحفظ کے لئے شجرکاری ضروری ہوگئی ہے۔ اگر درخت لگائیں گے تو وہ پوری انسانیت ہی نہیں، بلکہ تمام ذی رُوح کو اس سے فائدہ پہنچے گا، درخت انسان کے دوست ہیں۔

اسلام نے جہاں دُنیا کے دُوسرے مسائل اور چیلنجز کا حل اور تجزیہ پیش کیا، وہیں اس نے درختوں کی اہمیت و افادیت اور ضرورت و احتیاج کو بھی اپنی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا ہے، چناںچہ قرآن میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اُگائی۔ (سورۃ الحجر)

اللہ کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں درختوں کو کاٹنے کی واضح ممانعت آئی ہے حتیٰ کہ حالت جنگ میں بھی درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے تاآنکہ وہ دشمن کے لیے فائدہ مند نہ ہو جائیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان فوجوں کو اس بات کی ہدایت تھی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو برباد نہ کریں ۔

موجودہ سائنس شجرکاری کی جس اہمیت و افادیت کی تحقیق کر رہی ہے، قرآن و احادیث نے چودہ سو سال قبل ہی آگاہ کر دیا تھا۔ قرآن کریم میں مختلف حوالے سے شجر (درخت) کا ذکر آیا ہے۔

احادیث مبارکہ میں شجرکاری کے حوالے سے صریح ہدایات موجود ہیں۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے حالتِ جنگ میں بھی درختوں کے کاٹنے کو ممنوع قرار دیا ہے۔ شجرکاری نا صرف سنتِ رسولؐ ہے، بلکہ ماحول کو خوبصورت اور دلکش بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

قرآن کریم میں درختوں کا ذکر

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر اور مختلف انداز میں درختوں کا ذکر فرما کر انسانوں کو درختوں کی اہمیت اور ان کی ضرورت کی طرف متوجہ کیا ہے ، ہم یہاں بطور مثال ان آیات کو ذکر کرتے ہیں کہ جن میں درخت اور درخت کاری کو ذکر کیا گیا ہے

آیت نمبر ۱

اور ہم نے کہا کہ اے آدم علیہ السّلام ! اب تم اپنی زوجہ کے ساتھ جنّت میں ساکن ہوجاؤ اور جہاں چاہو آرام سے کھاؤ صرف اس درخت کے قریب نہ جانا کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے [1]۔

آیت نمبر ۲

خدا ہی وہ ہے جو گٹھلی اور دانے کا شگافتہ کرنے والا ہے وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔ یہی تمہارا خدا ہے تو تم کدھر بہکے جارہے ہو[2] ۔

آیت نمبر ۳

اور اے آدم علیہ السّلام تم اور تمہاری زوجہ دونوں جنّت میں داخل ہوجاؤ اور جہاں جو چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا کہ ظلم کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے [3]۔

پھر شیطان نے ان دونوں میں وسوسہ پیدا کرایا کہ جن شرم کے مقامات کو چھپا رکھا ہے وہ نمایاں ہوجائیں اور کہنے لگا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ تم فرشتے ہوجاؤ گے یا تم ہمیشہ رہنے والو میں سے ہوجاؤ گے ۔[4]

آیت نمبر ۴

اور جب ہم نے کہہ دیا کہ آپ کا پروردگار تمام لوگوں کے حالات سے باخبر ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے اور ہم لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں لیکن ان کی سرکشی بڑھتی ہی جارہی ہے[5]۔

آیت نمبر ۵

اور انہیں دو شخصوں کی مثال سنا دو ان دونوں میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ تیار کیے اور ان کے گرد کھجوریں لگائیں اوران دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگا رکھی تھی[6]۔

آیت نمبر ۶

پھر اسے دردِ زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا، کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی[7]۔

آیت نمبر ۷

پھر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشگی کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں ضعف نہ آئے[8]۔

پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہوگئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا[9] ۔

آیت نمبر ۸

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چارپائے اور بہت سے آدمی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے، اور جسے اللہ ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، بے شک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے[10]۔

آیت نمبر ۹

پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ اگا دیے، جن میں تمہارے بہت سے میوے ہیں اور انہی میں سے کھاتے ہو[11]۔

اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے جو کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اگتا ہے[12]۔

آیت نمبر ۱۰

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہے، قندیل گویا کہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، روشنی پر روشنی ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے[13]۔

آیت نمبر۱۱

بھلا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے رونق والے باغ اگائے، تمہارا کام نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے، کیا اللہ تعالٰی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے، بلکہ یہ لوگ کج روی کر رہے ہیں[14]۔

آیت نمبر ۱۲

پھر جب اس کے پاس پہنچا تو میدان کے داہنے کنارے سے برکت والی جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ جہان کا رب ہوں[15]۔

آیت نمبر ۱۳

اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ سب قلم ہوجائیں اور دریا سیاہی اس کے بعد اس دریا میں سات اور دریا سیاہی کے آ ملیں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں، بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے[16]۔

آیت نمبر ۱۴

وہ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار چلتی رہی (اگر تو موجود ہوتا)، اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا کہ گھری ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں[17]۔

آیت نمبر ۱۵

انجیر اور زیتون کی قسم ہے[18]۔

آیت نمبر ۱۶

کیا یہ اچھی مہمانی ہے یا تھوہر کا درخت[19]۔

بے شک وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ میں اگتا[20] ہے۔

آیت نمبر ۱۷

بے شک تھوہر کا درخت[21]۔

آیت نمبر ۱۸

بے شک اللہ مسلمانوں سے راضی ہوا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے پھر اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اس نے ان پر اطمینان نازل کر دیا اور انہیں جلد ہی فتح دے دی[22]۔

آیت نمبر ۱۹

اس میں میوے اور غلافوں والی کھجوریں ہیں[23]۔

اور بھوسے دار اناج اور پھول خوشبو دار ہیں[24]۔

جن میں بہت سی شاخیں ہوں گی[25]۔

آیت نمبر ۲۰

(مسلمانو!) تم نے جو کھجور کا پیڑ کاٹ ڈالا یا اس کو اس کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے[26]۔

احادیث میں درختوں کا ذکر

اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شجر کاری کی جتنی اہمیت قرآن کریم نے ذکر کی ہے اس سے کہیں زیادہ شجر کاری کی اہمیت اور اس کے فائدے احادیث میں ذکر ہوئے ہیں خصوصا آئمہ اہل بیت نے شجر کاری کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے ، بطور نمونہ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔

حدیث نمبر 1

رسول اللہﷺ نے فرمایا : جو شخص پودا لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی انسان یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی مخلوق کھاتی ہے تو وہ اس (پودا لگانے والے) کے لئے صدقہ ہوتا ہے[27]۔

حدیث نمبر 2

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالرحمن بن مبارک نے بیان کیا ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے مسلم نے بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، اور ان سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے[28]۔

حدیث نمبر 3

حضور اکرمﷺ نے فرمایا : جس کے پاس زمین ہو، اسے اس میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ اس میں خود کاشت نہ کرسکتا ہو، تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے، تاکہ وہ اس میں کاشت کرسکے[29]۔

حدیث نمبر 4

حضوراکرمﷺ نے فرمایا : اگر قیامت برپا ہورہی ہو، اور تمہیں درخت لگانے کی نیکی کا موقعہ مل جائے، تو فوراً نیکی کر ڈالو[30] ،

حدیث نمبر 5

آپ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی باڑی کرے اور اس میں پرندے، انسان اور جانور کھا لیں تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے[31]۔

حدیث نمبر 6

آپﷺ نے فرمایا: جومسلمان بھی پودا لگائے گا، اور اس سے کچھ کھالیاجائے گا، وہ اس کے لئے صدقہ ہوجائے گا اور جو چوری کرلیاجائے، وہ قیامت تک کے لئے اس کے لئے صدقہ ہوجائے گا[32]۔

حدیث نمبر 7

جو مسلمان پودا لگائے گا یا کھیتی کرے گا اور اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایہ کھالے گا، وہ اس کے لئے صدقہ بن جائے گا[33]۔

حدیث نمبر 8

جو شخص پودا لگائے گا، اس کے لئے اس پودے سے نکلنے والے پھل کے بقدر ثواب لکھاجائے گا[34]۔

حدیث نمبر9

جو کسی بیری کے درخت کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ جہنم میں اس کے سر کو اوندھا کردے گا[35]۔

حدیث نمبر 10

سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لعنت کا سبب بننے والی تین جگہوں سے بچو (۱) پانی کے گھاٹ پر پاخانہ کرنے سے (۲) راستہ میں پاخانہ کرنے سے (۳) سایہ دارجگہوں میں پاخانہ کرنے سے[36]۔

حدیث نمبر 11

رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جو بھی ایک درخت لگائے گا جب تک لوگ اس سے استفاہ کرتے رہیں گے لگانے والے کو اسکا ثواب ملتا رہے گا [37]۔

حدیث نمبر 12

امام صادق (ع) نے فرمایا : خداوند متعال نے اپنے انبیا ءاور رسولوں کے لیے شجر کاری کا کام انتخاب کیا تاکہ لوگ بارش سے نا خوش نا ہوں بلکہ باران رحمت کے منتظر رہیں [38]۔

حدیث نمبر 13

حضرت علی بن الحسین (ع) نے فرمایا : شجر کاری بہترین اعمال میں سے ہے درخت لگائیں ،زراعت کریں تاکہ اس سے خدا کے بندے ، چرند اور پرند استفادہ کریں [39]۔

حدیث نمبر 14

امام صادق (ع) نے فرمایا : درخت لگاؤ اور زراعت کرو خدا کی قسم لوگوں کے کاموں میں سے اس سے زیادہ پاکیزہ اور حلال تر کوئی دوسرا عمل نہیں ہے [40]۔

حدیث نمبر 15

امام صادق (ع) نے فرمایا: پھل دار درختوں کو مت کاٹیں ایسا نہ ہو کہ خدا کا عذاب تم پر نازل ہوجائے [41]۔

حدیث نمبر16

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی گھر بنائے بغیر کسی پر ظلم و زیادتی کیے اور اس میں درخت لگایے تو جب تک بندگان خدا اس سے مستفید ہوتے رہیں گے اسکے نامہ اعمال میں ثواب درج ہوتا رہے گا [42]۔

حدیث نمبر 17

رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں : کوئی بھی اسوقت تک درخت نہیں لگا سکتا جب تک کہ خداوند متعال اس کے نامہ اعمال میں اس کا اجر و ثواب لکھ نہ دیے[43] ۔

حدیث نمبر 18

رسول اکرم (ص)نے فرمایا : جو مسلمان بھی درخت اگاتا ہے یا زراعت کرتا ہے تو اسکا ثواب خدا کی راہ میں صدقیہ دینے جتنا ہے [44]۔

حدیث نمبر 19

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا : جو کوئی بھی درخت لگاتا ہے تو اسکو اس درخت پر لگنے والے پھلوں کے برابر اجرو ثواب ملتا ہے [45]۔

حدیث نمبر 20

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی درخت لگائے اور پھر اس کے جوان ہونے تک اسکی دیکھ بھال کرے یہاں تک کہ اس درخت پر پھل لگنے لگیں تو جو جو اس درخت سے یا اس کے پھل سے استفادہ کرے گا خداوند متعا ل لگانے والے کے نامہ اعمال میں صدقہ کا ثواب لکھ دے گا [46]۔

حدیث نمبر 21

امام صادق (ع) نے فرمایا : میں اپنے باغوں میں اتنی محنت کرتا ہوں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتا ہوں حالانکہ کام کرنے والے موجود ہوتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں خدا کی بارگاہ میں خود محنت و زحمت کر کے رزق حلال طلب کروں [47] ۔

حدیث نمبر 22

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی بھی کجھور یا بیری کے درخت کو پانی دے گا گویا اس نے ایک پیاسے کو پانی پلایا [48]۔

حدیث نمبر 23

امام باقر (ع) امیرالمومنین سے نقل کرتے ہیں : جس شخص کے پاس زمین اور پانی موجود ہو اور وہ کاشت کاری نہ کرے اور فقیر ہو جایے تو خداوند متعال ایسے شخص کو اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے [49]۔

حدیث نمبر 24

امام صادق (ع) نے فرمایا : درخت انسان کیلیے خلق کیے گئے ہیں پس انسان کی ذمہ داری ہے کہ درخت لگائے اور ان کو پانی دے اور ان کی حفاظت کرے [50]۔

حدیث نمبر 25

رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں : یا علی ! آپ کے ہوتے ہوے کاشتکاروں پر ظلم نہیں ہونا چاہیے اور ان کی زمین سے مالیات بھی نہیں لینی چاہیں[51] ۔

حدیث نمبر 26

امام سجاد (ع) فرماتے ہیں : میں ذخیرہ اندوزی کیلئے کاشت نہیں کرتا بلکہ اس لیے کاشتکاری کرتا ہوں تاکہ اس سے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری ہو[52] ۔

حدیث نمبر 27

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خدا نے جب رزق کو خلق فرمایا تو برکت کو کاشتکاری میں قرار دیا [53]۔

حدیث نمبر 28

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں : جان لو کہ پہاڑوں اور بیابانوں میں اگنے والے درختوں کی لکڑیاں دوسرے درختوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتی ہے [54] ۔

حدیث نمبر 29

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رزق و روزی کو زمین کے سینے میں تلاش کریں [55]۔

حدیث نمبر 30

امام باقر (ع) نے فرمایا : ایک شخص نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ کھجور کی گٹھلیوں سے بھری بوری پر بیٹھے ہیں ، عرض کی مولا یہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا یہ ایک لاکھ کھجور کے درخت ہیں ، حضرت علی نے وہ سب گٹھلیاں کاشت کیں اور ایک بھی نہیں چھوڑی [56] ۔

حدیث نمبر 31

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سبزہ کی طرف دیکھنا آنکھوں کی تقویت کا باعث بنتا ہے [57]۔

حدیث نمبر 32

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دنیا فنا ہونے لگے اور قیامت ہونے والی ہو اور آپ کے پاس صرف ایک درخت لگانے جتنی فرصت ہو تو اس فرصت سے استفادہ کریں اور درخت لگا دیں [58]۔

درختوں کے فایدے

درختوں کے بے شمار فائدے ہیں قرآن و حدیث اور آج کی جدید سائنس نے درختوں کے بے شمار فائدے ذکر کئے ہیں درخت انسان کی زندگی کے لیئے جتنا ضروری ہے اس لحاظ سے درختوں کے فائدے ذکر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے لیکن ہم مختصرا کچھ فائدوں کو ذیل میں ذکر کرتے ہیں ۔

1 ۔درخت خوبصورتی کا سبب ہیں

طبیعت درختوں کے بغیر ممکن نہیں ، درختوں اور جنگلوں کا وجود انسان کی زندگی میں خوبصورتی اور زیبایی کا باعث بنتا ہے۔

2 ۔درخت زمین کی نبض اور مایہ حیات انسان و حیوان ہیں

درخت زہریلی گیسوں اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور انسان کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں ۔

3۔درختوں کے پتے حیوانوں اور بعض حشرات کو غذا فراہم کرتے ہیں اور درختوں پر لگنے والے پھل فروٹ انسانوں کو غذا فراہم کرتے ہیں اور انسانوں کو مختلف قسم کے وٹامن فراہم کرتے ہیں ۔

4۔درخت کی لکڑی انسان کی بہت ساری ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔

5۔درخت زمیں کی حفاظت کرتے ہیں اور زمین کو سیلاب کے نقصانات سے بچاتے ہیں ۔

6۔درخت موسموں کی تبدیلی میں بڑا عمل دخل رکھتے ہیں اور ہواؤں کو چلاتے ہیں ۔

7۔درختوں کا سایہ اور جڑیں ان جڑی بوٹیوں کو غذا فراہم کرتے ہیں جو جڑی بوٹیاں خود زمین کی گہرای سے غذا حاصل نہیں کر سکتے ۔

8 ۔موسم خزاں میں لوگ درختوں کے پتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہیں ۔

9 ۔بہت سارے درخت ایسے ہیں جو زمانہ قدیم سے علم طب میں استعمال ہوتے ہیں اور انسان کی طبی ضرورتیں پوری کرتے ہیں ۔

10۔ صوتی آلودگی میں کمی

کیا آپ جانتے ہیں درخت شور کی آلودگی میں بھی کمی کرتے ہیں؟ یہ کسی جگہ پر موجود پرشور آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں صرف درخت ہی نہیں بلکہ اس کی شاخیں اور پتے بھی یہ کام کرتے ہیں۔

11۔درخت انسان کو اچھی تفریح گاہ محیا کرتے ہیں ۔

12۔لینڈ سلائیڈنگ سے تحفظ

درخت کی جڑیں زمین کی مٹی کو روک کر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے زمین کا کٹاؤ یا لینڈ سلائیڈنگ نہیں ہونے پاتی۔

13۔درخت ہوا میں لطافت پیدا کرتے ہیں

14 ۔ درخت پانی کی گردش کا سبب بنتے ہیں

15۔ قحط سے بچاؤ

جس طرح درخت سیلابوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اسی طرح یہ قحط اور خشک سالی سے بھی بچاتے ہیں۔

16۔ سیلاب سے بچاؤ

جن علاقوں میں بڑی تعداد میں درخت موجود ہوتے ہیں اس علاقے کو سیلاب کا خطرہ بے حد کم ہوتا ہے۔

17۔درخت گرد و غبار کو جذب کر تے ہیں ۔

18 ۔درخت زمیں کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں ۔

19۔ لوگوں کی خوشگوار صحت

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جس مقام پر زیادہ درخت موجود ہوتے ہیں وہاں کے لوگ زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔

20 ۔ درخت انسان کی اقتصاد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

درختوں کی موجودگی تناؤ اور ڈپریشن کو کم کرکے لوگوں کو ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے جبکہ درختوں کے درمیان رہنے سے ان کی تخلیقی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

نتیجہ

موجودہ دور میں جانداروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں اور پودوں کی بے جا کٹائی ہے۔ درخت جتنے زیادہ ہوں گے، ماحول اتنا ہی صاف ستھرا ہو گا۔ ہمارا مذہب اسلام بھی درختوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور درخت لگانے کو صدقہِ جاریہ قرار دیتا ہے۔ درخت نہ صرف سایہ دیتے ہیں بلکہ پھل اور جانوروں کے لیے چارہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ درخت آکسیجن خارج کرتے ہیں جس کے بغیر ہمارا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ درختوں سے قیمتی لکڑی اور ادویات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ درخت زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں اور زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں۔

درخت زمین کا زیور ہیں۔ درخت تیز آندھیوں کو روکتے ہیں اور بارش کا سبب بنتے ہیں۔ درختوں پر ریشم کے کیڑے پلتے ہیں جن سے قیمتی ریشم تیار ہوتا ہے۔ الغرض درخت زمین کا حسن اور ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر اس زمین اور اپنے ملک کو شاداب بنانا چاہیے۔





www.bri.com.pk





[1] سورۃ البقرہ آیت نمبر ۳۵،

وَ قُلْنَا يَا آدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَ کُلاَ مِنْهَا رَغَداً حَيْثُ شِئْتُمَا وَ لاَ تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ‌

[2] سورۃ الانعام آیت نمبر ۹۵

إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذٰلِکُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَکُونَ‌

[3] سورہ الاعراف آیت نمبر ۱۹،

وَ يَا آدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلاَ مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَ لاَ تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ‌

[4] سورہ الاعراف آیت نمبر ۲۰

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَا مَلَکَيْنِ أَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ

[5] سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۶۰

وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي القُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ طُغْيَانًا كَبِيرًا

[6] سورۃ الکھف آیت نمبر ۳۲،

وَاضْرِبْ لَـهُـمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّـتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَّّجَعَلْنَا بَيْنَـهُمَا زَرْعًا

[7] سورۃ مریم آیت نمبر ۲۳

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَـةِۚ قَالَتْ يَا لَيْتَنِىْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا

[8] سورۃ طہ آیت نمبر ۱۲۰،

فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَآ اٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْـدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى

[9] سورۃ طہ آیت نمبر ،۱۲۱

فَاَكَلَا مِنْـهَا فَبَدَتْ لَـهُمَا سَوْاٰتُـهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْـهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّـةِ ۚ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٝ فَغَوٰى



[10] سورۃ الحج آیت نمبر ۱۸

اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ يَسْجُدُ لَـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيْـرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيْـرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَنْ يُّهِنِ اللّـٰهُ فَمَا لَـهٝ مِنْ مُّكْرِمٍ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ

[11] سورۃ المومنون آیت نمبر ۱۹

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنَّاتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّّاَعْنَابٍۘ لَّكُمْ فِيْـهَا فَوَاكِهُ كَثِيْـرَةٌ وَّّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ

[12] سورۃ المومنون آیت نمبر ،۲۰

وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَـآءَ تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْـغٍ لِّلْاٰكِلِـيْـنَ

[13] سورۃ النور آیت نمبر ۳۵،

اَللّهُ نُـوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُـوْرِهٖ كَمِشْكَاةٍ فِيْـهَا مِصْبَاحٌ ۖ اَلْمِصْبَاحُ فِىْ زُجَاجَةٍ ۖ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّـهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُـوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ يَكَادُ زَيْتُـهَا يُضِيٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّوْرٌ عَلٰى نُـوْرٍ ۗ يَـهْدِى اللّـٰهُ لِنُـوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَيَضْرِبُ اللّـٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ

[14] سورۃ النمل آیت نمبر ،۶۰

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ مَّا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْبِتُـوْا شَجَرَهَا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ بَلْ هُـمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ

[15] سورۃ القصص آیت نمبر ۳۰

فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِى الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يَّا مُوْسٰٓى اِنِّـىٓ اَنَا اللّـٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ

[16] سورۃ االقمٰن آیت نمبر ۲۷

وَلَوْ اَنَّمَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّّالْبَحْرُ يَمُدُّهٝ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللّـٰهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ

[17] سورۃ الحاقہ ایت نمبر ۷،

سَخَّرَهَا عَلَيْـهِـمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّّثَمَانِيَةَ اَيَّامٍۙ حُسُوْمًا فَتَـرَى الْقَوْمَ فِيْـهَا صَرْعٰى كَاَنَّـهُـمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ

[18] سورۃ التین آیت نمبر ۱

وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ

[19] سورۃ الصفٰت آیت نمبر ۶۲

اَذٰلِكَ خَيْـرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ

[20] سورۃ الصفٰت آیت نمبر ،۶۴

اِنَّـهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىٓ اَصْلِ الْجَحِـيْمِ

[21] سورۃ الدخان آیت نمبر ۴۳

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّـوْمِ

[22] سورۃ الفتح آیت نمبر ۱۸،

لَّـقَدْ رَضِىَ اللّـٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَـعَلِمَ مَا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ فَاَنْزَلَ السَّكِـيْنَةَ عَلَيْـهِـمْ وَاَثَابَـهُـمْ فَتْحًا قَرِيْبًا

[23] سورۃ الرحمن آیت نمبر ،۱۱،

فِـيْـهَا فَاكِهَةٌ وَّّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ

[24] سورۃ الرحمن آیت نمبر ،۱۲

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ

[25] سورۃ الرحمن آیت نمبر ،۴۸

ذَوَاتَـآ اَفْنَانٍ

[26] سورۃ الحشر آیت نمبر ۵

مَا قَطَعْتُـمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَـرَكْـتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰٓى اُصُوْلِـهَا فَبِاِذْنِ اللّـٰهِ وَلِيُخْزِىَ الْفَاسِقِيْنَ

[27] مسند احمد

[28] بخاری

[29] صحیح مسلم

[30] مسند احمد

[31] صحیح بخاری

[32] (صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۵۵۱)

[33] بخاری شریف حدیث نمبر ۰۲۳۲، ۲۱۰۶

[34] مسند احمد، حدیث نمبر۰۲۵۳۲

[35] سنن ابی داؤد، حدیث نمبر ۹۳۲۵

[36] سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۶۲

[37] نهج الفصاحه صفحه 597

[38] وسائل الشیعه جلد 12 ، میزان الحکمه جلد 4 صفحه 214 نقل از وسایل جلد 12 صفحه 192

[39] الحیاة صفحه 345

الحیاة صفحه 345 [40]

[41] میزان الحکمه حدیث شماره 1955

[42] جلد 5 الحیاة نقل از مستدرک الوسائل جلد 2 صفحه 501

[43] کنزالعمال جلد 3 صفحه 896

[44] مستدرک الوسائل جلد 13 صفحه 46

[45] نهج الفصاحه

[46] میزان الحکمه حدیث شماره 9143

[47] وسائل الشیعه جلد 12

[48] کتاب الحیاة جلد 5 صفحه 344 ، وسائل الشیعه جلد 12 صفحه 25

[49] وسائل الشیعه جلد 4 ، جلد 4 صفحه 213 میزان الحکمه نقل از بحارالانوار جلد 103 صفحه 65 قرب الاسناد صفحه 55

[50] الحیاة جلد 5 صفحه 347 ، بحارالانوار جلد 3 صفحه 82و83

[51] وسائل جلد 13 صفحه 216

[52] کتاب الحیاة جلد 5 صفحه 347 ۔

[53] کنزل العمال جلد 4 صفحه 32 ۔

[54] نهج البلاغه

[55] کنزالعمال جلد 4 صفحه 21

[56] وسائل الشیعه جلد 6 صفحه 25

[57] نهج الفصاحه

[58] مستدرک الوسائل جلد 2 صفحه 501 ، الحیاة جلد 5 صفحه 344

الہی نظام ہدایت

اللہ تعالیٰ کے نظام هدایت میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں ہے ہر چیز روشن اور واضح ہے۔

ذاتِ مبین
اللہ تعالیٰ کی ذات بر حق اور واضح و آشکار ہے:
 «أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ ٱلۡمُبِینُ؛ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا» (سوره نور/25)

رسول مبین
انسان کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے رسول، رسولِ مبین ہیں:
«وَقَدۡ جَاۤءَهُمۡ رَسُولࣱ مُّبِینࣱ؛ اور کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبر ان کے پاس آ چکا ہے» (سورة الدخان/13)

کتاب مبین
قرآن مجید دستورات الهی کو بندگان خدا کے لئے واضح طور پر بیان کرتا ہے:
«قَدۡ جَاۤءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورࣱ وَكِتَـٰبࣱ مُّبِینࣱ؛
تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے» (سوره مائدة/15)

پیغام مبین
اللہ تعالیٰ کا پیغام واضح اور روشن ہے:
«أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلۡبَلَـٰغُ ٱلۡمُبِینُ؛ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے»
(سورہ مائدہ/92)
زبان مبین
پیغام الہی واضح اور روشن زبان میں  ہے:
«هذا لِسانٌ عَرَبِیٌّ مُبِینٌ؛ اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے» (سوره نحل/103)

