امام علی علیہ السلام کی حکومتی زندگی اور سیرت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام علی علیہ السلام کی حکومتی زندگی اور سیرت

اسد عباس اسدی

امام علی علیہ‌السلام کی حکومت، رسول خدا ﷺ کے بعد اسلامی حکومت کا بہترین اور مکمل‌ترین نمونہ ہے۔ آپ ؑکی سیاست، اسلام کی حقیقی سیاست ہے اور اس کی بلند و بالا تعلیمات سے سرچشمه لیتی ہے۔

امام ؑ کی پر افتخار تاریخ - بالخصوص امام ؑ کی مختصر حکمرانی کے دوران- حیات‌بخش اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے دقیق نفاذ کی گواهی دیتی ہے۔ اسی بنا پر، آپؑ کا حکومتی طریقہ کار اور طرز زندگی تاریخ کے تمام اسلامی حکمرانوں اور امرا کے لیے بہترین نمونہ اور مشعل راہ ہے۔

اس تحریر میں ہم امام ؑ کے دورحکومت کے طرز زندگی اور روش کا ایک مختصر سا احوال پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچه آپؑ کے زهد و تقویٰ کی شدت، ذاتی زندگی اور عمال کے امور میں سخت نگہداشت، اور مسلمانوں کے اموال کی حیف و میل کو روکنے کے اقدامات ایسے نہیں ہیں کہ جنہیں اس مختصر تحریر میں مکمل طور پر بیان کیا جا سکےـ

دوران حکومت میں امامؑ کا طرز خوراک و پوشاک

امام ؑ نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:

خداوند نے مجھے اپنی مخلوق کا امام و پیشوا قرار دیا ہے اور مجھ پر لازم کیا ہے کہ میں اپنے نفس، خوراک، نوشیدنی اور لباس میں کمزور اور غریب عوام کے مطابق زندگی بسر کروں، تاکہ فقیر میرے فقر کی پیروی کرے اور مالدار اپنی دولت کی وجہ سے سرکش نہ ہوـ

امام ؑ نے عاصم بن زیاد کے اس جواب میں کہ آپؑ سخت خوراک اور کھردرے لباس پر کیوں اکتفا کرتے ہیں اور اپنے اوپر اتنی سختی کیوں برتتے ہیں، فرمایا:

تجھ پر افسوس ہو! خدائے عزوجل نے عادل پیشواؤں پر واجب کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ضعیف و ناتوان لوگوں کے ساتھ ہمرنگ رکھیں، تاکہ فقر و تنگدستی کسی فقیر کو بے قرار و مضطرب نہ کر دے۔

امام ؑ اپنے دور حکومت میں کہنہ عبا اور پیوند لگا ہوا لباس زیب تن کرتے تھے، ایک روز کسی نے آپؑ سے سوال کیا:

آپؑ پیوند لگا ہوا لباس کیوں پہنتے ہیں؟

امام ؑ نے فرمایا: اس قسم کا لباس پہننا دل کے خشوع اور نفس امارہ کی تذلیل کے لیے مفید ہے۔

یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جب اکثر مسلمان فقر و تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے، ابن عباس کہتے ہیں:

ایک روز میں امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس حال میں کہ امام ؑ اپنی جوتی (نعلین) کو ٹانکا لگا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا:

اس جوتی کی کیا قیمت ہے کہ آپ خود اس کی مرمت کر رہے ہیں؟

امام ؑنے فرمایا: خدا کی قسم! یہ جوتی میرے نزدیک تمہاری اس دنیا اور تمہاری اس حکومت سے بھی زیادہ محبوب ہے، سوائے اس کے کہ میں کسی حق کو قائم کروں یا کسی باطل کو دفع کروں۔

سوید بن غفله کا بیان ہے: ایک روز میں علی ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپؑ کے گھر میں ایک پرانی چٹائی کے سوا کچھ نہ تھا اور آپؑ اسی پر تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمومنین! آپ مسلمانوں کے حاکم ہیں، بیت‌المال کے اختیارات آپؑ کے پاس ہیں، اتنے لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کے گھر میں اس چٹائی کے سوا کچھ نہیں؟ یہ سن کر امام ؑ رو پڑے اور فرمایا:

اے سوید! عقلمند انسان اس گھر میں سامان آرائش نہیں لگاتا جسے چھوڑ کر کوچ کرنا ہو، جب کہ ہمارے سامنے دار اقامت اور آخرت کی منزل ہے، ہم نے اپنا سامان زیست پہلے ہی وہاں منتقل کر دیا ہے اور ہم بھی وہیں لوٹنے والے ہیں۔

سوید کہتے ہیں: خدا کی قسم! آپ کے اس کلام نے مجھے رلا دیا۔

علی بن ابراهیم نے امام باقر علیہ‌السلام سے روایت کی ہے کہ امام ؑ نے فرمایا:

خدا کی قسم! علی اس طرح کھانا کھاتے اور بیٹھتے تھے جیسے غلام کھاتے اور بیٹھ ہیں، آپ سنبل کے دو کرتے (قمیض) خریدتے اور ان میں سے بہتر اپنے غلام کو دے دیتے تھے،جب قمیض کی آستین انگلیوں سے بڑھ جاتی تو آپ اسے کاٹ دیتے اور جب ٹخنوں سے نیچے جاتی تو اسے تراش دیتے تھے، آپ ؑنے پانچ سال تک حکومت کی لیکن ایک اینٹ پر دوسری اینٹ نہیں رکھی۔

ہارون بن عنترہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں:

میں سردی کے موسم میں علی علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ نے ایک پرانی اون کی چادر (قطيفه) اوڑھ رکھی تھی اور شدت سرما کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔

میں نے عرض کیا: خدا نے اس مال (بیت‌المال) میں آپ کا اور آپ کے اہل و عیال کا حصہ مقرر کیا ہے، پھر آپ اپنے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟

آپ ؑنے فرمایا:خدا کی قسم! میں تمہارے حصے میں سے کچھ کم نہیں کرتا، اور یہ وہی پرانی چادر ہے جو میں مدینہ سے اپنے ساتھ لایا تھا۔

امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام ہرگز اس بات کے روادار نہ تھے کہ بیت‌المال سے اپنے لیے کوئی زائد چیز لیں، یہاں تک کہ آپ بیت‌المال میں کوئی مال محفوظ بھی نہیں رکھتے تھے۔ ہر جمعہ کے روز بیت‌المال میں جو کچھ بھی ہوتا، اسے عوام کے درمیان تقسیم کر دیتے، اس کے بعد بیت‌المال کی زمین پر جھاڑو دیتے اور اس پر نماز پڑھتے اور نماز کے بعد فرماتے کہ روز قیامت تم میرے گواہ رہنا۔

ایک اور روایت کے مطابق، آپ اس زمین پر پانی چھڑک کر وہاں آرام فرماتے تھے۔

روایت ہے کہ جب آپ بیت‌المال میں تشریف لاتے اور سونے اور چاندی کے ٹکڑے دیکھتے تو زیر لب زمزمہ کرتے:

اے زرد و سفید چیزو! کسی اور کو فریب دو، اللہ مجھ پر احسان فرماتا ہے اور مجھے تمہارے فتنہ سے محفوظ رکھتا ہے۔

زاذان ابو عمر کہتے ہیں:

میں قنبر کے ساتھ امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کے پاس گیا۔ قنبر نے عرض کیا:

یا امیرالمؤمنین! میں نے آپ کے لیے کچھ مال ذخیرہ کر کے رکھا ہے۔

علی علیہ‌السلام نے پوچھا: وہ کیا ہے؟

قنبر نے کہا: آئیے گھر چل کر دیکھتے ہیں۔ جب اندر گئے تو وہاں سونے اور چاندی سے بھری ہوئی ایک بڑی تھیلی رکھی تھی۔

قنبر نے کہا: یا امیرالمؤمنین آپ نے تو سارا مال اور غنائم تقسیم کر دیا تھا، میں نے یہ آپ کے لیے بچا کر رکھا ہے۔

علی علیہ‌السلام نے فرمایا:

کیا تو میرے گھر میں بھڑکتی ہوئی آگ لانا چاہتا ہے؟

پھر اپنی تلوار کھینچی اور سونے چاندی کے ان ڈھیروں پر ماری اور یہ شعر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ نے کبھی اپنے لیے بہترین مال جمع نہیں کیا بلکہ سب کچھ مستحقین میں بانٹ دیا۔ پھر اس جمع شدہ زر و سیم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

اے سفید چاندی! میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے۔ اے زرد سونے! میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے۔

بیت‌المال کی تقسیم میں امام کا طریقہ کار

امام علی علیہ‌السلام بیت‌المال کی تقسیم کے متعلق اپنا طریقہ یوں بیان فرماتے تھے:

میرے حبیب رسول خدا ﷺغنائم اور اموال میں سے کچھ بھی اگلے دن کے لیے بیت‌المال میں باقی نہیں چھوڑتے تھے۔

خلیفہ اول بھی اسی روش پر عمل کرتے رہے، لیکن جب خلیفہ دوم کا دور آیا تو ان کی رائے دیوان بنانے اور مال کی تقسیم کو سال بہ سال موخر کرنے پر قرار پائی۔

لیکن میں اسی طریقے پر عمل کرتا ہوں جس پر میرے حبیب رسول‌خدا ﷺ عمل کرتے تھے۔

امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام بیت‌المال کی تقسیم میں اتنی دقیق احتیاط برتتے تھے کہ سرکش اور عیاش لوگ آپ کو محدود کرنے والا کہتے تھے، دوسرے حکمران اور زمامداران اپنے بیٹوں، رشتہ داروں اور منظور نظر افراد کے لیے بیت‌المال کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے کی پوری آزادی دیتے تھے، لیکن پرہیزگاروں کے پیشوا علی ؑ بیت‌المال کے معاملے میں اپنے فرزندوں اور اقارب کے ساتھ انتہائی سختی کا مظاہرہ کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل بھی اس کا بوجھ برداشت نہ کر سکےـ

بیت‌المال کے معاملے میں رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ برتاؤ

بیت‌المال کے امین اور کاتب امام، علی بن ابی رافع بیان کرتے ہیں:

بیت‌المال میں موتیوں کا ایک ہار تھا جو جنگ بصرہ کے دوران ہاتھ آیا تھا۔ ایک روز علی ؑ کی صاحبزادی نے میرے پاس پیغام بھیجا:

مجھے اطلاع ملی ہے کہ امیرالمومنین کے بیت‌المال میں موتیوں کا ایک ہار ہے جو تمہارے پاس ہے، میں چاہتی ہوں کہ تم اسے عاریتامجھے دے دو تاکہ عید قربان کے دن میں اس سے خود کو زینت دوں۔

