بعثت کا مقصد 


بعثت کا مقصد

رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق

میں تو اعلٰی اخلاقی اقدار کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں

قرآن کریم میں بعثت کے مندرجہ ذیل مقاصد مزکور ہیں

1 تلاوت قرآن کرنا۔
2 تزکیہ نفس کرنا۔
3 تعلیم (کتاب و حکمت)دینا۔
4 شہادت و گواہی دینا۔
5 نیک لوگوں کو جزا کی بشارت دینا۔
6 برے افراد کو عذاب الٰہی سے ڈرانا۔
7 خدا کے اذن سے اس کی طرف دعوت دینا۔
8 گمراہی سے نکالنا ۔
9 سیدھے راستہ کی ہدایت کرنا۔
10 تمام ادیان عالم سے دین اسلام کو جدا کرنا۔
11 دشمنی کو دوستی سے بدلنا۔
12 ایک کو دوسرے کا بھائی بنانا۔
13 آگ (جہنم) سے بچانا۔


احادیث کی روشنی میں بعثت کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں

1 اخلاق کو مکمل کرنا۔
2 وعدہ الٰہی کو مکمل کرنا۔
3 نبوت کو اختتام تک پہونچانا۔
4 جہالت سے نکالنا۔
5 ضلالت وگمراہی سے نکالنا۔
6 باطل کی پیروی سے روکنا۔
7 متعدد خداؤں کے ماننے والوں کوایک خدا کی عبادت پر مامور کرنا۔
8 بھٹکے ہوؤں کو راہ نجات پر گامزان کرانا(نجات تک پہونچانا)۔
9 صراط مستقم کی طرف ہدایت کرنا۔

مختصر یہ کہ پیغمبر اسلام کو اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے دنیا و آخرت میں کامیاب بنانے کا وسیلہ و ذریعہ بنا کر بھیجا ہے، اگر انسان ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرلے تو زندگی بھی خوشگوار اور آخرت میں یقیناً اجر عظیم کا مستحق قرار پائے گا۔

علی مع القرآن و القرآن مع علی

(عنوان )

عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ

اسد عباس اسدی

قَال رَسُول اللَّه: عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ [1]

علی ؑ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی ؑکے ساتھ ہے دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے حتیٰ کہ دونوں حوض کوثر پر پہنچیں گے ۔

مع علیؑ ۔ اُوْصِیْکُمَا بِتَقْوَی اللّٰہِ۔

میں تم دونوں کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں۔

مع القرآن ۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ [2]

خدا پرہیزگاروں ہی کی قبول فرمایا کرتا ہے

مع علیؑ ؑ ۔ وَاِنْ لَا تَبْغِیَاالدُّنْیَا وَاِنْ بَغَتْکُمَا۔

اور دیکھو دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل کیوں نہ ہو۔

مع القرآن ۔ وَمَا الْحَيَاةُ الـدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ[3]

اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کی پونجی کے اور کچھ نہیں۔

مع علی ؑ ۔ وَلَا تَأَسَفًا عَلیٰ شَیْ ءٍ مِنْھَا زُوِیَ عَنْکُمَا۔

اور دنیا کی جس چیز سے تم کو روک لیاجائے اس پر افسوس نہ کرنا۔

مع القرآن ۔ لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ [4]

تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے ۔

مع علی ؑ ۔ وَقُوْلَا بِالْحَقِّ۔

اور جو بھی کہنا حق کہنا۔

مع القرآن ۔ وَلَا تَلْبِسُوْا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوْا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [5]

اور حق کو باطل کیساتھ خلط ملط نہ کرو اورنہ جان بوجھ کر حق کوچھپاؤ( حالانکہ تم سب جانتے ہو کہ تمہارے اندر کیا چھپاہے) اور ہم بھی اس سے بے خبر نہیں۔

مع علی ؑ ۔ وَاعْمَلَا لِلْاَجْرِ۔

اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔

مع القرآن ۔ فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ [6]

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔

مع علی ؑ ۔ وَکُوْنَا لِلظَالِمِ خَصْمًا وَلِلمَظْلُوْمِ عَوْنًا۔

ظالم کے مخالف اور مظلوم کے مددگار رہنا۔

مع القرآن ۔ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ [7]

ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔

مع علی ؑ ۔ اُوْصِیْکُمَا وَجَمِیْعَ وَلَدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَنْ بَلَغَہُ کِتَابِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَنَظْمِ اَمْرِکُمْ۔

میں تم دونوں کو اوربقیہ اپنی تمام اولادوں اور، اپنے تمام اهل وعیال کواور ان تمام افراد کو کہ جن تک یہ میرانوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔

مع القرآن ۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ[8]-وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا [9]

اے ایما ن والو! اللہ سے ڈرو -اور اُسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ، پھر اس کو ایک مقررہ پروگرام کے مطابق (كامل) توازُن کے ساتھ تشکیل دیا ہے

مع علیؑ ۔ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِکُمْ۔ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّکُمَاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ یَقُوْلُ:صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَۃِ الصَّلٰوۃِ وَالصِّیَامِ۔

اورباہمی تعلقات کو استوار رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ ﷺ کو فرماتے هوےسنا ہے کہ آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔

مع القرآن ۔ وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا [10]

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْاَیْتَامِ، فَلاَ تُغِبُّوْاأَفْوَاہَہُمْ وَلَا یَضِیْعُوْا بِحَضْرَتِکُمْ۔

خدارا خدارا یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا که کہیں ان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہاری موجود گی میں وه ضائع نہ هو جائیں

مع القرآن ۔ واٰتُوا الْيَتَامٰٓى اَمْوَالَـهُـمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَاْكُلُـوٓا اَمْوَالَـهُـمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ اِنَّهٝ كَانَ حُوْبًا كَبِيْـرًا[11]

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو، اور نہ کھاؤ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔

مع علیؑ ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ جِیْرَانِکُمْ، فَاِنَّھُمْ وَصِیَّۃُ نَبِیِّکُمْ، مَازَالَ یُوْصِیْ بِھِمْ، حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُوَرِّثُھُمْ۔

خدارا خدا را . اپنے ہمسایوں کا خیال رکہنا کہ ان کے بارے میں تمہارے نبی نے وصیت کی اور اتنی شدیدتاکید فرمائی ہےکہ یہ گمان ہونے لگا تها کہ کہیں آپ ؐاُنھیں بھی میراث پانے والوں میں سے قرار نہ دے دیں

مع القرآن ۔ بِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا۔۔۔ وَالْجَارِ ذِى الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ ۔۔۔ [12]

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پاس بیٹھنے والے سے۔

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِہٖ غَیْرُکُمْ۔

خدارا خدارا قرآن کا خیال رکھنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔

مع القرآن ۔ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ [13]

جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الصَّلوٰةِ، فَاِنَّھَاعَمُودُ دِیْنِکُمْ۔

خدارا خدارا نماز کی ادائیگی میں پابند رهنا اس لئے کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔

مع القرآن ۔ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا [14]۔

بے شک نماز مومنوں پر اپنے مقررہ وقت میں ادا کرنا فرض ہے۔

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ بیْتِ رَبِّکُمْ، لَا تُخْلُوْہُ مَابَقِیْتُمْ فَاِنَّہُ اِنْ تُرِکَ لَمْ تُناظَرُوْا۔

خدارا خدارا اپنے رب کے گھر کا خیال رکھنا، جب تک کہ تم زندہ ہو اسے خالی نہ چھوڑنا،کیونکہ اگر اسے خالی چھوڑ دیا توپھر عذاب سےمہلت نہ ملے گی

مع القرآن ۔ اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ [15]۔

اللہ تعالٰی کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مُقّرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ ( شریف ) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت اور ہدایت والا ہے

مع علی ؑ ۔ اللّٰہَ اللّٰہَ فِی الْجِہَادِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔

خدارا خدارا راہِ خدا میں اپنی جان، مال،اور زبان کے ذریعے جہاد سے دریغ نہ کرنا۔

مع القرآن ۔ اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا بِاَمْوَالِـهِـمْ وَاَنْفُسِهِـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَالَّـذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوٓا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ [16]

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑا اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں لڑے اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔

مع علی ؑ ۔ وَعَلَیْکُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَاذُلِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّدَابُرَوَالتَّقَاطُعَ۔

تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرنا اورخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔

مع القرآن ۔ فَاٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ‌السَّبِیۡلِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ [17]

پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں

مع علی ؑ ۔ لَا تَتْرُکُواالْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَیُوَلَّیٰ عَلَیْکُمْ شِرَارُکُمْ، ثُمَّ تَدْعُوْنَ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ۔

دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تب بھی وہ قبول نہ ہوگی۔

مع القرآن ۔ وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [18]

اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

مع علیؑ ۔ یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! لَا اُلْفِیَنَّکُمْ تَخُوْضُوْنَ دِمَآءَ الْمُسْلِمِیْنَ، خَوْضًا تَقُوْلُوْنَ: قُتِلَ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ أَلاَ لاَ تَقْتُلُنَّ بِیْ اِلَّا قَاتِلِیْ۔

اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم، امیرالمو منین قتل ہوگئے، امیر المومنین قتل ہوگئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو،دیکھو میرےقتل کے بدلے صرف میرے قاتل ہی قتل کیاجائے۔

مع القرآن ۔ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلٰى ۖ اَ لْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَـهٝ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ ۗ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْـمَةٌ [19]

اے ایمان والو! مقتولوں میں برابری کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے، آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے، پس جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کیا جائے تو دستور کے موافق مطالبہ کرنا چاہیے اور اسے نیکی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے، یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے

مع علی ؑ ۔ اُنْظُرُوْااِذَاأَ نَامُتُّ مِنْ ضَرْبَتِہِ ہٰذِہٖ، فَاضْرِبُوْہُ ضَرْبَۃً بِضَرْبَۃٍ، وَلَا تُمَثِّلُ بِالرَّجُلِ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ (صَلّی اللّٰہ عَلیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ) یَقُوْلُ: اِیَّاکُمْ وَالْمُثْلَۃَ وَلَوْبِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ۔

دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس کےسر پر ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔

مع القرآن ۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ [20]

اور اگر تم ان کے ساتھ سختی بھی کرو تو اسی قدر جس قدر انہوں نے تمہارے ساتھ سختی کی ہے اور اگر صبر کرو تو صبر بہرحال صبر کرنے والوں کے لئے بہترین ہے۔


[1] (المستدرک، ج: 3، ص: 123، رقم: 4685)

[2] (مائدہ 27)

[3] (العمران 185)

[4] (حدید23)

[5] (سورۃ البقرۃ 42)

[6] (زلزال 7)

[7] (ہود، 113)

[8] (بقرۃ،278)

[9] (فرقان ، 2)

[10] (آلعمران ، 103)

[11] (نساء،2)

[12] (نساء ، 36 )

[13] (طلاق ، 1 )

[14] ( النساء ، 103)

[15]( آلعمران ، 96 )

[16] (انفال ، 72 )

[17] (روم ، 38 )

[18] (آلعمران ، 104 )

[19] ( بقرہ ، 178 )

[20] ( نحل ، 126 )

 میرا خدا وہ ہے

میرا خدا وہ ہے
(لیس کمثلہ شی)

اَلَّـذِىْ خَلَقَنِىْ فَهُوَ يَـهْدِيْنِ
جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے۔

وَالَّـذِىْ هُوَ يُطْعِمُنِىْ وَيَسْقِيْنِ
اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔

وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

وَالَّـذِىْ يُمِيتُنِىْ ثُـمَّ يُحْيِيْنِ
اور وہی مجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا۔

وَالَّـذِىٓ اَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِـىْ خَطِيٓـئَتِىْ يَوْمَ الدِّيْنِ
اور اسی سے مجھے امید ہے کہ میرے گناہ قیامت کے دن بخش دے گا۔

( سورہ مبارکہ شعراء )

بہترین دعا

بہترین دعا

الحَمْدُ للهِ عَلَى كُلِّ نِعْمَةٍ، وَأَسْأَلُ اللهَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَأَعُوذُ بِاللهِ مِنْ كُلِّ شَرٍّ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ.

تمام نعمتوں پر اللہ کی حمد و ثنا ہے، اور میں اللہ سے ہر قسم کی خیر کا طالب ہوں، اور ہر شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور ہر گناہ کی بابت اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

خوشحال معاشرے کے بنیادی اصول

خوشحال معاشرے کے بنیادی اصول

وَيَٰقَوۡمِ أَوۡفُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ۔ (هود: 85)

اے میری قوم! ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو۔"

یہ آیت حضرت شعیب علیہ السلام سے متعلق ہے، جس میں وہ اپنی قوم کو انصاف کرنے، ظلم سے بچنے اور فساد سے باز رہنے کی دعوت دیتے ہیں،اس آیت کے تین اہم نکات ہیں جو اخلاقی، سماجی اور اقتصادی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں:

1۔ اوفوا المکیال والمیزان بالقسط

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو تلقین کرتے ہیں کہ ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کریں۔

معاشی اور سماجی تجزیہ:

ماپ اور تول، سالم اقتصادی نظام کی علامت ہیں۔ "بالقسط" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر لین دین میں انصاف نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایک سماجی فریضہ بھی ہے۔ اگر معاملات میں انصاف نہ ہو تو معاشرتی اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

ناپ اور تول میں انصاف کرنا، انسانی معاملات میں انصاف کی علامت ہے۔ اس نصیحت سے یہ سبق ملتا ہے کہ مالی معاملات کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے تعلقات اور فیصلوں میں انصاف کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔

2۔ ولا تبخسوا الناس أشیاءهم

یہ حصہ لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے یا ان کے مال کی قدر گھٹانے سے منع کرتا ہے۔

"تبخسوا" کا مطلب صرف کم تولنے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل شامل ہے جس میں دوسرے کے حق کو کم یا ضائع کیا جائے، چاہے وہ مالی ہو یا غیر مالی۔

اس آیت میں دوسروں کے حقوق کا تحفظ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور کسی بھی طرح کے نقصان یا دھوکہ دہی سے گریز کریں۔

3۔ ولا تعثوا فی الأرض مفسدین

یہ جملہ قوم کو زمین میں فساد اور فتنے سے منع کرتا ہے۔

"عثوا" کا مطلب ایسا غیر ذمہ دارانہ اور سرکش رویہ ہے جو سماجی اور اخلاقی تباہی کا سبب بنتا ہے، اور "مفسدین" ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے اعمال سے دوسرے افراد یا معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

فساد صرف مادی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی قدروں کو ختم کرنا بھی فساد کی شکل ہے۔

یہ نصیحت معاشرے میں امن، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی تاکید کرتی ہے۔

خلاصہ

آیت 85 سورہ ہود ایک جامع اصول بیان کرتی ہے۔ یہ انصاف، حقوق کی پاسداری اور معاشرتی استحکام کو فروغ دینے کی دعوت دیتی ہے۔

اس آیت سے درج ذیل نکات اخذ کیے جا سکتے ہیں:

1۔ معاشی انصاف:

لین دین اور تجارت میں انصاف کو یقینی بنانا۔

2۔ دوسروں کے حقوق کا تحفظ:

کسی بھی قسم کے ظلم یا دھوکہ دہی سے پرہیز کرنا۔

3۔ فساد سے اجتناب:

ایسے اعمال سے بچنا جو معاشرتی امن کو خطرے میں ڈالیں۔

یہ پیغام صرف حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ہے۔

ایسا معاشرہ جو ان اصولوں کی پاسداری کرے، امن، خوشحالی اور انصاف پر مبنی ہوگا۔

حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

أُوصِيكُمْ بِخَمْسٍ لَوْ ضَرَبْتُمْ إِلَيْهَا آبَاطَ الْإِبِلِ لَكَانَتْ لِذَلِكَ أَهْلًا: لَا يَرْجُوَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا رَبَّهُ، وَ لَا يَخَافَنَّ إِلَّا ذَنْبَهُ، وَ لَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ لَا أَعْلَمُ، وَ لَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ إِذَا لَمْ يَعْلَمِ الشَّيْءَ أَنْ يَتَعَلَّمَهُ، وَ عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ، فَإِنَّ الصَّبْرَ مِنَ الْإِيمَانِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، وَ لَا خَيْرَ فِي جَسَدٍ لَا رَأْسَ مَعَهُ، وَ لَا [خَيْرَ] فِي إِيمَانٍ لَا صَبْرَ مَعَهُ۔ (بحوالہ نہج البلاغہ: حکمت 82)

میں تمہیں پانچ باتوں کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اگر انہیں سیکھنے کے لیے تمہیں طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، تو یہ باتیں اس کے لائق ہیں:

1۔ تمہاری امیدیں صرف اپنے پروردگار پر ہوں۔

2۔ اپنے گناہوں کے سوا کسی اور سے نہ ڈرو،(یعنی خوف صرف اپنے گناہوں کا ہو)۔

3۔ اگر کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتے تو یہ کہتے ہوئے مت شرمانا کہ" مجھے علم نہیں"۔

4۔ جو بات نہیں جانتے، اس کے سیکھنے میں جھجک محسوس نہ کرو۔

5۔ صبر کو لازم پکڑو، کیونکہ صبر ایمان کے لیے ایسے ہی ہے جیسے جسم کے لیے سر، اور بغیر صبر کے ایمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔

مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ، اس کے کیا معنی ہیں؟

مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ، اس کے کیا معنی ہیں؟

وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ۔ (سورہ ہود: 6)

زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق اللہ پر ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ کس جاندار کا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور عارضی جگہ کہاں ہے۔ ہر چیز واضح کتاب میں ثبت ہے۔

تفسیر

اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ وہ ہر جاندار کی روزی کا ضامن ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے رزق کا بندوبست کرتا ہے، خواہ وہ خشکی پر ہوں یا پانی میں، اور یہ رزق ان کے لیے مختلف ذرائع سے فراہم ہوتا ہے۔

"مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا" سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جاندار کی رہائش گاہ اور اس کے عارضی ٹھکانے کو جانتا ہے۔