تنبیہ مبین
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو واضح طور پر خبردار کرتا ہے:
«قُلۡ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَاۤ أَنَا۠ لَكُمۡ نَذِیرࣱ مُّبِینࣱ؛ اے محمدؐ، کہہ دو کہ اے لوگو! میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں» (سوره حج/49)

فتح مبین
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ص کو جنگ یا صلح کے ذریعے واضح فتح عطا کی:
«إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحࣰا مُّبِینࣰا؛ بے شک اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلم کھلا فتح عطا کر دی ہے» (سورہ فتح/1)

امتحان مبین
الله تعالیٰ بندوں کو واضح طور پر آزماتا ہے:
«وَءَاتَیۡنَـٰهُم مِّنَ ٱلۡـَٔایَـٰتِ مَا فِیهِ بَلَـٰۤؤࣱا۟ مُّبِینٌ؛ اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی» (سورہ دخان/33)

فوز مبین
الله نے اپنے مطیع بندوں کو جنت عطا کر کے واضح کامیابی سے ہم کنار کرے گا:
«فَأَمَّا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَیُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِی رَحۡمَتِهِ ذَ ٰ⁠لِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِینُ؛ پھر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے» (سوره جاثية/30)

ضلال مبین
اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرنے والے کھلی گمراہی میں ہیں:
«وَ مَنْ یَعْصِ اللّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً مُبِیناً؛ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا» (سورہ احزاب/36) 

عدو مبین
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کے واضح دشمن کے بارے بتایا ہے:
«وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَ ٰ⁠تِ ٱلشَّیۡطَـٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوࣱّ مُّبِینࣱ؛ اور شیطان کی پیرو ی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے»
(سورہ انعام/142)

لوح مبین
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں اعمال واضح طور پر ان کے سامنے لا کے رکھے گا:
«وَكُلَّ شَیۡءٍ أَحۡصَیۡنَـٰهُ فِیۤ إِمَامࣲ مُّبِینࣲ؛ اور ہم نے ہر چیز کو(ہر جو فعل تم نے انجام دیا ہے) واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے» (سورہ يس/12)

شأن پیغمبر  خدا  ﷺ؛ سورة الضحی کی روشنی میں

شأن پیغمبر  خدا  ﷺ؛ سورة الضحی کی روشنی میں

ریاض حیدر علوی

مقدمہ

اللہ کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا اور اپنے بندوں کو وحی کے توسط سے پیغام ہدایت  نبی اور اس کی امت تک پہنچایا اسی طرح ہر مشکل وقت میں اللہ نے اپنے ان خاص بندوں کی  حمایت اور مشکل کشائی فرمائی پیامبر اسلام ختمی مرتبت جس معاشرے میں مبعوث فرمائے گئے وہ عربوں کا تاریک ترین معاشرہ تھا جس میں ظلم و شرک بت پرستی و انا پرستی کے اندھیرے چھائے ھوئے تھے ایسے میں اللہ نے ہدایت کا سورج یتیم عبداللہ کی صورت میں نمودار  فرمایا  ۔عرب کی ایسی قوم جو انسانیت کے اعتبار سے پستی میں گری ہوی تھی اس میں پیامبر خداﷺ کا آنا اور اخلاق کا اعلی نمونہ پیش کرنا کوئی آسان بات نہ تھی ۔اسی لیے رسول عربی نے قدم قدم پر جہاں جسمانی اذیتوں کا سامنا  فرمایا وہاں پر ذہنی اذیتوں کا بھی سامنا کیا لیکن  اللہ رب العزت کا لطف شامل حال رہا کہ ہر ایسے موقعے پر نہ صرف اللہ نے پیغامبر اسلام ﷺ کی حمایت و نصرت فرمائی بلکہ عظمت اور شان پیامبرﷺ کو واضح اور روشن فرما دیا ۔جیسا کہ پیامبر خدا ﷺ کو شاعر کہا گیا تو اسکی نفی کے لیے وحی کو نازل فرما دیا پیامبر اسلام ﷺ کو مجنون کہا گیا تو قرآن نے آپ کی ذات کو عقل دانائی اور علم و حکمت شاہکار قراردے دیا۔ جب عرب کے معاشرے میں ابتر کا طعنہ ملا تو فورا سورہ کوثر نازل فرما کر دشمنوں کو بے نسل قرار دے دیا ۔اسی طرح وحی الہی جب کچھ دیر کے لیے موقوف ہو گئی تو اور دشمنان توحید و رسالت نے خدا کی ناراضگی کا طعنہ دیا تو اللہ تعالی نے اپنے حبیبﷺکی دلداری اور تسلی کے لیے پوری سورہ والضحی نازل فرما دی۔

فضیلت سورةالضحی

اُبی ابن کعب سے روایت ہے کہ جو بھی اس سورہ کی تلاوت کرتا ھے اللہ اس پر راضی ھوتا ھے۔ پیامبر خدا ﷺاس کی شفاعت فرمایں گے اور ھر یتیم اور سائل کے بدلے اللہ اس کو دس نیکیاں عطا فرمائے گا (ترجمہ تفسیر جوامع الجامع ج 6 ص 656)

اس سورہ کی ایک خاصیت یہ بھی ھے کہ اس کی ھر ایک آیت میں مخاطب کی ضمیر ھے جس سے یہ ظاھر ھوتا ھے اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺکو لطف و محبت کا محور قرار دیا ہے۔

فضیلت پیامبر اکرم ﷺ اور شان نزول سورة الضحی

اس سورہ کے شان نزول کے متعلق بہت ساری روایات تفسیری کتابوں میں وارد ہوئی ہیں جن میں کچھ کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ جب پیامبر اسلام پر وحی کا سلسلہ 15 دنوں کے لیےمنقطع رہا تو مشرکین مکہ کہنے لگے محمدﷺکے رب نے ان کو چھوڑ دیا  اور اللہ پیامبر ﷺسے ناراض ہےاور اگر وحی کا سلسلہ اللہ کی طرف سے ہوتا تو پے در پے وحی ہوتی رہتی؛ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ نے اپنے حبیب کی حمایت فرمائی اور سورہ ضحی نازل فرمائی (تفسیر نمونہ ج 2 ص 92)

ابن جریح کہتا ہے 12 دن وحی قطع رہی مقاتل کے مطابق 40 دن تک وحی کا سلسلہ رکا رہا  تو بعض مسلمانوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ پر وحی نازل کیوں نہیں ہو رہی  تو آپ نے فرمایا کس طرح وحی نازل ہو جبکہ آپ ناخن نہیں تراشتے اور پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔

تب سورہ والضحی نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺنے جبریل سے فرمایا آپ کیوں نہیں آتے تھے میں آپ کی زیارت کا مشتاق تھا جبریل امین بولے  میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں در حالانکہ میں آپ سے زیادہ آپ کی زیارت کا مشتاق تھا (مجمع البیان فی تفسیرالقرآن ج10 ص765)

ایک اور روایت کے مطابق کچھ یہودی پیامبر اسلام ﷺکی خدمت میں آئے اور حضرت ذوالقرنین ، اصحاب کہف اور روح کے متعلق سوال کیا پیامبر اسلام ﷺ نے فرمایا کل اس کا جواب دیں گے لیکن وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ سخت غمگین اور پریشان ہوے کیونکہ پیامبر اسلام ﷺکو دشمنان اسلام سے طعن تشنیع کا خطرہ تھا یہاں تک کہ سورہ والضحی نازل ہوئی جو کہ پیامبر اسلام ﷺکی تسلی کا موجب بنی۔ (لباب التاویل فی معانی التنزیل  ج4  ص438)

ایک اور روایت کے مطابق ابولھب کی بیٹی جمیل نے پیامبراسلام ﷺکو طعنہ دیتے ہوے کہا (معاذاللہ) آپ کے شیطان نے آپ کو ترک کر دیا ہے ) اس طعنہ پر پیامبر خدا ﷺغمگین ہوے اور ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ سورہ والضحی کی صورت میں وحی نازل ھوئی اور پیامبر اسلام ﷺکی راحت اور خوشی کا باعث بنی (ابن عاشور التحریر والتنویر ج30  ص348)۔ اب ان تمام روایات کی روشنی میں یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہونا ایک مصلحت کے تحت تھا۔

الله کا اپنے حبیب ﷺکے ساتھ محبت کا اظہار

اللہ کریم نے قسم سے بات کو شروع کیا شاید یہ بیان کرنا مقصود ہو کہ اے میرے حبیب ﷺدن کی روشنی کی قسم! اور رات کے سکون کی قسم! وحی کے آنے میں جو تاخیر ہوئی ہے اس میں نہ تو وحی کی روشنی سلب کرنا مقصود ہے اور نہ ہی وحی کا سکون ختم کرنا  مراد تھا۔ اے میرے حبیب ﷺتیرے خدا نے تمییں کسی مقام پر بھی تنہا نہیں چھوڑا ۔

یہ انداز گفتگو اور قرآن کا انداز بیان پیامبر خدا ﷺکے دل کو بہترین انداز سے تسلی دینے کے ساتھ ساتھ دشمنان قرآن و رسول کے لیے بھی پیغام ہے کہ خدا اپنے رسول ﷺ کو کسی مقام پر تنہا نہیں چھوڑتا۔اور آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا اے رسول ﷺآپ دنیا میں پیش آنے والی مشکلات کو خاطر میں نہ لائیں یہ تمام مشکلات اور مصائب وقتی ہیں اللہ کریم نے آپ کے لیے جو آخرت میں اجر و مقام رکھا ہے وہ دنیاوی مقام سے کہیں بلند و بالا اور زیادہ ھے۔بعض مفسرین نے اس کی تفسیر  یوں بھی بیان فرمائی ہے  کہ اے رسول اللہ؛ اللہ نے آپ کی زندگی کا آخری حصہ زندگی کے پہلے حصے کی نسبت آسان عظمت و شان والا رکھا ھے۔ یعنی زندگی کے پہلے حصے میں فقیری ، یتیمی، بے وطنی، ھجرت، قریبی رشتے داروں کی دشمنیاں وغیرہ یہ سخت ترین مصائب تھے ۔اور آخری زندگی میں اللہ نے اسلام کو قوت بخشی فتح مکہ ہوا ، مدینہ میں حکومت اسلامی کی تشکیل ہوئی دعوت اسلام کو پورے جہان میں پھیلایا یہ وہ نعمتیں تھیں ممکن ہیں کہ جن کو آیت نمبر 4 میں اشارتاً بیان فرمایا گیا ہو۔

مقام شفاعت پیامبر خداﷺ

جیسا کہ سورة والضحی کی آیت نمبر 5 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ  (ولسوف یعطیک ربک فترضی)  اے رسول عنقریب خدا آپ کو ایسا مقام عطا فرماے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے ۔اب سوال یہ ہہے کہ اللہ نے وہ کیا مقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ جو پیامبر اسلام ﷺکی رضایت اور خشنودی کا باعث ہو سکتا ہے ۔

اس کے متعلق مفسرین کی مختلف آراء ھیں: بعض کے نزدیک اسلام کی پیروزی ،اور پیامبر خدا ﷺکی کامیابی مراد  ہے اور یہ اللہ کا ایک بہترین کرم اور خاص انعام ہے اپنے پیارے حبیب کے لیے کہ جس کے لیے فرمایا جا رہا ہے اے میرے عبد خاص آپ کو ہم وہ عطا فرمائیں گے کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ آپ دنیا میں اپنے دشمنوں پر غلبہ پا لیں گے اور اسلام کے قوانین تمام جہان پر حاکم قرار پائیں گے اس کے ساتھ ساتھ جو آجر و مقام آخرت میں تمھیں عطا ہو گا وہ بھی خدا تعالی کے پاس محفوظ ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیامبر اسلام ﷺ، خاتم الانبیاءکی خوشنودی کافی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ پیامبر اسلام ﷺ تب راضی اور خوش ھوں گے جب انکی امّت کے لیے آنحضرتﷺکی شفاعت قبول فرمائی جائے گی اسی وجہ سے اس آیت کے ذیل میں یہ روایات بھی نقل ھوئی ہیں جن میں اشارہ ملتا ہے کہ یہ امید بخش ترین آیت ہے کیونکہ اس آیت کی رو سے پیامبر خدا ﷺ کو حق شفاعت جیسی عظیم منزلت عطا ہوئی ہے۔ (ناصر مکارم شیرازی تفسیر نمونہ ج 27 ص )

حارث بن شریح محمد ابن علی (ابن الحنفیہ) سے روایت کرتے ہیں ۔انہوں نے فرمایا اے اہل عراق کیا تم گمان کرتے ہو کہ قرآن میں امید بخش ترین آیت یاعبادی الذین اسرافو علی انفسھم۔۔۔ یہ ہے مگر ہم خاندان رسالت اور اہلبیت کے نزدیک آمید بخش ترین آیت؛ آیت قرآنی ولسوف یعتیک ربک فترضی ہے اور خدا کی قسم اس سے مراد شفاعت اور قیامت اور روز قیامت ہے۔ (فضل بن حسن طبرسی ترجمہ و تفسیر مجمع البیان ج27 ص 141)

فخرالدین رازی اہلسنت کے مفسر کہتے ہیں جب یہ آیت رسول خدا ﷺ پر نازل ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تک میری امّت کا ایک فرد بھی آتش جھنم میں ہو گا میں راضی نہیں ہونگا ۔یہ آیت شریفہ شفاعت رسول خدا کو بیان فرما  رهی ہو  فخر رازی پھر اس روایت کو امام علی ؑ سے نقل کرتے ییں کہ ان هذا هو الشفاعةفي الامّة ؛مقام رضایت رسول خدا ﷺسے مراد امّت کے لیے حق شفاعت کا عطا ہونا ہے(محمد بن عمر فخر رازی التفسیر الکبیر ج 31 ص194)

پیامبر خدا ﷺ کو دو بڑی نعمتوں کی یاد آوری

جیسا کہ تاریخ کے اوراق میں واضح ہے کہ پیامبر خدا ﷺ کے والدین بچپن سے ہی اس دنیا میں نہ رہے اور آپ یتیمی کی سختی کو برداشت کرتے رہے جس کی یادآوری اللہ نے اپنے نبی کو اس آیت میں کروائی اور ساتھ میں اس نعمت کی طرف بھی اشارا فرما دیا جو اللہ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کواس یتیمی کے بدلے میں عطا فرمایا ۔

اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ھے کہ ماں باپ اور دادا کے سایہ کے اٹھنے کے بعد اللہ نے جس پناہ کو اور گود کو رسول اللہ کے لیے پسند فرمایا وہ گود حضرت ابو طالب کی گود ھے ۔جس نے ھر لحاظ سے ایک سائبان کی طرح پیامبر خدا ﷺکی حفاظت فرمائی  اور قرآن میں اللہ نےاس پناہ گاہ کو اپنی طرف نسبت دیتے ھوے فرمایا اَلَم یَجِدکَ یَتِی مًا فَاٰوٰی (۶ الضحی) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر پناہ دی؟

تفسیر آیات

آپ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکم مادر میں چھ ماہ کے تھے۔ جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو آپؐ کی والدہ اور آپ کے جد عبدالمطلب نے پرورش کی۔  جب آپؐ کا سن مبارک چھ سال ہو گیا تو آپؐ کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور آپؐ کے جد بزرگوار عبد المطلب کا انتقال ہوا تو آپ آٹھ سال کے تھے۔ اس کے بعد آپ کے مہربان چچا حضرت ابو طالب نے حضرت عبد المطلب کی وصیت کے مطابق آپ کی تربیت کی۔

روح المعانی میں آیا ہے کہ حضرت ابو طالب نے اپنے بھائی عباس سے کہا:

کیا میں محمد (ﷺ) کے بارے میں آپ کو کچھ بتاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا: میں اسے اپنے پاس رکھتا ہوں۔ دن رات میں ایک گھڑی کے لیے اسے اپنے سے جدا نہیں رکھتا اور اس کے بارے میں، میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا یہاں تک کہ میں اپنے بستر پر اسے سلاتا ہوں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کا عمل، اپنا عمل قرار دے کر فرمایا: فَاٰوٰی۔ اللہ نے انہیں پناہ دی۔ یعنی ابو طالب جیسی پناہ عنایت کی۔ والدۂ حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد کا اس پرورش میں اہم کردار رہا ہے۔ لفظ فَاٰوٰى، پناہ دینے کے عمل میں عبد المطلب، فاطمہ بنت اسد اور حضرت ابوطالب کی خدمات کی طرف اشارہ ہے۔(شیخ محسن نجفی تفسیر الکوثر  تفسیر  سوره والضحی  آیت 6)

اور دوسری نعمت اللہ تعالی نے حضرت خدیجہ (س) کی صورت میں عطا فرمائی جن کی ذاتی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کا مال فقر و تنگدستی کی صورت میں کام ایا اور اللہ نے ان کی خدمت کو ان الفاظ سے پیامبر خدا ﷺکو یادآوری کروائی  وَوَجَدَكَ عَايلاً فاغنى (۸ الضحی) وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی (۷ الضحی)۔  اور اس نے آپ کو ضال  و گمنام پایا تو راستہ دکھایا۔یهاں پر مهم سوال یه هے که.رسول خدا کی نسبت ( ضال )  سے کیا مراد ھے  ؟

ضال کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

الف: غافل کے معنوں میں۔ جیسے:لَا یَضِلُّ رَبِّی وَ لَا یَنسَی  (۲۰ طہ:۵۲) میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔

ب: ذہن سے بات نکل جانے کے معنوں میں۔ جیسے:اَن تَضِلَّ اِحدٰى ہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحدٰى ہُمَا ال اُخرٰی۔۔۔۔ (۲ بقرہ: ۲۸۲) تاکہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔

ج: گم اور ناپید ہونے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا: اَینَ مَا کُنتُم  تَدعُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ ؕ قَالُوا ضَلُّوا۔۔۔ (اعراف:۳۷)

کہاں ہیں تمہار ے وہ (معبود) جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے: وہ ہم سے غائب ہو گئے۔

لہٰذا آیت میں ضال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپؐ کی قدر و منزلت لوگوں سے پوشیدہ تھی۔ ہم نے آپ کو پہچانوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود مبارک اس تاریک معاشرے میں غیر معروف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و شوکت اس غیر مہذب قوم کے درمیان پوشیدہ تھی، دنیا کو تہذیب و تمدن سے روشن کرنے والا یہ نور، بصیرت و بصارت نہ رکھنے والوں سے غائب تھا، اللہ نے اس نور کو ظاہر کیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بتانا مقصود ہو کہ اس عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے راستوں کی آپ کی راہنمائی ہم نے کی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایاوَ نُیَسِّرُکَ لِلیُسرٰی (۸۷ اعلیٰ: ۸) اور ہم آپ کے لیے آسان طریقہ فراہم کریں گے۔(تفسیر الکوثر ضمن تفسیر سورہ الضحی ایت 7)

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت سارے اقوال نقل کیے ھیں اور اس کا مفہوم معین کرنے کی غرض سے بڑی ٹھوکریں کھایں  جیسا کہ فخر رازی نے مفاتیح الغیب میں بیس قول نقل کیے صاحب مجمع البیان نے اس کے متعلق چھ قول درج کیے ھیں ۔تمام محققین اھل اسلام اور اہل ایمان کا مسلمہ عقیدہ ھے کہ پیامبر اسلام ﷺکا دامنِ عصمت مہد سے لہد نہ فقط کفر و شرک کی آلودگی سے، بلکہ ھر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کی کثافت سے پاک اور صاف رھا ھے لذا اس آیت کا مفہوم واضح اور روشن کرنے کے لیے ضرورت ھے کہ ھم اس مقام پر امام رضا علیہ السلام کے فرمان پر اکتفاء کرتے ھیں جو امام علیہ السلام نے مامون عباسی کے دربار میں اس کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا؛ وجدك ضالاً فى قوم لايعرفون حَقّكَ فَهدى الناس اليك؛یعنی اللہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو امّت میں گم نام اور غیر معروف پایا کہ وہ آپ کی قدر و منزلت کو نہیں جانتے تھے تو اللہ نے لوگوں کی ھدایت فرمایئ کہ وہ آپ کو جان لیں۔( تفسیر فیضان الرحمان ؛ آیة الله محمد حسین نجفی ج 10 ص491)

سورہ والضحی کے آخر میں اللہ نے اپنے عبد خاص کو بعض احکام کی طرف متوجہ فرمایا جس میں یتیم کی تکریم؛ سائل کی حاجت روایی؛ اور نعمتوں کے اظہار کا دستور دیا گیا ۔ان تین آیات میں اگرچہ خطاب پیامبر خدا ﷺکی ذات سے ھے لیکن یہ احکام تمام امّت کے لیے ھیں۔

خلاصہ کلام

اس سورہ کے شروع سے ھی اللہ نے نعمتوں کو اور اپنی عنایتوں کا ذکر شروع کیا جو یتیم عبداللہ پربھیجیں مثلاً وحی کے منقطع ھونے بعد دوبارہ وحی کا آنا پیامبر خدا ﷺکے دل کو تسلی اور تسکین ؛ اسلام کی سر بلندی ؛ عہدہ رسالت ؛مقام شفاعت عطا کرنا ؛ یتیمی کی صورت میں حضرت ابو طالب کا سایہ عطا کرنا ؛ فقر و تنگدستی میں حضرت خدیجہ(س) کا مال عطا کرنا؛ گمنامی کی صورت میں پوری دنیا  میں آپ ﷺکے ذکر کو عام کرنا  یہ وہ تمام عنایات ھیں جن کے متعلق آخرِ سورہ میں فرمایا گیا اما بنعمت رَبّك فَحدث(۱۱ الضحی) .اے رسول ﷺآپ ان نعمتوں کا اظہار فرمائیں  تاکہ جہاں پر شکر خدا بجا لایا جا سکے وہاں پر ان نعمتوں کے اظہار سے دشمنان اسلام پر اپنی برتری کا اعلان بھی ھو سکے ۔ والحمدلله رب العالمین

منابع

  1. ابن عاشور محمد طاھر بن محمد ، تفسیر التحریر و التنویر ، مؤسسةالتاریخ العربی ، بیروت ، 1420 ہ ۔ق
  2. ابن کثیر ، تفسیر القرآن دار الکتب العلمیة ، منشورات محمد علی بیضون، بیروت ، 1419 ہ۔ق
  3. النجفی،محمد حسین،فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن،مصباح القرآن ،لاهور،۲۰۱۵ م
  4. النجفی،محسن علی،الکوثر فی تفسیر القرآن،مصباح القرآن،لاهور
  5. خازن ، علی بن محمد ، لباب التأویل فی معانی التنزیل ، دارالکتب العلمیة ، منشورات محمد علی بیضون ، بیروت ، 1415 ہ۔ق
  6. طبرسی ، فضل بن حسن ، ترجمہ تفسیر مجمع البیان ، فراھانی ، تھران ، بی تا
  7. فخر رازی ، محمد بن عمر ، التفسیر الکبیر ( مفاتیح الغیب ) ، دار إحیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ : سوم ، 1420 ہ ق
  8. مترجمان ، ترجمہ تفسیر جوامع الجامع ، آستان قدس رضوی ، بنیاد پژوھشھای اسلامی ، مشھد مقدس ، 1375 ہ۔ش
  9. مکارم شیرازی ، ناصر ، تفسیر نمونہ ، دار الکتب الإسلامیة ، تھران 1371 ہ۔ش

 

ریاض حیدر علوی

کارشناسی ارشد تفسیر و علوم قران

جامعه المصطفی العالمیه قم؛ایران

 

مومن کی صفات

تحریر: اسد عباس اسدی

روی ان رسول الله  صلی الله  علیه وآله وسلم قال:یکمل الموٴمن ایمانه حتی یحتوی علیه مائة وثلاث خصالٍ:فعل وعمل و نیة وباطن وظاهر فقال امیر المؤمنین علیه السلام:یا رسول الله صلی الله  علیه وآله وسلم ما المائة وثلاث خصال؟فقال صلی الله  علیه وآله وسلم:یا علی من صفات المؤمن ان یکون جوال الفکر،جوهری الذکر،کثیراً علمه عظیماً حلمه،جمیل المنازعة  ۔

(بحار الانوار ،ج/ ۶۴ باب علامات المومن،حدیث/ ۴۵ ،ص/ ۳۱۰  )

ترجمہ :

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ مومن کامل میں ایک سو تین صفتیں ہوتی ہیں اور یہ تمام صفات پانچ حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں صفات فعلی،صفات عملی،صفات نیتی اور صفات ظاہری و باطنی۔ اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے اللہ  کے رسول وہ ایک سو تین صفات کیا ہیں؟حضرت نے فرمایا:”اے علی ﷼ مومن کے صفات یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ فکر کرتا ہے اور علی الاعلان اللہ  کا ذکر کرتا ہے،اس کا علم ،حوصلہ وتحمل زیادہ ہوتا ہے اور دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتا ہے “

حدیث کی شرح :

یہ حدیث حقیقت میں اسلامی اخلاق کا ایک مکمل دورہ ہے ،جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے بیان فرمارہے ہیں ۔اس کا خلاصہ پانچ حصوں میں ہوتا ہے جو اس طرح ہیں:فعل،عمل،نیت،ظاہر اور باطن۔

فعل و عمل میں کیا فرق ہے؟

فعل ایک گزرنے والی چیز ہے،جس کو انسان کبھی کبھی انجام دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عمل ہے جس میں استمرار پایا جاتاہے یعنی جو کام کبھی کبھی انجام دیا جائے وہ فعل کہلاتا ہے اور جو کام مسلسل انجام دیا جائے وہ عمل کہلاتاہے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

مومن کی پہلی صفت ” جوال الفکر“ ہے

یعنی مومن کی فکر کبھی جامد وراکد نہیں ہوتی وہ ہمیشہ فکر کرتا رہتا ہے اور نئے مقامات پر پہونچتا رہتا ہے۔ وہ تھوڑے سے علم سے قانع نہیں ہوتا ۔یہاں پر حضرت نے مومن کی پہلی صفت فکر کو قراردیا ہے جس سے فکر کی اہمیت واضع ہو جاتی ہے ۔مومن کا سب سے بہترین عمل تفکر ہے۔ اور یہاں پر ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ابوذرۻ کی بیشتر عبادت تفکر ہی تھی۔اگر ہم کاموں کے نتیجہ کے بارے میں فکر کریں تو ان مشکلات میں مبتلا نہ ہوں جن میں آج گھرے ہوئے ہیں۔

مومن کی دوسری صفت”جوہری الذکر“ہے:

بعض نسخوں میں” جهوری الذکر “بھی آیاہے ۔ہماری نظر میں دونوں ذکر کو ظاہر کرنے کے معنی میں ہے۔ذکر کو ظاہری طور پر انجام دنیا قصد قربت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اسلامی احکام میں ذکر جلی اور ذکر خفی دونوں موجودہیں۔صدقہ اور زکوٰة مخفی بھی ہے اور ظاہری بھی،ان میں سے ہرایک کااپنا خاص فائدہ ہے جہاں پر ظاہری ہے وہاں تبلیغ ہے اور جہاں پر مخفی ہے وہ اپنا مخصوص اثر رکھتی ہے ۔

