امام علی علیہ السلام کی حکومتی زندگی اور سیرت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام علی علیہ السلام کی حکومتی زندگی اور سیرت
اسد عباس اسدی
امام علی علیہالسلام کی حکومت، رسول خدا ﷺ کے بعد اسلامی حکومت کا بہترین اور مکملترین نمونہ ہے۔ آپ ؑکی سیاست، اسلام کی حقیقی سیاست ہے اور اس کی بلند و بالا تعلیمات سے سرچشمه لیتی ہے۔
امام ؑ کی پر افتخار تاریخ - بالخصوص امام ؑ کی مختصر حکمرانی کے دوران- حیاتبخش اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے دقیق نفاذ کی گواهی دیتی ہے۔ اسی بنا پر، آپؑ کا حکومتی طریقہ کار اور طرز زندگی تاریخ کے تمام اسلامی حکمرانوں اور امرا کے لیے بہترین نمونہ اور مشعل راہ ہے۔
اس تحریر میں ہم امام ؑ کے دورحکومت کے طرز زندگی اور روش کا ایک مختصر سا احوال پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچه آپؑ کے زهد و تقویٰ کی شدت، ذاتی زندگی اور عمال کے امور میں سخت نگہداشت، اور مسلمانوں کے اموال کی حیف و میل کو روکنے کے اقدامات ایسے نہیں ہیں کہ جنہیں اس مختصر تحریر میں مکمل طور پر بیان کیا جا سکےـ
دوران حکومت میں امامؑ کا طرز خوراک و پوشاک
امام ؑ نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:
خداوند نے مجھے اپنی مخلوق کا امام و پیشوا قرار دیا ہے اور مجھ پر لازم کیا ہے کہ میں اپنے نفس، خوراک، نوشیدنی اور لباس میں کمزور اور غریب عوام کے مطابق زندگی بسر کروں، تاکہ فقیر میرے فقر کی پیروی کرے اور مالدار اپنی دولت کی وجہ سے سرکش نہ ہوـ
امام ؑ نے عاصم بن زیاد کے اس جواب میں کہ آپؑ سخت خوراک اور کھردرے لباس پر کیوں اکتفا کرتے ہیں اور اپنے اوپر اتنی سختی کیوں برتتے ہیں، فرمایا:
تجھ پر افسوس ہو! خدائے عزوجل نے عادل پیشواؤں پر واجب کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ضعیف و ناتوان لوگوں کے ساتھ ہمرنگ رکھیں، تاکہ فقر و تنگدستی کسی فقیر کو بے قرار و مضطرب نہ کر دے۔
امام ؑ اپنے دور حکومت میں کہنہ عبا اور پیوند لگا ہوا لباس زیب تن کرتے تھے، ایک روز کسی نے آپؑ سے سوال کیا:
آپؑ پیوند لگا ہوا لباس کیوں پہنتے ہیں؟
امام ؑ نے فرمایا: اس قسم کا لباس پہننا دل کے خشوع اور نفس امارہ کی تذلیل کے لیے مفید ہے۔
یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جب اکثر مسلمان فقر و تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے، ابن عباس کہتے ہیں:
ایک روز میں امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس حال میں کہ امام ؑ اپنی جوتی (نعلین) کو ٹانکا لگا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا:
اس جوتی کی کیا قیمت ہے کہ آپ خود اس کی مرمت کر رہے ہیں؟
امام ؑنے فرمایا: خدا کی قسم! یہ جوتی میرے نزدیک تمہاری اس دنیا اور تمہاری اس حکومت سے بھی زیادہ محبوب ہے، سوائے اس کے کہ میں کسی حق کو قائم کروں یا کسی باطل کو دفع کروں۔
سوید بن غفله کا بیان ہے: ایک روز میں علی ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپؑ کے گھر میں ایک پرانی چٹائی کے سوا کچھ نہ تھا اور آپؑ اسی پر تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمومنین! آپ مسلمانوں کے حاکم ہیں، بیتالمال کے اختیارات آپؑ کے پاس ہیں، اتنے لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کے گھر میں اس چٹائی کے سوا کچھ نہیں؟ یہ سن کر امام ؑ رو پڑے اور فرمایا:
اے سوید! عقلمند انسان اس گھر میں سامان آرائش نہیں لگاتا جسے چھوڑ کر کوچ کرنا ہو، جب کہ ہمارے سامنے دار اقامت اور آخرت کی منزل ہے، ہم نے اپنا سامان زیست پہلے ہی وہاں منتقل کر دیا ہے اور ہم بھی وہیں لوٹنے والے ہیں۔
سوید کہتے ہیں: خدا کی قسم! آپ کے اس کلام نے مجھے رلا دیا۔
علی بن ابراهیم نے امام باقر علیہالسلام سے روایت کی ہے کہ امام ؑ نے فرمایا:
خدا کی قسم! علی اس طرح کھانا کھاتے اور بیٹھتے تھے جیسے غلام کھاتے اور بیٹھ ہیں، آپ سنبل کے دو کرتے (قمیض) خریدتے اور ان میں سے بہتر اپنے غلام کو دے دیتے تھے،جب قمیض کی آستین انگلیوں سے بڑھ جاتی تو آپ اسے کاٹ دیتے اور جب ٹخنوں سے نیچے جاتی تو اسے تراش دیتے تھے، آپ ؑنے پانچ سال تک حکومت کی لیکن ایک اینٹ پر دوسری اینٹ نہیں رکھی۔
ہارون بن عنترہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں:
میں سردی کے موسم میں علی علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ نے ایک پرانی اون کی چادر (قطيفه) اوڑھ رکھی تھی اور شدت سرما کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔
میں نے عرض کیا: خدا نے اس مال (بیتالمال) میں آپ کا اور آپ کے اہل و عیال کا حصہ مقرر کیا ہے، پھر آپ اپنے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
آپ ؑنے فرمایا:خدا کی قسم! میں تمہارے حصے میں سے کچھ کم نہیں کرتا، اور یہ وہی پرانی چادر ہے جو میں مدینہ سے اپنے ساتھ لایا تھا۔
امیرالمؤمنین علی علیہالسلام ہرگز اس بات کے روادار نہ تھے کہ بیتالمال سے اپنے لیے کوئی زائد چیز لیں، یہاں تک کہ آپ بیتالمال میں کوئی مال محفوظ بھی نہیں رکھتے تھے۔ ہر جمعہ کے روز بیتالمال میں جو کچھ بھی ہوتا، اسے عوام کے درمیان تقسیم کر دیتے، اس کے بعد بیتالمال کی زمین پر جھاڑو دیتے اور اس پر نماز پڑھتے اور نماز کے بعد فرماتے کہ روز قیامت تم میرے گواہ رہنا۔
ایک اور روایت کے مطابق، آپ اس زمین پر پانی چھڑک کر وہاں آرام فرماتے تھے۔
روایت ہے کہ جب آپ بیتالمال میں تشریف لاتے اور سونے اور چاندی کے ٹکڑے دیکھتے تو زیر لب زمزمہ کرتے:
اے زرد و سفید چیزو! کسی اور کو فریب دو، اللہ مجھ پر احسان فرماتا ہے اور مجھے تمہارے فتنہ سے محفوظ رکھتا ہے۔
زاذان ابو عمر کہتے ہیں:
میں قنبر کے ساتھ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کے پاس گیا۔ قنبر نے عرض کیا:
یا امیرالمؤمنین! میں نے آپ کے لیے کچھ مال ذخیرہ کر کے رکھا ہے۔
علی علیہالسلام نے پوچھا: وہ کیا ہے؟
قنبر نے کہا: آئیے گھر چل کر دیکھتے ہیں۔ جب اندر گئے تو وہاں سونے اور چاندی سے بھری ہوئی ایک بڑی تھیلی رکھی تھی۔
قنبر نے کہا: یا امیرالمؤمنین آپ نے تو سارا مال اور غنائم تقسیم کر دیا تھا، میں نے یہ آپ کے لیے بچا کر رکھا ہے۔
علی علیہالسلام نے فرمایا:
کیا تو میرے گھر میں بھڑکتی ہوئی آگ لانا چاہتا ہے؟
پھر اپنی تلوار کھینچی اور سونے چاندی کے ان ڈھیروں پر ماری اور یہ شعر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ نے کبھی اپنے لیے بہترین مال جمع نہیں کیا بلکہ سب کچھ مستحقین میں بانٹ دیا۔ پھر اس جمع شدہ زر و سیم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