مستقر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے رہتی ہے، جبکہ مستودع اس عارضی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز وقتاً فوقتاً رہتی ہے۔ اس کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی زندگی، ان کی موت اور ان کی حرکت و سکون کے سب مقامات سے باخبر ہے۔

"كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ" یعنی سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تفصیل کو محفوظ کر رکھا ہے۔

اس میں کائنات کے ہر جاندار کی زندگی، موت، رزق، اور اس کی تقدیر لکھی ہوئی ہے، اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔

یہ آیت انسان کو توکل اور اعتماد کی دعوت دیتی ہے کہ اگرچہ انسان اپنی کوشش سے رزق کماتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا اصل ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے، جو ہر ذی روح کی ضروریات سے باخبر ہے اور اس کے وسائل زندگی فراہم کرتا ہے۔

رزق اللہ کے ذمہ ہے تو پھر محنت کیوں؟

ایک اہم سوال ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو الرزاق (رزق دینے والا) کہا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اصل میں ہر مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، اسلام انسان کو سعی (کوشش) اور محنت کی تلقین بھی کرتا ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟

1۔ انسانی کوشش بطور ذریعہ رزق

اسلام کے مطابق، اگرچہ رزق دینے والا اللہ ہے، لیکن رزق حاصل کرنے کا عمل کوشش اور جدوجہد کے ذریعے ہوتا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ انسان کو کوشش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، مثلاً سورہ النجم میں ارشاد ہوتا ہے:

"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی" (سورہ النجم، 53:39)۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں کامیابی کے لیے کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رزق اور کامیابی کو اس کے عمل کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔

2۔ امتحان اور تربیت

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آزمائش اور تربیت کا مقام بنایا ہے۔ انسان کو محنت کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تدبیر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح، انسان صبر، توکل، اور مضبوط ارادے جیسے اوصاف کو حاصل کرتا ہے۔

3۔ تقدیر اور تدبیر میں توازن

اسلامی تعلیمات میں تقدیر اور تدبیر کا تصور موجود ہے۔ تقدیر کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے، لیکن تدبیر کے تحت انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رزق کے لیے کوشش کرے۔ گویا انسان کی کوشش اور اللہ کا رزق، دونوں آپس میں مربوط ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ پر بھروسہ بھی کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کے تحت محنت بھی کرنی چاہیے۔

4۔محنت ایک عبادت ہے

رسول اکرمﷺ نے محنت اور روزی کمانے کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے:

محنت سے حلال روزی کمانا فرض عبادت کے بعد سب سے بڑی عبادت ہے۔ (المعجم الأوسط للطبراني، حدیث نمبر 3936)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں محنت کو خود ایک نیکی اور عبادت سمجھا گیا ہے، اور یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

5۔ توکل اور محنت کا تعلق

اللہ پر توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے۔ توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوشش کے بعد اللہ پر بھروسہ کرے اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اسلام میں توکل اور محنت کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

"اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو" (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2517)۔

خلاصہ

اسلام میں اللہ تعالیٰ کو رزاق سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی اصل ذریعہ ہے، لیکن کوشش اور محنت انسان کے عمل کا حصہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی روزی حاصل کرنے کے لیے محنت کرے۔ لہذا، اللہ پر بھروسہ اور اس کی رضا کے لیے کوشش کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔

یہ قابلِ غور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام جانداروں کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے، مگر اس کے باوجود چیونٹی مسلسل محنت کرتی ہے، اسے یہ خیال نہیں آتا کہ وہ فارغ بیٹھ کر بھی رزق پا لے گی۔ لیکن اشرف المخلوقات، یعنی انسان، اپنے وہم و خیالات میں الجھ کر بعض اوقات چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کے عزم اور شعور کو بھی نہیں اپنا پاتا۔

دیانت داری اساسِ ایمان

دیانت داری اساسِ ایمان

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔)سورۃ التوبہ، آیت 119(

تفسیری نکات

1۔ تقویٰ اور صداقت کی اہمیت

اس آیت میں سب سے پہلے تقویٰ (اللہ کا خوف) کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارے اور ہر کام میں اس کی رضا کو مدنظر رکھے۔ پھر صداقت پر زور دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صداقت پسند لوگوں کے ساتھ رہیں۔

2۔ صداقت کا مفہوم

صداقت سے مراد صرف سچ بولنا نہیں ہے، بلکہ دل، زبان، اور عمل میں ایک سچائی اور خلوص کا ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں انسان کا اپنے وعدوں کا سچا ہونا، دینی ذمہ داریوں کا حق ادا کرنا، اور منافقت سے دور رہنا بھی شامل ہے۔

