پیغمبر اکرم ﷺ کی متعدد ازدواج مستشرقین کی نظر میں
محسن مختار فانی
ایم فل تفسیر و علوم قرآن
جامعہ المصطفی العالمیہ قم المقدسہ ایران
مقدمہ
نبی اکرم ﷺ اور ان کے خاندان کی زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ رسول خدا کی بیویوں کی کثرت ہے۔ ان میں سے کچھ ، نبی کے زمانے کے حقائق اور تقاضوں سے قطع نظر ، کثرت ازدواج کو پیغمبر ﷺ کی زندگی میں ایک نقطہ ضعف سمجھتے ہیں اور یہ کہ نبی ﷺ کی تعدد ازدواج سوائے ہوس کے کچھ نہیں تھی ، جبکہ ایسا نظریہ یہ نبیﷺ کے خلاف تھمت اور الزام کے سوا کچھ نہیں ہے اور حتیٰ کہ بعض مستشرقین نے بھی اس نظریے کو صبر اور حوصلہ سے مسترد کر دیا ہے۔ ہم نے مستشرقین منفی خیالات کا اظہار کیا اور مختصر طور پر ہر ایک کو جواب دیا ، اور پھر ہم کثرت ازدواج کے بارے میں مثبت اور منصفانہ رائے لائے۔ ان تمام نظریات کے بعد ، ہم نے جانچ پڑتال کی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی شادیوں کی کثرت نہ صرف جسمانی خواہشات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک جامع کی فراہمی اور خاص طور پراس وقت کا تقاضا تھا اور اس میں سیاسی ، سماجی اور ثقافتی مقاصد شامل تھے۔
نبی اکرم ﷺ کی کثرت ازدواج بارے میں مستشرقین کے خیالات
نبی اکرم ﷺ کی کثرت ازدواج بارے میں مستشرقین کے منفی نقطہ نظر میں چند نکات قابل ذکر ہیں۔
1- بعض مستشرقین کو نبی کریم ﷺ کی شخصیت کا صحیح اندازہ نہیں ہے اور ان کے تمام اعمال بشمول تعدد ازدواج ، مادی شمار کیا ہے۔
2: کچھ مستشرقین ، کیونکہ وہ عیسائی اور مذہبی ہیں ، شادیوں کو انسانوں کی روحانیت اور تقدس سے متصادم سمجھتے ہیں۔
3: کچھ مغربی مصنفین اموی ، عباسی ، عثمانیوں اور مسلمان بادشاہوں ،جن کے پاس صرف اسلام کا نام پیغمبر کا جانشین تھا ، انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے اس عمل کو بد سلوکی سے منسوب کیا۔
4: کچھ دوسروں نے جھوٹی روایات ، جو مسلمانوں کی تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں درج تھی ان کو ایک ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔
5: چونکہ کچھ مستشرقین ،سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے محدود تھے ، اس لیے ان میں سے بعض کا اسلام اور حضور نبی اکرم ﷺ اور ان کے خاندان کے بارے میں متعصبانہ نقطہ نظر نے بھی ان غلط فیصلوں کی راہ ہموار کی ہے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص195و 196)
اگر ہم پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے خاندان کی ذاتی زندگی کے بارے میں مستشرقین کے بیانات کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ: جب بھی اسلام اور غیر اسلام کے درمیان مقابلے اور چیلنجز ہوتے ہیں ، مستشرقین نے پیغمبر اسلامﷺ کی زندگی کے بارے میں زیادہ جنونی اور غیر منطقی نقطہ نظر اختیار کیا ہے ، اور جب بھی کم چیلنجز ہوئے انہوں نے اس مسئلے کا زیادہ حقیقت پسندانہ مطالعہ کیا ہے۔ اس وجہ سے ، مستشرقین پیغمبرﷺ کی کثرت ازدواج کے بارے میں مختلف انداز میں فیصلہ کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی کثرت ازدواج کے بارے میں مستشرقین کی منفی تفسیر؛
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے ، مستشرقین پیغمبرﷺ کی کثرت ازدواج کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ یہاں ہم پہلے ان لوگوں کے خیالات پیش کرتے ہیں جنہوں نے پیغمبرﷺ کی کثرت ازدواج کو غیر قانونی سمجھا ہے ، پھر ان کی تنقید میں ہم دوسری قسم کے بیانات کا حوالہ دیں گے جنہوں نے نسبتا درست تجزیے فراہم کیے ہیں۔( نجمی، محمدصادق، سیري درصحیحین، ص،300-290.)