اے سفید چاندی! میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے۔ اے زرد سونے! میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے۔
بیتالمال کی تقسیم میں امام کا طریقہ کار
امام علی علیہالسلام بیتالمال کی تقسیم کے متعلق اپنا طریقہ یوں بیان فرماتے تھے:
میرے حبیب رسول خدا ﷺغنائم اور اموال میں سے کچھ بھی اگلے دن کے لیے بیتالمال میں باقی نہیں چھوڑتے تھے۔
خلیفہ اول بھی اسی روش پر عمل کرتے رہے، لیکن جب خلیفہ دوم کا دور آیا تو ان کی رائے دیوان بنانے اور مال کی تقسیم کو سال بہ سال موخر کرنے پر قرار پائی۔
لیکن میں اسی طریقے پر عمل کرتا ہوں جس پر میرے حبیب رسولخدا ﷺ عمل کرتے تھے۔
امیرالمؤمنین علی علیہالسلام بیتالمال کی تقسیم میں اتنی دقیق احتیاط برتتے تھے کہ سرکش اور عیاش لوگ آپ کو محدود کرنے والا کہتے تھے، دوسرے حکمران اور زمامداران اپنے بیٹوں، رشتہ داروں اور منظور نظر افراد کے لیے بیتالمال کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے کی پوری آزادی دیتے تھے، لیکن پرہیزگاروں کے پیشوا علی ؑ بیتالمال کے معاملے میں اپنے فرزندوں اور اقارب کے ساتھ انتہائی سختی کا مظاہرہ کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل بھی اس کا بوجھ برداشت نہ کر سکےـ
بیتالمال کے معاملے میں رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ برتاؤ
بیتالمال کے امین اور کاتب امام، علی بن ابی رافع بیان کرتے ہیں:
بیتالمال میں موتیوں کا ایک ہار تھا جو جنگ بصرہ کے دوران ہاتھ آیا تھا۔ ایک روز علی ؑ کی صاحبزادی نے میرے پاس پیغام بھیجا:
مجھے اطلاع ملی ہے کہ امیرالمومنین کے بیتالمال میں موتیوں کا ایک ہار ہے جو تمہارے پاس ہے، میں چاہتی ہوں کہ تم اسے عاریتامجھے دے دو تاکہ عید قربان کے دن میں اس سے خود کو زینت دوں۔
میں نے کہا: میں اسے عاریہ مضمونه (ضمانت کے ساتھ) دے سکتا ہوں بشرطیکہ تین دن کے اندر واپس کر دو۔ انہوں نے ضمانت دی تو میں نے ہار ان کے حوالے کر دیا۔
علی ؑ نے جب وہ ہار دیکھا تو پہچان لیا اور صاحبزادی سے دریافت فرمایا:
یہ ہار کہاں سے لائی ہو؟
انہوں نے جواب دیا: میں نے عید کے دن زینت کے لیے علی بن ابی رافع سے عاریت پر لیا ہے اور واپس کر دوں گی۔
ابن ابی رافع کہتے ہیں: امیرالمومنین نے مجھے بلوایا۔ جب میں حاضر ہوا تو آپؑ نے فرمایا:
اے ابن ابی رافع! کیا تم مسلمانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہو؟
میں نے عرض کیا: پناه بر خدا کہ میں مسلمانوں سے خیانت کروں
آپؑ نے فرمایا: پھر تم نے میری اجازت اور مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر بیتالمال کا ہار دختر امیرالمؤمنین کو عاریتا کیسے دے دیا؟
میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! وہ آپ کی بیٹی ہیں، انہوں نے عید کی زینت کے لیے مانگا تھا، میں نے اپنے ذمے ضمانت لے کر دیا ہے کہ اسے صحیح سلامت واپس لوٹا دوں گا۔
آپؑ نے فرمایا: اسی وقت اسے واپس کرو! اور خبردار جو آئندہ کبھی ایسا کیا، ورنہ تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔
پھر آپ نے اپنی بیٹی سے فرمایا:
بیٹی! اگر یہ ہار ضمانت کے ساتھ نہ ہوتا تو میں سب سے پہلے بنی ہاشم کی اس لڑکی کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹ دیتا۔
صاحبزادی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! میں آپ کی بیٹی اور پاره تن ہوں، اس ہار کی مجھ سے زیادہ حقدار کون ہو سکتا ہے؟
امام نے فرمایا:
اے علی بن ابی طالب کی بیٹی! اپنے آپ کو مت گم کرو اور راہ حق سے دور نہ ہٹو۔ کیا بصرہ کی تمام مسلمان عورتیں اس عید پر اس طرح کے ہار سے خود کو زینت دیتی ہیں؟
چنانچہ وہ ہار واپس لے کر اپنی جگہ پر رکھوا دیا گیا۔
ابن ابی الحدید نے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے کہا:
میں نے اپنے چچا علی ؑسے عرض کیا: اگر آپ حکم دیں کہ میری مالی مدد کی جائے یا میرا وظیفہ بڑھا دیا جائے تو بہت مناسب ہوگا۔ خدا کی قسم! اب میرے پاس گھوڑا بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
امام نے جواب میں فرمایا:
نہیں، خدا کی قسم! میں تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں پاتا، سوائے اس کے کہ تم اپنے چچا کو حکم دو کہ وہ چوری کرے اور تمہیں لا کر دے
اسی طرح تاریخی روایات میں موجود ہے کہ آپ نے اپنے ایک فرزند کو بھی ڈانٹا جب انہوں نے بیتالمال میں سے بطور قرض اپنے مہمان کے لیے کچھ شہد مانگا تھا۔
کتاب "الغارات" کے مؤلف، ابواسحاق ابراهیم بن محمد ثقفی (متوفی ۲۸۳ هـ) لکھتے ہیں:
کوفہ کے اشراف علی ؑ سے ناراض تھے اور معاویه کی طرف مائل تھے،کیونکہ علی ؑ بیتالمال کے غنائم سے کسی کو بھی اس کے حق سے زیادہ نہیں دیتے تھے، جب کہ معاویہ اشراف اور بزرگان قوم کو دو دو ہزار درہم زیادہ دیتا تھا۔
ایک مرتبہ آپؑ کے ایک شیعہ اور صحابی نے آ کر مخصوص مال کا مطالبہ کیا تو امام ؑنے جواب میں فرمایا:
یہ مال نہ میرا ہے اور نہ تمہارا، بلکہ یہ ان مسلمانوں کا غنیمت ہے جنہوں نے اسے اپنی تلواروں کے زور پر حاصل کیا ہے۔ اگر تم اس جنگ میں ان کے ساتھ شریک تھے تو تمہارا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا ان کا، ورنہ جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے، اسے دوسروں کے منہ میں ڈالنا روا نہیں۔
اور تاریخ کی کتابوں میں درج اس طرح کے درجنوں واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ آپؑ بیتالمال کے معاملے میں کتنے سخت گیر تھے اور آپؑ کی مالی پالیسی کتنی غیر متزلزل تھی۔
امام علیہالسلام کا زهد و پارسائی
تاریخ میں آپؑ سے بڑھ کر کوئی زاهد اور قانع انسان نہیں دیکھا گیا۔ آپ پارسایان روزگار اور قناعت شعاروں کے سردار تھے، ہمیشہ سخت ترین حالات کو اپنے لیے پسند کرتے تھے،آپؑ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، آپ کی خوراک ہمیشہ انتہائی سادہ اور خشک غذا ہوتی تھی، آپؑ کے دسترخوان پر نمک یا سرکہ ہوتا تھا، اور کبھی کبھار اس میں سبزیاں یا تھوڑا سا دودھ شامل ہو جاتا تھا، آپؑ بہت کم گوشت کھاتے تھے اور فرماتے تھے:
اپنے پیٹوں کو حیوانات کا قبرستان مت بناؤ۔
آپؑ زهد کے بارے میں کلام فرماتے اور اسے قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی سے مزین کرتے تھے،