3۔ صادقین کون ہیں؟

صادقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان و عمل میں سچے ہیں۔

تفسیری کتب میں اس کے بارے میں کئی آراء ملتی ہیں: ائمۂ معصومین علیہم السلام: شیعہ مفسرین نے صادقین سے اہل بیت علیہم السلام مراد لیے ہے، کیوں کہ وہ دین میں کامل ترین ہستیاں ہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) اور صالح افراد: بعض دیگر تفسیروں کے مطابق، صادقین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام و صالحین شامل ہیں ۔

4۔ معاشرہ پر اثرات

اس آیت میں مسلمانوں کو ایسی جماعت یا افراد کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو صادق ہیں، کیونکہ نیک اور سچے افراد کی صحبت سے انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ گناہوں سے بچنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر اللہ کی قربت اور روحانی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔

5۔ تفسیر تسنیم (آیت اللہ جوادی آملی)

آیت اللہ جوادی آملی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ صادقین کے ساتھ رہنا انسان کو اخلاص اور حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ سچائی اور اللہ کا خوف انسان کی شخصیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور جب تک انسان صادقین کے ساتھ نہ ہو، اس میں حقیقی تقویٰ پیدا نہیں ہو سکتا۔

6۔ تفسیر 'التحریر و التنویر'

تفسیر التحریر و التنویر میں اس آیت کا مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ صداقت اور تقویٰ دو الگ الگ خوبیوں کے بجائے ایک ہی راہ کی طرف اشارہ ہیں، یعنی اللہ کی بندگی اور اطاعت میں اخلاص اور سچائی پیدا کرنا۔

7۔ 'الکوثر' شیخ محسن نجفی

جبکہ 'الکوثر' میں شیخ محسن نجفی بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ایمان والوں کو ایک روحانی معاشرت کی طرف بلا رہی ہے جہاں سچائی اور خلوص بنیادی عناصر ہیں۔

خلاصہ

آیت "کونوا مع الصادقین" ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہمیں سچائی کے راستے پر چلنا چاہیے اور ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو اس راہ پر گامزن ہیں۔ یہ آیت ہماری زندگی کو روحانیت، صداقت اور تقویٰ سے مزین کرنے کی ہدایت کرتی ہے، اور ہمیں منافقت، کذب اور فریب سے بچنے کا پیغام دیتی ہے۔

قرآنی نقطہ نظر سے برا انجام کن لوگوں کا مقدر ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآنی نقطہ نظر سے برا انجام کن لوگوں کا مقدر ہے؟

وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (سورۃ الرعد، آیت 25)

ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے مستحکم عہد کو توڑتے ہیں، اور ان رشتوں کو کاٹ دیتے ہیں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں جوڑا جائے، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لیے برا انجام ہے۔

تفسیر

اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑتے ہیں۔ اس عہد میں بنیادی طور پر اللہ کی اطاعت، دین اسلام پر عمل پیرا ہونا، اور دیگر حقوق اللہ و حقوق العباد شامل ہیں۔

1۔عہد شکنی: اللہ نے ہر انسان کے ساتھ ایک فطری عہد لیا ہے کہ وہ اسے رب مانے اور اس کے احکام پر عمل کرے۔ اس عہد کی خلاف ورزی کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو رد کرتے ہیں یا ان سے غفلت برتتے ہیں۔

2۔صلہ رحمی: اس آیت میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ دینا ناپسندیدہ ہے۔ صلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں سے تعلق کو جوڑ کر رکھنا، اسلام میں انتہائی اہم ہے، اور ان رشتوں کو کاٹنے کو فسادی عمل کہا گیا ہے۔

3۔فساد فی الارض: ان لوگوں کی صفات میں زمین میں فساد پھیلانا بھی شامل ہے۔ فساد پھیلانا یعنی زمین میں ایسا بگاڑ پیدا کرنا جس سے دوسروں کو نقصان ہو، معاشرتی توازن خراب ہو، یا اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہو۔

4۔انجام اور سزا: اس آیت میں ان لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے لعنت کا ذکر ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں، رشتہ داریوں کو منقطع کرتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں۔ انہیں آخرت میں "سوء الدار" یعنی برا انجام دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے لیے آخرت کا گھر عذاب و تکلیف کا گھر ہوگا، اور انہیں اللہ کی رحمت سے دوری ملے گی۔

مفسرین نے مختلف پہلوؤں سے اس آیت کی تشریح کی ہے،یہاں چند معروف مفسرین کی آراء کا خلاصہ دیا گیا ہے:

1۔ علامہ طبری

طبری کے مطابق، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اور معاشرتی تعلقات کو کاٹ دیتے ہیں۔