گوستاو لوبن (1841-1931م)
کتاب’ تمّدن اسلام و عرب‘ میں لکھتا ہے کہ؛ اگر محمدﷺ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو یہ صرف ضرورت سے زیادہ محبت ہے جو اسے عورتوں سے تھی۔ ( گوستاو لوبون، تمّدن اسلام و عرب،ص120.) وہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کی کثرت کی وجہ کو عورتوں سے محبت میں سمجھتا ہے اور لکھتا ہے: رسول اللہ ﷺ اپنے آخری دور میں عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتے تھے اور اس امر کو دوسروں سے پوشیدہ بھی نہ رکھا ، اور فرمایا؛ ’’مجھےاس دنیا میں تین چیزیں پسند ہیں: خوش بو ، عورت اور نماز جو میری آنکھوں کا نور ہے ‘‘۔ عورتوں سے پیغمبر کی اس محبت نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ نبیﷺ نے ان عورتوں کی عمر کی بھی پرواہ نہیں کی جن سے اس نے شادی کی تھی۔ اس نے عائشہ نامی ایک دس(10) سالہ لڑکی سے شادی کی اور اکیاون(51) سالہ خاتون میمونہ کا انتخاب کیا۔ عورتوں سے اس کی محبت کی وجہ سے ، ایک دن ، زید (اس کا گود لیا ہوا بیٹا) کی بیوی پر نظر پڑی اور اس سے اس قدر پیار ہو گیا کہ زید نے اسے طلاق دے دی اور اس کی شادی نبیﷺ سے کر دی۔ چونکہ مسلمان اس کو غلط سمجھتے تھے ، اس لیے قرآن کی آیات نازل ہوئیں اور اس نے کہا کہ یہ شادی مصلحت کی بنیاد پرتھی۔ مسلمان بھی خاموش رہے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص:197.)
بالآخرجب پیغمبر کو احساس ہوا کہ بہت سی بیویاں ہونا پریشانیوں اور مشکلات کا سبب بنتا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو چار سے زیادہ بیویاں رکھنے سے منع کیا۔( گوستاو لوبون، تمدن اسلام و عرب،ترجمہ: سیدہاشم رسولی محلاتی،ص116-125.)
گستاو لوبن کے نظریہ کی تردید:
اگر ہم گستاولوبن کے نظریہ کو رد کرنا چاہیں تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ مسٹر گستاولوبن نے پہلے اپنے الفاظ پر توجہ نہیں دی کیونکہ انہوں نے خود کہا تھا کہ نبیﷺ کی یہ انتہائی محبت نبیﷺ کی زندگی کے آخری حصے میں تھی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ نبیﷺ نے جوانی میں ایسی محبت نہیں تھی اور اپنی زندگی کے اختتام پر پچاس سال کی عمر میں انتہائی محبت تھی۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر یہ معاملہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی پہلی بیوی (خدیجہ) سے جب تک کہ وہ پچاس سال کے نہیں تھے ، خود کو راضی کیوں کیا؟ پھر اس نے کہا کہ "نبیﷺ آخر میں سمجھ گیا کہ بہت سی بیویوں کا ہونا پریشانیوں اور مشکلات کا باعث بنتا ہے ، مسلمانوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں رکھنا حرام ہے۔تو یہاں پہ ہم یہ کہیں گے کہ جو اشکال زیادہ بیویوں پروارد ہوتاہے وہ چار عورتوں پر بھی بنتا ہے ، اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کو چار عورتوں کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیےبلکہ کہتے کہ ایک عورت کافی ہے ، لہذا گستاو لوبن کا یہ بیان دانشمندانہ نہیں ہے۔
رابرٹ ساوتی (1774–1843 م)