مومن کی تیسری صفت” کثیراً علمہ“ ہے ۔

یعنی مومن کے پاس علم زیاد ہوتا ہے۔حدیث میں ہے کہ ثواب،عقل اور علم کے مطابق ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ ایک انسان دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے مقابل دوسرا انسان سو رکعت نماز پڑھے مگر ان دو رکعت کا ثواب اس سے زیاد ہو ۔واقعیت بھی یہی ہے کہ عباد ت کے لئے ضریب ہے اور عبادت کی اس ضریب کا نام علم وعقل ہے۔

مومن کی چوتھی صفت”عظیماً حلمہ“ ہے

یعنی مومن کا علم جتنا زیادہ ہوتا ہے اس کا حلم بھی اتنا ہی زیاد ہوتا ہے ۔ایک عالم انسان کو سماج میں مختلف لوگوں سے روبرو ہونا پڑتا ہے اگر اس کے پاس حلم نہیں ہوگا تو مشکلات میں گھر جائے گا ۔مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلم کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔گذشتہ اقوام میں قوم لوط سے زیادہ خراب کوئی قوم نہیں ملتی اور ان کا عذاب بھی سب سے دردناک تھا فلما جاء امرنا جعلنا عٰلیهاسافلها وامطرنا علیها حجارة من سجیل منضود [2] اس طرح کہ ان کے شہر اوپر نیچے ہوگئے اور بعد میں ان کے او پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ان سب کے باوجود جب فرشتے اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے آئے تو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں پہونچے، اور ان کو بیٹے کی پیدائش کی بشارت دی جس سے وہ خوش ہوگئے،بعدمیں قوم لوط کی شفاعت کی ۔فلما ذهب عن ابراهیم الروع و جاته البشریٰ یجادلنا فی قوم لوط ان ابراهیم لحلیم اواه منیب [3] ایسی قوم کی شفاعت کے لئے انسان کو بہت زیادہ حلم کی ضرورت ہے یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی ،حلم اور ان کے وسیع القلب ہونے کی نشانی ہے۔بس عالم کو چاہئے کہ اپنے حلم کو بڑھائے اور جہاں تک ہو سکے اصلاح کرے نہ یہ کہ اس کو چھوڑ دے۔

مومن کی پانچوین صفت”جمیل المنازعة“ہے

یعنی اگرمومن کو کسی کے کوئی بحث یا بات چیت کرنی ہوتی ہے تو اس کو نرم لب و لہجہ میں انجام دیتا ہے اورجنگ و جدال نہیں کرتا ۔آج ہمارے سماج کی حالت بہت حسا س ہے ،خطرہ ہم سے صرف دو قدم کے فاصلے پر ہے۔ان حالات میں عقل کیا کہتی ہے؟کیا عقل یہ کہتی ہے ہم کسی بھی موضوع کو بہانہ بنا کرجنگ کے ایک جدید محاذ کی بنیاد ڈال دیں،یا یہ کہ یہ وقت آپس میں متحد ہونے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا وقت ہے؟

جب ہم خبروں پر غور کرتے ہیںتو سنتے ہیں کہ ایک طرف تو تحقیقی وفد عراق میں تحقیق میں مشغول ہے دوسر طرف امریکہ نے اپنے آپ کو حملہ کے لئے تیارکرلیا ہے اور عراق کے چاروں طرف اپنے جال کو پھیلا کر حملہ کی تاریخ معین کردی ہے۔دوسری خبر یہ ہے کہ جنایت کار اسرائیلی حکومت کا ایک ذمہ دار آدمی کہہ رہا ہے کہ ہمیں تین مرکزوں (مکہ ،مدینہ،قم)کو ایٹم بم کے ذریعہ تہس نہس کردینا چاہئے۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ بات واقعیت رکھتی ہو؟ایک دیگر خبر یہ ہے کہ امریکیوں کا ارادہ یہ ہے کہ عراق میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر، اپنے ایک فوجی افسر کو تعین کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ہم پر مسلط ہو گئے تو کسی بھی گروہ پر رحم نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی گروہ کو کوئی حصہ دیںگے۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ جب ہمارے یہاںمجلس میں کوئی ٹکراوپیدا ہو جاتا ہے یا اسٹوڈنٹس کا کوئی گروہ جلسہ کرتا ہے تو دشمن کامیڈیا ایسے معاملات کی تشویق کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔کیا یہ سب کچھ ہمارے بیدار ہو نے کے لئے کافی نہیں ہے؟کیا آج کا دن اعتصموا بحبل الله  جمیعاً ولا تفرقوا وروز وحد ت ملی نہیں ہے؟عقل کیا کہتی ہے؟اے مصنفوں،مئلفوں،عہدہ داروں،مجلس کے نمائندوں،اور دانشمندوں ! خداکے لئے بیدار ہو جاؤ کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم کسی بھی موضوع کو بہانہ بنا کر جلسہ کریں اور ان کو یونیورسٹی سے لے کر مجلس تک اور دیگر مقامات پر اس طرح پھیلائیں کہ دشمن اس سے غلط فائدہ اٹھائے؟میں چاہتا ہوں کہ اگر کوئی اعتراض بھی ہے تو ا س کو ”جمیل المنازعة“ کی صورت میں بیان کرنا چاہئے کیونکہ یہ مومن کی صفت ہے۔ہمیں چاہئے ک قانون کو اپنا معیار بنائیں او روحدت کے معیاروںکو باقی رکھیں۔

اکثر لوگ متدین ہیں ،جب ماہ رمضان یا محرم آتا ہے تو پورے ملک کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دین سے محبت ہے۔آگے بڑھو اور دین کے نام پر جمع ہو جاؤ اور اس سے فائدہ اٹھاؤ وحدت ایک زبردست طاقت اور سرمایہ ہے ۔

 [2] سورہٴ ہود: آیہ/ ۸۲                                           [3] سورہٴ ہود: آیہ/ ۷۴ و ۷۵

والدین کے حقوق احادیث کی روشنی میں

 

والدین کے حقوق احادیث کی روشنی میں

تحریر: اسد عباس اسدی

قال الله تعالی:و قضی ربک الا تعبدوا الا ایاه و بالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدهما، او کلاهما فلا تقل لهما اف و لا تنهرهما و قل لهما قولا کریما… (1(

اور آپ کےپروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کےسوا کسی کی بندگی نہ کرو  اور والدین کےساتھ نیکی کرو اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک مت کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت اور تکریم سے بات کرنا۔

وَ اخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَبِّ ارْحَمْهُما كَما رَبَّياني‏ صَغيراً (2(

اورمہرومحبت کےساتھ انکےآگے انکساری کاپہلوجھکائےرکھواوردعاکرو: پروردگارا ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے )پالا تھا۔

ہمارا وجود والدین کی بدولت ہےاورہماری اولادکاوجودہمارےوجودسے پیوستہ ہےوالدین کےساتھ ہماراسلوک اورانکا احترام اور نیکی کرنا اس بات کا موجب بنتا ہے کہ آیندہ ہماری اولاد بھی حق شناس، قدرداں اور اچھائی کریں ہماری اولادہمارےساتھ وہی سلوک اختیارکرےگی جس طرح ہم اپنےوالدین سےکیاکریں گے ۔

جس طرح خدا کا حق اداکرنا اوراسکی نعمات کی شکرگزاری کرناہماری توانائی سےباہرہےاسی طرح والدین کاحق اداکرنا اور ان کی زحمات کی قدردانی کرنا ایک مشکل کام ہے صرف ان کےسامنے انکساری کےساتھ پہلو جھکائے رکھنا اور تواضع اورفروتنی کےپر کو ان دو فرشتوں کےلئے بچھائے رکھنا ہمارے اختیار میں ہے۔اسکےباوجود ماں باپ کےمقام کی شناخت اور خدا کےہاں ان کی قدرو منزلت ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ان کا کچھ حق ادا ہو سکے۔

اس چالیس حدیث کےمجموعےمیں جو آپ مطالعہ کریں گے وہ ہمیں والدین کی نسبت سے اپنے وظائف سے ٓشنا کرے گا اللّہ کی توفیق ہمارےشامل حال ہو کہ ہم بھی والدین کےساتھ نیکی کرنے والوں میں سےہوں چونکہ خدا کی رضایت ان ہستیوں کی رضایت میں ہے۔ یا اللّہ !ہمیں بھی والدین کی زحمات کی قدر دانی کرنے والوں میں سےقرار دے اور ہمیں اچھی نسل کی تربیت کرنے کی توفیق دےجو با ایمان ،حق شناس اورنیکو کارہو۔

  1. سب سے بڑا فرض

برالوالدین اکبرفریضة. (3(

امیر المونین علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: سب سے اہم اور بڑا فرض والدین کےساتھ نیکی کرنا ہے ۔

  1. بہترین اعمال

قال الصادق(ع): افضل الاعمال الصلاة لوقتها، و بر الوالدین و الجهاد فی سبیل الله. (4(

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: بہترین کام وقت پر نماز پڑھنا ،والدین سے نیکی کرنا ، اور خدا کی راہ میں جہاد کرنا ہے ۔

  1. والدین سے انس رکھنا

فقال رسول الله(ص): فقر مع والدیک فوالذی نفسی بیده لانسهما بک یوما و لیلة خیر من جهاد سنة. (5(

ایک مرد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کےپاس آیا اور عرض کرنے لگا  میرے والدین بوڑھے ہو چکےہیں اور میرے ساتھ مانوس ہونے کی وجہ سے وہ میرے  جہاد پر جانے کو راضی نہیں ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا :تم اپنے والدین کےپاس بیٹھ جا اس ذات کی قسم جس کی قبضے میں میری روح ہے تمہارا ان کےساتھ ایک دن بیٹھنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے (اگر جہاد واجب عینی نہ ہو(

  1. پسندیدہ کام

عن ابن مسعود قال: سئلت رسول الله(ص):ای الاعمال احب الی الله عز و جل؟ قال:الصلاة لوقتها، قلت ثم ای شی ء؟ قال: بر الوالدین، قلت: ثم ای شیء؟ قال: الجهاد فی سبیل الله. (6(

ابن مسعود بیان کرتا ہے کہ: رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ خدا کےہاں پسندیدہ کام کونسا ہے ؟

فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا ،اس کےبعد کونسی چیز افضل ہے؟ فرمایا:ماں باپ کےساتھ نیکی کرنا ، اسکےبعد؟فرمایا : خدا کی راہ میں جہاد کرنا۔

  1. والدین کو دیکھنا

قال رسول الله(ص):ما ولد بار نظر الی ابویه برحمة الا کان له بکل نظرة حجة مبرورة.فقالوا: یا رسول الله و ان نظر فی کل یوم مائة نظرة؟قال: نعم، الله اکبر و اطیب. (7(

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا: جب کوئی نیک اولاد اپنے والدین کومہربانی   کےساتھ نگاہ کرتا ہے تو اللّہ تعالی اسےہر نگاہ پر ایک حج مقبول کا ثواب عطا کرتا ہے ، پوچھا گیا اگر دن میں سو بار دیکھا جائے؟ فرمایا   ہاں خدا پاک اور بڑا ہے۔

  1. والدین کی عظمت

عن ابی الحسن الرضا(ع) قال:ان الله عز و جل امر بثلاثة مقرون بها ثلاثة اخری: امر بالصلاة و الزکاة، فمن صلی و لم یزک لم تقبل منه صلاته و امر بالشکر له و للوالدین، فمن لم یشکر والدیه لم یشکر الله، و امر باتقاء الله و صلة الرحم، فمن لم یصل رحمه لم یتق الله عز و جل. (8(

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہےکہ: خدا نے تین چیزوں کو تین چیزوں کےساتھ بجا لانے کاحکم دیا ہے

1۔ نماز کو زکوۃ کےساتھ بجا لانے کا حکم دیا ہے، پس جو نماز پڑھے اور زکاۃ نہ دے اس کی نماز بھی قبول نہیں ہے ۔

2۔ خود خدا   اور  والدین  کی سپاسگزاری کا حکم دیا ہے ، پس جو بھی والدین کی شکر گزاری نہ کرے خدا کا شکر گزار نہیں ہے

3۔تقوی الھی اور   صلہ  رحم   کا حکم دیا ہے پس جو صلہ رحم انجام نہیں دے اس نے تقوی الھی کو اختیار نہیں کیا ہے

  1. والدین کا احترام

قال الصادق(ع):بر الوالدین من حسن معرفة العبد بالله اذ لا عبادة اسرع بلوغا بصاحبها الی رضی الله من حرمة الوالدین المسلمین لوجه الله تعالی. (9(

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہے کہ: والدین کےساتھ نیکی کرنا اچھے بندوں کی شناخت میں سے ہے کیونکہ کسی بھی مسلمان کی عبادت اتنا جلدی خدا کی رضایت تک  نہیں پہنچ سکتی ہے جتنا والدین کی حرمت کی رعایت کرنا۔

  1. اطاعت والدین

قال رسول الله(ص): من اصبح مطیعا لله فی الوالدین اصبح له بابان مفتوحان من الجنة و ان کان واحدا فواحدا-(10(

رسول اکرم نے فرمایا کہ: جو بھی شخص والدین کےمیں بارے دستور خدا کو  انجام دے خدا اس کےلئے جنت کےدو دروازے کھول دیتا ہے اور اگر کوئی والدین میں سے ایک کاحق  ادا کرے  تو ایک دروازہ کھولا جائے گا ۔

  1. والدین کی اطاعت کی ارزش

قال رسول الله(ص): العبد المطیع لوالدیه و لربه فی اعلی علیین. (11(

رسول خدا فرماتے ہے کہ: جو بھی شخص اپنے   ماں باپ اور اپنے پروردگار کا مطیع ہو تو قیامت کےدن بلند ترین مقام پر ہوگا۔

  1. والدین کا قرض ادا کرنا

عن رسول الله(ص):من حج عن والدیه او قضی عنهما مغرما بعثه الله یوم القیامة مع الابرار. (12(

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتےہےکہ :جو شخص اپنے ماں باپ کی نیت سےحج انجام دےیاان کا قرض  چکادےتوخدا وندعالم قیامت کےدن اس کو نیک بندوں کےساتھ محشور کرے گا۔

  1. خشنودی والدین

من ارضی والدیه فقد ارضی الله و من اسخط والدیه فقد اسخط الله. (13(

رسول خدا نے فرمایا کہ: جو بھی شخص اپنے والدین کو خوش کرے اس نے خدا کو خوش کیا ہے اور جو اپنے والدین کو ناراض کرے اس نے خدا کو ناراض کیا ہے ۔

  1. والدین سے نیکی کا صلہ

عن الصادق(ع) قال:بینا موسی بن عمران یناجی ربه عز و جل اذ رای رجلا تحت عرش الله عز و جل فقال: یا رب من هذا الذی قد اظله عرشک؟فقال: هذا کان بارا بوالدیه، و لم یمش بالنمیمة. (14(

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہے کہ : جب حضرت موسی علیہ السلام اپنے پروردگار سے مناجات میں مشغول تھے اس وقت عرش الھی کےسائے میں ایک شخص کو دیکھا جو ناز اور نعمت  میں پل رہا تھا، موسی نے عرض کیا خدایا یہ شخص کون ہے کہ جس پر آپ کےعرش نے سایہ کیا ہوا ہے ؟

خدا نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے نیکی کیا کرتا  تھا اور سخن چین نہیں تھا۔

  1. والدین کی خاطر سفر کرنا

قال رسول الله(ص):سر سنتین بر والدیک، سر سنة صل رحمک. (15(

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کہ: دو سال سفر کرو اور والدین سے نیکی کرو ،اور ایک سال سفر کرو اور صلہ رحم انجام دو ۔ [یعنی اگر والدین اتنا دور ہو ں کہ دو سال کی مسافت طے کرنا پڑے پھر بھی ان تک جائے اور نیکی کرے تو  یہ کام بہت ارزشمند ہے  .

  1. والدین اور عمر اور روزی میں اضافہ

قال رسول الله(ص(

من احب ان یمد له فی عمره و ان یزاد فی رزقه فلیبر والدیه و لیصل رحمه. (16(

جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اسکی عمر طولانی ہو اور رزق میں اضافہ ہو تو اپنے والدین سے اچھائی کرے اور صلہ رحم بجالائے۔

  1. والدین سے نیکی کےآثار

عن حنان بن سدیر قال: کنا عند ابی عبد الله(ع) و فینا میسر فذکروا صلة القرابة فقال ابو عبد الله(ع):

یا میسر قد حضر اجلک غیر مرة و لا مرتین، کل ذلک یؤخر الله اجلک، لصلتک قرابتک، و ان کنت ترید ان یزاد فی عمرک فبر شیخیک یعنی ابویک. (17(

حنان ابن سدیر بیان کرتا ہے کہ : ہم امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور میسر نامی شخص بھی ہمارے ساتھ تھا ، صلہ رحمی کی بات چلی تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اے میسر  کئی بار تمہاری موت آچکی تھی ہر بار خدا وند عالم نے تمہارے صلہ رحمی کی وجہ سے موت کو ٹال دیا ہے اگر تم یہ چاہتے ہو کہ خدا وند عالم تمہاری عمر میں اضافہ کر ے تو تم اپنے دونوں بزرگوں  یعنی والدین سے نیکی کیا کرو ۔

  1. پہلے ماں سے نیکی کیا کرو

عن ابی عبد الله(ع) قال:جاء رجل الی النبی(ص) فقال: یا رسول الله من ابر؟قال(ص): امک،قال: ثم من؟قال(ص): امک،قال: ثم من؟قال(ص): امک،قال: ثم من؟قال(ص): اباک. (18(

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہے کہ: ایک شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کےپاس آیا اور کہا  کہ: اے رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کس کےساتھ نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا اپنی  ماں کےساتھ نیکی کرو، اس کےبعد کس کےساتھ نیکی کیا کروں؟ فرمایا اپنی ماں کےساتھ ، اس کےبعد؟ فرمایا اپنی  ماں کےساتھ ، اسکےبعد؟ فرمایا تمہارے باپ کےساتھ نیکی کیا کرو۔

  1. والدین سے نیکی کرنے کا نتیجہ

عن رسول الله(ص) قال:بروا اباءکم یبرکم ابناءکم، عفوا عن نساء الناس تعف نسائکم. (19(

رسول خدا نے فرمایا : تم لوگ اپنے  باپ سے نیکی کیا کرو تاکہ تمہارے فرزندان تمہارے ساتھ نیکی کیا کریں ، اور لوگوں کی ناموس سے چشم پوشی کرنا تاکہ تمہاری ناموس سے چشم پوشی کی جائے۔

  1. والد کا حق

 سال رجل رسول الله(ص): ما حق الوالد علی ولده؟ قال: لا یسمیه باسمه، و لا یمشی بین یدیه، و لا یجلس قبله و لا یستسب له. (20(

امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہے کہ: ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے سوال کیا کہ: والد کا حق اولاد پر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا : والد کو اپنے نام سے نہ بلانا ، راستہ چلتے ہوئے اس آگے نہ چلنا ، اس سے پہلے نہ بیٹھنا ، اور کوئی ایسا کا م نہ کرنا جسکی وجہ سے لوگ اس کےباپ کو گالی دیں  ۔

  1. والدین کو دیکھنا عبادت ہے

نظر الولد الی والدیه حبا لهما عبادة. (21(

اولاد کا اپنے والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے ۔

  1. والدین سے اچھا سلوک

عن ابی ولاد الحناط قال: سالت ابا عبد الله(ع) عن قول الله:«و بالوالدین احسانا» فقال: الاحسان ان تحسن صحبتهما و لا تکلفهما ان یسالاک شیئا هما یحتاجان الیه. (22(

ابی ولاد کہتا ہے کہ : میں نے اس آیہ(و بالوالدین احسانا)  کامعنی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: والدین سے نیکی کرنے کا معنی یہ ہےکہ ان کےساتھ تمہارا برتاو اچھا ہو اور ان کو کسی چیز کےمانگنے کےلئے محتاج نہ کرنا (ان کی درخواست سے پہلے پورا کرنا .

  1. اولاد کا وظیفہ والدین کےساتھ

قال ابو عبد الله(ع):لا تملا عینیک من النظر الیهما الا برحمة و رقة، و لا ترفع صوتک فوق اصواتهما، و لا یدیک فوق ایدیهما و لا تتقدم قدامهما. (23(

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں  کہ: والدین کو مہر و محبت کی نظر کے بغیر اور اپنی آواز  ان کی آواز سے اونچا نہ کرنا اور اپنے ہاتھ کو ان کی ہاتھ سے بلند نہ کرنا  اور ان سے پہلے راستہ نہ چلنا۔

  1. نیابت والدین

قال ابو عبد الله(ع):ما یمنع الرجل منکم ان یبر والدیه حیین او میتین، یصلی عنهما و یتصدق عنهما و یحج عنهما و له مثل ذلک، فیزیده الله(عز و جل) ببره و صلاته خیراً کثیراً. (24(

کونسی چیز مانع ہے کہ انسان اپنے والدین سے نیکی کرے چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ ، اس طریقے سے نیکی کرے کہ والدین کی نیت سے نماز پڑھے ، صدقہ دے حج بجا لائے اور روزہ رکھے کیونکہ اگر کوئی  ایسا کرے تو اس کا ثواب والدین کو پہنچے گا اور اس شخص کو بھی اسی مقدار ثواب دیا جائے گا ، اس کےعلاوہ خدا وند عالم اس شخص کو اسکی نیکی اور نماز کی وجہ سے اس سے بہت زیادہ نیکی عطا کرے گا ۔

  1. برےوالدین سے نیکی  کرنا

عن ابی جعفر(ع) قال: ثلاث لم یجعل الله (عز و جل) لاحد فیهن رخصة اداء الامانة الی البر و الفاجر و الوفاء بالعهد للبر و الفاجر و بر الوالدین برین کانا او فاجرین. (25(

امام باقر علیہ السلام فرماتے ہے کہ : تین ایسی چیزیں ہیں کہ جن کو خدا وند عالم نے ترک کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔

1۔امانت کا واپس کرنا چاہے اچھا آدمی ہویا   فاسق

2۔عھد کا پورا کرنا چاہے اچھا آدمی ہو یا برا

3۔والدین کےساتھ اچھائی کرنا چاہے وہ اچھے ہوں یا برے

  1. مشرک والدین سے سلوک

فیما کتب الرضا(ع) للمامون:بر الوالدین واجب، و ان کانا مشرکین و لا طاعة لهما فی معصیة الخالق. (26(

امام رضا علیہ السلام نے جو خط مامون کو لکھا  اس میں یہ بھی تھا کہ : ماں باپ سے نیکی کرنا لازم ہے اگرچہ وہ کافر اور مشرک ہوں لیکن خدا کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرنا۔

  1. والدین کی قبر کی زیارت کرنا

عن رسول الله(ص) قال: من زار قبر والدیه او احدهما فی کل جمعة مرة غفر الله له و کتب برا. (27(

جو بھی شخص ہر جمعہ کو ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی زیارت کرے خدا اس کو بخش دے گا اور اس کو نیک آدمیں شمار کیا جائے گا۔

  1. جنت اور والدین سے نیکی

عن ابی الحسن(ع) قال: قال رسول الله(ص):کن بارا و اقتصر علی الجنة و ان کنت عاقا فاقتصر علی النار. (28(

امام رضا علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کہ : ماں باپ سے نیکی کرو تاکہ تمہاری پاداش بہشت ہو لیکن اگر ان کےعاق شدہ  بنو گے تو تم جہنمی بن جاؤ گے ۔

  1. والدین کو تیز نگاہ سے دیکھنا

عن ابی عبد الله(ع) قال: لو علم الله شیئا ادنی من اف لنهی عنه، و هو من ادنی العقوق و من العقوق ان ینظر الرجل الی والدیه فیحد النظر الیهما. (29(

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ: اگر اف سے چھوٹی کوئی چیز ہوتا تو خدا اس سے روک لیتا  اور اف کہنا عاق کےمراتب میں سے کمترین مرتبہ ہے ، اور عاق کی ایک قسم یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو تیز نگاہ سے د یکھے۔

  1. غضب کی نگاہ سے دیکھنا

عن ابی عبد الله(ع) قال: من نظر الی ابویه نظر ماقت، و هما ظالمان له، لم یقبل الله له صلاة. (30(

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ: جو بھی شخص نفرت کی نگاہ سے اپنے والدین کی طرف دیکھےاگرچہ انہوں نے ان پر ظلم کیا ہو ، تو اس کی نماز خدا کی درگاہ میں قبول نہیں ہو گی۔

  1. والدین کو غمگین کرنا

قال امیرالمؤمنین(ع):من احزن والدیه فقد عقهما. (31(

امیر المومنین نے فرمایا: جو بھی  اپنے والدین کو غمگین کرے اس نے والدین کےحق کی رعایت نہیں کی ہے۔

  1. والدین سے بی ادبی کا نتیجہ

عن ابی جعفر(ع) قال:

ان ابی نظر الی رجل و معه ابنه یمشی و الابن متکی ء علی ذراع الاب، قال: فما کلمه ابی مقتا له حتی فارق الدنیا(32(

امام باقر علیہ السلام  فرماتے ہیں  کہ: میرے والد نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس کا بیٹا اس کےبازو پر تکیہ کئے چل رہا تھا (جب امام نے اس واقعہ  کو دیکھا تو )امام علیہ السلام مرتے دم تک اس بیٹے سے ناراض ہو کر بات نہیں کی ۔

  1. باپ سے لڑنا

قال ابو عبد الله(ع): ثلاثة من عازهم ذل:الوالد و السلطان و الغریم. (33(

امام جعفرصادق  علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :جو  شخص ان تین گروہ سے لڑا وہ خوار ہوا : باپ ، سلطان حق، اور مقروض۔

  1. عاق والدین سے بچنا چاہیے

قال رسول الله(ص):ایاکم و عقوق الوالدین، فان ریح الجنة توجد من مسیرة الف عام و لا یجدها عاق و لا قاطع رحم. (34(

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  فرماتے ہیں  کہ: تم لوگ والدین کے عاق ہونے سے بچو کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت تک سونگھی جائے گی مگر عاق والدین اور قطع رحم کرنے والا اس سے محروم رہے گا ۔

  1. عاق والدین اور بدبختی

عن الصادق(ع) قال:لا یدخل الجنة العاق لوالدیه و المدمن الخمر و المنان بالفعال للخیر اذا عمله. (35(

امام صادق علیہ السلام  نے فرمایاکہ: عاق والدین ،شراب خوراور وہ نیکی کرنے والا شخص جو احسان جتاتا ہے  جنت میں داخل نہیں ہونگے۔