میں نے کہا: میں اسے عاریہ مضمونه (ضمانت کے ساتھ) دے سکتا ہوں بشرطیکہ تین دن کے اندر واپس کر دو۔ انہوں نے ضمانت دی تو میں نے ہار ان کے حوالے کر دیا۔

علی ؑ نے جب وہ ہار دیکھا تو پہچان لیا اور صاحبزادی سے دریافت فرمایا:

یہ ہار کہاں سے لائی ہو؟

انہوں نے جواب دیا: میں نے عید کے دن زینت کے لیے علی بن ابی رافع سے عاریت پر لیا ہے اور واپس کر دوں گی۔

ابن ابی رافع کہتے ہیں: امیرالمومنین نے مجھے بلوایا۔ جب میں حاضر ہوا تو آپؑ نے فرمایا:

اے ابن ابی رافع! کیا تم مسلمانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہو؟

میں نے عرض کیا: پناه بر خدا کہ میں مسلمانوں سے خیانت کروں

آپؑ نے فرمایا: پھر تم نے میری اجازت اور مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر بیت‌المال کا ہار دختر امیرالمؤمنین کو عاریتا کیسے دے دیا؟

میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! وہ آپ کی بیٹی ہیں، انہوں نے عید کی زینت کے لیے مانگا تھا، میں نے اپنے ذمے ضمانت لے کر دیا ہے کہ اسے صحیح سلامت واپس لوٹا دوں گا۔

آپؑ نے فرمایا: اسی وقت اسے واپس کرو! اور خبردار جو آئندہ کبھی ایسا کیا، ورنہ تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔

پھر آپ نے اپنی بیٹی سے فرمایا:

بیٹی! اگر یہ ہار ضمانت کے ساتھ نہ ہوتا تو میں سب سے پہلے بنی ہاشم کی اس لڑکی کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹ دیتا۔

صاحبزادی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! میں آپ کی بیٹی اور پاره تن ہوں، اس ہار کی مجھ سے زیادہ حقدار کون ہو سکتا ہے؟

امام نے فرمایا:

اے علی بن ابی طالب کی بیٹی! اپنے آپ کو مت گم کرو اور راہ حق سے دور نہ ہٹو۔ کیا بصرہ کی تمام مسلمان عورتیں اس عید پر اس طرح کے ہار سے خود کو زینت دیتی ہیں؟

چنانچہ وہ ہار واپس لے کر اپنی جگہ پر رکھوا دیا گیا۔

ابن ابی الحدید نے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے کہا:

میں نے اپنے چچا علی ؑسے عرض کیا: اگر آپ حکم دیں کہ میری مالی مدد کی جائے یا میرا وظیفہ بڑھا دیا جائے تو بہت مناسب ہوگا۔ خدا کی قسم! اب میرے پاس گھوڑا بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

امام نے جواب میں فرمایا:

نہیں، خدا کی قسم! میں تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں پاتا، سوائے اس کے کہ تم اپنے چچا کو حکم دو کہ وہ چوری کرے اور تمہیں لا کر دے

اسی طرح تاریخی روایات میں موجود ہے کہ آپ نے اپنے ایک فرزند کو بھی ڈانٹا جب انہوں نے بیت‌المال میں سے بطور قرض اپنے مہمان کے لیے کچھ شہد مانگا تھا۔

کتاب "الغارات" کے مؤلف، ابواسحاق ابراهیم بن محمد ثقفی (متوفی ۲۸۳ هـ) لکھتے ہیں:

کوفہ کے اشراف علی ؑ سے ناراض تھے اور معاویه کی طرف مائل تھے،کیونکہ علی ؑ بیت‌المال کے غنائم سے کسی کو بھی اس کے حق سے زیادہ نہیں دیتے تھے، جب کہ معاویہ اشراف اور بزرگان قوم کو دو دو ہزار درہم زیادہ دیتا تھا۔

ایک مرتبہ آپؑ کے ایک شیعہ اور صحابی نے آ کر مخصوص مال کا مطالبہ کیا تو امام ؑنے جواب میں فرمایا:

یہ مال نہ میرا ہے اور نہ تمہارا، بلکہ یہ ان مسلمانوں کا غنیمت ہے جنہوں نے اسے اپنی تلواروں کے زور پر حاصل کیا ہے۔ اگر تم اس جنگ میں ان کے ساتھ شریک تھے تو تمہارا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا ان کا، ورنہ جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے، اسے دوسروں کے منہ میں ڈالنا روا نہیں۔

اور تاریخ کی کتابوں میں درج اس طرح کے درجنوں واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ آپؑ بیت‌المال کے معاملے میں کتنے سخت گیر تھے اور آپؑ کی مالی پالیسی کتنی غیر متزلزل تھی۔

امام علیہ‌السلام کا زهد و پارسائی

تاریخ میں آپؑ سے بڑھ کر کوئی زاهد اور قانع انسان نہیں دیکھا گیا۔ آپ پارسایان روزگار اور قناعت شعاروں کے سردار تھے، ہمیشہ سخت ترین حالات کو اپنے لیے پسند کرتے تھے،آپؑ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، آپ کی خوراک ہمیشہ انتہائی سادہ اور خشک غذا ہوتی تھی، آپؑ کے دسترخوان پر نمک یا سرکہ ہوتا تھا، اور کبھی کبھار اس میں سبزیاں یا تھوڑا سا دودھ شامل ہو جاتا تھا، آپؑ بہت کم گوشت کھاتے تھے اور فرماتے تھے:

اپنے پیٹوں کو حیوانات کا قبرستان مت بناؤ۔

آپؑ زهد کے بارے میں کلام فرماتے اور اسے قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی سے مزین کرتے تھے،

زهد تمام کا تمام قرآن کے ان دو جملوں میں سمایا ہوا ہے:

خدا فرماتا ہے: (جو کچھ تم سے چھوٹ جائے اس پر غم نہ کرو اور جو تمہیں ملے اس پر اتراؤ مت)۔

جو شخص گزری ہوئی چیز پر تاسیس نہ کرے اور آنے والی چیز پر خوشی میں مست نہ ہو، اس نے دونوں طرف سے زهد کو حاصل کر لیا ہے۔

آپؑ زهد کو محرومیت نہیں بلکہ ایک گران بها دولت سمجھتے تھے اور فرماتے تھے:

الزهد ثروة ۔دنیا سے بے رغبتی ایک زبردست ثروت ہے۔

اور آپؑ کا یہ شعر معروف ہے:

أَفَادَتْنِي القَنَاعَةُ كُلَّ عِزٍّ، وَهَلْ عِزٌّ أَعَزُّ مِنَ القَنَاعَة؟

قناعت نے مجھے ہر قسم کی عزت بخشی ہے، اور قناعت سے بڑھ کر بھلا کون سی عزت زیادہ باعزت (یا غنی) ہو سکتی ہے؟

فَصَيِّرْهَا لِنَفْسِكَ رَأْسَ مَالٍ، وَصَيِّرْ بَعْدَهَا التَّقْوَى بِضَاعَة

پس تم اس (قناعت) کو اپنے لیے اصل سرمایہ بنا لو، اور اس کے بعد تقویٰ (پرہیزگاری) کو اپنی پونجی اور تجارت قرار دو۔

تَحُزْ رِبْحاً وَتُغْنِي عَنْ بَخِيلٍ، وَتَنْعَمُ فِي الجِنَانِ بِصَبْرِ سَاعَة

(اگر ایسا کرو گے تو) تم بہت بڑا نفع حاصل کر لو گے، کسی بخیل اور کنجوس کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز ہو جاؤ گے، اور دنیا میں محض ایک گھڑی (تھوڑی دیر) کے صبر کے بدلے جنت کے باغات میں ہمیشہ عیش و نعمت پاؤ گے۔

عمربن عبدالعزیز، جو اموی خلیفہ ہونے کے باوجود اپنے دور میں زهد کے لیے مشہور تھے، کہتے ہیں:

اس امت میں رسول خدا ﷺ کے بعد علی بن ابی طالب ؑ سے زیادہ زاهد کوئی نہیں آیا۔

خواجہ نصیرالدین طوسی امام علی ؑ کی برتری کے بارے میں فرماتے ہیں:

آپ رسول خدا ﷺ کے بعد تمام لوگوں سے زیادہ پارسا تھے۔

اور علامہ حلی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

آپؑ کا لباس اور کھانا سب لوگوں سے زیادہ سخت اور خشن تھا، آپؑ نے کبھی شکم بھر کر کھانا نہیں کھایا... آپؑ کے جوتوں کے تسمے کھجور کی چھال کے ہوتے تھے اور آپؑ اپنی قمیض کو کبھی چمڑے اور کبھی کھجور کے لیف سے پیوند لگاتے تھے۔

مساوات کے قیام میں غیر معمولی استقامت

مساوات قائم کرنے اور بدعات کو مٹانے کی راہ میں آپؑ کی خلافت کے دوران طرح طرح کے فتنہ و فساد برپا ہوئے اور ناگوار حوادث رونما ہوئے۔ آپؑ کے بعض قریبی ساتھیوں نے فتنوں کے سد باب کے لیے مشورہ دیا کہ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ فی الحال اعیان لشکر اور اشراف کو بیت‌المال سے زیادہ مال دیا جائے تاکہ وہ دشمن کے مقابلے میں آپؑ کا ساتھ دیں (جیسا کہ امیر شام کیا کرتا تھا)، امامؑ یہ سن کر سخت غصہ میں آ گئے اور فرمایا:

کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ ظلم اور بے جا بخشش کے ذریعے امت اسلام میں فتح طلب کروں؟ نہیں، خدا کی قسم! جب تک سورج چمکتا ہے اور آسمان پر ستارہ چمکتا ہے، میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ اگر یہ مال میرا ذاتی ہوتا تو بھی اسے برابر بانٹ دیتا، تو پھر اب جبکہ یہ مال عموم مسلمانوں کا ہے، میں ایک کو دوسرے پر کیسے ترجیح دوں؟

علی ؑ حق کے معاملے میں اپنے ذاتی مفاد کی پروا نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی دوستوں کو خوش کرنے یا دشمنوں کی دل جوئی کے لیے اصولوں کا سودا کرتے تھے۔

یار و انصار کی خطاؤں پر امام کا قاطعانہ ردعمل

صدر اسلام میں خلفا کے دور کے دوران شاعروں کا طبقہ اپنی شاعری کے ذریعے خلفا کی قصیدہ خوانی کرتا تھا اور ان کا معاشرے میں خاص مقام ہوتا تھا۔ اگر وہ کوئی اخلاقی جرم بھی کر بیٹھتے تو درگزر کر دیا جاتا اور یہ ضرب‌المثل عام ہو گئی تھی کہ: شاعر کے لیے وہ کچھ جائز ہے جو دوسروں کے لیے ناجائز ہے۔