انیسویں صدی کے ہسپانوی مصنفین میں سے ایک’’ رابرٹ ساوتی‘‘ نبی ﷺ کی مختلف شادیوں اور نبیﷺ کی شخصیت کے بارے میں لکھتا ہے:
محمد ﷺ نے معاشرے کے تانے بانے کے خلاف کوئی نئی چیز نہیں بنائی۔ اس نے معاشرے کی بدکاریوں اور توہین کو ویسے ہی قبول کیا جیسا کہ وہ پہلے سے تھا۔ دوسرے مذاہب کے بانیوں نے اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور خود کو محفوظ رکھا، لیکن محمد نے انسانی جبلتوں پر اس طرح کا تسلط حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے اپنے آپ کو ان جبلتوں کے خلاف کمزور سمجھا اور اپنے اندر اتنی طاقت نہیں پائی کہ ان جبلتوں پر قابو پا سکے۔( ر.ک : Das Lebrn and die Lehre des Mohammd: ص ، . x-x1 ی ا شخصیت محمد، توره آ ندره و محمد و پیدایش اسلام، مارگولیوت، ص176.)
رابرٹ ساوتی کے نظریہ کی تردید:
ہم جناب رابرٹ ساوتی کو اس طرح جواب دیں گے کہ کثرت ازدواج کا مسئلہ ایک سماجی اور ثقافتی مسئلہ ہے جو مختلف اوقات اور مقامات اور مختلف معاشروں میں رائج ہے ، اور رسول اللہ ﷺ کی شادیاں ایک جنسی جبلت نہیں تھیں بلکہ ایک جامع اور معاشرہ کی ترویج تھی ۔رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور رسول اللہ ﷺکے کردار کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ ایک جامع اور معاشرہ کی ترویج کے لیے کوشاں رہے۔
ویلیام موئیر(1819 – 1905 م)
اپنی چار جلدوں پر مشتمل’’ زندگی محمد ﷺ و تاریخ اسلام‘‘ کے عنوان سے لکھی گٗی کتاب میں بیان کرتا ہے:
جہاں مدینہ میں حالات بدل رہےتھے۔ وہاں دنیاوی طاقت ، عزائم اور خود اطمینان ،نبیﷺ کی زندگی کے عظیم مقصد کے ساتھ جلدی شا مل ہو رہےتھے اور یہ سب کچھ دنیاوی طریقوں سے حاصل ہوتا ہے۔ آسمانی پیغامات آزادانہ طور پر سیاسی کارروائی کے جواز کے لیے بھیجے جاتے ہیں ... درحقیقت،جبلت اور ذاتی انتہا پسندی نہ صرف جائز ہے ، بلکہ الہی فرمان کے اثبات سے بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص:198)
ایک خاص اجازت اور استحقاق دیا گیا ہے جو نبی کو کئی بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ( سرویلیام موئیر، زندگی محمد، فصل37،ص520.)
ویلیام موئیر کے نظریہ کی تردید:
یہاں یہ کہنا چاہیے کہ یہ سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ شادیاں حکم الٰہی کی منظوری کے ساتھ تھیں ، لیکن اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ جنسی جبلت نہیں تھی ، اس میں کئی مقاصد موجود تھے، جن پر ہم بعد میں بات کریں گے ، انشاء اللہ۔ اور مسٹر ویلیام موئیر نے مدینہ کے حالات پر غور کرتے ہوئے ایک طرف توجہ دی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک فطری اور ذاتی انتہا پسندی ہے جبکہ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی ان شادیوں کےعظیم مقاصد اور ارادے تھے جو عین مدینہ کے حالات کے مطابق تھے۔
امیل منغم
مستشرقین میں سے ایک اور امیل منغم پیامبر ﷺ کی کثرت ازدواج کے حوالے سے نظریہ بیان کرتا ہے کہ محمد ﷺ کی شادیوں کا آغاز، ان کا عورتوں سے زیادہ محبت کی وجہ سے ہوا اور کہتا ہے:( قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 پاییز و زمستان ، 1395، ص ، 64.)