  1. عاق والدین اور عاقبت کار

قال رسول الله(ص):اربعة لا ینظر الله الیهم یوم القیامة، عاق و منان و مکذب بالقدر و مدمن خمر. (36(

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  فرماتے ہیں کہ: چہار گروہ ایسے ہیں کہ خدا وند عالم قیامت کےدن  ان کی طرف نہیں دیکھے گا ،عاق والدین ، منت گزار ،منکر قضا و قدر اور شرابخور۔

  1. عاق والدین کی سزا

قال رسول الله(ص):ثلاثة من الذنوب تعجل عقوبتها و لا تؤخر الی الاخرة:عقوق الوالدین، و البغی علی الناس و کفر الاحسان. (37(

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا : تین لوگوں کےگناہوں کی سزا قیامت تک نہیں رکھے گا (یعنی اسی دنیا میں ہی  اسے سزا ملے گی) عاق والدین، لوگوں پر ظلم و ستم کرنے والا، اور احسان اور نیکی کےبدلے میں ناسپاس شخص۔

  1. عاق والدین

عن ابی عبد الله(ع) قال:الذنوب التی تظلم الهواء عقوق الوالدین. (38(

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: عاق والدین وہ گناہ ہے جو ہوا کو تاریک [تیرہ و تار] کر دیتا ہے ۔

  1. عاق والدین اور شقی

قال الصادق(ع):عقوق الوالدین من الکبائر لان الله (عز و جل) جعل العاق عصیا شقیا. (39(

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ: عاق والدین گناہ کبیرہ میں سے ہے کیونکہ خدا نے  عاق والدین کو گناہ کار اور شقی قرار دیا ہے۔

  1. عاق والدین اور ہلاکت

عن ابی عبد الله(ع):ان رسول الله(ص) حضر شابا عند وفاته فقال(ص) له:قل: لا اله الا الله،قال(ع): فاعتقل لسانه مرارا فقال(ص) لامراة عند راسه: هل لهذا ام؟قالت: نعم انا امه،قال(ص): افساخطة انت علیه؟قالت: نعم ما کلمته منذ ست حجج،قال(ص) لها: ارضی عنه،قالت: رضی الله عنه برضاک یا رسول الله فقال له رسول الله(ص): قال: لا اله الا الله قال(ع): فقالها… ثم طفی… (40(

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ: ایک جوان کےمرتے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اسکےسراہنے پہنچ گئے اور فرمایا : لا الہ الا اللّہ پڑھو وہ جوان نہ پڑھ سکا ( گونگ ہو گیا ) چند بار تکرار کیا پھر بھی نہ پڑھ سکا ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس عورت سے سوال کیا جو اس کےپاس بیٹھی تھی کیا اسکی ماں زندہ ہے؟ عورت نے جواب دیا ،جی ہاں میں اس کی ماں ہوں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کیا تم اس جوان سے ناراض ہو؟ عورت نے جواب دیا، جی میں نے چھے سال سے بات نہیں کی   پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس سے کہا کہ تم اس سے راضی ہو جا ، عورت نے کہا یا رسول اللّہ خدا اس سے راضی ہوں میں آپ کی خاطر اس سے راضی ہوئی ہوں ، اس کےبعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا پڑھو لا الہ اللّہ اس وقت جوان کی زبان سے لا الہ اللّہ جاری ہوا اور کچھ دیر کےبعد وہ مر گیا۔

  1. عاق والدین کےاعمال

قال رسول الله(ص):یقال للعاق اعمل ما شئت فانی لا اغفر لک و یقال للبار اعمل ما شئت فانی ساغفر لک. (41(

رسول خدا نے فرمایا کہ: ۔خدا کی طرف سے ۔ عاق والدین کو کہا جائے گا جو کچھ انجام دینا ہے انجام دو میں تمہیں نہیں بخشوں گا اور نیک کام (والدین کےلیے) کرنے والے سے کہے گا جو کام انجام دینا چاہتے ہو انجام دو میں تمہیں بخش دونگا۔

  1. والدین سے نیکی اور گناہ کا بخش دینا

قال علی بن الحسین(ع):جاء رجل الی النبی(ص) فقال: یا رسول الله ما من عمل قبیح الا قد عملته فهل لی توبة؟فقال له رسول الله(ص):فهل من والدیک احد حیّ؟قال: ابی قال: فاذهب فبره.قال: فلما ولی قال رسول الله(ص):لو کانت امه. (42(

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا کہ: ایک مرد رسول اکرم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللّہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جو میں نے انجام نہ دیا ہو ، کیا میں توبہ کر سکتا ہوں؟رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس مرد نے جواب دیا جی ہاں میرا باپ زندہ ہے ، پیامبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا: جا اور اس سے نیکی کر (تاکہ تمہارے گناہ بخش دئے جائیں ) جب وہ چلے گئے تو پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کاش اگر اس کی ماں زندہ ہوتی! (یعنی اگر اسکی ماں زندہ ہوتی اور وہ اس سے نیکی کرتا  اس کی گناہ جلد بخش دیے جات
ے

حوالہ جات

 

(23)- بحار الانوار، ج 74، ص 79.

 

(24)- بحار الانوار، ج 74، ص 46.

(25)- بحار الانوار، ج 74، ص 56.

(26)- بحار الانوار، ج 74، ص 72.

(27)- کنز العمال، ج 16، ص 468.

(28)- اصول کافی، ج 2، ص 348.

(29)- اصول کافی، ج 4، ص 50.

(30)- اصول کافی، ج 4، ص 50

(31)- بحار الانوار، ج 74، ص 64.

(32)- حار الانوار، ج 74، ص 64.

(33)- بحار الانوار، ج 74، ص 71.

(34)- بحار الانوار، ج 74، ص 62.

(35)- بحار الانوار، ج 74، ص 74.

(36)- بحار الانوار، ج 74، ص 71.

(37)- بحار الانوار، ج 74، ص 74.

(38)- بحار الانوار، ج 74، ص 74.

(39)- بحار الانوار، ج 74، ص 74.

(40)- بحار الانوار، ج 74، ص 75.

(41)- بحار الانوار، ج 74، ص 80.

(42)- بحار الانوار، ج 74، ص 82.

(1)- سورہ اسراء: 23.

 

(2)- سورہ اسراء: 24

(3)- میزان الحکمة، ج 10، ص 709.

(4)- بحار الانوار، ج 74، ص 85.

(5)- بحار الانوار، ج 74، ص 52.

(6)- بحار الانوار، ج 74، ص 70.

(7)- بحار الانوار، ج 74، ص 73.

(8)- بحار الانوار، جلد 74، ص 77.

(9)- بحار الانوار، ج 74، ص 77.

(10)- کنز العمال، ج 16، ص 467.

کنز العمال، ج 16، ص 470.

(11)- کنز العمال، ج 16، ص 467.

(12)- کنز العمال، ج 16، ص 468.

(13)- کنز العمال، ج 16، ص 470.

(14)- بحار الانوار، ج 74، ص 65.

(15)- بحار الانوار، ج 74، ص 83

(16)- کنز العمال، ج 16، ص 475.

(17)- بحار الانوار، ج 74، ص 84.

(18)- بحار الانوار، ج 74، ص 49.

(19)- کنز العمال، ج 16، ص 466.

(20)- بحار الانوار، ج 74، ص 45.

(21)- بحار الانوار، ج 74، ص 80.

(22)- بحار الانوار، ج 74، ص 79.

نماز تہجد کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

 

نماز تہجد کی اہمیت  قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر. ساجد محمود

المصطفی العالمیہ یونیورسٹی

 

 

نماز تہجد کی محبوبیت

اَنَسِ بنِ مالِكٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّهَ صلي الله عليه و آله يَقُولُ: اَلرَّكْعَتانِ فِى جَوْفِ اللَّيْلِ اَحَبُّ اِلَىَّ مِنَ الدُّنْيا وَما فِيْها.[1]

رسول خدا صلي الله عليه و آله فرماتے ہیں:رات کے اندھیرے میں دو رکعت نماز پڑھنا میری نظر میں،  دنیا اور اس میں موجود تمام اشیاء سے بہتر ہے۔

آخرت کا  زیور

عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليه السلام قالَ: اَلمالُ وَآلْبَنُونُ زينَةُ الْحَيوةِ الدُّنْيا وَثَمانُ رَكَعاتٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَالْوَتْرُ زينَةُ الآخِرَةِ، وَقَدْ يَجْمَعُهَا اللّهُ لاَِقْوامٍ. [2]

امام صادق عليه السلام نے فرمایا: مال و دولت اور اولاد،  دنیا کی زندگی کے زیور ہيں، لیکن رات کے آخری حصہ میں آٹھ رکعت اور ایک رکعت نماز «وتر» پڑھنا آخرت کا زیور ہیں اور بعض اوقات اللہ تعالی ان تمام زیوروں کو  ایک خاص گروہ ( جس پر اس کی خاص عنایت ہوتی ہے) کے لئے اکٹھا کر دیتا ہے۔

اللہ کی دوستی کا معیار

عَنْ جابِرِ بْنَ عَبْدِاللّهِ الاْنـْصارِى قالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّهِ صلي الله عليه و آله يَقُولُ: مَا اتَّخَذَّ اللّهُ اِبْراهِيمَ خَليلاً اِلاّ لاِِطْعامِهِ الطَّعامَ، وَصَلاْتِهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيامٌ.  [3]

جابربن عبدالله انصارى(رضی اللہ عنہ)  کہتے ہيں: میں نے رسول خدا صلي الله عليه و آله کو فرماتے سنا:  خدا تعالی نے حضرت خلیل کو دو کاموں کی وجہ سے اپنا دوست اور خلیل  اختیار کیا:

1۔ دوسروں کو کھانا کھلانا

2۔ نمازتہجد کا پڑھنا جب کہ لوگ سو رہے ہوتے۔

سعادت کا سبب

قالَ النَّبِىُّ صلي الله عليه و آله: خَيْرُكُمْ مَنْ اَطابَ الْكَلامَ وَاَطْعَمَ الطَّعامَ وَصَلّى بِاللَّيْلِ وَ النّاسُ نِيامٌ. [4]

پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله  نے فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے کہ جو اچھی بات کرے، لوگوں کو کھانا کھلاۓ اور جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز تہجد پڑھے۔

بهترين نماز

عَنْ رَسُولِ اللّهِ صلي الله عليه و آله قالَ: اَفْضَـلُ الصَّـلاةِ بَـعْدَ الصَّـلاةِ الْمَـكْتُوبَةِ الصَّـلاةُ فِى جَوْفِ الَلَّيْل۔[5]

رسول بزرگوار اسلام صلى الله عليه و آله نے فرمایا: واجب نماز کے بعد بہترین نماز  رات کی تاریکی میں نماز تہجد پڑھنا ہے۔

دنیا  اور اس میں پائی جانے والی تمام اشیاء  سے بہتر

عَنْ رَسُولِ اللّهِ صلي الله عليه و آله قالَ: رَكْعَتانِ يَرْكَعُهُما اِبْنُ آدَمَ فِى جَوْفِ اللَّيْلِ الآخِرِ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الدُّنْيا وَما فِيها، وَلَوْلا اَنْ اَشُقَّ عَلى اُمَّتِى لَفَرَضْتُهُما عَلَيْهِمِ[6].

رسول اكرم صلى الله عليه و آله نے فرمایا: جب کوئی  شخص رات کی تاریکی میں دو  رکعت نماز  پڑھے تو وہ نماز  دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر  یہ امر میری امت پر دشوار نہ ہوتا  تو میں ان دو رکعت نماز کو ان پر واجب کر دیتا۔

خیر و سعادت کے دروازے

قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله لِمَعاذِبْنِ جَبَلٍ فِى غَزْوَةِ تَبُوكٍ: وَاِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِاَبْوابِ الْخَيْرِ؟ قالَ: قُلْتُ: اَجَلْ يارَسُولَ اللّهِ قالَ: اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطيئَةَ، وَقِيامُ الرَّجُلِ فِى جَوْفِ اللَّيْلِ يَبْتَغى وَجْهَ اللّهِ، ثُمَّ قَرَءَ هذِهِ الآيَةَ: «تَتَجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ المَضاجِعِ»[7].

رسول خدا صلي الله عليه و آله نے جنگ تبوک میں جناب معاذ بن جبل سے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمھیں خیر و سعادت کے دروازوں  کے متعلق خبر دوں؟ اس نے کہا : اے  اللہ کے رسول! فرمائیں ! پيامبر صلي الله عليه و آله نے فرمایا: وہ دروازے یہ ہيں:

1۔ روزہ ہے کہ جو آتش جہنم سے سپر ہے

2۔ صدقہ ہے کہ  جو خطاؤں کو مٹا دیتا ہے

3۔  انسان کا رات کی تاریکی میں خدا کی رضا  کی خاطر نماز کے لئے بیدار ہونا، اور پھر اس آیت  “تَتَجافى جُنُوبُهُم عَنِ المَضاجِعِ” کی تلاوت فرمائی۔

جبرئیل کی سفارش

قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله: مـازالَ جَبْـرَئيلُ يُوصينـِى بِقِـيامِ اللَّيْلِ حَتّـى ظَنـَنْتُ اَنَّ خِـيارَ اُمَّـتى لَـنْ يَـنامُوا.  [8]

رسول خدا صلى الله عليه و آله نے فرمایا: جبرئیل ہمیشہ سے مجھے نماز تہجد کی سفارش کرتا رہا ہے یہاں تک میں نے گمان کیا کہ میری امت کے بہترین افراد رات کو ہر گز نہیں سو سکیں گے۔

مؤمن کا  افتخار

يَقُولُ الصّادِقُ عليه السلام: ثَلاثَةٌ هُنَّ فَخْرُ المُؤْمِنِ وَزينَةٌ فِى الدُّنْيا وَاْلآخِرَةَ: الَصَّلاةُ فِى آخِرِ اللَّيْلِ، وَ يَأْسُهُ مِمّا فِى اَيْدىِ النّاسِ، وَوِلايَةُ اْلاِمامِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ۔[9]

امام صادق عليه السلام نے فرمایا: تین چیزیں مؤمن کے لئے افتخارہیں اور دنیا اور آخرت کے لئے زیب و زینت ہیں۔

1۔ رات کے آخری حصہ میں نماز تہجد کا پڑھنا

2۔ جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس سے  بے نیاز ہونا

3۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے خاندان میں سے امام معصوم کی ولایت کو قبول کرنا

مؤمن کا شرف

قالَ اَبُو عَبْدِاللّهِ عليه السلام: شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلاتُهُ بِاللَّيْلِ، وَعِزُّهُ كَفُّ الاَذى عَنِ النّاسِ.   [10]

امام صادق عليه السلام نے فرمایا: مؤمن کی شرافت ، نماز تہجد میں ہے اور اس کی  عزت اور بزرگواری اس میں ہے کہ   لوگوں کو اذیت نہ پہنچاۓ۔

فخر و مباهات الهى کا سبب

عَنِ النَّبِىِّ صلي الله عليه و آله: اِذا قـامَ الْعَبْدُ مِنْ لَذيذِ مَضْـجَعِهِ وَالنُّعـاسُ فِى عَيْنَـيْهِ لِيُـرْضِىَ رَبَّـهُ جَلَّ وَ عَزَّبِصَـلاةِ لَيْلِهِ، بـاهَى اللّهُ بِهِ مَلائِـكَتَهُ، فَقـالَ: اَمـا تَرَوْنَ عَـبْدى هذا، قَدْ قـامَ مِنْ لَذيذِ مَضْـجَعِهِ اِلى صَـلاةٍ لَمْ اَفْـرُضْها عَـلَيْهِ اِشْـهَدُوا اَنِّى قَـدْ غَفَـرْتُ لَهُ.   [11]

پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله نے فرمایا: جب انسان اللہ تعالی کی رضا کی خاطر خواب آلود آنکھوں کے ساتھ اپنے آرام دہ بستر سے اٹھتا ہے۔ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے فخر و مباہات کرتے ہوۓ، فرماتا ہے: آیا تم نے میرے اس بندہ کو دیکھا ہے کہ جو اپنی میٹھی نیند چھوڑ کر اس نماز کو پڑھنا چاہتا ہے کہ جسے میں نے  اس پر واجب بھی نہیں کی ہے، تم اس بات کے گواہ رہنا کہ میں نے اس کے گناہوں کو بخش دیا ہے۔

   اجر عظیم

عَنْ اَبِى عَبْدِاللّهِ عليه السلام قالَ: ما مِنْ عَمَلٍ حَسَنٍ يَعْمَلُهُ الْعَبْدُ اِلاّوَلَهُ ثَوابٌ فِى الْقُرْآنِ اِلاّ صَلاةُ اللَّيْلِ فَاِنَّ اللّهَ لَمْ يُبَيِّنْ ثَوابَها لِعَظيمِ خَطَرِهِ عِنْدَهُ فَقالَ: «تَتَجا فى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفا وَطَمَعَا وَمِمّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما اُخْفِىَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِّ اَعْيُنٍ جَزاءً بِما كانُوا يَعْملُونَ».

امام صادق عليه السلام نے فرمایا: ۔نماز تہجد کے علاوہ اللہ تعالی نے انسان کے ہرعمل  کا ثواب( کہ جسے وہ انجام دیتا ہے)  قرآن مجید میں بیان کیا ہے، سواۓ نماز تہجد کے چونکہ اللہ کے نزدیک اس کا ثواب بہت عظیم ہے۔  پھر اس آیت کی تلاوت کی : «تَتَجا فى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفا وَطَمَعَا وَمِمّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما اُخْفِىَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِّ اَعْيُنٍ جَزاءً بِما كانُوا يَعْملُونَ»۔   [12]    (رات کے وقت) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ بیم و امید سے اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں۔  پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے (اچھے) اعمال کے صلہ میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کیا نعمتیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔

ایک رکعت

عَنْ رَسُولِ اللّهِ صلي الله عليه و آله قالَ: عَلَيْكُمْ بِصَلاةِ اللَّيْلِ وَلَوْرَكْعَةً واحِدَةً، فَاِنَّ صَلاةَ اللَّيْلِ مِنْهاةٌ عَنِ اْلاِثْمِ، وَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ تَبارَكَ وَ تَعالى، وَتَدْفَعُ عَنْ اَهْلِها حَرَّ النَّارِ يَوْمَ القِيامَةِ۔[13]

رسول خدا صلى الله عليه و آله وسلم نے فرمایا: نماز تہجد پڑھا کرو  اگرچہ ایک رکعت ہی کیوں نہ ہو، چونکہ نماز تہجد انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور   غضب الہی سے نجات دینے کا سبب بنتی ہے اور  قیامت کے دن کی آگ کی تپش  کو دور کرتی ہے۔

شیعہ  اور نماز تہجد

قالَ الصّادِقُ عليه السلام: لَيْسَ مِنْ شيعَتِنا مَنْ لَمْ يُصَلِّ صَلاةَ اللَّيْل۔[14]

امام صادق عليه السلام نے فرمایا: جو نماز تہجد نہ پڑھے ہمارے شیعہ میں سے نہیں ہے۔

وضاحت: شیخ مفید فرماتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارے مخلص شیعوں میں سے نہیں ہے  اس سے منظور یہ ہے کہ جوشخص نماز شب کی فضیلت  کا معتقد نہ ہو وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے۔

نماز کے لئے بیدار کرنا

قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله: رَحِمَ اللّهُ رَجُلاً قامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلّى وَاَيْقَظَ اِمْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَاِنْ اَبَتْ نَضِحَ فِى وَجْهِهَا المآءَ، رَحِمَ اللّهُ اِمْرَأَةً قامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَاَيْقَظَتْ زَوْجَها، فَاِنْ اَبى نَضِحَتْ فِى وَجْهِهِ المآءَ[15].

رسول خدا صلى الله عليه و آله نے فرمايا: خدا رحمت کرے اس شخص پر کہ جو  رات کے ایک حصہ میں بیدار ہو اور نماز تہجد پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے تا کہ وہ بھی نماز پڑھے، اگر وہ بیدار نہ ہو تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تاکہ وہ وہ بیدار ہو اور خدا رحمت کرے اس عورت پر کہ جو اپنی میٹھی نیند سے اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے ، اگر وہ بیدار نہ ہو  تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تاکہ وہ بیدار ہو جاۓ( البتہ یہ کام رضایت اور تمایل کی صورت میں ہونا چاہیے)۔

نماز تہجد کی نیت

قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله: ما مَنْ عَبْدٍ يُحَدِّثُ نَفسَهُ بِقِيامِ ساعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ فَيَنامُ عَنْها اِلاّ كانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللّهُ بِها عَلَيْهِ وَكَتَبَ لَهُ اَجْرَما نَوى[16].

رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا:   اگر کوئی شخص  نماز تہجد کے پڑھنے   کی  نیت سے   سو جاۓ تو اس کا سونا بھی صدقہ شمار ہوتا ہے اور اگر وہ سویا رہے اور وقت گزر جاۓ تو  خدا وند سبحان اسے اس کی اس نیت کے بدلے میں نماز تہجد کے پڑھنے کا ثواب عطا کرے  گا۔

.[1] بحارالأنوار، ج ۸۷، ص ۱۴۸

.[2]  بحارالأنوار، ج ۸۷، ص150

بحارالأنوار، ج ۸۷، ص ۱۴۴ . .[3]

ایضا، ص ۱۴۲ .  ۔[4]

[5] ۔.  كنز العمال، ۷/۲۱۳۹۷ .

[6] ۔.  كنز العمال، ۷/۲۱۴۰۵

[7] ۔ بحارالأنوار، ج ۸۷، ص ۱۲۳

۔ ایضا، ص139 [8]

[9] ۔.   ایضا، ص ۱۴۰

[10] ۔ بحارالأنوار، ج ۸۷، ص ۱۴۱

[11] ۔ بحار الانوار،ج ۸۷، ص ۱۵۶

[12] ۔ وسائل الشيعه، ج ۵، ص ۲۸۱

[13] ۔ كنز العمال، ۷/۲۱۴۳۱ .

[14] ۔.   بحارالأنوار، ج ۸۷، ص ۱۶۲

[15] ۔ ميزان الحكمة، ج ۵/۱۰۴۴۶

[16] ۔ ایضا، ج ۵/۱۰۴۷۰

قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کی اطاعت

 

قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کی اطاعت

ساجد محمود

المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی

 خلاصہ

 بندوں میں سب سے مقدم حق، والدین کا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کتاب و سنت میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔یہی والدین  در حقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ انسان کا وجود والدین کے مرہون منت ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالٰی نے بھی کئی مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کے ادائیگی کی تلقین کی ہے۔ نیز جہاں شرک سے اجتناب کی تعلیم دی تو وہیں ساتھ میں والدین کے ساتھ صحیح روش اپنانے کی ترغیب دی۔ اسی طرح محمد و آل محمد(علیھم السلام) کے فرامین   بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دے رہے ہیں، جس طرح والدین نے بچپن میں بچے پر رحم کیا، اس کی ضروریات کا لحاظ کیا، اس کے درد کو اپنا درد سمجھا، اس کی ضرورت کو اپنی ضرورت خیال کیا، اس کی تکلیف کے دفعیہ میں حتٰی الامکان سعی کی، اس طرح بڑھاپے میں بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ والدین کو نعمت سمجھیں، ان کی خدمت اپنے لئے اعزاز قرار دیں، اپنے گھر میں  ان کا قیام اپنے لیے رحمت تصور کریں۔

 افسوس ناک صورت حال یہ ہے  کہ موجودہ دورمیں معاشرہ انتشار اور افراتفری کا شکار ہے اور مسلمان اپنی روایات اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں اور آئے روز والدین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور قتل جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب ایک معمول بن چکاہے۔ اسی لئے اس تحقیق میں کوشش کی گئي ہے کہ والدین کی اطاعت سے متعلق احکام خداوندی  اور معصومین (علیھم السلام) کے فرمودات ، والدین کی اطاعت کے دنیوی و اخروی فوائد،والدین کی نافرمانی کے دنیوی اور اخروی  نقصانات اولاد کے فرائض   اس کے علاوہ والدین کے حقوق سے متعلق چند فقہی مسائل وغیرہ  کو بیان کیا جائے تاکہ معاشرے میں والدین کے مقام کو  کما فی السابق آئندہ نسل کے لئے زندہ اور پایندہ رکھا جائے۔

قرآنی آیات کی روشنی میں والدین کی اطاعت

اللہ تعالی، والدین  کی اطاعت کے بارے میں فرماتا ہے:   «وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ،﴿۱۴﴾ وَ إِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ؛﴿15﴾ [1] اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں (حسنِ سلوک کرنے کا) تاکیدی حکم دیا (کیونکہ) اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری سہہ کر اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹا (وہ تاکیدی حکم یہ تھا کہ) میرا اور اپنے ماں باپ کا شکریہ ادا کر (آخرکار) میری ہی طرف (تمہاری) بازگشت ہے۔ اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے تو پھر ان کی اطاعت نہ کر اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کر اور اس شخص کے راستہ کی پیروی کر جو (ہر معاملہ میں) میری طرف رجوع کرے پھر تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے۔ تو (اس وقت) میں تمہیں بتاؤں گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

صاحب مجمع البیان اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں (حسنِ سلوک کرنے کا) تاکیدی حکم دیا ۔ یہاں پر چونکہ خداتعالی نے اپنی نعمتوں کے شکر  کے بجا لانے  کا امر فرمایا ہے، اس لئے اشارہ کے ساتھ اس بات کا  تذکر دیتا ہے کہ  ہر منعم کا شکر واجب  اور لازم ہے ، اسی وجہ سے ماں باپ( اپنے فرزند  پراحسان کرتے ہيں) والدین کا ذکر کیا ہے  اور ہمارے پر واجب کیا ہے کہ والدین کی اطاعت کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کریں اور ان کے ساتھ نیکی کے ساتھ سلوک کریں۔ اللہ تعالی نے اپنی شکر گذاری کے بعد والدین کی شکر گزاری کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ چونکہ خداوند عالم،  انسان کا خالق ہے اور والدین اس انسان کی خلقت  اور حفاظت کا  وسیلہ ہیں۔ [2]

قرآنِ مجید میں  ایک اور جگہ پر خدا تعالی فرماتا ہے:

وَٱعْبُدُوا ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِ‌كُوابِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا وَبِذِى ٱلْقُرْ‌بَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْجَارِ‌ ذِى ٱلْقُرْ‌بَىٰ وَٱلْجَارِ‌ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورً‌ا.[3]

”اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اور پاس رہنے والے پڑوسی کے ساتھ اور ہم مجلس کے ساتھ بھی اور مسافر کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضہ ہیں ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوپسند نہیں کرتا ہے جواپنے کو بڑا سمجھتے اور شیخی مارتے ہوں ۔” اس آيت میں خدا تعالی نے اپنی عبادت  کے بیان کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دے کر والدین کے حقوق  اور عظمت کو واضح کر دیا ہے۔