آو دیکھتے ہیں کہ علی علیہ‌السلام کا اپنے ایک معروف شاعر اور ساتھی «نجاشی» کے ساتھ کیا برتاؤ رہا جو جنگ صفین میں آپ کا شاعر تھا۔

جنگ صفین کے بعد جب نجاشی کوفہ میں مقیم تھا، تو ماہ رمضان کے پہلے دن اس کی ملاقات ابو‌سمال نامی ایک دوسرے شاعر سے ہوئی۔ اس نے نجاشی کو اپنے گھر بلایا اور دونوں نے شراب نوشی کی، یہ خبر جب امام تک پہنچی تو آپ نے چند افراد کو بھیج کر دونوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ابو‌سمال تو فرار ہو گیا لیکن نجاشی پکڑا گیا اور اسے امام کی خدمت میں لایا گیا۔ امام نے حکم دیا کہ اسے اسی (80) درے لگائے جائیں، اور جب وہ کوفے میں لایا گیا تو امام نے مزید بیس (20) کوڑے اس میں اور بڑھا دیے۔

نجاشی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! حد تو شرعی تھی، لیکن یہ بیس کوڑے کس بات کے تھے؟

آپ نے فرمایا: یہ تیرے پروردگار کی گستاخی اور ماہ رمضان میں روزہ خوری کی سزا ہے۔

یہ واقعہ احکام الٰہی اور عدل کے نفاذ میں امام کی غیر متزلزل سختی کا آئینہ دار ہے، علی علیہ‌السلام کے نزدیک حق کے نفاذ میں کسی قسم کا خوف یا رعایت معنی نہیں رکھتی تھی۔ جب یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اس سختی پر احتجاج کیا تو آپ نے فرمایا:

خدا کے احکام صرف ان لوگوں پر آسان ہوتے ہیں جو پرہیزگار اور فرمانبردار ہوں۔ اے یمنی بھائی! نجاشی بھی ایک مسلمان ہے جس نے خدا کی حرام کردہ شی کا ارتکاب کیا ہے اور الٰہی حدود پامال کی ہیں، لہٰذا اس پر وہی حد جاری کی گئی ہے جو خدا نے مقرر کی ہے۔

دین اور قانون کے نفاذ میں سختی

آپؑ دین کے معاملے میں نہایت سخت گیر اور بے باک تھے، اور یہی وہ وصف تھا جو اس دور کے بعض لوگوں کو آپ کی ذات میں گراں گزرتا تھا۔

روایت ہے کہ ایک مرتبہ علی ؑ نے قنبر کو حکم دیا کہ ایک شخص پر حد جاری کریں۔ قنبر نے جذبات کی رو میں آ کر تین کوڑے زیادہ لگا دیے۔ امام نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس زیادتی کا بدلہ لینے کے لیے قنبر کو تین کوڑے لگائے۔

جب کبھی آپ کو اپنے کسی کارگزار یا گورنر کی طرف سے ہلکی سی بھی لغزش دکھائی دیتی تو آپ سخت دلتنگ ہوتے اور تند و تیز خطوط کے ذریعے انہیں متنبہ فرماتے تھے۔ اس کی بہترین مثال «عثمان بن حنیف» کے نام آپ کا وہ تاریخی خط ہے جو بصره کی ایک پُر تکلف ضیافت میں شرکت پر لکھا گیا تھا:

اے پسرِ حنیف! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بصرہ کے ایک مالدار نے تمہیں کھانے کی دعوت دی اور تم فورا وہاں پہنچ گئے، جہاں رنگین کھانے اور بڑے برتن تمہارے سامنے رکھے گئے تھے۔ میرا گمان نہیں تھا کہ تم ایسے لوگوں کی دعوت قبول کرو گے جن کے فقرا کو روکا جاتا ہے اور اغنیا کو بلایا جاتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ تم کیا کھا رہے ہو...

آگاه رہو! ہر مقتدی کا ایک امام ہوتا ہے جو اس کے نور علم سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ یاد رکھو! تمہارے امام نے اپنی دنیا سے دو پرانے کپڑوں اور روٹی کے دو ٹکڑوں پر اکتفا کر رکھا ہے۔ تم اس کا تو تحمل نہیں کر سکتے، مگر کم از کم تقویٰ ، کوشش، عفت اور سچائی میں میری مدد کرو...

خدا کی قسم! میں نے تمہاری اس دنیا سے نہ سونا جمع کیا ہے، نہ مال و دولت کا ذخیرہ کیا ہے، اور نہ اس پرانے لباس کا کوئی بدل مہیا کیا ہے، اگر چاہتا تو خالص شہد، عمدہ آٹے کی روٹی اور ریشمی لباس اپنے لیے تیار کر سکتا تھا، مگر ھیهات کہ ہوا و ہوس مجھ پر غلبہ پا لے، کیا میں پیٹ بھر کر سو جاؤں اور میرے اردگرد ایسے بھوکے لوگ موجود ہوں جن کے پاس ایک روٹی کی بھی امید نہ ہو؟...

عوام کے حقوق اور شخصیت کا احترام

امیرالمؤمنین علی ؑ عدل، مہربانی اور عوام کے حقوق و احترام کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔ آپ ؑ کے مالیاتی اور انتظامی احکام میں اس کی گہری جھلک ملتی ہے۔ مأموران زکات اور خراج کو لکھے گئے خطوط میں آپ فرماتے ہیں:

لوگوں کے ساتھ انصاف کرو، ان کی حاجت برآوری میں صبر و تحمل سے کام لو، کیونکہ تم رعیت کے خزانہ دار، امت کے وکیل اور حکومت کے سفیر ہو... کسی ضرورت مند پر غصہ نہ کرو، اس کے جائز مطالبات کو نہ روکو، اور خراج وصول کرنے کے لیے کسی کا سرمائی یا گرمائی لباس یا سواری کا جانور مت بیچو...

مهمانی اور معاشرت میں سادگی

مولای متقیان زندگی میں انتہائی سادہ اور بے تکلف تھے اور توقع رکھتے تھے کہ آپؑ کے دوست بھی ایسے ہی ہوں۔ ایک روز حارث بن اعور ہمدانی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! کیا آپ ہمارے گھر تشریف لائیں گے؟

حضرت نے فرمایا: اس شرط پر آؤں گا کہ گھر میں جو کچھ موجود ہے اس سے بڑھ کر تکلف نہیں کرو گے اور مجھے زحمت میں نہیں ڈالو گے۔

حارث نے قبول کیا اور امام تشریف لے گئے۔ گھر میں جو معمولی طعام موجود تھا، اسی پر اکتفا کیا گیا۔

تملق اور چاپلوسی کی مذمت

امامؑ چاپلوسی اور مداحی سے شدید نفرت فرماتے تھے، اسلامی نظام حکومت میں حاکم کوئی مطلق العنان بادشاہ نہیں بلکہ ایک امانت دار ہوتا ہے، اور سچی پرستش اور مدح صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ جنگ صفین کے بعد واپسی پر ایک شخص حرب بن شرحبیل آپ کے ساتھ پیادہ چل رہا تھا جبکہ آپ سوار تھے، امام نے رک کر فرمایا:

واپس جاؤ! کیونکہ تم جیسے شخص کا مجھ جیسے کے ساتھ پیادہ حاکم کے لیے فتنه اور مومن کے لیے ذلت کا باعث ہے۔

ایک موقع پر جب کسی نے آپ کی مدح کی تو آپ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

مجھ سے اس طرح گفتگو نہ کرو جس طرح جبار اور ستمگر حکمرانوں سے کی جاتی ہے، میرے لیے پُرطمطراق القاب استعمال نہ کرو، اور مجھ سے وہ مصلحتی چاپلوسی نہ کرو جو آمروں کے سامنے کی جاتی ہے... حق بات کہنے یا عدل کی بات پیش کرنے میں کبھی جھجھک محسوس نہ کرو۔

نتیجہ اور دور حاضر کا تقاضا

خلاصہ یہ ہے کہ امام علی علیہ‌السلام کی سیرت حکومتی عدل، زهد، انسان دوستی اور قانون کی پاسداری کا سب سے روشن باب ہے، جو تمام دور کے انصاف پسندوں کے لیے بہترین مشعل راه ہے۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ثقافتی و سیاسی جدوجہد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ثقافتی و سیاسی جدوجہد

عباسی خلافت کے تناظر میں ایک علمی و تحقیقی مطالعہ

اسد عباس اسدی

خلاصہ مقالہ

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت کا دور عباسی اقتدار کے استحکام، سیاسی نگرانی، علوی و شیعی مخالف پالیسیوں اور فکری کشمکش کا دور تھا۔ زیر مطالعہ دونوں مقالات کے باہمی تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ امام کاظم علیہ السلام کی جدوجہد کو محض مسلح قیام یا ظاہری سیاسی مقابلے کے پیمانے سے سمجھنا درست نہیں۔ آپ نے ایک جامع اور حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کی جس میں امام صادق علیہ السلام کے علمی و ثقافتی مکتب کا تسلسل، عقائدی و فکری تربیت، باصلاحیت اصحاب کی تیاری، شیعی معاشرے کی تنظیم، تقیہ و رازداری، حکومت کے اندر قابل اعتماد افراد کا نفوذ، مالی و اطلاعاتی روابط، منفی مزاحمت، امامت کے تصور کا دفاع اور بعض علوی تحریکوں کی اصولی حمایت شامل تھی۔ قیام فخ کے معاملے میں آپ کا موقف اس حکمت عملی کی ایک نمایاں مثال ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت کے اصل کی تائید کے ساتھ عملی کامیابی کے لیے سیاسی حالات اور عوامی حمایت کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ اس مطالعے کا مرکزی نتیجہ یہ ہے کہ امام کاظم علیہ السلام کی سیاسی خاموشی دراصل خاموشی نہیں بلکہ طویل المدت ثقافتی، فکری، تنظیمی اور حفاظتی جدوجہد تھی، جس کے ذریعے امامت کی میراث اور شیعی معاشرہ کو عباسی دباؤ کے باوجود محفوظ رکھا گیا۔

کلیدی الفاظ

امام موسیٰ کاظمؑ، عباسی خلافت، سیاسی جدوجہد، ثقافتی تحریک، شیعی تنظیم، تقیہ، علی بن یقطین، قیام فخ، امامت، علمی تربیت