"شعر محمد بالعقد الاخیر من عمره بمیل کبیر الی نساء " نبی ﷺ کی زندگی کے آخری ادوار میں ،محمدﷺ کے اشعار، خواتین میں زیادہ دلچسپی کے حوالے سے تھے ۔( فواد محمود، افترائات المستشرقین علی الاصول العقیده فی الاسلام ، ص 213.)
امیل منغم کے نظریہ کی تردید:
مسٹر امیل منغم کے جواب میں یہی کہا جانا چاہیے کہ جومسٹر گستاو لوبن کے نظریہ کے ردمیں ہم نے کہا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ نبیﷺ کو جوانی میں عورتوں میں اتنی دلچسپی نہ ہو اورعمر کے آخری حصہ میں جب وہ پچاس سال کے ہو جائیں تو عورتوں سے انتہائی محبت ہو ۔ نبی ﷺ کے لیے ایسے الفاظ،الزامات اور ان کی شخصیت کی اہمیت کو کم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
نبی کریم ﷺ کی کثرت ازدواج کے بارے میں مستشرقین کی منصفانہ تفسیر؛
ان میں سے کچھ مستشرقین ،رسول اللہ ﷺ کی کثرت ازدواج کے بارے میں منصفانہ نظریہ رکھتے ہیں جن میں بعض کے نظریات کو ہم یہاں پر مختصر بیان کریں گے۔
ویل دورانٹ(1885 1981 –م)
مشہور مغربی مصنف ویل دورانٹ نبیﷺ کی کثرت ازدواج کے تجزیے میں لکھتا ہے:
پیامبر اکرمﷺ نے دس خواتین سے شادی کی اور دو کنیزیں بھی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ مغرب کے لوگوں نے اس کو اپنایا ہے۔ لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ اس وقت بہت سے قبائلیوں کی اموات کی وجہ سے بیویوں کی کثرت، ایک اخلاقی فریضہ تھا۔ پیامبر اکرمﷺ کے زمانہ میں کثرت ازدواج معمول اور رواج تھا ۔ اسی وجہ سے پیامبر اکرمﷺ نے بھی کثرت ازدواج کو اپنایا۔ لیکن یہ بات قابل دید ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ کام جنسی جبلت یا جنسی غریزہ نہیں کی تھا۔( ویل دورانٹ، تاریخ تمدن ، ۴/ ۲۲۰، ترجمہ : ابوالقاسم پاینده ، ص ۳۲- ۳۴ . عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 216.)
جان دیون پورٹ (1789–1877م)
اسلام پسندمستشرقین نے ایک کتاب "عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن " اسلام کی طرف منصفانہ نگاہ کرتے ہوئےاور پیامبر اکرم ﷺ کادفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مشرق میں بیویوں کی کثرت عزت مآب ابراہیم علیہ السلام کے بعد سے عام ہے... حضرت محمد ﷺ ایک ایسے عمل کو جائز سمجھتے تھے جس کا نہ صرف احترام کیا جاتا تھا بلکہ اسے سابقہ دور میں خدا نے برکت اور رحمت قرار دیا تھا اور نئے دور میں بھی اسے جائز اور قابل احترام قرار دیا گیا تھا۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 215.) لذا پیامبر اکرم ﷺ اس تہمت اور شہوت پرستی سے بری و ذمہ ہیں ۔ ( عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن ، ترجمہ، سید غلام رضا سعیدی ، ص 171و 176).