زهد تمام کا تمام قرآن کے ان دو جملوں میں سمایا ہوا ہے:
خدا فرماتا ہے: (جو کچھ تم سے چھوٹ جائے اس پر غم نہ کرو اور جو تمہیں ملے اس پر اتراؤ مت)۔
جو شخص گزری ہوئی چیز پر تاسیس نہ کرے اور آنے والی چیز پر خوشی میں مست نہ ہو، اس نے دونوں طرف سے زهد کو حاصل کر لیا ہے۔
آپؑ زهد کو محرومیت نہیں بلکہ ایک گران بها دولت سمجھتے تھے اور فرماتے تھے:
الزهد ثروة ۔دنیا سے بے رغبتی ایک زبردست ثروت ہے۔
اور آپؑ کا یہ شعر معروف ہے:
أَفَادَتْنِي القَنَاعَةُ كُلَّ عِزٍّ، وَهَلْ عِزٌّ أَعَزُّ مِنَ القَنَاعَة؟
قناعت نے مجھے ہر قسم کی عزت بخشی ہے، اور قناعت سے بڑھ کر بھلا کون سی عزت زیادہ باعزت (یا غنی) ہو سکتی ہے؟
فَصَيِّرْهَا لِنَفْسِكَ رَأْسَ مَالٍ، وَصَيِّرْ بَعْدَهَا التَّقْوَى بِضَاعَة
پس تم اس (قناعت) کو اپنے لیے اصل سرمایہ بنا لو، اور اس کے بعد تقویٰ (پرہیزگاری) کو اپنی پونجی اور تجارت قرار دو۔
تَحُزْ رِبْحاً وَتُغْنِي عَنْ بَخِيلٍ، وَتَنْعَمُ فِي الجِنَانِ بِصَبْرِ سَاعَة
(اگر ایسا کرو گے تو) تم بہت بڑا نفع حاصل کر لو گے، کسی بخیل اور کنجوس کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز ہو جاؤ گے، اور دنیا میں محض ایک گھڑی (تھوڑی دیر) کے صبر کے بدلے جنت کے باغات میں ہمیشہ عیش و نعمت پاؤ گے۔
عمربن عبدالعزیز، جو اموی خلیفہ ہونے کے باوجود اپنے دور میں زهد کے لیے مشہور تھے، کہتے ہیں:
اس امت میں رسول خدا ﷺ کے بعد علی بن ابی طالب ؑ سے زیادہ زاهد کوئی نہیں آیا۔
خواجہ نصیرالدین طوسی امام علی ؑ کی برتری کے بارے میں فرماتے ہیں:
آپ رسول خدا ﷺ کے بعد تمام لوگوں سے زیادہ پارسا تھے۔
اور علامہ حلی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
آپؑ کا لباس اور کھانا سب لوگوں سے زیادہ سخت اور خشن تھا، آپؑ نے کبھی شکم بھر کر کھانا نہیں کھایا... آپؑ کے جوتوں کے تسمے کھجور کی چھال کے ہوتے تھے اور آپؑ اپنی قمیض کو کبھی چمڑے اور کبھی کھجور کے لیف سے پیوند لگاتے تھے۔
مساوات کے قیام میں غیر معمولی استقامت
مساوات قائم کرنے اور بدعات کو مٹانے کی راہ میں آپؑ کی خلافت کے دوران طرح طرح کے فتنہ و فساد برپا ہوئے اور ناگوار حوادث رونما ہوئے۔ آپؑ کے بعض قریبی ساتھیوں نے فتنوں کے سد باب کے لیے مشورہ دیا کہ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ فی الحال اعیان لشکر اور اشراف کو بیتالمال سے زیادہ مال دیا جائے تاکہ وہ دشمن کے مقابلے میں آپؑ کا ساتھ دیں (جیسا کہ امیر شام کیا کرتا تھا)، امامؑ یہ سن کر سخت غصہ میں آ گئے اور فرمایا:
کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ ظلم اور بے جا بخشش کے ذریعے امت اسلام میں فتح طلب کروں؟ نہیں، خدا کی قسم! جب تک سورج چمکتا ہے اور آسمان پر ستارہ چمکتا ہے، میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ اگر یہ مال میرا ذاتی ہوتا تو بھی اسے برابر بانٹ دیتا، تو پھر اب جبکہ یہ مال عموم مسلمانوں کا ہے، میں ایک کو دوسرے پر کیسے ترجیح دوں؟
علی ؑ حق کے معاملے میں اپنے ذاتی مفاد کی پروا نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی دوستوں کو خوش کرنے یا دشمنوں کی دل جوئی کے لیے اصولوں کا سودا کرتے تھے۔
یار و انصار کی خطاؤں پر امام کا قاطعانہ ردعمل