1۔ تمہید

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 128 ہجری میں ابواء میں پیدا ہوئے اور 148 ہجری میں امام صادق ؑ کی شہادت کے بعد امامت کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپؑ کی امامت کا دور 183 ہجری تک جاری رہا اور اس دوران آپ منصور دوانیقی، مہدی، ہادی اور ہارون عباسی کے معاصر رہے۔ اس پورے دور میں عباسی حکومت نسبتا مستحکم تھی اور علویوں و شیعیان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جاتی تھی،بعض روایات کے مطابق امام صادق علیہ السلام کی وفات کے بعد شیعیان میں انتشار پیدا ہوا اور حکومت کے جاسوسی نظام کے باعث امام کاظم علیہ السلام کی شناخت اور آپ سے رابطے کو بھی پوشیدہ رکھنا پڑا۔ (سیرۃ الائمۃ الاثنی عشر، ج 2، ص 334-335؛ عیون اخبار الرضا، ج 1، ص 40، ح 26؛ رجال کشی، ج 2، ص 565، ردیف 502)

اس سیاسی ماحول میں امام کاظم علیہ السلام کے سامنے دو بنیادی ضرورتیں تھیں: ایک طرف امامت کی میراث، دینی فکر اور جعفری علمی تحریک کو محفوظ رکھنا، اور دوسری طرف شیعی معاشرے کو حکومتی دباؤ، فکری انحراف اور داخلی انتشار سے بچانا۔ یہی پس منظر آپ کی ثقافتی اور سیاسی حکمت عملی کو سمجھنے کی بنیادی کلید ہے۔

2۔ مسئلہ تحقیق اور بنیادی سوالات

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر امام کاظم علیہ السلام عباسی حکومت کی سیاسی و دینی مشروعیت کو تسلیم نہیں کرتے تھے تو آپ نے اس کے مقابلے میں کون سے طریقے اختیار کئے، اور کھلے مسلح قیام کے بجائے علمی، ثقافتی، تنظیمی اور حفاظتی جدوجہد کو کیوں اہمیت دی؟ اس کے ذیلی سوالات یہ ہیں:

(1) آپ نے امام صادق علیہ السلام کے علمی مکتب کو کس طرح جاری رکھا؟

(2) شیعی معاشرے اور امامت کی میراث کی حفاظت کے لیے کون سے تنظیمی طریقے اختیار کیے؟

(3) تقیہ، رازداری اور حکومت کے اندر موجود قابل اعتماد افراد کی سیاسی اہمیت کیا تھی؟

(4) قیام فخ اور علوی تحریکوں کے بارے میں آپ کا موقف کیا تھا؟

3۔ طریقہ تحقیق اور دائرہ کار

یہ مطالعہ بنیادی طور پر امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے دور، یعنی 148 تا 183 ہجری، کے ثقافتی، فکری، تنظیمی اور سیاسی پہلوؤں پر مرکوز ہے، فقہی و کلامی مباحث صرف وہاں شامل ہیں جہاں وہ براہ راست ثقافتی یا سیاسی حکمت عملی سے متعلق ہیں۔

4۔ تاریخی و سیاسی پس منظر

امام کاظم علیہ السلام کی امامت ایسے دور میں شروع ہوئی جب عباسی حکومت نے اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کر لی تھیں۔ منصور، مہدی، ہادی اور ہارون کے ادوار میں علویوں اور شیعیان پر سیاسی، معاشی اور انتظامی دباؤ برقرار رہا۔ حکومت نے مخالفین کی نگرانی کے لیے جاسوس مقرر کیے، امامؑ کے اصحاب کو آپ کا نام کھلے عام لینے سے احتراز کرنا پڑا اور بعض مواقع پر مالی روابط اور نقل و حرکت بھی محدود کی گئی۔ (رجال کشی، ص 282، ح 502؛ سیرۃ الائمۃ الاثنی عشر، ج 2، ص 334؛ سیری در سیرۂ ائمۂ اطہارؑ، ص 176-177)

امام صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد شیعی معاشرے میں مختلف دعووں اور گروہی اختلافات نے بھی صورت حال کو پیچیدہ کیا۔ اسماعیل بن جعفر کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات اور بعد میں اسماعیلیہ، فطحیہ، ناووسیہ اور مبارکیہ جیسے گروہوں کے ظہور نے امامت کے مسئلے کی وضاحت کو مزید ضروری بنا دیا۔ (فرق الشیعہ، صص 66-78؛ اعلام الوری، ص 292)

5۔ امام صادق علیہ السلام کی علمی و ثقافتی تحریک کا تسلسل

امام کاظم علیہ السلام نے سیاسی حالات کی نزاکت کے باوجود امام صادق علیہ السلام کے علمی مکتب کو ترک نہیں کیا بلکہ اسے جاری رکھا۔ فراہم کردہ مقالے کے مطابق اس کے پیچھے تین بنیادی عوامل تھے: پہلے سے جاری ثقافتی کام کو منقطع نہ ہونے دینا، تربیت یافتہ علمی طبقے کو محفوظ اور منظم کرنا، اور مختلف ثقافتوں و فکری رجحانات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے الحادی و انحرافی افکار کا علمی جواب دینا۔

امام کاظم علیہ السلام سے عقائد، فقہ، تفسیر، حدیث، اخلاق اور انبیاء کی تاریخ جیسے موضوعات میں روایات منقول ہوئیں۔ شیخ عزیز اللہ عطاردی نے آپ سے مروی روایات کو ’مسند الامام الکاظم علیہ السلام‘ کے عنوان سے تین جلدوں میں جمع کیا، جو آپ کے علمی اثر کی وسعت کی نشاندہی کرتی ہے۔ (مسند الامام الکاظم علیہ السلام)

6۔ علمی تربیت اور باصلاحیت اصحاب کی تیاری

امام کاظم علیہ السلام کی حکمت عملی کا بنیادی ستون تربیت یافتہ انسانی سرمایہ تھا۔ رجالی مصادر میں آپ کے شاگردوں اور راویوں کی تعداد مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے، جبکہ نمایاں اصحاب میں محمد بن ابی عمیر، علی بن یقطین، ہشام بن حکم، ہشام بن سالم، یونس بن عبدالرحمان، صفوان بن یحیی اور علی بن جعفر کا ذکر ملتا ہے۔ (رجال شیخ طوسی، صص 342-346؛ حیاۃ الامام موسیٰ بن جعفر، ج 2، صص 224-374)

بعض اصحاب نے علمی اور سیاسی دونوں میدانوں میں کردار ادا کیا۔ یونس بن عبدالرحمان کے بارے میں متعدد علمی تصانیف کا ذکر ہے، جبکہ محمد بن ابی عمیر کی زہد، تقویٰ، تصنیف اور طویل قید کے ساتھ ان کی وثاقت کا تذکرہ ملتا ہے۔ (سیرۃ الائمۃ الاثنی عشر، ج 2، ص 313؛ رجال کشی، ص 46)

7۔ عقائدی دفاع، مناظرے اور فکری مزاحمت

امام کاظم علیہ السلام کی ثقافتی جدوجہد صرف روایت کی نقل تک محدود نہ تھی بلکہ عقائدی دفاع اور فکری مکالمے کو بھی شامل تھی۔ آپؑ نے ملحدین و زنادقہ، مرجئہ اور جبریہ جیسے فکری رجحانات کا رد کیا اور اپنے اصحاب کو بھی علمی جدوجہد کی ترغیب دی۔ آپؑ سے یہودی و عیسائی علماء، درباری علماء، خلفاء کے نمائندوں اور امامت کے مخالف عناصر کے ساتھ احتجاجات و مناظرات بھی منقول ہیں۔ (الاحتجاج، ج 2، ص 155-170)

یہ مناظرے اس اعتبار سے اہم تھے کہ ان میں معاشرے کے باخبر طبقے سے گفتگو، بنیادی عقائد کی توضیح اور عصر کے فکری مسائل کا جواب شامل تھا۔ یوں امام ؑکی ثقافتی جدوجہد نے شیعی تشخص کو محض سیاسی وابستگی نہیں رہنے دیا بلکہ اسے علمی و عقائدی بنیاد فراہم کی۔

8۔ امامت کی میراث کا تحفظ اور شیعی تنظیم

امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے آغاز میں داخلی اختلافات نے امامت کے ادارے کے تحفظ کو ایک اہم ضرورت بنا دیا۔ آپؑ نے ایک طرف مختلف دعوؤں اور فرقوں کی تردید کی اور دوسری طرف اپنی امامت کے اثبات اور شیعیان کی رہنمائی کا اہتمام کیا۔ آپ ؑنے عباسی حکمرانوں کی امت کی قیادت کی اہلیت کو رد کیا اور انہیں ظلم و غصب کے تناظر میں دیکھا۔ ہارون کے ساتھ گفتگو میں قرآنی استدلال کے ذریعے ظالم حکمران کی ناجائز حیثیت واضح کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ (الاختصاص، ص 262؛ اعراف 7:146؛ بینہ 98:1؛ ابراہیم 14:28)

شیعی تنظیم کی سطح پر بھی امام کی قیادت منظم اور محتاط تھی۔ مفضل بن عمر کا باب کی حیثیت سے کردار، اصحاب کی مختلف سطحوں میں تقسیم، پوشیدگی کی تلقین، بعض اصحاب کی گرفتاری اور عباسی نظام میں بعض قابل اعتماد افراد کی موجودگی اس تنظیمی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

(مناقب، ج 4، ص 325؛ رجال کشی، ج 2، ص 540، ردیف 478؛ بحار الانوار، ج 47، ص 344)

9۔ حکومت کے اندر نفوذ: علی بن یقطین کی مثال

امام کاظم علیہ السلام کی سیاسی حکمت عملی کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ قابل اعتماد شیعی افراد کو بعض اہم حکومتی مناصب سے الگ نہیں کیا گیا۔ علی بن یقطین اس کی نمایاں مثال ہیں۔ امام نے انہیں حکومت سے استعفیٰ دینے کے بجائے ان کے منصب کو شیعیان کے تحفظ، مالی مدد اور اطلاعات کی فراہمی کا ذریعہ قرار دیا۔

علی بن یقطین کے ذریعے حکومتی فیصلوں کی اطلاعات امام تک پہنچتی تھیں۔ فخ کے واقعے کے بعد موسٰی بن مہدی کے دربار میں امام کے خلاف ارادے کی اطلاع بھی ان کے ذریعے پہنچی۔ اسی طرح خطوط اور مال امام تک پہنچانے، شیعیان کی مالی مدد کرنے اور بعض مالی واجبات کو خفیہ طور پر واپس کرنے جیسے اقدامات کا ذکر ہے۔ (سیرۃ پیشوایان، ص 462)