اگر نبی اکرم ﷺ کی ازدواج شہوت پر مبنی ہوتی تو ضروری تھا کہ پیامبر ﷺ اپنی زینت اور نما ئش کے لیے ایسے وسایل کا استعمال کرتے جس میں خوبصورتی کا اظہار ہوتا ہے جبکہ کافی آیات نفی کی نشاندہی کرتی ہیں اور تمام خواتین کو اس کے استعمال سے روکا بھی جاتا ہے۔ اس معاملے میں نو(9) عورتوں کی پاسداری اور پیامبر اکرم ﷺ کی طرف نسبت اپنی انسانیت اور ان کے عظیم درجے پر فائز ہونے کی بہترین دلیل بھی ہے۔( عقیقی بخشایشی، ہمسران رسول خدا، ص 80.)
تھامس کارلایل (1795– 1881 م)
وہ کہتے ہیں: محمدﷺ اپنے دشمنوں کے الزامات و تھمات کے باوجود کبھی بھی شہوت کا شکار نہیں ہوئے۔ فقط دشمنی کی بنا پر پیامبر اکرم ﷺ پر ہوس کا الزام لگایا گیا۔ محمد جیسے شخص پر ہوس کا الزام لگانا یا یہ کہنا کہ شہوت اور لذت نفس پر ان کا کنٹرول نہ تھا، ناانصافی ہے ۔ محمد ﷺ اور شہوت اور لذت نفس کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔( دوانی، پیامبر اسلام از نظر دانشمندان شرق و غرب، ص 85۔)
ال ۔ آ۔ سید یو(1043– 1099م)
فرانسیسی مستشرق ’’ال ۔ آ۔ سید یو ‘‘عورتوں کی سماجی حیثیت اور نبیﷺ کی کثرت ازدواج کی فضیلت کو بہتر بنانے کے لیے خدا کے رسولﷺ کی کوششوں کے بارے میں لکھتا ہے:
مشرق میں عورتوں کی حالت زار کو محمدﷺ سے منسوب کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ اس نے عورت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ عرب عورت تیزی سے بڑہتی ہے اور تیزی سے ٹوٹ جاتی ہے۔ فطرت اسے عاجز بناتی ہے۔ اس نے چار عورتوں سے شادی کی اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ بیوی رکھنا بہتر ہے۔ اگر اس نے خودیعنی پیامبر اکرمﷺ نے خود اس کا اختلاف کیا ہےتو یہ کچھ سیاسی پہلو کی وجہ سے تھا کہ اس کی شادی کے نتیجے میں کچھ قبائل نے ان کی اطاعت کی۔( زمانی ، شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان ، ص 217. آل. آ. سید یو ، تاریخ عرب العام ،ترجمہ بہ عربی : عادل زعیتر ،ج1، نقل از : اسلام ازدیدگاه دانشمندان جہان ، ص 405. عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 217- 218.)
ایلیا پاو لو ویچ پطروش فسکی(1898– 1977م)
ایک سے زیادہ شادیوں کے لیے پیغمبراکرمﷺ کی حوصلہ افزائی کے بارے میں ، وہ کہتے ہیں: کثرت ازدواج کی ترغیب زیادہ تر قدیم عربوں کا عقیدہ تھا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کی قابلیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی ازدواجی حیثیت کا وجود ضروری ہے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص،218. اسلام ازدیدگاه دانشمندان جہان، ص، 36.)
نظریات کا تحقیقی جائزہ
تاریخ میں کثرت ازدواج
ازدواج کی کثرت نبی ﷺ کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ بہت سے گذشتہ انبیاء من جملہ موسیٰ علیہ السلام کی سنت رہی ہے ، انجیل کی کتاب میں کوئی ایسی نص یا روایت نہیں ہےکہ جس میں ازدواج کی کثرت کو حرام کہا گیا ہو۔ (قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 ، پاییز و زمستان ، 1395، ص ،67.)
1: پولس نقل کرتا ہے ایک مذہبی شخص اگر وہ رہبانیت کو برقرار نہیں رکھ سکتا تو انہیں ایک عورت پر ہی اکتفا کرنا چاہیے ، لیکن دوسری صورت میں وہ جتنی عورتیں چاہے شادی کر سکتاہے۔( استنبولی ،مصطفی نساء حول الرسول ، ص 332.)
