بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسائے جانے سے متعلق شیعہ روایت کا تحقیقی جائزہ

امام حسن علیہ السلام کے مدفن کے حوالے سے اختلاف کا ہونا اور دھمکی دینا تو دونوں مکاتب فکر کی کتابوں میں پایا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسائے گئے تھے؟

جب ہم اس سوال کا جواب تاریخ کے اوراق میں تلاش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسائے جانے کا واقعہ زیادہ تر شیعہ متاخرین کے ہاں بیان ہوا ہے، جبکہ متقدمین کی کتابوں میں اس کا واضح ذکر نہیں ملتا۔ متاخرین نے یہ روایت کہاں سے نقل کی اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس مختصر تحریر میں اسی موضوع کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ روایت سب سے پہلے ابن شہرآشوب (متوفی 588 ھ) نے دو سنی کتابوں، ربیع الأبرار از زمخشری اور العقد الفرید از ابن عبدربہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ تاہم ان دونوں کتابوں کے دستیاب مطبوعہ نسخوں میں یہ روایت موجود نہیں ملتی۔ یہی روایت علامہ مجلسی نے بھی اپنی کتاب بحار الأنوار میں بیان کی ہے۔

روایت کا متن اور حوالہ

روایت کے الفاظ یہ ہیں:

وَرَمَوْا بِالنِّبَالِ جَنَازَتَهُ حَتَّى سُلَّ مِنْهَا سَبْعُونَ نَبْلًا

انہوں نے امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسائے، یہاں تک کہ جنازے سے ستر تیر نکالے گئے۔

حوالہ : مناقب آل ابی طالب، ابن شہرآشوب، جلد 4، صفحہ 43۔

1۔ متقدمین کی کتابوں میں روایت کی اصل

یہ عبارت اسی انداز اور ستر کے عدد کے ساتھ پہلی مرتبہ ابن شہرآشوب مازندرانی، متوفی 588ھ، کی کتاب مناقب آل ابی طالب میں ملتی ہے۔ ابن شہرآشوب نے اسے بغیر سلسلہ سند کے مرسل انداز میں نقل کیا ہے۔

روایت کا ماخذ

ابن شہرآشوب نے اس روایت کو زمخشری، جو ایک معروف سنی عالم تھے اور 538ھ میں وفات پا گئے، کی کتاب ربیع الابرار سے نقل کیا ہے۔ تاہم ربیع الابرار کے دستیاب مطبوعہ نسخوں میں یہ روایت کہیں نظر نہیں آتی۔

اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ابن شہرآشوب کے پاس اس کتاب کا کوئی ایسا نسخہ موجود تھا جس میں یہ روایت درج تھی، یا نقل کرتے وقت حوالہ دینے میں کوئی سہو ہوا۔ اس بارے میں قطعی فیصلہ کرنے کے لیے قدیم مخطوطات اور مختلف نسخوں کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔

2۔ متقدم تاریخی و حدیثی مصادر میں روایت کی عدم موجودگی

دوسری سے پانچویں صدی ہجری کے شیعہ اور سنی تاریخی و روایتی مصادر میں امام حسن علیہ السلام کی تدفین کے واقعے کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، لیکن ان کتابوں میں جنازے سے ستر تیر نکالے جانے کا ذکر نہیں ملتا۔

متقدمین کی چند اہم روایات درج ذیل ہیں:

شیخ مفید، متوفی 413ھ — کتاب الارشاد

شیخ مفید نے امام حسن علیہ السلام کو رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کرنے سے روکنے کے لیے مروان بن حکم اور امویوں کی طرف سے مزاحمت کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اس واقعے کے بیان میں جنازے پر تیر برسائے جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

شیخ مفید کے بیان کے مطابق، امام حسین علیہ السلام نے خونریزی سے بچنے کے لیے جنازے کو جنت البقیع منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