بعض مواقع پر امام نے علی بن یقطین کو ظاہری طور پر اہل سنت کے طریقے کے مطابق وضو اور نماز ادا کرنے کی ہدایت کی تاکہ ان کی سیاسی حیثیت اور خفیہ رابطے محفوظ رہیں۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ حکومت کے اندر موجودگی کو ہمیشہ حکومتی نظریے کی تائید نہیں سمجھا جا سکتا،حالات کے تحت اسے ایک حفاظتی اور تنظیمی وسیلہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ (سیری در سیرۂ ائمۂ اطہارؑ، ص 181؛ قرب الاسناد، ص 126)

10۔ تقیہ، رازداری اور حفاظتی حکمت عملی

عباسی نگرانی کے ماحول میں تقیہ امام کاظم علیہ السلام کی تنظیمی حکمت عملی کا اہم جزو تھا۔ تقیہ کو افراد کی شناخت پوشیدہ رکھنے، شیعی تنظیمی قوت کو محفوظ رکھنے اور مناسب وقت تک رابطوں کو قائم رکھنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ امام نے معمر بن خالد کے سوال کے جواب میں اپنے جد امام باقر علیہ السلام سے منقول اصول بیان فرمایا کہ تقیہ دینی طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ (ارشاد مفید، صص 274-275؛ الخرائج والجرائح، ص 297؛ وسائل الشیعہ، ج 16، ص 204، ح 21359؛ اصول کافی، ج 2، ص 219، ح 2) اسی طرح اصحاب کو پوشیدگی اختیار کرنے کی تلقین، نام ظاہر نہ کرنے کی احتیاط اور بعض افراد کو حکومتی شبہ سے بچانے کی کوششیں اس حکمت عملی کے عملی پہلو تھے۔ اس پس منظر میں رازداری کو تنظیمی کمزوری نہیں بلکہ بقا کی حکمت عملی سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔

11۔ منفی مزاحمت اور ظالم نظام سے عدم تعاون

صفوان بن مہران جمال کا واقعہ منفی مزاحمت کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ ہارون کے حج سے متعلق وفد کو اونٹ کرائے پر دیتے تھے۔ امام نے انہیں اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ ظالم حکومت کے استحکام سے مفاد وابستہ رکھنا مناسب نہیں۔ اس نصیحت کے بعد صفوان نے اپنے کرائے کے اونٹ فروخت کر دیے۔ (رجال کشی، ص 441؛ سیرۃ الائمۃ الاثنی عشر، ج 2، صص 322-323)

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ امامؑ کی سیاسی جدوجہد صرف براہ راست سیاسی تصادم تک محدود نہ تھی بلکہ ایسے معاشی و سماجی تعلقات سے بھی احتراز پر مشتمل تھی جو ظالمانہ اقتدار کو مضبوط کرتے ہوں۔

12۔ اسلامی حکومت کے تصور کی فکری تشکیل

امام کاظم علیہ السلام کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم نظریاتی پہلو اسلامی حکومت اور قیادت کے حق کا تصور تھا۔ فدک کے واقعے میں ہارون کی جانب سے فدک واپس کرنے کی پیشکش کے جواب میں امام نے اس کی حدود عدن، سمرقند، افریقہ اور آرمینیہ و بحر خزر تک بیان کیں۔ جب ہارون نے کہا کہ اس صورت میں ہمارے لیے کچھ باقی نہیں رہتا تو امام ؑنے فرمایا :کہ اسی لیے میں حدود بیان کرنے سے گریز کر رہا تھا۔ اس واقعہ کو ماخذ میں اہل بیت کے سیاسی حق کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے۔ (تذکرۃ الخواص، ص 350)

اس طرح فکری و ثقافتی جدوجہد اور سیاسی شعور ایک دوسرے سے جدا نہ تھے، امامت، قیادت اور حکومت کے تصور کی وضاحت نے شیعی معاشرے کو سیاسی و دینی شناخت فراہم کی۔

13۔ قیام فخ اور علوی تحریکوں کے بارے میں امام علیہ السلام کا موقف

169 ہجری میں حسین بن علی، معروف بہ شہید فخ، نے ہادی عباسی کے خلاف قیام کیا،مدینہ سے مکہ کی طرف جانے والی اس تحریک کو فخ کے مقام پر عباسی فوج کا سامنا ہوا اور حسین اور ان کے متعدد ساتھی شہید ہوئے۔ (مقاتل الطالبیین، صص 294-303؛ حیاۃ الامام موسیٰ بن جعفر، ج 1، صص 470-471)

امام کاظم علیہ السلام نے اس قیام میں عملی شرکت نہیں کی۔ فراہم کردہ روایات کے مطابق آپ نے عوامی بے وفائی اور سیاسی حالات کے باعث تحریک کی کامیابی کے بارے میں تحفظات ظاہر کئے ، لیکن جب حسین اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہے تو انہیں استقامت کی تلقین کی۔ بعد ازاں ان کے بارے میں امام کا موقف اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ظلم کے خلاف ان کی نیت اور اصل جدوجہد قابل قدر تھی، اگرچہ مسلح قیام کی عملی کامیابی کے امکانات محدود تھے۔ (الکافی، ج 1، ص 366؛ مقاتل الطالبیین، ص 298؛ بحار الانوار، ج 48، ص 165) یوں قیام فخ کے بارے میں امام کا موقف دو سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت کے اصول کی تائید اور عملی اقدام کے لیے سیاسی حالات، عوامی حمایت اور نتیجے کے امکانات کا لحاظ۔ یہی توازن امام کی وسیع تر سیاسی حکمت عملی میں بھی نمایاں ہے۔

14۔ انقلابی تحریکوں کی حمایت اور مؤثر افراد کا تحفظ

امام کاظم علیہ السلام نے خود مسلح قیام نہ کرنے کے باوجود بعض علوی تحریکوں کے ساتھ اصولی ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا۔ حسین بن علی سے ملاقات اور ان کے انجام کے بارے میں پیش گوئی کا ذکر اس ضمن میں کیا گیا ہے۔ (رجال کشی، ص 47)

دوسری طرف امام نے ایسے افراد کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جو شیعی تنظیم کے لیے مؤثر تھے۔ علی بن یقطین کے معاملے میں ظاہری طرزعمل اختیار کرنے کی ہدایت اسی حفاظتی حکمت عملی کی مثال ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدوجہد کا ایک اہم مقصد افراد کو محض قربان کرنا نہیں بلکہ انہیں مستقبل کی دینی و اجتماعی ذمہ داریوں کے لیے محفوظ رکھنا بھی تھا۔

15۔ عباسی حکومت کا ردعمل

امام کاظم علیہ السلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، علمی سرگرمیوں اور شیعی تنظیم نے عباسی حکومت کو تشویش میں مبتلا کیا۔ حکومت نے جاسوسی، معاشی دباؤ، اصحاب پر پابندی اور فکری میدان میں مخالف رجحانات کی تقویت جیسے طریقے اختیار کئے۔ منصور کے دور میں علویوں کے خلاف سخت اقدامات اور مخالفین کے قتل کا ذکر تاریخی مصادر میں ملتا ہے۔ (مروج الذہب، ج 3، ص 299؛ الکامل فی التاریخ، ج 5، ص 526؛ الفخری، ص 147)

عباسی حکومت نے بعض درباری فقہاء کو تقویت دے کر امامت کے مخالف فقہی و فکری رجحانات کو بھی فروغ دیا۔ اس کے مقابل امام کاظم علیہ السلام نے علمی تربیت، عقائدی استدلال، مناظرے اور شیعی تنظیم کے ذریعے ایک متبادل فکری و دینی مرکز کو زندہ رکھا۔

16۔ مجموعی تجزیہ

امام کاظم علیہ السلام کی جدوجہد میں ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں الگ الگ شعبے نہیں بلکہ ایک ہی جامع حکمت عملی کے دو باہم مربوط پہلو ہیں۔ علمی تربیت نے فکری بنیاد فراہم کی، عقائدی دفاع نے امامت کے تصور کو واضح کیا، شیعی تنظیم نے اجتماعی قوت کو محفوظ رکھا، تقیہ اور رازداری نے اسے حکومتی تعاقب سے بچایا، علی بن یقطین جیسے افراد نے حکومتی اداروں کے اندر رابطہ اور تحفظ فراہم کیا، جبکہ منفی مزاحمت نے ظالمانہ نظام کے ساتھ غیر ضروری تعاون سے روکا۔

اس بنا پر امام کاظم علیہ السلام کی سیاسی زندگی کو سیاسی خاموشی کہنا درست نہیں، زیادہ مناسب تعبیر یہ ہے کہ آپ ؑنے حالات کے مطابق کھلے مسلح تصادم کے بجائے طویل المدت فکری، ثقافتی، تنظیمی، حفاظتی اور سیاسی جدوجہد اختیار کی۔ یہ حکمت عملی امامت کی میراث کو برقرار رکھنے اور شیعی معاشرہ کو آئندہ مراحل کے لیے تیار کرنے کے لیے تھی۔

17۔ نتائج

1۔ امام کاظم علیہ السلام نے امام صادق علیہ السلام کی علمی و ثقافتی تحریک کو عباسی دباؤ کے باوجود جاری رکھا اور اسے علمی تربیت اور عقائدی دفاع کے ذریعے مضبوط کیا۔

2۔ آپؑ کی سیاسی حکمت عملی کو صرف مسلح قیام نہ کرنے کے حوالے سے نہیں سمجھا جا سکتا،اس میں متعدد مؤثر متبادل طریقے شامل تھے۔

3۔ تقیہ اور رازداری انفرادی احتیاط کے ساتھ ساتھ شیعی تنظیم اور مؤثر افراد کے تحفظ کا ذریعہ بھی تھے۔

4۔ علی بن یقطین کی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر موجودگی بعض حالات میں شیعی مفاد، اطلاعات اور تحفظ کے لیے سیاسی وسیلہ بن سکتی تھی۔

5۔ امام ؑ نے علمی و فکری اصحاب کی ایسی نسل تیار کی جس نے آپؑ کے بعد دینی، علمی اور اجتماعی فکر کے تسلسل میں کردار ادا کیا۔

6۔ منفی مزاحمت کے ذریعے ظالم نظام سے ایسے معاشی و سماجی تعاون سے اجتناب کی تعلیم دی گئی جو اس کے استحکام کا باعث بنے۔

7۔ قیام فخ کے معاملے میں امامؑ نے ظلم کے خلاف مزاحمت کے اصول کی تائید کی، لیکن عملی کامیابی کے لیے سیاسی حالات اور عوامی حمایت کو بنیادی اہمیت دی۔