صدر اسلام میں خلفا کے دور کے دوران شاعروں کا طبقہ اپنی شاعری کے ذریعے خلفا کی قصیدہ خوانی کرتا تھا اور ان کا معاشرے میں خاص مقام ہوتا تھا۔ اگر وہ کوئی اخلاقی جرم بھی کر بیٹھتے تو درگزر کر دیا جاتا اور یہ ضربالمثل عام ہو گئی تھی کہ: شاعر کے لیے وہ کچھ جائز ہے جو دوسروں کے لیے ناجائز ہے۔
آو دیکھتے ہیں کہ علی علیہالسلام کا اپنے ایک معروف شاعر اور ساتھی «نجاشی» کے ساتھ کیا برتاؤ رہا جو جنگ صفین میں آپ کا شاعر تھا۔
جنگ صفین کے بعد جب نجاشی کوفہ میں مقیم تھا، تو ماہ رمضان کے پہلے دن اس کی ملاقات ابوسمال نامی ایک دوسرے شاعر سے ہوئی۔ اس نے نجاشی کو اپنے گھر بلایا اور دونوں نے شراب نوشی کی، یہ خبر جب امام تک پہنچی تو آپ نے چند افراد کو بھیج کر دونوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ابوسمال تو فرار ہو گیا لیکن نجاشی پکڑا گیا اور اسے امام کی خدمت میں لایا گیا۔ امام نے حکم دیا کہ اسے اسی (80) درے لگائے جائیں، اور جب وہ کوفے میں لایا گیا تو امام نے مزید بیس (20) کوڑے اس میں اور بڑھا دیے۔
نجاشی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! حد تو شرعی تھی، لیکن یہ بیس کوڑے کس بات کے تھے؟
آپ نے فرمایا: یہ تیرے پروردگار کی گستاخی اور ماہ رمضان میں روزہ خوری کی سزا ہے۔
یہ واقعہ احکام الٰہی اور عدل کے نفاذ میں امام کی غیر متزلزل سختی کا آئینہ دار ہے، علی علیہالسلام کے نزدیک حق کے نفاذ میں کسی قسم کا خوف یا رعایت معنی نہیں رکھتی تھی۔ جب یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اس سختی پر احتجاج کیا تو آپ نے فرمایا:
خدا کے احکام صرف ان لوگوں پر آسان ہوتے ہیں جو پرہیزگار اور فرمانبردار ہوں۔ اے یمنی بھائی! نجاشی بھی ایک مسلمان ہے جس نے خدا کی حرام کردہ شی کا ارتکاب کیا ہے اور الٰہی حدود پامال کی ہیں، لہٰذا اس پر وہی حد جاری کی گئی ہے جو خدا نے مقرر کی ہے۔
دین اور قانون کے نفاذ میں سختی
آپؑ دین کے معاملے میں نہایت سخت گیر اور بے باک تھے، اور یہی وہ وصف تھا جو اس دور کے بعض لوگوں کو آپ کی ذات میں گراں گزرتا تھا۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ علی ؑ نے قنبر کو حکم دیا کہ ایک شخص پر حد جاری کریں۔ قنبر نے جذبات کی رو میں آ کر تین کوڑے زیادہ لگا دیے۔ امام نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس زیادتی کا بدلہ لینے کے لیے قنبر کو تین کوڑے لگائے۔
جب کبھی آپ کو اپنے کسی کارگزار یا گورنر کی طرف سے ہلکی سی بھی لغزش دکھائی دیتی تو آپ سخت دلتنگ ہوتے اور تند و تیز خطوط کے ذریعے انہیں متنبہ فرماتے تھے۔ اس کی بہترین مثال «عثمان بن حنیف» کے نام آپ کا وہ تاریخی خط ہے جو بصره کی ایک پُر تکلف ضیافت میں شرکت پر لکھا گیا تھا:
اے پسرِ حنیف! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بصرہ کے ایک مالدار نے تمہیں کھانے کی دعوت دی اور تم فورا وہاں پہنچ گئے، جہاں رنگین کھانے اور بڑے برتن تمہارے سامنے رکھے گئے تھے۔ میرا گمان نہیں تھا کہ تم ایسے لوگوں کی دعوت قبول کرو گے جن کے فقرا کو روکا جاتا ہے اور اغنیا کو بلایا جاتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ تم کیا کھا رہے ہو...