2: سٹر مارک اور جین برگ کا خیال ہے کہ مہذب قبائل اور قبیلوں میں تعدد ازدواج ایک نظام تھا اور وہ بعد میں صرف تقلید کی وجہ سے ایک شریک حیات سے مطمئن ہو گئے۔( جبری ، السیره النبویہ ، ص 154.)
3: ول ڈیورنٹ کہتا ہے: قرون وسطی کے علماء دین کا خیال تھا کہ کثرت ازدواج ،اسلام کے اقدامات میں سے ایک ہے ، جبکہ ایسا نہیں ہے اور قدیم معاشروں میں کثرت ازدواج کا بہاؤ ان کے رواج کے مطابق تھا۔( حسن زمانی ، مستشرقان و قرآن ، ص 447.)
4: گستاولوبون کہتا ہے: کثیر ازدواج کا رواج قبل از اسلام ہے اور تمام مشرقی قبائل میں عام ہے ، بشمول ایرانی ، عرب و. . . تعدد ازدواج کا رواج اسلام سے بالکل بھی متعلق نہیں ہے۔( گوستاولوبون ، تمدن اسلام و غرب ، ص 90.)
کثرت ازدواج کی ضرورت
مختلف عوامل کی وجہ سے ، بہت سی خواتین اور لڑکیاں زندگی بھر شادی کی نعمتوں سے محروم رہتی ہیں اور پھر یا تو خود اپنا آپ بیچ دیتی ہیں یا خوفناک سزا کا سامنا کرتی ہیں۔
1: مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کا تعدادمیں زیادہ ہونا ۔
2: مردوں کی ایک بڑی تعدادکا مختلف حادثات کی وجہ سے مر جانا۔
3: عورتوں کا ایام مخصوصہ میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی نااہلی۔
4: خواتین کےمقابلہ میں مردوں کا تنوع۔
اسلام نے کثرت ازدواج کو عمومی طور پر صرف جائز ہی نہیں سمجھا ، بلکہ کثرت ازدواج کو محدوداور مقیدبھی کیا ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ کثرت ازدواج عورت کی حیثیت کو گھٹانےوالےعنصر کو کم نہیں کرتا ، بلکہ ، یہ خاندان میں خواتین کے مقام کو بلنداورمحفوظ رکھتا ہے اور کچھ مردوں کی ناجائز زیادتی کو روکتا ہے۔(قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 ، پاییز و زمستان ، 1395، ص ،69.)
مستشرقین کے نظریات کی تردید
حضور اکرم ﷺ کی شادیوں کے فلسفے کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں ، محدود جگہ کی وجہ سے ، ہم صرف مختصر طور پر حضور ﷺکی شادیوں اور حضوراکرم ﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں مستشرقین کے نظریات کی تردید کریں گے۔( عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم، ص، 199.)
الف) حضوراکرم ﷺ کی شخصیت اور کردار سے متصادم
1: طول طویل عبادت۔
2: زہدو تقوی اور دنیا سے بے رغبت۔
3: شجاعت اور فداکاری۔
4: مشکلات میں استحکام اور پائیداری۔
5- حضور نبی اکرم ﷺ اور ان کے اہل خانہ کی عفت اور پاکدامنی۔
ب) تاریخی حقائق سے متصادم۔
1- پیغمبراکرم ﷺ کے تبلیغی اور سیاسی اہداف۔
2: نبی اکرمﷺ کے تعلیمی اہداف۔
3: غلاموں اور کنیزوں کی آزادی۔
4: خواتین کے مقام کا احترام کرنا۔
5: جاہلانہ اور جھوٹی روایات اور رواج کی تردید۔
نتیجہ
نبی اکرم ﷺ کی شادیاں حکم الٰہی سے اور حکمت پر مبنی تھیں ، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی شادیاں کوکسی بھی ہوس اور شہوت پرستی والی تفسیر کرنا نا مناسب ہے ۔ اس کے نتیجے میں نبی اکرم ﷺ کی شادیوں کی بعض وجوہات قابل ذکر ہیں:
1- نبی اکرمﷺ نے اپنی زندگی کا بہترین دور (جوانی) یک زوجیت کے ساتھ گزارا اور خدیجہ کے زندہ رہنے تک دوسری شادی نہیں کی ، جبکہ اس وقت عرب معاشرے میں تعدد ازدواج کافی عام تھی۔
2: نبی اکرم ﷺکی زیادہ تر ازداواج ، عام طور پر بوڑھی ، بیوہ اور بے سہارا عورتوں کے ساتھ وابستہ تھیں جو کہ ہوس اور شہوت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔
3: نبی اکرم ﷺکی کچھ شادیاں یتیموں اور تنہا رہ جانے والوں کی حفاظت اور ان لوگوں کی عزت کو محفوظ کرنے کے لیے تھیں جو پہلے عزت اور سرفرازی میں زندگی گذاررہےرہتے تھے ، جیسے سودہ ، زینب بنت خزیمہ اور ام سلمہ ۔
4: نبی اکرم ﷺ کی کچھ دوسری شادیاں جہالت کی جھوٹی روایات کو توڑنے اور لوگوں کے ہاتھوں اور پاؤں سے جہالت کی بیڑیاں توڑنے کی وجہ سے ہوئیں ، جیسے؛ جحش کی بیٹی زینب سے شادی کی۔
5: نبی اکرم ﷺ کی شادیوں کی ایک اور وجہ اسیروں ، غلاموں کی سرپرستی اور مختلف قبائل کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا اور ان کے خطرے کو دور کرنا تھا۔ جیسے؛ جویریہ سے شادی کی۔
6: نبی اکرم ﷺ کی کچھ دوسری شادیاں سیاسی خیالات اور بعض قبائل کی اسلام کی طرف سازش کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے انجام دی گئیں ، جیسے کہ ام حبیبہ ، حفصہ اور عائشہ سے شادی کی۔(قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21 ، پاییز و زمستان ، 1395، ص ،85.)
منابع
1: آل. آ. سید یو ، تاریخ عرب العام ،ترجمہ بہ عربی : عادل زعیتر ،ج1.
2: الاستنولی، محمود مہدی، ابونصرالسبی، مصطفی نساء حول الرسول، 1423ق.
3: الجبری، عبدالمتعال محمد ، السیره النبویہ و اوہام المستشرقین ، قاہره ؛مکتبہ وہبہ.
4: حاکم نیشابوری، المستدرک الصحیحین، کوشش مصطفی عبدالقادرعطا، بیروت؛دارالکتب العلمیہ،1411ق.
5: دوانی، علی، پیامبر اسلام از نظر دانشمندان شرق و غرب ، قم ، انتشارات اسلام .
6: عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن ، ترجمہ، سید غلام رضا سعیدی ،،قم، دارالتبلیغ الاسلامی،تہران 1388.
7: زمانی ، محمد حسن، شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان ، قم، بوستان کتاب 1385.
8: زمانی ،محمد حسن، مستشرقان و قرآن ،قم، بوستان کتاب 1385.
9: سرویلیام موئیر، زندگی محمد،
10: عبد المحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم،قم؛ترجمہ و نشر المصطفی، 1392ش.
11: عقیقی بخشایشی، ہمسران رسول خدا،قم، دارالتبلیغ الاسلامی ، چاپ سوم ، 1352ش.
12: فواد محمود، افترائات المستشرقین علی الاصول العقیده فی الاسلام.
13: گوستاو لوبون، تمدن اسلام و عرب،ترجمہ: سیدہاشم رسولی محلاتی، انتشارات کتابچی، اول، تهران،1378.
14: محمدی، ،محمد حسین ،قرآن پژوهی خاورشناسان ، شماره 21، پاییز و زمستان ، 1395.
15: نجمی، محمدصادق، سیري درصحیحین،جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، 1471.
16: ویل دورانٹ، تاریخ تمدن ، 4/ 220، ترجمہ : ابوالقاسم پاینده ،تہران؛ انتشارات علمی و فرهنگی، چاپ دازدہم، 1385ش.
علمی ، فکری ، تحقیقی ، تبلیغی