8۔ امام ؑکی ثقافتی اور سیاسی جدوجہد ایک دوسرے سے جدا نہیں تھیں، علمی تربیت، امامت کا دفاع، تنظیم، رازداری اور سیاسی شعور ایک جامع حکمت عملی کے اجزا تھے۔

9۔ عباسی حکومت کی جاسوسی اور دباؤ نے تنظیمی سرگرمیوں کو خفیہ بنایا، مگر یہ خفیہ پن تنظیمی کمزوری کے بجائے حالات کے مطابق بقا کی حکمت عملی تھا۔

10۔ امام کاظم علیہ السلام کی شہادت اس طویل کشمکش کے آخری مراحل میں پیش آئی جس میں عباسی حکومت آپؑ کی سیاسی و روحانی مقبولیت اور استقلال کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی رہی۔

18۔ خاتمہ

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی حیات مبارکہ یہ دکھاتی ہے کہ جابر اور طاقتور حکومت کے مقابل دینی و سیاسی جدوجہد کی ایک ہی شکل نہیں ہوتی۔ حالات کے مطابق کبھی مسلح اقدام، کبھی علمی تربیت، کبھی فکری مزاحمت، کبھی تنظیمی رازداری، کبھی ظالم نظام سے عدم تعاون اور کبھی اس کے اندر موجود قابل اعتماد افراد کے ذریعے اجتماعی مفاد کا تحفظ اختیار کیا جا سکتا ہے، امام کاظم علیہ السلام کی حکمت عملی میں یہی تنوع نمایاں ہے۔

آپؑ نے ایک طرف امامت کے نظریے اور اہل بیت علیہم السلام کے حق قیادت کو فکری بنیاد فراہم کی، دوسری طرف علمی مکتب، شاگردوں اور اصحاب کی تربیت کے ذریعے شیعی معاشرے کو مضبوط کیا۔ تقیہ و رازداری نے اس تنظیم کو عباسی نگرانی میں محفوظ رکھا، جبکہ قیام فخ کے بارے میں آپ کا موقف اس بات کی مثال ہے کہ اصولی مزاحمت اور عملی سیاسی مصلحت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس مجموعی زاویے سے امام کاظم علیہ السلام کی سیاسی جدوجہد ایک منظم، تدریجی اور طویل المدت فکری و اجتماعی مزاحمت کے طور پر سامنے آتی ہے۔

منابع و مآخذ

1۔ ابن اثیر، عزالدین۔ الکامل فی التاریخ۔

2۔ ابن کثیر، اسماعیل۔ البدایہ والنہایہ۔

3۔ ابوالفرج اصفہانی۔ مقاتل الطالبیین۔

4۔ حر عاملی۔ وسائل الشیعہ۔

5۔ کلینی، محمد بن یعقوب۔ الکافی۔

6۔ کشی، محمد بن عمر۔ اختیار معرفۃ الرجال (رجال کشی)۔

7۔ مجلسی، محمد باقر۔ بحار الانوار۔

8۔ مسعودی، علی بن حسین۔ مروج الذہب۔

9۔ نوبختی، حسن بن موسیٰ۔ فرق الشیعہ۔

10۔ طبرسی، احمد بن علی۔ الاحتجاج۔

11۔ طبرسی، فضل بن حسن۔ اعلام الوری باعلام الہدی۔

12۔ طوسی، محمد بن حسن۔ رجال الطوسی۔

13۔ یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب۔ تاریخ یعقوبی۔

14۔ عطاردی، عزیز اللہ۔ مسند الامام الکاظم علیہ السلام۔

15۔ رفیعی، علی؛ حسینی، سید محمد۔ زندگی امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام۔

16۔ سید امیر علی۔ مختصر تاریخ العرب۔

17۔ مفید، محمد بن محمد۔ الارشاد۔

18۔ پیشوایی، مهدی۔ سیرۃ پیشوایان۔

19۔ مطہری، مرتضیٰ۔ سیری در سیرۂ ائمہ اطہار علیہم السلام۔

20۔ جعفریان، رسول۔ حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ۔

21۔ حیاۃ الامام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام۔

22۔ تذکرۃ الخواص۔

 سیرت امام علی ؑ میں  حکمرانی کے اصول

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سیرت امام علی ؑ میں حکمرانی کے اصول

اسد عباس اسدی

تمہید

امام علیؑ کی شخصیت اتنی عظیم، روشن اور ہمہ گیر ہے کہ جو شخص بھی آپؑ کے اوصاف بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپؑ کی شخصیت کے مختلف پہلو اس قدر گہرے ہیں کہ بڑے بڑے مفکرین اور دانشور بھی آپؑ کی زندگی کے صرف چند پہلو ہی بیان کر سکے ہیں۔

امام علیؑ نے اسلامی اور قرآنی تعلیمات کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا، آپؑ رسول اللہ ﷺ کے سب سے پہلے ایمان لانے والے مرد، آپ ﷺ کے وفادار شاگرد، بہادر سپاہی اور علم بردار تھے، آپؑ نے اسلام کی تبلیغ، دفاع اور عملی نفاذ میں اہم خدمات انجام دیں۔

رسول اللہ ﷺ نے امام علیؑ کے بارے میں فرمایا:

علیؑ سب سے پہلے مجھ پر ایمان لانے والے ہیں، قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے، وہ بڑے سچے اور میری امت کے حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں۔

ایک اور روایت میں ارشاد ہے:

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، جو شخص اس شہر میں داخل ہونا چاہے، اسے دروازے سے داخل ہونا چاہیے۔

امام علیؑ کی شخصیت

امام علیؑ شجاعت، علم، تقویٰ، بصیرت، زہد اور حکمت کا پیکر تھے، آپؑ میدان جنگ میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے اور دینی مسائل میں گہری سمجھ رکھتے تھے۔ خطرات اور مشکلات آپؑ کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے تھے۔

آپؑ کی بہادری رسول اللہ ﷺ کے زمانے کی جنگوں اور اپنے دور خلافت کے تمام معرکوں میں نمایاں ہوئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپؑ کے مقابلے میں آنے سے بڑے بڑے بہادر بھی گھبراتے تھے۔ تاہم آپؑ کی شجاعت محض جسمانی طاقت تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپؑ کا اصل کمال ایمان، علم، تقویٰ اور قوت فیصلہ تھا۔

خلافت کی ذمہ داری

حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ذوالحجہ 35 ہجری میں مسلمانوں نے امام علیؑ سے خلافت قبول کرنے کی درخواست کی، آپؑ نے ابتدا میں اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے گریز کیا، کیونکہ امام ؑ جانتے تھے کہ معاشرہ شدید انتشار اور فتنوں کا شکار ہے، آپؑ نے فرمایا:

کسی دوسرے شخص کو تلاش کرو، کیونکہ تم لوگ میری حکومت برداشت نہیں کر سکو گے،فتنوں کے بادل ہر طرف چھائے ہوئے ہیں اور حق و راستہ واضح نہیں رہا، اگر میں تمہاری درخواست قبول کر لوں تو میں تمہارے ساتھ اپنی سمجھ کے مطابق معاملہ کروں گا اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کروں گا، اگر میں تمہارا وزیر اور رہنما بن کر رہوں تو یہ میرے لیے تمہارا امیر بننے سے بہتر ہے۔

لوگوں کے مسلسل اصرار پر امام ؑنے خلافت قبول کی اور فرمایا:

اگر میرا مقصد حق کو زندہ کرنا اور ظلم کو ختم کرنا نہ ہوتا تو میں خلافت کی باگ ڈور چھوڑ دیتا۔

اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت علیؑ کے نزدیک حکومت اقتدار، دولت یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ حق کے قیام اور ظلم کے خاتمے کی ذمہ داری تھی۔

اصلاحی پروگرام

امام علیؑ نے جب خلافت سنبھالی تو معاشرہ کئی خرابیوں میں مبتلا تھا، بدعنوانی عام تھی، بیت المال کا غلط استعمال ہو رہا تھا، قبائلی تعصب اور نسلی امتیاز بڑھ گیا تھا، نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز تھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے تھے۔

آپؑ نے اصلاحات کا ایک جامع پروگرام پیش کیا، جس کے اہم پہلو یہ تھے:

معاشرے سے ظالمانہ امتیاز کا خاتمہ، بیت المال کے ناجائز استعمال کی روک تھام، لوٹی ہوئی سرکاری دولت کی واپسی، ظلم و ناانصافی کا خاتمہ، قانون کی بالادستی، اسلامی اخوت اور مساوات کا فروغ، اہل اور دیانت دار افراد کی تقرری،عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ، معاشرے میں اخلاقی اور دینی اقدار کا احیا۔

امام ؑ کو معلوم تھا کہ اصلاحات کی راہ آسان نہیں ہوگی، کیونکہ جن لوگوں کے مفادات متاثر ہوں گے وہ مزاحمت کریں گے، اسی لیے آپؑ نے خلافت قبول کرنے سے پہلے ہی عوام کو خبردار کیا تھا کہ امام ؑ حکومت میں نرمی، اقرباپروری اور ناجائز رعایتوں کو قبول نہیں کریں گے۔

عدل و انصاف

امام علیؑ کی حکمرانی کا سب سے نمایاں اصول عدل و انصاف تھا، امام ؑ کے نزدیک حکمران اور عام انسان، امیر وغریب، عرب و عجم ، سب قانون کی نظر میں برابر تھے۔

امام ؑ نے بیت المال کی تقسیم میں کسی شخص کو محض اس کے خاندان، قبیلے یا سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر زیادہ حصہ نہیں دیا۔ آپؑ کا اصول تھا کہ سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہے، اس لیے اسے ذاتی مفاد یا سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

امام علیؑ کی نظر میں حقیقی حکومت وہی ہے جو:

کمزوروں کو تحفظ دے، مظلوموں کو انصاف فراہم کرے، طاقتوروں کو قانون کا پابند بنائے، عوام کے حقوق کی حفاظت کرے، ذاتی تعلقات پر اصولوں کو ترجیح دے۔

بیت المال اور مالی دیانت

امام علیؑ بیت المال کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے، آپؑ کے نزدیک عوامی خزانے میں خیانت ایک سنگین جرم تھا، آپؑ نے حکومتی عہدے داروں کو تاکید کی کہ وہ سرکاری مال کو ذاتی ملکیت نہ سمجھیں۔

آپؑ کی مالی پالیسی کے اہم اصول یہ تھے:

سرکاری مال میں خیانت نہ کی جائے، بیت المال کو سیاسی وفاداری خریدنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے،ناجائز مراعات ختم کی جائیں، حکومتی عہدہ ذاتی دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہ بنے، عوامی وسائل صرف اجتماعی مفاد کے لیے خرچ کیے جائیں۔

