خوش ا‏خلاقى اورخاموشی

خوش ا‏خلاقى اورخاموشی

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

اَلْخُلْقُ الْحَسَنُ عِبَادَةٌ وَ الصّمْتُ زَيْنٌ۔

خوش اخلاقی عبادت ہےاور خاموش انسان کی زینت ہے۔

(تاريخ اليعقوبى، ج ۲ ص۲۶۴)

پاداش زائر امام حسين(ع) 

پاداش زائر امام حسين(ع)

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

مَنْ زَارَنِى بَعْدَ مَوْتِى زُرْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ إِلا فِى النّارِ لاَخْرَجْتُهُ۔

امام حسين (ع) نےفرمایا: جو میری شہادت کےبعد میری زیارت کرے گا وہ اگر جہنمی ہو تو میں اسے جہنم سے نکال لوں گا۔

(المنتخب للطريحى، ص۶۹)

امام حسين(ع) مقتول اشک

امام حسين(ع) مقتول اشک

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

اَنَا قَتِيلُ الْعَبْرَةِ،لا يَذْكُرُنِى مُؤْمِنٌ إِلا بَكَى۔

امام حسين (ع) نے فرمایا: میں وہ مقتول ہوں جسے رلا رلاکرقتل کیا گیا جو مومن بھی مجھے یاد کرتا ہے وہ مجھ پر گریہ ضرورکرتا ہے۔

(كامل الزيارات، ص ۱۱۷ ح۶)

امام حسين(ع) اورامام زمانہ (عج)

امام حسين(ع) اورامام زمانہ (عج)

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

لَوْ اَدْرَكْتُهُ لَخَدَمْتُهُ اَيّامَ حَيَاتِى ۔

اگرمیں حضرت امام مهدى (عج )کےزمانے میں ہوتا تو پوری زندگی ان کی خدمت کرتا ۔

(عقد الدّرر، ص‏۱۶۰)

خيانت اورمكروفریب سے پرہیز

خيانت اورمكروفریب سے پرہیز

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

إِنّ شِيعَتَنَا مَنْ سَلِمَتْ قُلُوبُهمْ مِنْ كُلّ غِشّ وَغَلّ وَدَغَلٍ ۔

ہمارے شیعہ وہ ہیں جن کے دل ہر طرح کے مکروفریب سے پاک ہوں ۔

(بحار الانوار، ج ۶۵ ص ۱۵۶ ح۱۰)

غربت اور شیعوں کا مارا جانا

غربت اور شیعوں کا مارا جانا

وَ اللّهِ الْبَلاَءُ وَ الْفَقْرُ وَ الْقَتْلُ اَسْرَعُ إِلَى مَنْ اَحَبّنَا مِنْ رَكْضِ الْبَرَاذِينِ، وَ مِنَ السّيْلِ إِلىَ صِمْرِهِ ۔

خداکی قسم بلا فقر وتنگدستی اورقتل ہمارے چاہنے والوں کی طرف تیزدوڑنے والے گھوڑوں اورسیلاب کے پانی سے بھی زیادہ تیز رفتار کے ساتھ آتے ہیں ۔

(بحار الانوار، ج ۶۴ ص ۲۴۹ ح۸۵)

اهل بيت (عليهم السلام) سے محبت

اهل بيت (عليهم السلام) سے محبت

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

مَنْ اَحَبّنَا كَانَ مِنّا اَهْلَ الْبَيتِ ۔

جو شخص ہم اہل بیت (ع) سےمحبت كرےگاوه ہم میں سے ہوگا ۔

(نزهة النّاظر و تنبيه الخاطر، ص ۸۵ ح۱۹)

تمام مخلوق ہم اهل بيت(ع)کی اطاعت پر مامور ہے

تمام مخلوق ہم اهل بيت(ع)کی اطاعت پر مامور ہے

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

وَاللّهِ مَا خَلَقَ اللّهُ شَيْئاً إِلا وَ قَدْ اَمَرَهُ بِالطّاعَةِ لَنَا ۔

خدا کی قسم خدا نے کسی بھی مخلوق کو پیدا نہیں کیا مگریہ کہ اسے ہم اہل بیت (ع) کی اطاعت کا حکم دیا ۔

(بحار الانوار، ج ۴۴ص ۱۸۱ ح۱)

اهل ‏بيت(ع) خداکے رازدار

اهل ‏بيت(ع) خداکے رازدار

نَحْنُ الّذِينَ عِنْدَنَا عِلْمُ الْكِتَابِ وَ بَيَانُ مَا فِيهِ وَ لَيْسَ عِنْدَ اَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ مَا عِنْدَنَا لاَِنّا اَهْلُ سِرّ اللّهِ.

ہم وہ لوگ ہیں جن کے پاس قرآن مجید کا علم اور ان سب چیزوں کی وضاحت ہے جو اس میں ہے اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ ہمارے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہے اس لیے کہ ہم خدا وند عالم کے رازدار ہیں ۔

(بحار الانوار، ج ۴۴ ص ۱۸۴ ح۱۱)

اہل بيت(ع)، ملائكه‏ کے استاد

اهل بيت(ع)، ملائكه‏ کے استاد

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

اَىّ شَىْ‏ءٍ كُنْتُمْ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ اللّهُ عَزّوَجَلّ آدَمَ (ع)؟ قَالَ كُنّا اَشْبَاحَ نُورٍ نَدُورُ حَوْلَ عَرْشِ الرّحْمنِ فَنُعَلّمُ لِلْمَلاَئِكَةِ التّسْبِيحَ وَ التّهْلِيلَ وَ التّحْمِيدَ ۔

امام حسين (ع) سےدریافت کیا گیا کہ خداوندعالم کی ذریعہ جناب آدم کی تخلییق سے پہلےآپ کیا تھے؟ آپ نےفرمایا: ہم نور کی صورت میں عرش الہی کا طواف کرتے تھےاور ملائکہ کو تسبیح و تہلیل اور حمدوثنا کا طریقہ سکھاتے تھے ۔

( بحار الانوار، ج ۵۷ ص ۳۱۱ ح۱)