سورہ بقرہ میں خدا تعالی  انفاق کے بارے میں فرماتا ہے :

یسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ‌ۢ فَلِلْوَ‌ٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَ‌بِينَ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْر فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ۔[4]

”لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپؐ فرما دیں کہ جو کچھ مال تم کو خرچ کرنا ہو تو ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں کا اور یتیموں کا، محتاجوں اور مسافر کااور جو نیک کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔” آیۃ مذکورہ میں خالق کائنات نے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ انفاق کا مستحق  والدین کو قرار دیا ہے۔

ایک مقام پر والدین کو اُف تک کہنے سے اور جھڑکنے سے منع فرمایا، ارشادِ ربانی ہے:

وَقَضَىٰ رَ‌بُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ‌ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْ‌هُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِ‌يمًا ﴿٢٣﴾ وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّ‌حْمَةِ وَقُل رَّ‌بِّ ٱرْ‌حَمْهُمَا كَمَا رَ‌بَّيَانِى صَغِيرً‌ا ۔[5]

”اور تیرے ربّ نے حکم دیا کہ تم صرف اس کی ہی عبادت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو۔ اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی اُف نہ کہو (یعنی ‘ہوں ‘بھی مت کرنا) اورنہ ہی ان کوجھڑکنا اور ان سے خوب اَدب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت و محبت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرما جیسے اُنہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا اور پرورش کی۔”

اس کے علاوہ قرآن نے تمام انبیاے کرام کے پیغامِ رسالت میں والدین کی برتر حیثیت کو بیان کیا ہے اور مطلق احکام کی صورت میں بھی والدین کو توحید کے بعد سب سے اونچا درجہ دیا ہے:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَ بَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَانًا۔[6]

”اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے قول و قرار لیاکہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرنا اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت کرنا۔”

قرآن مجید نے والدین سے حسنِ سلوک کا نہ صرف حکم الٰہی بیان کیاہے بلکہ حسن سلوک کے لیے عقلی دلیل بھی مہیا کی ہے:

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَ‌ٰلِدَيْهِ إِحْسَـٰنًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْ‌هًا وَوَضَعَتْهُ كُرْ‌هًا ۖ وَحَمْلُهُۥ وَفِصَـٰلُهُۥ ثَلَـٰثُونَ شَهْرً‌ا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْ‌بَعِينَ سَنَةً قَالَ رَ‌بِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ‌ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَ‌ٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـٰلِحًا تَرْ‌ضَىٰهُ وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّ‌يَّتِىٓ ۖ إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ۔[7]

” اور ہم نے انسان کواپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیاہے۔ اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اوربڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑانا تیس مہینے (میں پورا ہوتا ہے)یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کو پہنچتا ہے تو کہتا ہے: اے میرے پروردگار! مجھ کو اس پر مداومت دیجئے کہ میں آپ کی نعمتوں کاشکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطافرمائی ہیں اور میں نیک کام کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے لیے خیر پیداکردیجئے، میں آپ کی جناب میں توبہ کرتاہوں اور میں فرمانبردار ہوں ۔”

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات بیان کرتے ہوئے والدین کے ساتھ ان کے حسن سلوک کا خصوصی ذکر کیا: وَبَرًّ‌ۢا بِوَ‌ٰلِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارً‌ا عَصِيًّا۔[8]

”اور وہ اپنے والدین کے خدمت گزار تھے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے نہ تھے۔”

عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بچپن میں جو گفتگو کی تھی، اس میں بھی والدہ سے حسنِ سلوک کا خاص تذکرہ ہے:وَجَعَلَنِى مُبَارَ‌كًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَـٰنِى بِٱلصَّلَو‌ٰةِ وَٱلزَّكَو‌ٰةِ مَا دُمْتُ حَيًّا؛ وَبَرًّ‌ۢا بِوَ‌ٰلِدَتِى وَلَمْ يَجْعَلْنِى جَبَّارً‌ۭا شَقِيًّا۔[9]

”اورمجھ کو برکت والا بنایا میں جہاں کہیں بھی ہوں اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا جب تک میں دنیا میں زندہ رہوں اور اپنی والدہ کے ساتھ حُسن سلوک کرنے والا ہوں اور مجھ کو سرکش بدبخت نہیں بنایا۔”

روایات معصومین (ع) کی روشنی میں والدین کی اطاعت

آئمہ معصومین(علیهم السلام) نے بہت سی روایات میں مسلمانوں کو  اپنے والدین کی اطاعت اور رحیمانہ سلوک کی سفارش کی ہے   اور امت  مسلمہ کو اس بات کی تعلیم دی کہ والدین کی اطاعت و فرماں برداری اپنے لئے لازم کرلو۔ اس ضمن میں   چند  احادیث  بہ طور مثال ذکر کرتے ہيں:

  1. رسول خدا ( صلّی الله علیہ و آلہ ) نے فرمایا:

“العبدُ المطیعُ لوالدیهِ و لرّبه فی أعلی علّیین”وہ شخص کہ  جو اپنے خدا اور والدین کا مطیع ہو گا ، (قیامت کے دن) اس کا مقام اعلی علیین میں ہوگا۔ [10]

  1. امام علی ( علیہ السّلام ) نے فر مایا:

“حقّ الوالِدِ أن یُطیعَهُ فی کلّ شئٍ الاّ فی معصیهِ اللهِ سبحانَهُ”اولاد پر والدین کا حق ہے یہ کہ معصیت خدا کے علاوہ تمام موارد میں ان کی اطاعت کريں۔ [11]

  1. عَنِ النَّبِیِّ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثَهٌ لَا یَحْجُبُونَ عَنِ النَّارِ الْعَاقُّ لِوَالِدَیْهِ وَ الْمُدْمِنُ لِلْخَمْرِ وَ الْمَانُّ بِعَطَائِهِ قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا عُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ قَالَ یَأْمُرَانِ فَلَا یُطِیعُهُمَا؛ [12] رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) نے فرمایا:

 تین قسم کے لوگ جہنم سے نہیں بچ سکتے 1۔ والدین کے عاق 2۔ دائمی شراب خور 3۔ صدقہ دے کر جتلانے والا، کہا گیا : یارسول اللہ! عاق والدین سے کیا مراد ہے؟ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) نے فرمایا: والدین اپنے فرزندکو کسی کام کرنے کا حکم دیں اور وہ ان کی اطاعت نہ کرے۔

قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُ الْوَالِدِ قَالَ أَنْ تُطِیعَهُ مَا عَاشَ فَقِیلَ وَ مَا حَقُّ الْوَالِدَهِ فَقَالَ هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لَوْ أَنَّهُ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَ قَطْرِ الْمَطَرِ أَیَّامَ الدُّنْیَا قَامَ بَیْنَ یَدَیْهَا مَا عَدَلَ ذَلِکَ یَوْمَ حَمَلَتْهُ فِی بَطْنِهَا؛

پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم)سے کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ! باپ کا کیا حق ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) نے فرمایا:جب تک تم زندہ ہو اس کی اطاعت کرو۔ پھر سؤال کیا: ماں کا کیا حق ہے؟حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) نے فرمایا: ھیہات، ھیہات ؛ بہت دور ہے ، بہت دور ہے(کہ اس کا کوئی حق ادا کرے! پھر فرمایا: اگر کسی شخص کی عمر بیابان  اور ریگستان کے ذروں اور  بارش کے قطروں  کے برابر ہو اور وہ اپنی ماں کی خدمت کرتا رہے  تب بھی یہ تمام  خدمت،  حمل کے دوران ایک دن کی اٹھائی گئی تکلیف کے برابر  نہيں ہو سکتی۔[13]

  1. امام سجاد (ع) نے صحیفہ سجادیہ کی 24ویں دعا کی ابتدا میں درود وسلام کے بعد اپنے ماں باپ  کے حق میں دلنشین اور بہت پیارے انداز میں  اللہ تعالی سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں ان کا مطیع اور فرمانبردار بنادے:  : «أللَّهُمَّ اجْعَلْنی أهَابَهُما هَیبَهَ السُّلْطانِ العَسُوفِ وَ أبوَّهُمَا بِوَّ الأمَّ الرَّؤوفِ، وَاجعَلْ طَاعَتِی لِوالدَی وَ بِرّی بِهِما أقرَّلعَینی مِنْ وَقدهِ الوَسنانِ، وَأثْلَجَ لِصَدری مِنْ شَوبَهٍ الظَّمْآنِ حَتَّی أوثِرَ عَلَی هَوای هَواهُمَا، وَأقدَّمَ عَلَی رضای رَضاهُمَا، وَأسْتَکثَرَ برَّبَهُمَا بِی وَ إنْ قَلَّ وَأسْتَقِلَّ بِرّی بِهِما وَ إنْ کثُرَ؛

خدایا! مجھے توفیق دے کہ میں اپنے ماں باپ سے اس طرح ڈروں جیسے کسی جابر سلطان سے ڈرا جاتا ہے اور ان کے ساتھ اس طرح مہربانی کروں جس طرح ایک مہر بان ماں اپنی اولاد کے ساتھ مہربانی کرتی ہے۔ اور پھر میری اس اطاعت کو اور میرے اس نیک برتاؤ کو میری آنکھوں کے لئے اس سے زیادہ خوشگوار بنا دے جتنا خواب آلود آنکھوں میں نیند کا خمار خوشگوار ہوتا ہے اور اس سے زیادہ باعث سکون بنا دے جتنا  پیاسے کے لئے پانی کا ایک گھونٹ باعث سکون بنتا ہے تاکہ میں اپنی خواہش کو ان کی خواہش پر مقدم کروں اور ان کی رضا  کو اپنی رضا پر ترجیح دوں۔ ان کے مجھ پر کیے گئے احسانات کو زیادہ سمجھوں، چاہے وہ قلیل ہی کیوں نہ ہوں  اور اپنی خدمات کو قلیل تصور کروں چاہے وہ کثیر ہی کیوں نہ ہوں۔ [14]

  1. حضرت امام زین العابدین(علیه السلام)ایک اور دعا میں خداوند متعال سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کی اولاد کو اپنے والدین کا مطیع قرار دے دے اور فرمایا: “وَ اجْعَلْهُمْ لِی مُحِبِّینَ، وَ عَلَیَّ حَدِبِینَ مُقْبِلِینَ مُسْتَقِیمِینَ لِی، مُطِیعِینَ ، غَیْرَ عَاصِینَ وَ لَا عَاقِّینَ وَ لَا مُخَالِفِینَ وَ لَا خَاطِئِین”

 ترجمہ: خدایا! انہیں میرا  چاہنے والا اور میرے حال پر مہربانی کرنے والا اور میری طرف توجہ کرنے والا اور میرے حق میں سیدھا اور اطاعت گذار بنا دے ، جہاں نہ معصیت کریں نہ عاق ہوں ، نہ مخالفت کریں اور غلطی کریں۔[15]

والدین کی اطاعت کے دنیوی اور اخروی فائدے

والدین کی اطاعت کےبہت سے دنیوی اور اخروی فوائد ہیں کہ جن میں سے چند کی طرف اشارہ کرتے ہيں۔

1.      والدین کی طرف محبت بھری نگاہ  کرنا عبادت ہے

 رسول خدا صلی الله علیه و آله فرماتے ہيں:” نظر الولد الی والدیه حباً لهما عباده”[16]  بچے کا اپنے والدین کو محبت بھری نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے۔

روایات میں ہے کہ چند چیزوں کی طرف نگاہ کرنا، عبادت شمار ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک قرآن مجید ہے کہ جس کی طرف نگاہ کرنا عبادت ہے اور اس کے علاوہ امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ ایک شخص نے خانہ کعبہ کے پاس حضرت ابوذر (رضی اللہ تعالی عنہ) سے پوچھا: حضرت علی(علیہ السلام) کے چہرے کی طرف  زیادہ کیوں دیکھتے ہو؟ تو فرمایا:  النّظر الی علی بن أبی طالب عباده، و النّظر الی الوالدین برأفۃ و رحمۃ عباده.حضرت علی(علیہ السلام) کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھنا عبادت ہے؛ اسی طرح والدین کی طرف محبت اور رحمت کی نظر کرنا ، عبادت ہے۔

2.      والدین کے ساتھ نیکی،  اسلام کی راہ میں جہاد ہے

پیامبر اکرم صلی الله علیه و آله نے فرمایا: “برّ الوالدین یجزی عن الجهاد”[17]والدین سے نیکی کرنا جہاد سے بھی کفایت کرتا ہے۔ (جہاد  کے برابر ہے)۔

3.      طویل عمر  اور کثرت رزق کا باعث ہے

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) نے فرمایا: انّه ربّما کان قد بقی من عمر الانسان ثلث سنین ثم انّه یحسن الی والدیه و یصل أرحامه فیؤخّره الله الی ثلثین سنه و انّ منهم من یبقی من عمره ثلاثون سنه ثم انّه یقطع أرحامه أو یعق والدیه فیمحو الله سبحانه الثلاثین و یثبت مکانها ثلاث سنین، و قال رسول الله صلی الله علیه و آله : رأیت فی المنام رجلا قد اتاه ملک الموت لقبض روحه فجاء برّه بوالدیه فمنعه منه.[18]

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کی عمر ، تین سال باقی رہ جاتی ہے ؛ لیکن اس کا والدین کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کرنے  کی وجہ سے  خدا تعالی اس کی عمر کو تیس سال میں تبدیل کر دیتا ہے اور اس کے برعکس، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی عمر تیس سال باقی رہتی ہوتی ہے ؛ لیکن قطع رحمی اور والدین کو اذیت و آزار دینے کی وجہ سے اس کی یہ تیس سالہ عمر تین سال میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے خواب میں دیکھا کہ ملک الموت ، قبض روح کے لئے ایک شخص کے پاس آیا ؛ لیکن والدین کے ساتھ نیکی  نے اس کی زندگی کوبچا لیا۔

اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں بیا ن ہوا ہے کہ : عن حنان بن سدیر قال: کنا عند ابی عبد الله(ع) و فینا میسر فذکروا صلة القرابة فقال ابو عبد الله ع):یا میسر قد حضر اجلک غیر مرة و لا مرتین، کل ذلک یؤخر الله اجلک، لصلتک قرابتک، و ان کنت ترید ان یزاد فی عمرک فبر شیخیک یعنی ابویک. [19]

حنان ابن سدیر بیان کرتا ہے کہ : ہم امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور میسر نامی شخص بھی ہمارے ساتھ تھا ، صلہ رحمی کی بات چلی تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اے میسر  کئی بار تمہاری موت آچکی تھی ہر بار خدا وند عالم نے تمہارے صلہ رحمی کی وجہ سے موت کو ٹال دیا ہے اگر تم یہ چاہتے ہو کہ خدا وند عالم تمہاری عمر میں اضافہ کر ے تو تم اپنے دونوں بزرگوں  یعنی والدین سے نیکی کیا کرو ۔

4.      والدین کے ساتھ نیکی، خوشگوار زندگی  کا باعث بنتی ہے

معصوم فرماتے ہیں:

 لذّه العیش فی البرّ بالوالدین[20]خوشگوار زندگی کی لذت ، ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے میں مضمر ہے۔

وضاحت: وہ لوگ کہ جو اپنی اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں اپنے والدین کے ساتھ شفیق اور مہربان    نہیں  ہوتے   بلکہ اس کے برعکس  غیض و غضب سے پیش آتے ہيں، صرف یہ نہیں کہ آخرت میں عذاب پروردگار کے مستحق قرار پائیں گے بلکہ وہ دنیا کی کسی لذت  اور خوشی سے بھی بہرہ مند نہیں ہوں گے۔ ہم اپنے زمانے میں  اس بات کے شاہد ہیں کہ جو لوگ  اپنے والدین کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش نہیں آتے ، کس طرح  ان کے گھر  تباہ و برباد  ہو جاتے ہيں اور ہمیشہ زندگی میں مصیبتوں کا شکار رہتے ہیں!  پس جو لوگ اس دنیا میں  پرسکون اور خوشگوار زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی، محبت اور شفقت کا سلوک کریں، تاکہ   مسرت اور خوشی سے بھرپور  زندگی کی لذت حاصل کر سکیں۔

5.      موت میں آسانی کا باعث ہے

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

“من أحبّ أن یخفّف اللّه عزّ و جّل عنه سکرات الموت فلیکن بوالدیه بارّا”[21]  جو شخص سکرات موت کی تلخی سے بچنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے والدین سے نیکی کے ساتھ پیش آئے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے:

 عن ابی عبد الله(ع):ان رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) حضر شابا عند وفاته فقال(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) له:قل: لا اله الا الله،قال(ع): فاعتقل لسانه مرارا فقال(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) لامراة عند راسه: هل لهذا ام؟قالت: نعم انا امه،قال(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم): افساخطة انت علیه؟قالت: نعم ما کلمته منذ ست حجج،قال(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) لها: ارضی عنه،قالت: رضی الله عنه برضاک یا رسول الله فقال له رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم): قال: لا اله الا الله قال(ع): فقالها… ثم طفی…[22]

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

ایک جوان کےمرتے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اسکےسراہنے پہنچے اور فرمایا : لا الہ الا اللّہ پڑھو وہ جوان نہ پڑھ سکا ( گونگا ہو گیا ) چند بار تکرار کیا پھر بھی نہ پڑھ سکا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس عورت سے سوال کیا جو اس کےپاس بیٹھی تھی کیا اسکی ماں زندہ ہے؟ عورت نے جواب دیا ،جی ہاں میں اس کی ماں ہوں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کیا تم اس جوان سے ناراض ہو؟ عورت نے جواب دیا، جی میں نے چھے سال سے بات نہیں کی  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس سے کہا کہ تم اس سے راضی ہو جا ، عورت نے کہا یا رسول اللّہ خدا اس سے راضی ہوں میں آپ کی خاطر اس سے راضی ہوئی ہوں ، اس کےبعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا پڑھو لا الہ اللّہ اس وقت جوان کی زبان سے لا الہ اللّہ جاری ہوا اور کچھ دیر کےبعد وہ مر گیا۔

6.        جہنم کی آگ سے سپر ہے

روایت میں آیا ہے :

“انّ أبی قد کبر جداً و ضعف فنحن نحمله اذا اراد الحاجه فقال ان استطعت أن تلی ذلک منه فافعل و لقّمه بیدک فانّه جنۃ لک غدا”[23]

ایک شخص نے امام صادق(علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی 🙁 میرا باپ اتنا  بوڑھا اور ناتوان ہو چکا ہے کہ قضاء حاجت کے لئے  ہم اسے اپنے کندھوں  پر اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ امام صادق(علیہ السلام) نے فرمایا: اگر تو  قدرت رکھتا ہے تو  تم خود اس کام کو انجام دو اور خود تم اس کے منہ میں  لقمہ دو چونکہ تیرا یہ عمل، کل روزقیامت جہنم سے سپر بنے گا [ اور تجھے بہشت لے جائے گا]

7.        جو والدین کے ساتھ نیکی کرتے ہيں، ان کے بچے بھی ان کے ساتھ نیکی سے پیش آئیں گے۔

امام صادق(علیہ السلام) فرماتے ہيں:

“برّوا أبائکم یبرّ کم أبناؤکم”[24] تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ ،  تمھاری اولاد تم سے نیکی کا برتاؤ کرے گی۔

8.        والدین سے نیکی کرنے والا ، مورد رحمت پروردگار قرار پاتا ہے

پیامبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ فرماتے ہيں۔ “رحم الله امرءً اعان والده علی برّه”[25] خدا رحمت کرے اس شخص پر کہ جو  باپ کے ساتھ نیکی کے  کاموں میں ہاتھ بٹائے۔

9.        والد کی دعا  اپنی اولاد کے بارے میں رد نہیں ہوتی

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہيں:

“ثلاث دعوات لایحجبن عن الله تعالی: دعاء الوالد لولده اذا برّه”[26]  تین دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب فرزند اپنے والد کے ساتھ نیکی کرے اور اس کا والد اس کے لئے دعاء خیر کرے۔

10.معرفت پروردگار کا باعث بنتی ہے

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہيں:

“برّ الوالدین من حسن معرفه العبد باللّه” [27] ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا، انسان کے عارف باللہ ہونے کی علامات میں سے ہے۔

11.موت میں تاخیر کا باعث بنتی ہے

رسول خدا صلی الله علیه و آله فرماتے ہيں:

” رأیت بالمنام رجلاً من أمّتی قد أتاه ملک الموت لقبض روحه، فجاء برّه بوالدیه فمنعه منه”[28]

میں نے خواب میں اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ ملک الموت اس کی روح کو قبض کرنے کے لئے آیا ہوا ہے، لیکن اسی اثناء میں والدین کے ساتھ کی گئی نیکی نے آ کر اسے موت کے منہ سے بچا لیا۔

12.والدین سے نیکی، حج کا ثواب رکھتی ہے

رسول خدا صلی الله علیه و آله فرماتے ہيں:

” ما من ولد بارّ ینظر الی والدیه نظر رحمه الاّ کان له بکلّ نظره حجّه مبروره؛ فقالوا: یا رسول الله! و ان نظر فی کلّ یوم مأه» قال: نعم، الله أکبر و أطیب” [29]

جو  شخص اپنے والدین کی طرف  شفقت بھری نظر  سے دیکھے تو  اللہ تعالی اسے  ہر نگاہ کے بدلے میں ایک حج مقبول کا ثواب دیتا ہے، اصحاب نے پوچھا: یا رسول اللہ!  اگر وہ شخص ہر روز سو بار نگاہ کرے تو ؟ فرمایا: تب بھی،  چونکہ خدا تعالی بزرگ  اور کریم   ہے ( ثواب عطا کرے گا)۔

12.والدین سے نیکی کرنے والا کبھی فقیر نہیں ہوتا

امام صادق علیه السلام فرماتے ہیں:

” فلیکن بوالدیه بارّاً فاذا کان کذلک لم یصبه فی حیاته فقرا أبداً”[30]

۔۔۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ سکرات موت کی تلخی اس پر آسان ہو تو اسے چاہیے کہ والدین کے ساتھ نیکی کرے۔ اگر ایسا کرے گا  تو اپنی دنیوی زندگی میں کبھی فقیر نہیں ہو گا۔

13.قیامت کے دن، نیک لوگوں کےسردار  ہوں گے

روایت میں آیا ہے : سید الأبرار یوم القیامه رجل برّ والدیه[31]  جو لوگ اپنے والدین کے ساتھ نیکی اور خوش خلقی سے پیش آتے ہیں وہ قیامت کے دن،  نیک لوگوں کے سردار ہوں گے۔

وضاحت:  یقینا یہ شخص قیامت کے دن نیکوکار ہے اور دنیوی زندگی میں بھی خوشبختی اور سعادت کا موجب ہے۔

14.والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا، عرش الہی کے زیر سایہ ہوگا

ایک روات میں آیا ہے: انّ موسی یناجی ربّه اذ رأی رجلاً تحت ظلّ العرش فقال: «یا ربّ من هذا الّذی قد أظلّه عرشک؟»، قال: هذا کان بارّاً بوالدیه۔[32]

حضرت موسی علیه السلام کوہ طور پر اپنے پروردگار کے ساتھ مناجات کرنے کے لئے تشریف لے گئے، اسی اثنا میں آپ نے عرش خدا کے زیر سایہ ایک آدمی کا مشاہدہ کیا۔ عرض کی : اے پروردگار! یہ کون ہے کہ جو تیرے عرش کے زیر سایہ رہتا ہے؟ آواز  آئی ۔  یہ وہ شخص ہے کہ جو اپنے والدین کے ساتھ مہربانی اور شفقت سے پیش آتا تھا۔

والدین کی نافرمانی کے دنیوی اور اخروی  نقصانات

والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی کے نقصانات نہ صرف  آخرت کی زندگی  تک محدود  ہیں بلکہ دنیا میں بھی اس گناہ کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔

1.عاق والدین جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکتا

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

اِیَّاکُمْ وَعُقُوْقِ الْوَلِدَیْنِ فَاِنَّ رِیْحَ الجَنَّةِ یُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَةِ اَلْفِ عَامٍ وَلَا یَجِدُ ھَا عَاقٍ وَّلَاقَاطِعُرَحِمٍ۔[33]
“خبردار! والدین کی ناراضگی سے پرہیز کرو ۔ بے شک بہشت کی خوشبو ایک ہزار سال دور کے فاصلے سے سونگھی جا سکتی ہے  لیکن ماں باپ کے عاق اور رشتہ داروں سے قطعِ تعلق کرنے والا جنت کی خوشبو محسوس نہیں کر سکے گا۔”

2.غضب پروردگار کا باعث بنتی ہے

آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہی سے روایت ہے:  مَنْ اَسْخَطَ وَالِدَیْہِ فَقَد اَسْخَطَ اللّٰہَ وَمَنْ اَغْضَبَھُمَا فَقَدْاَغْضَبَاللّٰہَ۔[34]
“جس نے اپنے والدین کو ناراض کیا تو گویا اس نے اللہ کو ناراض کیا ۔ اور جس نے ان دونوں کو غضب ناک کیا تو اس نے اللہ کو غضب ناک کیا۔”

3.اذیت رسول  خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم)  کا باعث بنتی ہے

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: مَنْ آذیٰ وَالِدَیْہِ فَقَدْآذَانِی وَمَنْ آذَانِیْ آذَیٰ اللّٰہَ وَمَنْ آذیٰ اللّٰہَ فَھُوَ مَلْعُوْنٌ۔[35]
“جس کسی نے اپنے والدین کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ہے اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی پس وہ ملعون ہے۔”

4.کوئی عمل صالح قبول نہیں ہوتا

  آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ارشاد ہے: وَلیَعْمَل الْعَاقُ مَاشآءَ اَنْ یَعْمَلَ فَلَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ  [36]  “ماں باپ کو جس نے ناراض کیا پھر وہ جتنا بھی چاہے عمل کرے بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

5.والدین کا نا فرمان ملعون ہے

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے: مَلْعُوْنٌ مَلْعُوْنٌ مَنْ ضَرَبَ وَالِدَیْہِ، مَلْعُوْنٌ مَلْعُوْنٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَیْہِ ۔[37]

“ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو مارا۔ ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو ناراض کیا ہو۔”

6.عاق والدین،  نماز قبول نہيں ہوتی

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ: مَنْ نَظَرَاِلٰی اَبَوَیْہِ نَظَرَ مَاقِتٍ وَّھُمَا ظَالِمَانِ لَہ لَمْ یَقْبَلِ اللّٰہُ لَہُ صَلوٰةً ۔[38]“جو کوئی اپنے والدین کی طرف غصے سے نظر کرے گا حالانکہ والدین اولاد کے حق میں ظالم ہوں پھر بھی اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرے گا۔”

7.فرعون کے ساتھ جہنم میں ہو گا

  آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مزید ارشاد فرمایا:

بَیْنَ الْاَنْبِیَاءِ وَالْبَاردَرَجَةٌ وَبَیْنَ الْعَاقِ وَالْفَرَاعِنَہِ دَرَکَةُ ۔[39] “والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بہشت میں پیغمبروں سے صرف ایک درجہ کے فرق پر ہو گا۔ اور والدین کا عاق شدہ جہنم میں فراعنہ سے صرف ایک درجہ نیچے ہو گا۔”

8.گدائی و بد نصیبی کا سبب

   مدینہٴ منورہ کے ایک دولت مند جوان کے ضعیف ماں باپ زندہ تھے۔ وہ جوان ان کے ساتھ کسی قسم کی نیکی نہیں کرتا تھا اور انہیں اپنی دولت سے محروم کیے ہوئے تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس جوان سے اس کا سب مال و دولت چھین لیا۔ وہ ناداری ، تنگ دستی اور بیماری میں مبتلا ہو  پریشانی  کی زندگی  اور بد نصیبی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا جو کوئی ماں باپ کو تکلیف پہنچاتا ہے اُسے اس جوان سے عبرت حاصل کر نی چاہیئے۔
دیکھو ! اس دنیا میں اس سے مال ودولت واپس لے لی گئی ، اس کی ثروت و بے نیازی فقیری میں اور صحت بیماری میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح جو درجہ اس کو بہشت میں حاصل ہونا تھا ، وہ ان گناہوں کے سبب اُس سے محروم ہو گیا۔ اس کی بجائے آتشِ جہنم اس کے لیے تیار کی گئی ۔ [40]

اولاد کے وظائف

اولاد کے وظائف کے بارے میں  معصومین (علیھم السلام)  کی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ ان میں سے چند ایک احادیث کو درج ذیل بیان کیا گیا ہے۔

1.حسن سلوک

عن ابی ولاد الحناط قال: سالت ابا عبد الله(ع) عن قول الله:«و بالوالدین احسانا» فقال: الاحسان ان تحسن صحبتهما و لا تکلفهما ان یسالاک شیئا هما یحتاجان الیه.  [41]

ابی ولاد کہتے ہیں کہ: میں نے اس آیہ(و بالوالدین احسانا)  کا معنی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: والدین سے نیکی کرنے کا معنی یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمہارا برتاو اچھا ہو اور انہیں کچھ مانگنے کے لئے محتاج نہ کرنا (ان کی درخواست سے پہلے پورا کرنا)

2.مہر و محبت کا برتاؤ کرنا

قال ابو عبد الله(ع):لا تملا عینیک من النظر الیهما الا برحمة و رقة، و لا ترفع صوتک فوق اصواتهما، و لا یدیک فوق ایدیهما و لا تتقدم قدامهما.[42]

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں  :

 والدین کو مہر و محبت کی نظر کے بغیرنظر  نہ کرنااور اپنی آواز  ان کی آواز پر بلند نہ کرنا اور اپنے ہاتھ کو ان کے ہاتھ سے اوپر نہ رکھنا  اور ان سے آگے راستہ نہ چلنا۔

3.والدین کی نیابت میں اعمال صالح بجالانا

قال ابو عبد الله(ع):ما یمنع الرجل منکم ان یبر والدیه حیین او میتین، یصلی عنهما و یتصدق عنهما و یحج عنهما و له مثل ذلک، فیزیده الله(عز و جل) ببره و صلاته خیراً کثیراً.[43]

کونسی چیز مانع ہے کہ انسان اپنے والدین سے نیکی کرے چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ ، اس طریقے سے نیکی کرے کہ والدین کی نیت سے نماز پڑھے ، صدقہ دے حج بجا لائے اور روزہ رکھے کیونکہ اگر کوئی ایسا کرے تو اس کا ثواب والدین کو پہنچے گا اور اس شخص کو بھی اسی مقدار ثواب دیا جائے گا ، اس کےعلاوہ خدا وند عالم اس شخص کو اسکی نیکی اور نماز کی وجہ سے اس سے بہت زیادہ نیکی عطا کرے گا ۔

4.برے والدین سے نیکی کرنا

عن ابی جعفر(ع) قال: ثلاث لم یجعل الله (عز و جل) لاحد فیهن رخصة اداء الامانة الی البر و الفاجر و الوفاء بالعهد للبر و الفاجر و بر الوالدین برین کانا او فاجرین.[44]

امام باقر علیہ السلام فرماتے ہے :

تین ایسی چیزیں ہیں کہ جن کو خدا وند عالم نے ترک کرنے کی اجازت نہیں دی ہے 1۔امانت کا واپس کرنا چاہے اچھا آدمی ہویا  فاسق۔2۔عھد کا پورا کرنا چاہے اچھا آدمی ہو یا برا۔3 ۔والدین کےساتھ اچھائی کرنا چاہے وہ اچھے ہوں یا برے۔

5.مشرک والدین سے نیکی کا  برتاو کرنا

فیما کتب الرضا(ع) للمامون :بر الوالدین واجب، و ان کانا مشرکین و لا طاعة لهما فی معصیة الخالق.[45]

امام رضا (علیہ السلام )نے جو خط مامون کو لکھا  اس میں یہ بھی تھا کہ : ماں باپ سے نیکی کرنا لازم ہے اگرچہ وہ کافر اور مشرک ہوں لیکن خدا کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرنا۔

والدین کی قبر کی زیارت کرنا

عن رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) قال: من زار قبر والدیه او احدهما فی کل جمعة مرة غفر الله له و کتب برا.[46]

جو شخص بھی ہر جمعہ کو ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی زیارت کرے خدا اس کو بخش دے گا اور اس شمار کا نیک آدمیوں کیا جائے گا۔

6.والدین کی نافرمانی سے بچنا

قال رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم):ایاکم و عقوق الوالدین، فان ریح الجنة توجد من مسیرة الف عام و لا یجدها عاق و لا قاطع رحم. [47]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  فرماتے ہیں  کہ: تم لوگ والدین کے عاق ہونے سے بچو کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت تک سونگھی جائے گی مگر عاق والدین اور قطع رحم کرنے والا اس سے محروم رہے گا ۔

7.والدین کو حقارت سے  نہ دیکھنا

عن ابی عبد الله(ع) قال: لو علم الله شیئا ادنی من اف لنهی عنه، و هو من ادنی العقوق و من العقوق ان ینظر الرجل الی والدیه فیحد النظر الیهما.[48]

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 اگر اف سے چھوٹی کوئی چیز ہوتی تو خدا اس سے روک لیتا  اور اف کہنا عاق کےمراتب میں سے کمترین مرتبہ ہے، اور عاق کی ایک قسم یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو غضب آلود نگاہ سے د یکھے۔

8.نیکی سے پیش آنا

قال علی بن الحسین(ع):جاء رجل الی النبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) فقال: یا رسول الله ما من عمل قبیح الا قد عملته فهل لی توبة؟فقال له رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم):فهل من والدیک احد حیّ؟قال: ابی قال: فاذهب فبره.قال: فلما ولی قال رسول الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم):لو کانت امه.[49]

امام سجاد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ: ایک مرد رسول اکرم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللّہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جو میں نے انجام نہ دیا ہو ، کیا میں توبہ کر سکتا ہوں؟رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  )نے فرمایا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس مرد نے جواب دیا جی ہاں میرا باپ زندہ ہے، (پیامبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  )نے فرمایا: جا اور اس کےساتھ نیکی کر (تاکہ تمہارے گناہ بخش دئے جائیں ) جب وہ چلے گیا  تو پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا کاش اگر اس کی ماں زندہ ہوتی! (یعنی اگر اسکی ماں زندہ ہوتی اور وہ اس سے نیکی کرتا  اس کے گناہ جلد بخش دیے جاتے)۔

9.غضب آلود نگاہ سے دیکھنا

عن ابی عبد الله(ع) قال: من نظر الی ابویه نظر ماقت، و هما ظالمان له، لم یقبل الله له صلاة.[50]

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص بھی نفرت کی نگاہ سے اپنے والدین کی طرف دیکھےاگرچہ انہوں نے ان پر ظلم ہی کیا ہو ، تو اس کی نماز خدا کی درگاہ میں قبول نہیں ہو گی۔

10.والدین کو  خوش رکھنا

قال امیرالمؤمنین(ع):من احزن والدیه فقد عقهما[51] امیر المومنین نے فرمایا: جو بھی  اپنے والدین کو غمگین کرے، اس نے والدین کےحق کی رعایت نہیں کی ہے۔

11.والدین سے بے ادبی سے پیش نہ آنا

عن ابی جعفر(ع) قال:ان ابی نظر الی رجل و معه ابنه یمشی و الابن متکی ء علی ذراع الاب، قال: فما کلمه ابی مقتا له حتی فارق الدنیا۔[52]

امام باقر علیہ السلام  فرماتے ہیں :

 میرے والد نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس کا بیٹا اس کےبازو پر تکیہ کئے چل رہا تھا (جب امام نے اس واقعہ  کو دیکھا تو ) اس بیٹے سے ناراض رہے اورامام علیہ السلام نے  مرتے دم تک اس سےبات نہیں کی ۔

 قرآن و حدیث کی روشنی میں اطاعت والدین کی حدود و قیود

قرآن کریم، والدین کی اطاعت کی حدو د بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ؛[53] اور ہم نے انسان کو وصیت کی ہے یعنی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور (یہ بھی کہ) اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک بنا جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے تو پھر ان کی اطاعت نہ کر تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے تو میں تمہیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

اگر تمھارے والدین تمھیں توحید کو ترک کرنے اور جہالت کی طرف  لے  جانا چاہیں  تو اس صورت میں ان کی نافرمانی ضروری ہے۔  کبھی کبھاروالدین کی طرف سے اس طرح کی تلاش اور دعوت  دلسوزی اور محبت  پر مبنی ہوتی ہے، اس لئے اس طرح کہتے ہيں: میرے بیٹے!اگر ہم فلاں طاغوت کی اطاعت نہ کریں تو اس صورت میں ہمارا کھانا پینا  اور رہن سہن خطرہ میں پڑ جائے گا، ہمارا مال و متاع اور عزت و آبرو اس وقت اس بات سے وابستہ ہے کہ ہم ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اطاعت کريں اور یہ چیزیں بعض اوقات اولاد کی تحقیر کی صورت میں سامنے آتی  ہيں، مثلا ، والدین کہتے ہيں کہ تم اس بات کو نہيں سمجھتے، جو تم سے بڑی اور محترم شخصیات ہيں،  اسی طرح سے  ان کی   اطاعت اور  خدمت کرتے چلی  آ‏ئی ہيں ، اس طرح ان کی زندگی ہر خطرہ سے محفوظ رہي ہے۔  یا یہ کہا جاتا ہے ،یہ ہمارے خاندان اور قوم کا مسئلہ ہے کہ فلاں را ستہ کو اپناتے ہوئے فلاں کام انجام دیں۔

شہیددستغیب اس بارے میں لکھتے ہيں:

والدین کے امر و نہی واجبات عینی اور محرماتِ الٰہی کے مقابل میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے ہیں۔ مثلاً والدین،  اگر اولاد کو شراب پینے کا حکم دیں یا اُس کو واجب نماز روزے سے روکیں تو ایسی صورت میں والدین کی اطاعت ممنوع ہے۔ چنانچہ سورہٴ لقمان کی پندرھویں آیت میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے: وَاِنْ جَاھَدَکَ عَلٰے اَنْ یُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہ عِلْمٌ فَلَا تُعِطھُمَا”اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اس بات پر مجبور کریں کہ تم میرا شریک کسی ایسی چیز کو قرار دو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں، تو تم ان کی اطاعت نہ کرنا۔”

یہ حدیث شریف اس آیت کریمہ کی تائید کرتی ہے:”  لَاطَاعَةَ لِمَخلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَةِ الْخَالِقِ”مخلوق کی اطاعت جائز نہیں جبکہ اس میں خالق کی نافرمانی ہو۔” ان دو صورتوں کے علاوہ تمام مستحبات و مکروہات اور مباحات بلکہ واجب کفائی انجام دینے کی صورت میں والدین کی رضایت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اگر یہ عمل والدین کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا تکلیف کا موجب ہوں تو ان کی مخالفت کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔  اسی مخالفت کو عاق کہتے ہیں۔ مثلاً بیٹا غیر واجب سفرپر جانا چاہتا ہو لیکن والدین جانی و مالی ضرر کے اندیشے سے یا اس کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر جدائی کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اسے سفر پر جانے سے منع کریں اور بیٹا منع کرنے کے باوجود سفر پر جائے تو اس صورت میں معصیت کا سفر ہوگا اور حرام ہوگا۔ ایسے سفر میں نماز و روزہ قضا نہیں ہو گا۔

مختصر یہ کہ ہر وہ مخالفت جو والدین کی ناراضگی ، رنجش اور اذیت کا سبب بن جائے، حرام ہے۔مگر یہ کہ ان کی اطاعت اولاد کے لیے ناقابل برداشت ہو یا دینی اور دنیوی ضرر کا موجب ہو۔ مثلاً والدین اولاد کو شادی کرنے سے منع کریں، جبکہ شادی کے بغیر زندگی گزارنا دشوار ہو یا عسر و حرج در پیش ہوتا ہو یا یہ کہ والدین بیٹے سے کہیں کہ بیوی کو طلاق دے دو جبکہ یہ حکم دونوں میاں بیوی کے لیے نقصان کا باعث ہو۔ ایسی صورت میں والدین کی اطاعت واجب نہیں لیکن ایسے امور جن میں والدین مخالفت کے باوجود ناراض نہ ہوتے ہوں اور ان کو کوئی تکلیف بھی نہ پہنچتی ہو، ایسے موقعوں پر مخالفت کا حرام ہونا یا اطاعت کا واجب ہونا میرے علم میں نہیں ہے۔ بہتر ہے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ تا حد امکان ان اوامر کو بجا لائیں اور مخالفت سے پرہیز کریں۔ خصوصاً جبکہ والدین اولاد کی مصلحت ملحوظ خاطر رکھ کر امر و نہی کریں اور اس میں ان کی ذاتی غرض نہ ہو۔  ۔ [54]

مناقب میں  روایت ہے کہ ایک دن امام حسین (ع) کے پاس سے عبد الرحمن بن عمرو بن عاص گذرا،  تو اس نے  لوگوں سے کہا:جو بھی اس شخص کو دیکھنا چاہے کہ جو میرے نزدیک تمام اہل آسمان اور اہل زمین سے محبوب ترین ہے،  وہ اس شخص کو دیکھے، اگرچہ میں جنگ صفین کے بعد  سے اس کے ساتھ ہمکلام نہیں ہوا ۔ابو سعید خدری اسے لے کر  آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام حسین (ع) نے اسے فرمایا:” آیا تو جانتا تھا کہ میں اہل آسمان کے نزدیک محبوب ترین ہوں؟!اس کے باوجود بھی تم نے جنگ صفین میں میرے باپ پر تلوار کھینچی؟! خدا کی قسم! میرا باپ میرے سے بہتر تھا، عبد الرحمان نے عذر خواہی کی اور کہا: آخر کیا کرتا چونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم)نے مجھے نصیحت کی تھی کہ اپنے باپ کی  اطاعت کرنا۔ حضرت  نے فرمایا:” آیا تم نے فرمان خدا نہیں سنا ہے کہ فرمایا:” وَ إِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا”[55]،”اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اس بات پر مجبور کریں کہ تم میرا شریک کسی ایسی چیز کو قرار دو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں، تو تم ان کی اطاعت نہ کرنا۔”  اس کے علاوہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم)  کا فرمان نہيں سنا:” (ماں باپ یا جس کسی کی اطاعت تم پر واجب ہے  وہ)  اطاعت  پسندیدہ ہونی چاہیے اور وہ اطاعت کہ جس میں نافرمانی ہو وہ  پسندیدہ نہیں ہے، پھر امام حسین (ع) نے اضافہ فرمایا: آیا یہ  فرمان نہیں سنا : ” لَاطَاعَةَ لِمَخلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَةِ الْخَالِق “مخلوق کی اطاعت جائز نہیں جبکہ اس میں خالق کی نافرمانی ہو۔[56]

والدین کی امر و نہی میں اختلاف کا حل

جب کبھی والدین کے احکام میں تضاد واقع ہو جائے مثلاً باپ کہے کہ فلاں کام کرو، ماں کہے کہ وہ کام نہ کرو تو ایسی صورت میں کوشش کی جائے کہ دونوں کو راضی رکھا جا سکے اور اگر کوئی دونوں کو راضی نہ کر سکے تو ماں کی خوشنودی کو ترجیح دے۔ چونکہ ابتدائے خلقت میں باپ سے پہلے ماں کے حقوق انسان پر عائد ہوتے ہیں کیونکہ ماں زیادہ تکالیف سہتی ہے۔ خصوصاً ایّامِ حمل، وضعِ حمل اور دودھ پلانے کی زحمات ماں ہی برداشت کرتی ہے۔ ماں اس لیے بھی زیادہ نیکی کا استحقاق رکھتی ہے کہ عورت پیدائشی طور پر مرد کی نسبت نازک مزاج اور احساساتی  ہوئی ہے۔ وہ اولاد کی معمولی سی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ جاتی ہے، بیتاب ہو جاتی ہے مامتا اُسے بے قابو کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس باپ کی عقل و ہوش مضبوط اور مزاج سنجیدہ ہوتا ہے وہ اولاد کی تکلیف سے کم متاثر ہوتا ہے۔ باپ احساس کر لیتا ہے کہ بیٹا میری مخالفت ذاتی دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ ماں کی خاطر داری کی بنا پر کر رہا ہے۔ اس لیے وہ مخالفت سے ناراض نہیں ہوتا۔[57]

نتیجہ

  ہمارا وجود والدین کی بدولت ہے اور ہماری اولاد کا وجود ہمارے وجود سے پیوستہ ہے والدین کےساتھ ہمارا سلوک اور انکا احترام اور نیکی کرنا اس بات کا موجب بنتا ہے کہ آیندہ ہماری اولاد بھی حق شناس اورقدرداں ہوں ہماری اولا دہمارے ساتھ وہی سلوک اختیار کرے گی جس طرح ہم اپنے والدین سے کیا کریں گے ۔ جس طرح خدا کا حق اداکرنا اور اسکی نعمتوں کا شکر کرنا ہماری توانائی سے باہر ہے اسی طرح والدین کاحق ادا کرنا اور ان کی زحمات کی قدردانی کرنا ایک مشکل کام ہے صرف ان کے سامنے انکساری کےساتھ پہلو جھکائے رکھنا اور تواضع اور فروتنی کے پر کو ان دو فرشتوں کے لئے بچھائے رکھنا ہمارے اختیار میں ہے۔

 اخلاق اور شرافت انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان دو گوہروں  کی پاسداری کریں اور  ان کی حیات میں احسان اور نیکی کریں اور  ان کی وفات کے بعد صدقات اور نیک کام سے یاد کیا کریں ۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ والدین کے متعلق اسلام کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور خصوصاً  ان کے مقام و مرتبہ کے متعلق جو احکامات اور فرمودات معصومین (علیھم السلام ) ہیں ، انہيں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مختلف پروگراموں کے ذریعے عام کرے اورمعاشرے کے تمام طبقات اس معاملے میں اہم کردار اداکریں تاکہ مسلم معاشرہ میں والدین اور بزرگوں کو ان کا کھویا ہوا مقام مل سکے۔

 فہرست مصادر

  1. . حویزی، عبد علی بن جمعه، تفسیر نور الثقلین، اسماعیلیان، قم، ۱۴۱۵ ه ق.
  2. . شیخ محمد حسن نجفی، جواهر الکلام، جامعه مدرسین، قم، ۱۴۱۷ ه ق ـ ضیاء الدین عراقی، تعلیقه علی العروه، جامعه مدرسین، قم.
  3. . طباطبایی، محمد حسین، ترجمه تفسیر المیزان، دفتر انتشارات اسلامی، قم ، چاپ پنجم، ۱۳۷۴ ه.ش.
  4. ابن شعبه، حسن بن علی، تحف العقول، مترجم احمد جنتی، امیر کبیر، تهران، ۱۳۸۲ ه ش.
  5.  امام سجاد(علیه السلام)، صحیفه سجادیه، دفتر نشر الهادی، قم، چاپ اول، ۱۳۷۶ش.
  6. بحارالانوار،: دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
  7. بروجردی حسین، جامع الاحادیث شیعه، فرهنگ سبز، تهران، ۱۳۸۲ ه ش
  8. پاینده، ابوالقاسم ، نهج الفصاحه، دنیای دانش، تهران، ۱۳۸۲ ه ش.
  9. دستغیب،عبد الحسین، گناهان کبیره، جامعه مدرسین، قم، ۱۳۸۸ ه ش.
  10. راغب اصفهانی، مفردات فی الفاظ القرآن، دار الشامیه، بیروت، ۱۴۰۴ ه ق
  11. طبرسی، فضل بن حسن ، ترجمه تفسیر مجمع البیان، فراهانی، تهران، چاپ اول، ۱۴۱۴ ه ق
  12. قرآن کریم
  13. متقی هندی ،علاء الدین علی بن حسام، کنز العمال، بیروت، 1403 ھ۔
  14. مجلسی، محمد باقر، امام شناسی، سرور، قم، ۱۳۸۴ ه ش.
  15. نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ، مؤسسه آل البیت علیهم السلام ، قم، چاپ اول، ۱۴۰۸ق.

[1]  لقمان/14 ـ 15۔

[2]   طبرسی، فضل بن حسن، ترجمہ تفسیر مجمع البیان، ج 19، ص172۔

5سورة النساء/ 36

۶سورة البقرة/215

۷ سورة اسراء/24

۸سورة البقرة/83

۹سورة الاحقاف/15

[8]سورة المریم/14

[9] سورة المریم/31 و 32

[10] ابوالقاسم پایندہ، نہج الفصاحہ، ص578

[11] سید رضی، نہج البلاغہ، حکمت ۳۳۹

[12] آیت اللہ بروجردی، جامع الاحادیث شیعہ، ج26، ص920

[13] نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج15، ص182

[14] محمدی ری شہری ، میزان الحکمہ، ج 10، ص 718

[15] امام سجاد (علیہ السلام)، صحیفہ سجادیہ، ص122

18تحف العقول، ص ۴۴؛ کشف الغُمّہ، ص ۲۴۳؛ بحارالأنوار، ج ۷۲، ص ۸۰٫۱۰۷ – بحارالأنوار، ج ۷۴، ص ۴۵٫

19نہج الفصاحہ، ح ۱۰۸۶٫

[18] میزان الحکمہ، باب الاحسان الی الوالدین؛ بحارالأنوار، ج ۷۱، ص ۸۱٫۱۱۱ – بحارالأنوار، ج ۷۴، ص ۸۴٫۱۱۲ – أنوار النعمانیہ، ج ۳، ص ۸۵ (نور فی عقوق الوالدین و قطع رحم

[19] بحار الانوار، ج 74، ص 84

[20] ایضا

[21] ایضا، ص81

[22] بحار الانوار، ج 74، ص 75.

[23] ایضا، ج ۷۱، ص ۵۶؛ اصول کافی، ج ۲، ص ۱۶۲٫

[24] ایضا، ج ۷۱، ص ۶۵٫

[25] ایضا

[26] ایضا

[27] ایضا

[28] ایضا، ص80

[29] ایضا

[30] ایضا، ص81

[31]   ایضا،ص86

[32]   کشف الاسرار وعدہ الابرار، ج ۵، ص ۵۴۲٫

35دستغیب، عبد الحسین، گناہان کبیرہ،ج1، ص118

[34] مستدرک، باب نکاح،باب75

[35] ایضا

[36] ایضا

[37] ایضا

[38] دستغیب، عبد الحسین، گناہان کبیرہ،ج1، ص118۔

[39] ایضا

[40] ایضا

43بحار الانوار، ج 74، ص 79

44 ایضا، ج 74، ص 79

[43] بحار الانوار، ج 74، ص 46.

[44] ایضا، ج 74، ص 56.

[45] ایضا، ج 74، ص 72.

[46] کنز العمال، ج 16، ص 468.

[47] بحار الانوار، ج 74، ص 62.

[48] صول کافی، ج 4، ص 50.

[49] بحار الانوار، ج 74، ص 82.

[50] اصول کافی، ج 4، ص 50

[51] بحار الانوار، ج 74، ص 64.

[52] ایضا، ج 74، ص 64.