امام علیؑ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے بھی بیت المال سے خصوصی مراعات قبول نہیں کیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کی حکومت میں رشتہ داری، دوستی اور سیاسی تعلقات انصاف پر اثرانداز نہیں ہو سکتے تھے۔

شایستہ افراد کا انتخاب

امام علیؑ کے نزدیک حکومتی عہدے ذاتی تعلق یا خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پر نہیں دیے جانے چاہییں، عہدے کے لیے علم، دیانت، تجربہ، صلاحیت اور تقویٰ ضروری تھے۔

آپؑ اپنے عہدے داروں کو ہدایت دیتے تھے کہ وہ:

عوام کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں،کمزوروں اور محتاجوں کا خیال رکھیں، چاپلوسوں اور خوشامدیوں سے محتاط رہیں، عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنیں، اپنے عہدے کو دولت اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں، ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔

عوام کے ساتھ تعلق

امام علیؑ کے نزدیک عوام حکمران کے ماتحت بے اختیار افراد نہیں، بلکہ حقوق رکھنے والے انسان تھے،حکمران کی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کی مشکلات کو سمجھے، ان کی شکایات سنے اور ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئے۔

آپؑ نے اپنے گورنروں کو ہدایت کی کہ وہ عوام سے دور نہ رہیں اور اپنے اردگرد ایسے لوگوں کا حصار نہ بننے دیں جو عوام کے مسائل ان تک پہنچنے سے روکیں، آپؑ کے نزدیک عوام سے براہ راست رابطہ حکمرانی کی بنیادی ضرورت تھا۔حکمران کو چاہیے کہ:

غریبوں اور محروموں کی خبرگیری کرے،عوام کی شکایات سنے،کسی شخص کو بلاوجہ ذلیل نہ کرے،کمزوروں کو طاقتوروں کے ظلم سے بچائے،تمام شہریوں کے انسانی وقار کا احترام کرے۔

قانون کی بالادستی

امام علیؑ کی حکومت میں قانون سب کے لیے برابر تھا، کسی عہدے دار، امیر شخص، قریبی رشتہ دار یا سیاسی حامی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا تھا۔

آپؑ نے عدلیہ کے لیے بھی واضح اصول مقرر کیے، قاضی کو علم، انصاف، صبر، دیانت اور بے خوفی کا حامل ہونا چاہیے۔ اسے کسی سیاسی دباؤ، ذاتی تعلق یا مالی فائدے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ:

حاکم خود بھی قانون کا پابند ہے،عدالتیں آزاد اور غیر جانب دار ہونی چاہییں،فیصلے ثبوت اور انصاف کی بنیاد پر ہونے چاہییں، طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کا معیار ایک ہونا چاہیے۔

سیاست اور اخلاق

امام علیؑ سیاست کو اخلاق سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔ آپؑ کے نزدیک سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے لیے جھوٹ، دھوکا، خیانت اور وعدہ خلافی اختیار کرنا درست نہیں تھا۔ آپؑ کا طرز سیاست ان اصولوں پر قائم تھا:

مقصد نیک ہو تو طریقہ بھی پاکیزہ ہونا چاہیے،وعدوں کی پابندی کی جائے،دشمنی میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑا جائے،عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا نہ کیا جائے،سیاسی اختلاف کو ذاتی ظلم میں تبدیل نہ کیا جائے،طاقت کے استعمال میں اخلاقی حدود کا خیال رکھا جائے۔

اصلاح اور مزاحمت

امام علیؑ نے جس وقت حکومت سنبھالی، اس وقت اسلامی معاشرہ کئی سیاسی، معاشی اور اخلاقی مسائل کا شکار تھا۔ آپؑ اصلاح معاشرہ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپؑ کی اصلاحات کا مقصد یہ تھا کہ:

رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔معاشرے سے طبقاتی اور نسلی امتیاز ختم کیا جائے،مالی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے،عوام کے حقوق بحال کیے جائیں،نااہل حکام کو ہٹایا جائے،تقویٰ، اخلاق اور انسانی اخوت کو فروغ دیا جائے۔

آپؑ کے دور خلافت میں ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ مختلف معرکے پیش آئے، ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب اصلاحات طاقتور طبقات کے مفادات کو متاثر کرتی ہیں تو مزاحمت پیدا ہوتی ہے، اس کے باوجود امام ؑ نے اپنے اصولوں سے سمجھوتا نہیں کیا۔

کارگزاروں کی نگرانی

امام علیؑ اپنے گورنروں اور عہدے داروں کی نگرانی کو بہت اہم سمجھتے تھے، امام ؑ ان سے کارکردگی کی رپورٹ لیتے، عوام کے حالات دریافت کرتے اور بدعنوانی کی شکایت پر کارروائی کرتے تھے۔

حکومتی عہدے داروں کے بارے میں آپؑ کے اصول یہ تھے:

عہدہ ایک امانت ہے،عوامی مال میں خیانت ناقابل معافی ہے،عہدے دار عوام کے خادم ہیں،افسران کو سادہ زندگی اختیار کرنی چاہیے،دولت مند اور بااثر افراد سے ناجائز تعلقات سے بچنا چاہیے،نااہلی یا بدعنوانی کی صورت میں عہدہ واپس لیا جا سکتا ہے۔

معیشت اور آبادکاری

امام علیؑ کے نزدیک حکومت کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا نہیں، بلکہ ملک کی آبادکاری اور عوام کی معاشی ترقی بھی ہے۔ آپؑ نے اپنے کارگزاروں کو ہدایت کی کہ کسانوں، تاجروں اور محنت کشوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

آپؑ کے اقتصادی اصولوں میں شامل تھے:

کسانوں اور پیداوار کرنے والوں کی حمایت،ٹیکسوں میں انصاف اور اعتدال،عوام کی معاشی طاقت کو تباہ نہ کرنا،زمینوں اور شہروں کی آبادکاری،تجارت اور روزگار کے لیے امن و امان فراہم کرنا،قومی آمدنی کو عوامی فلاح پر خرچ کرنا،اگر عوام معاشی طور پر کمزور ہو جائیں تو ریاست کی آمدنی بھی دیرپا نہیں رہ سکتی، اس لیے امام علیؑ نے مالی نظم و نسق کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور آبادکاری پر بھی زور دیا۔

اختتامیہ

امام علیؑ کی حکمرانی کے بنیادی اصول عدل، امانت، شایستگی، قانون کی بالادستی، عوامی خدمت، مالی دیانت، اخلاقی سیاست اور ظلم کے خلاف جدوجہد پر قائم تھے۔

آپؑ کی حکومت کا عرصہ اگرچہ تقریبا پانچ سال سے کم تھا اور اس دوران شدید سیاسی بحران اور جنگیں بھی پیش آئیں، لیکن اس مختصر مدت میں آپؑ نے حکمرانی کے ایسے اصول پیش کیے جو آج بھی قابل عمل اور قابل تقلید ہیں۔

سیرت علوی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی حکومت وہ ہے جو عوام کی خدمت کرے، کمزوروں کو تحفظ دے، ظالموں کو قانون کا پابند بنائے، بیت المال کی حفاظت کرے اور اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے حق و انصاف کے قیام کے لیے استعمال کرے۔

منابع

اسکندرلو، محمدجواد۔ ابعاد شخصیتی امام علی(علیه‌السلام) از دیدگاه مستشرقان۔ کنگرۂ بازخوانی ابعاد شخصیتی امیرالمؤمنین علی(علیه‌السلام)، ۱۳۹۸ھ۔ش، صفحات ۱ تا ۴۔

قاضی‌زاده، ع.ا۔ نگاهی به زندگی و شخصیت حضرت علی(رض) از منظر اهل سنت۔ فصل‌نامۂ علمی ـ تخصصی حبل‌المتین، شمارہ ۴، ۱۳۹۲ھ۔ش، صفحات ۴۱ تا ۵۴۔

حسینی‌نیا، م.ر، و دیگران۔ اعتدال‌گرایی در سیره سیاسی امام علی(علیه‌السلام)۔ ہمایش ملی گفتمان عدالت، ۱۳۹۴ھ۔ش، صفحات ۲۱۸ تا ۲۳۷۔

چلونگر، م.ع۔ بررسی و تحلیل مواضع مخالفان در برابر اصلاحات سیاسی دوران خلافت امام علی(علیه‌السلام)۔ پژوهش‌نامۀ علوی، شمارہ ۱، ۱۳۸۹ھ۔ش، صفحات ۳۵ تا ۶۶۔

قاعدیان، ا۔ تحلیلی بر مواضع سیاسی علی بن ابی‌طالب(علیه‌السلام) پس از رحلت پیامبر(ص) تا قتل عثمان بن عفان۔ جلد دوم، تهران: انتشارات امیرکبیر، ۱۳۷۶ھ۔ش۔

نہج البلاغہ۔ محتوای مسابقات فرهنگیان، وزارت آموزش و پرورش، صفحات ۱ تا ۱۰۷۔

امام  علی ؑ  کی زندگی پر ایک نظر

امام علی ؑ کی زندگی پر ایک نظر

امام علی ؑ حضرت ابوطالب شیخ بنی‌ہاشم کے فرزند تھے، جو رسول‌اکرم ﷺ کے چچا تھے۔ حضرت ابوطالب نے پیغمبر اکرم ﷺ کی پرورش کی، انہیں اپنے گھر میں جگہ دی اور ان کی سرپرستی کی۔ بعثت کے بعد بھی جب تک وہ زندہ رہے، رسول‌اللہ ﷺ کی حمایت کرتے رہے اور کفار عرب بالخصوص قریش کے شر سے آپﷺ کا دفاع کرتے رہے ۔

امام علی ؑکی پیدائش، مشہور روایت کے مطابق، بعثت سے دس سال پہلے ہوئی، چھ سال کی عمر میں، مکہ اور اس کے اطراف میں قحط پڑنے کے سبب، رسول‌اکرم ﷺ کی درخواست پر آپؑ اپنے والد کے گھر سے اپنے چچازاد ر بھائی سول‌اللہ ﷺ کے گھر منتقل ہوئے اور آپ کی براہ راست سرپرستی اور تربیت میں آ گئے۔

(فصول المهمه، چاپ دوم، ص 14 و مناقب خوارزمی، ص 17)

چند سال بعد جب رسول‌اکرم ﷺ مبعوث بہ رسالت ہوئے اور پہلی وحی نازل ہوئی، تو امام ؑ نے آپ پر ایمان لایا۔

(ذخائر العقبی (چاپ قاهره، سال 1356) ص 58 و مناقب خوارزمی (چاپ نجف، سال 1385 هجری) ص 16-22. ینابیع الموده (چاپ هفتم) ص 68-72.)