آگاه رہو! ہر مقتدی کا ایک امام ہوتا ہے جو اس کے نور علم سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ یاد رکھو! تمہارے امام نے اپنی دنیا سے دو پرانے کپڑوں اور روٹی کے دو ٹکڑوں پر اکتفا کر رکھا ہے۔ تم اس کا تو تحمل نہیں کر سکتے، مگر کم از کم تقویٰ ، کوشش، عفت اور سچائی میں میری مدد کرو...
خدا کی قسم! میں نے تمہاری اس دنیا سے نہ سونا جمع کیا ہے، نہ مال و دولت کا ذخیرہ کیا ہے، اور نہ اس پرانے لباس کا کوئی بدل مہیا کیا ہے، اگر چاہتا تو خالص شہد، عمدہ آٹے کی روٹی اور ریشمی لباس اپنے لیے تیار کر سکتا تھا، مگر ھیهات کہ ہوا و ہوس مجھ پر غلبہ پا لے، کیا میں پیٹ بھر کر سو جاؤں اور میرے اردگرد ایسے بھوکے لوگ موجود ہوں جن کے پاس ایک روٹی کی بھی امید نہ ہو؟...
عوام کے حقوق اور شخصیت کا احترام
امیرالمؤمنین علی ؑ عدل، مہربانی اور عوام کے حقوق و احترام کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔ آپ ؑ کے مالیاتی اور انتظامی احکام میں اس کی گہری جھلک ملتی ہے۔ مأموران زکات اور خراج کو لکھے گئے خطوط میں آپ فرماتے ہیں:
لوگوں کے ساتھ انصاف کرو، ان کی حاجت برآوری میں صبر و تحمل سے کام لو، کیونکہ تم رعیت کے خزانہ دار، امت کے وکیل اور حکومت کے سفیر ہو... کسی ضرورت مند پر غصہ نہ کرو، اس کے جائز مطالبات کو نہ روکو، اور خراج وصول کرنے کے لیے کسی کا سرمائی یا گرمائی لباس یا سواری کا جانور مت بیچو...
مهمانی اور معاشرت میں سادگی
مولای متقیان زندگی میں انتہائی سادہ اور بے تکلف تھے اور توقع رکھتے تھے کہ آپؑ کے دوست بھی ایسے ہی ہوں۔ ایک روز حارث بن اعور ہمدانی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! کیا آپ ہمارے گھر تشریف لائیں گے؟
حضرت نے فرمایا: اس شرط پر آؤں گا کہ گھر میں جو کچھ موجود ہے اس سے بڑھ کر تکلف نہیں کرو گے اور مجھے زحمت میں نہیں ڈالو گے۔
حارث نے قبول کیا اور امام تشریف لے گئے۔ گھر میں جو معمولی طعام موجود تھا، اسی پر اکتفا کیا گیا۔
تملق اور چاپلوسی کی مذمت
امامؑ چاپلوسی اور مداحی سے شدید نفرت فرماتے تھے، اسلامی نظام حکومت میں حاکم کوئی مطلق العنان بادشاہ نہیں بلکہ ایک امانت دار ہوتا ہے، اور سچی پرستش اور مدح صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ جنگ صفین کے بعد واپسی پر ایک شخص حرب بن شرحبیل آپ کے ساتھ پیادہ چل رہا تھا جبکہ آپ سوار تھے، امام نے رک کر فرمایا:
واپس جاؤ! کیونکہ تم جیسے شخص کا مجھ جیسے کے ساتھ پیادہ حاکم کے لیے فتنه اور مومن کے لیے ذلت کا باعث ہے۔
ایک موقع پر جب کسی نے آپ کی مدح کی تو آپ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
مجھ سے اس طرح گفتگو نہ کرو جس طرح جبار اور ستمگر حکمرانوں سے کی جاتی ہے، میرے لیے پُرطمطراق القاب استعمال نہ کرو، اور مجھ سے وہ مصلحتی چاپلوسی نہ کرو جو آمروں کے سامنے کی جاتی ہے... حق بات کہنے یا عدل کی بات پیش کرنے میں کبھی جھجھک محسوس نہ کرو۔
نتیجہ اور دور حاضر کا تقاضا
خلاصہ یہ ہے کہ امام علی علیہالسلام کی سیرت حکومتی عدل، زهد، انسان دوستی اور قانون کی پاسداری کا سب سے روشن باب ہے، جو تمام دور کے انصاف پسندوں کے لیے بہترین مشعل راه ہے۔
علمی ، فکری ، تحقیقی ، تبلیغی