طبری کے نزدیک یہ عہد فطرتاً وہ عہد ہے جو اللہ نے انسان سے لیا ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے احکام کو مانیں گے۔ اس کے علاوہ، اللہ کے جوڑنے کے حکم کا تعلق خاص طور پر رشتہ داروں سے ہے، جسے دین اسلام میں صلہ رحمی کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد جو ان احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں لعنت اور برا انجام مقرر ہے۔

2۔ ابن کثیر

ابن کثیر اس آیت کے تحت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنا، جیسے کہ ایمان کی روگردانی کرنا، اور اسلامی احکام کو ترک کرنا اللہ کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہے۔ ابن کثیر مزید فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صلہ رحمی پر زور دیا گیا ہے اور اسے اللہ کے اہم احکام میں سے شمار کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک، اللہ کے عہد کو توڑنے اور تعلقات کو منقطع کرنے والے افراد زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، اور ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔

3۔علامہ فخر الدین رازی

علامہ رازی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس میں بنیادی طور پر انسان کی روحانی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اللہ نے انسان سے اس کی فطرت میں عہد لیا کہ وہ توحید اور عدل کو اپنائے گا، لیکن عہد شکنی کرنے والے اپنے نفس کی پیروی میں اللہ کے احکام کو رد کر دیتے ہیں۔ صلہ رحمی کے حکم کو منقطع کرنے کو زمین میں فساد سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ معاشرتی بگاڑ اکثر رشتوں کے بگاڑ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

4۔علامہ قرطبی

قرطبی اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنا دراصل اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے کو توڑنا ہے، جو ہر انسان سے اس کی فطرت میں لیا گیا ہے۔ قرطبی کے مطابق، صلہ رحمی یعنی رشتہ داریوں کو جوڑنا دین اسلام کا ایک اہم ستون ہے اور اس کا کاٹنا زمین میں فساد کا باعث بنتا ہے۔ ان کے مطابق، جو لوگ ان عہد و پیمان کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اللہ کی لعنت اور آخرت میں عذاب ان کے مقدر میں ہے۔

5۔علامہ طبرسی

شیعہ مفسر علامہ طبرسی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ کا عہد، ایمان اور شرعی احکام پر عمل ہے۔ طبرسی کے مطابق، ان رشتوں کو توڑنا جنہیں جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف خونی رشتے ہی نہیں بلکہ دینی بھائی چارے کو بھی شامل ہے۔ فساد فی الارض کے بارے میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایسے لوگ معاشرتی بگاڑ اور دینی ضعف کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے افراد پر اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا انجام ہے۔

6 علامہ طباطبائی (المیزان)

علامہ طباطبائی، تفسیر المیزان میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ کے عہد کو توڑنے سے مراد اللہ کی نافرمانی اور اسلامی اصولوں سے انحراف ہے۔

علامہ طباطبائی کے نزدیک، قرآن نے رشتے ناطے کاٹنے کو بہت بڑی برائی قرار دیا ہے اور اسے اللہ کے حکم کی صریح نافرمانی کہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں "سوء الدار" کا ذکر ہے جو ایسے لوگوں کا انجام ہوگا۔

تونس کے مشہور مفسر علامہ محمد الطاہر ابن عاشور اپنی تفسیر "التحریر والتنویر" میں اس آیت کی تشریح میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں۔ ابن عاشور کے مطابق، اللہ کے عہد کو توڑنا دراصل فطرت میں شامل اس عہد کو توڑنا ہے جس کا تقاضا اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے کہ وہ اس کی توحید اور اطاعت کا اقرار کریں۔

علامہ ابن عاشور اس آیت میں "ما أمر الله به أن يوصل" یعنی "جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے" کا مطلب نہ صرف خاندانی تعلقات بلکہ تمام سماجی اور دینی تعلقات سے بھی لیتے ہیں، جو اللہ کے احکامات کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے نزدیک، *اس میں اسلامی اخوت، سماجی انصاف، اور نیکی و احسان کے وہ تمام اصول شامل ہیں جو اسلامی معاشرت کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

ابن عاشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے افراد جو عہد شکنی، قطع تعلقی، اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں، دراصل ایک اجتماعی نقصان کا باعث بنتے ہیں اور اسلامی معاشرے کی جڑیں کمزور کرتے ہیں۔ اس کا انجام قرآن کی زبان میں "سوء الدار" یعنی آخرت میں برا ٹھکانا اور اللہ کی لعنت ہے، جو ان لوگوں کی نافرمانی کی پاداش میں ہے۔