پھر ایک مجلس میں جب رسول‌اللہ ﷺ نے اپنے قریب‌ترین رشتہ داروں کو جمع کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی، تو فرمایا: تم میں سے جو شخص سب سے پہلے میری دعوت قبول کرے گا، وہ میرا خلیفہ، وصی اور وزیر ہوگا، اُس وقت صرف امام علی ؑ اپنی جگہ سے اٹھے اور ایمان لائے، رسول‌اللہ ﷺ نے ان کا ایمان قبول فرمایا اور اپنے وعدوں کو ان کے بارے میں پورا کرنے کا اعلان کیا ۔ (ارشاد مفید ،ص4 و ینابیع الموده، ص 122)

اسی بنا پر امام علی ؑ اسلام میں سب سے پہلے ایمان لانے والے اور سب سے پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے کبھی خدائے یکتا کے سوا کسی کی پرستش نہیں کی ۔

امام علی ؑ ہمیشہ رسول‌اکرم ﷺ کے ساتھ رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت کر گئے۔ ہجرت کی رات بھی، جب کفار نے رسول‌اللہ ﷺ کے گھر کو گھیر لیا اور فیصلہ کیا کہ رات کے آخری حصے میں گھر میں گھس کر آپﷺ کو بستر پر قتل کر دیں گے، تو امام ؑ رسول‌اللہ ﷺ کے بستر پر سوئے رہے اور آپ ﷺ گھر سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ،(فصول المهمه، ص 28-30) ، اس کے بعد آپ ؑنے رسول‌اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق لوگوں کی امانتیں ان کے مالکان کو واپس کیں، اپنی والدہ اور رسول‌اللہ کی بیٹی کو، دو دیگر عورتوں کے ہمراہ، لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ۔

(فصول المہمہ، ص 34)

مدینہ میں بھی امام ؑ رسول‌اکرم ﷺ کے ساتھ رہے اور آپ ﷺ نے کسی بھی خلوت یا جلوت میں انہیں الگ نہیں کیا۔ آپﷺ نے اپنی محبوب بیٹی حضرت فاطمہ سلام‌اللہ علیہا کی شادی امام ؑ کے ساتھ کر دی ۔ جب آپ ﷺ نے اصحاب کے درمیان بھائی چارے کا عہد کیا تو امام ؑ کو اپنا بھائی قرار دیا۔

(فصول المہمہ، ص 20؛ تذکرۃ الخواص، ص 20-24؛ ینابیع المودۃ، ص 63-65)

امام علی ؑ ان تمام جنگوں میں شریک رہے جن میں رسول‌اکرم ﷺ خود شریک ہوئے، سوائے غزوہ تبوک کے، جس میں رسول‌اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ میں اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا۔ وہ کسی جنگ میں پیچھے نہ ہٹے، کسی دشمن سے منہ نہ پھیرے اور کسی معاملے میں رسول‌اکرم ﷺ کی مخالفت نہ کی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: علی کبھی حق سے جدا نہیں ہوتے اور حق کبھی علی سے جدا نہیں ہوتا۔

(مناقب آل ابی‌طالب، محمد بن علی ابن شہرآشوب، قم کی چھپائی، جلد 3، ص 62 اور 218؛ غایۃ المرام، ص 539؛ ینابیع المودۃ، ص 104)

امام علی ؑ رسول‌اکرم ﷺ کی وفات کے دن تینتیس سال کے تھے۔ اگرچہ وہ دینی فضائل میں سب سے آگے تھے اور اصحابِ پیغمبر میں ممتاز مقام رکھتے تھے، لیکن اس بنا پر کہ وہ جوان تھے اور لوگ ان سے ان کی جنگوں کی وجہ سے دشمنی رکھتے تھے جن میں انہوں نے رسول‌اکرم ﷺ کے آگے آگے قربانیاں دی تھیں، انہیں خلافت سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے گھر میں رہ کر افراد کی تربیت کا کام جاری رکھا اور رسول‌اکرم ﷺ کی وفات کے بعد تین خلفاء کے دوران، یعنی پچیس سال گزارے۔

پھر تیسرے خلیفہ کے قتل کے بعد لوگوں نے امام ؑ کی بیعت کی اور انہیں خلافت کے لیے منتخب کیا۔ ان کی خلافت تقریبا چار سال اور نو ماہ رہی۔ اس دوران انہوں نے رسول‌اکرم ﷺ کی سیرت اختیار کی، اپنی خلافت کو ایک تحریک اور انقلاب کی شکل دی اور اصلاحات کا آغاز کیا۔ البتہ یہ اصلاحات بعض مفاد پرستوں کے نقصان میں تھیں، اس لیے بعض نے مخالفت شروع کی اور فساد و بغاوت کی بنیاد رکھی۔

امام علی ؑ نے حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے تین جنگیں لڑنی پڑیں – جمل ، صفین ، نہروان – اس طرح امام ؑ کی خلافت کے دوران ان کی بیشتر کوششیں اندرونی اختلافات ختم کرنے میں صرف ہوئیں۔

کچھ ہی عرصے بعد، 19 رمضان المبارک 40 ہجری کی صبح، مسجد کوفہ میں نماز فجر پڑھاتے ہوئے ایک شکی شخص کے ہاتھوں تلوار کے وار سے زخمی ہوئے اور 21 رمضان کی رات شہید ہو گئے۔

(مناقب آل ابی‌طالب، جلد 3، ص 312؛ فصول المہمہ، ص 113-123؛ تذکرۃ الخواص، ص 172-183)

امام علی ؑ تاریخ کی گواہی اور دوست و دشمن کے اعتراف کے مطابق انسانی کمالات میں کوئی کمی نہیں رکھتے تھے اور اسلامی فضائل میں رسول‌اکرم ﷺ کی تربیت کی مکمل مثال تھے۔

ان کے گرد ہونے والی بحثیں اور ان کے بارے میں شیعہ، سنی اور دیگر محققین و دلچسپی رکھنے والوں کی لکھی ہوئی کتابیں اتنی ہیں جتنی تاریخ کے کسی اور شخصیت کے بارے میں نہیں ہوئیں۔ علی ؑ علم و دانائی میں رسول‌اکرم ﷺ کے یارانہ اور دوسرے مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ وہ اسلام میں پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے علمی بیان اور استدلال میں منطقی دلیل دی۔ انہوں نے عربی زبان کے قواعد کو وضع کیا اور عربوں میں سب سے بہترین خطیب تھے۔

علی ؑ شجاعت میں ضرب‌المثل تھے۔ رسول‌اکرم ﷺ کے زمانے میں اور اس کے بعد ان تمام جنگوں میں جن میں انہوں نے حصہ لیا، انہوں نے کبھی خوف یا پریشانی ظاہر نہیں کی۔ اگرچہ جنگ احد، جنگ حنین، جنگ خیبر اور جنگ خندق جیسے واقعات میں لشکر اسلام گھبرا گئے، بکھر گئے یا میدان چھوڑ کر بھاگ گئے، لیکن علی ؑ نے کبھی دشمن کے سامنے سے پیٹھ نہیں پھیری۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بہادر اور جنگجو شخص ان کے مقابل آئے اور سلامت واپس جا سکے۔

اسی کے ساتھ وہ کمزور کو قتل نہیں کرتے تھے، فراری کا پیچھا نہیں کرتے تھے، رات کے وقت اچانک حملہ نہیں کرتے تھے اور دشمن پر پانی بند نہیں کرتے تھے۔

تاریخ کے مسلمہ واقعات میں سے ہے کہ جنگ خیبر میں قلعے پر حملے کے دوران انہوں نے دروازے کی کنڈی کو پکڑ کر ایک ہی جھٹکے میں دروازہ اکھاڑ کر دور پھینک دیا ۔ (تذکرۃ الخواص، ص 27)

اسی طرح فتح مکہ کے دن، جب رسول‌اکرم ﷺ نے بتوں کو توڑنے کا حکم دیا، تو ہبل نامی بت، جو مکہ کا سب سے بڑا بت اور کعبے کے اوپر رکھا گیا ایک بڑا پتھر کا مجسمہ تھا، علی ؑ نے رسول‌اللہ ﷺ کے حکم سے آپ کے کندھوں پر کھڑے ہو کر کعبے کے اوپر جا کر ہبل کو اس کی جگہ سے نکال کر نیچے گرا دیا ۔ (تذکرۃ الخواص، ص 27؛ مناقب خوارزمی، ص 71)

امام علی ؑ دینی تقویٰ اور خدا کی عبادت میں بھی بے مثال تھے۔ رسول‌اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے جواب میں، جو امام علی ؑ کی سختی کی شکایت لے کر آئے تھے، فرمایا: علی پر اعتراض نہ کرو، کیونکہ وہ خدا کے عاشق ہیں ۔

(مناقب آل ابی‌طالب، جلد 3، ص 221؛ مناقب خوارزمی، ص 92)

ابودرداء نے ایک دن مدینہ کے کسی کھجور کے باغ میں امام علی ؑ کو دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کی طرح گرےہوئےہیں، م جلدی سے جناب فاطمہ زہراء کی خدمت میں آئے اور عرض کی مجھے لگتا ہے علی ؑ دنیا سے گزر گئے ہیں ،حضرت فاطمہ ؑ نے فرمایا: میرے چچازاد نہیں مرے، بلکہ خدا کے خوف سے عبادت میں بے ہوش ہو گئے ہیں، اور یہ ان کے ساتھ اکثر ہوتا ہے۔

امام علی ؑ کے اپنے ماتحتوں پر مہربانی، غریبوں اور محتاجوں کے لیے ہمدردی، فقیر و مسکینوں پر سخاوت اور فیاضی کے بے شمار قصے اور واقعات موجود ہیں، جو کچھ ان کے ہاتھ میں آتا، وہ خدا کی راہ میں غریبوں اور محتاجوں کو دے دیتے اور خود انتہائی مشکل اور سادہ حالت میں زندگی گزارتے تھے۔

وہ کھیتی باڑی کو پسند کرتے تھے اور اکثرکنویں کھودنے، درخت لگانے اور بنجر زمینوں کو آباد کرنے میں مشغول رہتے تھے۔ جو زمین آباد کرتے یا جو قنات نکالتے، اسے فقیروں کے لیے وقف کر دیتے تھے، امام علی ؑ کے اوقاف، جنہیں "صدقات علی" کہا جاتا ہے، ان کے دور خلافت کے آخر میں سالانہ قابل ذکر آمدنی رکھتے تھے، یعنی چوبیس ہزار دینار سونا ۔

(نہج‌البلاغہ، حصہ 3، کتاب 24)