احمد بن یحییٰ بلاذری، متوفی 279ھ — انساب الأشراف

بلاذری نے امویوں کی طرف سے جنگ کی تیاری اور اسلحہ نکالنے کا ذکر کیا ہے، لیکن امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر لگنے کا کوئی بیان نہیں کیا۔

ابو الفرج اصفہانی، متوفی 356ھ — مقاتل الطالبیین

ابو الفرج اصفہانی نے مقاتل الطالبیین میں اس موقع پر ابن عباس اور مروان کے درمیان ہونے والی گفتگو، نیز تدفین میں رکاوٹ ڈالنے کا واقعہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے، لیکن امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسائے جانے کا ذکر نہیں کیا۔

احمد بن داؤد دینوری، متوفی 281ھ — الأخبار الطوال

دینوری کے مطابق امام حسن علیہ السلام نے وصیت کی تھی کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے، اور اگر اس میں رکاوٹ ڈالی جائے تو جنت البقیع میں دفن کر دیا جائے۔

جب امام حسن علیہ السلام کا انتقال ہوا تو مروان نے رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کر دیا، چنانچہ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ دینوری کے بیان میں بھی جنازے پر تیر لگنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

3۔ روایت کی سند کا جائزہ

علم رجال اور درایت حدیث کے نقطۂ نظر سے یہ روایت سند کے اعتبار سے کمزور معلوم ہوتی ہے۔

1۔ ارسال سند

اس روایت کا سلسلۂ سند متصل نہیں ہے، کیونکہ ابن شہرآشوب نے اسے بلاواسطہ زمخشری کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ اس لیے اصطلاحی اعتبار سے یہ روایت مرسل کہلائے گی۔

2۔ زمانی فاصلہ

یہ واقعہ پہلی صدی ہجری میں پیش آیا، جبکہ اس عبارت کی پہلی معلوم نقل چھٹی صدی ہجری کی کتاب میں ملتی ہے۔ یعنی واقعے اور اس کے تحریری اندراج کے درمیان تقریباً پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔

اگر کسی تاریخی واقعے کو اتنے طویل زمانی فاصلے کے بعد کسی متقدم، متصل اور معتبر ماخذ کے بغیر بیان کیا جائے تو اس کے قطعی تاریخی ثبوت کی حیثیت کم ہو جاتی ہے۔ محض بعد کے کسی مصنف کا حوالہ دینا روایت کو لازماً معتبر اور متصل نہیں بنا دیتا۔

نتیجہ

روایت:

وَرَمَوْا بِالنِّبَالِ جَنَازَتَهُ حَتَّى سُلَّ مِنْهَا سَبْعُونَ نَبْلًا

اپنی موجودہ صورت میں پہلی مرتبہ ابن شہرآشوب کی کتاب مناقب آل ابی طالب میں ملتی ہے۔ اس کی سند متصل نہیں، بلکہ مرسل ہے، اور اس کے ماخذ کے طور پر ربیع الأبرار کا حوالہ دیا گیا ہے؛ تاہم دستیاب مطبوعہ نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں ملتی۔

اس کے برعکس، ابتدائی شیعہ اور سنی تاریخی مصادر میں امام حسن علیہ السلام کی تدفین کے موقع پر مروان اور امویوں کی طرف سے مزاحمت اور تدفین روکنے کی کوشش کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن جنازے پر تیر برسائے جانے یا اس سے ستر تیر نکالے جانے کی تفصیل نہیں ملتی۔

لہٰذا تاریخی و حدیثی تحقیق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی تدفین میں رکاوٹ ڈالے جانے کا واقعہ قدیم مصادر سے ثابت ہے، لیکن جنازے پر تیر برسائے جانے کی تفصیل ایک متاخر روایت ہے جس کا ثبوت سند اور قدیم تاریخی شواہد کے اعتبار سے مضبوط نہیں۔ اسے قطعی اور یقینی تاریخی واقعے کے طور پر بیان کرنے کے بجائے ایک کمزور اور متاخر منقول روایت کہا جانا زیادہ محتاط اور علمی طرز بیان ہے۔