خلاصہ

مفسرین کی آراء سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اللہ کے عہد کو توڑنے، صلہ رحمی کو نظر انداز کرنے، اور زمین میں فساد برپا کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے، رشتہ داروں سے حسن سلوک رکھے، اور زمین پر امن و امان برقرار رکھے۔ اللہ کی لعنت اور برا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو ان احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

امام موسیٰ کاظم  علیہ السلام نے کتنے سال جیل میں گزارے؟

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے کتنے سال جیل میں گزارے؟

ہمارے شیعوں کے ساتویں امام موسیٰ بن جعفر ؑ کی ولادت صفر کے مہینے میں 128 ہجری ، ابووہ - مکہ اور مدینہ کے درمیان -میں ہوئی (محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، چاپ نهم، قم، نشر سرور، 1382 ش، ص 891.) مشہور قول کے مطابق امام علیہ السلام کی 37 اولادیں تھیں (شیخ مفید، ارشاد، ج2، ترجمة سید هاشم رسولی محلاتی، چاپ 2، تهران، انتشارات علمیه اسلامیه، ص 236.) امام علیہ السلام کی شہادت 25 رجب 183 کو بغداد کی ایک جیل میں ہوئی(ابن شهر آشوب، مناقب، ج4، نجف، مطبعه الحیدریه، سال 1376، ص 349.) ۔ واضح رہے کہ امام علیہ السلام کی شہادت نوجوانی میں نہیں ہوئی شہادت کے وقت امام علیہ السلام کی عمر مبارک 55 سال تھی اور امام علیہ السلام کی مدت قید 5 یا 6 سال سے زیادہ نہیں تھی ۔ امام علیہ السلام کی زندگی کا زیادہ تر دور عباسی حکومت کے ساتھ گزرا۔ آپ علیہ السلام نے کئی عباسی خلفاء کی خلافت کو دیکھا اور ہارون الرشید عباسی کے دور میں زیادہ وقت قید میں گزارا ۔ امام علیہ السلام تقریباً 9 سال منصور عباسی کے ساتھ رہے،بظاہر منصور آپ پر معترض نہیں ہوا تھا (علامه مجلسی، پیشین، 896.) مہدی عباسی کے دور میں کچھ وقت جیل میں گزارا لیکن مہدی کو کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر امام کو رہا کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا (. علامه مجلسی، بحارالانوار، جلد 48.) ہادی عباسی کے دور میں بھی امام علیہ السلام آزاد رہے، اگرچہ اس کی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکی ۔

امام (ع) کی قید کا سب سے طویل عرصہ ہارون الرشید کےدور میں تھا۔ سنہ 179 ہجری میں اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لیے ہارون نے امام موسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے حج کیا... ہارون نے فضل بن ربیع کو بھیجا اور اس نے امام علیہ السلام نماز پڑھتے ہوئےگرفتار کر لیا اور بصرہ لے جا کر قید کر دیا (علامه مجلسی، جلاء العیون، پیشین 899.) اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ امام علیہ السلام کی شہادت 183 ہجری میں ہوئی ، قید کی مدت ہارون کے دور میں چار سال سے زیادہ نہ تھی۔

زاهدی گلپایگانی لکھتے ہیں: امام موسیٰ بن جعفر (ع) چار سال قید میں رہے جس میں سے ایک سال بصرہ عیسیٰ بن جعفر کے زندان میں گزارا اور بقیہ وقت کچھ فضل بن یحییٰ برمکی کے زندان میں اور کچھ فضل بن ربیع کے زندان گزر گیا اور آخری سال سندی بن شاہک کے زندان میں۔ (زاهدی گلپایگانی، زندگانی چهارده معصوم، چاپ دوم، مشهد، کتابفروشی جعفری، 1360، ص 201)

کتاب منتخب التوارخ میں کتاب رجال کبیر سے متعدد روایات نقل کی ہیں کہ حضرت موسیٰ بن جعفر (ع) چار سال قید میں رہے۔(محمد جواد نجفی، ستارگان درخشان، جلد 9، تهران ، کتابفروشی اسلامیه، ص 58.)

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امام علیہ السلام کی تمام اولادیں ایک ہی بیوی سے نہیں تھیں، بلکہ جیسا کہ ارشاد شیخ مفید میں ہے:

امام علیہ السلام کی اولاد میں سے ہر ایک کنیز سےیا ایک ہی کنیز سےچند اولادیں تھیں ۔ (شیخ مفید، پیشین، 236.)

نتیجہ

حضرت موسیٰ بن جعفر ؑنے چار یا پانچ سال عباسی دور خلافت میں قید میں گزارے اور باقی وقت مدینہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارا۔