[53] عنکبوت/8

[54]  شہید دستغیب، گناہان کبیرہ، ج 1، ص130۔

[55] سورہ لقمان؛ آیہ 15

[56]  علّامہ طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، ج 16، ص328۔

[57]  شہید دستغیب، گناہان کبیرہ، ج 1، ص132۔

عزت کے اسباب قرآن و حدیث کی روشنی میں

 

ساجد محمود

المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی

خلاصہ

یہ آرٹیکل درحقیقت عزت کے بارے میں لکھا گیا ہے چونکہ انسان فطرتا عزت کا خواہاں ہے لہذا انسان کو عزت اور آبرو کے مفہوم کا علم ہونا چاہیے کہیں جھوٹی عزت (ذلت) کو عزت سمجھ کر تکبر اور ذلت کا شکار نہ ہو جاۓ۔ لہذا اس تحریر میں عزت اور کرامت میں  فرق، عزت اور تکبر میں فرق، عزت کی اقسام، حقیقی عزت کے عوامل اور اسباب وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ حقیقت میں عزت مند اور آبرومند وہ شخص ہے کہ جوعزت کاسرچشمہ اللہ کی ذات اقدس کو قرار دے۔

عزت اور کرامت میں فرق

عام طور پر عزت اور کرامت کے الفاظ کو مترادف اور ہم معنی سمجھا جاتا ہے  جب کہ تھوڑی سی دقت کرنے سے ان دو کلمات کے معانی  کو ایک دوسرے سے جدا کیا جا سکتا ہے۔

کرامت «کَرَم» کے مادے سے بنا ہےجس کا معنی بخشش اور نعمت دینا ہے۔[1]کرم اگر خداوند متعال کا وصف ہو تو اس سے مراد احسان اور اللہ تعالی کی واضح اور آشکار نعمت ہے۔اگر کرم بندہ  کی صفت قرار دی جاۓ تو  اس صورت میں کرم پسندیدہ اخلاق اور افعال کا نام ہے کہ جو انسان کے اعضاء و جوارح سے ظاہر ہوتے ہيں۔[2]  ۔ اسی وجہ سے  کچھ علماء نے ان دو کلمات کے  درمیان فرق کو اس طرح بیان کیا ہے: «عزیز شخص وہ ہوتا ہے کہ جو یہ نہيں چاہتا کہ کوئی دوسرا  اس پر حکم چلاۓ اور کریم وہ شخص ہے کہ جو اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ حکم اس کے نفع میں دیا جاۓ»۔[3]  اس کے علاوہ اگر ان کلمات کے متضاد کو دیکھا جاۓ تب بھی ان کے معانی واضح ہو جاتا ہیں چونکہ کرامت کا متضاد خساست  اور بخل ہے جب کہ عزت کا متضاد ذلت و خواری ہے۔[4]

عزت اور تکبر میں فرق

کچھ لوگ جہالت اور نادانی کی بناء پر عزت کو تکبر اور ذلت کو تواضع سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے ذلت بھرے  کام بھی انجام دیتے ہيں اسی وجہ سے بزرگان دین نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ مختلف کاموں کو انجام دینے سے پہلےان کے رذائل اور  فضائل  اور ان کے درمیان پاۓ جانے والے فرق کو پہچان لیں۔

اسی وجہ سے علماء اخلاق نےتکبر کی تعریف  اس طرح کی ہے :جب  انسان دشمنی ، عناد اور سرکشی کی وجہ سے حقیقت کو قبول کرنے سے انکار کرے تو اسےتکبر کہتے ہيں۔[5] اس لئے عزت مند انسان اپنے آپ کو شرافت میں ایک بڑا انسان سمجھتا  ہے اور دوسروں کا احترام کرتے ہوۓ   ان کو حقارت و ذلت کی نگاہ سے نہيں دیکھتا جب کہ متکبر انسان اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اسی وجہ سے حق بات اور نصیحت  اس پر گران گذرتی ہےاسی لئے وہ دوسروں کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔

حقیقی عزت کے عوامل اور اسباب

عزت کے اسباب اور عوامل مندرجہ ذیل ہیں:

1)      انسان کا  خدا سے ارتباط

چونکہ تمام عزتوں  کا منشاء اور سرچشمہ ذات پروردگار ہے اور اس کے علاوہ باقی سب کچھ فقر و ذلت  کا سراپا ہيں۔ جو شخص یہ چاہے کہ اسے عزت اور وقار ملے اور ذلت و پستی سے نجات حاصل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ الہی راستے پر گامزن ہو جاۓ ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ اپنے پروردگار کا مطیع محض  اور فرمانبردار بن جاۓ۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

«مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا»[6]؛ جو کوئی عزت کا طلبگار ہے (تو وہ سمجھ لے) کہ ساری عزت اللہ ہی کیلئے ہے۔ مندرجہ ذیل آیت میں عزت مندی اور  آبرو  کے حصول کے رمز اور راز کو سبیل خدا ، نیک کردار اور درست عقائد  کو  جانا  گیا ہے: «إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ»[7] ؛ (لہٰذا وہ عزت کو خدا سے طلب کرے) اچھے اور پاکیزہ کلام اس کی طرف بلند ہوتے ہیں اور نیک عمل انہیں بلند کرتا ہے (یا اللہ نیک عمل کو بلند کرتا ہے)

 عزت مند لوگوں کے  امام حسین ابن علی (علیہ السلام) کہ جو تمام انسانوں میں خدائي ترین انسان تھے  اور ان کے تمام وجود کو عشق خدا نے پر کر رکھا تھا ۔ آپ (علیہ السلام) عزت و سربلندی تک پہنچنے کے لئے فرماتے ہيں: “يا من خصّ نفسه بالسّموّ والرّفعة فاوليائه بعزّه و يعتزّون يا من جعلت له الملوك نير المذلة علي اعناقهم فهم من سطواته خائفون”[8]  ؛ اے وہ خدا کہ جو بلند اور رفیع (اور عزت )  و مقام  کا مالک  ہے  پس جو اللہ کے دوست ہیں وہ اس کی عزت کے صدقے میں عزیز اور آبرومند ہو جاتے ہيں، اے وہ خدا کہ جس نے  (ظالم) بادشاہوں  کو  ذلت کا طوق پہنا کر خاک مذلت پر بٹھا دیا ہے ، اس لئے وہ تیری عزت و عظمت کے مقابلے میں سخت پریشان اور ڈرے ہوۓ ہيں۔

یقینا، عزت اسی ذات کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی لیاقت رکھتا ہو وہ اللہ کی دی ہوئی عزت سے مفتخر ہو سکتا ہے جیسا کہ ہم قرآن میں تلاوت کرتے ہیں:«قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُوءْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَيَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ»[9]؛ (اے رسول(ص)!) کہو: اے خدا تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے، ہر قسم کی بھلائی تیرے قبضہ میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

امام صادق (علیہ السلام) سے سؤال کیا گیا  کہ آیا اللہ تعالی نے بنی امیہ کو حکومت عطا کی؟ (اور ان کو عزت بخشی)؟!!

فرمایا:نہ ، ایسا نہيں ہے بلکہ خدا تعالی نے ہمیں حکومت دی تھی ، لیکن بنی امیہ نےاسے ہم اسے ‏غصب کر لیا ،( اور خلافت کے لباس کو نا حق  اپنے جسم پر پہن لیا) [10]جیسا کہ حضرت علی  (علیہ السلام) فرماتے ہيں: «واللّه لقد تقمصها ابن ابي قحافة»[11] ؛ آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کی قسم فلاں شخص( ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا۔  علی  (علیہ السلام) نے فرمایا: «العزيز بغير الله ذليل»[12]؛ وہ صاحب عزت کہ جو اللہ کے علاوہ کسی اور سے عزت لیتا ہے وہ حقیقت  میں ذلیل و پست  ہے۔اور فرمایا: من أعزَّ بغير الله أهلكهُ العزّ [13]؛ جو شخص اللہ کے راستے سے ہٹ کر عزت حاصل کرے وہی (ناروا )عزت اس کی ہلاکت( ابدی) کی موجب بنتی ہے۔

2)      خدا ،  رسول  اور آئمہ طاہرین کی اطاعت

جیسا کہ اشارہ کیا گیا کہ عزت ذاتی اللہ تعالی کی ذات سے مختص ہے اور عزت اعطائی اور عنائی (وہ عزت کہ جو اللہ کسی کو عطا اور عنایت کرے) رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور مؤمنین کے لئے ہے«وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوءْمِنِينَ»[14]؛ حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول(ص) اور مؤمنین کیلئے ہے لیکن منافق لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔  مؤمنین کا اکمل اور اتم مصداق ہمارے آئمہ معصمومین  (علیہم السلام) ہیں۔

ایک شخص نے امام حسن مجتبی  (علیہ السلام) سے پوچھا: «فيك عظمةٌ قال: لا، بل فيّ عزّةٌ قال الله تعالي «وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوءْمِنِينَ»[15] ؛ آیا آپ  (علیہ السلام) کے اندر عظمت ہے ، فرمایا: نہيں، بلکہ میں صاحب عزت ہوں جیسا کہ خدا تعالی فرماتا ہے: «وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوءْمِنِينَ»؛ حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اور مؤمنین کیلئے ہے لیکن منافق لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔

امام حسین  (علیہ السلام) نے فرمایا:

” الا و ان الدعی ابن الدعی قد رکز بین اثنتین بین السلۃ و الذلۃ  و ھیھات منّا الذلۃ یابی اللہ ذالک لنا و رسولہ  والمؤمنون و حجور طابت و طھرت” اے فوج اشقیاء !تمھارے نا مشروع امیرنے مجھے دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا ہے ، یا ذلت کے ساتھ بیعت یزید کر لوں یا جنگ کے لئے آمادہ ہو جاؤں” ھیھات منّا الذلۃ” اور ذلت ہم خاندان عصمت و طہارت سے کوسوں دور ہے” یابی اللہ ذالک لنا و رسولہ  والمؤمنون و حجور طابت و طھرت” یہ کیسے ممکن ہے کہ وحدہ لاشریک کے دروازے پر سر جھکانے والا انسان ، پروردہ  آغوش رسالت، فاطمہ کے دودھ سے پلنے والا انسان ، غیرت مند باپ کا غیرت  مند بیٹا اور دنیا کے سب سے عظیم انسان کا عظیم نواسہ یزید جیسے فاسق او رفاجر کی بیعت کر ے یہ ممکن نہیں۔

پس جب کہ ثابت ہو گیا کہ  رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آئمہ معصومین اللہ کی طرف سےعزیز اور آبرومند ہيں ۔  قرآن نے لوگوں کو اس عزت تک پہنچنے کے لئے دو راستے  دکھا‌ۓ ہیں اور اس طرف دعوت دی ہے۔

         ‌أ.            تشویق اور نمونہ عمل قرار دینا

اللہ تعالی فرماتا ہے:

 «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا»[16]؛   بے شک تمہارے لئے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات میں (پیروی کیلئے) بہترین نمونہ موجود ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہےاور امام حسین  (علیہ السلام) سے نقل ہوا ہے کہ فرمایا: “و لكم فيّ اسوةٌ” میں تمھارے لئے بہترین نمونہ عمل ہوں۔

     ‌ب.            اطاعت اور فرمانبرداری

خداوند ‏عظیم قرآن مجید میں پیامبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آئمہ اطہار کی پیروی اور اطاعت پر تاکید کرتے  ہوۓ  فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْ‏ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَي اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُوءْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً» [17]؛ اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمانروائی کے حقدار ہیں)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع (یا جھگڑا) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو یہ طریقہ کار تمہارے لئے اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہے۔

اور اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے رسول کےاخلاق حسنہ کی بھی تعریف کی: «انّك لعلي خُلُق عظيم»[18] ؛ اور بےشک آپ(ص) خلقِ عظیم کے مالک ہیں۔

پس اس طرح پیامبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آئمہ اطہار  (علیہ السلام) کہ ان میں سے ہر ایک عزت کے سرچشمہ سے پیوستہ ہيں اور یہ ذوات مقدسہ ہمارے لئے عزت مندی کا سبب ہیں۔[19]

امام سجاد  (علیہ السلام) فرماتے  ہيں:

 «اطاعة ولاةِ الأمر تمام العزّة»[20]؛  سب اولی الامر کی اطاعت کاملا عزت اور شرف ہے ( ساری کی ساری عزت کا خلاصہ آئمہ اطہار کی اطاعت ہے)۔

امام حسین  (علیہ السلام) سے کسی نے عرض کی اے فرزند رسول کوئی ایسی حدیث کہ جو آپ نے رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے بلاواسطہ سنی ہو، بیان فرمائیں: حضرت نے فرمایا: اللہ تعالی عظیم اور باشرافت کاموں کو دوست رکھتا ہے اور پست اور ذلت آمیز کاموں کو ناپسند کرتا ہے “[21]

ہاں، البتہ عزت مند انسان ، باعزت و احترام والی بات کرتا ہے ، ظرف سے وہی کچھ باہر ٹپکتا ہے جو اس میں موجود ہوتا ہے۔

3)      قرآن  (کتاب عزیز) کے ساتھ متمسک رہنا

قرآن مجید کلام الہی اور پروردگار  عالم کی قدرت ، عزت اور علم و حکمت کا جلوہ ہے اور اس کی نورانی آیات خداوند متعال کی عزت و عظمت کی نشاندہی کرتی ہيں۔قرآن کریم ایک مسلمان کےلئے عزت و شرافت کے حصول کے لئے نسخہ کیمیا ہے چونکہ خود قرآن عزیز و آبرومند ہے: «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ * لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلا مِنْ خَلْفِهِ…»[22]؛   جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا حالانکہ وہ ایک زبردست (معزز) کتاب ہے۔ باطل کا اس کے پاس گزر نہیں ہے وہ نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ پیچھے سے یہ اس ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے جو بڑی حکمت والی ہے (اور) قابلِ ستائش ہے۔ چونکہ  خداوندمتعال کہ جو عزت و بزرگی کا سرچشمہ ہے اس کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔

“تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ”[23] ؛ یہ کتاب (قرآن) اس خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔  جس نے بھی قرآن کے دامن کو تھاما اس نے عزت کا راستہ اختیار کیا۔ خداوند عالم فرماتا ہے: “وَيَرَي الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَي صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ” [24]؛ اور جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں وہ کچھ (قرآن) آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور وہ غالب اور لائقِ ستائش (خدا) کے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔   ہاں، البتہ مسلمانوں کی عزت اس میں ہے  کہ وہ قرآن کہ جو حبل المتین اور اللہ کی مضبوط رسی ہے اس کو تھام لیں اور اس کے فرامین کے مطابق کامل عمل کریں، لہذا قرآن مجید فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَيَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُون”[25]؛   اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے کہ تم آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت (فضل و کرم) سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے بھرے ہوئے گڑھے (دوزخ) کے کنارے پر کھڑے تھے جو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔

ایک اور آیت میں فرماتا ہے:

“فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۔۔وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ” [26]؛پس آپ(ص) مضبوطی سے اسے تھامے رہیں جس کی آپ(ص) کی طرف وحی کی گئی ہے۔ یقیناً آپ سیدھے راستہ پر ہیں ۔ اور بےشک وہ (قرآن) آپ(ص) کیلئے اور آپ(ص) کی قوم کیلئے بڑا شرف اور اعزاز ہے اور عنقریب تم لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

علی  (علیہ السلام) فرماتے ہيں:

 “و عزّا لاتهزمُ انصارُهُ” [27]؛قرآن اپنے دوستوں کے لئے عزت کا تحفہ دیتا ہے کہ جس کے بعد شکست اور مغلوبیت نہيں ہے۔ اور فرمایا: “و عزّا لِمَنْ تَوَلاّه”[28] ؛  اور عزت اور قدرت اس کے لئے ہے کہ جو قرآن کے احکام کی اطاعت کرے۔

4)      مؤمنین کی صفات سے متصف ہونا

ہر انسان کی شخصیت اس کی عزت کی مرہون منت ہے۔ انسان ، اپنی شخصیت کی عزت و تکریم میں ساری چیزوں (حتی  کھانے پینے) سے زیادہ نیازمند ہوتا ہے، چونکہ کھانے پینے کی تکلیف اور اذیت برطرف ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ حقارت کہ جو ذلت ، خواری اور عزت نہ ہونے کی وجہ سے کسی شخص یا معاشرے کی روح و روان  کو دامنگیر ہوتی ہے وہ آسانی سے پیچھا نہيں چھوڑتی ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو عزیز اور آبرومند خلق کیاہے«وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ»  اور اسے کبھی بھی ذلت پذیری اور عزت کے ہاتھ جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔امام صادق نے فرمایا: “انّ اللّه فوّض الي المؤمن أموره كلّها و لم يفوّض اليه ان يكون ذليلاً أما تسمع الله يقول” : «وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوءْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ» فالمؤمن يكون عزيزا و لايكون ذليلاً ان المؤمن اعزّ من الجبل…»[29]؛ خدا تعالی نے مؤمن کو (اس کی زندگی کے ) تمام امور کے انتخاب میں خود مختاربنا  دیا ہے  لیکن اس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا کہ وہ ذلت  قبول کرے ، آیا اللہ کے اس فرمان کو نہیں سنا کہ فرمایا: ( عزت اللہ ، اس کے رسول اور مؤمنین کے لئے ہے لیکن منافق لوگ نہیں جانتے )؛ پس مؤمن ہمیشہ عزیز اور آبرومند  ہے اور ہرگز ذلت کو قبول نہیں کرتا، بتحقیق مؤمن پہاڑ سے بھی زیادہ محکم اور عزیز ہے ( کہ جو طوفانوں سے نہيں لرزتا)۔ امام حسین  (علیہ السلام) نے بھی فرمایا:” مؤمن ذلت قبول نہیں کرتا، خداوند متعال اور پیامبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے بھی مؤمنین کو ایسا کرنے کی اجازت نہيں دی ہے۔”هيهات منا الذلة قط اخذ الدنية یابی الله ذلك و رسوله”۔ [30]

جو کچھ بیان ہوا اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عزت و آبرو کے عوامل اور اسباب میں سے ایک  ایمان لاکر اور اللہ کی طرف میلان پیدا کر کے مؤمنین کی صف میں قرار پانا ہے، بلکہ اس سے بھی بالا تر یہ ہے  کہ نہ تنہا مؤمن ہونا عزت آفرین  ہے بلکہ مؤمنین کے ساتھ تعلق اور میل ملاپ بھی رکھنا عزت آور ہے۔ چونکہ صلح اور کینہ چھپے راستوں سے  ایک سینہ سے دوسرے سینے میں چلے جاتے ہيں۔  جیسا کہ فارسی زبان میں کہتے ہيں۔

صحبت طالح تو را طالح كند صحبت صالح تو را صالح كند؛ یعنی طالح (بدبخت اور بے ایمان) کی دوستی تجھے بدبخت اور رسوا کر  دے گی اور نیک لوگوں کی رفاقت تجھے نیک بنا دے گی۔ جیسا کہ ناپاک لوگوں کی ہمراہی اور دوستی (بالخصوص منافقین اور کفار کی دوستی) ذلت و خواری کا باعث بنتی ہے۔[31] بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا * الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُوءْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا»[32] ؛  منافقوں کو سنا دیجیے! کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔وہ (منافق) جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں۔ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے (اس کے اختیار میں ہے)۔  مندرجہ بالا آیت سے اس بات کا استفادہ ہوتا ہے کہ جو لوگ عزت و آبرو کسب کرنا چاہتے ہيں ان کو مؤمنین کے ساتھ تعلق اور ارتباط رکھنا چاہیےچونکہ مؤمنین عزت کے اصلی سرچشمہ یعنی خدا تعالی کے ساتھ ارتباط رکھے ہوۓ ہيں نہ کفار و منافقین کے ساتھ راہ و رسم پیدا کرتے ہیں۔

5)      اصالت خانوادگی ( خاندانی شرافت)

وراثت اور تربیت انسان کی شخصیت کی تعمیر کے اصلی عوامل میں سے ہیں۔ وہ لوگ کہ جو معزز گھرانوں میں پیدا ہوتے ہيں اور  باعزت ماں باپ کی گود میں آنکھ کھولتے ہيں اور شرافت و عزت کے ماحول میں پرورش پاتے ہيں وہ عزت کے خواہاں اور خاندانی شرافت کے نگہبان ہوتے ہيں، ایسے لوگ یا بالکل ذلت قبول نہيں کرتے یا پھر کم تر زیر بار ذلت جاتے ہيں اور اللہ تعالی بھی ان جیسےلوگوں کی عزت کا محافظ ہوتا ہے۔ حضرت موسی اور جناب خضر کی داستان میں پڑھتے ہیں: وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ.»[33]؛  باقی رہا دیوار کا معاملہ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان بچوں کا خزانہ (دفن) تھا۔ اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور یہ سب کچھ پروردگار کی رحمت کی بناء پر ہوا ہے۔ اور میں نے جو کچھ کیا ہے اپنی مرضی سے نہیں کیا (بلکہ خدا کے حکم سے کیا) یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اوپر والی بیان شدہ آیت سے پتہ چلتا ہے کہ خداتعالی بہترین بندوں کے ذریعے مؤمن کے بچوں کی (مالی اور معنوی) عزت کی حفاظت کرتا ہےاور ایسے فرزند بھی اپنی اصالت خانوادگی کے نگہبان ہوتےہيں۔امام حسین  (علیہ السلام) فرماتے  ہیں: «و هيهات منا الذّلة… و جدودٌ طابت و حجورٌ طهرت و انوفٌ حميّةٌ و نفوسٌ ابيّةٌ لاتؤثر طاعة اللئام علي مصارع الكرام…»[34] ؛ بہت بعید ہے کہ ہم  ذلت اور خواری کو قبول کریں،خدا اور رسول نے ہمیں اس طرح کی اجازت نہيں دی ہے اور ہمارے خاندان کی شریف اور پاک دامن مائیں ،  عزت نفس  اور ہمت بلند رکھنے والا خاندان ہرگز اجازت نہيں دیتا کہ ہم  ذلیل اور پست لوگوں کی اطاعت کو شرافت مندانہ موت  پر ترجیح دیں۔

6)      جہاد و شہادت

شرافت مند افراد اور عزت مند معاشرہ ہمیشہ ستم گر، بے شخصیت اور ذلیل بدمعاشوں کے ذریعے سے مورد ہجوم قرار پاتے ہيں، لیکن وہ لوگ کہ جو عزت ، شرافت اور پاسداری کی پہلی صف میں قرار پاتے  ہیں وہ مجاہدین فی سبیل اللہ  اور شہداء ہيں۔ وہ کوشش کرتے ہيں کہ اپنی جان نثار کر کے اپنی عزت و شرافت کی حفاظت کریں اور خود بھی ہمیشہ ہمیشہ کی عزت و عظمت سے سر افراز ہوں۔ قرآن کریم ان جیسے بہادر لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: «فَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَي الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَي وَفَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَي الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا * دَرَجَاتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً»[35]؛مسلمانوں میں سے بلا عذر گھر میں بیٹھے رہنے والے اور راہِ خدا میں مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو درجہ کے اعتبار سے بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت دی ہے اور یوں تو اللہ نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ مگر اس نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ساتھ فضیلت دی ہے۔یعنی اس کی طرف سے (ان کے لئے) بڑے درجے، بخشش اور رحمت ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ایک اور آیت میں تلاوت کرتے ہيں: «وَكَفَي اللَّهُ الْمُوءْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا»[36]؛  اور اللہ نے مؤمنوں کو جنگ (کی زحمت) سے بچا لیا اور اللہ بڑا طاقتور (اور) غالب ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے  ہیں:

 «فرض الله الجهاد عزّا للاسلام»[37] ؛اللہ تعالی نے جہاد کو اسلام کی عزت و سربلندی کے لئے واجب قرار دیا ہے۔

امام حسین  (علیہ السلام) نے حر بن ریاحی کے جواب میں کہ جب اس نے جہاد و شہادت سے ڈرایا تو آپ نے جہاد و شہادت کی عزت آوری کے بارے میں فرمایا: «ليس شأني شأنِ مَنْ يخافَ الموت ما اهونَ الموتُ علي سبيل نيل العِزّ و احياء الحقّ، ليس الموت في سبيل العزّ الاّ حياةً خالدةً و ليست الحياة مع الذّل الا الموت الذي لا حياة معه افبالموت تخوّفني؟ هيهات حاش سهمك و خاب ظنّك لست اخاف الموت ان نفسي لاكبر من ذلك و همّتي لاعلي من ان احملِ الضيم خوفا من و هل تقدرونَ علي اكثرَ من قتلي؟! مرحبا بالقتل في سبيل الله ولكنّكم لايقدرون علي هدم مجْدي و محو عزّتي و شرفي فاذا لا ابالي من القتل» [38]؛ میں ان لوگوں میں سے نہيں ہوں کہ جو موت (شہادت)   سے ڈرتے ہیں اور کتنا آسان ہے  عزت ابدی اور دین حق   کو زندہ کرنے کے لئے جان پر کھیلا جاۓ۔ عزت تک پہنچنے کے لئے  جان دینے کا نتیجہ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہيں ہے اور ذلت آمیز زندگی سواۓ ایسی موت کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ جس میں کسی قسم کی زندگی کی رمق موجود نہ ہو۔ آیا تو مجھے موت اور شہادت سے ڈراتا ہے؟! بہت بعید ہے  (کہ تو مجھے راہ حق سے پلٹا دے)  تیرا نشانہ خطا گیا ہےاور تیرا یہ  خیال باطل ہے۔ میں اور موت سے ڈروں؟! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں اور میری ہمت و حوصلہ اس سے بہت بلند ہے کہ موت کے ڈر سے ظلم و ستم کو برداشت کروں۔ تم لوگ مجھے قتل کرنے کے علاوہ کر ہی کیا سکتے  ہو؟! درود و سلام ہو ، اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے پر( لیکن اس بات کو یاد رکھنا) کہ تم لوگ میری عزت اور عظمت  اور شرف ابدی کو نابود نہیں کر سکتے، لہذا میں موت و شہادت در راہ خدا سے بالکل ہی نہيں ڈرتا۔

یہی امام حسین(علیہ السلام) کے الفاظ تھے کہ جنہوں نے حربن یزید کو عزت ابدی کی طرف کھینچا  اور ہمیشہ کے لئے  حر کو عزت مند اور آبرو دار بنا لیا ۔

ایک اور جگہ پر فرماتے ہيں:”موتٌ في عزّ خيرٌ من حياةٍ في ذُلٍّ”[39] عزت کی موت ذلت کی زندگی سے (کئی درجے) بہتر ہے۔

7)      بصیرت ، علم اور آگاہی

ایک اور عامل کہ جو عزت و شرف آفرینی میں مہم ترین رول ادا کرتا ہے وہ دینی بصیرت و آگاہی کے علاوہ زمانہ شناسی ہے۔ قرآن مجید صاحبان علم و آگاہی کی عزت و رفعت اور مقام کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے: «يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ»[40] ؛  اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے در جے بلند کرتا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اس سے بڑا باخبر ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ایمان اور مؤمنین عزت آفرین ہیں ۔

امام صادق  (علیہ السلام) سے سؤال کیا گیا  کہ آیا اللہ تعالی نے بنی امیہ کو حکومت عطا کی؟ (اور ان کو عزت بخشی؟) فرمایا:نہ ، ایسا نہيں ہے بلکہ خدا تعالی نے ہمیں حکومت دی تھی ، لیکن بنی امیہ نے ہم سے اسے ‏غصب کر لیا ،( اور خلافت کے لباس کو نا حق  اپنے جسم پر پہن لیا) [41]

انسان عالم دشمن کے ذلت آور سازشوں کا شکار نہیں ہوتا ۔ امام علی (علیہ السلام)فرماتے ہيں: جو شخص زمان شناس ہو وہ زمانے کے فتنوں سے غافل (عاجز) نہیں ہوتا بلکہ ان کا آمادگی کامل کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔[42]

اسی طرح بصیرت کے  نقطہ مقابل یعنی جہل اور بے خبری انسان کی ذلت کا باعث بنتے ہيں۔ علی  (علیہ السلام) فرماتے ہيں: «والجهل ذُلّ»نادانی  اور جہالت( دین اور زمانے سے بے خبری) ذلت و رسوائی ہے۔

امام حسین  (علیہ السلام)( کہ جو  معزز اور آبرومند لوگوں کے پیشوا تھے) کے اصحاب کا جان تک کھیل جانےکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے نے ہمیشہ ہمیشہ کی عزت و آبرو کو تخلیق کیا اور جس کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عزت مند اور جاوید ہو گئےاور یہ وہی بصیرت و آگاہی تھی۔ ان سب کے سرفہرست جب ابوالفضل العباس صاحب رشادت تھے کہ جنہوں نے ذلت آمیز امان نامہ کو قبول نہ کیا  چونکہ آپ بہت زیادہ بصیرت کے مالک تھے۔امام صادق  (علیہ السلام) نے فرمایا: «كان عمّنا العباس نافذَ البصيرة»[43] ؛ کہ ہمارے چچا عباس نہایت ہی صاحب بصیرت تھے۔ عمر  ابن سعد (کہ جس نے اتنی زیادہ ذلت و خواری کو برداشت کیا،اس کی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری تیز بینی اور بصیرت کا نہ ہونا تھا۔ ابن زیاد نے اس فکری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوۓہزار چہرے، پست اور ذلیل  شخص یعنی شبث بن ربعی کو ان کے ساتھ ہمراہ کیا تاکہ قتل حسین(علیہ السلام) کی توجیہ کرے۔  شبث نے کوشش کی کہ کسی طرح عمربن سعد کے ذہن میں یہ بات ڈالے کہ حسین  (علیہ السلام) کافر حربی ہیں کہ جن کا قتل واجب ہے!!اسی وجہ سے ان کا قتل ماہ حرام (محرم ) میں جائز ہے۔[44]

عزت  کے دشمن لوگ

البتہ اس دنیا میں  کچھ ایسے لوگ بھی پاۓ جاتے ہیں کہ جو عزت اور آبرو کے دشمن ہیں اور وہ دو گروہ ہيں۔

1)      ظالم سلاطین

ستمگر اور ظالم لوگ سلاطین اور بادشاہوں کے روپ میں طول تاریخ  میں معاشرے کی ذلت و خواری  کا باعث بنے ہيں اور عزت کو خراب کرنے کے درپے رہے ہيں۔ قرآن مجید میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: «قالت إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ»[45]؛ ملکہ نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے معزز باشندوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور ایسا ہی (یہ لوگ) کریں گے۔

حدیث میں ہے لوگ عزت کو (ظالم) بادشاہوں  کی اطاعت میں ڈھونڈتے ہيں  وہ ہرگز  عزت نہ پا سکیں گے(البتہ ذلت و خواری ان کا مقدر بنے گی)۔ «والناس يطلبونها في ابواب السلاطين»۔[46]

2)      منافقین

خدا تعالی فرماتا ہے:«يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَي الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوءْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ»[47]؛  وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لَوٹ کرمدینہ گئے تو عزت والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مؤمنین کیلئے ہے لیکن منافق لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔

نتیجہ گیری

در نتيجه منافقین عزّت ستيزي  تو کرتے ہيں لیکن ذلت سے  گریز نہیں کرتے

فہرست منابع

  1. ابن شعبه، علي ، تحف العقول
  2. ابن فارس، معجم مقائیس اللغة
  3. ابن منظور، لسان العرب
  4. ابوعلم، توفيق ، كتاب اهل البيت (مصر، مطبعه سعادت)
  5.  اسحاقي، سيد حسين ، جام عبرت، قم، انتشارات دفتر تبليغات اسلامي، 1381۔
  6. اصفهانی، راغب ، المفردات فی غریب القرآن
  7. آمدي،عبدالواحد ، غرر الحكم (قم) دفتر تبليغات اسلامي
  8. جوادی آملی ، توحید در قرآن
  9. ري شهري، محمدي ، ميزان الحكمة، (دارالحديث، چاپ دوّم، 1419 هـ.ق)
  10. قرآن کریم
  11.  قریشی، قاموس قرآن
  12. قمي، شيخ عباس ، مفاتيح الجنان، دعاي امام حسين در روز عرفه
  13.  قمي، شيخ عباس ، نفس المهموم، تهران، كتاب فروشي علميه اسلاميه، 1374 ه
  14. مجلسي، محمد باقر ، بحارالانوار، (بيروت، مؤسسة الوفا)
  15. مصطفوی، حسن ، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم
  16. مصطفی، ابراهیم ، المعجم الوسیط،
  17. مكارم ، استاد ناصر شيرازي و همكاران، تفسير نمونه، (دار الكتب الاسلامية1370)
  18. موسوی جزائری، فروق اللغات فی التمییز بین مفاد الکلمات
  19. موسوی همدانی، ترجمه‌ی المیزان
  20. نہج البلاغہ

 

[1] ۔ راغب اصفهانی، المفردات فی غریب القرآن، ص707

[2] ۔ قریشی،ایضا، ج6، ص103

[3] ۔ موسوی جزائری، فروق اللغات فی التمییز بین مفاد الکلمات، ص 176.

[4] ۔ حسن مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ج3، ص305

[5] ۔ ابراهیم مصطفی، المعجم الوسیط، ص 773۔

[6] ۔   فاطر، آيه10.

[7] ۔ ایضا

[8] ۔ شيخ عباس قمي، مفاتيح الجنان، دعاي امام حسين در روز عرفه، ص483.

[9] ۔ آل عمران، آيه26.

[10] ۔ محمدي ري شهري، ميزان الحكمة، (دارالحديث، چاپ دوّم، 1419 هـ.ق) ج5، ص1956.

[11] ۔ نهج البلاغه، خطبه شقشقيه.

[12] ۔  محمد باقر مجلسي، بحارالانوار، (بيروت، مؤسسة الوفا) ج75، ص10.

[13] ۔ ميزان الحكمة، ج5، ص1957.

[14] ۔ منافقون، 8.

[15] ۔ بحارالانوار، همان، ج44، ص106، روايت15.

[16] ۔  احزاب، آيه21.

[17] ۔ نساء، آيه59.

[18] ۔ قلم، آيه4.

[19] ۔ ر. ك: استاد ناصر مكارم شيرازي و همكاران، تفسير نمونه، (دار الكتب الاسلامية1370)، ج3، ص434.

[20] ۔ ميزان الحكمة، (همان)، ج5، ص1958، روايت 12838 و ر.ك علي بن شعبه، تحف العقول، ص283

[21] ۔ ابن ابي جمهور احسائي.

[22] ۔   فصلت،42۔

[23] ۔ زمر، آيه1.

[24] ۔ سبا، آيه6.

[25] ۔ آل عمران، آيه103.

[26] ۔ زخرف، آيات43 ـ 44.

[27] ۔ محمد دشتي، نهج البلاغه، خطبه198، ص418.

[28] ۔ ایضا

[29] ۔ ميزان الحكمة، ج5، ص1957.

[30] ۔ بحارالانوار، ج45، ص8.

[31] ۔ بنی صدر جب تک کہ امام خمینی کے ساتھ تھا صاحب عزت و وقار تھا لیکن جب وہ منافقین کے ہاتھوں چڑھا عورتوں کے لباس میں ذلت و رسوائی کے ساتھ فرار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ «فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ۔

[32] ۔ نساء،139و 138.

[33] ۔ كهف، 82.

[34] ۔ بحارالانوار، ج45، ص8.

[35] ۔ نساء 95ـ 96.

[36] ۔ احزاب، 25.

[37] ۔ نهج البلاغه، ص682، حكمت 252.

[38]  ۔ توفيق ابوعلم، كتاب اهل البيت (مصر، مطبعه سعادت) ص448، و ر.ك ملحقات احقاق الحق، ج11، ص601.

[39] ۔ ایضا

[40] ۔ مجادله، 11.

[41] ۔ علي بن شعبه، تحف العقول، ص98.

[42] ۔  ایضا، ص 265۔

[43] ۔ شيخ عباس قمي، نفس المهموم، تهران، كتاب فروشي علميه اسلاميه، 1374 هـ، ص176.

[44] ۔ سيد حسين اسحاقي، جام عبرت، قم، انتشارات دفتر تبليغات اسلامي، 1381، ج2، ص104.

[45] ۔ نمل، 34.

[46] ۔ سيد محمد حسين عاملي، (از علماي قرن 11 هـ.ق) اثنا عشرية، چاپ قديم، ص155.

[47] ۔ منافقين، 8۔

نماز کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

نماز کے فضایل  قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر.ساجد محمود

نماز ، خدا تعالی کی طرف سے ایک ایسا عطیہ ہے کہ جو  انسان کو   فلاح و سعادت«حی علی الفلاح»، بہترین عمل «حی علی خیر العمل»اور ستون دین«الصلوة عمود الدین» [1]  کے عنوان سے دیا گیا ہے۔ نماز، انسانیت کی رفعت کی  وہ معراج ہے«الصلوة معراج المؤمن» [2]  کہ جو انسانی روح کی بلندی اور اخلاقی ملکات کے حصول اور فساد و تباہی سے  نجات  کا باوقار  راستہ ہے ،«إن الصلوة تنهی عن الفحشاء و المنكر.»[3]

انسان کوعبودیت و بندگی کا تمغہ اس   الہی خوبصورت راستے سے ہی  میسر ہو سکتا ہے کہ اگر  انسان نماز کو اس   کی شرائط  اور مقدمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ بطور احسن ادا کرے ۔ اگر انسان اس عبادت الہی ( کہ جو خاشعین کے علاوہ دوسر ے لوگوں پر بہت سخت ہے)[4] کو بہ خوبی  انجام دے تو  اس نیک عمل کے نتیجہ  میں بہت سے  عظیم فردی، اجتماعی، دنیوی اور اخروی آثار سامنے آ تے ہيں۔ اس مقالہ میں ہم اس عبادت  و بندگی  کے  تمام  آثار کو بیان نہيں  کرنا چاہتے بلکہ ان کے صرف وہ آثار کہ جو برزخ اور آخرت سے مربوط ہیں ، ان کی طرف اشارہ کرتے ہيں۔

 آیات الہی ميں نماز کے آثار ( نماز  توجہ یا بغیر توجہ کے پڑھنا)

  1. نماز پڑھنے سے خدا تعالی اپنے بندے کو یاد کرتا ہے

خدا تعالی سورہ طہ میں فرماتا ہے : «اقم الصلوة لذكری» [5]؛ نماز ، ذکر اور یاد خدا ہے۔ اور جب اس آیت مجیدہ  کو اس آیت شریفہ«فاذكرونی اذكُركم …» [6]کے ساتھ ملا کر تفسیر کريں تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ جب بندہ اپنے خدا کو یاد کرتا ہے تو در  نتیجہ خدا تعالی بھی اسے یاد کرتا ہے۔[7] مفسرین نے اس آیت شریفہ«فاذكرونی اذكُركم …» کے ذیل میں(  کہ بندوں کی یادآوری سے کیا مراد ہے؟ ) بہت سے مختلف اقوال ذکر کیے ہيں۔ ان میں سے کچھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

جب انسان ایمان کے ساتھ ساتھ عمل صالح انجام  دیتے نماز کو قائم کرتا ہے تو اس صورت میں اسے خدا تعالی کی طرف سے دو انعام ملتے ہیں:

  1. اجر دریافت کرتا ہے (لهم اجرهم)
  2. اسے ایسا اطمینان کامل حاصل ہوتا ہے  (لا خوف …)  کہ اس کے بعد اسے کسی قسم کا اضطراب،  پریشانی  اور غم  کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

پس اللہ تعالی فرماتا ہے

  • ‌أ. تم مجھے “دنیا” میں یاد کرو میں تمھیں ( آخرت) میں یاد کروں گا۔
  • ‌ب. تم مجھے دعا کے ذریعے یاد کرو تو میں تمھیں اس دعا کی اجابت اور قبولیت کے ساتھ یاد کروں گا ( یہ استجابت دعا دنیا، برزخ اور قیامت میں نصیب ہو سکتی ہے)۔
  • ‌ج. مجھے نعمتوں کی زیادتی  میں یاد کرو تاکہ تمہیں مشکلات میں یاد کروں۔[8]
  1. شفاعت کبری سے بہرہ مندی

 پروردگار سورہ اسراء میں اپنے حبیب سے خطاب کرتے ہوۓ فرماتا ہے: “وَ مِنَ اللَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نافِلَةً لَكَ عَسی أَنْ یَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقاماً مَحْمُوداً»؛ رات کے کچھ حصہ میں جاگتا رہ  اور نماز تہجد ادا کر کہ یہ نماز تہجد فقط تیرے پر واجب ہے کہ قریب ہے کہ خدا تجھے مقام محمود (شفاعت کبری  ) تک پہنچا دے۔ پس اس نماز تہجد  کا نتیجہ مقام محمود تک پہنچنا ہے اور اس آیت کی تفسیر میں  فریقین (شیعہ و اہل سنت) کی  روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام محمود سے مرادرسول اکرم ـ صلّی الله علیه و آله ـ کی شفاعت کبری ہے۔[9]

  1. اجر الہی کا استحقاق اور اطمینان کامل کا حصول

حق تعالی سورہ بقرہ میں فرماتا ہے: «إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَ أَقامُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّكاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ لا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لا هُمْ یَحْزَنُونَ.» [10]

یہاں دو انعاموں کا ذکر ہے

  1. انسان اجر دریافت کرتا ہے (لهم اجرهم)
  2. اسے ایسا  اطمینان کامل حاصل ہوتا ہے  (لا خوف …)  کہ اس کے بعد اسے کسی قسم کا اضطراب،  پریشانی  اور غم  کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

 برزخ میں نماز کے آثار

  1. وحشت قبر سے امان

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا: «ان الصّلاة تأتی الی المَیّتِ فی قبره بصورة شخص انور اللّونِ یونسُهُ فی قبره و یدفَعُ عنه اهول البرزخ»؛  نماز ایک سفید چہرے والی انسانی صورت میں  قبر کے اندر  داخل ہوتی ہے اور اس مرنے والے کے لئے مونس قرار پاتی ہے اور اس سے برزخ کی وحشتوں کو بر طرف کرتی ہے۔[11]

امام باقر  (علیہ السلام) فرماتے  ہيں: «من اتمَّ ركوعَهُ لم یَدخُلْهُ وحْشَةُ القبْرِ»؛  جس کا رکوع تمام اور کامل ہو وہ کسی صورت میں بھی وحشت قبر سے دچار نہيں  ہو گا۔

  1. نماز، قبر میں انسان کی مونس

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:  “الصلاةُ انس فی قبره و فراش تحت جنبه و جواب لمنكر و نكیر”؛ نماز قبر میں (نماز گزار کی ) مونس ہے  اور بہترین فرش اور منکر و نکیر کا جواب ہے۔[12]

  1. قبر میں ملائکہ کے دیدار کا موجب

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:  من مشی الی مسجد یطلب فیہ الجماعۃ ” جو شخص نماز با جماعت میں شرکت کے لئے مسجد کی طرف قدم اٹھائے” کا ن لہ بکل خطوۃ سبعون الف  حسنۃ” اس کےہر قدم کے اٹھانے پر ستر ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ ” و یرفع لہ من الدرجات مثل  ذالک” اور ستر ہزار درجات بلند ہوتے ہیں” و ان مات و ھو علی ذالک” اگر اسی حالت میں مر جآۓ تو ” وکّل اللہ بہ سبعین الف ملک یعوّ د نہ فی قبرہ و یونسونہ فی وحدتہ و یستغفرون لہ حتی یبعث اللہ ” خدا وند ستر ہزار فرشتوں کو اس کی قبر میں بھیجتا ہے کہ اس کی عیادت کریں۔ اس کی تنہائی کے مونس بنے رہيں اور قیامت تک اس  کے لئے استغفار کرتے رہيں”[13]۔

  1. وحشت قبر سے نجات کا باعث

امام باقر  (علیہ السلام) فرماتے  ہيں: «من اتمَّ ركوعَهُ لم یَدخُلْهُ وحْشَةُ القبْرِ»  جس کا رکوع تمام اور کامل ہو وہ کسی صورت میں بھی دچار وحشت قبر نہيں  ہو گا۔[14]

قیامت کے دن نماز کے آثار

  1. نماز کے ساۓ میں سارے اعمال  کی قبولیت

امام علی  (علیہ السلام) نے نہج البلاغہ میں فرمایا: كلُّ شی من عملك تبع لصلاتك [15]ہر عمل نماز کے تابع ہے ۔ در نتیجہ دوسرے  اعمال کا عروج نماز کے زیر سایہ ہے۔ «إن قبلت قبلت ما سواها و إن ردَّت ردت ما سواها»[16] اگر نماز قبول ہو گئي تو دوسرے سارے اعمال قبول ہو جائيں گے اور اگر یہ رد کر دی گئی تو بقیہ  سارے اعمال رد کر دیے جائيں گے۔

  1. نماز، توشہ آخرت

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا: الصلاة زادُ للمؤمن من الدنیا الی الاخره» ؛  نماز ، دنیا میں مؤمن کے لئے آخرت کا  زادراہ ہے۔[17]

  1. نماز، بہشت میں داخل ہونے کی باعث

امام صادق  (علیہ السلام) نے فرمایا:”بتحقیق تمھارا پروردگار مہربان ہے،  تھوڑے عمل کو بھی  قبول کر  لیتا ہے اگر چہ انسان دو رکعت ہی خدا کے لئے بجا لاۓ، خدا تعالی اس نماز کے صدقے میں اسے بہشت میں داخل کر دے گا۔[18]

  1. عذاب سے معافی اور بہشت میں بغیر حساب کے داخل ہونے کا باعث

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا: «قال الله ـ عزّوجل ـ اِنّ لعبدی علیّ عهداً اِن اقام الصلوة لوقتها اَن لا اُعَذِّبَهُ و اَن اُدخلهُ الجَنّه بغیر حساب»[19]— میں اپنے بندہ کے ساتھ  وعدہ کرتا ہوں، اگر میرا بندہ نماز کو اس کے اوقات میں  بجا لاۓ  تو اسے عذاب نہ کروں گا  اور بغیر حساب کے اسے جنت میں داخل کر دوں گا۔

 اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے ہی ایک اور روایت نقل ہے کہ جو شخص نماز کو چالیس دن تک با جماعت ادا کرے کہ حتی تکبیرۃ الاحرام بھی اس سے نہ چھوٹے  تو اس کے لئے جہنم کی آگ اور نفاق سے آزادی لکھ دی جاۓ گي۔[20]

امام علی  (علیہ السلام) نے نہج البلاغہ میں فرمایا: كلُّ شی من عملك تبع لصلاتك  ہر عمل نماز کے تابع ہے ۔ در نتیجہ دیگر اعمال کا عروج نماز کے زیر سایہ ہے۔ «إن قبلت قبلت ما سواها و إن ردَّت ردت ما سواها»  اگر نماز قبول ہو گئي تو دوسرے سارے اعمال قبول ہو جائيں گے اور اگر یہ رد کر دی گئی تو بقیہ  سارے اعمال رد کر دیے جائيں گے۔

  1. نماز، آخرت کی زینت

امام صادق  (علیہ السلام) نے فرمایا: «انّ الله ـ عزّوجل ـ قال: الْمالُ وَ الْبَنُونَ زِینَةُ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ انّ الثمان ركعات التی یُصلّیها العبد اللیل زینةُ الآخرة»؛[21]“اللہ تعالی نے مال اور اولاد کو  دنیا کی زینت لیکن آٹھ رکعت نماز کو جو آخر شب میں انسان  بجا لاتا ہے  اسے آخرت کی زینت قرار دیا ہے ۔

  1. ریاکار نمازی کی سزا آتش جہنم ہے

امام صادق  (علیہ السلام) نے فرمایا:” جب قیامت کا دن آۓ گا  تو  اس دن ایک نمازی کو لایا جاۓ گا  اور وہ خود بھی نمازی ہونے کا دعوی  کرنے والا ہو گا۔ اس سے کہا جاۓ گا:”تو نے اس لئے نماز پڑھی کہ لوگ تیری تعریف کریں، اس وقت فرشتوں کو حکم ملے گا کہ اس ریاکار نمازی کو جہنم کی آگ  میں جھونک دیں۔[22]

 

  1. نماز کو سبک شمار کرنے والا نمازی حوض کوثر پر رسول خدا کے دیدار سے محروم ہوگا

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا: «لیس منّی من استخفَّ صلاته لا یردُ علیَّ الحوض لا و الله»؛[23] جو شخص نماز کو سبک اور  ہلکا شمار کرے وہ میری امت میں سے نہيں ہے، خدا کی قسم! وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات نہ کر سکے گا۔

  1. نماز کا نہ پڑھنا آتش جہنم میں گرنے کا باعث

مولا علی  (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں دوزخیوں کے جواب کو نقل کرتے ہوۓ فرماتے  ہيں کہ جب ان سے پوچھا جاۓ گا کہ کون سی چیز باعث بنی کہ تم جہنمی بن گئے تو جواب ملے گا کہ ہم نمازی نہ تھے: «ما سللكم فی سقر قالوا لم نَكُ من المصلین.» [24]

  1. نماز کو ضا‏‏ئع کرنے والا کا قارون، فرعون اور ہامان کے ساتھ حشر و نشر

رسول خد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:” لا تضیعوا صلاتكم، فانّ من ضیّع صلاتهُ حَشَرَهُ الله قارون و فرعون و هامان ـ لعنهم الله و اخزاهم ـ و كان حقّاً علی الله ان یُدخِلَهُ النار مع المنافقین، فالویلُ لمن لم یحافظ صلاتهُ»[25]؛ اپنی نمازوں کو ضا‏ئع نہ کروچونکہ جو نماز کو ضائع کرے گا، خدا تعالی اسے قارون، فرعون اور ہامان کے ساتھ محشور کرے گا، خدا تعالی ان پر لعنت کرےاور ان کو رسوا کرے۔ اور خدا  کا حق بنتا  ہے کہ وہ  ان بے نمازیوں کو منافقین کے ساتھ جہنم کی آگ میں بھیج دے۔ پس افسوس ہے اس شخص پر کہ جو نماز کی حفاظت نہ کرے۔

  1. شفاعت سے محرومیت

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:”جو شخص جان بوجھ کر نماز کو ترک کر ے اس کا نام جہنم کے دروازہ پر دوزخیوں کے زمرہ میں لکھا جاتا ہے۔[26]

روایات میں نماز کو چھوڑنے، کوتاہی یا سستی کرنے سے متعلق بہت سے آثار ذکر کیے گئے ہیں جن کو بطور خلاصہ ذکر کرتے ہيں۔

  • ‌أ. نماز تہجد کے پڑھنے سے انسان کی قبر بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ کی مانند ہو جاتی ہے
  • ‌ب. جو شخص نمازپنجگانہ کی محافظت کرےوہ قیامت کے دن خدا تعالی  سے ملاقات کرے گا۔
  • ‌ج. جو شخص جان بوجھ کر نماز کو ترک کر دے تو وہ خدا اور سول کے غضب سے امان میں نہ ہو گا۔
  • ‌د. جو شخص نماز جمعہ پڑھنے کے لئے قدم اٹھاتا ہے تو اس کا جسم جہنم کی آگ پر حرام ہو جاتا ہے ۔
  • ‌ه. نمازی کے لئے زمین کا وہ ٹکڑا کہ جس پر اس نے سجدہ کیا اور نماز ادا کی قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گا( کہ جو قبول ہو گی)۔
  • ‌و. نماز پل صراط سے گزرنے کا پاسپورٹ ہے ( کہ جس طرح محبت علی  (علیہ السلام) پل صراط سے گزرنے کا پاسپورٹ ہے)۔

نماز کو اس کے اوقات میں پڑھنے اور  صحیح طریقے سے اسے ادا کرنے  اور نماز کو چھوڑنے کے یہ تو چند ایک  آثار ہیں  اس کے علاوہ اس  عبادت   کے  اور بہت سے آثار  دوسری  روایات میں ذکر کیے گئے ہيں۔[27]

 

 

 

[1] ۔ وسائل الشیعه، ج 4، ص 27

[2] ۔ اعتقادات، علامه مجلسی، ص 29 امام خمینی رحمة الله علیه کی کتاب،   سر الصلوة سے نقل کرتے ہوۓ  ، ص 7.

[3]  ۔عنكبوت، 45.

[4] ۔ بقره، 45.

[5] ۔ طه، 14.

[6] ۔ بقره، 152.

 [7] ۔ تفسیر نور، ج 7، ص 330.

[8] ۔ تفسیر كبیر فخر رازی، ج 4، ص 144،   تفسیر نمونه، ج 1، ص 515  سے تھوڑے تصرف  اور  اضافات کے ساتھ نقل کرتے ہوۓ۔

[9] ۔ المیزان، ج 13، ص 242،   تفسیر نمونه، ج 12،  آیت کے ذیل میں.

 [10] ۔ بقره، 255.

 

[11]۔ لئالی الاخبار، ج4، ص 1.

[12]۔ بحارالانوار، ج 79، ص 232۔

 [13] ۔ وسائل الشیعه، ج 5، ص 372.

[14] ۔ بحارالانوار، ج 6، ص 244.

[15] ۔ نهج البلاغه، نامه 27، به نقل از كتاب رازهای نماز، آیة الله جوادی آملی، ص 18.

  [16] ۔  كافی، ج 3، ص 268، به نقل از كتاب «رازهای نماز» آیة الله جوادی آملی،‌ ص 10۔

[17] ۔ بحارالانوار، ج 79، ص 232۔

 [18] ۔ مستدرك سفینة البحار، ج 3، ص 147۔

[19] ۔ كنز العمال، ج 7، حدیث 19036

[20] ۔ محجة البیضاء، ج 1، ‌ص 244،   كتاب فتح العزیز، ج 4،‌ ص 288 ( میں اسی حدیث سے ملتی جلتی حدیث)

[21] ۔ بحارالانوار، ج 84، ص 152، ثواب الاعمال، ص 41 .

[22]۔  بحارالانوار، ج 69، ص 301.

 [23]۔  وسائل الشیعه، ج 4، ص 24،  آل البیت والی چھاپ.

 [24]۔ نهج البلاغه، خطبه 199.

 [25]  ۔ بحارالانوار، ج 79، ص 202۔

  [26]۔  كنز العمال، ج 7، حدیث 19090

[27]  ۔ اس تحقیق کی اكثر روایات کا استفادہ  معجم فقهی  سے کیا گیا ہے اور اس کے ایڈریس اسی سوفٹ ویر کے مطابق ہیں۔

حیا کی اقسام

🔴 حیا کی کتنی قسمیں ہیں ؟

1 خدا سے حیا که وہ آگاه اور بصیر ہے .
2 پیغمبراسلام (ص) سے حیا که ہمارے اعمال انہیں پیش کئے جاتے ہیں .
3فرشتوں سے حیا، که ہمارے اچھے اور برے اعمال کو لکھتے ہیں .
4اپنے آپ سے حیا ۔ 
5لوگوں  سے حیا.

👈  جب ہم خدا کو اپنے اعمال پر حاضر و ناظر جانیں  اور کسی بھی جگہ کو خدا سے خالی تصور نا کریں اور یقین رکھیں کہ  ظاہر اور پوشیدہ ، دن اور رات اور ۔۔۔۔۔ میں کوئی فرق نہیں ہے اس کے علم نے ہر چیز اور ہر شخص کا احاطہ کیا ہوا ہے

💥 تو یہ معرفت اور شناخت ،  مهم سبب ہے لوگوں کو گناہوں سے روکنے کا. کیونک جب ہم اپنی عزت و آبرو کی خاطر دوسروں کے سامنے گناہ نہیں کرتے تو کیسے راضی ہو جاتے ہیں کہ خدا کے سامنے ہماری آبرو چلی جائے ؟ کیا وہ دیکھ نہیں رہا ؟

🌻قرآن فرماتا ہے:
�اَلَم یَعلَم بِاَنَّ اللهَ یَری؟�
 کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟

✨ انسان کا شرم و حیا جتنا زیادہ ہو گا اسکے گناہ اتنے کم ہوں گے ....